پہلی حدیث
The First Hadith
کیا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مقام میں رہا کرتے تھے جہاں ہمارے بہت سے آدمی تھے اور مال بھی افراط سے تھا اس کے بعد نے ایک دوسروے مقام میں جا کر رہے تو اس میں ہمارے آدمی بھی کم ہو گئے اور مال میں بھی کی آگئی پین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما گئے: یہ مقام اچھا نہیں ہے تم اس کو چھوڑ دو (اور دوسروے مقام میں منتقل ہو جاؤ۔) اس حدیث کی روایت البوداووی نے کی ہے۔
دوسری حدیث
O Messenger of Allah ﷺ, we used to stay at a place where there were many people and abundant wealth. Then we moved to another place, and the number of people decreased, and the wealth diminished. So, the Messenger of Allah ﷺ advised: 'This place is not good; leave it (and move to another place).'
رضی اللہ عنہ فروہ بن مسک رضی اللہ عنہ نے روایت کرتے ہیں، فروہ بن مسک فرما تے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس ایک زمین ہے جس کو میں کیا کریں وہ ہمارے کہیت کی ایسی زمین ہے جس میں زراعت کی ہوتی ہے اور غلم کا گودام بھی اسی میں ہے (معلوم نہیں کیا وجہ ہے کر) وہ سخت وبا لی زمین ہے پین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما گئے (چہال کی آب وہوا خراب ہو) و بال رہنا اچھا نہیں نقصان کا اندیشہ رہتا ہے تم اس زمین کو چھوڑ دو (اور دوسری جلد منتقل ہو جاؤ۔) صحبت کے لیے آب وہوا کا اچھا ہونا ضروری ہے اور جب آب وہوا خراب ہوجائے ہے تو صحبت بھی صاحب! آپ پنے ان دونوں حیثیوں کوسنا، اس میں طب کے ایک مستند کحل کیا گیا ہے کر
گہر جائی ہے ان دونوں حدیثوں میں بہترین آب وہوا کے لئے نقل مکان کی اجازت دی گئی ہے الیا
می طاعون کی وجہ سے جب آب وہوا خراب ہو جائے تو صحت باقی رہنے کے لئے نقل مکان کرنے
میں پچھڑا نقصان، ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اسی معنی فرماتے ہیں -
صح اعتقاد کے ساتھ طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے
Yahya ibn Abdullah ibn Bukhayr reported that someone informed him that Farwah ibn Musayk (may Allah be pleased with him) said: "I said: 'O Messenger of Allah, we have a land called Abyan, which is our farmland and source of livelihood, but its epidemic is severe.' The Prophet (ﷺ) said: 'Leave it, (1) for destruction comes from mixing with filth'" [Narrated by Abu Dawud]
(1) The statement: "Leave it" is similar to "Leave it; it is wretched." Ali al-Qari (may Allah have mercy on him) said: "This is not about contagion but about health. Good air is one of the greatest aids to physical health, and bad air is one of the quickest causes of illness."
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے میں کہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے کی گزری ہوتی تو موس پر
(ان کے گناہوں کی وجہ سے) بھیجا گیا تھا (جب کہ طاعون کسی مقام میں پہلے جائے تو تم اپنی
حالات پر غور کرو اگر تمہارا پی اعتقاد ہو کہ طاعون زدہ مقام میں پہلے جانے سے طاعون میں مبتلا
ہوجاؤ گے یا تم بھی ہو کہ طاعون زدہ مقام سے نقل جانے میں طاعون سے نہ جاول گا تو تمہارا یہ
اعتقاد غلط ہے اس لئے کہ عذاب توہ استغفار سے نہ جاتا ہے، بہاگنے سے عذاب نہیں ٹلتا، اس
لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے میں کہ اپنے شخص کو اپنا اعتقاد درست رکھ کی
خطر) نہ طاعون زدہ مقام میں جانا چاہیے اور نہ طاعون زدہ مقام سے بھاگنا چاہیے (بخلاف اس
کے اگر تمہارا پی اعتقاد ہو کہ برچیز اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتی ہے، طاعون زدہ مقام سے نقل کوئی
جانے میں اور طاعون زدہ مقام میں جانے کوئی خطر نہیں ہے، جب تک اللہ تعالیٰ نہ
چاہیں نہ تو کوئی مرسلتا ہے اور نہ کوئی نہ سکتا ہے تو تمہارا پی اعتقاد درست ہے اور اسی اعتقاد رکھنے والا
طاعون زدہ مقام سے نقل کر نقل مکان کرے یا طاعون زدہ مقام میں داخل ہوتا اس میں کوئی مضاضہ نہیں ہے، ایسے شخص کا طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے -)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے -
صح اعتقاد کے ساتھ طاعون زدہ مقام میں مطہر ہے کا ثواب
پہلی حدیث
Usamah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The plague is a punishment that was sent upon a group of the Children of Israel or upon those before you. If you hear of it in a land, do not enter it, (2) and if it occurs in a land where you are, do not flee from it" [Agreed upon]
(2) The statement: "Do not enter it, etc.": Imam al-Nawawi (may Allah have mercy on him) said in Sharh Muslim: "These Hadiths prohibit entering a land afflicted by the plague and fleeing from it out of fear. However, leaving for a valid reason is permissible. This is the view of our school and the majority of scholars. Al-Qadi said: 'This is the opinion of most scholars.' He added: 'Even Aisha (may Allah be pleased with her) said: Fleeing from it is like fleeing from battle.' Some scholars, however, permitted entering a plague-stricken land and fleeing from it. [Narrated from Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him), who regretted returning from Sargh. It was also narrated from Abu Musa al-Ash'ari, Masruq, and al-Aswad ibn Hilal that they fled from the plague. Amr ibn al-As (may Allah be pleased with him) said: 'Flee from this punishment to the valleys and mountain tops.' Muadh (may Allah be pleased with him) replied: 'Rather, it is a martyrdom and mercy.' These scholars interpreted the prohibition as not being due to fear of what is not decreed but to avoid causing confusion among people, lest they think that the death of those who entered was due to their entering and the safety of those who fled was due to their fleeing. They said: 'This is similar to the prohibition of superstition and sitting near a leper.' It was narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): 'The plague is a trial for both the one who stays and the one who flees. The one who flees says: "I fled and was saved," and the one who stays says: "I stayed and died." In reality, the one who flees is saved because their time has not come, and the one who stays dies because their time has come.'"
Al-Tahawi said in Mushkil al-Athar: "The interpretation of this Hadith is that if someone believes that entering will cause them to be afflicted and fleeing will save them, they should neither enter nor flee to protect their belief. However, if they know that everything is by the decree of Allah and that nothing will afflict them except what Allah has written, there is no harm in entering or leaving."
امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے
ہے کہ میں (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کی: حضور طاعون ایک مجیب
پیاری ہے اللہ تعالیٰ اس پیاری کو اپنے بندرول پر بیچتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے؟ تورسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے : سنو عاشر ! (جب بندول سے نافرمانیال کرتے ہے تو تیز تو)
طاعتون کو عذاب بنانے پر محبت ہی تو (یعنی عون) کافروں اور مسلمانوں دونوں پر آتا ہے عذاب
ہو کر پھر مسلمانوں کے لئے رحمت بن جاتا ہے، جب کسی مسلمانوں کی بستی میں طاعون آ جائے اور وہ
ا پی بستی میں طاعون کے زمانے میں صبر کیا ہوا ثواب کی نیت سے تہجر اربہ اوراس کو پیقین کامل ہے
کہ مرنا اور جینا دونوں اللہ تعالیٰ کی کے ارادے سے ہوتے ہیں، (جب اللہ تعالیٰ چاہے ہی تو لوگ
طاعون میں رہ کرنے جاتے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ موت دینا چاہتے ہیں تو وہ طاعون میں بیٹلا ہو کر مر
جاتے ہیں جو پیچ اعقاد کہ کر طاعون زدہ بستی میں تہجر اربہ) تو ایسے شخص کو شہید کا ثواب مل گا۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
دوسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the plague, and he informed me that it is a punishment that Allah sends upon whom He wills, but Allah has made it a mercy for the believers. There is no one who stays in his land during the outbreak of the plague, remaining patient and hopeful, knowing that nothing will befall him except what Allah has decreed for him, except that he will receive the reward of a martyr [Narrated by Bukhari]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآ لہ وسلم ارشاد فرماے ہیں کہ جو شخص (طاعون زدہ مقام میں تھا وہ پیسجا کر اگر میں یہاں رہمول گا تو
میں مجھی طاعون میں بیٹلا ہو کر بلاک ہو جا ول گا اور یہاں سے بجاگ گیا تو نچ جا ول گا اس خیال سے
وہ) طاعون زدہ مقام سے بجاگ کر دوسروں مقام میں چلا گیا تو وہ اپنا کہیرہ گناہ کا مرتب ہوا،
جبے جہاد میں کفار کے مقابلے سے بجاگنے والا کبیرہ گناہ کا مرتب ہوتا ہے اور جو شخص (پیچہ کر اللہ
تعالیٰ کے ارادے کے بغیر کوئی نہیں مرتا اگر میں اس طاعون زدہ مقام میں رہا اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ نہ
ہوتا میں نہیں مرسکتا اس خیال سے) صبر کیا ہوا طاعون زدہ مقام میں رہا (وہ مرے پانے مرے ہر
حال میں) اس کو (اس سے اعقاد کی وجہ سے) شہید کا ثواب ضرور مل گا۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
نامیاہو نے پر راضی بردارت کا ثواب
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The one who flees from the plague is like the one who flees from battle, and the one who remains patient during it will have the reward of a martyr" [Narrated by Ahmad]
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حدیث قدی ارشاد فرما تے سناتے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: جب میں کسی
بندرہ مومن کی دوآ کہ میں جؤاس کے پاس نہایت پیاری اور محوب ہیں پیشین لے کر نامیاہ نا دیتا ہول تو
وہ اس پر صبر کرے (نہ زبان سے خلاف ادب پکھ کرتا ہے نہ دل سے ناراض ہوتا ہے بلکہ) راضی
بردا ئے ایسی رہتا ہے تو اس کو میں اس کے بد لے میں (ابتدا ئے نجات پا نے والوں میں شریک کر کے
گناہوں کی سزا دے بھی پہلے پہل جنت میں داخل کروں گا) اور جنت میں نامیاناں کے لے جو
خاص مقام رکھیں گے، اس مقام پراس کو پہلو پچاول گا۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
I heard the Messenger of Allah ﷺ narrate this divine hadith, wherein Allah, the Exalted, has said: 'When I withhold water from a believing servant despite being extremely dear and beloved to me, if he remains patient (neither speaking words of disrespect nor becoming discontent in his heart, but rather remains satisfied), then I will grant him, in return for his patience, (a share among those who attain salvation first, and before punishing him for his sins, I will admit him into Paradise) and in Paradise, I will grant him a special place, and I will make him recline on it.' This hadith has been narrated by Bukhari.