(اس باب میں بیمار پری کرنے کا بیان ہےاور بیمار کوپیاری کاجواثواب ملتاہے،
اس کا جس ذکرہے )
This chapter discusses the merits of visiting the sick and the rewards one receives for doing so, as mentioned herein.
وقول الله عز وجل ونكتب ما قدموا واثارهم الل تعالي كا ارشاد سور لبيين ع ايت نمبر مي يشك لو جو عمل زادي اخرت بناي ا ن ا ا جس طرح جس اور جو اثار ان ك مردن ك بعد دنيا مي باقي ر جات ي تم ان سب كو ل رب ي ما قدموات مرادو كام جو ا ن با كيا اور اثار م ت مرادو اثر جواس كام ك سب يدا وا اور بعد مر كسي باقي ر ا مثل كسي ن كويي نيك كام كيا اور و دورول كي جس بدايت كا سب و يا اور كسي ن كويي برا كام كيا اور و سبب و يا دورول كي جسي مرا ي اور ضلالت كا غرض ي سب كسي جار جس اور اخرت مي النسب ر جزاء اور سزا مرتب و جاي ي مجمل ان ك عيادت مريض كسي س صاحب وتم مجحت ول ك عيادت مريض س كيا ثواب ل ا ن ي ن ي عيادت مريض كا ثواب جس ك حا جار جوتم كواخرت مي ل ا
وقوله تعالي الم تر الي الذين خرجوا من ديارهم وهم اوفق حذر الموت
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( سورۃ بقرہ، پ:2، ع:32، آیت نمبر:243، میں ) ( اے
انسان ! ) کیا تو نے ان لوگوں کا قصد نہیں سنا، جوموت کے ذریعے ( موت سے نکلنے کے لیے ) اپنے
گھروں سے نکل گئے تھے اور وہ ہزارول تھے ( اللہ تعالیٰ کا ان پر غضب نازل ہوا ) اور ان کے مردنے
کا حکم دے دیا اور وہ سب کے سب مر گئے، اس آیت شریف میں " حذر الموت " کے الفاظ قبل
غور ہیں، وہ لوگ موت سے نکلنے کے لیے طاعون زدو مقام سے نکل گئے اس لیے ان پر غضب
نازل ہوا اگر وہ پر اعتقاد کر کے نکلے کہ موت ہر جگہ آتی ہے، طاعون زدو مقام میں رہنے کی صورت
میں جس آسکتی ہے اور وہ لے نکل جانے کے بعد جس آسکتی ہے، موت کے خوف سے نہیں نکلے
بلکہ تبدیلی مقام کی غرض سے نکلے تو ان پر غضب ابی نازل نہ ہوتا، جسیا کہ موت سے نکلنے کی غرض
سے نکلنے سے غضب الہی نازل ہوا، اس آیت سے معلوم ہوا کر اعتقادي خرابی سے طاعون زدہ مقام
سے نکلنے کی صورت میں عذاب نازل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اعتقادی خرابی کے بغیر نکلين تو عذاب نازل
نہیں ہوتا، طاعون کے موقع پرتبدیلی مقام کی غرض سے نکنا جائز ہو نے کی تائید حضرت عمر رضی اللہ
عنہ کے ارشاد سے ہوتی ہے، جو آگے آ رہا ہے۔)
وقولہ: "قُلْ لَّن يَنفَعَكُمُ الفِرَارُ إِن فَرَرْتُم مِّنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَاذا لاَتُمَتَّعُونَ إِلاَ
قليلًا" -
And the guidance of Allah Almighty is: (Surah Al-Baqarah, Vol. 2, Chap. 32, Verse Number: 243) (O mankind!) Have you not heard of those people who, out of fear of death, left their homes and they were thousands in number? (Allah Almighty was displeased with them) and He decreed that they should die, and so they all perished. In this noble verse, the phrase 'fear of death' appears before the mention of their departure. These people left the plague-stricken area to escape death, which is why His displeasure descended upon them. If they had left with the belief that death comes to everyone, whether they remain in the plague-stricken area or leave it, and if they had not fled out of fear of death but rather for the purpose of changing their location, His displeasure would not have descended upon them, as is the case when the intention is to avoid death.
The divine wrath descended upon those who fled from a place afflicted with ideological corruption, as is evident from this verse. However, if one flees from a place without ideological corruption, punishment does not descend. The permissibility of fleeing from a place of plague for the purpose of changing location is confirmed by the guidance of Umar (RA), which will be discussed further. And His saying: 'Say, "Fleeing will not avail you if you flee from death or slaughter; and even if you enjoy [this world], you will only enjoy for a little."'
اور الل تعالي كا ارشاد سور احزاب ب ع ايت نمبر مي ا فرمادت ي ك ا ر تم موت س ايل ك خوف س بجا ك ر وي تو تم كو يج ا نا نفع ن ي ن ا سكتا ا ر تم موت س ايل س بجا وت اس حالت مي بجز تحول س دولت ك اورزياد فايد ن ي ا اسكت ا انسان تيرا كيا خيال تو ج با كر مين طاعون زد مقام س بجا كر موت س قلع جاون ا طاعون كا زخم نكا كراور طاعون س قتل ن و كر محفوظ ر ول كا ييتر اغلط خيال س بجا كر ندروز ن ك يا تو كيا اخر تو ب ي موت كا شكار ونا ي يا كب ي ج ا د ور با زخم كا كر قتل ونا ي ر ا ر ي موت ك ذا ن ك خيال س طاعون زد مقام س جاربا اس س تجب كويي فايد ن ي بال ا ر تبريلي مقام كرنا ا تا تو و اوربات س تجلواس س ن ي رواجا ربا
پیار کی عیادت کا حکم
ا بوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما نے ہیں کہ جہو کے کو کہانا کہلا او (یون تو جہو کے کو کہانا کہلا نا سنت ہے اور
اس میں بر ااجر و ثواب ہے مگر جو شخص اپیا جہو کا ہو کہ جہوک سے اس کی حالت تباہ ہور، یہ ہوتا اس کو
کہانا کہلا نا فرض ہے) اور پیار کی پیار پری کیا کرو (اس سے پیار کو تسلی ہوتی ہے) اور اگر کوئی شخص
(روپیہ نہ ہو نے کی وجہ سے قید ہوگیا ہوتا) تم روبپیا داء کر کے اس کو قید سے چھڑاو (مشلاً قرض کی
ادا) نہ ہو نے کی وجہ سے قید کر دیا گیا ہوتا تم اس کے قرض دی رقم ادا کر کے اس کو قید سے چھڑاو دیا مشلاً
غلام باندی سے کر ما کر نے ان پر پگڑ رقم معین کروی سے کرتم رقم لا دو تو تم کو غلامی سے ربا کروا
جا گا تو تم وہ رقم دے کراس کو آزاد کرادو )
اس کی روایت بخاری نے کی ہے
The Messenger of Allah ﷺ instructed that if someone is called 'Jahwak' (a term of endearment), it is not obligatory to call him by that name, but there is reward and virtue in doing so. However, if a person is known as 'Jahwak' and his condition deteriorates because of this, then it becomes obligatory to call him by that name. And show affection to the one who is dear, as this brings comfort to the beloved. If someone is imprisoned due to a debt, then pay off their debt and release them from prison. For example, if a slave is sold for a fixed amount, and you pay that amount, then the slave will be freed. So, pay the amount and free the slave.
ابو بریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشادفرماے ہیں کہ ایک مسلمان کے دومبرے مسلمان پر پائچ حق ہیں: (1) ایک حق تو یہ ہے کہ اگر کوئی سلام کرنے تو اس کا جواب دینا (وہال جومسلمان ہیں ان پرفرض ہے) اگر کوئی ایک ان میں سے سلام کا جواب دیے تو سب کے ذمہ فرضیت ساقط ہوجائے گی۔ اس لے کہ یہ سلام کا جواب دینافرض کفاہیہ ایاہی آنے والے مسلمان پر بھی ہو۔ مسلماں کا حق ہے کہ یہ آنے والا ان پرسالم کرنے (اورآنے والے کا پیسالم کرنا سنت ہے، مرقات میں ذکور ہے اس لے کہ سلام کرنے سنت ہے جو جواب دینے کے فرض سے افضل ہے اور ثواب میں زیادہ ہے اس لے کہ سلام کرنے سے تو اضع اور اکساری معلوم ہوتی ہے اور تکبر کی نغی ہوتی ہے)(2) مسلمان کا مسلمان پردوسرا حق یہ ہے )جب کوئی مسلمان پیار ہوتا اس کی پیار پرت کی جائے اور(3) مسلمان کا مسلمان پرتیرا حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان مر جانے تو اس کے جنازہ کے ساتھ چلنے، کندہ اوڑنا اور نماز کے بعد جمعی ساتھ جانا اور دفن تک تجہیر نا (یہ سب ایک مسلمان کے دومبرے مسلمان پر حق ہیں اور یہ سب فرض کفاہی ہیں، چند لوگوں کے اداء کرنے سے سب کی طرف سے فرض کی ادائی ہوجائے گی کوئی کہنے گا کہ نہیں ہوتا اگر کوئی مسلمان مجھی ان کو ادا کرنے تو سب مسلمان گزہ گا رہول گے)(4) مسلمان کا مسلمان پر چوتعا حق یہ ہے کہ اگروہ دعوت دے (اور وہ دعوت کی، یا معمولی کہانے کی کیون نہ ہو) تو اس کی دعوت کو قبول کرنے (اگر وہ دعوت و لیمر کی دعوت ہے تو اس کا قبول کرنا سنت مؤكد ہے، و لیمر کے سوا دوسری دعوتوں کا قبول کرنا سنت مستحب ہے، اگر کسی عذر سے کوئی دعوت قبول نہیں کیا خواہ و لیمر کی ہو یا کوئی اور دعوت ہوتی نہیرا اور با ت ہے اور اگر بغیر کسی عذر کے دعوت و لیمر ہو یا کوئی اور دعوت، اس میں شریک نہ ہوا تو وہ اس وعید کا حق ہوگا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس حدیث ثریف میں ارشادفرماے ہیں و من لم يجب الدعوة فقد عصى اللہ و رسوله، جو دعوت قبول نہیں کیا اور (بلاعذر) دعوت میں نہیں گیا تو اس نے اللہ کی اوراس کے رسول کی نافرمانی کی، اس لے کہ وہ دعوت میں جاتا تو مسلمان کا دل خوش کرتا، دعوت میں نہ جا کر دعوت دینے والے کا دول و حال اوراس کی پتنک کیا)(5) مسلمان کا مسلمان پر پاچوالحق یہ ہے کہ جب چیکے والا
پچیس (اور آواز سے "الحمد للہ" کہ اور "الحمد للہ" کہنا سنے ہے اور دونوں سے مسلمان پر
(اس کے جواب میں) "یرحمک اللہ" يا "یرحمکم اللہ" کہنا (واجب ہے) اگر حاضرین
میں سے ایک بھی جواب میں "یرحمک اللہ" يا "یرحمکم اللہ" کہتا تو سب کی طرف سے
ادائی ہوجائے گی _ ) اگر پچیس و لا "الحمد للہ" نہ کہے یا ایسا آہستہ کہ سنائی نہ ہو تو
حاضرین میں سے کوئی پچیس وا لے کا جواب "یرحمک اللہ" کہ تو سنے کی ادائی تو ہوجائے ہے مگر "الحمد للہ" کے
دیوے ) اگر پچیس و لا "الحمد للہ" کہ تو سنے کی ادائی تو ہوجائے ہے مگر "الحمد للہ" کے
ساتوڑ رب العالمین علی کل حال "پر ها "الحمد للہ رَبّ العَالمِینَ عَلی کُلّ
حال " کہ تو وہ میش کے لے دائر ہاور کان کے درد سے محفوظ رہے گا جسیا کہ مرقات میں حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے مرودی ہے _ )_
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے _
دوسری حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The rights of a Muslim are six." It was said: "What are they, O Messenger of Allah?" He said: "When you meet him, greet him; when he invites you, accept his invitation; when he seeks your advice, advise him; when he sneezes and praises Allah, say 'Yarhamuk Allah' (may Allah have mercy on you); when he falls ill, visit him; and when he dies, follow his funeral." [Narrated by Muslim]
This hadith has been narrated separately by Bukhari and Muslim. _ Another hadith
ابو بریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان پر مسلمان کے حق ہیں (احادیث میں مسلما نول کے حقوق
کی جو مختلف تعراد نذکور ہوتی ہے وہ حصر کے لے نہیں ہے، وہی سے جی جی معلوم ہوتا گیا حضور اس
تعراد کو ظاہر فرماتے گے ) صحابہ عرض کہ : حضور! وہ چیو حقوق کو نہ ہیں؟ تو حضور ارشاد فرماتے:
سنو ! مسلمان کا مسلمان پر (1) ایک حق تو یہ کہ جب کسی مسلمان سے ملاقات ہواس کو سلام
کرو (اگر خود وہ سلام کرے تو تم اس کا جواب دو ) مسلمان پر مسلمان کا (2) دوسرا حق یہ کہ اگر
وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو، اور مسلمان کا (3) تیسرا حق یہ کہ (پول تو ہروقت مسلمان
کی خبر خواہی کرنا ضروری ہے مگر جب ) وہ تم سے مشورہ کرے تو تم (پروا جب ہے کہ تم ) اس کو خیر
خواہی مشورہ دو اور مسلمان کا (4) چوتھا حق یہ کہ جب اس کو پچیس کہ آؤروہ (آوازتے)
"الحمد للہ" کہ تو تم (پروا جب ہے کہ تم اس کو "یرحمک اللہ" کہ کر جواب دیرواور
مسلمان کا (5) پانچواں حق یہ کہ جب کوئی مسلمان پیار ہوتا تم اس کی پیار پرسی کرو (اگر مرتہی کیون نہ ہو ) اور مسلمان کا (6) چھٹا حق یہ کہ جب وہ مر جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جا کر
اس کی نماز جنازہ پڑھاو اور دفن کے جنازہ کے ساتھ دفن ہو مسلم نے روایت بیان کی ہے _
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The rights of a Muslim are six." It was said: "What are they, O Messenger of Allah?" He said: "When you meet him, greet him; when he invites you, accept his invitation; when he seeks your advice, advise him; when he sneezes and praises Allah, say 'Yarhamuk Allah' (may Allah have mercy on you); when he falls ill, visit him; and when he dies, follow his funeral." [Narrated by Muslim]
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکوسات کام کرنے کا حکم دیے جین اور سات کام کرنے سے منع
فرماتے ہیں، جن سات کا مولا کے کرنا کا حکم دیے ہیں، وہ یہ ہیں:
(1) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کو حکم دیے جین کہ تم پھڑ کی پیار پری کیا کریں (2) اور
جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جا کر نماز جنازہ ادا کریں (دن کر نے میں
جہی شریک رہیں تو نہایت مناسب ہے) (3) اور جب پیچین والا پچینگ (اورآوازتے "الحمد للہ" کہ) تو اس کا جواب "یرحمكم الله" سے دیں (4) جب کسی مسلمان سے ملاقات ہو تو
اس کو سلام کریں اور آگروہ سلام کرے) تو اس کے سلام کا جواب دیں (5) اگر کوئی مسلمان دعوت
دے تو اس کی دعوت قبول کریں (6) اگر کوئی مسلمان قسم کہائے تو اس کی قسم پوری کرنا کے لے اس
مسلمان کی مد کریں (مثال کوئی شخص قسم کہائے کہ میں بھلاں سے نہیں اٹھون گا جب تک آپ پیرا
مقصد پورا نہ کر دیں اگراس کا مقصد خلاف شریعت نہ ہو اور کوئی غناہ کا کام نہ ہو اس کا مقصد پورا
کر دے تاکہ اس کی قسم پوری ہو جائے، اگراس کا مقصد پورا نہ کروگے تو وہ انظار کر کے اٹھ جائے گا
اس کی قسم توٹ جائے گی اور اس کو فارہ و نیا پڑے گا، ورش وہ گناہ گار ہو گا اس کے پیوہت دانے دو)
اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حکم دیے جین کہ اگر کسی رظلم ہور پا ہو (تو جس طرح تم سے
ہو سکے) اس کی مد کرو (اگر زبان سے مد کی جائے تو اس سے ظلم دور ہو سکتا ہو تو زبان سے مد کرو،
اگراس مظلوم کا ظلم پاته سے مد کر نے سے دور ہو سکتا ہو تو پاته سے مد کرو، جہر حال کسی طرح اس
مظلوم کو ظلم سے بجاو )-
اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات کا مولا کے کر نے سے منع فرماتے ہیں، وہ یہ ہیں:
(1) (مردوچا بے کر) سونے کی انگوٹی نہ پہنا کرے (اس لے کر مردو کوسونا پہننا حرام ہے،
بال عورتیں سونے کی انگوٹی پہن سکتی ہیں، ان کوسونا پہن کی اجازت ہے) (2) (مردوچا بے کر) وہ
کسی قسم کا رشتمی کپڑا نہ پہن اور نہ استعمال کرے۔ جس کا تانا لعنی کڑالا نباتار) اور بانا (لعنی آرا تار)
رشتم کا ہو (ایسا ہی وہ کپڑا یہی نہ پہن اور نہ استعمال کرے۔ جس کا تانا سوت کا ہو اور بانا رشتم کا ہو، اس
لے کہ کپڑے کی تکمیل بانے سے ہوتی ہے۔ بال اگرتا نارشتم کا ہو اور بانا سوت کا جیسے مشروء تو پیر دو
جب جائزہ بخلاف اس کے عورتوں کو هرتم کا رشتم کپڑا پہنااوراستعمال کرناجائزہ، پولتو مردو
هرتم کا رشتم کپڑا حرام ہے خاص کر )3( استبرق جورشتم کا پناہوا دیز کپڑا ہوتا ہے، ایا، ی )4(
دیبانجہی مردو کے لئے حرام ہے جوابر کی رشتمی تارول کامہین کپڑا ہوتا ہے )جیسے رشتمی لباس پہنا
مردو حرام ہے ) ایسے، ی )5( زین پوشی جنی چارجامہ جورشتم سے بنایاگیا ہو، اس پر بھی حنا حرام ہے
خواہ کسی رنگ کا ہوااور حدیث شریف میں سرخ رنگ کا جوڑ کر ہے و عامروانج کے اعتبار سے ہے،
خلاف اس کے چار جامہ رشتم کا نہ ہو بلکہ سوت کا ہوتا اس پر بھی حنا جائزہ، اگر چار جامہ سوت کا ہوگر
سرخ رنگ کا ہوتا اس پر بھی حنا کرو ہے اس وجہ سے کہ جموں کی عادت سے کہ رشتمی چار جامہ اور
سوت کے سرخ چار جامہ پر بیٹھے پین جس سے رغوئت اور تکبر ظاہر ہوتا تھا اس وجہ سے اس طرح کے
چار جامہ تہجم منع کیا گیا، )6( ایسے، ی مردو قسم کا کپڑا پہنا کہ حرام ہے جومعمولی اور رودی فتنم
کے رشتم سے بنایا جاتا ہے )عورتیں جس قدراجاپین سونے اور چاندی کا زیور پہن سکتی ہیں، عورتوں
کے لئے سونا اور چاندی پہنا جائزہ گراستعمال کا جوسا مان سے مثلًا برتنیا آبنیہ یا سرمدا نی اور
سلائی یا پاندان وغیرہ ان کا استعمال کرناجیس مردول کو حرام ہے ایسے، ی عورتوں کے لئے کچھ حرام
ہے )7( سونے اور چاندی کے برتن میں کہنا کچھ حرام ہے ) غرض مرد ہولیا عورتیں چاندی
سونے کے سیسا مان کواستعمال نہ کریں ) جور نیا میں چاندی یا سونے کے برتنوں میں کہا گا ) تو
جب اور مسلمانوں کو آخرت میں چاندی اور سونے کے برتن میں گے ) تو ایسے شخص کو جور نیا میں
چاندی سونے کے برتنوں میں کہا پیا ہے وہ ان برتنوں سے محروم ہوگا۔
اس کی روایت بخاری اورمسلم نے متقدم طور پر لی ہے )۔
غیر مسلم کی عیادت کا بیان
Al-Bara' ibn 'Azib (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) commanded us with seven things and forbade us from seven. He commanded us to visit the sick, to follow funeral processions, to respond to the sneezer, to return greetings, to accept invitations, to fulfill oaths, and to support the oppressed. He forbade us from gold rings, silk, brocade, fine silk, red cushions, silver vessels, and drinking from silver vessels. In another narration, he forbade drinking from silver, for whoever drinks from it in this world will not drink from it in the Hereafter." [Agreed upon]
This narration has been previously reported by Bukhari and Muslim. The visitation of a non-Muslim is permissible.
_ اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وهفرماتے ہیں کہ ایک یہودی اٹکا حضر صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ) ایک دفعہ ) وہ پہار یہودیا، اس ) یہودی ) لڑکے کی پہار پر گی
کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے گھر تشریف لے گئے اس پہار والے کے
سر باں بیٹھے اور ارشاد فرما یے ) اے لڑکے تو نے میری بہت خدمت کی ہے میں چاہتا ہوں کہ تو
مردنے کے بعد آرام سے رہ اس لے ) تو مسلمان ہوجا! اس وقت لڑکے کا بابا اس کے پاس
موجود تھا، لڑکا اپنے بابا کی طرف ) مشورہ لینے کے لے ) وکہنے لگا، بابا نے کہا ) اچھا بیا ) البو
القاصم صلی اللہ علیہ وآلم وسلم جو فرما رہے ہیں اس کوسن لواور مسلمان ہوجاو، چنانچہ وہ ان کا مسلمان ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم اس کے گھر سے بفرما تے ہوئے باہر نکل کر اللہ کا شکر کے کاسے لڑ کے کودوز خے پچالیا۔
(اس کی روایت بخاری میں ہے)-
ف: اس حديث شريف سے کئی مسائل معلوم ہوتے، ایک مسئلہ یہ ہے جسیا کرم عمدۃ القاری میں کہا ہے کہ کافر سے خدمات لینا جائز نہ اپنا کی نا بالغ پچے سے کہی خدمات لینا جائز ہے، اس حدیث شریف سے دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا جسیا کرم رقات اور بستان فقیر البولیث میں ذکور سے کر زینی کافر پیار ہوتا اس کی پیار پرتی کے لئے جانا جائز نہ او رخز انة الفتاوي میں ذکور سے کر یہودی، مجوسی اور فاسق کی پیار پرتی کے لئے جانا جائز نہ، اوراس کے جواز پرفتوی سے اور تیرا مسئلہ یہ جوم رقات میں ذکور سے کر پیار کے پاس پیار پرتی کے لئے جانے والے کے لئے مستحب یہ سے کر دو پیار کے سربانے پیٹھ کر پیار پرتی کرنے، اس حدیث سے چوتحا مسئلہ یہ معلوم ہوا جوعدة القاري اور رقات میں ذکور سے کر پیچ کا اسلام لا نا تج سے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم اس کو دوز خے نجا ت ملنے کی خوشخبری دیے، اگر پیچ کا اسلام لا نا تج نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلم وسلم اس کو اسلام لا نے کے لئے نفرماتے، اوراس کے اسلام لا نے کے بعد نبات کی خوشخبری نہ دیے، پیچ کا اسلام لا نا تج ہونے کی تائید حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اسلام سے ہوتی سے کر آپ بھی پیچنے، ایسے میں اسلام قبول فرما سے تھا اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا بھی نظرہ بہے جس کی تائید ذکورہ واقعات سے ہوتی ہے
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "A Jewish boy who served the Prophet (ﷺ) fell ill, so the Prophet (ﷺ) visited him. He sat by his head and said: 'Embrace Islam.' The boy looked at his father, who was present, and the father said: 'Obey Abul-Qasim (the Prophet).' So the boy embraced Islam. (1) The Prophet (ﷺ) left saying: 'Praise be to Allah who saved him from the Fire.'" [Narrated by Al-Bukhari]
(1) The statement: "So the boy embraced Islam" supports the view of Imam Abu Hanifah, who holds that the Islam of a child is valid. This is mentioned in Al-Mirqat.
_ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ پیار کے پاس جب پیار پرتی کے لئے جا نے پیار پرتی کے آداب کے مجملہ یہ کہ پیار کے پاس تحوط ی دری پیٹھ کر جلد انہیں جا نے دری کے پیار کے پاس نہ پیچنے اور پیار کے پاس شورو غل نہ ہو نے دی (اس لئے کہ پیار پیار کی تکلیف میں بتلا رہتا ہے اس کے پاس اس طرح کے حرکات کرنے سے اس کی تکلیف میں اور اضافہ ہوجاتا ہے اور پیار کو بہت سی ضرورش درپیش ہوتی ہیں، زیادہ دری کے پیار کے پاس پیچنے سے پیار کو پی ضرورش رو کے رکنا پرتا ہے اس سے کچھ اس کو تکلیف ہوتی ہے-) (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی فرما یہ کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم پیار سے او رآپ کی پیار کی نے شدت اختیار کی تھی، ایس وقت میں ایک معالمہ پیش آیا آہستہ آہستہ گفتگو ہوتی رہی اور جب گفتگو بہت
طول بھوٹی تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے: آپ لوگ اس وقت میرے پاس سے جلد جائیں (آئینہ احتیاط رہیس کہ پہار کے پاس زیادہ دریک نہ چڑھیں اور نہ پہار کے پاس طول کھڑے گلو کریں-) اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
دوسرا حدیث
When the Prophet ﷺ was about to go on a journey, he would instruct us with the following advice: 'Be cautious when approaching the river; do not approach it hastily, and do not start swimming immediately, for this can cause distress to the person, and such movements can increase their discomfort. Many difficulties arise, and excessive movement near the river can make the person more uncomfortable, causing them to struggle and face additional challenges.' Ibn Abbas (RA) also said: 'The Messenger of Allah ﷺ used to be very gentle with his family. Once, a matter arose, and the conversation continued slowly. When the conversation became lengthy, the Messenger of Allah ﷺ instructed: 'O people, leave quickly at this time (to avoid further difficulty, do not ascend the mountain excessively, nor stand for long periods near it).' This narration is reported by Raziyya.
انس رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں کہ (مسلمانو! پہار کے پاس جب پیار پرتی کے لے جاؤ تو تحوطی دریخمر کر فوراً انہو جا یا کرو، تحوطی دریکی مقدار تو اس طرح ججوکه اوتنی کا جب دورہ دوشت ہیں تو بہت تحوطی دری وقفہ کرنے بقیہ دورہ دوسیا کرتے ہیں (دونوں دورہ دوشن کے درمیان میں وقفہ چند لمحون کا ہوتا ہے پس پیار کے پاس پیار پرتی کرنے کے لے چتر لے تجہیرنا جاپنے زیادہ دری خمر کر پیار کو تکلیف نہ دو-)
The Messenger of Allah ﷺ instructed: 'O Muslims! When you take your beloved near the mountain, immediately make her lie down with caution. Make her lie down with as much caution as when a person, after completing one round of his journey, takes a short rest before continuing the next round (there is a brief pause between the two rounds of the journey). Therefore, when taking your beloved near the mountain to express affection, do so with greater caution and do not cause her any discomfort.'
اور سعید بن الحصیب رضی اللہ عنہ روایت ہیں اس طرح مرودی ہے کہ پیار پرتی کے لے جب پیار کے پاس جا یں تو افضل یہ کہ پچھے پیچے نہ پیچے کہ فوراً انہو کرتے ہو جا یعنی اس کی روایت یہی ہے نے شعب الایمان میں کی ہے۔
پیار جس چیز کی خواہش کرنے اس کو کلا ويناچاہے،
When you go to visit someone you love, it is better to go directly without hesitating or delaying. This is his narration as recorded in Shu‘ab al-Iman. Love whatever someone desires, even if it is something insignificant.
ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صحابی پیار پرتی کے لے تشریف لے گئے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرماتے: تمہارا دل کیا کہنا چاہتا ہے؟ تو وہ صحاب عرض کرتے: حضور! میرا دل گیہون کی روثی کہنا چاہتا ہے تو حضرت فرماتے: اگر میرے پاس گیہون کی روثی ہوتی تو میں خود بھیجا، صحبو! تم میں سے بھی ہر ایک کے پاس گیہون کی روثی ہوتی ہے (اس لے کہ ہماری زاہدانہ زندگی ہے) اگر کسی کے پاس گیہون کی روثی ہوتی ہوتی وہ اس کو اپنے اس پیار بجاٹی کے پاس کچھ دے (اس لے کہ اگر کسی مریض کو یقیناً کوئی چیز مرضر ہوتی یا اور بات ہے خواہ تو اہ مریض کوخت پر میرین کرانا چاہے بعض وقت مریض کو اس کی خواہش کے موافق کھلايا جانے تو ایاس کی صحت کا ذریعہ ہوجاتا ہے اور بعض وقت مریض قربیب المرگ ہوتا ہے اس کو پرہیز کرنا نے کیا فائدہ، اس کو اس کی خواہش کے موافق کھلاو ينا چاہے تاکہ موت سے پبل اس کی خواہش پوری ہو جائے اس لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں کہ: جب تمہارا کوئی پیار کی چیز کی خواہش کرنے تو تم اس کو وہ چیز کھلا کر اس کی
خواہش پوری کردو۔(اس حدیث کا ترجمہ مرقّات اوراشعۃ اللمعات کے موافق کیا گیا ہے۔)
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
مریض کا کوئی حال پوچھے تو اس طرح جواب دینا چاہیے
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) visited a sick man and asked him: "What do you desire?" The man said: "I desire wheat bread." The Prophet (ﷺ) said: "Whoever has wheat bread should send it to his brother." Then the Prophet (ﷺ) said: "If a sick person among you desires something, let him eat it." [Narrated by Ibn Majah]
عن عباس بن الله عليه وسلم يروي يهارى حس سرسول الله صلى الله عليه وسلم ونيا تشريف لى
گے،حضرت علي رضي الله عنه حضرت صلى الله عليه وسلم كے پاس سے باهر تشريف لاۓ، لوگ آپ
كي يهاري كي وجہ سے بہت بے حیاء تھے، حضرت علي رضي الله عنه لوگ دريافت كرتے: ا
اباكسن! فرمائيے کر حضرت صلى الله عليه وسلم كے پين؟ حضرت علي رضي الله عنه خيال فرمائے کر:
صلی كيفيت تو طبيب سے کہنا چاہیے عوام کو کہنے سے کیا فائدہ اس لے) حضرت علي رضي الله عنه
لوگول سے) فرمایے برحال میں الله تعالی کی نعمت شامل حال رہتي ہے، الحمد للہ حضرت کا جوال ہے
وه بهتر ہے (ايسي کہ جسيا کر الله تعالی کو منظور ہے، حضرت علي رضي الله عنه یفرما کر تعليم دے رہے
پین کر مریض کي حالت جب دريافت کي جاۓ تو ایسے کی پران کرنا چاہیے، جیسے میں بیان کیا
ہول۔) اس حدیث کي روايت بخاري نے کی ہے۔
پہلی حدیث
This is the first hadith.
ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کے، وہ فرماتے پی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے پی کر جب ایک مسلمان اپنے بجاٹی مسلمان کی پیار پری کوجاتا ہے تو اس کی
پیاری سے واپس آنے تک (اپنے کو کچھ کر میں جنت میں جنت میں ہول اور) جنت میں میوہ خوری کرداہول
(اس سے مراد یہ کہ پیار پری کرنے والا جنت کا مستحق ہوجاتا ہے، یہ خدا کی دین کر زرات
تی کام پرانتابر اثواب عطا فرماتے ہیں۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
دومری حدیث
When a Muslim goes to visit his Muslim brother in love, he remains in the state of receiving reward until he returns to his beloved, and he eats the fruits of Paradise. This means that the one who visits in love becomes deserving of Paradise; this is the reward that Allah bestows upon him for his good deed.
حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کے، آپ فرماتے پی کر میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرما تے سنابھے کر جومسلمان نجح کے وقت کسی مسلمان مریض کی پیاری پری کرتا ہے تو اس کے لئے ستر بزارفرشے شام تک دعاے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور جو مسلمان شام کے وقت کسی مریض کی پیار پری کرتا ہے تو اس کے لئے صحح بہوں تک ستر بزارفرشے دعاے مغفرت کرتے رہتے ہیں، اور پیار پری کرنے والے کے لئے جنت میں ایک باغ تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابوداود نے کی ہے۔ پیار پری کرنے کے ناکھلا نے اور پانی پلانے کا ثواب
Ali (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "No Muslim visits a Muslim in the morning except that seventy thousand angels pray for him until the evening, and if he visits him in the evening, seventy thousand angels pray for him until the morning, and he will have a harvest in Paradise." [Narrated by Al-Tirmidhi and Abu Dawud]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالی ارشاد فرما ئیں گے: اے ابن آدم! میں پیار ہوا تھا تو نے میری پیار پری نہیں کی، بندہ عرض کرے گا: پروردگار! میں کیا پ کی عیادت کرتا آپ رب العالمین ہیں (ایک لحظہ پ عالم سے غفلت نہیں ہوسکتے ہیں، اگر آپ پیار ہو جا ئیں تو عالم کی تقریب نہیں ہوسکتی اس لئے نہ آپ پیار ہوسکتے اور نہ میں آپ پ کی پیاری پری کرسکتا) اللہ تعالی فرما ئیں گے کہ: کیا تو نہیں جانتا تھا کہ میرا فلال بندہ پیار ہوا تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے ضروراس کے پاس پاتا (اور میں تجھے پرحت کرتا اور تجھے سے راضی ہوجاتا) ابن آدم! میں نے تجھے کہانا ما نگا تو نے مجھے کہانا نہیں کھلا یا، بندہ عرض کرے گا: پروردگار! میں آپ پ کو کیا کہانا کھلا سکتا تھا، حالا کہ آپ سارے عالم کے پروش کرنے والے ہیں (سب کو آپ پ کہلاتے ہیں اور آپ پ نہیں کہاتے ہیں) اللہ تعالی فرما ئیں گے: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلال بندہ نے تجھے سے کہانا ما نگا تھا اور تو نے اس کو کہانا نہیں کھلا یا، اگر تو اس کو کہانا کھلا دیا ہوتا تو ضروراس کہانے کا ثواب میرے پاس پاتا، ابن آدم! میں نے تجھے پانی ما نگا گمر تو نے مجھے پانی نہیں پلانا، بندہ عرض کرے گا پروردگار! میں آپ کو کیا پانی پلانا
حال ہے آپ رب العالمین ہیں (کسی چیز کے آپ محتاج نہیں ہیں، سب آپ کے محتاج ہیں) اللہ تعالیٰ فرما ہیں کہ: میرے فلال بندہ نے تھہے پانی مانگا تو نے اس کو پانی نہیں پلا یا، سن! اگر تو اس کو پانی پلا یا تو اس پانی پلانے کا ثواب میرے پاس پاتا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
پیار پری کرنے والے کے لئے ایک اور خوشخبری
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah, the Almighty, will say on the Day of Resurrection: 'O son of Adam, I fell ill, and you did not visit Me.' He will say: 'O Lord, how could I visit You when You are the Lord of the worlds?' Allah will say: 'Did you not know that My servant so-and-so fell ill, and you did not visit him? Did you not know that if you had visited him, you would have found Me with him? O son of Adam, I asked you for food, and you did not feed Me.' He will say: 'O Lord, how could I feed You when You are the Lord of the worlds?' Allah will say: 'Did you not know that My servant so-and-so asked you for food, and you did not feed him? Did you not know that if you had fed him, you would have found that with Me? O son of Adam, I asked you for water, and you did not give Me to drink.' He will say: 'O Lord, how could I give You to drink when You are the Lord of the worlds?' Allah will say: 'My servant so-and-so asked you for water, and you did not give him to drink. If you had given him to drink, you would have found that with Me.'" [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے جس کہ: جو شخص (مخصوص ثواب کے نیت سے) کسی پیاری کی پیار پری کرتا ہے تو اس کے لئے آخرت میں ایک فرشتہ پیشادیتا ہے (اپنے پیار پری کرنے والے) تو بڑا خوش تقدیر ہے (دنیا میں کسی پیار پری کرنے کی وجہ سے تھہے بجلائی دی جانے کی اور آخرت میں کیا پچھنا کہ پہترے پہترے بجلائی تیرے لئے رکھی گئی ہے اور پیار پری کے لئے جو قدم تو اٹھایا ہے اس سے تو پینے پچھنا کہ تو نے دنیا کا رستہ طریقہ بلکہ) مبارک ہوتا ہے کہ تو نے جنت کے مرتب اور درجات طریقتا چلا گیا ہے، تو نے پیار پری کیا کی ہے کہ پیار پری کے صلیم جنت میں تو نے اپنا گھر بنالیا ہے۔
اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
باوضوع عیادت کرنے کی فضلیت
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever performs a deed of love (with the intention of a specific reward) for someone, an angel will appear before him in the Hereafter, and he will be very fortunate. (In the world, if you were to light a lamp because of your act of love, it would be known in the Hereafter that lamps upon lamps have been prepared for you, and for every step you took out of love, it will be known that you have traversed the path of the world, but rather) blessed are you, for you have traversed the stages and levels of Paradise through your acts of love. You have performed acts of love, and by your acts of love, you have made your home in Paradise.'
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے جس کہ: جو شخص اچھی طرح سفن اور مستحبت کی اپنی کے ساتھ وضو کرے اور مخصوص ثواب کی نیت سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرے تو وہ شخص (عیادت کی وجہ سے) دوزخ سے بہت دور رہو گا جس کی مسافت ساتوہ سال کی ہو گی۔
اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
ف: اس حديث شريف میں وضو کر کے عیادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس لئے کہ عیادت عیادت سے اور عیادت وضو کے ساتھ ہوتا کالل اور افضل ہوتی ہے اور دوسرا وجوہ یہ ہے کہ جب عیادت کو جانے گا تو بالمرضی کے لئے وعا کرے گا اور دعا باوضوع ہوتا جلد قبول ہوتی ہے اس لئے باوضوع عیادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس لئے باوضوع عیادت کرنا سنت ہے۔ مرقات
پیار پری کو جانے والارحمت خداوندی میں غرق ہوتا ہے
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever performs ablution well and visits his Muslim brother with the intention of seeking reward, he will be promised a distance of sixty years from Hell." [Narrated by Abu Dawud]
جابر رضي الله عنه رواية، وفرما تهين كرسول الله صلى الله عليه وسلم ارشاد فرمايے پين كر: جب کوئی شخص کسی پیاری پیار پری کے لے جلتا ہے تو وہ پیار کے پاس جا کر بیٹھنے تک رحمت ابی کی دریا میں تیرتا ہوا جاتا ہے اور جب وہ پیار کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو رحمت ابی کی دریا میں غرق ہوجاتا ہے۔
اس کی روايت امام ما لك اور امام احمد نے کی ہے۔
پیار پری کو جانے والا کیا دعا کرے؟
پہلی حدیث
What should one pray for when seeing a beautiful woman? This is the first hadith.
ابن عباس رضي الله عنهما روايت ہے، وفرما تهین كرسول الله صلى الله عليه وسلم ایک شخص کی پیار پری کے لے تشریف لے گئے وہ شخص جنگل اور کہیں دول میں رہتا تھا (تہذیب اور تقیلو کے آداب سے بےخبر تھا) حضور صلى الله عليه وسلم کی عادت تشریف پیش کر جب آپ کسی مریض کی عیادت کے لے تشریف لے جاتے تو لا باس طہور ان شاء الله، (تم اس پیاری سے گھبرا او نہیں، پی پیاری مہلك نہیں ہے بلکہ) تمہارے گناہوں کو پاک کرے وانی ہے ان شاء الله، افرما یا کرتے۔
حضر صلی اللہ علیہ وسلم حسب معقول اس دیہاتی آدمی سے مجھی مجھی فرما گئے تو (اس دیہاتی نے حضر صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی پچھ قدر نہ کی، اپنے اکثر پین سے) کہنے لگا: حضور! آپ تو فرما تے پین کر پیاری مہلك نہیں گمر) مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پی پیاری اس بد کے قبر میں پہو نچا کر رہے گی، دیکھے ایک بد کے نا تو ان کوس قدر نہ کرے (دیکی طرح) تمام جسم کو ابال ربا پے حضر صلی اللہ علیہ وسلم اس دیہاتی کو پیکہ ہو سے سن کر فرما گئے (تم نے خدا کی نعمت کا پکڑ شکر ادا کریا) پھر تو اچھا ایسا کی ہوگا جسیا تم کہہ رہے ہو۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
دوسری حدیث
The Prophet ﷺ said to a villager who was complaining, 'You complain so much.' The villager did not appreciate the Prophet's ﷺ advice and, due to his excessive drinking, began to say, 'O Messenger of Allah! You speak but do not drink sweet drinks; it seems to me that you will pour sweet drinks into the grave of this evil person, see how they do not value it.' The Prophet ﷺ, upon hearing the villager's words, said, 'You have not shown gratitude for the blessings of Allah. If you had, it would have been as you say.' This hadith is reported by Bukhari.
ابو سعید خدری رضي الله عنه روايت ہے، وفرما تهین كرسول الله صلى
اللہ تعالی و آ ل و سلیم ارشاد فرما نے جب تم کسی پیاری پیار پرتی کو جا ئے (اس سے ایسے الفاظ کہو جئے
سے اس کا دل خوش ہو جائے مثلًا یوں کہو ) کہ اللہ تعالی تمہاری عمر دراز کرے ( کوئی فقری پیاری نہیں
ہے اللہ تعالی تم کو حمت دے ایسے دل خوش کرنے الفاظ کہنے سے مریض کا دل خوش ہو جائے تاہے ) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآ ل و سلیم فرماتے پین کر تمہارے اس طرح کہنے سے تقدر ابی تو نہیں بدل سکتی ( جو
ہونا ہے وہ ہوگرہے گا ) لیکن اس سے پیار کا دل خوش ہو جائے گا (اور بعض وقت اس سے اس کی
پیاری میں کچھ تخفیف ہو جائے گی ) ہے اور پیار کو پیاری کی تعلیف کم محسوس ہوتی ہے۔
اس حدیث کی روایت ترنزی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
بخار کے مریض کے لے خوشخبری
Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you visit a sick person, give him hope for a long life, for that does not repel anything but comforts his soul." [Narrated by Al-Tirmidhi and Ibn Majah]
ابوہریرہ رضی اللہ علیہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآ ل و سلیم ایک صاحب کی پیار پری کے لے تشریف لے گئے (جو بخار میں بتلا ہے ) حضرت صلی اللہ
علیہ وآ ل و سلیم ان سے فرماتے ( سنو! بخار کو تم کچھ کر یہ کیا ہے؟ ) میں تم کو خوشخبری دیتا ہوں سنو!
اللہ تعالی ارشاد فرما تے پین کر پی بخار میری آگے ہے جس کو دنیا میں اپنی بندہ مومن پر مسلط
کردیتا ہو لے تا کہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کے بدالے میں آگے میں ججوگ کے جانے سے نچ
جا یے (دنیا میں پی بخار جوش آگے کے ہے دوزخ کی آگے کا بدالے ہو جائے، اور آخرت میں
دوزخ کی آگے کے محفوظ رہے۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے اور تہذیب نے کچھ اس کی روایت شعب
الایمان میں کی ہے۔
پیار کے لے شفاء کی دعا کرنے کا بیان
پہلی حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) visited a sick person and said: "Receive glad tidings, for Allah, the Almighty, says: 'It is My fire that I impose on My believing servant in this world, so that it may be his share of the Fire on the Day of Resurrection.'" [Narrated by Ahmad, Ibn Majah, and Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ ل و سلیم کی عادت تھری فہ پی کہ جب کہ کہ جب تم میں کوئی پیار ہو جائے تو
حضوراپناسیرهاپتهپیارپرپیہرتے،اوریدعاپڑھتے: اذہب الباس رب الناس واشف
انت الشافي لا شفاء الا شفاء کے شفاء لا یغادر سقمًا۔
آپ پی (اس پیار کی) پیاری کو دور کچے (اس پیار کو) پیاری سے شفاء دتے، آپ پی شافی ہیں،
شفاء آپ یہ کے قبضہ قدرت میں ہے، آپ کے سوا کوئی شفاء دینے والہ نہیں، اس مریض کو اسی
شفاء عطا فرما سے کوئی پیاری باقی نہ رہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے۔
دوسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When someone among us fell ill, the Messenger of Allah (ﷺ) would wipe him with his right hand and say: 'O Lord of the people, remove the harm and cure, for You are the Healer. There is no cure except Your cure, a cure that leaves no illness.'" [Agreed upon]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے جب کوئی شخص کسی مریض کے پاس عیادت کو جائے تو اس کو
اس مریض کے پاس یدعا پڑھی چائے: "اللہم اشف عبادک یںگا لک عدوان اور
یمشی لک الی جنازۃ"۔
ابی اس پیار کو شفاء دتے (تاکہ پیار پ کے دین کی مد کرے) آپ کے دین کے خلاف
(جو کفار) ہیں ان سے جہاد کرے (اور مسلمانوں کی بھادری کرے) ان کے جنازے کے ساتھ
جا ے۔ اس کی روایت ابوداود نے لی ہے۔
تیسری حدیث
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a man visits a sick person, let him say: 'O Allah, heal Your servant so that he may strike Your enemy or walk to a funeral for You.'" [Narrated by Abu Dawud]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ جب کسی شخص کے بدن کے کسی حصہ میں کوئی پیاری لاحق ہوجائے تو کسی کو پچوڑا ہوتا کوئی زخم
ہوجاتا تو نہیں کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی (شہادت کی انگلی پر اپنا مبارک ٹھوکر لیتا اور اس کو زمین
پر رکھتے، جس سے ٹھوکر میں مٹی لگتی ہے، یہ مٹی میں ہوتی ٹھوکر کی) انگلی کو (پیاری اس جگہ پر)
رکھتے (جہاں کوئی درد ہو یا پچوڑا ہو یا زخم ہو، اور اس جگہ پر) ملتے ہوتے یدعا پڑھتے: "بسم اللہ
تربۃ أرضنا بریقتا بعضا يشفی سقیمنا باذن ربنا"۔
اللہ تعالی کے نام (کی برکت) سے ہماری سرزمین کی پی مٹی ہم میں سے کسی کے ٹھوکر کے
ذر پیہ تمارے پیار پر یا س پیار کے ذم پر یاس کے پچوڑے پر جو بھی جاری ہے ابی اس پیار کو آپ کے حکم سے شفاء ہو جائے۔
(اب رہی بات کہ حدیث شریف میں تحویل کو مٹی سے ملا کر یہ جو علاج کیا گیا ہے وہ ایس اسرار میں سے ہے جس کا جھنداہماری عقلوں سے باہر ہے جسے حضور عمل کے ہیں، ایسے عمل کرو، اور اللہ تعالیٰ سے شفاء کی امید رکھو جسیا کراشعتہ اللمعات میں ذکور ہے۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پر لی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When a person complained of pain or had a sore or wound, the Prophet (ﷺ) would place his finger on it and say: 'In the name of Allah, the dust of our land mixed with the saliva of some of us, so that our sick may be healed by the permission of our Lord.'" [Agreed upon]
امام موثقین حضرت عاشر صدیقرضی اللہ علیہ روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک یہ تھی کہ جب آپ پیار ہوتے تو معوذات، لعنی سورۃ "قل أعوذ برب الفلق"، "سورۃ قل أعوذ برب الناس" (اور ان دونوں کے پیل) "قل يا يها الكفرؤون"، "اور قل هو الله احد"، (ان چاروں سوروں کو) پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھوکتے اور دونوں ہاتھوں کو جہاں تک پہوچ سکتے تک جسم پر لیتے تھے (حدیث شریف میں معوذات جو تھے کافظ استعمال کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ "قل يا يها الكفرؤون"، "اور قل هو الله احد"، کو کسی معوزات میں شریک کر کے معوزات تجع کالفظ استعمال کیا گیا ہے اگر چرکے سورۃ کافرون اور سورۃ اخلاص میں تعوز کا ذکر نہیں ہے، مگر سورۃ فلق اور سورۃ ناس میں تعوز کا ذکر ہو نے سے ان دونوں سوروں کو تعلیقاً بین غالب کر کے سورۃ کافرون اور سورۃ اخلاص کو ضمنی طور پر معوزات میں شریک کیا گیا ہے، جسیا کر عسقلانی سے مرقات میں ذکور ہے۔) حضرت امام موثقین فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس پیاری سے پیار ہوتے جس میں آپ دنیا سے تشریف لے گئے (تو حضور کو معلوم ہوگیا کہ آپ اس پیاری میں دنیا سے تشریف لے جا رہیں گے، اس لیے آپ خود معوزات حسب عادت نہ پڑھے اور نہ اپنے پر پھوکے لیکہ مجھے حضور کی صحت کی بیچ قدرتی اس لیے) میں انہیں معوزات کو خود پڑھتی ہیں اور حضور کے ہاتھوں پر پھوک کر حضور کے ہاتھوں کو، یہ حضور کے جسم پر ملا کرتی تھی (تاکہ حضور کے ہاتھوں کی برکت سے اور ان معوزات کے پڑھنے سے حضور کو جلد صحت ہو جائے۔)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پر لی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Prophet (ﷺ) was ill, he would recite the Mu'awwidhat (chapters of seeking refuge) over himself and wipe his body with his hand. When he was afflicted with the illness that led to his death, I would recite the Mu'awwidhat over him and wipe his body with his hand." [Agreed upon]
In a narration by Muslim, she said: "When someone in his household fell ill, he would recite the Mu'awwidhat over them."
اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ذکور ہے، ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ جب گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوجاتا تو حضور معوزات پڑھ کر پیار پردم کروایا کرتے تھے۔ (مسلم کی اس روایت میں معلوم ہوا کہ معوزات کو پڑھ کر اپنی باہوں پردم کرنے مریض کے جسم پر لے بغیر صرف مریض کے جسم پر چونک دینا ہی کافی ہے۔)
پانچویں حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Prophet (ﷺ) was ill, he would recite the Mu'awwidhat (chapters of seeking refuge) over himself and wipe his body with his hand. When he was afflicted with the illness that led to his death, I would recite the Mu'awwidhat over him and wipe his body with his hand." [Agreed upon]
In a narration by Muslim, she said: "When someone in his household fell ill, he would recite the Mu'awwidhat over them."
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: حضور میرے جسم کے فلال حصہ میں درد رہتا ہے (حضرت عثمان بن ابی العاص جسم کے جس حصہ میں درد تھا اس کی صراحت نہیں کی اس لے کہ صراحت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں تھا) ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما یے کہ تمہارے جسم کے جس حصہ میں درد ہورہا ہے اس حصہ پر باطنہ رکھ کر تین دفعہ اسم اللہ کہو، اور سات دفعہ اعوذ بعزۃ اللہ وقدرتہ من شر ما اجد واحاذر، جس کو (اس دعا کا ترجمہ پیشہ کرائیہرچیز پرآپ غالب ہیں کوئی چیز آپ کی قدرت سے باہر نہیں ہے جس پر دو بہت ستارہ ہے اس لے میں آپ کی عزت اور قدرت کی پناہ میں آکر دعا کرتا ہوں کہ جس وردو کو میں پار پا ہوں اور ظر پا ہوں کہ پیو ردو اور زیادہ نہ ہوجائے اس وردو کے ثرے سے بچائیے اور پیدا ہو سے دور کر دیجئے۔) حضرت عثمان بن ابی العاص کہتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی عمل کی، کیا کہوں! حضور کے اس سکلا کے الفاظ میں کیا اثر تھا جسے میں پالفاظ ادا کیا، اللہ تعالیٰ میرے سارے وردو دور کردیا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
چھٹی حدیث
Uthman ibn Abi Al-As (may Allah be pleased with him) narrated that he complained to the Messenger of Allah (ﷺ) about pain in his body. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Place your hand on the part of your body that hurts and say: 'In the name of Allah' three times, and say seven times: 'I seek refuge in the might and power of Allah from the evil of what I feel and fear.'" He said: "I did so, and Allah removed what I was suffering from." [Narrated by Muslim]
الوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیے (اور آپ کو پچھے پیار پایے) تو فرما یے: یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا مزان کیسا ہے؟ کیا آپ پیار ہیں؟ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما یے: ہاں (میں پیار ہوں) تو جبریل علیہ السلام (پیاری دور ہو نے کے لے) پیدا ہے۔
پڑھ: بسم اللہ ار قیک م ن کل شیٰ یو ذیک م ن شر کل نفس او عین
حاسد اللہ يشفیک بسم اللہ ار قیک۔
اللہ تعالی کا نام لے کرا پ پ کے لے دعا کرتا ہول کر اللہ تعالی آپ کو برائے اداء وانی چیز
سے حفوظ رکے، بعض کے ثرے اور حاسد کی نظر بد تے آپ کو پچاۓ، اور اللہ تعالی آپ کو شفاء
عطا فرماتے، ابی میں آپ پ کے نام لے پھر دعا کرتا ہول کہ حضور ہمرمض سے حفوظ رکیں -
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
(One day) Jibril (AS) came into the service of the Messenger of Allah ﷺ and said to him: 'O Muhammad ﷺ, what is your nature? Are you beloved?' The Messenger of Allah ﷺ replied: 'Yes, I am beloved.' Then Jibril (AS) became dearer (to him).
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اور
حضرت حسین جب پڑھ تے تو ان کی حفاظت کے لے زیل کے الفاظ فرماتے (ان دونول
صاحبزادول) کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کی پناہ میں رکے تو وہ الفاظ یہ تے:
أعوذ کما بكلمات اللہ التامة من كل شيطان وهاممة، ومن كل عين لاممة.
(حسن اور حسین ) تم دونول کو میں اللہ تعالی کے کلمات تامر (بعن اللہ تعالی کے اسماء حسین اور
آسانی کتا میں جواللہ تعالی کی طرف سے اتاری گئیں ہیں اور جو ہرتم کے نقصان سے پاک ہیں ان)
کی حفاظت میں دیتا ہول ہبر (سرکش ضررسال جنات اور انسان اور) شیطان (کے ثر ) سے اور ہر
موذی (زهریلے) جانور (کے ثر تے یہی اور ہر نظر بد (کے) ثر تے یہی (جوطر حطر ح کے نقصان
پہو چیا تے ہے -)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تے (بیا! حسن وحسین جی میں تم دونول کی حفاظت
کے لے نذکور الصدر دعاے پڑھا کرتا ہول ) تہمارے باپ (حضرت ابراہیم علیہ السلام یہی حضرت
اسماعیل اور حضرت اسحق علیہما السلام (کی تمام آفات سے حفاظت ) کے لے یہی دعاے پڑھا کرتے
تے - اس کی روایت بخاری نے کی ہے -
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would seek refuge for Al-Hasan and Al-Husayn by saying: 'I seek refuge for you both in the perfect words of Allah from every devil and harmful creature, and from every envious eye.' He would say: 'Your father (Ibrahim) used to seek refuge with these words for Ismail and Ishaq.'" [Narrated by Al-Bukhari]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کی پیار پری کے لے جاکراس کے
پاس بیٹھ کر زیل کی دعا، سات مرتبہ پڑھ تو اللہ تعالیٰ اس پیار کو ضرواس پیاری سے شفا عطا فرما تین گے بالا گراس شخص کی موت، ای آگئی ہوتو وہ اور با ت ہے۔ (موت کا وقت طل نہیں سکتا)
وہ نذکورہ دعاء یہ: أسأل اللہ العظيم رب العرش العظيم ان يشفيك۔
(پیاری طرف متوجہ ہو کر کہ) برہی عظمت وا لے خدا تے جوعش عظیم کا رب سے درخواست کرتا ہول کر وہ تم کو (تمہارے اس مرض سے جلد) شفاء دے۔
اس کی روایت البوداووداورتنزیل کی ہے۔
نوی حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No Muslim visits a sick person and says seven times: 'I ask Allah, the Almighty, the Lord of the Great Throne, to heal you,' except that he is healed, unless his time has come." [Narrated by Abu Dawud and Al-Tirmidhi]
"بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار"
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بخاراور تمام دردول کے لے مریض کو اور مریض کی عیادت کرنے والوں کوزیل کی دعا سکھا کرتے تھے کمریض کہی اور عیادت کرنے والے کہی اس دعا کو پڑھا کریں (وہ دعا یہ):
(اگر کوئی پیاری دعا پڑھے تو پی نیت کرے گر) میں برہی شان وا لے اللہ کے نام کی برکت سے عظمت وا لے اللہ کی پناہ میں آتا ہول (اور اگر کوئی عیادت کرنے والا اس دعا کو پڑھنا چاہے تو وہ اس دعا کو سنیت سے پڑھے کر) میں برہی شان وا لے اللہ کے نام کی برکت سے اس پیار کو عظمت وا لے اللہ کی پناہ میں دیتا ہول، ہر رگ کے شرتے جس میں خون جوش ماردہ ہو (جوسپ بنائے بخار کا اورسارے در دول کا اور بخار کی حرارت جو کہ نمو ندہ ہے) دوزخ کی آگ کا (اس سے اللہ تعالیٰ مریض کو پچا لے۔) اس کی روایت تنزیل کی ہے۔
دوسری حدیث
The Noble Prophet ﷺ would teach the sick person and those visiting the sick to recite a supplication when using incense and all types of perfumes. He would instruct the sick person to recite some of it and the visitors to recite some of it (the supplication being): 'If anyone recites a beloved supplication, I seek refuge in the name of Allah, the Most High, the Most Great, by His blessings. And if any visitor wishes to recite this supplication, let him recite it audibly: I seek refuge in the name of Allah, the Most High, the Most Great, by His blessings, in this beloved (incense), in every vein in which blood flows (which causes fever and all types of fevers and the heat of fever which is evident), from the Fire of Hell. May Allah, the Exalted, protect the sick from it.' This tradition has been transmitted.
ربنا اللہ الذی فی السّماء تقدّس اسمک۔ أمرک فی السماء والأرض کما رحمتك فی السماء فاجعل رحمتك فی الأرض۔ اغفر لنا حوتنا وخطايانا أنت
رَّبُّ الطَّبِّينَ۔ أَنزَلْ رَحْمَةً مِّنْ رَّحْمَتِكَ وَشِفاءً مِّنْ شِفائِكَ عَلَى هٰذَا الْوَجْعِ
البودرادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوارشا دفرماتے سناہ کہ جو شخص خود پیارہو یا سکا کوئی دوست پیارہو گیا ہو تو زیل کی دعا خود پیار پڑھے یاپیار پرسی کے لے جانے والا پیار کے پاس بیٹھ کر پڑھے (اور وہ دعا یہ):
(ہمارا پرواردگار وہ ہے جس کی بلاتفری غیر آسانول میں عبادت کی جائے، ایسا ہی زین میں بھی اس کی عبادت ہوتی ہے گر معنویان باطل بھی زمین پر عبادت میں شریک کرتے جاتے ہیں اس طرح آسانول میں نہیں ہے، اس لئے کہ اگرآپ کے کر )ہمارا پرواردگار تو وہ ہے جوآسانول میں ہے (آپ کی ذات کی طرح )آپ کا نام مجی(اس طرح پاک ہے کہ جوآپ کا نام لیتا ہے اس کا دل بھی پاک ہوجاتا ہے )آپ کی حکمت مجے آسانول میں ہے، ویز میں پربھی ہے (گرآسان وا لے گناہول سے پاک ہونے کی وجہ آپ کی رحمت خاص ان کی پربھی، اگرچہ زمین والے گناہول کی وجہ آپ کی رحمت کے مستحق نہیں ہیں گرمحض اپنے فضل و کرم سے )آپ زمین والوں پربھی اپنی رحمت نازل کرتے، ہمارے کیبرہ گناہول کواور ہماری خطاوں کومعاف کردیتے (تاکہ ہم آپ کی رحمت کے مستحق ہو جا کیم اور گناہ معاف ہو نے کی مجہتے ہمارا شارمجی پاک لوگوں میں ہو جاتے ) آپ پاکوں کے پرواردگار ہیں اگر ہم پرآپ کا فضل و کرم ہو جاتے تو ہم بھی پاک ہو جاتے ہیں، جس آپ کی رحمت پاکوں پربھے، ایسا ہی ہم پر بھی آپ کی رحمتوں میں سے رحمت نازل ہواور (گناہول کی شامت سے ہم پیار پول میں بھتلا ہوگے ہیں جب آپ ہمارے گناہ معاف کردے ہیں تو آپ جوشفا نازل فراماتے ہیں اس میں ہمارے مریض کی) اس تکلیف (اورمرض) پر بھی شفا نازل فراماتے - (تاکہ ہمارا مریض صحتیاب ہو جاتے -( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فراماتے ہیں کے )اس طرح (دعا کرنے )سے پیار کوشفا ہو جاتے گی۔ اس حدیث کی روایت البوداود نے کی ہے - معمولی پیار پول میں بھی عیادت کرنا جائز ہے 32/2331 - زید بن ارم رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فراماتے ہیں کر (ایک دفعہ) تھے آشوب چشم ہوگیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آشوب چشم کی وجہ سے میری عیادت فراماتے - (اگرچہ کراور پیار پول میں عیادت سننت موکدہ ہے - جسیا کہ مرقات میں ثبوت الاسلام کے حوالمت ذکور کہ گرآشوب چشم میں جوعیادت کی گئی ہےسنتموکده نہیں ہے-) اس حدیث کی روایت امام احمد اور البوداود نے کی ہے - (آشوب چشم کی وجہ تحضر جوعیادت فراماتے ہیں وہ مشاور عیادت کے سنتموکده نہیں
جس اس لئے)-
I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'When a person loves himself or someone else, let him recite this supplication by himself or have it recited by the one who brings the beloved to him (and the supplication is): O our Lord, You are the One whom worship is performed in difficulty, just as it is performed in ease. Even if the people of falsehood become partners in worship on earth, it is not so in difficulty, because You are in ease (like Your Essence), Your Name is pure (such that whoever mentions Your Name, his heart becomes pure), Your wisdom is in ease, and it is also in difficulty. You purify those in ease from sin due to Your mercy, which is specific to them, even though the people of the earth do not deserve Your mercy due to their sins, but You send Your mercy upon the people of the earth out of Your favor and kindness. You forgive our major sins and our mistakes so that we may become deserving of Your mercy and our sins may be forgiven, and thus we may become among the pure people. You are the Lord of the pure, and if Your favor and kindness are upon us, we too will become pure, just as Your mercy is upon the pure, so too it descends upon us among Your mercies. We would have been defiled by sin, but when You forgive our sins, You send down healing in Your forgiveness, and You send down healing for the sick (so that they may recover). Thus, love is healed through this supplication.'
This hadith has been narrated by Al-Bukhari - it is permissible to visit even a common marketplace for medical treatment 32/2331 - Zayd bin Arqam (RA) narrates that he said: (Once) I had an eye infection, so the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) came to visit me due to my eye infection - (although visiting a marketplace for treatment is a confirmed Sunnah - as mentioned in Maraqi, where it is stated that visiting for an eye infection is not a confirmed Sunnah, as it is mentioned in the proofs of Islam that visits for an eye infection are not a confirmed Sunnah) - This hadith has been narrated by Imam Ahmad and Al-Bukhari - (visiting for an eye infection is not a confirmed Sunnah, and this is why).
_ جہاں اور طبرانی کی ایک روایت میں مرفوًع مروی ہے کہ تین بھاریال ایک ہیں
جن کے لئے عیادت کرنا (سنتمؤکدہ) نہیں ہے۔(اس سے یہ بجا جائے کہ ان تین بھاریول میں
عیادت کرنا ممنوع ہے بلکہ ان تین بھاریول میں کوئی عیادت کرنے تو جائز ہے، بال سنتمؤکدہ نہیں
ہے، اس وجہ سے آشوب حثمت کے مرضی حضرت عیادت فرماتے ہیں وہ تین بھاریال جن میں عیادت
کرنا سنتمؤکدہ نہیں ہے بلکہ جائز ہے اور ممنوع نہیں ہے وہ ہیں: آٹھ میں دردویا آشوب حثمت
ہو یا دائر کا دردویا سی لئے مرقات میں ازہارتے نقل کیا ہے کہ وہ تمام بھاریال جن میں کوئی خوف
کی باٹ نہ ہو، جیسے سر کا درد یا ذبل وغیرہ ان کی بھی عیادت ممنوع نہیں ہے۔ سنتمؤکدہ نہیں ہے
بلکہ جائز ہے چاہے تو کر سکتے ہیں، ان امرا ض میں بھی عیادت کرنے سے عیادت کا ثواب لے گا)
جبہی مصیبتیں گناہوں کے کفارہ کے لئے بھی آتی ہیں
پہلی حدیث
for whom visiting (is not sunnah mu'akkadah). This implies that visiting these Tamin Bariyal is not prohibited, but rather it is permissible, though not sunnah mu'akkadah. For this reason, the Blessed Prophet (ﷺ) visited those Tamin Bariyal for whom visiting is not sunnah mu'akkadah, but is permissible and not prohibited. These include: eight types of ailments, whether they are caused by fever or by a wound, as it is narrated that all Bariyal in which there is no danger, such as a headache or weakness, etc., their visitation is not prohibited, but rather it is permissible, and one can do so. In these conditions, one can also earn the reward of visitation.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ : (مصیبتیں بھیش گناہوں کی وجہ سے ہی نہیں آیا کرتی ہیں، بھی ایسا
جبہی ہوتا ہے کہ ) جب اللہ تعالیٰ کی بندہ کے ساتھ بجلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس پر مصیبتیں اتا رتے
ہیں ( کہہی مال کا تقاضا ہوتا ہے۔ جبی او لا دکی وجہ سے پریشانی آتی ہے اور بہی خود اس پرآفتیں آتی
ہیں، اس کی وجہ سے اس کو گناہوں سے پاک کرتے ہیں اور اس کے درب بلند کرتے ہیں، اے
مصیبت زوال جب تھہ پر مصیبتیں آ میں تو گہبرا نا نہیں، بہت استقلال کے ساتھ برداشت کے
جانا، اللہ تعالیٰ سے،بمیش راضی اور خوش رہنا، پھر دیکھ کیے تھہ پرخدا کی مہربانی ہوتی ہے تھہ گناہوں
سے پاک کرتے ہیں اور آخرت میں بڑے درجہ دیتے ہیں۔)
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے-
دوسری حدیث
Calamities do not come solely due to sins; rather, when Allah intends to elevate His servant, He sends calamities upon him. Sometimes it is a demand for wealth, sometimes it is due to some other reason, and sometimes they come upon him on their own, purifying him from sins and raising his status. O people, when calamities befall you, do not panic; bear them with patience, be pleased and content with Allah, and then see how Allah's mercy comes to you, purifying you from your sins and granting you a high rank in the Hereafter.
انس رضی اللہ عنہ سے (یحدیث قدی ای طرح) مروی ہے، وہ فرماتے ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو تقام عالم کا پروش کرنے والا ہے
پاک ہے اور برطی شان والا ہے وہ قسم کھا کر اس طرح ارشاد فرماتا ہے (اس سے آپ نہہ مضموں کی اہمیت کا اندازہ کرو ) وہ ارشاد یول بور باہے، میرے عزت و جلال کی قسم جب میں کسی بندہ کو کہ جس سے میں راضی ہوتا ہوں اور اس کی مغفرت کرنا چاہتا ہوں تو میں اس کو دیا س وقت تک نہین لے جاتا جب تک کہ اس کے جسم میں پیاری دے کراور اس پراس کی روزی تگ کرے اس کواس کے گناہوں سے پاک و صاف نہ کرول (اے وہ شخص جو پیاریول میں بتلا ہے یاروزی کی وجہ سے پریشان ہے، پیارشاد سن کر بہت استقلال کے ساتھ برداشت کے جانا ان سب مصیبتون کوالدکی مہربانی کا سبب سمجھنا، دنیا چند روزہ ہے ختم ہوجائے گی، ان مصیبتون کی وجہے اللہ تعالیٰ تجہے راضی اورخوش رہے گا۔ اس حدیث کی روایت "رزین" نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, the Lord, glorified and exalted be He, says: 'By My might and majesty, I will not take a servant out of this world whom I intend to forgive until I have exacted from him every sin on his neck through illness in his body or restriction in his provision'" [Narrated by Razin]
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (مسلمانو! تم بھیتہ ہوئے گے کہ کو جومصیبت اور تکلیف پہوچتی ہے اس کا پچھاصل نہیں ہے! نہیں! نہیں! تم نے جو خدا کا دین قبول کیا ہے اس کی وجہے اللہ تعالیٰ کے پاس تہماری برطی قدرت ہے سنو!) جس مسلمان کو سی زخم ہے یا پحوڑے پچنسی کی وجہے تکلیف ہو یا سکو کو تی دامی مرض ہوگیا ہو جس سے اس کو تکلیف ہوتی رہتی ہے اور طرح طرح کے افکارتے گحل رہا ہو، یا مر غوب پیزر کے نہ ملنے سے رنج ہو، یا کسی سے کوئی ایذا پہوچ رہی ہو یا کسی وجہے میں ہو (یا پحوڑے سی پحوڑی مصیبت میں بتلا ہو مشا) کا نہاچہ گیا ہو، اور کہ کر پاہوتو (اے مسلمان پیرہ سمجھنا کہ تیری ساری تکالیف راتگال جاری ہیں نہیں! نہیں! نہیں! تیری ہر تکلیف کے بدل میں) اللہ تعالیٰ تیرے گناہ مطاہرے ہیں (تجہ کو گناہوں سے پاک و صاف کرنے دنیا سے لے جانا چاہتے ہیں خوب تہہ لے کر محبوب ب کی مار میں کچی لذت ملتی ہے یہ سب تکالیف خدا کی طرف سے ہوری، یہیں تہہ کر تہہ ان تکالیف میں لزت لینا چاہئے اگر لزت نہ لے تو یہ تہہ ناچاہئے کران سب تکلیفون کا مجھے صلد ل رباہے اور گناہ معاف ہورے ہیں (تو تہہ صبر کرنا چاہئے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے۔
Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "No fatigue, illness, anxiety, sorrow, harm, or distress befalls a Muslim, even if it be the prick of a thorn, but that Allah expiates some of his sins because of it" [Agreed upon]
اللہ تعالیٰ کے حب سے مسلمانوں کے لئے اس طرح (اٹھائے ذکر میں پیار پول کی فضیلت اس طرح
پیان فرمائے) کہ جب کوئی مسلمان پیار پول کی خاطر جمعین کے بعد اس کو شفاعت
ہو جائے تو اس پیاری سے اس کے گرزشتنہ مطاوعہ جاتے ہیں اور اس کو صحت ہوتی ہے، آمنہ
کے لئے (کہ گناہوں کی شامت سے پیاری آئی تحسین اللہ کا شکر کہ پیاری سے شفاعت ہوگی اور
گناہ مطاوعہ گئے، آمنہ مجھے گناہ نہ کرنا چاہے مسلمان کو اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے اس لئے وہ اس
طرح کی نصیحت لیتا ہے) بخلاف منافق کے (کراس کو اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں) جب وہ پیار پول کراچھا
ہو جائے تو اس کی مثل اس اونٹ کی طرح ہے کہ جس کواس کے ما لک نے باندھ کر پھر چھوڑ دیا ہو،
وہیں جائتا کراس کوس لے باندھا تھا اور س لے اس کو چھوڑ دیا) (ایسے منافق کوخبری نہیں کہ
کیوں پیار کیا گیا اور کیوں شفاعت دی گئی، نہ گرزشتنہ گناہوں پر نادم ہوتا اور نہ آمنہ کے لئے اس کو
نصیحت ہوتی ہے سامعین میں سے) ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (آپ پیاری کی
فضیلت تو یان فرمائے ہیں گمر) مجھے خبر نہیں کہ پیاری کیا چیز ہے، خدا کی قسم میں مجھے پیار نہیں ہوا
(حضرت کشف نبوت سے معلوم ہوا کہ وہ منافق سے اس لئے) ارشاد فرمائے: تمہمارے پاس سے
انہیں جائے، معلوم ہوتا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو (پیاری کی میں نے جوفضیلت بیان کی تم اس کا نذاق اثر
رہے ہو، مسلمان کی پیشان نہیں ہوتی –) اس حدیث کی روایت ابوداود نے کی ہے –
Amir al-Ram (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned illnesses and said: "When a believer is afflicted with an illness and then Allah restores him to health, it serves as an expiation for his past sins and a reminder for him in the future. As for the hypocrite, when he falls ill and then recovers, he is like a camel that its owners tie and then release, and it does not know why it was tied or why it was released." A man said: "O Messenger of Allah, what are illnesses? By Allah, I have never been ill." The Prophet (ﷺ) said: "Leave us, for you are not one of us" [Narrated by Abu Dawud]
یعنی بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک صاحب (جو کہ پیاری سے پیاری تھا) اچانک ان کا انتقال ہوگیا
تو (ان کے انتقال کی کیفیت سن کر) ایک صاحب کہنے لگے: وہ وہ کیا اچھی موت ہے، پیاری سے
کسی قسم کی تکلیف اٹھائے بغیر ان کی موت ہوگی (پسن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرما ئے: بڑے افسوس کی بات ہے، (بغیر پیاری کے مرنے کی تم تعریف کر رہے ہو) تم کو پچھرچھی
ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو کسی پیاری میں بھلا کرتے تو پیاری کی وجہ سے ان کے گناہ مطاوعہ
جاتے – (یہ گناہوں سے پاک ہو کر مرے، اس نعمت سے یہ مروم رہے، بلکہ پیاری کے مرنے میں
تعریف کی کیا بات ہے –) –
اس حدیث کی روايت مرسلاً امام ما لک نے کی ہے –
Yahya ibn Sa'id (may Allah be pleased with him) narrated that a man died during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and someone said: "How fortunate he is, he died without being afflicted by illness." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Woe to you! How do you know? If Allah had afflicted him with an illness, it might have expiated his sins" [Narrated by Malik as Mursal]
ام امومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے پیکر: جب کسی بندہ کے گناہ کثرت ہو جائے تو اوراس کا کوئی ایسا نیک عمل نہیں ہوتا کہ جواں کے گناہوں کو مطابق اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے حالات پیدا کردے ہیں کہ جس سے وہ (پریشانی اور رنج اور فکر و غم) میں بھٹکتا ہو جاتا ہے۔ پریشانی اور رنج اور فکر و غم) اس کے گناہوں کو مطاویہ ہیں (اے مسلمان! سنا اللہ تعالیٰ کس طرح تجہ پر مہربان ہیں، تیرے گناہوں کو مطاویہ کے لیے گرس طرح سامان مہیا کرتے ہیں اے نا شکرے انسان! تجہ اس کی قدر نہیں، جب تجہ پر پریشانی اور رنج اور فکر و غم آ جاتے ہیں تو تو اس کی قدر نہیں کرتا، بلکہ زبان سے یادلے، خدا کے تعالیٰ کی شکایت کرتا ہے، تجہ خدا کے تعالیٰ کا شکر کرنا چاہے کہ تیرے گناہوں کے مطاویہ کے لیے اسباب مہیا کردے ہیں۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a servant's sins become numerous and he has no deeds to expiate them, Allah afflicts him with sorrow to expiate them" [Narrated by Ahmad]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوخت بخار چڑھا ہوا ہے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پاتھا لگا کر دیکھا اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ کو جب بخار آتا ہے تو بہت سخت بخار آتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: بال میں بخار آتا ہوتا ہے جتنا تم میں دوآ دیون کو ہوتا ہے میں نے عرض کیا کہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کی وجہ یہ آپ کو دو شخصوں کے برابر بخار دے کر دوگنا اجر و ثواب دیا جاتا ہے؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: بال ایسے ہے، پھر حضور نے ارشاد فرمايا (سنو! ابن مسعود! اللہ تعالیٰ کی مہربانی کیا کہول مجھے تو دو ہرا اجر و ثواب دیتے ہیں گر) مسلمان کو (اجر و ثواب دینے کے سوا) جب کسی پیاری کی وجہ سے یا کوئی اور وجہ ہے ایسے اور تکلیف پہوچتی ہے تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ ایسی جھڑاتے ہیں جیسے خنزال میں (تمزی سے) جھائر کے پتے جھڑتے رہتے ہیں۔ (پتے جھڑنے کے بعد جھائر جیسے ہوجاتا ہے) ایسے ہی مسلمان گناہوں کے جھڑنے سے پاک و صاف ہوجاتا ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پر ہے۔
پیار کی دعا عقبول ہوتی ہے
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "I visited the Prophet (ﷺ) while he was suffering from a severe fever. I touched him with my hand and said: 'O Messenger of Allah, you are suffering from a severe fever.' The Prophet (ﷺ) said: 'Yes, I suffer as much as two of you would suffer.' I said: 'That is because you have a double reward.' He said: 'Yes,' then he said: 'No Muslim is afflicted with any harm, whether it be an illness or anything else, but that Allah will expiate his sins because of it, just as a tree sheds its leaves'" [Agreed upon]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما ہے پی کر: جب تم کسی پیار کے پاس جاؤ تو پیار کے کھوکر: وہ تمہارے لئے دعا کرے کیونکہ (پیار پیار کی وجہ سے گناہوں سے فرشتوں کی طرح پاک ہوجاتا ہے اور اس لئے) فرشتوں کی دعا کی طرح پیار کی دعا بھی قبول ہوتی ہے - (اپنی حالت میں تم جب پیار کے دعا کرواقے تو پیار کی دعا تمہارے لئے مقبول ہوگی -)
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے -
پیار کی میں بتلا کا ثواب
پہلی حدیث
Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you visit a sick person, ask him to pray for you, for his supplication is like the supplication of the angels" [Narrated by Ibn Majah]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے پی کہ: جب کسی بندے کے نیک اعمال اللہ تعالی کو پسند آجاتے ہیں اور وہ اس سے راضی ہوجاتے ہیں اور) اللہ چاہتے ہیں کہ (آخرت میں) اس بندے کے ساتھ بجلائی کی جائے (اور آخرت میں اس کو راحت و آرام سے رکھاجائے) تو (اس کے جوگناہ ہیں ان کی) سزا جلدی کرے اللہ تعالی اس کو دنیا میں دنیا میں دیتے ہیں (دنیا میں طرح طرح کی پریشانیاں اور پیاریاں اور رنج دے کراس کے گناہوں کو مٹادیتا اس کو پاک و صاف کرکے آخرت میں راحت و آرام سے رکھتے ہیں) اور جب کسی بندے (کے برے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالی اس سے ناراض ہوجاتے ہیں اور) اللہ چاہتے ہیں کہ (آخرت میں اس کو اس کے گناہوں کی پوری) پوری سزا دی جائے تو دنیا میں اس کے گناہوں کی سزا نہیں دیتے (بلکہ راحت و آرام سے دنیا میں رکھتے ہیں تاکہ) آخرت میں وہ اپنے گناہوں کی پوری پوری سزا پائے - اس کی روایت ترمذی نے کی ہے -
دوسری حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When Allah wills good for a servant, He hastens his punishment in this world. And when Allah wills evil for a servant, He withholds his punishment for his sin until he meets Him on the Day of Judgment" [Narrated by Tirmidhi]
عطاء بن الی رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھ سے فرماتے: کیا عطاہ میں تم کو ایک جنتی عورت دکھاؤں (کیا تم دیکھنا چاہتے ہو؟) میں نے عرض کیا: ضرور دکھائیے تو حضرت ابن عباس فرماتے: دیکھو یکالی
حضرت عورت (جنہیں اللہ تعالیٰ نے عرض کیا تھا: یا رسول اللہ! میری بیماری میں بتلا ہوں جب مجھے مرگی کا دورہ ہوتا ہے تو میں بہوش ہو کر گر پڑتی ہوں اور) برہمنہو جاتی ہوں (اوراس سے بہت پریشان ہوئی ہوں، کیا کرول اس مرض سے کیسے نجات ملے صرف آپ کی دعا کا جورو سے، اس لے عرض کرتی ہوں کہ) آپ میرے لے دعا فرما ئیں (کہ اس مرض مرگی سے مجھے شفاء ہو جائے تاکہ میں برہمنہ سے نچ جاؤں) پیسے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما یے سنو! (دنیا چندروز ہے) اگر تم اس مرض مرگی پرصبر کروگی تو اس کے بدلا میں تم کو جنت ملے گی اور اگر تم پیچاہتی ہو کہ میں تمہارے لے اللہ تعالیٰ کے دعا کرول کہ اس مرض مرگی سے تخمین اللہ تعالیٰ شفاء دی تو دعا کرتا ہوں (اللہ تعالیٰ شافی ہے وہ تم کو شفا دیدی گے) اس عورت نے عرض کیا: حضرت (میں اس بیماری پرصبر کر کے جنت میں لینا چاہتی ہوں صرف انتہا عرض کرتی ہوں کہ) آپ میرے لے دعا فرما ئیں کہ (میں جواس مرض کی وجہ سے برہمنہو جاتی ہوں پیوہت نہ آئے اور) میں برہمنہ ہو جاول تو حضرت اس کے لے (برہمنہ ہوں کی) دعا فرما یے اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
انسان کی زندگی کا خلاصہ
پہلی حدیث
Ata ibn Abi Rabah (may Allah be pleased with him) narrated that Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said to him: "Shall I show you a woman from the people of Paradise?" I said: "Yes." He said: "This black woman came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I suffer from epilepsy and I become exposed, so pray to Allah for me.' The Prophet (ﷺ) said: 'If you wish, you can be patient and you will have Paradise, or if you wish, I will pray to Allah to heal you.' She said: 'I will be patient,' then she said: 'But I become exposed, so pray to Allah that I do not become exposed.' So he prayed for her" [Agreed upon]
عبداللہ بن ثخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما یے میں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک دن) ارشاد فرما یے کہ: انسان (کی زندگی کی جیب زندگی سے کم کو تو اشرف الخلوقات ہے گمر) کثرت سے مہلك بلاول میں گمرا ہوا ہے جن میں سے ہر ایک موت کا سبب ہوتی ہے (اگر ایک بلاء سے نچگیا ہوتا کیا ہوا دوسرا بلاء میں گرفتار ہو جاتا ہے، پھر کسی نے کسی بلاء کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتا ہے) اگر ان تمام بلاول سے نچ کرنے کی جگیا تو بڑہاپے میں کچش جاتا ہے (جو ساری بلاول کا جامح ہے-) اور پھر برہاپا ایک دن انسان کو موت کے پنچاکر رہتا ہے (اے عافل انسان دکیہ یتیری زندگی کا خلاصہ کب تک تو غفلت میں رہ گا، ہر وقت تو موت کے لے تیار رہ اور بمیش سفرآ خرت کی تیاری میں لگارہ-) اس حدیث کی روایت تزدی نے کی ہے۔
دومری حدیث
One day, the Messenger of Allah ﷺ said: 'Man, who is the noblest of creatures, is reduced to the lowest of the low due to his abundance of calamities, each of which leads to death. If he escapes one calamity, another ensnares him, and eventually, he falls victim to death through some calamity. If he manages to escape all these calamities, old age overtakes him, which is the culmination of all calamities. And then, old age ultimately leads man to death. O people, how long will you remain heedless of the essence of your life? Always be prepared for death and make ready the provisions for your journey beyond.' This hadith was transmitted by Tazdī.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں: مسلمان کی مثل ایسی ہے جسے (وہان کا) نزوتازہ کھیت جس کی ہوا کیسے جھونگے دیتی رہتی ہے، کہی کرادیتی ہیں اور کہی سیدھا کردیتی ہیں، پھال تک کہ وہ خشک ہوجاتا ہے (اپنی مسلمان کے س پرحوادثات اورطرح طرح کی پیاریال آتی رہتی ہیں،تاکہاس کو گناہول سے پاک کریں، کہی پیار پڑجاتا ہے اور کہی تندرست ہوکر کڑا ہوجاتا ہے، اپنا ہوتا ہوتا اس کی موت آ جاتی ہے۔اورمنافق کی مثل ایسی ہے جسے صنوبر کا درخت جوا پتی جڑ پر قائم رہتا ہے، ہوا کیسے اس کو ادوہر ادوہر نہیں جھکا سکتیں اور (آخر کار جب گرتا ہے تو) ایک دم جڑ سے اکٹکر گر جاتا ہے (اپنا ہی منافق اکثر تندرست رہتا ہے، پیاریال اس کو کم آتی ہیں، اس وجہ سے وہ گناہول سے پاک نہیں ہوتا ہے اور آخر کار اس پر ایک دم موت کا حملہ ہوتا ہے اور وہ مر جاتا ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اورمسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
تیسری حدیث
Ka'b ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The example of a believer is like a tender plant. The wind bends it sometimes and straightens it at other times until its time comes. And the example of a hypocrite is like a sturdy cedar tree that remains firm until it is uprooted all at once" [Agreed upon]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ: مومس کی مثل ایسی ہے جسے کہیتی، کہ ہوا کیسے اس کو ادوہر ادوہر جھونگے دیتی رہتی ہے (کہی کرادیتی ہیں اور کہی سیدھا کردیتی ہیں) ایے، یہ مسلمان پر کی تکفیں اور پیاریال آتی رہتی ہیں (تاکہ اس کو گناہول سے پاک کریں) اورمنافق کی مثل ایسی ہے جسے صنوبر کا درخت جوا ادوہر ادوہر بلتا ہے نہیں، پھال تک کر کاٹ دیا جاتا ہے۔(تو گر پڑتا ہے اپنا ہی منافق اکثر تندرست رہتا ہے اور جب موت آتی ہے تو اچاکہ مر جاتا ہے، اس وجہ سے اپنے گناہول سے نہیں پاک نہیں ہوتا اورآخرت میں اپنے گناہول کی پوری پوری سزا پاتا ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اورمسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
پہلی حدیث
The Messenger of Allah ﷺ said: 'The example of a prostitute is like one who is blown by the wind, sometimes straight and sometimes crooked, just as the wind bends her this way and that. This is how trials and tribulations come upon the Muslim, to purify him from sin. And the example of a hypocrite is like a pine tree, which does not bend but is cut down with its fruit. Thus, the hypocrite often remains healthy, and when death comes, he dies suddenly, without being purified of his sins, and in the Hereafter, he will receive the full punishment for his sins.' This hadith is narrated by both Bukhari and Muslim.
_ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کے، آپ فرماتے ہیں کہ
(اور لوگوں کو پیاری آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ پیاری آتی ہی ہے) میں کسی کو
نہیں دیکھا کہ اس کو پیاری میں درد اور تکلیف آتی ہوتی ہو جتنی کہ تکلیف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو ہوتی ہے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیاری میں درد و تکلیف بڑی حد کے درد و تکلیف
سے زیادہ ہوتی ہے، تاکہ آپ کے مرتب عالیہ میں آپ کی حیثیت کے مطابق ترتیب ہوتی ہے۔ اس سے
معلوم ہوا کہ پیاری میں جو درد و تکلیف ہوتی ہے، اس سے اس کی حیثیت کے موافق اس کے مرتب
دورجات میں ترتیب ہوتی ہے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقیم طور پر لی ہے۔
دوسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "I have never seen anyone endure pain more severely than the Messenger of Allah (ﷺ)" [Agreed upon]
_ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے روایت کے، آپ فرماتی
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کو وفات کے وقت جو سکرات کی تکلیف ہوتی ہے) مجھے
زیادہ کسی کو اس کی خبر نہیں ہوتی اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات میری بنسلی کی
بدی اور یہودی کے درمیان میں ہوتی (کیونکہ آپ میرے سینہ پر ٹیکے ہوئے ہیں جب تک
تک کے سکرات کی تکلیف گنا ہوتی کے سبب سے ہوا کرتی ہے جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے سکرات کی تکلیف دیکھی ہوتی میرا ہیال باقی نہ رہا اور) میں کسی کے سکرات کی تکلیف
کو بڑا نہیں ہے۔ (کیونکہ سکرات کی تکلیف مرتب و درجات کی ترتیب کے لے جسی ہوتی ہے جسے
حضرت کو سکرات کی تکلیف مرتب اور درجات کی ترتیب کے لے ہوتی ہے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری نے لی ہے۔
تیسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "The Prophet (ﷺ) passed away between my chest and chin, so I do not dislike the severity of death for anyone after the Prophet (ﷺ)" [Narrated by Bukhari]
_ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے روایت کے، آپ فرماتی
پی کر پیلے میں آرز و کرتی تھی کہ موت آسان ہواورجان کی کی تھی نہوکر شاپ پری علامت ہے
لیکن جب میں نے دیکھا کہ حضور پرکہی موت کی کی تھی اور جان کی ہوتی ہے تو میں نے سمجھ لیا کہ پیکوئی
بری علامت نہیں ہے اس لئے) میں کسی کی آسان موت پر شک نہیں کرتی جب کہ میں دیکھ چکی
ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کہی موت کی کی تھی گزر چکی ہے۔
اس کی روایت ترجمی اور نقلی نے کی ہے۔
سکرات کے وقت کی دعاے
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "I do not envy anyone for an easy death after what I saw of the severity of the death of the Messenger of Allah (ﷺ)" [Narrated by Tirmidhi and Nasa'i]
اِمَّا الْمُؤْمِنِينَ حَضَرَتْ عَلَيْهِمْ صَدِيقَةُ رَبِّهِمْ فَعَنْهَا تَرَوَّيْتَ، آبَ فَرَما تَ
پی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا تے تشریف لے جارہے تھے تو میں دیکھی کہ حضور صلی
الله علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ میں پانی رکھا ہوا تھا اور آپ اس پیالہ میں باٹھوال کر پانی لے کر
اپنے چہرہ مبارک پر لڑہے تھے اور فرما رہے تھے: "اللہُمَّ أَعِنِّی عَلَى مُنْكَرَاتِ الْمَوْتِ
أَوْسَكَرَاتِ الْمَوْتِ".
اے اللہ! موت کی سختیوں پر اور موت کی بے هوشی پر میری مدد فرما یے (کہ پیہنت نازک
وقت ہے تو جہاں اللہ میں پچھر ق دآ لے بلکہ تو جہاں اللہ کامل ہو جائے مسلما نو! سکرات کی سختیوں کو
سنے سمجھ کر برداشت کیا کرنا، اس حالت میں کہی اللہ تعالی سے راضی اور خوش رہ کر دنیا سے جانا اور
تو جہاں اللہ میں پچھر ق دآ لے دینا۔)
اس حدیث کی روایت ترجمی اور نقلی نے کی ہے۔
بلاء اور مصیبت میں راضی بردار ہے کا ثواب
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "I saw the Prophet (ﷺ) at the time of his death. He had a cup of water with him, and he dipped his hand into it, wiped his face, and said: 'O Allah, help me through the pangs of death and the agony of death'" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
اِسْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَرَوَّيْتَ، آبَ فَرَما تَ پی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرما یے پی کہ (اجر و ثواب کا اندازہ مصیبت اور بلاء سے ہوتا ہے) جس قدر مصیبت
اور بلاء بڑی ہوگی اجر و ثواب بھی اس قدر بڑا ملگا، جس سے اللہ تعالی کو مجبت ہوتی ہے ان پر(ی)
بلاء اور مصیبت کی جائے ہیں۔ (یہ تفصیل مرقّات اور اشعة اللمعات سے ماخوذ ہے)۔ اور جن سے اللہ تعالیٰ ناراض رہتا ہے ان پر بھی بلاء اور مصیبت جائے ہیں، بلاء اور مصیبت تو دونوں پر آتے ہیں، بھیس معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کوسے محبت کرتا ہے اور کس سے ناراض ہے، نہیں ہے معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنویسی ہے اگر بندہ (بلاء اور مصیبت سے) راضی (برضاہی) رباتواس کے لئے (اللہ تعالیٰ کی) خوشنویسی ہے (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کواس بندہ کے محبت کرتا ہے اور بندہ کو کچھ اللہ تعالیٰ کے محبت کے علامت ہے کہ محوب کے اگر بلاء اور مصیبت پہوچ تو راضی اور خوش رہتا ہے اس کے محبت کرنے والا بنده بلاء اور مصیبت میں اللہ کے راضی اور خوش ہے)۔ اگر کسی بندہ کو بلاء اور مصیبت پہوچے اور وہ (اللہ تعالیٰ کے معلوم ہوتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ (کچھ) اس کے ناراض ہیں (اس کے وہ کچھ اللہ تعالیٰ کی بلاء اور مصیبت سے ناراض ہے، اللہ تعالیٰ کواس کے محبت نہیں ہے، اس کے اس بندہ کو کچھ اللہ کے محبت نہیں ہے، اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بلاء اور مصیبت سے ناراض ہے اور اس کو برآبھر پا ہے۔)
اس حدیث کی روایت تزدی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
بلاء اور مصیبت سے گناہ مطاہر جائے ہیں
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The greatness of the reward is with the greatness of the trial. Indeed, when Allah loves a people, He tests them. Whoever is content, then for him is contentment, and whoever is displeased, then for him is displeasure" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: مسلمان مرداور مسلمان عورت پر بمیش بلایی آئی رہتی ہیں خود اس پر (بلایی اس طرح آئی ہیں کہ طرح طرح کے درداور پیاریوں میں اور طرح طرح کے ایذاول میں بتلا ہوجاتا ہے) اس طرح اس کے مال پر بھی (بلایی آئی رہتی ہیں، کچھ مال ضائع ہوجاتا ہے اور کچھ اس میں نقصان آ جاتا ہے) اور اس کے اولاو پر بھی (بلایی آئی رہتی ہیں، کچھ اولاد پیار ہوجاتی ہے اور کچھ بلاک ہوجاتی ہے جس سے اس کو خت صدمہ پہوچتا ہے، مسلما نو! پینہ کچھ ناکر ان سب بلاول سے تم کو پچھا فانہیں، اس سے بلاہ کر اور کیا فانہے ہونا چاہئے کر ان بلاول کی وجہ سے تمہارے گناہ مطاہر جائے ہیں، اس طرح گناہ مطاہر رہتے ہیں پھر) جب (تمہاری) موت آجائے ہے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے گناہوں سے پاک وصاف ہوکر جائے ہیں۔ (تو ساری بلایی اور مصیبتیں دیکھ میں تو بلا میں اور مصیبتیں ہیں، حقیقت میں نعمت ہیں کہ تم کو گناہوں سے پاک وصاف اور ستراکر کے دنیا میں لے جائے ہیں۔)
اس حدیث کی روایت ترتیب کی بھاورام مالک نہیں اس طرح روایت کی ہے۔
مسیبتین ور جول کو بلند کرنے کا سبب مفتی پی
Afflictions come upon a Muslim man and a Muslim woman in their bodies, in their wealth, and in their children, and they are tested in these ways so that their sins may be expiated. When death comes to them, they go before Allah, Most High, free from sin and purified. So, O Muslims, if you are afflicted with any affliction, know that it is a means of expiation for your sins. Thus, when your sins are expiated, you will go forth purified. Therefore, all afflictions and adversities are, in fact, blessings that cleanse you of your sins and purify you in this world.
محمد بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے اپنے دادا کے روایت
کرتے ہیں، ان کے دادا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں (کہ اللہ
تعالیٰ کے فضل سے اور ایمان کی وجہ سے مسلمان داخل جنت ہوتا ہے، کفار کو ایمان نہ ہونے کی وجہ
سے داخل جنت نہ ہوگا، اسلام پر بمیش قائم رہنے کی نیت کی وجہ سے مسلمان کو جنت میں بمیش رہنے
کے لئے کفار کو کفر پر بمیش قائم رہنے کی نیت کی وجہ سے بمیش دوزخ میں رہنے کے اور جنت کے
مراتب ودرجات، اعمال نیک کی وجہ کی ملت ہیں) اگر کوئی بندہ اپنا کر اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ
عالی جنت میں دینا چاہتا ہے تو اس بندہ کے اعمال صالح اس درجہ کو حاصل کرنے کے لئے کافی
نہیں ہیں تو اس بندہ کو اللہ تعالیٰ جسمانی مصیبت (جس پیار والے پیت ہیں) یا اس کے مال میں طرح
طرح سے خسارے اور قصاص آتے ہیں یا اس کی اولاد کو پیار یوں میں بتلا کرتے ہیں (یا اولا و پلاک
ہوئے نے رنج دیتے ہیں) پھر ان ساری مصیبتوں پر صبر کرنے کی اس کو تفویض دیتے ہیں اور (ان
تمام مصیبتوں پر صبر کرنے کی وجہ سے) اس مرتبہ عالیہ پر (جو اس کے لئے مقرر ہوا ہے) جس کو وہ
(اعمال صالح کے ذریعے) حاصل نہیں کر سکتا تھا (ان مصیبتوں پر صبر کرنے کی وجہ سے) اس درجہ
عالی پر اس کو پیو پیادیتے ہیں اس کی روايت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے۔
بلاء اور مصیبت کا جواب قیامت میں طے گا اس کو کیا کر عافیت میں
رہنے والے حسرت کریں گے
The Messenger of Allah ﷺ said: 'By Allah's favor and due to faith, a Muslim enters Paradise; a disbeliever will not enter Paradise due to the lack of faith. A Muslim will remain in Paradise eternally due to the intention of remaining steadfast on Islam, while a disbeliever will remain in Hell eternally due to the intention of remaining steadfast on disbelief. The ranks and degrees of Paradise are attained due to good deeds. If Allah, the Exalted, wishes to grant a servant a high degree in Paradise, but the good deeds of that servant are insufficient to attain that degree, then Allah, the Exalted, afflicts him with physical trials (which he endures with love), or various losses and punishments in his wealth, or makes his children a source of grief (or they cause him distress). Then, He grants him patience over all these trials, and by His bestowal of patience over these trials, He elevates him to that high rank which he could not have attained through his good deeds alone. This narration is recorded by Imam Ahmad and Abu Dawud. The answer to trials and afflictions will be given in the Hereafter; how can those who remain safe from them not feel regret?'
جابر رضی اللہ عنہ روایت کے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں (قیامت میں پیغی ایک عجیب منظر ہوگا کہ مصیبت زدہ جو دنیا میں
مصیبتوں اور بلاوں میں بتلا ہوا اور ان پر صبر کے ثواب وہ میدان قیامت میں آ جائیں گے اور ان
کی مصیبت و بلاء پر دنیا میں صبر کرنے کی وجہ سے جواب واجران کو دیا جائے گا) دنیا میں عافیت اور
راحت وآرام میں جور بنے والے ہیں (ان) مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب ملتا ہوا
و کیا کر برطی حسرت سے آرزو کریں گے، کاش (ہم پر بھی دنیا میں مصیبت اور بلا کی آتیں، پیال
تک کر )ہمارا چھڑاونیا میں قینچویں سے کتر اجا تا (عافیت میں رہنے سے بہت بہتر ہوتا تا کر ہم کو جس
ایسے اجر و ثواب ملتا جس ان مصیبت زدہ لوگوں کا اجر و ثواب مل رہا ہے )
اس حدیث کی روایت تزدی نے کی ہے -
ہرا ئی کومصائب اس کے مرتب کے لحاظ سے ہوتے ہیں
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "On the Day of Judgment, the people of ease will wish, when they see the reward given to those who endured trials, that their skins had been cut with scissors in the world" [Narrated by Tirmidhi]
وَا لَمْ سَلَمْ سَعْدٌ رضي الله عنه رَوَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَامَ لَوْ كُنْتُ مِنْ سَبَبٍ زَيَادَةً آزْمَاشْ تَغْمِرُوْنِ كِيْ هَوْتِ بَهْ ( اس لے کے تَغْمِرُوْنِ کَا یَقِيْنِ کَا مَلْ
ہَوْتِ بَهْ آزْمَاشْ سَوْهُ ذَگَرْ کَا نَمِيْسْ سَكَتَ مِنْ اور اس وَجْرَتْ مِنْ کِيْ کَ تَغْمِرُوْنِ کَوْسَبْ سَزَيَادَهُ اللَّهِ تَعَالَى
سَ مَحْبَتْ هَوْتِ بَهْ اسِ لے کے آزْمَاشْ کُوْوَهُ اللَّهِ تَعَالَى کِيْ طَرَفْ سَ بَجْهَرْ بَلَاءْ اور مَصِيْبَتْ سَ اسِ
لَذَتْ لِيْ مِنْ جَحْ اور لُوْگْ نَغْمَتْوَنْ سَ لَذَتْ لِيْ مِنْ اور جَابَلُوْنْ کِ عَقَانْدِ حَفَاظَتْ کِ لے کے
بَجْهَرْ تَغْمِرُوْنِ کُوْسَخْتْ مَصِيْبَتْ سَآزْمَا تْ مِنْ تَا کَرْوَهْ لُوْگْ تَغْمِرُوْنِ کُوْاللَّهِ، یْ نَ بَجْهَلِسْ ) چَہَرْ تَغْمِرُوْنِ
کِ بَعْدَ سَخْتْ آزْمَاشْ ا نْ کِ دَرْجَتْ قَرْبَتْ وَالوْنْ ( لِعْنِ اولیاءْ صَاحِبِنْ اور عَلَمَاءْ عَالِمِيْنْ ) کِ هَوْتِ
بَهْ، ( اس لے کے تَغْمِرُوْنِ کِ بَعْدَ ا نْ حَضْرَاتْ کُوْیَقِيْنِ اور مَحْبَتْ ابْنِ سَبْ سَزَيَادَهُ هَوْتِ بَهْ اسِ
لے تَغْمِرُوْنِ کِ بَعْدَ ا نْ کِ سَبْ سَزَيَادَهُ آزْمَاشْ هَوْتِ بَهْ ) چَہَرْ جَوْا نْ کِ بَعْدْ ( یَقِيْنِ اور مَحْبَتْ
ا ابْنِ مِيْ ) ا نْ کِ مَشَابْ هَوْتِ مِيْ ( ا نْ کِ دَرْجَ اور مَرْتَبَهْ کِ مَطَابِقْ ) ا نْ کِ سَخْتْ آزْمَاشْ کِ جَانِ
بَهْ ( خَلاصَ پِیْہَ کِ ) ا نْ سَانْ کُوْا سْ کِ دِیْدَارِیْ کِ لَحَاظْ سَ مَصَائِبْ مِيْنْ بَتْلا کِیْا جَاتَا بَهْ، اَگْرُوْهْ
ا پَتِ دِیْدَارِیْ مِيْنْ پَکَا اور مَضْبُوْطْ بَهْ توْا سْ پَرْ جَوْمَصِيْبَتْ آتِیْ بَهْ وَهْ بَجْهَیْ سَخْتْ هَوْتِ بَهْ اور اَگْرُوْهْ
ا پَتِ دِیْدَارِیْ مِيْنْ وَپِیَا پَچْتَ اور مَضْبُوْطْ مِيْنْ بَهْ توْا سْ پَرْ جَوْمَصِيْبَتْ اور بَلَاءْ آتِیْ بَهْ وَهْ بَجْهَیْ مَجْمُوْلِ اور
آ سَانْ رَتْقِ بَهْ ( تَا کَرْ سَخْتْ مَصِيْبَتْ کِ وَجْهَتْ سَ بَ صَبْرِیْ نَذَکَرْنے اور بَدِیْنْ نَہَوْجَا بَهْ ) اور
مَصَائِبْ وَآ فَاتْ مِيْنْ بَتْلا رِتْنَہْ کَا سَلْسَلَ باقی رَہْتَا بَهْ، بَہَالْ تِکْ وَهْ بَلا مِيْنْ اور مَصِيْبَتِيْنْ ا نْ سَانْ کِ
گَنا بَهْوَلْ کُوْمَطا لِ رَتْقِ مِيْنْ، چَہَرْ تَوْوَهْ گَنا بَهْوَلْ سَ پَکْ بَهْوَکْرْ ) زِمِیْنْ پَرْ ( اس طَرَحْ ) حَلَّ لَتَا بَهْ کِ
( گَوْا ) اسْ پَرْکُوْتِ گَنا هَیْ نَمِیْنْ ( چَہَرْ جَبْ وَهْ خَدا تْ مَلْتَا بَهْ توْا سْ پَرْکُوْتِ گَنا هَبا قِ نَمِیْنْ رَہْتَا، اَلِ
مَصِيْبَتْ زَوْهْ مُسْلِمَانْ دِیْکَا تَجْهْ پَرْ اللَّهِ تَعَالَیْ کِسْ قَدْرْ مَہْرَبَانْ مِيْنْ، اس طَرَحْ کِ مَصِيْبَتْ تَجْهْ پَرْ نَا زِلْ
کِ رَ تَجْهْ کُوْگَنا بَهْوَلْ سَ پَکْ کَرْتَ مِيْنْ اور دِنِیَاتْ تَجْهْ پَکْ کَرْ کِ لے جَاتَ مِيْنْ توْجْهْ جَا بَهْ
کہ بلاول اور مصیبتون سے نہ مبرائے اپنے گناہوں کا کفارہ بھی کر بلاول اور مصیبتون پر صبر کے جا، اور اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش رہ۔ اس حدیث کی روایت ترتیزی، ابن ماجا ورداری نے کی ہے۔
بخاری برانہ کہو
مہلی حدیث
Do not seek to be rid of adversities and calamities, for they expiate your sins. Be patient in adversities and calamities, and remain pleased and content with Allah, the Exalted. This hadith has been narrated by Tirtazi, Ibn Majah, and Bukhari.
وآ لہ وسلم (اکی وفع) ام الساتب کے پاس تشریف لاکے اور فرمایے (ام الساتب تحمیم کیا ہوا ہے) تم کیون کانپ رہی ہو، ام الساتب نے عرض کیا: حضور موگے بخار کا ستیا ناس ہو (یہ بت تکلیف دے رہا ہے) حضور نے فرما (ارے! ارے!) بخار کو اپیا برامت بولو (تم جانتی نہیں بخار کہی انسان کے لے ایک نعمت سے انسان کے گناہوں کو بخار جلا کر اپیا صاف کر دیتا ہے جسے لو بارکی یہی لو ہے کے زگ کودور کر کے صاف کر دیتے ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
دوسری حدیث
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) visited Umm al-Sa'ib and said: "Why are you shivering?" She said: "It is the fever. May Allah not bless it." The Prophet (ﷺ) said: "Do not curse the fever, for it removes the sins of the children of Adam just as the bellows remove impurities from iron" [Narrated by Muslim]
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بخار کا ذکر کیا گیا، حاضرین میں سے ایک صاحب بخار کو راکہنے گئے (پیس کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: بخار کو برانہ کھواس لے کر بخار گناہوں کودور کر کے (انسان کو) اپیا پاک وصاف کر دیتا ہے جسے آگ لو ہے کے زگ کو (جلا کر) لو ہے کو پاک کر دیتے ہے۔ اس کی روایت ابن ماجے نے کی ہے۔ دولت کے خطرات کی سزا و نیا، کی میں دی جاتے گی اور ہر برانی کابلہ آخرت میں دیا جاتا ہے ایام کو بجو بلکہ بعض برانیوں کا بدلہ نیا، کی میں دیا جاتا ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that fever was mentioned in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ), and a man cursed it. The Prophet (ﷺ) said: "Do not curse it, for it removes sins just as fire removes impurities from iron" [Narrated by Ibn Majah]
علی بن زید رضی اللہ عنه، امیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، امیر رضی اللہ عنہ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہور پا ہے: "وَانْ تُبْدُوا مَا فِیْ أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ"۔ (پ:3، سورۃ بقرہ، ع:40، آیت نمبر:284) جو پیشہوارے دولت میں ہو اگر تم اس کو طاہر کرو ایدولت میں پچپا ہو رکھو ہرا کی کاتم اللہ تعالیٰ حساب لیں گے۔
(اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ آخرت میں دل میں چھپے ہوئے گناہوں کے خطرات اور بڑے خیالات کا بھی حساب لیا جائے گا، اس سے پچھاہٹ مشکل ہے) ایسے یہ دوسری آیت ہے: "مَنْ يَعْمَلُ سُوءًا يُجْزَ بِهِ"۔ (سورۃ نساء، پ:5، ع:18، آیت نمبر:123)
دنیا میں جو کچھ برائی کی جاتے ہیں (صغیرہ ہو یا بڑیرہ ظاہر میں کہ ہوں یا پچھپڑے آخرت میں) اس کی سزا دی جاتے ہیں (اس سے بھی پچھاہٹ مشکل ہے)-
یہ کر حضرت علیؓ رضی اللہ عنہما نے فرما یا کر (جبیا تم کو ان آیتوں کے معنوں کے بارے میں شبہ ہوا تو مجھے اس کے متعلق شبہ ہوا تھا اور) میں نے اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا (حضرور صلی اللہ علیہ وآلم وسلم اس کے متعلق مجھے جواب دے گے اس سے مجھے تسلیم ہو گی تھی) اس وقت سے آنجا کہ کوئی مجھے ان آیتوں کے متعلق (اپنا شبہ) دریافت نہیں کیا (آج تم ہی ہو کر ان آیتوں کے متعلق اپنے شیر کو مجھے دریافت کر رہی ہو، جو جواب مجھ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم دے گے تو جواب میں تم کو سنا ہیں سنو! ان دونوں آیتوں کا مصداق تم ہی ہو کر آخرت میں ہو گا، جبیں گناہوں کے) جو خطرات تہہارے دل میں گزر رہے ہیں یا چھوٹی بڑی جو برائی تم کرتے ہو، اس کا بدلہ دنیا میں اس طرح دیا جائے گا کہ پیاریوں میں بخار میں تکلیف ورنگ میں بتلا ہو لگے یا کوئی چیز تم نے جیب میں رکھی تھی (اس کوئی نے چرا لیا) کہیں گرگی اس سے جو رنگ ہو گا ان سب کی وجہ ہے (دل میں گناہوں کے جو خطرات ہیں، یا چھوٹے بڑے جو گناہ ہیں وہ سب ان ذکورہ پر پیشانیوں سے دنیا میں میں مطاہ جاتے ہیں اور ذکورہ آیتوں کے جومصداق ہیں) ان کو ایسا پاک کیا جاتا ہے جسے خالص مرغ سونا کہیں سے صاف ہو کر نکلتا ہے- (خلاصہ یہ ہے کہ تم سے ہماری ہو کر آخرت میں ان گناہوں کی سزا دی جاتے ہیں، جبیں بلکہ دنیا میں ان کی سزا دے کر پاک و صاف کردیتے ہیں اور دونوں آیتوں سے ہی مراد ہے-) اس حدیث کی روایت تزدی نے کی ہے-
مصابہ سے پچھو گناہ مطاہ جاتے ہیں اور بقیہ گناہوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے معاف فرمادیتے ہیں
Ali ibn Zayd reported from Umayyah that she asked Aisha (may Allah be pleased with her) about the verse: "Whether you show what is within yourselves or conceal it, Allah will bring you to account for it" (Qur'an 2:284) and about the verse: "Whoever does evil will be recompensed for it" (Qur'an 4:123). Aisha said: "No one asked me about this since I asked the Messenger of Allah (ﷺ). He said: 'This is about the servant being tested with fever, calamity, or even losing a commodity he places in his pocket, until Allah forgives the servant's sins as pure gold is purified in the furnace'" [Narrated by Tirmidhi]
This verse indicates that in the Hereafter, even the hidden sins and major thoughts concealed in the heart will be accounted for, making repentance difficult. Another such verse is: 'Whoever does evil will be recompensed for it' (Surah Nisa, Vol. 5, Chap. 18, Verse 123). In this world, whatever evils are committed, whether minor or major, apparent or hidden, will be punished in the Hereafter, making repentance even more difficult.
Regarding this, Imam Ali (RA) said: 'When you have doubts about the meanings of these verses, I too had doubts about them and sought clarification from the Prophet (SAW). Since then, no one has asked me about these verses until now. Today, you are asking me about your doubts regarding these verses. The answer that the Prophet (SAW) gave me, I will share with you! The reality of these two verses will manifest in the Hereafter, when the dangers of sins that pass through your heart or the small and large evils you commit will be punished in this world in such a way that you may suffer in the heat or feel discomfort in the cold, or something you kept in your pocket might be lost or damaged. All these things happen due to the hidden sins in your heart or the small and large sins you commit. These are purified in this world as if they are refined like pure gold that comes out clean from the fire. In summary, in the Hereafter, you will be punished for these sins, but in this world, they are purified and cleansed, and both verses refer to this. The narration of this hadith is by Tazdī.
Sins are purified in this world, and the remaining sins are forgiven by Allah Almighty out of His grace.'
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: بندہ کو جو چھوٹی بڑی مصیبت پہو چیتی ہے وہ کسی نہ کسی گناہ کی وجہ
سے پھر وہی بھی (اللہ تعالیٰ جائے بین کے اس مصیبت کی وجہ سے بندہ کے گناہوں کو مٹا دیں،
مصیبت گوتم کوناگوار معلوم ہوئی جہاں گمر وہ تمہارے فائدہ کے لیے تم کو دی جائے بہتا کر تم گناہوں
سے پاک و صاف ہوجائے، یہ نہ بھی جنا کہ تمہارے گناہوں کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ مصیبت نچج
رہے بین بلکہ پھر گناہ تو مصیبت کی وجہ سے مطاہیرہ اور باقی) اکثر گناہ اپنے فضل و کرم سے
معاف کروائے ہیں (اگر سب گناہوں کے لحاظ سے مصیبت کیے تو تم اس کی برداشت نہیں کرسکتے
تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم سے کہ پھر گناہ مصیبت سے مطاہیرہ بین باقی اپنے فضل و کرم سے معاف
فرما دیتے ہیں، اس طرح بندہ کو پاک و صاف کر کے دنیا سے لجا کے ہیں، اس کی تاثیر میں) حضور
صلی اللہ علیہ وسلم بیا یہ تلاوت فرما لے: "وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ
وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ"۔ (سورۃ شوری، پ:25، ع:4، آیت نمبر:30)
لوگو! جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے وہ تمہاری، جو گناہوں کی وجہ سے پہنچتی ہے-
(اللہ تعالیٰ جائے بین کر تم مصیبتوں کی وجہ سے گناہوں سے پاک و صاف کر دیں) باقی
بہت سے گناہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے معاف کروائے ہیں (اگر سب گناہوں کی وجہ
سے مصیبت آتی تو تم اس کی تاب نہ لاسکتے اس لیے) بہت سے گناہ (اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم
سے معاف فرما دیتے ہیں-) اس کی روایت ترنزی نہیں کی ہے-
بخاری کو دور کر نے کامل
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No calamity befalls a servant, whether minor or major, except due to a sin, and what Allah forgives is greater." Then he recited: "Whatever misfortune befalls you is because of what your hands have earned, and He pardons much" (Qur'an 42:30) [Narrated by Tirmidhi]
(مسلمانو اللہ تعالیٰ کے عبادت اور سفر ازیاب جوتم پر میں ان کا اس سے اندازہ کرو)
_ ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے بین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرما لے بین تم میں سے جب کسی کو بخار آ جائے تو بخار آ گے کا ایک طرزاہ وہ اس کو
(طہارت) پانی سے بجا دے (طہارت پانی سے بخار کو س طرح بجا کا چائے اس کا طریقہ اس
طرحا ارشاد ہو رہا ہے) کہ نہ جاری بین اس کی آمدیں بھا کی طرف رون کر کے کہرا ہو، (شاہد کسی
وہی کواس علاج سے شربہ ہوا س کا وتم دور کر نے کے لیے یدعا سکھالی گئی ہے کہ) پھر یدعا پڑھے:
"بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ"۔
اللہ کے نام سے میں یہ علاج شروع کرتا ہوں، ابی آپ مجھے بخار سے شفاء دے آپ کے
رسول جو فرما لے بین اس کو پچ کر دکلا پیے (اور وہ میوں کے وہم کو باطل کر دیتے ہیں-)
(علاج کی تفصیل یہ ہے)(1) یہ عمل صحیح کی نماز کے بعد سورہ نکل سے قبل کرے اور نہمر
میں 3 غوٹے گاۓ اور تین دونوں اس طرح عمل جاری رکھا گرتین دونوں کے اس عمل سے بخار دور
نہ ہو تو پانچوں دونوں کے ایسے، یعنہر میں غوٹے گاۓ جائے اگر پانچوں دونوں کے اس عمل سے بخار دور نہ ہو تو
ساتوں دونوں کے اس طرح عمل کرتا رہا اور اگر ساتوں کے عمل سے بھی بخار کم نہ ہو تو نووں دونوں کے اس
طرحوں عمل کرتا رہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے غالبًا بخار نووں دونوں کے عمل کرنے سے رک جائے گا اور پھر
نہ آئے گا۔ اگر ذاکری علاج نکلنے سے پہلے یونانی طبیبوں کے عہد میں سخت بخار کے وقت بیکھا جاتا
تھا کہ سرپریانی کی پیپبرف کی پیپرکوتو اس وقت حدیث میں جوگفتگو ہوری ہے ویسے اس
وقت بھی چرمیکوبیال ہوتی گراپ ذاکری تجرہ سے معلوم ہوا کہ ہرتم کے بخار کے شدت کے وقت
پیپ کی پیپبرف کی پیپرکی جائے تو کوئی تقاصان نہیں ہوتا بلکہ یہ فائدہ ہوتا ہے ایسے نورنبوت سے
ذکورہ جوعلاج بتایا گیا ہے اس میں نا تجربہ کا طرح طرح کے شک پیا کرتے ہیں اگر کوئی عمل
کرتے اس کا فائدہ خود اس کو معلوم ہوجائے گا۔ اس حدیث کی روایت تزدی نہ کی ہے۔
پیاری کی حالت میں ان اعمال کا ثواب ملتا رہتا ہے جوصح کی
حالت میں کے جائے تو گو کہ پیاری میں وہ اعمال نہ کر سکے
پہلی حدیث
Thawban (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If one of you is afflicted with fever, then fever is a piece of the Fire. Let him extinguish it with water by standing in a flowing river, facing the current, and saying: 'In the name of Allah, O Allah, cure Your servant and confirm the truth of Your Messenger.' This should be done after the Fajr prayer before sunrise. He should immerse himself three times for three days. If he is not cured in three days, then five, and if not in five, then seven, and if not in seven, then nine. It rarely exceeds nine days, by the permission of Allah, the Exalted" [Narrated by Tirmidhi, who said: This is a Gharib Hadith]
ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرما ہیں: کوئی مسلمان صحیت اور تندرستی کے زمانے میں جوعبادات اداء کرتا تھا (نوافل اور وظائف
پڑھا کرتا تھا پیاری کے زمانے میں گوان کو اداء نہیں کر سکتا، مگر صحیت کے زمانے میں جو اوراد و وظائف
پڑھے جاتے تھے) ان کا ثواب اس کو ضرور ملتا رہتا ہے (اس میں پیپ کی نہیں ہوگی اگر پیپ پیاری کی
وہ جان اوراد و وظائف کو جاری نہ رکھ سکے) ایسا ہی طن میں جب مقیم تھا اور جوعبادات (ووظائف
اور نوافل پڑھا کرتا تھا سفر میں اتنا پڑھنا نہیں ہوسکتا ہے مگر اقامت کی حالت میں جوعبادات نوافل
اداء کرتا تھا سفر میں ان سب کا ثواب اس کو ملتا رہتا ہے (اگر چہ وہ سفر کی حالت میں ہو نہے ان کو
اداء نہیں کرسکتا (ایسا ہی جوانی کی حالت میں جوعبادات نوافل اور وظائف پڑھا کرتا تھا
ضعیف (مرقات میں پیروایت ذکور ہے۔ 12) اور برہائے میں اتنے عبادات اور وظائف نہیں
ہو سکتے ہیں مگر جو انی میں عبادات اور وظائف پڑھنے کا جواب ملتا ہے وہ برابر ملتا رہتا ہے، گو برطہا پے میں ان کو ادا کرنا ہے )۔
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
دوسری حدیث
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a servant falls ill or travels, he is rewarded for the deeds he used to do while healthy and at home" [Narrated by Bukhari]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے جب کوئی مسلمان صحت اور تندرستی کے زمانے میں عبادات ( نوافل اور وظائف کا پابند تھا، پھر بیماری وہ پیار ( پیاری میں پیاری کی وجہ سے حسب عادات عبادات، نوافل اور وظائف اداء نہیں ہورہے تھے، ان کا اس کو صد مہے ) نیکیوں کے کچھ وا لے فرشتے اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ میرا بندہ پیاری کی وجہ سے عبادات اور نوافل اور وظائف کو نہیں اداء کر رہا ہے گر تم اس کے نیک اعمال کے ثواب کو لحا کرتے تو، یہاں تک کہ مین اس کو صحت دیدولی موت دے کراس کو اپنے پاس بلا لون۔
اس کی روایت تشریح السنن میں کی گئی ہے۔
تیسری حدیث
The Messenger of Allah ﷺ said: 'When a Muslim is healthy and strong and is consistent in his voluntary and obligatory prayers, but then falls ill and is unable to perform his prayers, voluntary acts, and obligations as usual, Allah Almighty commands some of His angels, saying: My servant is unable to perform his prayers, voluntary acts, and obligations due to illness. If you were to take his good deeds and reward him accordingly, then take him to a state of health and then death, and bring him to Me.' This has been explained in the Sunan.'
اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے جب کسی مسلمان کے جسم میں کوئی مرض پیا ہوجاتا ہے تو ( اس کے نیکیاں کچھ وا لے ) فرشتے حکم دیا جاتا ہے کر ( یہ مسلمان جواب پیارہوگیا ہے اس کے نام اعمال میں ) وہ سب نیک اعمال جن کو ہے صحت کے زمانے میں کرتا تھا ( گوال کواب نہیں کر رہا ہے ) تم برابر اس کے نیک اعمال کو لحتے جا پھر جب اس پیار کو شفاء ہو جائی ہے تو پیاری کی وجہ سے سارے گناہوں سے پاک و صاف کردیا جاتا ہے ( پھر نیکیوں کا ثواب اس کو علحدہ ملتا رہتا ہے ) اگر اس کو موت آگئی تو گناہوں سے اس کی مغفرت ہو جائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر نازل ہوئی رہتی ہے۔ ( دیکھا آپ نے پیاری کہی اللہ تعالیٰ کا ایک فضل و کرم ہے بخیر کے کے نیک عمل میں اور گناہ بھی معاف ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال رہی، یہ پیاری جس کی یفضیلت ہے۔ )
اس حدیث کی روایت تشریح السنن میں کی گئی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a Muslim is afflicted with a trial in his body, the angel assigned to him is told: 'Record for him the good deeds he used to do. If he recovers, he is cleansed and purified, and if he dies, he is forgiven and shown mercy'" [Narrated in Sharh al-Sunnah]
شراڈ بن اوس اور صاحب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ پیروں لحضرات ایک پیاری پیار پری کے لئے گھے تم و بال جا کراس پیارے دریافت کے: کہو صاحب مزاج کیسا بے؟ تو پیارے کہا: (الحمد للہ) خدا کے فضل و کرم سے اچھا ہول (یعنی کر) شراور ضی اللہ عنہ فرماے سنو! تم کو ایک خوشخبری سنا ہول (باوجود پیار ہونے کے تم جوالد تعالی کا شکر ادا کے، اس تے) تمہارے گناہ مطاے گئے اور (عبادات میں) تم سے جوکوتاہیاں (ہوئے تے وہ سب) معاف کے گئے (پیم اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہول بلکہ) میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (پحدیث قدسی) سنا ہول آپ ارشاد فرما رہے تھے کہ اللہ بزرگ و برتر کا ارشاد ہے کہ جب میں اپنے بندرول میں سے کسی بندرے مومک کو کسی پیاری میں مبتلا کرو یتا ہول اور وہ (بجا ہے جزع وفرع اور شکوہ شکایت کرنے کے) میرا شکر ادا کرتا ہے تو جب وہ محبت یاب ہو کر اپنے بسترے سے اٹھتا ہے تو گناہول سے اپنا پاک وصاف ہوتا ہے جسیا کروہا پی مال کے پیٹ سے پیرا ہوتے وقت گناہول سے پاک وصاف ہوا (صرف گناہ میں نہیں مطاے جاتے ہیں) بلکہ اللہ تعالی (اپنے فضل و کرم سے نمیال کے وا لے فرشتے کو) حکم دیتے ہیں کہ میرے اس بندرے کو میں نے می پیار کیا تو انتا تم میرے بندرے کے (نام اعمال میں اس کی صحبت کے زمانے میں جب وہ نمیال کرتا ہوا نمیال کے تے تے، اب پیاری کے زمانے میں اس سے نمیال نہیں ہوسکتی میں تو بغیر نمیال کے کے) نمیال کرنے کا ثواب بلاکہ کی کے اس کے نام اعمال میں) کہتے جاتے (جب تک وہ تندرست ہو کر نمیال کرنا شروع نکر دے-) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے-
Shaddad ibn Aws and al-Sunabihi (may Allah be pleased with them) reported that they visited a sick man and asked him: "How are you feeling?" He replied: "I am feeling well by the grace of Allah." Shaddad said: "Be glad, for your sins are being expiated and your faults are being removed. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Allah, the Exalted, says: If I afflict a believing servant of Mine and he praises Me for the affliction, he will rise from his bed as sinless as the day his mother gave birth to him. The Lord, Blessed and Exalted, says: I have restrained My servant and tested him, so continue to record for him the deeds you used to record for him when he was healthy'" [Narrated by Ahmad]
شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (کے بطہا پے کا زمانہ تھا لیے وقت آپ) پیار ہوئے تم (کی شخص مگر حضرت ابن مسعود کی) پیار پری کے لئے گئے (تم حضرت ابن مسعود کو) دیکھ کر آپ رورہے ہیں، (تم سمجھ کر پیاری کی تکلیف کی وجہے اور دنیا کے چھٹنے کے خیال سے آپ رورہے؟ آپ کے اس مرتبہ اور شان کے لحا ظ سے آپ کا پرونا) تم کو ناگوار گزر ا (تم عرض کے حضرت پیاری کی وجہے اور دنیا چھٹنے کے خیال سے آپ پھی روتے ہیں - پآ پ کی شان کے مناسب نہیں ہے) تو (حضرت ابن مسعود)
فرماے: (نہیں) میں پہاری کی وجہ سے نہیں رور پاہون (مرض کی وجہ سے کسی روتاجب) خود میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکاہوں کہ پہاری (پہار کے) سارے گناہوں کو مٹادیتا ہے
(اور اس کو گناہوں سے پاک و صاف کر دیتا ہے، حضورتے پین کے بعد میں کسی اس پہاری کی
وجہ سے روتا،) سنو! (جب کوئی شخص صحت کے زمانے میں جو نیک اعمال کیا کرتا ہے اور پہار ہو نے کی
وجہ سے حسب عادت جو نیک عمل کیا کرتا تھا وہ اب پہاری میں نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم
سے نیکیاں کہاں وا لے فرشتے کو فرما تے ہیں کہ صحت کے زمانے میں وہ جو نیک اعمال کیا کرتا تھا اور تم جو
اس کا ثواب کہا کرتے تھا اب اس پہاری میں بخیراس کے نیک اعمال کے کر اس کے نامے اعمال
میں وہی ثواب کہو جس کو وہ صحت کے زمانے میں کیا کرتا تھا، گواب وہ پہاری کی وجہ سے نیک اعمال
نہیں کر رہا ہے، کیا کہو ن میں اپنی جوانی میں کثرت سے نیک اعمال کیا کرتا تھا، اگر جوانی میں پہار ہوتا
تو بخیر نیک اعمال کے کثرت سے نیک اعمال کرنے کا ثواب ملتا) میرے رونے کی وجہ یہ ہے کر
افسوس اب پہاری یعنی اور پڑھا پے کے زمانے میں آئی ہے (پڑھا پے میں صحت کے زمانے میں کثرت
سے نیک اعمال نہیں کر سکتا، اب پہ پڑھا پے کی پہاری میں نیک اعمال کا ثواب بھی ویسا ہی کم میل گا
جسیا کہ پڑھا پے میں نیک اعمال کم کیا کرتا ہوتا) جوانی کے زمانے میں مجھے پہاری نہیں آئی (جوانی
کے زمانے کے کثرت سے نیک اعمال کرنے کا ثواب اب نہیں میل گا اس کا مجھے بڑا افسوس ہے ان
نیکیوں کے خسارے کی وجہ سے رور پاہون) اس لیے کہ بندہ جب پہار ہوتا ہے تو اس کے لیے ان
نیک اعمال کا ثواب کہا جاتا ہے جو پہاری سے پہلے (جسی صحت کے زمانے میں) کہا جاتا تھا اور
پہاری نے اس کو ان اعمال سے روک دیا تھا اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
طاعون سے مرنا شہادت ہے
پہلی حدیث
Shaqiq (may Allah be pleased with him) narrated that Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) fell ill, and they visited him. He began to cry, and they scolded him. He said: "I am not crying because of the illness, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Illness is an expiation.' I am crying because it has afflicted me during a period of laxity, and not during a period of striving, for a servant is rewarded for the deeds he used to do before falling ill, but the illness prevents him from doing them" [Narrated by Razin]
Dying from the plague is martyrdom. This is the first hadith.
اس رضی اللہ علیہ روایت ہے، آپ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ طاعون سے جومسلمان مرتے ہیں وہ شہید ہوتے ہیں - (الن کوشہادت
کا ثواب ملتا ہے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پر ہے۔
دومسری حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The plague is a martyrdom for every Muslim" [Agreed upon]
– اياض بن ساریرضی اللہ عنہ روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (طاعون سے جولگ مرتے ہیں ان کو شہید محنا چاہے یا ان کوالوگوں کی طرح محناجاہے جواب پن اپنے گھروں میں بسترول پرمرتے ہول (اس کافصل خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں)جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ شہداءاپنادعویٰ پش کریںگے کہ طاعون سے مرے والے تم میں سے ہیں جسے تم نے زنی ہوکر کفار کے ہاتھوں سے مارے گے ویسے یہ طاعون سے مرے والے کچھ جنات کے ہاتھ سے زنی ہوکر مرے ہیں (اس لے کہ طاعون کا زخم جنات کی وجہ سے ہوتا ہے)اور جہاں میں گہ بغرپچاپنے گھروں میں بسترول پرمرنے والی جماعت اللہ تعالیٰ سے عرض کرے کی کہ یہ طاعون سے مرے والے ہمارے جیسے گھروں میں بسترول پرمرے ہیں (اس لے کہ طاعون سے مرے والے لوگ ہمارے ساتھ شامل ہیں) اس پر رب عزوجل ارشاد فرماتینے کہ طاعون سے مرے والوں کے زخم کو دیخواگران کے زخم جہاں فی بیل اللہ میں شہید ہوئے والوں کے زخم کے مشابہ ہیں تو ان لوگوں کا شمار جہاں میں مارتے جانے والوں میں ہوگا اور یا نہیں کے جیسے جا میں گے اور ان کو محی شہید ول کا ثواب دیا جائے گا، پھر جب طاعون سے مرے والوں کے زخم کو دیخا جائے گا تو ان کے زخم محی شہید ول کے زخم کی طرح نظر آئیں گے – (اس طرح طاعون سے مرے والے شہید کے جا میں گے اور شہید ول کے ساتھ ہول گے) اس حدیث کی روايت امام احمد اور نسائی نے کی ہے – شہید پاتچ قسم کے ہوتے ہیں
Al-Irbad ibn Sariyah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The martyrs and those who die in their beds will dispute before our Lord, the Exalted, regarding those who die of the plague. The martyrs will say: 'Our brothers were killed as we were killed.' Those who died in their beds will say: 'Our brothers died in their beds as we died.' Then our Lord will say: 'Look at their wounds. If their wounds resemble the wounds of the martyrs, then they are among them and with them.' And indeed, their wounds will resemble theirs" [Narrated by Ahmad and Nasa'i]
– ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: شہید پاتچ قسم کے ہیں: (1) طاعون سے مرے والا (2) پیٹ کی پیاری (جیسے پچھے، اسپال، استسقاء اور درد شکم ) سے مرے والا (3) پانی میں ڈوب کر مرے والا (اس کی دوسمیں ہیں – ایک تو وہ شخص جو قدر اخودی کے لے پانی میں گرا کر اپنے کو مارتا ہے ایسا شخص شہید نہیں ہے بلکہ اس کو ناجاں زموت سے مرے کی وجہ عذاب ہوگا، پانی میں ڈوب کر مرے وا لے کی دوسری قسم یہ ہے کہ پانی میں گرا کر مانا شہید جاہتا تھا بلکہ اتفاق سے پانی میں گرا اور مرگیا) (4) دیوار پڑچھت کے گرنے سے (ان کے پیچھے دب کر) مرے والا (5) (جہاہ ہور پا ہو، اعلاء کلمہ
اللہ کے لئے) خدا کے راستے میں (کافرول سے) ماراجاتے والا (یاصلی شہید ہے، اسی کی وہ شخص
جسی شہید ہے جس کو ناحق ظلم سے اگر سی نے مار دیا ہے)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقطر پر کی ہے۔
پیغ کی پیاری سے مرے والاعذاب قبر سے محفوظ رہے گا
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The martyrs are five: the one who dies of the plague, the one who dies of a stomach illness, the one who drowns, the one who dies under a collapsed structure, and the one who is martyred in the way of Allah" [Agreed upon]
سليمان بن صدر ضي اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے پی کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے پی جومسلمان پیغ کی پیار یول (جیے بیضہ، پچش، اسهال، استسقاء،
قونخ اور درد شکم ) سے مر جاتے تو (قبر میں) قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا - (اور آخرت میں
شہید ول کا ثواب پائے گا-) اس حدیث کی روایت امام احمد اورترمزی نے کی ہے-
شہید سات فتن کے ہوتے ہیں
The Messenger of Allah ﷺ instructed that if a Muslim dies due to one of the following seven afflictions (jaundice, scabies, diarrhea, seeking rain, being trampled, or stomach pain), he will be protected from the punishment of the grave, and he will receive the reward of a martyr in the Hereafter. This hadith is narrated by Imam Ahmad and Imam Tirmidhi. A martyr can be one of seven types of afflictions.
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے پی کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما یے پی: ( حقیقی شہادت تو وہ ہے کہ کوئی شخص جہاد میں کافرول کے باٹھ
سے مارا جاتے) اس شہادت میں بیللہ کے سوا اور کی سات فتن کی شہادت میں ہیں (1) طاعون سے
مرے والا شہید ہے (اور جوخودشی کے لئے قصد ا (پانی میں گر کر مرگیا تو پیر ناجا زموت ہے، ایسا
شخص شہید نہیں ہوگا بلکہ) (2) وہ شخص (جو اتفاق سے) پانی میں گرا، (تو نہ سکا اور مرگیا تو شہید ہے
(3) ذات الجنب لعنی نمو نی کی پیاری سے مرے والا کہی شہید ہے (4) اور پیغ کی پیار یول (جیے
بیضہ، پچش، اسهال، استسقاء، قونخ اور درد شکم ) سے مرے والا کہی شہید ہے (جو خودشی کے لئے
قصد آگ میں جل کر مرے تو وہ شہید نہیں ہے وہ ناجا زموت سے مرے والا کہجا جاتے گا بلکہ)
(5) جو اتفاقاً جل کر مرے وہ شہید ہے (6) جو شخص کسی چیز کے پیچ دب کر مر جاتے تو وہ کہی شہید
ہے (7) جوعورت کے اس کی زپچلی ہور، کہی پچھ پیدا نہ ہوسکا اور پیغ میں رہ گیا اور وہ عورت مرگی،
ایسی عورت شہید ہے (ایسی وہ عورت۔ جس کا پچھ پیدا ہوگیا گرآ نول نہ نکل سکی اوراس کا نہ پچھ ہو
گیا اور وہ مرگی تو وہ کہی شہید ہے ایسا کی وہ عورت جوزپچلی کے بعد زپچلی کی وجہ سے مر جاتے وہ کہی
شہید ہے ایسے، کی جو باکرہ عورت (جبیا کر مرقات اوراشعہ اللمعات میں ذکور ہے-12) باکرہ کی
رہ کریا کسی کہی پیاری سے مر جاتے وہ کہی شہید ہے)-
اس حدیث کی روایت امام ماک، ابودا ودارنسائی نے کی ہے-
پہلی حدیث
Jabir ibn Atik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are seven types of martyrdom besides being killed in the way of Allah: the one who dies of the plague is a martyr, the one who drowns is a martyr, the one who dies of pleurisy is a martyr, the one who dies of a stomach illness is a martyr, the one who dies in a fire is a martyr, the one who dies under a collapsed structure is a martyr, and the woman who dies in childbirth is a martyr" [Narrated by Malik, Abu Dawud, and Nasa'i]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں منورہ میں ایک شخص کا انتقال ہوا اور مدینہ منورہ میں میں پیرا ہوا (مدینہ منورہ میں ان کا طن تھا اور مدینہ منورہ میں ان کی پیرا ش کی جگہ تھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی نماز جنازہ پڑھا ہے اور ارشاد فرما کاش ان کو سفر میں غربت کی موت نصیب ہوتی (اپنی پیرا ش کی جگہ سے دور کمیں سفر میں انتقال کرتے تو اچھا ہوتا) صحابہ عرض کہے! حضرت ایس کیون ارشاد فرما رہے ہیں (حضور کے فرما نے کا مطلب ہمارے بھی میں نہیں آیا) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما کہ جب کوئی مسلمان سفر کی حالت میں غربت کی موت مرتا ہے تو (جس بعضوں کی قبر تگ کی جاتی ہے جس سے اس کی پہسلیاں ادھرا دھر ہوجاتی ہیں برخلاف اس کے سفر کی حالت میں مرنے والے کی قبر (جبیا کہ مرقات، سنگی اور اشعۃ اللمعات میں نذور ہے-12) کوئی مسافت کی مقدارت کو سیج کرتے ہیں جتنی مسافت اس کی پیرا ش کی جگہ سے سفر میں موت کے مقام تک ہوتی ہے- (پیہ سفر کی حالت میں غربت کی موت مرنے والے کی فضیلت- (اس حدیث کی روایت نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے-)
دوسری حدیث
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that a man who was born in Madinah died there, and the Prophet (ﷺ) prayed over him and said: "I wish he had died somewhere other than his birthplace." They asked: "Why is that, O Messenger of Allah?" He said: "When a person dies away from his birthplace, a distance equal to the span from his birthplace to the farthest point of his footsteps is measured for him in Paradise" [Narrated by Nasa'i and Ibn Majah]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما کہ جو مسلمان سفر کی حالت میں مردیس میں مرتا ہے وہ شہید ہوتا ہے (کیون کہ پردیس میں جب آدمی پہار ہوتا ہے تو اس کو بہت تکلیف ہوتی ہے، عزیز واقرباء کی جدائی اور تنهائی بہت شاق ہوتی ہے، پس اگر ایسی حالت میں مر جائے تو مرتے وقت اس کو بہت رنج ہوتا ہے، اس لے اللہ تعالیٰ نے اپنی عنايت سے اس کا بدلہ دیا ہے کہ اس کو شہادت کا ثواب عطا فرما)۔
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون زودہ مقام سے تقلی مکان کرنا جائزہے
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Dying away from home is a martyrdom" [Narrated by Ibn Majah]
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ تم ابوموسی
اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس حدیث سن جا کر تھا ایک دن احول نے تم سے فرمایا کہ میرے گھر میں طاعون پھوٹ پڑا ہے اس لئے آپ لوگ میرے پاس نہ آ کر یا آپ لوگوں میں سے جو تہریل آب و ہوا کے لئے مقام بدلا چاہیں وہ جاسکتے ہیں، مگر ایسا اعتقاد کہ مقام نہ بدلنے کے میں طاعون زدہ مقام سے نقل گیا تو اس لئے طاعون سے نچگیا اور فلال صاحب طاعون زدہ مقام میں رہے تو اس لئے طاعون میں بتلا ہوکر مر گئے، اگر میں بھی طاعون زدہ مقام میں رہتا تو طاعون میں بتلا ہوجاتا، ایسا کہ طاعون زدہ مقام سے نقل جاتا تو میں بھی نچ جاتا، اس طرح کا اعتقاد مجھے فلال صاحب کی طرح طاعون زدہ مقام سے نقل جاتا تو میں بھی نچ جاتا، اس طرح کا اعتقاد مجھے وا لے کو ہونا چاہیے نہ رہنے والے کو بلکہ دونوں پیغمبر کہ جو پکھا ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتا ہے نچگیا کہی تو اللہ تعالیٰ نے کے ارادہ سے پجا اور اگر بتلا ہوگیا کہی تو اللہ نے کے ارادہ سے ہوا، اس میں طاعون زدہ مقام کو چھوڑنے کا اثر نہ ناس مقام میں رہنے کا اثر ہے، اس طرح مجھے وا لے کو طاعون زدہ مقام سے تقلی مکان کرنا جائزہے اور جانے سے پچنا اور رہنے سے مرناسمجھنا یہ اعتقاد درست نہیں ہے اور ایسے اعتقاد کہنے والے کو تقلی مکان کرنا جائز نہیں ہے۔ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اس کے بعد فرما نے کہ میں تم کو حدیث سنا ہول جس سے معلوم ہوگا کہ طاعون کے موقع پر لوگوں کو کیا کرنا چاہیے، (ایک دفعہ) ملک شام میں طاعون پھوٹ پڑا تھا اور اس وقت میں ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملک شام کے جہاد میں شریک تھا (اور حضرت ابو عبيده رضی اللہ عنہ اس وقت فجر کے سپہ سالار تھے، ملک شام میں طاعون پھوٹ پڑنے کی اطلاع امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ کو میرا پیغام ہے کہ آپ فوراً مدینہ منورہ آئیں کے لئے روانہ ہوجائیں میں آپ کو تم دیتا ہوں کہ اگر میرا پیغام ملتا ہے آپ فوراً مدینہ منورہ آئیں کے لئے روانہ ہوئے تو پہلے مدینہ منورہ آئیں کے لئے روانہ ہو جائیں اور آگرا پکو میرا پیغام ملتا ہے تو آپ اسی وقت شام ہوئے تو صبح ہوئے نے کا انتظار نہ کرنا، اس وقت مدینہ منورہ آئیں کے لئے روانہ ہو جانا، اس لئے کہ مجھے ایک اہم ضرورت ہے آپ کے ہے اور اس میں آپ سے مشورہ لینا ہے اور اس کا مآ پ کے مشورہ کے بغیر میں پاسکتا، جب ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس خط کو پڑھا ہے تو فرمایا کہ امیر المومنین ایک ایسے شخص کو زندہ رکھنا چاہتا ہے جس کی موت آگئی ہے پیکہ کر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خط کا جواب اس طرح
کہ حاکم امیر المومنین جس خطر ور ت کے لئے مجھے بلارہے ہیں میں اس کو معلوم کر لیا ہے تو خطر و رحاضر
ہوتا ہیں میں اس وقت مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار ہول مناسب نہیں ہے جتا ہول کرا پنی جان پچا کر
چل آول اور مسلمانوں کوموت کے منہ میں دیوال (نوبال آنے سے پہلے موت سے نچ سکتا نہ
پہال رہے سے مرتا ہول، اللہ تعالیٰ کا جوارادہ ہے وہ پورا ہوگر رہتا ہے اس لئے مجھے مسلمانوں کے
ساتھ ہی رہے دیکر) اور مجھے آنے کے لئے آپ جوتم دیے ہیں (وہ واقع میں قسم توہے نہیں،
صرف تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے) اس لئے مجھے اس کی پابندی سے معاف فرمایے، جب پرخط
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپ پ (خط دیکھ) کرو نے گی (آپ کوروتے ہوئے دیکھ کر) لوگوں
نے عرض کیا: امیر المومنین آپ رورہے ہیں کیا حضرت ابو عبیدہ کا انقال ہوگیا ہے تو حضرت عمر رضی
اللہ عنہ ارشاد فرماتے: نہیں، انقال تو نہیں ہوا گر ان کے طرز تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انقال ہو نے
والا ہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو تقل مکان کروارہے تھا اس سے
معلوم ہوا کر اعتقاد کے ساتھ طاعون میں تقل مکان کرنا جائز ہے باوجود اعتقاد کے اگر طاعون
میں تقل مکان کرنا جائز نہ ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو برگز نہ بلاتے،
اس کی تائیاس خط سے بھی ہوتی ہے جؤاس خط سے پہلے حضرت ابو عبیدہ کو لکھا گیا تھا کر فون میں
صحابہ کرام میں ان کا اعتقاد تو پیمانہ وسکتا کر تقل مکان کرنے سے طاعون میں بتلا ہو نے سے نچ
جا میں گے، سب صحابہ کرام کا پر اعتقاد تھا کہ جو پکھہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتا ہے تقل
مکان کرنے کو اس میں پیمانہ خل نہیں اس لئے) حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا جاتا ہے کہ اردن
ایک پست شیخ مقام ہے و بال کی آب وہوا اچھی نہیں ہے، اس لئے سب فوج کو و بال سے ہٹا کر
مقام جابی میں لے جا کر وہ بلند مقام ہے و بال کی آب وہوا بہت اچھی ہے، حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یقین مان ویکر مجھے سے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی
فرماتے: حضرت امیر المومنین کے حکم کی تقلیل کر کے یہاں تمام فوج کو فتنقل کر کے جابی لے جانے کا
انظام کرو تو حضرت ابو عبیدہ کو فون کے میں آپ کے حکم کی ضرورت کرتا گر میرے گھر میں خود طاعون
ہوگیا ہے میں خود پریشان ہول، اتنا بر ا انظام (اس وقت) مجھے سے نہیں ہوسکتا، پیس کر حضرت
ابو عبیدہ خود انظام کرنے کا ارادہ کے اور سوار ہو نے گی اور لوگ مجھی جابی کی طرف کوچ کرنے گی،
ایسے میں حضرت ابو عبیدہ کو طاعون ہوگیا، اور طاعون میں ان کا انقال ہوگیا، اور ادھر طاعون مجھی
ختم ہوگیا۔ (اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنه، پہلے خلافت میں کچھ اعتقاد کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کو جائز قرار دیتے تھے۔ اس کی روایت امام طحاوی نے لکھی ہے۔
Tariq ibn Shihab (may Allah be pleased with him) narrated: "We were conversing with Abu Musa al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) when one day he said to us: 'Do not feel obliged to hide anything from me, for the plague has struck my family. Whoever among you wishes to avoid it may do so, but beware of two things: Do not let anyone say, "Someone left and was saved, while someone stayed and was afflicted. If I had left, I would have been saved like so-and-so," or "If I had stayed, I would have been afflicted like so-and-so." I will tell you what people should do regarding the plague. I was with Abu Ubaidah (may Allah be pleased with him) when the plague struck Syria. Umar (may Allah be pleased with him) wrote to him: "If this letter reaches you in the evening, do not wait until morning; ride to me immediately, for I have a need for you that I cannot do without." When Abu Ubaidah read the letter, he said: "The Commander of the Faithful wants to save someone who is not destined to live." He wrote back to Umar: "I am among a group of Muslims, and I will not flee from death or destiny. I will not prioritize myself over them. I understand the need of the Commander of the Faithful, so release me from your command." When Umar received the letter, he wept. Someone said to him: "Has Abu Ubaidah died?" He said: "No." Umar had written to him: "The Jordan Valley is a deep and unhealthy land, while al-Jabiyah is a pleasant land. Move the Muslims to al-Jabiyah." (1) Abu Ubaidah said to me: "Go and prepare a place for the Muslims." I said: "I cannot." He then went to ride and said to me: "Prepare the people's mounts." He was struck by the plague and died, and the plague subsided" [Narrated by al-Tahawi]
In a version by Ibn Asakir: "Umar had written to him: 'The Jordan Valley is a deep and unhealthy land, while al-Jabiyah is a pleasant land. Move the Muhajireen there.' When Abu Ubaidah read the letter, he said: 'We hear and obey the command of the Commander of the Faithful.' He ordered me to ride and prepare places for the people. My wife was struck by the plague, so I went to Abu Ubaidah. He went to prepare places for the people but was struck by the plague and died, and the plague subsided."
Sufyan ibn Uyaynah narrated a similar but shorter version in his collection.
The author of al-Durr al-Mukhtar said in various issues: "If someone leaves a town afflicted by the plague, knowing that everything is by the decree of Allah, there is no harm in leaving or entering. However, if he believes that leaving will save him and entering will afflict him, it is disliked for him to do so. He should neither enter nor leave to protect his belief. This is the understanding of the prohibition in the noble Hadith."
(1) The statement: "Move the Muslims…" in Sharh Ma'ani al-Athar: "Umar (may Allah be pleased with him) commanded the people to leave the plague, and the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) agreed with him. Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ) something that supports this view."
The author of al-Durr al-Mukhtar said in various issues: "If someone leaves a town afflicted by the plague, knowing that everything is by the decree of Allah, there is no harm in leaving or entering. However, if he believes that leaving will save him and entering will afflict him, it is disliked for him to do so. He should neither enter nor leave to protect his belief. This is the understanding of the prohibition in the noble Hadith."
The author of al-Ashbah wa al-Naza'ir said: "In al-Bazzaziyyah: If the earth shakes and someone is in their home, it is recommended for them to flee to the open land, based on Allah's saying: 'And do not throw yourselves into destruction' (Qur'an 2:195). It is said: Fleeing from what one cannot bear is from the practices of the prophets." This indicates the permissibility of fleeing from the plague if it strikes a town.
From this narration, it is understood that Hazrat Umar (RA) initially considered relocation during a plague permissible with some belief. This narration has been recorded by Imam Tahawi.
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو جؤاس وقت شام کی فوج کے سپہ سالار کے طرح کہ کر (فوج میں اکثر صحابہ کرام ہیں، ان کا اعتقاد تو بھی بہوسلا کے طاعون میں نقل مکان کرنے سے طاعون میں بہتلا ہوتے نہیں جانیں گے، سب صحابہ کرام کا ایا اعتقاد تھا کہ جو پڑھے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتا ہے، نقل مکان کرنے کواس میں پڑھا خلل نہیں، اس لے اردن میں طاعون چھیل گیا ہے اور اردن ایک وبا کی اور شدید زیادہ ہے، وہاں کی آب وہوا اچھی نہیں ہے اس کے برخلاف جابیہ بلند مقام پر جہال کی آب وہوا بہت اچھی ہے اس لے سے فوج کو اردن سے ہٹا کر جابیہ میں لے جاؤ، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کو پر طے کر فرمایا کہ: تمام امیر المومنین کے فرمان کی تعمیل کر کے جابیہ کی طرف فوج کو لے جائے ہیں، ابو موی تم فوج کو لے کر جابیہ کی طرف چلوا اور ان کو بال اطار کے انتظام کرو، ابو موی کہتا ہیں کہ ایسے میں میری پیوی طاعون میں بہتلا ہوگئیں، میں نے حضرت ابو عبیدہ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس واقعہ کی اطلاع دی (اور اپنی مجبو ری کا اظہار کیا) تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ خود فوج کو جابیہ لے جانے کا انتظام کرنے کا ارادہ کیا (ان کا ارادہ پورا نہ ہوا) خود حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ طاعون میں بہتلا ہوکر انتقال فرما گے اور اس طرح طاعون میں ختم ہوگیا۔
At the time of the evening, appoint Abu Ubaydah (RA) as the commander of the army. Most of the Companions are in this army, and they believe that those who remain in the plague of Busra will not be spared. All the Companions believe that whatever happens is by the will of Allah, and moving does not change what is decreed. The plague has struck Jordan, and it is a severe and intense place; its climate is not good. In contrast, Jabiya is at a high elevation with a very good climate. Therefore, remove the army from Jordan and take them to Jabiya. Abu Ubaydah (RA) accepted the command of Amir al-Mu'minin (RA) and decided to take the army to Jabiya. He said to Abu Mawiyah: 'Take the army to Jabiya and manage their affairs.' Abu Mawiyah said: 'I was struck by the plague, and I informed Abu Ubaydah (RA) about the situation and expressed my helplessness. Then Abu Ubaydah (RA) intended to take the army to Jabiya himself, but his intention was not fulfilled, as he was struck by the plague and passed away due to it, and thus the plague ended.'
روایت کی ہے میں وہ ابن عسا کر کی روایت کے پنبت مختصر میں اور ثریح معانی الہا ثار میں یہ مذکور ہے کہ پی حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں کہ جھولو نے صحابہ کرام کو یہ حکم دیا کہ وہ طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر دوسرے مقام میں نقل ہو جا یں اور وبا کی اس وقت کیثر تعداد میں صحابہ کرام موجود تھے اور کسی صحابی نے پی آپ کے حکم کے خلاف نہیں کیا بلکہ سب نے اس کی موافقت فرمائی اور ایا مبارک زمانہ تھا کہ صحابہ اللہ ورسول اللہ کے حکم کے خلاف ہوتے ہوئے نہیں دکیل سکتے تھے فوراً اعتراض کردیتے تھے تمام صحابہ نے بغیر اعتراض کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کو مان لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طاعون میں نقل مقام کرنے کا حکم اللہ ورسول کے
حکم کے خلاف نہیں تھا۔
اور تشریح معنی الّا ثار میں کہا ہے کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی تھی، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طاعون زدو مقام سے
ہٹ کر نقل مقام کرنے کے حکم سے موافقت کرتی ہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ
کا طاعون زدو مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے
بھی ثابت ہے اس لئے صاحب درمتار نے مسائل شقی میں مجمع الفتاوی کے حوالے کیا ہے، جب
کسی شخص کا یقین عقیدہ ہو کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اردگے ہوتی ہے طاعون زدو مقام سے نقل کو نہ
جانے میں اور طاعون زدو مقام میں جانے کو مرجان میں کوئی خطر نہیں ہے، جب تک اللہ تعالیٰ نے
چاہیں نکونی مرسلتا ہے اور نکونی نہ سکتا ہے ایسا تو عقیدہ رکھنے والا طاعون زدو مقام سے نقل کر نقل
مقام کرے، پا طاعون زدو مقام میں داخل ہوتا اس کے لئے کوئی مضا قہ نہیں، ایسے شخص کو طاعون
زدو مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے، برخلاف اس کے اگر کسی شخص کا یر خیال ہے کہ طاعون زدو
مقام میں جانے سے طاعون میں مبتلا ہوجائے گا، یا وہ بھیتا ہے کہ طاعون زدو مقام سے نقل جانے
میں طاعون سے محفوظ رہے گا تو اس کا یر عقیدہ غلط ہے اور جس کا ایسا عقیدہ ہے اس کو چاہئے کہ اپنا
عقیدہ درست رکھنے کی خاطر نہ طاعون زدو مقام سے نقل اور نہ طاعون زدو مقام میں جائے، اور
جس حدیث شریف میں طاعون زدو مقام سے نقل مقام کرنے کی ممانعت آئی ہے وہ ممانعت بھی
ندکورہ عقیدہ رکھنے والوں سے ہی متعلق ہے اور جن کا یر عقیدہ ہو کہ طاعون زدو مقام سے نقل جانے
کی وجہ سے نہ جائے گا تو ایسے غلط عقیدہ رکھنے والے شخص کو طاعون زدو مقام سے نقل
ہے۔ (درمتار کی عبارت یہال ختم ہوتی ہے۔) ندکورہ تھا عقیدہ رکھنے والے کو طاعون زدو مقام سے نقل
مکان کرنا جائز ہو نے کی تفسیر الاشباہ والنظائر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے اس کو الاشباہ والنظائر
نقل کی ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر میں ہوا اوراس وقت زلزلہ کے آثار ظاہر ہو رہے ہوں
تو ایسے شخص کے لئے مستحب یہ کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے فوری کہ میدان کی طرف بھاگے
جا ئے، اللہ تعالیٰ کا بھی ایسے ارشاد ہے: "وَلا تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَى التَّهْلُکَةِ" (سورۃ
بقرہ، ب:2، ع:24، آیت نمبر:195) لیکن تم اپنی جانول کو بلا کے میں مرت ہو، جہاں تک
ہوسکے اپنی جانول کو بلا کے سے پچا کرو، اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ زلزلہ کے وقت کہل
میدان کی طرف نکل جانا، اور طاعون زدہ مقام سے تج اعتماد کر تقلی مقام کرنا جائز ہے، ورنے لازم آئے گا کہ زنزلہ سے بجاگ کراورطاعون زدہ مقام سے تقلی مقام نہ کر کے اپنے ہاتھوں سے خود کو بلا کرت میں تو لا جوصرت آئیت کے خلاف ہے، اس لیے تج اعتماد کے ساتھ طاعون زدہ مقام سے تقلی مقام کرنا جائز ہے اور بلا کرت کے موقعون سے اپنے کو بجانا چگھبرول کی سنت ہے۔ (لا شباہ والنظارت کی عبارت یہاں ختم ہوتی۔)
Allah's Messenger (ﷺ) commanded the noble Companions that they should move from the plague-stricken area to another place, and at that time, a large number of the noble Companions were present. None of the Companions disobeyed the command of Allah's Messenger (ﷺ); rather, all of them agreed with it. It was a blessed era when the Companions could not act in opposition to the command of Allah and His Messenger (ﷺ) without immediately objecting. All the Companions accepted the command of Allah's Messenger (ﷺ) without any objection. This shows that the command of Allah's Messenger (ﷺ) to move from the plague-stricken area was not contrary to the command of Allah and His Messenger (ﷺ).
In the explanation of the meaning 'illa thaar', it is stated that Abdur Rahman bin Auf (RA) narrated a hadith from the Messenger of Allah (peace be upon him and his progeny) which aligns with the command of Umar (RA) to leave a plague-stricken place. This indicates that Umar's (RA) command to leave a plague-stricken place is also substantiated by the hadith of the Messenger of Allah (peace be upon him and his progeny). Therefore, the author of Durr al-Mukhtar has referred to Masa'il Shakki in Majma' al-Fatawa, stating that if a person firmly believes that everything happens by the will of Allah, then there is no harm in leaving a plague-stricken place or staying in it, as long as Allah does not decree death or life. If someone holds this belief, they should leave the plague-stricken place and move elsewhere, and there is no sin in entering a plague-stricken place for such a person. It is permissible for such a person to leave a plague-stricken place. Conversely, if someone thinks that going to a plague-stricken place will cause them to contract the plague, or they believe that leaving the plague-stricken place will protect them from the plague, then their belief is incorrect. Such a person should neither leave the plague-stricken place nor go there to correct their belief. The hadith that prohibits leaving a plague-stricken place pertains to those who hold incorrect beliefs, such as thinking that they will not contract the plague if they leave the place. (The statement of Durr al-Mukhtar ends here.) The interpretation that it is permissible for those who hold incorrect beliefs to leave a plague-stricken place is derived from this narration in Al-Ashbah wa al-Nazair. It is narrated in Al-Ashbah wa al-Nazair that if a person is in their house and the effects of an earthquake are evident, it is recommended for them to run to an open field to save their life. Allah also guides: 'And do not throw yourselves into destruction' (Surah al-Baqarah, 2:195). However, you should not throw yourself into destruction; rather, avoid it as much as possible. This verse confirms that it is permissible to leave a plague-stricken place with trust in Allah, just as it is permissible to leave a place during an earthquake. Otherwise, it would contradict the verse if one were to remain in a plague-stricken place without moving to a safe place. Therefore, leaving a plague-stricken place with trust in Allah is permissible, and saving oneself from a situation of destruction is in accordance with the Sunnah. (The statement of Al-Ashbah wa al-Nazair ends here.)