اس باب میں ہواوں کا بیان ہے۔ بعض ہواوں جو عذاب کا ذریعہ ہوتی ہیں، اب کچھ خوف
سے کہ کچھ یعنی عذاب کا ذریعہ نہیں بلکہ اور بعض ہواوں رحمت کا ذریعہ ہوتی ہیں اور اب کچھ عموماً
رحمت کا ذریعہ ہونی رہتی ہیں)۔ وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ‘‘إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحاً
صَرْصَراً’’ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ قمر، پ:27، غ:1، آیت نمبر:19، میں)، ہم نے قوم
عاد پر ایک زٹا لے کی آندھی چلائی (جو ان پر عذاب کا ذریعہ ہوئی)۔ وَقَوْلُهُ: ‘‘وَفِى عَادٍ إِذْ
أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيمَ ’’اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ زاریات، پ:27،
غ:2، آیت نمبر:41، میں) اور ہم قوم عاد پر ایک آندھی بھیجے جس سے بر باہری، بر بادی ہیں، اس
میں کوئی نفع نہیں (جو ان پر عذاب کا ذریعہ ہیں) وَقَوْلُهُ: ‘‘وَأَرْسَلْنَا الرِّيْحَ لَوَاقِحَ’’ اور اللہ تعالیٰ کا
ارشاد ہے: (سورۃ حجر، پ:14، غ:2، آیت نمبر:22، میں) اور ہم ہی ہواوں کو چلاتے ہیں جو
پائی سے محرومان ہوئے بالوں کو لاٹی ہیں (جبکہ رحمت کا ذریعہ نہیں ہیں۔)
وَقَوْلُہُ: ‘‘وَمِنْ ایتِهِ اَنْ يُرْسِلَ الرِّیاحَ مُبَشِّرَاتِ’’ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۃ روم
پ:21، غ:5، آیت نمبر:46، میں) اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہی ہے کہ
پہلے ہواوں کو بھیجے ہیں جو میں آنے کی خوشخبری سناٹی ہیں (پھر بارش برساتے ہیں پیاڑوں میں بھی
رحمت کا ذریعہ ہیں۔)
تمہیں
مدینہ شریف میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دو قبیلے تھے جن میں سے ایک بنو ظفر تھے، بنو ظفر کے چوطرف
سے کفار کو اجتماع کر بارہ ہزار فوج لے کر مدینہ شریف پر حملہ کے اور مسلمان صرف تین ہزار تھے رسول
اللہ تعالیٰ وآ لہ وسلم اس موقع پر مدینہ شریف کے اطراف خندق کھود دیے جتا کر کفار کی آمد کو رکو تو جائے، کفار کا محاصرہ تحت تحاولے بھجڑے تو جا کر ہماری فتح کے ایک معنی تک کفار محاصرہ کے بعد تو جا، ایک رات اللہ تعالیٰ کی جانب سے صبا جومشرق کی طرف سے چلتی رہتی تھی، مسلما نوں کی مدد کے لئے بھی گئی، اس وقت کفار کے لشکر کی کیا حال تھی کہ میں خیمہ اکثر گئے، گھوڑے چھوت گئے، کنگرا اور مٹی کفار کے چہروں کو مار رہی تھی، باذریان الہ کعبین سارا الشکر بر باد ہو گیا، کفار کے دولہ پر ایسا رعب طاری ہوا وہ بھجرہ تو جا اب نہم بلاک ہو تو جا تے ہیں، ابوسفیان جو، اس وقت کفار کی فوج کے سپہ سالار تو جو پیلے بجاگ کے گے اور ان کے پیچھے سارا الشکر عجیب پر ثانی کے ساتھ مجھاگ کر راہو، میرا نخالی ہو گیا۔
باذصبات حضور کی مدد کی گئی
This chapter discusses various winds. Some winds serve as means of punishment, while others are sources of fear but not necessarily punishment. Some winds are means of mercy, and some generally remain as means of mercy. And Allah, the Exalted, says: 'Indeed, We sent upon them a cold wind' (Surah Qamar, Vol. 27, Part 1, Verse 19), meaning We sent a harsh wind upon the people of 'Ad, which served as a means of punishment. And His statement: 'And in 'Ad, when We sent against them the barren wind' (Surah Zaariyat, Vol. 27, Part 2, Verse 41) means We sent a wind upon the people of 'Ad that was sterile and destructive, bringing no benefit, serving as a means of punishment. And His statement: 'And We sent fertilizing winds' (Surah Hijr, Vol. 14, Part 2, Verse 22) means We send winds that carry pollen to plants that would otherwise be barren (though these are not means of mercy). And His statement: 'And among His signs is that He sends the winds as bringers of good news' (Surah Rum, Vol. 21, Part 5, Verse 46) means one of the signs of Allah's power is that He sends winds that herald the coming of rain, which is a means of mercy.
May Allah the Exalted and His peace be upon Him. On this occasion, trenches were dug around the blessed city of Medina to halt the advance of the disbelievers. When the siege by the disbelievers was thwarted, it led to one of the meanings of our victory. After the siege, one night, a strong wind from the east, sent by Allah the Exalted, blew continuously, aiding the Muslims. At that time, the state of the disbelievers' army was such that their tents were uprooted, horses were set loose, and gravel and dust were striking their faces. The entire army of the disbelievers was scattered, and such fear overcame them that they fled in disarray. Abu Sufyan, who was the commander of the disbelievers' army, woke up early and, along with his men, fled in a state of panic, saying, 'My heart is broken.' Thus, by the unseen help of the Prophet (peace be upon him), the assistance was rendered.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ (غزوہ خندق میں اس موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے باذصبات ذریعہ تمیری مدد فرماتا (جو مسلما نوں کے لئے ذریعہ رحمت بنی جیے ) قوم عاد کے لئے (دبور جومغرب کی طرف سے چجل رہی تھی ) تباہی اور بر بادی کا ذریعہ بنی اس کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقق طور پر کی ہے۔
ابراور تیز ہوا کو لیکر حضور پرخوف طاری ہو جاتا تھا
پہلی حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I was aided by the east wind, and the people of 'Ad were destroyed by the west wind." [Agreed upon]
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقة رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قہقهہ مانگرا وا زستے کحل کھلا کر پشتے ہوئے نہیں دیکھی کر جس سے آپ کی پرچمپ دکھائی دیتی ہو (البتہ میں بعض مواقع پر زیادہ سے زیادہ حضور اتنا پشتے ہیں کہ آپ کی کوچیان نظر آ جاتی تھیں ) عموماً آپ مسكر ایا کرتے تھا اور جب ابرا احتا تھا یا تمیز
ہوا کسی چلتی چیز تو آپ پر کے چھڑے مبارک پر خوف کے آثار ظاہر ہو جائے تو (آپ کے سامنے پہلی قوموں کے حالات پر نظر ہو جائے تو بعض قوموں پر اٹھاتے وہ خوش ہو رہے تھے کے اس سے بارش برستے گی۔ جب کہ بارش کے عذاب نازل ہوا، جب کہ یہ تیرہ ہوا کیسی چلتی چیز تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ان قوموں کی حالات پر نظر ہوجاتی تھی، جتن پر ہوا اول سے عذاب آیا تھا، اللہ کا جلال اور عظمت پر نظر ہوتی تھی، کیا معلوم کہ پرابراور ہوائے کمین عذاب کا ذریعہ نہ ہوجائے، اس لئے آپ پر خوف طاری ہوتا تھا، مسلماں! مقدس اور معصوم نبی کی پیحالات ہوتی تھی تو تم غنہگاروں کو کس قدر خوف ہونا چاہیے، ہماری پیب فقری اور اطمینان غفلت کا نتیجہ ہے جو اچھا نہیں ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔
دوسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) laugh so heartily that his uvula could be seen. He would only smile." She added: "Whenever he saw clouds or wind, a change could be noticed on his face." [Agreed upon]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کہ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیارشا د فرما تے سناء کہ ہواء بالذات نہ راحت کا سبب ہے نہ عذاب کا بلکہ ) ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے (اللہ تعالیٰ جو حکم دیتے ہیں اس کی تکمل کرتے ہے اگر راحت کا حکم دیتے ہیں تو) راحت پہنچاتی ہے اور (اگر عذاب کا حکم دیتے ہیں تو) عذاب کا ذریعہ پہنچتے ہے (اس لے اگر ہواء سے تم کو نقصان پہنچتا اس کو برا بجلانہ کہو (ہواء کوبرابولنے کی بجائے) اللہ تعالیٰ سے
دعاوں اس کی روایت امام شافعی، البوداوود، اور ابن ماجہ نے کی ہے۔ اور بھی کچھ اس کی روایت
دعوات کبیر میں کی ہے۔
بلاسباب کسی پر لعن کہیں تو وہ لعنت کچھ وا لے پڑتی ہے
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مجیحا ہوا تھا اس کو ہواے سے پکھا تکلیف ہوتی تو اس نے ) ہواے پر
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The wind is from the mercy of Allah. It brings mercy and punishment. So do not curse it, but ask Allah for its good, and seek refuge in Him from its evil.'" [Narrated by Al-Shafi'i, Abu Dawud, Ibn Majah, and Al-Bayhaqi in Al-Da'awat Al-Kabir]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ
لعن کچھی، تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے دیکھو! ہواے پر لعن کہیں کیا کرنا (ہواے کا
کیا قصور ہے ) ہواے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تائے ہے، جو حکم اس کو ہوتا اس کی تقبل کرتی ہے (پونچھی
سو پھوٹو کوئی چیز لعن کی مستحق تین وجہ سے ہوتی ہے: کفر کی وجہ سے، یا بدعت کی وجہ سے یفسق
و فجور کی وجہ سے - یہ تینول چیزیں ہواے میں نہیں ہیں، پھر ہوا پر لعن کیسے ہے ہوسکتا ہے؟) یاد رکھو کہ
اگر کوئی شخص ایسی چیز پر لعن کرتا ہے جو لعن کی مستحق نہیں تو وہ لعن خود اس لعن کرنے والے پر
لوٹ جاتی ہے۔ (اس لے کسی پر لعن کریں تو سونچہ مجھ کر لعن کیا کریں، بہتر تو یہ ہے کہ لعن کر
کے نہیں کی عادت، یا نہ رکھے ہو رہے خود پر لعن لوٹ آئے گی۔) اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
آنہی سے تکلیف ہوتی ہے اے کر نہیں چاہئے
پہلی حدیث
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that a man cursed the wind in the presence of the Prophet (ﷺ), so he said: "Do not curse the wind, for it is commanded. Whoever curses something that does not deserve it, the curse will return to him." [Narrated by Al-Tirmidhi]
ثو (اللّٰه تعالیٰ کی طرف رجوع کرو، اور بھت عاجزی ہے) اللّٰہ تعالیٰ سے دعاے ماگلو۔
اللّٰهمَّ اَنا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّیْحِ وَخَیْرِ مَا فِیْها وَخَیْرِ مَا أُمِرْتُ بِهِ وَنَعُوذُ
بِکَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّیْحِ وَشَرِّ مَا فِیْها وَشَرِّ مَا أُمِرْتُ بِہِ۔
ابي بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ( لوگوں کی عادت ہے جب ہواے سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہواے کو
سخت ست کہا کرتے ہیں مسلماں اوسنو! کچھی ) ہواے کو بران کہنا ( اس میں ہواے کا کیا قصور ہے، ہواے تو اللہ
تعالیٰ کے حکم کے تائے ہے، جو حکم ہوتا ہے اس کی تقبل کرتی ہے ) اگر تم ہواے سے کوئی ناگوار بات دیکھو
اہی! تم آپ ہی کے عاجز بندے ہیں! تم کواس کوآٹے خیر پینچا یے (ہرچیز میں خیر وثرہ ہوا
کرتے ہیں) اس میں جو خیر ہے تم کو وہ پینچا یے،اوراگراس کوآکسی شر کا حکم دیا گیا ہے تو اس کو خیر
کا حکم بنائے اور خیر ہی پینچا یے،(اہی! تم آپ کی پناہ میں آئے ہیں،اس چلتی ہوا کے شر کے
ہمیں پچا یے،اگراس کوآکسی شر کا حکم دیا گیا ہے تو آپ قادر ہیں،اس شر کو خیر کے بدلا کی
قدرت رکھتے ہیں،تم کو خیر ہی پینچا یے – اس کی روایت تنزی ن کی ہے–
دوسری حدیث
Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not curse the wind. When you see something you dislike, say: 'O Allah, we ask You for the good of this wind, the good of what it contains, and the good of what it is commanded to do. And we seek refuge in You from the evil of this wind, the evil of what it contains, and the evil of what it is commanded to do.'" [Narrated by Al-Tirmidhi]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،وہ فرماتے ہیں کہ مجھی آندی چلتی تور سول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (پرب حد خوف کی حالت طاری ہوجاتی ہی،اورخوف کی حالت امت کی تعلیم
کے لیے مجھی ہونی چاہیے کرتے ہیں تیز ہوا چلتی وقت ایسی،یہ خوف زدہ حالت بناوچیس کر میں واقعی خوف زدہ
ہو جا یا کرتا ہوتا _آندی اور تیز ہوا چلتی وقت حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت دیکھ کے قابل
ہوتی ہی،مجرو انکساری ظاہر کرنے کے لیے )دو زانو ہو کر پینچ جاتے ہیں اور کڑکڑا کر پیدا عار فما تے:
اللّٰهمَّ اجْعَلْها رَحْمةً وَّ لا تَجْعَلْها عَذَابًا۔ اللّٰهمَّ اجْعَلْها رِياحاً وَّ لا تَجْعَلْها رِیْحًا۔
اہی (آپ بری قدرت والے ہیں،اگرآپ اس آندی کو عذاب کا ذریعہ نہ بنا کر رحمت کا
ذریعہ بنا کیا تو کوئی آپ کورو کے والا نہیں ہے اس لیے تم عرض کرتے ہیں کہ) اس آندی سے
راحت اورآرام ہوا یے اوراس آندی سے تکفیف اورمصیبت نہ لائے–
اس کی روایت امام شافعی نے کی ہے اورتنقی نے مجھی اس کی روایت دعوات کبیر میں کی ہے–
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "Whenever a wind blew, the Prophet (ﷺ) would fall to his knees and say: 'O Allah, make it a mercy and do not make it a punishment. O Allah, make it gentle winds and do not make it a destructive wind.' Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: 'In the Book of Allah, it is mentioned: "Indeed, We sent upon them a screaming wind" (Qur'an 54:19), "When We sent upon them the barren wind" (Qur'an 51:41), "And We send the fertilizing winds" (Qur'an 15:22), and "And of His signs is that He sends the winds as bringers of good tidings" (Qur'an 30:46).'" [Narrated by Al-Shafi'i and Al-Bayhaqi in Al-Da'awat Al-Kabir]
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں
کہ جب کہی رسوئ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کے کنارے سے ابر اٹھتا دیکھتے تو (آپ پر ایسا
خوف طاری ہوتا تھا کہ) جو کام آپ اس وقت کر رہے ہوتے اس کو چھوڑ کر اپنی طرف متوجہ
ہوجاتے تھا اور اللہ تعالیٰ سے پرداعے کرتے تھے۔ اللہُمَّ اِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیهِ.
اے اللہ! (اور قومون پر آپ ابر کے ذریعہ عذاب بھی ہیں، اگراس ابر میں کچھ کوئی شربہ
تو) اس ابر کے شربے میں کوچھ ایسے
اگرا برہل جاتا تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے (کہ معلوم نہیں اس میں کیا شربہ ہے جس
سے اللہ تعالیٰ نے تم کو پچالیا) اور بارش ہوتی تو پرداعے کرتے: اللہُمَّ سُقِیَا نَافِعًا.
اے اللہ! (آپ برہل قدرت والے ہیں جس چیز سے ضرر ہے وہاں جا ہے جیسے سے ضرر
پہوچاتے ہیں، بعض قوموں کو بارش کی کثرت سے ضرر پہوچاتے ہیں، اے اللہ! تم پر جویبارش
ہو رہی ہے) اس کو سیراب اور سرسبز کرنے والی نفع رسان بنائے۔ اس کی روایت امام شافعی نے کی
ہے اور ابوداود، نسائی اور ابن ماجہ نے۔ جبکہ اس طرح روایت کی ہے۔
گرچہ اور کہ کے وقت کی دعا
پہلی حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Prophet (ﷺ) saw a cloud forming in the sky, he would stop what he was doing, face it, and say: 'O Allah, I seek refuge in You from the evil of what it contains.' If it cleared away, he would praise Allah, and if it rained, he would say: 'O Allah, make it a beneficial rain.'" [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa'i, Ibn Majah, and Al-Shafi'i, with the wording being that of Al-Shafi'i]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب کہی کبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجلي کی گرچہ اور گرنے والی مجلي کی طرح کرکے سنت تو پرداعے فرماتے:
اللہُمَّ لا تَقْتُلْنَا بَغْضَبِکَ وَلا تُهْلِکْنَا بَعْدَا بِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَالِکَ.
اے! تم آپ کے غضب سے پناہ مانگتے ہیں، بھضون کو مجلي سے بلاک کے ہیں، تم کو اپنے
غضبتے (بجلگرا کر قتل نہ کیے اور اس بجلی کو عذاب کا ذریعہ بنایا تم کو بلاک نہ کیے اور (اگر آپ کسی کو بجلی سے بلاک کرنا چاہتے ہیں تو) عذاب آنے سے پہلے تم کو عافیت کی موت دتی گئی۔
اس کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
دوسری حدیث
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) would say when he heard the sound of thunder and lightning: "O Allah, do not kill us with Your anger, and do not destroy us with Your punishment. Grant us safety before that." [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi]
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے کہ آپ کی پیعادت مبارکہ تھی کہ جب آپ پبلی کی کرکے سنتے (خوف زدہ ہوجاتے تھے اور) بات چیت چھوڑ دیتے تھے اور یہ دعاے پڑھتے تھے: سُبْحَانَ الَّذِی یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَ الْمَلَائِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِهِ - اللہ تعالی تمام عیبون سے پاک ہیں، رعد (نامی فرشتہ جو بالون پر مقرر کیا گیا ہے) وہ اللہ تعالی کی حمد کرتا ہے اور نج اور تقزیس بیان کرتا ہے (بالون سے جو بیت ناک آواز آتی ہے وہ اسی فرشتہ کی تشیح اور تحمید کی آواز ہے، اس سے اللہ تعالی کی بیت اور اس کا جلال تمام فرشتوں پر طاری ہوجاتا ہے کہ) سب فرشتہ مجھی اللہ تعالی کی (بیت اور جلال کی مجھ سے سب کے سب) حمد و ثناء اور نج کرنے لگتے ہیں۔ اس کی روایت امام ماک نے کی ہے۔
ف: مرقات میں کہا ہے کہ بالون کی گرنے اور بجلی کی کرکے کے وقت جواس دعا کو پڑھنا اللہ تعالی اس کو بجلی کرنے کے ضرورے محفوظ رکھیں گے۔ 12 غیب کے خزاں پانچ ہیں جن میں بارش کا علم بھی ہے
Abdullah ibn Al-Zubayr (may Allah be pleased with him) narrated that whenever he heard thunder, he would stop speaking and say: "Glory be to Him whom the thunder glorifies with His praise, and so do the angels out of fear of Him" (Qur'an 13:13). [Narrated by Malik]
وَيَعْلَمُ مَا فِي
الْأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ " مَا ذَا تُكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ " بَأَىِّ أَرْضٍ
تَمُوتُ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے ہیں کہ (یون تو غیب کی اور مجھی چیزیں ہیں جن کو اللہ تعالی نے جانتے ہیں مگر) غیب کی اہم چیزیں پانچ ہیں انمیں اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا (بعل اللہ تعالی نے کسی کو واقف کرنا ہیں تو وہ اور بات ہے) پھر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ان پانچ چیزوں کی تفسیر فرما نے کے
بے شک اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے کہ قیامت کب آئے گی اور اللہ تعالیٰ ہی (ایک وقت مقرر پر
جس کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا) بارش بر ساتھ ہیں اور (نزو مادہ) جو پچھا ماول کے پیٹ میں ہیں
اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں (اور کوئی اس کو نہیں جانتا) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ خود کل کیا عمل
کرے گا (اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سرز میں میں مرے گا
(اس کا بھی علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے) اور (انہی چیزوں کی کیا تخصیص ہے جتنی غیب کی باتیں ہیں)
پیشک اللہ تعالیٰ ہی ان کے جانے والے اوران سے باختر پیں اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The keys of the unseen are five," and then he recited: "Indeed, Allah [alone] has knowledge of the Hour and sends down the rain" (Qur'an 31:34). [Narrated by Al-Bukhari]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما کے پین (تم سکھتے ہو کہ بارش نہ ہونے سے قحط ہوجاتا ہے ایسا کچھ ہے گر)
برا قحط پیہ کہ بارش تو خوب ہو (اور تم کو خوشحالی کی امید کچھ ہوگی ہو پچھا کچھ کثرت بارش کی وجہ
سے) زمین پچھا نا گا کے پیہت برا قحط ہے (اس لئے کہ ساری امید ول پر پانی پچھا جاتا ہے اور قحط
کا سامنا ہوجاتا ہے) اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
قطعه تاریخ
طباعت کتاب نور المصابیح جزسوم ترجمہ زجاجۃ المصابیح تالیف لطیف حضرت مولا ناو مرشدنا البواحسنات سید عبد اللہ شاہ صاحب نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ (یقطعه تاریخ تمکیل ترجمہ کے بعد عرض کیا گیا تھا حضرت قبل نے سماعت فرمائی تھا)
شاہ عبد اللہ صاحب یعنی قطب زمان، ان کے حسنات کا ہو سکے کیا بیال لاول مدحت کے قابل کہان سے نبال، گرچہ ارمان توصیف و تندتگ ہے عالم باعل عابر بل ریا، آپ یعنی مرد شلیم و صبر و رضا خلق احسن سے ظاہر ہے صدق و صفا، روح النور سے باطن کی توہین ہے اس دکن میں میں ان کا ثانی کہان، آپ یعنی باعث فخر ہندوستان عارفین ساکیین زاہدین عاکفین، کوئی ہول سب پر حضرت کو ترنج ہے عمل و اذکرو اللہ ذکرا پنجی، سجدا بگڑہ و اصیلا پنجی لااللہ جی اللہ اللہ جی، شغل، یا ان کا تملیل و تنج ہے جلد اول زجاجہ کا، یا ترجمہ، جزو اول و ثانی میں شائع ہوا تیرا جز و نور المصابح جی، چند الباب کی اس کے تشریح ہے صاف شستہ سے آسان اردو نبال، عام فهم اور وچپ طرز بیال فقہ کا اک کامل رسالہ ہنا، ترجمہ ایسا ہے ایسی تقریح ہے فقر تاریخ گولی میں تھا خسرودا، باتف غیب نے دی یہ میں کو ندا شاہ عبد اللہ نے کروا ہے طبع، کہہ تیرا جزو نور المصابح ہے
ء
گزرانیدہ: خادم طریقت محمد عبد القادر خان علوی المخلص خسرودا بن حضرت محمد عبد الغفور خال صاحب نامی مرحم (وظیفہ یاب ناظم پایگاه)
حضرت مولف علام رحمۃ اللہ علیہ کے دیگر قابل و بیتا لیفات
(1) غزراولیاء
(2) علاج الساکین
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A year is not considered a drought because of no rain, but a drought is when rain falls but the earth does not produce anything." [Narrated by Muslim]