یہ باب قربانی کے بیان میں ہے
وقول الله عز وجل فصل لربك وانحر والله تعالي كاشاده سوره كوثر
پ٢0، آیت نمبر:2 میں) (قربانی سے پہلے) نماز عید پڑھ لو اور (نماز عید کے بعد) قربانی کرو
(اگر نماز عید سے پہلے قربانی کرو گے تو اس سے قربانی اداء نہ ہوگی پھر تم کودوبارہ قربانی کرنا ہوگا اس
لے اللہ تعالی پہلے "فَصَلِ" فرما ہے جس لیے نماز عید پڑھو، پھر "وَانْحَرْ" فرما ہے جس لیے نماز عید
کے بعد قربانی کرو اس آیت میں نماز عید کا اور قربانی کا حکم امر کے صیغون سے ہوا ہے اور امر کا صیغہ
عموماً جواب کے لئے ہوتا ہے اس لئے نماز عید اور قربانی واجب ہے۔)
وَقَوْلُہُ تَعَالَی: "وَمَن يُعَظِّمُ شَعَآءِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ" اور اللہ تعالی کا
ارشاد ہے (سورۃ الحج پ17 ع12، آیت نمبر:32 میں) جو چیزیں اللہ تعالی کے نام سے نامزد ہیں
اور دین اسلام میں اللہ تعالی کے لئے خاص طور پر کے جاتے ہیں (جسے قربانی تو قربانی کے لئے) جو
اس طرح کا ادب لازم ظاہر کے، (کہ قربانی میں عیب دار جانور کو ذبح نہ کرے تاہے و سالم جانور کی قربانی
کرے) تو سمجھا جائے گا اس کے دل میں اللہ تعالی کا خوف ہے (جو تاہے و سالم قربانی کے لئے اس کو
آمادہ کیا ہے تو اللہ تعالی ایسے شخص سے راضی ہو لے گے اور اس کی قربانی قبول فرما لے گے)
(تفسیرات احمدی)12
In Surah Al-Hajj, verse number 2, it is stated: 'Pray the Eid prayer before the sacrifice, and perform the sacrifice after the Eid prayer.' (If you perform the sacrifice before the Eid prayer, your sacrifice will not be valid, and you will have to perform the sacrifice again.) Therefore, Allah Almighty first says 'Fasalli' (pray), which is why you should pray the Eid prayer, and then He says 'Wanhur' (sacrifice), which is why you should perform the sacrifice after the Eid prayer. In this verse, both the command to pray the Eid prayer and the command to perform the sacrifice are given in the form of imperative sentences, and the imperative form generally indicates obligation, so the Eid prayer and the sacrifice are obligatory.
And His statement, exalted is He: 'And whoever honors the symbols of Allah, indeed, it is from the piety of hearts.' (Surah Al-Hajj, verse 32) This means that things designated in the name of Allah and specifically intended for Him in the religion of Islam (such as animals designated for sacrifice) require such respect (that one should not sacrifice a defective animal but should sacrifice a healthy and sound animal). It will be understood that such a person has fear of Allah in his heart (and if he prepares a healthy and sound animal for sacrifice, Allah will be pleased with him and accept his sacrifice). (Tafseer-e-Ahmedi)
قرَبَانِي کے جانور کو ذبح کرتے وقت بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَر کہنے کی تحقیق
اَنس رضی اللہ عنه تے روايت ہے و فرما تے ہیں کہ (عید الاضحی) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دومینذہ قربانی دے یردو مینذہ ابلق لیمن چتکبرے تے ان کا رنگ سفید
تھا اور بعض جگہ سیاہ رنگ کے ذہب تے اب دونوں کے سینگ مرے ہوئے تھے۔ (مثلاً خورد کیما کر حضور و الٰہ علیہ و آلہ وسلم اپنے دست مبارک سے بسم اللہ و اللہ اکبر کہ کر ان کوزنگ کربے تھے، حضرت انس فرماتے میں نے پیغمبر کیما کر حضور ان کے پہلوں پر قدم مبارک رکھ کر بسم اللہ و اللہ اکبر فرماتے ہوئے زنج فرماتے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ف(1): واشہوکہذنگ کے وقت "بسم اللہ و اللہ اکبر" واقع سات حقیقت میں کہنگی عادت ہے۔ اور بعض فقہاء کے قول سے معلوم ہوا کہ ذنگ کے وقت "بسم اللہ اللہ اکبر" لگیرواو کے کہنا چاہیے، اس کے متعلق تحقیق پیہ کر فقہاء میں اکثر فقہاء جیسے امام لقالی، علمہ بنی، علمہ انتقالی، صاحب الجمح، علمہ خیر الدین الی اور علماء ازازی وغیر کوتم نے بسم اللہ و اللہ اکبر واق کے سات حقیقت کہنگ کوتزنج دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ذنگ کے وقت "بسم اللہ و اللہ اکبر" واقع سات کہنا چاہیے لیکن تتها امام حلوا نی "بسم اللہ اللہ اکبر" لگیرواو کے کہنگ کوتزنج دیتے ہیں، اس لے متقد مین پر نظردا لے پیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سلف سے خلف تک سب کے پاس متداول اور متواتر لفظ "بسم اللہ و اللہ اکبر" واقع سات کہہ اس کی تائید احادیث سے جسی ہوتی ہے کہ احادیث میں جی "بسم اللہ و اللہ اکبر" واقع سات کہہ ہے، اور مرفوع احادیث میں مسلم، البودا ود، تنزی نسائی، ابن ماجه، طحاوي اور خصوص جی "بسم اللہ و اللہ اکبر" واقع سات کہہ روایت کے پیں حضرت علي اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جی "بسم اللہ و اللہ اکبر" واقع سات کہہ کے تقل پیں، اس لے مرقات میں کہہ کہ ذنگ کے وقت "بسم اللہ و اللہ اکبر" واقع سات کہہ کہنا او لی اورفضل ہے۔
ف(2): ایک ضروی مستند پیجمی یاد رکن کے قابل ہے کہ جانور کے ذنگ کرنے والوں میں ایک شرکیک ہوتا ہے اور ایک معین شریک مثلًا ذنگ کرنے والے کے باٹہ پر باٹہ رکتا ہے اور دونوں مل کر ذنگ کرنے پیں تو دونوں کو "بسم اللہ و اللہ اکبر" کہنا چاہیے۔ اور اگر دونوں میں سے ایک نے "بسم اللہ و اللہ اکبر" کہا اور دونوں راکہا تو جانور حلال ہوگا۔ اس لے دونوں کو ذنگ کے
وقت "بسم اللہ واللہ اکبر" کہنا چاہئ۔ بخلاف اس کے جوڑے کرنے والے کا معین ہے، مثلًا
کہرے کوگرا اپنے اوراس کو تھام کر زنگ کرنے والے کی مد کر رہا ہے تو اس مد کرنے والے کو "بسم
اللہ واللہ اکبر" کہنا ضروری نہیں ہے۔
قربانی کے لیے فربمیندے کا انتخاب کرنا فضل ہے
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed two white, horned rams. He slaughtered them with his own hand, recited Allah’s name, and said the takbir. I saw him placing his foot on their sides and saying, 'In the name of Allah, and Allah is the Greatest.'" [Agreed upon]
F(1): Saying 'Bismillah Allahu Akbar' at the time of slaughter is indeed a habit in reality. According to some jurists, it has been understood that one should say 'Bismillah Allahu Akbar' while performing the act of slaughter. Upon investigation, it is found that most jurists, such as Imam Laqali, Alama Bani, Alama Intiqali, Sahib al-Jamh, Alama Khairuddin, and Azazi scholars, have stated that 'Bismillah Allahu Akbar' should be said seven times during the act of slaughter. They say that at the time of slaughter, 'Bismillah Allahu Akbar' should be said seven times, but Imam Halwani says that 'Bismillah Allahu Akbar' should be recited continuously. If one looks at the views of the early scholars, it becomes clear that from the predecessors to the successors, everyone has consistently and repeatedly said 'Bismillah Allahu Akbar' seven times, which is supported by the Hadiths. In the Hadiths, it is mentioned that 'Bismillah Allahu Akbar' is said seven times, and in the elevated Hadiths, as narrated by Muslim, Al-Bukhari, Tirmidhi, Ibn Majah, Tahawi, and specifically by Hadhrat Ali and Hadhrat Ibn Abbas (RA), they used to say 'Bismillah Allahu Akbar' seven times. Therefore, it is said in the Merqat that saying 'Bismillah Allahu Akbar' seven times at the time of slaughter is commendable and virtuous.
F(2): There is a necessary and reliable point to remember: among those who perform the slaughter, there is one who is the actual slaughterer, and another specific partner, such as the one holding the animal, and both together perform the act of slaughter. Both should say 'Bismillah Allahu Akbar.' If one of them says 'Bismillah Allahu Akbar' and both complete the act, the animal is lawful. Therefore, both should say 'Bismillah Allahu Akbar' at the time of slaughter. Conversely, if one is assisting, such as holding the rope and helping the slaughterer, it is not necessary for the helper to say 'Bismillah Allahu Akbar.' Selecting a skilled person for sacrifice is virtuous.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ مینڈھول میں سے چلن کر اپنے مینڈھول کی قربانی کرتے
تھے جس کے سینگ مرے ہوئے ہوتے اور جوموٹا تازہ اور نزہوتا تھا اور ابلق پینے چتکبرا ہوتا تھا
اس کا تمام جسم سفید ہوتا، اورآ کھول کے اطراف سیائی اور منہ سیاہ اور پیر کچھ سیاہ ہوتے تھے(اس
سے معلوم ہوا کہ اپیاتیاراورفر پہ مینڈھولا چلن کر قربانی دینا فضل اور سننت ہے)-
(اس حدیث کی روایت ترمندی، ابوراودونساگی اور ابن مجہن کی ہے)
The blessed practice of the Messenger of Allah ﷺ was to ride a camel and make his sacrifice from among camels whose humps were fat, whose hair was thick, fresh, and clean, and whose urine was clear. Its entire body was white, with black markings around its eyes and a black face, and its legs were somewhat black. It became evident that riding and sacrificing a camel is meritorious and a Sunnah.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (عیدالفتح)
نہی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دومینڈھول قربانی دینے جتنے جسم پر کثرت سے بال تھا اور پردونوں
ابلق پینے چتکبرے تھے ان دونوں مینڈھول میں سے ایک مینڈھولا تو اپنے طرف سے قربانی
دنے اور دوسرا مینڈھولا اپنے تمام امت کی طرف سے (آپ کی امت دو حصے کی ہے، ایک امت دعوت
دنے جتنے کفارہ جیشمال پین تو آپ پیر قربانی امت دعوت کی طرف سے نمیں دنے بلکہ امت اجابت
کی طرف سے پیر قربانی دنے ہیں۔ جتنے اس قربانی کا ثواب امت اجابت کو پہنچا دنے ہیں، جوتو حید
کے اورحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے قائل ہیں جتنے مسلمان کہتے ہیں)-
(اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے کی ہے اور امام محمد نے بھی کتاب الآثار میں
اس کی روایت کی ہے اور حاکم، ابن ماجہاور امام احمد نے بھی اس طرح اس کی روایت کی ہے اور حاکم
نے اس حدیث کو مسلم کی شرط کے موافق صحیح قرار دیا ہے۔
ف: واضح ہوا کہ بڑی کی قربانی کے متعلق مختلف روايتی آئی ہیں۔ ایک اور روایت سے معلوم
ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو بڑیوں کی قربانی کے تحت ایک بڑی اپنی طرف سے قربانی کے
اور دوسرا بڑی تمام امت کی طرف سے ایک اور روایت میں اس طرح مروی ہے کہ ایک بڑی آپ
قربانی کے اپنی طرف سے اور تمام غیر والوں کی طرف سے اور عبد الرزاق کی روایت سے معلوم ہوتا ہے
کہ ایک بڑی کی قربانی ایک، بھٹ شخص کی طرف سے ہونا چاہے۔
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) sacrificed two horned, white, and speckled rams. One was for himself, and the other was for those among his Ummah who testified that there is no god but Allah." (3) [Narrated by our Imam Abu Hanifah and Muhammad in Al-Athar]
Al-Hakim, Ibn Majah, and Ahmad narrated something similar, and Al-Hakim declared it authentic according to the conditions of Muslim.
In a narration by Ibn Majah from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): "A man came to the Prophet (ﷺ) and said, 'I am obligated to sacrifice a camel, and I can afford it, but I cannot find one to buy.' The Prophet (ﷺ) commanded him to buy seven sheep and sacrifice them."
In a narration by Abd al-Razzaq: "There is one sheep for every Udhiyah." Al-Tahawi said:
"As for sharing a single sheep for an obligatory Udhiyah, it is abrogated. Muhammad (may Allah be pleased with him) explained that it applies when a poor person, who is not obligated to sacrifice, shares the reward with others. However, sharing a single sheep for an obligatory Udhiyah is not permissible."
(3) The statement: "The other was for those among his Ummah who testified that there is no god but Allah." Some hadiths indicate that a single sheep suffices for a man and his household. Muhammad (may Allah be pleased with him) explained in Al-Muwatta:
"A needy person would sacrifice a single sheep for himself, eat from it, and feed his family. However, a single sheep cannot be sacrificed for two or three people as an Udhiyah. This is the view of Abu Hanifah and the majority of our scholars."
In Al-Ta’liq al-Mumajjad, it is said: "Muhammad (may Allah be pleased with him) explained that it applies when a person is in need of meat or is poor and not obligated to sacrifice. He may sacrifice a single sheep for himself and feed his family or share the reward with them. However, sharing a single sheep for an obligatory Udhiyah is not permissible."
Al-Tahawi said: "It is either abrogated or specific. The evidence is that while a ram suffices for multiple people without restriction, a cow or camel is more appropriate for multiple people. However, the Prophet (ﷺ) limited a camel to seven people and a cow to seven people. This indicates that a sheep cannot suffice for more than seven people. Therefore, a sheep cannot suffice for more than one person, as agreed upon by Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad (may Allah have mercy on them)."
اس کی تفسیر ابن ماجہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ ایک شخص
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھ کو سات شخصوں کی طرف سے قربانی کرنا ہے، میں
ایک اونٹ قربانی کرنا چاہتا ہوں، اور اس وقت اونٹ نہیں مل رہا ہے کیا کیا جائے؟ تو حضرت صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم فرماتے (اگر اونٹ نہ مل رہا ہو تو) سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کر دے (ایک ایک
بکری ایک ایک کی طرف سے قربانی کے لیے کافی ہوگی، اگر ایک بکری سارے غیر والوں کی طرف
سے کافی ہوتی تو حضور فرماتے اگر اونٹ نہ ملتا ایک بکری خرید لو، ساتوں کی طرف سے ایک بکری
کافی ہوجائے گی ایسا نفرما کرساتے بکریاں خریدینے کا حکم دے اس سے معلوم ہوا کہ ایک بکری
ایک، بھٹ شخص کی طرف سے قربانی دی جانی چاہے۔ ایک سے زیادہ کی طرف سے ایک بکری کی قربانی
جا ئز نہیں)۔
ان مختلف روايات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ قربانی دو حصے کی ہوتی ہے۔ ایک نفل جومعہ
ثواب کے لیے جانی ہے اور جو قربانی کرنے والے پروا جب نہیں ہوتی، اور دوسرا قربانی وہ ہے
جو قربانی کرنے والے پر صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے واجب ہوتی ہے۔ وہ احادیث جن میں
ایک بکری کا سارے غیر والوں کی طرف سے قربانی دی جانا منقول ہے وہ نفل قربانی سے متعلق ہیں جو
محض ثواب کے لیے گئی ہے، واجب کے طور پر نہیں گئی۔ بخلاف اس کے جو قربانی واجب ہو
اس میں ایک بڑا ایسے شخص کی طرف سے قربانی میں دیا جائے گا، ایک سے زیادہ کی طرف سے
نہیں دیا جائے گا۔ اس لئے کہ جس طرح واجب زکات کا نصاب مقرر ہے۔ مثلًا اگر کسی کے پاس
doso (200) درہم ہوں تو اس پر ہر جائس (40) درہم پر ایک درہم زکات واجب ہوتی ہے
خلاف نفل خیرات کے اس کے لئے کوئی نصاب مقرر نہیں کہ جس قدر چاہے اور جب چاہے نفل
خیرات دے سکتا ہے، ایسا ہی نفل قربانی کے لئے انسانوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں جتنے انسانوں کی
طرف سے چاہیں، ایک بڑا قربانی دے کراس کے ثواب میں سب کوشش کی کر لے سکتے ہیں، بخلاف
واجب قربانی کے کراس کے لئے کچھ تعداد مقرر ہے کہ اونٹ اور گاۓ سات سات شخصوں کی طرف
سے، اور بکرا ایک شخص کی طرف سے واجب قربانی میں دیا جائے، اس سے معلوم ہوکر جن حدثول
ت ایک بکرا سارے گھروالوں کی طرف سے دیا جانا ثابت ہے وہ نفل قربانی تمہی جوہض ثواب کے
لئے کی گئی اور سب کو ثواب میں شریک کیا گیا۔
جبیا کہ امام محمد رحمۃ اللہ نے فرمایا ہے کہ ایک بکرے کی قربانی سارے گھروالوں کی طرف
سے ہونا اس وقت پر محمل ہے کہ کوئی شخص محتاج ہوتا اور اس پر قربانی واجب نہیں ہوتی تمہی تو وہ اپنی
جانب سے اور اپنے گھروالوں کی طرف سے ایک بکرا قربانی کرتا اور سب کو ثواب میں شریک کر لیتا،
اور جن حدثول ت ایک بکرا ایک کی طرف سے دیا جانا معلوم ہوتا ہے وہ واجب قربانی ہے، اس
لئے ایک سے زیادہ کی طرف سے ایک بکرا قربانی میں نہیں دیا جاسکتا۔
جو حضرات پیکرت میں کہ ایک بکری واجب قربانی میں پورے گھروالوں کی طرف سے کافی
ہے تو ان کا قول اس لئے صحیح نہیں ہے جبکہ سب کا اتفاق اس بات پر ہے کہ ایک اونٹ یا ایک گاۓ
تو سات شخصوں سے زائد کے لئے کافی نہ ہو، اور ایک بکری پورے گھروالوں کی طرف سے مثلًا اگر
گھر میں بیس آدمی ہوں تو ان کے لئے واجب قربانی میں کافی ہوجائے پیخلاف عقل اور نقش ہے
عین ذنگ کے وقت صرف اللہ کا نام لیئے بسم اللہ و اللہ أكبر، یا کہ ناچاہے
جب کوئی شخص قرآنی میں جانور زنج کرنا چاہے اور اس کی جانور کوزنگ کے لیے طلب کیے تو
جو دعا چاہے پڑھ سکتا ہے، ایسا، یا لمانے کے بعد "بسم اللہ و اللہ أكبر" کہنے سے پہلے کچھ جو
dعا چاہے پڑھ سکتا ہے اور اس طرح ذنگ کے بعد کچھ جودعا چاہے کر سکتا ہے، جانور کوز میں پڑتا کر
عین ذنگ کرنے کے وقت صرف اللہ کا نام "بسم اللہ و اللہ أكبر" لینا چاہے عین ذنگ کے
وقت کسی انسان کا نام کسی حثیت سے لینا چاہے "بسم اللہ تقبل من فلان" (اللہ کے
نام سے قرآنی شروع کردہ ہول، اس کو فلان کی طرف سے قبول فرمائے کیوں نہ کہ
came to the Messenger of Allah ﷺ and said: 'I want to offer a sacrifice on behalf of seven persons, and I wish to sacrifice a camel, but I cannot find a camel. What should I do?' The Messenger of Allah ﷺ said: 'If you cannot find a camel, then buy seven goats and sacrifice them (one goat for each person will suffice. If one goat were sufficient for all seven, the Messenger of Allah ﷺ would have said: 'If you cannot find a camel, buy one goat, and it will suffice for all seven.' But since he commanded to buy goats, it is understood that one goat is to be sacrificed for each person. It is not permissible to sacrifice one goat on behalf of more than one person.).'
Upon reflecting on the various narrations, it is evident that sacrifice (Qurbani) has two parts. One is the voluntary (Nafil) Friday sacrifice, which is performed for reward and is not obligatory for those who do not have the means. The other is the sacrifice that becomes obligatory (Wajib) due to the person being financially capable (Sahib-e-Nisab). The narrations that mention a single goat being sacrificed by all non-owners pertain to the voluntary sacrifice, which is done solely for reward and not as an obligation. Conversely, when the sacrifice is obligatory, a large animal will be sacrificed by one individual, and not by more than one. This is similar to how the obligatory Zakat has a set threshold; for example, if someone possesses two hundred dirhams, they must pay one dirham in Zakat for every forty dirhams. In contrast, there is no set threshold for voluntary charity, as one can give as much as they wish whenever they choose. Similarly, there is no fixed number of people for whom a voluntary sacrifice can be made; one can sacrifice a large animal for as many people as they wish, and all can share in the reward. However, for an obligatory sacrifice, there is a specific number: camels and cattle are sacrificed for seven individuals each, and a goat is sacrificed for one individual. Therefore, the narrations that state a single goat was sacrificed by all household members are referring to a voluntary sacrifice, done for reward, with all sharing in the reward.
Imam Muhammad (RA) has stated that a single goat can be sacrificed by all household members when the person is in need and the sacrifice is not obligatory. In such a case, the person can sacrifice a goat on their behalf and on behalf of their household members, sharing the reward with all. The narrations that indicate a single goat is sacrificed by one individual refer to an obligatory sacrifice, hence it cannot be shared by more than one person.
The scholars who assert that a single goat is sufficient for the obligatory sacrifice of an entire household are incorrect, as there is consensus that a camel or a cow is not sufficient for more than seven individuals. A single goat, for example, would not suffice for twenty individuals in an obligatory sacrifice, which contradicts reason and established practice. When slaughtering an animal, one should recite 'Bismillah Allahu Akbar' at the time of slaughter. If one wishes to make a supplication while performing the ritual slaughter, they may do so, either before saying 'Bismillah Allahu Akbar' or after the slaughter. During the act of slaughter, one should only recite the name of Allah, 'Bismillah Allahu Akbar,' and not the name of any individual, such as 'Bismillah taqabbal min Fulan' (In the name of Allah, accept this from Fulan).
حضرت ابراہیم خلیل کروہ (ترجمی) جانتے تھے، اس کی تائید حضرت ابن مسعود
رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی ہوتی ہے جس کو صاحب بدایین بیان کیا ہے۔
It is known that Ibrahim, the Friend of Allah (peace be upon him), was aware of this, as confirmed by the statement of Ibn Masud (RA), who described him as the possessor of excellent speech.
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ذنگ کے وقت جو "بسم اللہ و اللہ أكبر"
کہا جاتا ہے، اس میں کسی انسان کا نام کسی حثیت سے لینا شریک کرنے سے باز رہو بلکہ "بسم
اللہ و اللہ أكبر"، یا کہ کرو۔
نفس قرآنی میں سب کو شریک کر سکتے ہیں
Ibrahim reported that he disliked mentioning the name of a person alongside Allah’s name when slaughtering an animal, such as saying, "In the name of Allah, accept from so-and-so." [Narrated by Muhammad in Al-Athar]
This is supported by what is mentioned in Al-Hidayah from Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him): "Purify the name (of Allah) when slaughtering."
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآنی کیا کرتے تھے تو وہ برے برے ابلق مینٹ سے خرید فرما کرتے تھے، اور
نماز عید کے بعد عیدگاہ میں خطبہ دینے سے فارغ ہوجاتے اور آپ عیدگاہ میں کہتے رہتے تو
اس وقت نذورہ دومینڈصول میں سے ایک مینڈہ لا لایا جاتا اور (حضرت جب اس مینڈ کو ذنگ
کرنا چاہتے تو ذنگ کے وقت کوئی دعا نہیں پڑھتے تھے) صرف "بسم اللہ و اللہ أكبر" کہتے کر
ذنگ کرتے، ذنگ سے فارغ ہونے کے بعد یاد عبارت ہے:
اللّٰہُمَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِى جَمِيعًا مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِى بِالْبَلَاغِ ط
اے اللہ! یقیناً میری امت کی طرف سے قبول فرمائیے۔ جس میری امت میں سے شخص کی
طرف سے قبول فرمائیے جو آپ کی توہید کی گواہی دیتا ہو، اور آس باس کی کہی گواہی دیتا ہو کہ میں
پورے پورے احکام پہوچا ریا ہوں۔
پھر دوسرا مینٹ حا آپ کے پاس لا یجا تا تو اس کو بھی "بسم الله و اللہ اکبر" کہنے کے
بعد زنگ فرما تاور یاد عبارت ہے: اللّٰہُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے اللہ! یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غفر والول کی طرف
سے ہے۔(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے)
ف: واخ ہو کہ صدر میں حا کم، ابن ماجراور امام احمد، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کے
جیسے "آن النبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم ضحی بگبشین اشعرین املحین، احدہما
عن نفسی" کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مینٹ حا پنی طرف سے اپنے قربانی کے پی
واجب قربانی تھی، جس کو آپ اپنی طرف سے اداء کے، اور آس حدیث ثریف میں ذکور سے کرسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبیرون کی قربانی دے: ایک بڑا تو تمام امت کی طرف سے، اور دوسرا بڑا
ایسے اور اپنے غفر والول کی طرف سے قربانی دی آپ اپنے اور اپنے غفر والول کی طرف سے جو
قربانی دی ہے حضرت کے غفر والول پر واجب قربانی نہیں بلکہ وہ نفل قربانی تھی کہ سب غفر والول کو
ثواب میں شریک کرنے تھے، سب غفر والول کی طرف سے جوقربانی دی گئی تھی وہ ایسے قربانی تھی
جسے امت کی طرف سے قربانی دی گئی تھی کہ ثواب میں امت کوشریک کر لیا گیا تھا نے کرامت کی طرف
سے واجب ادا کیا گیا تھا۔
ذنگ کے پہلے پڑھی جانے والی دعاے
Abu Rafi’ (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would, when sacrificing, buy two large, white rams. When he delivered the sermon and prayed, one of them was brought to him while he was standing at the prayer ground. He would slaughter it with his own hand and say, 'O Allah, this is on behalf of my entire Ummah, those who testify to Your Oneness and to my message.' Then the other ram would be brought, and he would slaughter it, saying, 'O Allah, this is on behalf of Muhammad and the family of Muhammad.'" [Narrated by Al-Tahawi]
In Al-Durr al-Mukhtar, it is said: "If one separates the form and meaning, such as making a supplication before placing the animal down, or making a supplication before or after the slaughter, there is no harm in it."
In Rad al-Muhtar, it is said: "There is no dislike for it."
إِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَايَ وَمَمَاتِی لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَشَرِیکَ لَهُ وَبَدَالِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ میری نماز میری تمام عبادتیں (اور میری قربانی) میرا جینا اور مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو سارے جہاں کا پروردگار ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور مجھ کو اپیا،ی حکم دیاگیاہے اور میں اس کے فرمانبردار ول میں سے ہول - اورحضراس کے بعد یہ دعا بھی پڑھے: "اللہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِه" اے اللہ یق ربانی آپ یہ کی دیہوئی ہے اور یا آپ یہ کی رضا جوئی کے لئے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اورمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی طرف سے پشکی جاری ہے- حضرت پہر بسم اللہ و اللہ أكبر ، کہ کر ذنگ کے _ (اس کی روايت امام طحاوی نے کی ہے،اور امام احمد،ابوداود،ابن ماجہاور دارمی نے بھی اس طرح روايت کی ہے_)
جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے و فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الاضحی کے دن دو مینٹھوں کی قربانی دے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذنگ کرنے کے لئے دونون بکروں کو قبلہ رخ کے تو (سورہ انعام،پ7،ع9،آیت نمبر:79) یودعا پڑھے: وَجَّهْتُ وَجْهِیَ للَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفاً وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ میں نے ایسی کاہوکراپنا رخ اس ذات پاک کی طرف کر لیاہے جس نے زمین اور آسمان کو بنایاہےاور میں مشکول میں سے نہیں ہول - اور ابوداوود کی روایت میں اس دعا کے ساتھ ذیل کی دعا کا اضافہ ہے کیاگیاہے:
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed two rams on the day of Eid. When he faced them, he said, 'Indeed, I have turned my face toward He who created the heavens and the earth...' (Qur’an 6:79). Then he said, 'O Allah, this is from You and for You, on behalf of Muhammad and his Ummah.' Then he recited Allah’s name, said the takbir, and slaughtered them." [Narrated by Al-Tahawi]
Ahmad, Abu Dawud, Ibn Majah, and Al-Darimi narrated something similar.
جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرما تے پین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرماتے پین کر (قر بانی مین ) مُسْتَحِبّۃ ذرح کیا کرو - (مُسْتَحِبّۃ سے کم ذرح کروگ تو قرباني تبول نهين هموگی - (مُسْتَحِبّۃ پیہ کراونط ہوتو پانچ سال ختم ہوکر چھتا شروع ہو، اگرگا کے ہوتو دوسال ہوکر تیرا شروع هو، اور ميند حايا کبرا ہوتو پورا اکی سال کا ہو ) (پداپیل ایا کی ذکور کے -12) او را گرت کو پی تیون قسمول کا ملاناشوار کے اورصرف کبرول مین جذععل سکتا کے تو (اکی آدمی کی طرف کے ) پچ مهيذنا کا جذعة لعنی الیادنب یا ميند حايا کمي قربانی کر سکتا هو جوا تنا مومنا تازہ ہوکر اکی سال بجر کا معلوم هوتنا هو، اور سال بجر وا لے دنبول يا ميند حول مين چحوڑ دوتو پچھفرق نہ معلوم ہو - (اگر چھ مهيذنا کا ايا ميند حايا نمل سکتو پچھ سال بجر کا کی ہو ناچائے ) - (اس حدیث کی روایت مسلم کے کی کے -)
دوسری حدیث
What should be done with the recommended sacrifice? If you do less than the recommended amount, the sacrifice will not be accepted. If you perform the recommended sacrifice, it will suffice after five years; if it is a goat, it will suffice for two years; and if it is a sheep, it will suffice for one year. As for the other types of sacrifices, if you can afford a camel or a cow, you may offer a seventh part of it, or if you can only afford a sheep, you may offer it, which is sufficient for a new Muslim for one year, and for those who have been Muslims for a year or more, there is no difference. - (If you cannot afford a sheep, then a seventh part of a camel or a cow is sufficient.) - (This hadith is narrated by Muslim.)
مجاشع جوقبلہ پی سلیم مین سے تقدرايت کرتے پین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم فر ماي کرتے تک کر چھ مهيذنا کا ايا ميند حايا (جواتنا فرپہ ہوکر اکی سال کا معلوم ہوتا کے ) قربانی کے لے ایا کی کافی کے،جبیا کر اکی سال کا ميند حايا کافی ہوتا کے - (اس کی روایت البوداو دنسالی اورا بن ماجہ کے کی کے -)
تیسری حدیث
I saw the Messenger of Allah ﷺ sacrificing a ram until it was completed. He said: 'This is sufficient for us as a sacrifice.' It is sufficient if the animal is one year old. - (This is reported by Al-Bukhari and Muslim.)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کے وہ فرما تے پین کر مین کے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کے کر چھ مهيذنا کا (ايافر بميند حايا جوا اکی سال کا معلوم ہوتا کے ) قربانی کے کے بہت بہتر کے (اگر ایا کے مل تو پچھ قربانی کے کے اکی سال کا ميند حايا هو نا چائے ) - (اس حدیث کی روایت ترمزی کے کی کے -)
A six-month-old [sheep] is better for sacrifice (if it appears to be one year old). If you can find a one-year-old [sheep], then that is better (but if you cannot find one, then a six-month-old that appears to be one year old is sufficient).
13 - عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
نہیں کرتے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بڑیاں نمازیت کے تاکر میں صحابہ میں قربانی کے لے تقسیم
کردول، اخیر میں عتوو رہگیا (عتوو بڑرول او پچھلون میں اپنا کے جسے جذع مین طصول میں کہ
جزعه(6) مہینے سے زیادہ اور سال سے کم کا ہوتا ہے اور عتوو کچھ اپنا کبرول میں (6) مہینے سے
زیادہ اور سال سے کم کا ہوتا ہے، جذع اگر فربہوتا ایک سال سے کم کا مجھی ہو۔ قربانی دے سکتے ہیں
اور عتوو اگر چفر پہو (6) مہینے سے زیادہ اور سال سے کم ہوتا اس کی قربانی نہیں دی جائے ایک سال
کاہونا ضروی ہے ) اس لے عقبہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کے کر
میرے حضر میں عتوو ایک سال سے کم کا بڑی کا پچرہ گیا ہے (اور بڑی کا پچا ایک سال سے کم کا
ہوتا اس کی قربانی جائز نہیں ) تو میں قربانی کس طرح کرون تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے
سنوعقیہ ! سال سے کم جو بڑی کا پچرہ گیا ہے، اس کی تم قربانی کرو، اور یہم خاص تمجہارتے لے
ہے - دوسروں کو سال بھر سے کم کا بڑا اگر پچکر وہ فربہوتا قربانی میں جائز نہیں (بخلاف میں ذہکر
اگروہ سال سے کم کا مجھی ہواود فربہوتا اس کی قربانی سب کے لے جائز ہے ) اس حدیث کا ترجحم
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) gave him sheep to distribute among his companions as sacrifices. A young goat remained, (1) and he mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ), who said, 'Sacrifice it yourself.'" In another narration, he said, "O Messenger of Allah, I have a young goat." The Prophet (ﷺ) said, "Sacrifice it." [Agreed upon]
(1) The statement: "A young goat." In Al-Nihayah, it is explained as a young goat that has reached one year of age. This indicates the permissibility of sacrificing a young goat that is one year old, which is the view of our school. This is mentioned in Al-Mirqat.
اشعۃ اللمعات کے لحا ظ سے کیا گیا ہے -12)-
(اس حدیث شریف کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقطر طور پر لی ہے)
قربانی نماز عید کے بعد ہونی چاہئے
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ کہ آپ (نماز عید کے بعد) عیدگاہ میں قربانی کرتے تھے (اس کی
جہیت کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ قربانی کا وقت نماز عید کے بعد ہے، نماز عید سے پہلے قربانی
کر نے قربانی اداء نہیں ہوتی اور پھر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قربانی کرنے کی جگہ عیدگاہ میں عیدگاہ میں قربانی کرنا فضل و مستحب ہے، اگر چیکہ گھروں میں قربانی کرنا بھی جائز ہے)-
(اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے)
ف: اس حدیث شریف میں قربانی کرنے کے لئے دوالفاظ لاے گئے ہیں: ایک "یذبح" اور دوسرا "ینحر" اس کی تحقیق اس باے سے پہلے باب صلاۃ العيد میں امام بخاری کی حدیث 480 جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مریہ اس کے فائدہ میں ذرائعی کے ملاحظہ کرنے جائے-
اونٹ اور گاۓ کی قربانی کا بیان
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) would slaughter and sacrifice at the prayer ground." (2) [Narrated by Bukhari]
(2) The statement: "At the prayer ground." It is mentioned in Al-Mirqat that this hadith, narrated by Ibn Umar, was previously mentioned in the chapter on Eid prayer. It is repeated here to clarify the place of slaughter, as slaughtering at the prayer ground is preferred to display the symbol of sacrifice. It also clarifies the timing of the sacrifice, as slaughtering at the prayer ground indicates that the preferred time is after the prayer.
جابر رضی اللہ عنہ تے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کے کی قربانی (زیادہ سے زیادہ) سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ کی قربانی جسی (زیادہ سے زیادہ) سات آدمیوں کی طرف سے ہوسکتی ہے۔ اس حدیث کی روايت مسلم اور ابوداود نے کی ہے-
قربانی کرنے والے کے لئے پہايت
پہلی حدیث
(جو مسلمان اپنے ولد میں ہیں ان کو حاجیول سے مشابہت پیرا کر کے مشابہت کا ثواب دینے کے لئے جسے حاجی کہ معظّم میں نماز پڑھتے ہیں اور میں قربانی کرتے ہیں اس طرح مسلماں کو حکم دیا گیا کہ عیدگاہ میں عید کی نماز پڑھیں اور نماز کے بعد قربانی کریں، اس طرح حاجیول سے مشابہت ہوجاتی ہے)
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "A cow suffices for seven people, and a camel suffices for seven people." [Narrated by Muslim and Abu Dawud, with the wording from Abu Dawud]
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں (کہ جو قربانی
کر کے حج کے مشابہت پیدا کرتے جس تو ان کو چاہئے کہ جسے حاجی جب سے احرام بند کرتے جس حاجت نہیں بنواتے، بال اور ناخن نہیں کترواتے، ایسے جس حج کے پوری مشابہت پیدا کرتے کے لیے) جس الحج کا جاند و کیستے جس جو قربانی کرتے والے جس وہ (حجامت نہ بنوا سیں) ناخن اور بال قربانی کرتے تک نہ کتر وا سیں (تاکر حج کے پوری پوری مشابہت ہوجائے اگر پچھے حج کون کے لیے بال اور ناخن نہ کتر وا نافرض ہے، خلاف قربانی کرتے والوں کے کر ان کو حجامت نہ بنوا نا اور بال اور ناخن نہ کتر وا نا مستحب ہے)- اس کی روایت مسلم نے کی ہے-
دوسری حدیث
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever performs the Hajj in the manner of a pilgrim, and who does not engage in sexual relations, nor cut their hair or nails until they have completed the sacrifice, then such a person should not make their Hajj obligatory, nor cut their hair or nails until they have performed the sacrifice, so that the Hajj may be fully complete. If someone later decides to perform the Hajj, it is not obligatory for those who have already sacrificed to make their Hajj obligatory, nor to cut their hair or nails; rather, it is recommended for them not to do so until they have completed the Hajj.' This narration is reported by Muslim.
زیاد بن عباد اللہ بن قسط رضی اللہ تعالیٰ نے روایت کے وہ کہتے جس کے عطاہ بن سیار، ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث بن بشام اور ابو بکر بن سلمان رضی اللہ عنہم یہ سب حضرات (قربانی کرتے والے کے لیے) جس الحج کے پیلے دے جس بال اور ناخن کتر وا نے کو جائز قرار دیتے تھے اور ناخن تر شوانے اور بال کتر وا نے جس کوی مضاق نہیں کیتے تھے (اسی لیے علماء نے فرمایا ہے کہ جس الحج کے پیلے دے جس قربانی کرتے والے کے لیے بال اور ناخن نہیں کتر وا نا مستحب ہے، واجب نہیں ہے)-
(اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے)
تیسری حدیث
Yazid ibn Abdullah ibn Qusayt reported that Ata’ ibn Yasar, Abu Bakr ibn Abd al-Rahman, and Abu Bakr ibn Sulayman saw no harm in a person cutting their hair or nails during the ten days of Dhul-Hijjah. [Narrated by Al-Tahawi]
محمد بن ربعی رضی اللہ عنہ نے روایت کے وہ کہتے جس کے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ذو الصلیفہ میں مجھے دیکھا کہ میں اپنی اوٹی پرسوار کرنے کے ارادے سے جاربا ہول (اس وقت میں اپنی احرام میں باندھا تھا اور زی الحج کا پہلا دعا شروع ہوچکا تھا اس لیے بال
کتر واس کو جائز نہیں ہے۔ کی وجہ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں موٹھول کو کتر وا دول تو میں اس وقت میل کی اور موٹھول کتر دیا(اس سے معلوم ہوا کہ ذی الحجر کے پیلے دش میں بال اور ناخن نہ کتر وانا مستحب ہے، واجب نہیں ہے)- (اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے-)
پہلی حدیث
Muhammad ibn Rabi’ah reported: "Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) saw me with long hair at Dhul-Hulayfah while I was on my camel, intending to perform Hajj. He ordered me to cut my hair, so I did." [Narrated by Al-Tahawi]
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرما تے ہیں کہ میں وقت عید الاضحی کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ عليه وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھا جون ،ی رسول اللہ صلی اللہ عليه وآلہ وسلم نماز عید پڑھ کر فارغ ہوئے اور سلام پھیرے تو کیا کہتے ہیں کران قربانیوں کا گوشت لایا گیا ہے جو حضور صلی اللہ عليه وآلہ وسلم کے نماز سے فارغ ہوئے سے پیلے ذبح کی گئیں تھیں (یہ کیا کر ) حضور صلی اللہ عليه وآلہ وسلم ارشاد فرمائے جو شخص نماز عید پڑھنے سے پیلے قربانی کر چکا ہو، وہ اس کی بجائے پھر دوسرا قربانی کرے (اس لے کہ نماز عید سے پیلے جوقربانی کی گئی ہے وہ قربانی اداء نہیں ہوتی) ایک اور روايت میں ہے کہ جونماز عید کے پیلے قربانی نہیں کیا ہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب نماز عید کے بعد قربانی کرنے کا وقت ہے۔سم اللہ ادب قربانی کرے اور قربانی کے وقت بسم اللہ واللہ أكبر " کہ (یہ حال حضور کے دوبارہ قربانی کرنے کے حکم دینے سے معلوم ہوا کہ قربانی واجب ہے، اگر قربانی واجب نہ ہوتی تو حضور دوبارہ قربانی کرنے کا حکم نہیں دیتا-) جسیا کہ مرقات میں ذکر ہے-12)- (اس حدیث کی روايت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے-)
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ میں وقت عید الاضحی کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھا جون،ی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عید پڑھ کر فارغ ہوئے اور سلام پھیرے تو کیا کہتے ہیں کران قربانیوں کا گوشت لایا گیا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز سے فارغ ہوئے سے پیلے ذبح کی گئیں تھیں (یہ کیا کر ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے جو شخص نماز عید پڑھنے سے پیلے قربانی کر چکا ہو، وہ اس کی بجائے پھر دوسرا قربانی کرے (اس لے کہ نماز عید سے پیلے جوقربانی کی گئی ہے وہ قربانی اداء نہیں ہوتی) ایک اور روایت میں ہے کہ جونماز عید کے پیلے قربانی نہیں کیا ہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب نماز عید کے بعد قربانی کرنے کا وقت ہے۔سم اللہ ادب قربانی کرے اور قربانی کے وقت بسم اللہ واللہ أکبر " کہ (یہ حال حضور کے دوبارہ قربانی کرنے کے حکم دینے سے معلوم ہوا کہ قربانی واجب ہے، اگر قربانی واجب نہ ہوتی تو حضور دوبارہ قربانی کرنے کا حکم نہیں دیتا-) جسیا کہ مرقات میں ذکر ہے-12)- (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے-)
دوسری حدیث
وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں دس سال رہے اوراس تمام عرصہ میں ہرسال براقربانی کرتے رہے۔
( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بمیش قربانی کرتنے رہنے سے ثابت ہوا کہ قربانی کرنا واجب
ہے، اس لئے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی کام کو بمیش کرتے رہناس کام کے واجب
ہونے کی دلیل ہے ) _ ( اس حدیث کی روایت ترنڈی نے کی ہے _)
قربانی کرنے کا جواب اوراس کے ذکر نے پروعید
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) stayed in Madinah for ten years, sacrificing every year." (2) [Narrated by Tirmidhi]
(2) The statement: "Sacrificing for ten years." In Al-Mirqat, it is said: "This indicates the obligation of sacrifice, as he consistently performed it for ten years during his stay in Madinah. His statement, 'Let them slaughter another in its place,' also indicates obligation, as the command to repeat an act is not known in Shariah except for obligatory acts."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص ( صاحب نصاب ہے اور وہ ) قربانی کرنے کی
استطاعت رکھتا ہو، باوجود اس کے پھر قربانی نہ کرے تو ایسا شخص ہماری عیدگاہ میں نہ آے _ ( اس
لئے کہ عیدگاہ کے نمازیوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے قربانی نہ کرنے والا رحمت کا مستحق
نبی ہوتا ہے، اس لئے ایسا شخص عیدگاہ میں نہ آے _،حضور کا اس طرح ارشاد فرمانا قربانی نہ کرنے
والے پر اللہ تعالیٰ اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غضب کی علامت ہے اس حدیث سے
معلوم ہوا کہ قربانی نہیں کرنے والا اس عید کا مستحق نہ _ واجب ہی کے نزک پروعید آئی ہے،
اگر قربانی کرنا واجب نہ ہوتا تو ایسی وعید نہ آئی ) ( جسیا کہ علامہ ابن رحمۃ اللہ علیہ فرمایا ہے _12 ) _
( اس حدیث کی روایت ابن ماجہ، حاکم اور امام احمد نے کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ اس
حدیث کی سنہت ہے _)
ف : واضح ہو کہ نصاب دو طرح کا ہوتا ہے ایک نصاب زکات کا ہے اور دوسرا نصاب فطرہ اور
قربانی کا، جو شخص زکات کے نصاب کا ما لکے تو اس پرزکات کی آئی گی اور فطرہ اور قربانی کرنا بھی
واجب ہو گا اور جو شخص زکات کے نصاب کا ما لکے اس طرح سے نہیں ہے کاس کے پاس سونا چاندی
اورتجارت کا ما ل وغیرہ نہیں ہے بلکہ فطرہ اور قربانی کا نصاب اس پراس طرح واجب ہے کہ ضروری
اسباب جوارت دن کے بر تاوے میں رہتا ہے اس کے پاس اور اسباب جو ہیں ہے جو جی بھی
کام میں آتا ہے اور ان سب کی قیمت اتنی ہے کہ جس پرزکوہ واجب ہو جائے ہوتا اس پرعیدالفطر کے لیے دن فطرہ اور عیدا کی کے دن قربانی واجب ہے۔ فطرہ اور قربانی کے لیے مال پرسال گزر نے کی شرط بھی نہیں ہے۔ (ردالمختار)۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever has the means but does not sacrifice, let them not come near (1) our prayer ground." [Narrated by Ibn Majah, Al-Hakim, and Ahmad]
Al-Hakim said: "Its chain is authentic."
(1) The statement: "Let them not come near." Al-‘Allamah Al-‘Ayni said: "Such a warning does not apply to the abandonment of a non-obligatory act."
مُخْنَفُ بن سُلَيم رضي الله عنه روايت ہو فرماتے ہیں کہ تم (جھے الوداع میں) رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم کے ساتھ وقوف عزف کر کے عرفات میں طیحیرے ہوئے تھے میں نے خود حضور صلی الله علیہ وآله وسلم کو پیرشاو فرما تے سناتے کر لوگو! (قربانی سنت نہیں ہے کہ کونی گھر والا کرے اور کونی گھر والا نہ کرے بلکہ) قربانی واجب ہے، ہر گھر والا (جو قربانی اور فطرہ کے نصاب کا ما کہو) اس کو چاہے کہ وہ اپنی طرف سے ہرسال قربانی کیا کرے (بالاس کے چھوٹے بچوں کی طرف سے اور جوان پچوں کی طرف سے اور پیوی کی طرف سے قربانی اس پروا جب نہیں ہے، اگران سے اجازت لے کر قربانی کرے تو قربانی ان کے طرف سے بھی اداء ہوسکتی ہے)۔
مُخْنَفُ بن سُلَیم رضی اللہ عنہ روایت ہو فرماتے ہیں کہ تم (جھے الوداع میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وقوف عزف کر کے عرفات میں طیحیرے ہوئے تھے میں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیرشاو فرما تے سناتے کر لوگو! (قربانی سنت نہیں ہے کہ کونی گھر والا کرے اور کونی گھر والا نہ کرے بلکہ) قربانی واجب ہے، ہر گھر والا (جو قربانی اور فطرہ کے نصاب کا ما کہو) اس کو چاہے کہ وہ اپنی طرف سے ہرسال قربانی کیا کرے (بالاس کے چھوٹے بچوں کی طرف سے اور جوان پچوں کی طرف سے اور پیوی کی طرف سے قربانی اس پروا جب نہیں ہے، اگران سے اجازت لے کر قربانی کرے تو قربانی ان کے طرف سے بھی اداء ہوسکتی ہے)۔
(اس حدیث کی روایت تزمی، ابوداود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
جو صاحب نصاب نہیں اس پر قربانی واجب نہیں
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever has the means but does not sacrifice, let them not come near (1) our prayer ground." [Narrated by Ibn Majah, Al-Hakim, and Ahmad]
Al-Hakim said: "Its chain is authentic."
(1) The statement: "Let them not come near." Al-‘Allamah Al-‘Ayni said: "Such a warning does not apply to the abandonment of a non-obligatory act."
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنهما سے روايت ہو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم ارشاد فرما تے ہیں مجھے حکم دیا گیا کہ وسوی ذی الحج کو (قربانی کرے) عید منا کروں، ایک مجھے کو نہیں بلکہ میری ساری امت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ وسوی ذی الحج کو قربانی کرے عید منا کریں۔ حضور صلی الله عليه وآله وسلم سے پین کر کہ اپ کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے ایک صحابی (جب کہ قربانی واجب ہے اور ہر ایک کے ذمہ اس کی ادائیگی ضروری ہے اس لیے وہ) عرض کہ یا رسول اللہ مجھے استطاعت تو نہیں ہے کہ قربانی کرسکوں، البته مجھے دودھ پینے کے
لے ایک صاحب بگری دے پین واجب کی ادائیگی کے لئے اس دی بھوتی بگری کی قربانی کروائیا
ہوئی (پچھر جب مجھ کو نجاٹش بھوگ تو میں ان کا قرض ادا کر دو لگا)۔ یعنے کر سول اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے کرتے سکھتے میں، تم جسے محتاج شخص پر قربانی واجب نہیں ہے، خواہ کہواہ لوگوں
کی دی بھوتی بگری بخیران کی اجازت کے ذریعے کرتے پچھر ادا کرنے کا خیال رکھنا اس طرح حکم نہیں
ہے، قربانی اس شخص پر واجب ہے جو صاحب نصاب ہے، تم کو بال، ناخن دور کرنے عسل کرنے اور
میل چکیل دور کرنے مسلمانوں کے ساتھ عید کی خوشی منانا ہی کافی ہے (تمہاری نیت قربانی کرنے
کی خاطر مجبوڑی سے نہ کر سکتو تمہاری نیت کی وجہ سے تم کو قربانی کا ثواب دیا جاتے گا)۔
(اس حدیث کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔)
زوالحج کے عشرہ اول کی فضیلت
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have been commanded to observe the day of Eid al-Adha as a festival, which Allah has made for this Ummah." A man asked, "O Messenger of Allah, what if I cannot find anything except a female sheep that I have been lent? (3) Should I sacrifice it?" He replied, "No. (4) But you should cut your hair, (5) trim your nails, shorten your mustache, and shave your pubic hair. That will complete your sacrifice in the sight of Allah." [Narrated by Abu Dawud and Nasa’i]
(3) The statement: "A female sheep that I have been lent." Al-Sindi said: "The original meaning of 'Manihah' is what a person lends to another to drink its milk, then returns it. Here, it refers to any sheep, as it is customary to lend it. The Prophet (ﷺ) prohibited it because the man did not own it and could not benefit from it."
Alternatively, it may refer to a sheep lent specifically for milk, and the prohibition is because it is owned by someone else. The man thought it did not need to be returned, but the Prophet (ﷺ) said, "The Manihah must be returned."
(4) The statement: "He replied, 'No.'" The apparent meaning of the hadith is that the Udhiyah is obligatory except for those who are unable. Abu Hanifah said: "It is only obligatory for those who own the nisab." This is mentioned in Al-Mirqat.
(5) The statement: "Cut your hair." Al-Sindi said: "It seems the Prophet (ﷺ) guided him to participate in the Eid and its joy by removing dirt, which suffices if one cannot find an animal to sacrifice. Allah knows best."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں (زی الحج کے عشرہ اول کی بڑی فضیلت ہے)۔ جس قدر ان
دونوں میں نیک عمل کرنے کا ثواب ہے، اتنا ثواب کسی اور دونوں کے نیک عمل کرنے میں نہیں ہے۔
صحابہ عرض کرتے: حضرت! کیا اور دونوں میں جہاد کرنے کے ثواب سے ان دونوں میں نیک عمل
کرنے کا ثواب زیادہ ہے؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے: بالان دونوں میں نیک
عمل کرنے کا ثواب اور دونوں کے جہاد کے ثواب سے بھی زیادہ ہے، گر ایک ایسا شخص جو اللہ کی
راہ میں جہاد کرنے کے لئے جان و مال لے کر نکلا (اور اپنے لئے زکر جہاد کیا) کہ اس کی جان پچی
نہ مال (جان اور مال سب اللہ کی راہ میں قربان کردیا) ایسے شخص کے عمل کا ثواب زی الحج کے
عشرہ اول میں نیک عمل کرنے کے ثواب سے اللہ کے پاس زیادہ محبوب ہے۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"There are no days in which righteous deeds are more beloved to Allah than these ten days." The companions asked, "Not even jihad in the way of Allah?" He replied, "Not even jihad, except for a man who goes out with his life and wealth and returns with nothing." [Narrated by Bukhari]
ام المومنین عائشہ صدیقة رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے کہ دسویں ذی الحج کے دن قربانی کے جانور کا خون
بہانا جس اللہ تعالی کے پاس محبوب ہے ایسا کوئی نہیں عمل اس دن میں ایسا محبوب نہیں ہے اور یہ
قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگول، اپنے بالول اور اپنے کرول کے ساتھ ( صلی اللہ علیہ و آلہ )
آئے گا ( تاکہ قربانی کے بر عضو کے بدل میں قربانی کرنے والے کو ثواب میں، پل صراط پرسواری کے
کام آئے اور میزان میں نیک اعمال کے پلے میں قربانی کے جانور کو رکھا جائے تاکہ نیکیوں کا پلاڑا
اس سے بجاری ہوجائے ) ( قربانی کے جانور کا خون بہانا اللہ تعالی کو ایسا اچھا معلوم ہوتا ہے کہ
قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالی قربانی کو قبول فرما لیتے ہیں ( جب تم کو
معلوم ہو چکا ہے کہ قربانی اللہ تعالی کو کس قدر محبوب ہے اور اللہ تعالی سب اعمال نہیں زیادہ قربانی کو
پسند کرتے ہیں اور بہت جلد قربانی کو قبول فرما لیتے ہیں تو اب تم قربانی کرنا گرال نہیں ہونا چاہئے )
خوشی خوشی سے قربانی کیا کرو۔ ( اس کی روایت تزکیہ اور ابن ماجہ نے کی ہے )
ذوالحج کے عشرہ اول میں روزہ رکنا اور شب بیداری کا ثواب
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"No deed of the son of Adam on the day of sacrifice is more beloved to Allah than the shedding of blood. It will come on the Day of Resurrection with its horns, hair, and hooves, and the blood will reach Allah before it falls to the ground. So purify your hearts with it." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ ( پول تو نیک اعمال خواہ کسی مہیں میں ہول اللہ تعالی کو نہاپت محبوب
ہیں ) مگر ذی الحج کے پہلے دن میں جونیک اعمال کے جاتے ہیں وہ اللہ تعالی کو جسے محبوب ہیں اور
دونوں کے اعمال ایسے محبوب نہیں ہیں ( اس سے آپ کو اندازہ لگا کہ ان دونوں کے نیک اعمال اللہ
تعالی کو کس قدر محبوب ہیں کہ دسویں ذی الحج کے سوا کے اس دن کا روزہ تو حرام ہے باقی ) نویں تک کا
ہر روزہ ثواب میں ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ان دونوں میں شب بیداری کا ثواب شب
قدري شب بپداری کے ثواب کے برابر ہے۔ (اس کی روايت ترمذي اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are no days in which worship is more beloved to Allah than the ten days of Dhul-Hijjah. Fasting one day during them is equivalent to fasting a year, and standing in worship one night during them is equivalent to standing on the Night of Decree (Laylat al-Qadr)." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
زید بن ارم رضی اللہ عنہ روایت ہوہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحابہ دریافت کرتے: یا رسول اللہ قربانی کیا چیز ہے؟ اوراس کی بناء کب سے ہوتی ہے؟ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے کہ (قربانی کی بناء حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں پڑی اس لئے) قربانی تہیار کے باب پر حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنہ، (حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد تمام شریعتوں میں جاری رہی۔ پھر شریعت اسلام میں جبی اس کو قائم رکھی) صحابہ عرض کرتے: یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربانی کی بناء کب سے ہوتی رہی تو ہم کو معلوم ہوگیا۔ مگر نہیں معلوم ہوا) کہ قربانی کرنے میں کیا ثواب ہے؟ حضرت ارشاد فرماتے: قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلمیں ایک ایک نیکی ملتی ہے، صحابہ عرض کرتے: حضرت! (شریعتی بال تو گاہے، بگڑول اور چھیلون میں ہوتی ہیں ان کے ہر بال کے بدلمیں ایک ایک نیکی کا ملنا معلوم ہوا۔ مگر مینڈے اور اونٹ قربانی کرنے میں جو ثواب ہے وہ نہیں معلوم ہوا۔ حضرت فرماتے: مینڈوں اور اونٹوں کے بال کو صوف لعنی اون کہتے ہیں) اون کے کچھ ہر بال کے بدلمیں ایک ایک نیکی ملتی ہے۔ مسلماں! سوچو، قربانی کا کیا ثواب ہے ایک ایک بال کے بدلمیں ایک نیکی ملتی ہے۔ مگر بال میں اور کس قدر نیکی ملتی ہیں اس کا پکھا اندازہ کر سکتا ہو، عمر بھر میں نیکیاں کروگے تو اتنی نیکیاں نہیں کرسکتے۔ قربانی کرنے اتنے بہت نیکیاں بہت آسانی سے حاصل کرلو۔ (اس حدیث کی روايت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
مر دول کی طرف سے قربانی دینے کا بیان
Zayd ibn Arqam (may Allah be pleased with him) narrated: "The companions of the Messenger of Allah (ﷺ) asked, 'O Messenger of Allah, what are these sacrifices?' He replied, 'The tradition of your father Ibrahim.' They asked, 'What is in it for us, O Messenger of Allah?' He said, 'For every hair, there is a reward.' They asked, 'What about the wool, O Messenger of Allah?' He said, 'For every hair of the wool, there is a reward.'" [Narrated by Ahmad and Ibn Majah]
حنش رضی اللہ عنہ روایت ہوہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی
اللہ عنہ کو دو مینڈے ذنہ کرتے ہوئے دیکھ کر دریافت کیا کہ حضرت آپ پر دو مینڈے کیون ذنہ کر رہے ہیں؟ (ایک مینڈہ ایک آدمی کی طرف سے قربانی کے لے کافی ہے) تو حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں حضور کی طرف سے قربانی کیا کروں (اس لے میں ایک بڑا تو اپنی طرف سے قربانی کر رہا ہوں اور دوسرا بڑا حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قربانی دے رہا ہوں)۔ (اس حدیث کی روایت البوداود نے کی ہے اور تز ندی نے مجھی اس طرح روایت کی ہے۔) ف: واضح رہے کہ جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے قربانی دے ہیں ایسا، یہ تم مجھی اپنے مردون کی طرف سے قربانی دے سکتے ہیں، گر مردون کی وصیت کی وجہ سے قربانی دی گئی ہے تو اس پوری قربانی کو خیرات کردیتا چاہے خود اس کو میں کہنا چاہتے اور اگر بھی مردون کی وصیت کے خود مردون کو ثواب پیاو چاہے کے لے قربانی کی گئی ہے تو اس قربانی کو مش اپنی قربانی کے خود مجھی کہا سکتا ہے اور دوسرون کو مجھی کہا سکتا ہے۔ (ورمتار)۔ پیغیب جمن جانورول میں پاے جا سکیں ان کی قربانی جانترخیمین پہلی حدیث
Hanash reported: "I saw Ali (may Allah be pleased with him) sacrificing two rams. I asked him, 'What is this?' He replied, 'The Messenger of Allah (ﷺ) instructed me to sacrifice on his behalf, so I am sacrificing for him.'" [Narrated by Abu Dawud]
Tirmidhi narrated something similar.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کن کن جانورول کی قربانی ندی جاتے (یعنی قربانی کے جانور میں وہ کون سے عیب ہیں جن کی وجہ سے ان کی قربانی دینا جانترخیمی ہے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگیول کے اشارے سے فرمایا کہ (چار عیب ہیں، ان چار عیوب میں سے جو عیب جس جانور میں پایا جائے اس کی قربانی ندی جاتے): (1) اس لگز لے جانور کی قربانی ندی جاتے جس کا لگز ا ہونا اس طرح ظاہر ہو کر وہ چل نہ سکے (اگر معمولی لگز ہو تو پکڑ کر ج نہیں)۔ (2) اور نہ اس کا نے جانور کی قربانی کی جاتے جس کا کانا پن ظاہر ہو، یعنی ایک آنکھ سے باکل دکھائی ندے، یا
اس ایک آگے میں آدھے سے زیادہ پینالی نہ ہو۔ (3) اور اس پیار جانور کی قربانی کی جائے جس کا پیار ہونا (اس طرح) ظاہر ہو (کہ وہ چارہ نہ کھائے)۔ (4) اور اس دبلے جانور کی قربانی کی جائے جوا تناو بلا ہو کر جس کی بڑی تک میں گودا نہ ہو۔ (اور اس کی وجہ سے وہ کٹرا نہ سکتا ہو)۔
(اس حدیث کی روایت امام ما لک، امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نساوی، ابن ماجہ، دارقی اور طحاوی نے کی ہے۔)
دوسری حدیث
Al-Bara’ ibn Azib (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) was asked what defects should be avoided in sacrificial animals. He gestured with his hand and said, 'Four: the lame whose limp is evident, the one-eyed whose blindness is evident, the sick whose illness is evident, and the emaciated that has no marrow in its bones.'" [Narrated by Malik, Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa’i, Ibn Majah, Al-Darimi, and Al-Tahawi]
ابوالضحا کعبیر بن فیروز مولی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے برائے رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے قربانی کے جانور کے متعلق حدیث سنائی کہ کن جانور کی قربانی کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منع فرماتے ہیں۔ برائے رضی اللہ عنہ جواب دیا کہ (حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مجھی اپنے دریافت کیا گیا تھا) اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کہترے ہوئے تھے، آپ اپنے انگلوں سے اشارہ فرماتے: (کیا کہول حضرت کا دست مبارک کیسا تھا حضرت کا دست مبارک اپنا خوبصورت نظر آرہا تھا کہ ) میرا با تھو حضور کے دست مبارک کے ساتھ چھوٹا اور حقیقی معلوم ہور پا تھا حضور فرماتے کہ (چار عیب میں ان میں سے کوئی عیب جس جانور میں پایا جائے اس کی قربانی نہوی جائے): (1) ایک اس کانے جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا کانا پین ظاہر ہویجئی ایک آگلے سے بالکل دکھائی نہ دے یا اس ایک آگلے میں آدھے سے زیادہ پینالی نہ ہو۔ (2) دوسرا اور نہ اس پیار جانور کی قربانی کی جائے جس کا پیار ہونا (اس طرح) ظاہر ہو (کہ وہ چارہ نہ کھائے)۔ (3) تیسرے ایسے لگر کے جانور کی قربانی کی جائے جس کا لگر اہونا (اس طرح) ظاہر ہو (کہ وہ چل نہ سکے)۔ (4) چوتھے اس دبلے جانور کی جس قربانی نہ کی جائے جوا تناو بلا ہو کر اس کی بڑی تک
میں گودا نہ ہو (جس کی وجہ سے وہ کھڑا نہ رہ سکتا ہو)۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضورؐ سے عرض کیا کر میں قربانی میں ایسے جانور کو جسے ناپسند کرتا ہوں۔ جس کے سینگ میں نقص ہو، لیعن اس کے سینگ لوٹ گئے ہوں اور ایسے جانور کو جسے ناپسند کرتا ہوں۔ جس کے دانتوں میں نقص ہو۔ لیعن اس کے پچھے دانت گرنے ہیں (اور حقنے گرنے ہیں ان سے زیادہ باقی ہیں)۔ اور میں ایسے جانور کو جسے قربانی کے لیے پسند نہیں کرتا۔ جس کے کان میں نقص ہو لیعن کان کا پچھے حصہ کٹا ہوا ہو تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب دے کہ جس جانور کو تم قربانی میں پسند نہیں کرتے تو تم اس کو چھوڑ دو۔ اور دور کروا جانور جو ایسا نہ ہو۔ اس کی قربانی کرلو، یہ تمام روح تقوی کی بات ہے گرم) دور کروا لے جانور کے حرام اور ناجائز ہونے کا فتوی نہ دو۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے)
Abu al-Dahhak Ubayd ibn Furayz, the freed slave of Banu Shayban, reported: "I asked Al-Bara’, 'Tell me what the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited regarding sacrificial animals.' He said, 'The Messenger of Allah (ﷺ) stood, and my hand was shorter than his. He said, "Four are not acceptable: the one-eyed whose blindness is evident, the sick whose illness is evident, the lame whose limp is evident, and the emaciated that has no marrow in its bones."' I said, 'I dislike it if there is a defect in the horn (1) or a defect in the teeth.' (2) He said, 'What you dislike, leave it, but do not forbid it to anyone.'" [Narrated by Nasa’i]
In a narration by Ibn Majah: "I said, 'I dislike it if there is a defect in the ear.' He said, 'What you dislike, leave it, but do not forbid it to anyone.'" Al-Tahawi narrated something similar.
(1) The statement: "A defect in the horn." In Rad al-Muhtar, it is said: "It is permissible to sacrifice a hornless animal, one that naturally has no horns. Similarly, an animal with a broken horn is permissible unless the break reaches the brain."
(2) The statement: "A defect in the teeth." In Talkhis al-Habir, it is said: "Al-Qadi al-Husayn narrated from Al-Shafi’i that he said, 'We do not find any prohibition from the Prophet (ﷺ) regarding defects in the teeth.'"
نسائی اور ابن ماجہ نے صرف کان کے متعلق روایت کی ہے اور امام طحاوی نے جس ف: واش رہ کر قربانی کے جانور کے سینگ، دانت اور کان کے متعلق پچھا حکام تو آپ اس حدیث شریف کے تزجم میں نے لے ہیں، باقی احکام اب سنگ:
(1) جس جانور کے پیاشع، یہ سینگ نہیں اس کی قربانی درست ہے البتہ جس جانور کے پیاشع سے سینگ تو ختم گرنے بعد میں بالکل جھڑے لوٹ گئے تو اس کی قربانی درست نہیں۔
(2) جس جانور کے بالکل دانت نہیں، اس کی قربانی درست نہیں۔
(3) جس جانور کے پیاشع، یہ سے دو کان نہ ہول یاصرف ایک کان نہ ہواس کی قربانی درست نہیں ہے۔ یا الیاہی جس جانور کا ایک کان پورا کٹا ہوا ہواس کی قربانی بھی درست نہیں گر کان تو پین لیکن بالکل ذرا زرا تے چھوٹے چھوٹے پین تو اس کی قربانی درست ہے۔ (رواحثار)12
Nasai and Ibn Majah have narrated only regarding the ear, while Imam Tahawi included in his compilation of this noble hadith the rulings concerning the horns, teeth, and ears of sacrificial animals, along with other rulings as follows: (1) The sacrifice of an animal whose horns have not grown is valid, except if the horns have completely fallen off after the animal's growth, then its sacrifice is not valid. (2) The sacrifice of an animal that has no teeth at all is not valid. (3) The sacrifice of an animal that has no ears or only one ear is not valid. Similarly, the sacrifice of an animal whose one ear is completely cut off is also not valid, but if the ear is only partially cut or has small cuts, then its sacrifice is valid. (Rulings)
حُجَيْهُ بن عدي رضي الله عنه روايت ہے وه فما تے پین کر حضرت علي رضى
اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کرائے کے قربانی (زیادہ سے زیادہ) سات آدمیوں کی طرف سے ہوسکتی ہے،
اگر سات آدمیوں سے کم بھی ہول تو ایک کے ان کی طرف سے قربانی دی جاسکتی ہے اگر سات آدمیوں
سے زیادہ ہول اور ایک کے ان سب کی طرف سے قربانی دی جائے تو سات آدمیوں کی طرف سے تو
قربانی اداء ہوجائے گی اور سات آدمیوں سے جوزیادہ ہیں ان کی طرف سے قربانی نہیں ہوگی۔ راوی کہتا
ہے میں نے عرض کیا کہ قربانی کے لیے جوگاہ نہخریدی گئی تھی، وہ کاہجسن تھی، اگر قربانی سے پہلے وہ پڑ
جن تو اس پر کوکیا کیا جائے، پس کر حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماے: (کہ اس پر کوتم اپنی ملک نہ
سکھنا، تم اپنے تصرف میں نہ لانا) مال کے ساتھ اس پر کوزن کردو(قربانی کا جانور تومال کچھ جائے گی-
اس کوتم کہنا، البتہ قربانی کے جانور کی جوعمر تلاش گئی ہے پھر اس عمر کانہ ہونے سے پھر کو قربانی کے لیے ذبح
شہیں کیا گیا، صرف خالص عبادت ہی ہے، اس کے اس پر کاگوشت نہ کہا جائے اس کے گوشت کو
خیرات کرویا جائے اگر قربانی کرنے والا اس پر کے گوشت سے پھر کہا نے تو جتنا گوشت کہا یہ اس کی
قیمت خیرات کردے عالمگیری اور رواختار میں ایسا ہے راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت علی رضی
اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اگر قربانی کا جانور لگراہوتواس کا کیا حکم ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماے:
(قربانی کے جانور میں لگراپنہوتا یہ جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ مگر لگراپنے میں سے مراد یہ ہے کہ
اس کا لگراپن اس طرح ظاہر ہو کہ وہ چل نہ سکے، بخلاف اس کے) وہ لگراہو نے کے باوجود قربانی کی
جلد تک چل سکتا ہے تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ (اس کا ایسا لگراپن قربانی سے مانع نہیں ہے) میں
نے پھر عرض کیا کہ جس قربانی کے جانور کا سینگ لوطا ہواہوتا اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
فرما کر ایسے سینگ لوطے ہوئے جانور کی قربانی کرنے میں کچھ مضاقت نہیں (بالاگر سینگ لوطے
لوٹے گے ہوئے تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ فرما کہ تم کو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یحم دے ہیں کہ تم اچھی طرح قربانی کے جانور کی آنکھوں کو اور کانوں کو کیا
کریں (اگر آپ کو اور کام اٹھنے ہون تو قربانی کریں، ایسائی آدمی نصف سے کم خرابی ہوتوا س جانور کی بھی قربانی کر سکتے ہیں، اگر نصف یا نصف سے زیادہ خرابی ہوتوا یے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے)- ایسا ہے اگر نصف سے کم کان کے ہوئے ہول تو اس جانور کی قربانی جائز ہے، بالا اگر نصف یا نصف سے زیادہ کان کے ہوئے ہول یا پورا کان کتا ہوا ہوتوا یے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے)-
(اس حدیث کی روایت داری، نسائي، ابن ماجه، دارقطني، ترمذي، البوداوو، طيالسي اور ترمذي نے کی ہے اور اس کی روایت حاکم نے بھی مستدرک میں کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے-)
Allah, the Exalted, says: The sacrifice can be made on behalf of up to seven people. If there are fewer than seven, one can make the sacrifice on their behalf. If there are more than seven and one makes the sacrifice on their behalf, it will count for seven, but not for those beyond the seventh. The narrator says: I asked about a place that was not purchased for the sacrifice, which was good. If it becomes defective before the sacrifice, what should be done? Then, Allah's Messenger (RA) Ali (RA) instructed: 'Do not let it become your property; do not bring it under your control with money. Sacrifice it, and whatever meat remains, give it as charity. However, if the one making the sacrifice takes some of the meat, they should pay its value in charity. This is the practice in both the world and the hereafter.' The narrator says: I asked Ali (RA), 'What is the ruling if the sacrificial animal is lame?' Ali (RA) replied: 'A lame animal is not permissible for sacrifice unless its lameness is such that it cannot walk. If it can still walk until the time of sacrifice, then it is permissible to sacrifice it. Such lameness does not prevent the sacrifice.' I then asked, 'What is the ruling if the horns of the sacrificial animal are broken?' Ali (RA) said: 'There is no harm in sacrificing an animal with broken horns. However, if the horns are completely broken off, then the sacrifice is not valid.' Ali (RA) further said: 'The Messenger of Allah ﷺ has commanded you to take good care of the eyes and ears of the sacrificial animal. If you have other tasks to attend to, you may perform the sacrifice. An animal with less than half of its eye or ear damaged is permissible for sacrifice, but if it is half or more damaged, it is not permissible.'
The narrators of this hadith include Nasa'i, Ibn Majah, Dar Qutni, Tirmidhi, Al-Bazzar, Tayalisi, and Tirmidhi. Hakim has also narrated it in his Mustadrak, and Tirmidhi has stated that this hadith is hasan sahih.
36-37/2225-2226 _قادرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ سعید بن الحصیب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کر (حدیثوں میں اعضب کی قربانی سے منع کیا گیا ہے اعضب کس کو کہتے ہیں؟ تو سعید بن الحصیب نے فرمایا کر اعضب وہ جانور ہے جس کا کان پاسینگ آدھا آدھے سے زائد کتا ہوا ہو-
(اس کی روایت البوداوو نے کی ہے اور ترمذي اور طحاوي نے بھی اس طرح روایت کی ہے-)
_ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ کہم نے قربانی دینے کے لیے ایک دنبہ خریدا تو بھیڑ کے نے اس کی ذم کے دونوں حصون میں سے پچھا اور کان کے بھی پچھا حصہ کو کتر کیا (جونصف سے کم تھا)، تم نے اس طرح کے دنبہ کی قربانی کرنے کے متعلق حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حکم دریافت کیا تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دے کر تم اس طرح کے دنبہ کی قربانی کردیں (اس لیے کر اس کی دم اور کان کے نصف سے کم کا نقصان ہوا
ہے اور دم اور کان کا اثر حضرت و سلم ﷺ اور اکثر کا حکم کل کا ہے، اس لے سم ججا جائے گا کل دم
اور کل کان تج و سالم ﷺ، اس لے قر بانی درست ہے )۔( اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے )
قر بانی مسافر پر واجب نہیں
Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated:
"We bought a ram to sacrifice, but a wolf injured its hindquarters and ear. We asked the Prophet (ﷺ), and he commanded us (2) to sacrifice it." [Narrated by Ibn Majah]
(2) The statement: "He commanded us, etc." In Injah al-Hajah, it is said: "Perhaps this defect did not prevent the sacrifice because the majority of the animal was intact. This is mentioned in Al-Durr."
_ ابراہیم نخعی رضی اللہ عز و جل عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مقیم پر قر بانی واجب
ہے (مسافر پر واجب نہیں) گر حاچون پر قر بانی واجب نہیں ہے (اس لے کر عموماً حاجی مسافر ہوتے
ہیں، اگر اعلیٰ ملک جو ملد میں مقیم ہیں وہ نہ کریں تو ان پر بھی قر بانی واجب ہوگی اس لے کر وہ مقیم
ہیں )۔( اس حدیث کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ )
قر بانی کتنے دونوں تک کی جائے
پہلی حدیث
Ibrahim reported: "The Udhiyah is obligatory for the residents of cities, (3) except for the needy." [Narrated by our Imam Abu Hanifah]
(3) The statement: "For the residents of cities, etc." This indicates that the Udhiyah is obligatory for residents but not for travelers.
_ نافع رضی اللہ عز و جل عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عز و جل عنہما
فرماتے ہیں کہ زی الحج کی دسوی تاریخ عید قر بانی ہوتی ہے اس دن قر بانی کی جائے ہے اس کے بعد
اور دودن لیعن گیارہ اور بارہ تاریخ کو بھی قر بانی کر سکتے ہیں (بارہ تاریخ کے سورج ظہیر ہوتے قر بانی
کر نے کا وقت ختم ہوجاتا ہے )۔( اس حدیث کی روایت امام ما لک نے کی ہے اور امام ما لک نے کہا ہے کہ مجھے حضرت علی بن
ابی طالب رضی اللہ عز و جل عنہ ایسی، یی روایت پہو چی ہے )۔
الیضاً دوسری حدیث
Nafi’ reported that Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "The Udhiyah is for two days after the day of Eid al-Adha." [Narrated by Malik]
Malik said: "It reached me that Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) said the same."
_ ابن عباس رضی اللہ عز و جل عنہما تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ قر بانی کرنے کی
دن صرف تین ہیں _ ایک تؤ یوم آخر لیعن عید کا دن ہے اور عید کے دن کے بعد دودن اور لیعن
گیارہویں اور بارہویں ذہب کو بھی قر بانی کر سکتے ہیں (اس طرح قر بانی کرنے کے جملہ تین دن
ہوئے _ (اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے جد سنڌ کے ساتھ کی ہے _ )
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: "The Udhiyah is for three days: the day of Eid and the two days after it." [Narrated by Al-Tahawi with a good chain]
Our Imam Abu Hanifah narrated something similar from Ibrahim.
_اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے بھی اس طرح ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ
اس کی روایت کی ہے _
ایضاً تیسری حدیث
Additionally, the third hadith
_ انس رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرے کادن ہے اس کے بعد گیارہ اور بارہ کے غروب تک مجھے قربانی کر سکتا ہیں، بارہ کے غروب
کے بعد پھر قربانی کر نے کا وقت باقی نہیں رہتا ) _ (اس حدیث کی روایت تہذیب نے کی ہے _)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
The Messenger of Allah ﷺ said: 'One may perform the sacrifice after the Eid prayer on the day of sacrifice, until the sun sets on the thirteenth day. After the twelfth day, there remains no time for performing the sacrifice.'