اس باب میں سفر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان ہے
مسافر کی نماز کے احکام
ف: واخ ہوکہ وہ سفر جس کے احکام اس باب میں نذور پین عام سفربیں سے بلکہ وہ ایاسفر
ہے جس میں تین منزل یا تین منزل سے زیادہ سفر کر نے کا ارادہ ہو اور تین منزل لے (48) میل
جوئے ہیں (جس کا حساب کیلومیٹر میں 97 کیلومیتر ہوتا ہے) اس طرح کونی سفر کر رباہوتو اس کوچار
رکعت والی فرض نمازویعن ظہر وعصر وعشاء کوقضر کر کے دورکعت می پڑھناچائے، اس لے کہ قصر نہہب
حق میں واجب ہے، اگر قصر نہ کر کے پوری نماز پڑھ کا تو گنهگار ہوگا۔ نجر او رمغرب کے فرض اورنماز
وتر میں قصر نہیں ہے بلکہ ان کو بمیش کی طرح پورا اداء کرنا چاہیے۔ اب رہے سنن اورنوافل تو ان میں کچھ
قصر نہیں ہے اطمینان ہواورجلدی نہ ہوتو پوری سنن پڑھے اور اگر جلدی ہو، اور ساتحیول سے چھوٹ
جانے کا خوف ہویا سواری جیسے ریل وغیرہ کے نہ ملنے کا اندیشہ ہوتو پوری سنن کو تک کرسکتا ہے۔
اگر مسافر چار رکعت والی نماز میں کسی مقام پرامام کی اقتدا کر رباہے تو وہ امام کے ساتھ پورے
چار رکعت اداء کر لے اور قصر نہ کرے، اس کے برخلاف اگر امام مسافر ہواورمقتدی مقیم ہو تو امام قصر
کر کے چار رکعت والی نماز میں دورکعت اداء کر کے سلام پچیر دے اور مقیم مقتدی کو چاہیے کراپی باقی
نماز اتحکر پوری کر لے اور اس میں قرآن ت ذکرے بلکہ چپ کہارہ اس لے کروہ لا حق ہے۔
قصر کے نذوره احكام اس مسافر سے متعلق ہو لے گے جبکہ وہ کسی مقام پر (15) دن سے کم
رسے کا ارادہ رکتا ہو، اگراس نے (15) دن یاس سے زیادہ قیام کر نے کا ارادہ کر لیا تو وہ مقیم ہوجا گے
گا، اور قصر نہیں کر لے گا بلکہ تمام نماز ون کو بمیش کی طرح پوری اداء کر لے گا۔ (ورمتار)
وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : "وَاذا ضَرَبْتُمْ فِى الأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُناحٌ" آن
تَقْصُرُوَا مِنَ الصَّلوۃِ" (سورۃ نساء پ5 ع15، آیت نمبر:101 میں) اللہ تعالی کا ارشاد ہے,
مسلمانو! جب تم کہیں سفر کرو (جس کی مقدار تین منزل لیگنی (48) میل (77.25 کلو میٹر) ہوتی ہے پر گناہ نہیں (بلکہ ضروری ہے) کہ تم چار رکعت والی فرض نماز لیگنی ظہر و عصر و عشاء میں قصر کرو (لیگنی چار کی جگہ دو پڑھا کرو)
وقولہ تعالی: "انَ الصَّلوۃ کانتْ عَلی الْموْمنینَ کِتبًا مَوْقوتا"، اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے (سورۃ نساء پ5 غ15، آیت نمبر:103 میں) (سفر کی وجہ سے تم کو بھی ہولت دی گئی ہے کہ فرض نماز ولی قصر کیا کرو، مگران کو محک کر کے ب وقت نہیں پڑھنا چاہیے) اس لیے کہ مومنون پر ہر نماز کا وقت مقرر ہے (نماز کواس کے وقت پڑھی پڑھنا چاہیے، وقت پر نہ پڑھ کر ب وقت اداء نہ کریں)
And alas, that journey which is subject to the rules mentioned in this chapter is not the ordinary travel but rather it is a journey where one intends to travel beyond a settled destination or more than a settled destination, which is 48 miles (which is approximately 97 kilometers). In such a journey, one should shorten the obligatory prayers of four rak'ahs, namely Dhuhr, 'Asr, and 'Isha, and Qada, by performing them as two rak'ahs. This is because shortening (qasr) is obligatory in such cases; if one does not shorten and performs the full prayer, they will be sinful. There is no shortening in the obligatory prayers of Fajr and Maghrib, nor in the Witr prayer; these must be performed in full as usual. As for Sunnah and Nafl prayers, there is no shortening; if one can perform them in full without haste, they should do so. However, if there is haste, or fear of missing a conveyance such as a train or other means of transport, one may shorten the Sunnah prayers. If a traveler joins an Imam at a place and follows him in a four-rak'ah prayer, they should complete all four rak'ahs with the Imam and not shorten. Conversely, if the Imam is a traveler and the follower is a resident, the Imam should shorten the four-rak'ah prayer to two rak'ahs and conclude the prayer, while the resident follower should complete the remaining two rak'ahs. It is not permissible to recite the Qur'an or make remembrance (dhikr) silently in this case. The rules of shortening apply to a traveler who intends to stay at a place for less than 15 days. If they intend to stay for 15 days or more, they become a resident and must perform all prayers in full as usual. And the statement of Allah, the Exalted, is: 'And when you travel through the land, there is no blame upon you for shortening the prayer' (Surah An-Nisa, verse 101). This is the guidance of Allah, the Exalted.
O Muslims! When you travel (a distance of three parasangs, which is approximately 48 miles or 77.25 kilometers), it is not a sin (but rather necessary) that you shorten the obligatory four-rak'ah prayers of Dhuhr, 'Asr, and 'Isha by offering two rak'ahs instead. As Allah, the Exalted, says: 'Verily, prayer is enjoined on the believers at fixed times' (Surah An-Nisa, Chapter 4, Verse 103). And the guidance from Allah, the Exalted, is (in the same verse): (Due to the hardship of travel, you are permitted to shorten the prayers, but they should not be delayed beyond their prescribed times) because every prayer has been appointed a specific time for the believers (prayers should be performed within their designated times, and not delayed until after their times have passed).
وقوله تعالي فاينما تولوا فثم وجه الله اور الل تعالي كا ارشاد سور بقر غ ايت نمبر مي تم لو جس طرف من كروا د ر الل تعالي كا رخ اس لي سنن اور نوافل سفر مي ول يا حضر مي ش ر ك با ر ول تو سواري ر سكت ي اي سواري كا رخ ابتداء نماز يا درميان نماز ر دو موقعول رسي ك سمت و قبل رو ونا ضروري ن ي
- (تفسیرات احدیث، درختار )
مسافر قصر نماز کب شروع کرے
پہلی حدیث
When should a traveler begin to shorten their prayer?
The first hadith
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مدینہ منورہ سے کہ معظمر کا سفر کر رہے تھے، جب مدینہ شریف سے نقل رہے تھے تو وہ ظہر کا وقت تھا تو آپ) ظہر کے چار رکعت پڑھا یے (حالانکہ آپ سفر کا ارادہ کر چکے تھے، ظہر کواس وجب سے قصر نہیں فرماتے کرا کچھ آپ (آباوی سے باہر نہیں ہولے تھے) جب حضور ذوالفیکر ہولے پچ
(تو عصر کا وقت ہوگیا تھا تو ذو الکلبینہ میں عصر کو قصر کر کے ) عصر کو دور کے پڑھاے - (اس سے معلوم ہوا کہ اپنی بستی سے باہر ہونے کے بعد نماز ول میں قصر ثروع کرنا چاہئے، اور اس طرح راستہ میں جمعی قصر کیا کریں)- (اس حدیث کی روایت بنخاری اور مسلم نے مستقیم طور پر کی ہے)
دوسری حدیث
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Zuhr in Madinah as four rak’ahs and Asr at Dhu al-Hulayfah as two rak’ahs." [Agreed upon]
ابو حرب ابن ابي اسود ولي رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (سفر کا ارادہ کر کے ) بصرہ سے نکل (ابھی آپ آبادی میں تھے، اور آبادی سے باہر نکل چکے تھے کہ ظہر کا وقت ہوگیا باوجود سفر کا ارادہ کرنے کے ) ظہر کے چار رکعت پڑھائے (اور قصر نہیں کے ) اور فرماتے کہ اگر تم اس ججومنہ رکعت سے آگے برہجاتے (جو کہ آبادی کا آخری حصہ ہے) تو تم ظہر کو قصر کر کے دور کے پڑھتے۔
(اس کی روايت ابن ابي شيبة نے کی ہے اور عبد الرزاق نے بھی اس طرح روایت کی ہے)
امتنہویاخوفبرحالتمیںنمازولمیںقصرضروریہے
پہلی حدیث
Abu Harb ibn Abi al-Aswad al-Dayli reported that Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) left Basra and prayed Zuhr as four rak’ahs. He then said: "Had we crossed this thicket, we would have prayed two rak’ahs." [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Abd al-Razzaq with a similar narration]
حارث بن وهب خزا عی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جهوداع اداء فرماہے تھے )جب منی میں پہو چے تو (وہ لچار رکعت والی نماز قصر کر کے ) دور کے پڑھائے، حالاکہ ہماری تعداد جهوداع میں اس قدر کثیر تھی کہ پہلے بھی ابی نہ تھی، اور تم کو فرار سے بھی کوئی خوف نہیں تھا۔ تم بہت امن واطمینان سے تھے (باوجود اس کے پھر حضور تم کو چار رکعت والی فرض نماز کو قصر کر کے دور کے پڑھائے، اس سے معلوم ہوا کہ تعداد کا کم ہونا اور فرار سے خوف کا ہونا قصر کی شرط نہیں ہے، بلکہ حال سفر میں قصر کرنا ضروری ہے، اب ربا یکا یت کریہ و اذا ضربتم فی الارض فليس عليكم جناح ان تقصر وا من الصلاة
، ان خفتُمْ أن يَفْتنَکُمُ الَّذینَ كَفَرُوا، إنَّ الْکَفَرِینَ گاںوَا لکُمْ عَدُوًّا مُبِینًا،(مسلمانو!)
جب تم کہیں سفر کرو (جس کی مقدار تین منزل لیعن 48 میل (97 کلو میٹر) ہوتی تم پڑناہیں (بلکہ
ضروری ہے کہتم چار رکعت والی فرض نماز لیعن ظہر وعصر وعشاء میں ) قصر کرو (لیعن چار کی جگہ دو پڑھا
کرو ) بے شک کافرتہارے کے دشمن ہیاس آئت میں بظاہر قصر کے لے خوف ہونے کی جوپیر
معلوم ہورہی ہے وہ اتفاقی قید ہے، ضروری قید نہیں ہے چونکہ سفر میں اکثر خوف رباکرتا ہے، اس
لے اتفاقی طور پرآیتہ ثریفہ میں خوف کی قید نذکور ہے اگر قصر کے لے خوف ضروری ہوتا تو حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہہ الوداع کے موقع پر باوجود امس کے قصر نہفرماتے حضور کا جہہ الوداع
کے موقع پرامس کی حالت میں قصر فرمانا اس سے واضح طور پر ثابت ہوتاہے کہقصر کے لے خوف
ہونا ضروری نہیں ہے جسیا کراس حدیث سے واضح ہے)-
(اس کی روایت بخاری اورمسلم نے مستقق طور پرکی ہے)-
دوسری حدیث
خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہاگر تم کوخوف ہو کہ نماز پڑھنے کی حالت میں
کفارتم پرحمل کردیا گے تو تم (چار رکعت والی) فرض نماز ولی قصر کیا کرو، اب (جب کہ کفار کے حمل
کاخوف باقی نہ رہااور) لوگ امن وحیبن کی زندگی بسر کر رہے ہیں (توآیتہ ثریفہ میں قصر کے لے
خوف کی جوپیدہ باقی نہ رہنے سے قصر کا حکم بجا باقی نہ رہنا چاہیے - پھر نماز قصر سے کیون پڑھی
جارہی ہے)(یعنی کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ تم جس چیز سے تجنب کر کے مجھے
پوچھرہے ہو، میں نے بھی اس طرح تجنب کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تھا
تو حضوروالا نے ارشاد فرمایا تھا کہیخدا تعالی کی عنايت اوراحسان سے کروہاپے فضل وکرم سے
تم پر آسانی کر رہے ہیں ( تم کیون کہتے میں بھٹلا ہورہے ہو ) ان کی اس آسانی کو قبول کر لو ( سفر میں خوف ہو یا نہ ہو بر حال میں قصر کیا کرو )۔( اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے )
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے : " فاقبلوا صدقۃ " لعنی سفر میں قصر کرنے کی جو اجازت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ ہے اس کا حسن ہے، تم اس احسان کو قبول کرلو، اس ارشاد گرامی میں " فاقبلوا " امر کا کا صیغہ ہے اور عموماً امر وجوب کے لئے ہوتا ہے تو اس حدیث سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے کہ سفر میں چار رکعت والی فرض نماز ول میں قصر کرنا واجب ہے اور قصر نہ کر کے پورے چار رکعت پڑھنا گناہ ہے۔ (یہ رقابت میں ذکور ہے )
سفر میں 15 دن سے کم قیام ہوتا ہو تو وطن اقامت نہیں ہوتا اس لئے نماز ول میں قصر کرتے رہنا چاہیے
When the Messenger of Allah ﷺ performed the farewell pilgrimage and reached Mina, he shortened the four-rak'ah obligatory prayers and combined them, although our numbers were so great during the farewell pilgrimage that they had never been seen before, and there was no fear of flight among you. You were in a state of great peace and security. Despite this, the Messenger of Allah ﷺ still shortened the four-rak'ah obligatory prayers and combined them, which shows that a small number and fear of flight are not conditions for shortening the prayer, but rather shortening is necessary during travel. Allah says: 'And when you travel through the earth, there is no blame upon you for shortening the prayer if you fear that those who disbelieve may cause disorder among you. Indeed, the disbelievers are ever, to you, manifest enemies.' (O Muslims!) When you travel (a distance of three stages, approximately 48 miles or 97 kilometers), you should shorten the four-rak'ah obligatory prayers (i.e., Dhuhr, Asr, and Isha) to two rak'ahs. There is no doubt that the disbelievers are your manifest enemies. The apparent condition of fear mentioned in the verse is incidental, not essential, as fear often accompanies travel. If fear were an essential condition for shortening, the Messenger of Allah ﷺ would not have shortened the prayers during the farewell pilgrimage despite the large number and security. His shortening of the prayers during the farewell pilgrimage in such circumstances clearly shows that fear is not an essential condition for shortening. This is evident from this hadith. (This narration is reported by Bukhari and Muslim.)
This noble hadith instructs: 'So accept the charity.' The permission granted for shortening the prayer during travel is Allah's charity; it is good, so you should accept this favor. In this blessed guidance, 'So accept' is in the form of a command, which generally indicates obligation. Therefore, this hadith supports the view of Imam Abu Hanifah (RA) that shortening the four-rak'ah obligatory prayers during travel is mandatory, and not shortening them and praying the full four rak'ahs is sinful. (This is mentioned in Al-Rawdah.) If one stays at a place for less than 15 days during travel, it does not count as residing in one’s hometown, hence one should continue to shorten the prayers.
اَلسْ رضى اللہ عنه روايت ہے وہ فرماتے پین کر تمام رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ جیہے الوداع کے لئے مدینہ شریف سے نکل کر کہ معظّم پہوچے ( کہ معظّم سے عرفات مزدلفا ورتحی ہوتے ہوئے پہر مدنیہ منورہ واپس ہوتے ) اس سفر میں حضرت صلى الله عليه وسلم چار رکعت والی فرض نماز کو قصر کر کے دور کے تی پڑھاتے رہے۔ اس رضي اللہ عنه کے دریافت کیا کہ کہ معظّم میں ( داخل ہوئے کے بعد نج سے فارغ ہو کر کہ معظّم سے نکلنے کے ) کتنے دن کا قیام رہا تو حضرت انس نے جواب دیا کہ دس دن ! (حضرت انس رضي اللہ عنه کے اس قول سے معلوم ہوا کہ اگر کسی مقام پر دس روز کے لئے قیام کیا جائے تو وہ وطن اقامت نہیں بن گا اس لئے کہ حضرت کہ معظّم میں دس دن اقامت فرما گے اور چار رکعت والی فرض نماز ول کا قصر کر کے دور کے تی پڑھتے رہے، اگر یو تن اقامت بن جاتا تو آپ قصر نہیں کرتے )۔( اس کی روايت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے )
ف: واضح ہو کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جیہے الوداع کے لئے جب کہ معظّم شریف
لاے تو زی الحج کی چوٹی تارتختی، 6/15اور7 تارتختک بیتین دون آپ کہ معظّم میں ظہرے۔
آطوطوی کومئی روانہ ہوے اورنوی کوعرفات پہوچے اوروسوی کو پھرمئی میں لوٹ آے اورگیارہویں
بارہوی کو وبال رہے اور تیرہوی کو پھر کہ معظّم لوٹ آے اور چودھوی کو کہ معظّم سے مدینہ منورہ
روانہ ہوے۔ اس سے بعض حضرات پیغمبر ک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وا لم وسلم صرف تین دون کہ
معظّم میں قیام فرماے تھے، اس لے نماز قصر کرتے رہے، اگر چار دون کہ میں رہے تو نماز قصر میں
فرما تے بلکہ پوری نماز پڑھتے۔ پر خیال اس وقت تھے ہوتا کہ حضور تین دون کہ میں رہ کر مدینہ کو کہی
سے رخصت ہوجائے حال انہوں ایسا نہیں ہوا حضور کہ سے رخصت نہیں ہوئے عرفات جا کر مئی میں
آئے۔ اور مئی سے فرض طواف کے لے پھر کہ میں آئے فرض طواف سے فارغ ہو کر مئی میں تشریف
لائے، مئی سے طواف وداع کے لے پھر کہ میں آئے اوراس کے بعد کہ سے مدینہ تشریف کو روانہ
ہوئے، کہ میں حضور کا بار بار تشریف لا نا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کہ سے رخصت نہیں ہوئے اسی
لے انس رضی اللہ عنہ فرما تے پی کہ کہ میں آپ کا قیام دس دون رہا کہ میں (4) دون نہیں بلکہ (10)
دون قیام فرما رہے اور نماز دن کو قصر کرتے رہے اس سے معلوم ہوا کہ (4) دون ہول، یا(10) دون کسی
مقام پر رہے سے وه مقام وطن اقامت نہیں بنائے اس لے قصر پڑھنا چاہے چنانچہ اس کے بعد والی
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرما تے پی کہ کسی مقام پر (15) دون یا
(15) دون سے زائد رہنے کی نیت کرنے سے وه مقام وطن اقامت ہوجاتا ہے اور وبال نماز قصر میں
کرنا چاہیے۔ (مرقات اشعة اللمعات)-
سفر میں 15 دون یا سے زائد قیام کریں تو وه مقام وطن اقامت بن جاتا ہے
و بال نماز ول میں قصر میں کرنا چاہیے
He set out on the day of Tarwiyah and reached Arafat, then returned to Mina on the night of the 7th. He stayed there until the 13th, and on the 13th he returned to Mina again. On the 14th, he set out from Mina to Madinah. Some of the Companions mentioned that the Messenger of Allah ﷺ stayed in Mina for only three days, during which he shortened the prayers. If he stayed for four days, he would complete the prayers. However, it was thought that he would stay for three days and then depart from Mina to Madinah, but this did not happen. Instead, he went to Arafat and then returned to Mina. From Mina, he performed the obligatory circumambulation and then returned to Mina again for the farewell circumambulation. After this, he set out for Madinah. The repeated visits to Mina indicate that he did not depart from Mina. Anas (RA) said: 'The Prophet ﷺ stayed in Mina for ten days, not four. He stayed for ten days and shortened the prayers during the day.' This indicates that whether one stays for four days or ten days at a place, it does not become a place of permanent residence, hence the prayers should be shortened. Furthermore, it is known from the hadith that when Ibn Umar (RA) said: 'If one intends to stay at a place for fifteen days or more, it becomes a place of permanent residence, and the full prayer should be offered.' (Marqat Ash-Shu'at Al-Lama') - If one stays for fifteen days or more in a journey, it becomes a place of permanent residence, and the full prayer should be offered.
محابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے پی کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما (سفر
میں) کمیں 15 دون یا سے زیادہ ظہر نے کی نیت کر لیتا تو آپ (چار رکعت والی نماز ول کو) قصر کر
کرے پوری چار رکعت پڑھتے تھے (اس سے ثابت ہوا کہ سی مقام پر 15 دون یا سے زیادہ قیام کی
نیت کر لینے سے وه وطن اقامت بن جاتا ہے)۔ (اس کی روایت ابن البی شیبہ نے کی ہے)
کسی مقام پر اقامت کی نیت کے بغیر مہینوں گزر جائیں تو وہ وطن اقامت نہیں
بناؤ بل قصر کرتے رہنا چاہئے
پہلی حدیث
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "If you are a traveler and resolve to stay fifteen days, complete the prayer. If uncertain of your departure, shorten it." [Narrated by Muhammad in Kitab al-Athar from Imam Abu Hanifah and Al-Sunan’s chain is Hasan.]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب تم سفر کرتے
ہوئے کسی مقام پر پہنچو، اور وہاں 15 دن (یا سے زائد) قیام کی نیت کرو تو تم چار رکعت والی
فرض نماز ول (میں قصر نہ کرو) بلکہ چار رکعت، یا پڑھا کرو اور اگر تم قیام کی مدت میں نہ کرسکو (اور
مہینوں آج نکلنے کے لیے نکلنے گے سوچتے ہوئے بین غزن رجا یعنی) تو تم کو قصر کرنے چاہئے-
(اس کی روایت امام محمد نے ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے کتاب الآثار میں کی ہے اور
آثار اسناد میں ہے کراس حدیث کی سنده نہیں)
دوسرا حدیث
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "If you are a traveler and resolve to stay fifteen days, complete the prayer. If uncertain of your departure, shorten it." [Narrated by Muhammad in Kitab al-Athar from Imam Abu Hanifah and Al-Sunan’s chain is Hasan.]
ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب تم سفر
کرتے ہوئے کسی شہر میں پہنچو، اور وہاں 15 دن (یا سے زائد) قیام کی نیت کرو تو تم چار
رکعت والی فرض نماز ول میں (قصر نہ کرو) بلکہ چار رکعت، یا پڑھا کرو، اگر تم قیام کی مدت میں نہ
کرسکو (اور مہینوں آج نکلنے گے یاكل نکلنے گے غزن رجا یعنی) تو تم کو قصر کرنے چاہئے-
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے)
دار الحرب وطن اقامت نہیں بناتے
پہلی حدیث
Ibn Abbas and Ibn Umar (may Allah be pleased with them) said:
"If you arrive in a town as a traveler and intend to stay fifteen nights, complete the prayer. If uncertain of departure, shorten it." [Narrated by al-Tahawi]
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم (جب غزوہ تبوك کے لے تشریف لے گئے تو) مقام تبوك میں بیس روز قیام فرماے۔
اور (چار رکعت والی فرض نمازون میں) قصر فرمائے۔ (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دار الحرب میں
بحالت جنگ 15 دن یا سے زیادہ طبر نے کا موقع ہو تو بھی وہ وطن اقامت نہیں بن گا-
اگر چیکہ اقامت کی نیت کی گئی ہو، اس لے کہ دار الحرب محل اقامت اور سکونت نہیں ہے، کیونکہ بمیشہ
پر اختمال رہتا ہے کہ مسلماون کو فتح حاصل ہو نے سے یا اور مما لک کی فتح کے لے آ گے وہ برطہ
جا میں یا پھر مسلمان وہان سے واپس ہوجا گین۔ اس لے کہ دار الحرب میں اقامت کی نیت کا اعتبار
نہیں قصر کرتے رہنا چاہے)-
(اس حدیث کی روایت البوداوی نے کی ہے)
دوسری حدیث
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) stayed in Tabuk for twenty days, shortening his prayers." [Narrated by Abu Dawud]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت سے فرماتے ہیں کہ انہم جہاد کرتے ہوئے
آذر بايجان پہوچے اس وقت آذر بايجان دار الحرب تھا) برف باری شروع ہوئی جس کی وجہ سے
راستہ بند ہو گیا - چھ مہینے تک، تم کو جین رہنا پڑا اور تم قصر کرتے رہے ( حالاکہ چھ مہینے ایک
مقام میں طبر نا ہوا تھا گمردار الحرب اور حالت جنگ ہو نے کی وجہ سے نتو اقامت کا اثر ہوا اور نہ
اقامت کی نیت کا اور تم قصر کرتے رہے)-
(اس حدیث کی روایت ترمذی نے حرقہ میں سننے کے ساتھ کی ہے)-
بغیر اقامت کی نیت کے کسی مقام پر مہینوں گزر جا گئی بھی تو وہ وطن اقامت نہیں بننے
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: "We were delayed by snow in Azerbaijan for six months during a campaign, and we prayed two rak’ahs." [Narrated by al-Bayhaqi in al-Ma’rifah with a sahih chain.]
انس بن ماکر رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ آپ عبد الملک بن مروان کے
ساتھ ملک شام میں دو مہینے رہے (آپ کو یمعلوم نہیں تھا کہ کب واپسی ہوئی ہے اس خیال میں دو
مہینے گزر گئے اسی وجہ سے آپ اقامت کی نیت نہیں کے اور قصر کر کے چار رکعت والی فرض نمازون کو
دودور کے ت پڑھتے رہے۔(اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے۔)
مغرب کے فرض میں قصر میں
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: "He stayed with Abd al-Malik ibn Marwan in Syria for two months, praying two rak’ahs (for each prayer)." [Narrated by Abd al-Razzaq]
_ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت نے اور میں نے
سفر میں ظہر کے فرض دور کعتین پڑھیں اور ظہر کے فرض کے بعد کی دو سنن بھی پڑھی ہیں۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "I prayed Zuhr with the Prophet (ﷺ) during travel as two rak’ahs, followed by two rak’ahs (voluntary)." (1)
In another narration: "He said: ‘I prayed with the Prophet (ﷺ) both at home and during travel. At home, I prayed Zuhr with him as four rak’ahs followed by two voluntary rak’ahs. During travel, Zuhr was two rak’ahs followed by two voluntary rak’ahs. Asr was two rak’ahs with no voluntary prayers after. Maghrib was three rak’ahs in both residence and travel, never reduced, as it is the Witr of the day, followed by two voluntary rak’ahs.’" [Narrated by Al-Tirmidhi]
(1) In Al-Durr Al-Mukhtar: A traveler may perform voluntary prayers (Sunnah) if in a state of safety and stability. If in fear or fleeing, it is preferred to omit them, as this omission is permitted due to valid excuse.
_اورترمزی کی اور ایک روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر اور حضر میں رہاہوں اور میں آپ کے ساتھ نماز پڑھتا
ہوتا، حضرت نے اور میں نے حضر میں ظہر کے فرض چار رکعت پڑھے ہیں اور اس کے بعد دو رکعت
سنن بھی اداء کے ہیں اور سفر میں ظہر کے فرض حضرت نے اور میں نے دو رکعت پڑھے ہیں اور فرض
کے بعد دو رکعت سنن بھی اداء کے ہیں، اور سفر میں حضرت نے اور میں نے عصر کے فرض دو رکعت
پڑھے ہیں اور حضرت عصر کے فرض کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی، اور حضرت نے اور میں نے حضر میں
اور سفر میں مغرب کے فرض کے تین رکعتیں پڑھے ہیں، مغرب کے فرض میں نتو حضر میں کی
ہوتی اور نہ سفر میں اور یہی دن کی وتر ہے اور حضرت نے اور میں نے مغرب کے فرض کے بعد دو
رکعت سنن اداء کے ہیں۔
سفر میں نوافل اور سنن کا حکم
پہلی حدیث
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "I prayed Zuhr with the Prophet (ﷺ) during travel as two rak’ahs, followed by two rak’ahs (voluntary)." (1)
In another narration: "He said: ‘I prayed with the Prophet (ﷺ) both at home and during travel. At home, I prayed Zuhr with him as four rak’ahs followed by two voluntary rak’ahs. During travel, Zuhr was two rak’ahs followed by two voluntary rak’ahs. Asr was two rak’ahs with no voluntary prayers after. Maghrib was three rak’ahs in both residence and travel, never reduced, as it is the Witr of the day, followed by two voluntary rak’ahs.’" [Narrated by Al-Tirmidhi]
(1) In Al-Durr Al-Mukhtar: A traveler may perform voluntary prayers (Sunnah) if in a state of safety and stability. If in fear or fleeing, it is preferred to omit them, as this omission is permitted due to valid excuse.
_براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ 18 سفر کیا ہوں میں نے حضرت کو زوال کے بعد ظہر سے پہلے
زوال کے بعد پڑھی جانے والی دو نفلین نرک کرتے نہیں ویجا (اس کی روایت البوداوون کی ہے)
ف: واخ ہو کہ مسافرسن مؤکدہ کو طمینان ہواورجلدی نہوتو بغیر قصر کے کے پوری پڑھے
اور اگر جلدی ہواورطمینان نہویاستحیول کے چھوت جانے کاخوف ہوتوپوری سنٹول کوترک کرسکتا
ہے۔ سن غیرمؤکده کا بھی حکم ہے کہ اگر جلدی نہواورطمینان ہوتو ایک نفلول کوبھی پڑھ سکتاہے،
اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں زوال کے بعد پڑھی جانے والی دو نفلول کواداء
فرمايہ اور اگر جلدی ہواورطمینان نہویاستحیول سے چھوت جانے کاخوف ہوتو غیرمؤکده سنٹول
کوبھی چھوت سکتاہے۔(درختار)12
دوسری حدیث
عنہما ابن فرزند جحن کانام عبید اللہ حقا تو سفر میں نوافل پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے اور ان کومتع نہیں
فرماتے تھے۔ اس کی روایت امام ماکے نے کی ہے۔
ف: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سفر میں نوافل اگر طمینان ہوتو پڑھ سکتے ہیں اور اگر جلدی ہو
تو چھوت سکتے ہیں، بہرحال قصر فرض کے واسطے ہے اور سن مؤکدہ اور نوافل میں قصر نہیں ہے۔ پڑھیس تو
بغیر قصر کے پوری رکعتیں پڑھیں اور اگر نہ پڑھیس تو پوری رکعتیں نرک کرویں۔
تیسری حدیث
عنہما ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے لئے اورآپ کی امت کے لئے ) ظہر، عصر اورعشائے میں ) حضر (حضر میں چار
رکعت کافرض ہونا آخری حالت کے لاحظ سے ہے، ورنہ ابتدا میں سفر اور حضر میں نماز دورکعت فرض
ہوتی تھی، جس کی تفصیل حدیث 380 میں مذکور ہے، اس حدیث کی روایت ام المومنین حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے۔(12) میں چار رکعت فرض کے لئے اور سفر میں (النمازول میں
ابتدا میں دورکعت، می فرض کے لئے اس لئے اگر کوئی حالت سفر ظہر، عصر اور عشاء میں دورکعت
زیادہ کر کے چار رکعت پڑھے گا تو کہہ گا رہوگا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضر میں فرض کے پیلے
اور فرض کے بعد جوسنت پڑھی جائے پیس فر میں بھی فرض کے بعد کی، اور پیلے کی سننین ( اگر اطمینان
ہوا اور جلدی نہ ہو تو بخیر قصر کے کے ) پوری پڑھا کرتے تھے ( اگر جلدی ہو تو بخیر قصر کے کے پوری
رکعتوں کے ساتھ سننون کوتے کے فرماتے تھے )۔(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے)
پہر خاص مو قعول کے تحج بن الصلا تین جائزہیں ہے
پہلی حدیث
Al-Bara’ (may Allah be pleased with him) narrated: "I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on eighteen journeys, and I never saw him omit two rak’ahs (voluntary) when the sun declined before Zuhr." [Narrated by Abu Dawud]
It is said that if a traveler is certain and feels at ease, he should not hasten and should recite the full prayer without shortening it. If he hastens and does not feel at ease, and there is a fear of missing the time for the prayer, he can shorten it and perform the obligatory parts. The rule for non-obligatory prayers is that if he does not hasten and feels at ease, he can also recite one voluntary prayer. This is because the Prophet (peace be upon him and his family) used to perform two voluntary prayers after the noon prayer during travel. If he hastens and does not feel at ease, and there is a fear of missing the time for the prayer, he can also omit the non-obligatory prayers. (Al-Dakhkhari)12
Second Hadith
Ibn Farzand, whose name is ‘Abd Allah, narrates that he saw people performing voluntary prayers during travel, but they did not consider them necessary. This narration is reported by Imam Maqdisi.
It is established from this hadith that during travel, if one feels at ease, he can perform voluntary prayers, and if he hastens, he can omit them. In any case, shortening is only for the obligatory prayers, and there is no shortening for the confirmed sunnah or voluntary prayers. If one performs them, he should recite the full rak'ahs without shortening, and if he does not perform them, he should complete the full rak'ahs.
Third Hadith
It is narrated from Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) that he said: For the Prophet (peace be upon him and his family) and his ummah, the four rak'ahs of the obligatory prayers at Dhuhr, 'Asr, and 'Isha' in congregation are considered the final state, but initially, both in travel and residence, the prayers were two rak'ahs. The details of this are mentioned in Hadith 380, as narrated by the Mother of the Believers, Lady 'A'ishah (may Allah be pleased with her). (12) Four rak'ahs are obligatory in residence, and two rak'ahs are obligatory in travel. Therefore, if someone, due to circumstances, increases the rak'ahs of Dhuhr, 'Asr, and 'Isha' to four during travel, it will still be valid. The Prophet (peace be upon him and his family) used to perform the obligatory prayers first and then the sunnah prayers, both before and after the obligatory prayers. If one feels at ease and does not hasten, he would recite the full rak'ahs without shortening. If he hastens, he would recite the full rak'ahs along with the sunnah prayers. (This is narrated by Imam Tirmidhi)
There are two specific occasions for the examination of the correctness of the prayers:
The first hadith
اَبْوَاذَه رضى اللّٰه عنه سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا: خوب یاد رکھو کہ (کسی وقت) نیند کی وجہ سے کسی نماز کا وقت گزر جائے تو
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( نماز ول کے اداء کرنے میں بر اہتمام فرماتے تھے ) ہر نماز کواس کے وقت پر
پڑھا کرتے تھے، کہی کوئی نماز کے وقت ادا ئیں فرماتے ( اور پہ وقت کر کے کسی دوسری نماز کے
سا تے تحج بھی نہیں کے _آپ کیے پہ وقت نماز اداء کرتے جبکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے " ان الصلاۃ
گانت علی المومنین کتبًا موؤوتاً " (مومنون پر ہر نماز کا وقت مقرر ہے، پہ وقت کر کے نہیں
پڑھنا چاہیے ) حضور، اللہ تعالی کے اس ارشاد کا کیسا خلاف کرتے، اس لے ہر نماز کواس کے وقت
پراداء فرماتے تھے، کہی نماز کو پہ وقت کر کے دوسری نماز کے ساتے تحج نہیں فرماتے تھے، بعض
حدیثوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نماز کو پہ وقت کر کے دوسری نماز کے ساتے تحج کے پی پی تھے
نہیں ہے بلکہ آپ ایک نماز کواس کے آخر وقت میں اداء فرماتے ہیں اور دوسری نماز کواس کے شروع
وقت میں پڑھے ہیں، پول ہر نماز اپنے وقت پراداء فرماتے، جتنے حدیثوں سے دو نماز ول کا تحج ہونا
معلوم ہوتا ہے اس کا مرطب ہے، نہ کہ حقیقی طور پر تحج کرنا، پہ وقت کر کے ایک نماز کو دوسری نماز
کے ساتے تحج کرنے کے وقت میں: ایک فتسم یہ کہ ایک نماز کا وقت گزر رہے دے کر دوسری نماز کے
سا تے تحج کر کے پڑھنا۔ کہی حضور ایک نماز اداء نہیں کے ہیں )صرف مزدلف میں مغرب کا وقت
گزرنے کے بعد عشاء کے ساتھ ملا کر دونوں نمازیں پڑھی گئیں ( حقیقی اس عمل کے اس طرح کا جمع مزدلف میں کیا کرتے ہیں، دوسرا قسم یہ ہے کہ وقت ہونے کے پہلے ایک نماز کو دوسری نماز کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اس طرح سے حقی حضور کرمی نماز اداء نہیں فرما یہیں، صرف عرفات میں عصر کا وقت ہونے کے پہلے عصر (اس حدیث ثریف میں مزدلف میں مغرب اور عشا کو جمع کرنے کا ذکر ہے اور عرفات میں ظہر اور عصر کو جمع کرنا حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے، مگر راوی نے اس کی ذکر نہیں کیا ہے۔ چونکہ دوسری احادیث میں ظہر وعصر کو جمع کرنے کا ذکر موجود ہے، اس لے پیہلے اس کو بیان کیا گیا ) کو ظہر کے ساتھ پڑھے ہیں۔ حقیقی اپیاء کے عرفات میں دونوں نماز ظہر اور عصر کو جمع کرنے پرحتے ہیں، مگر ان دوموقعوں کے کہی کوئی نماز آپ پہ وقت اداء نہیں فرما یہیں، پہ وقت نماز اداء کرنا تو برتری چیز ہے، حقیقی نماز کواس کے مستحب وقت کے سوا اداء نہیں فرما یہیں ) صرف مزدلف میں صحیح کے فرض کا مستحب وقت چھوٹا کرنا صادق ہوتا ہے، ای اول وقت ' غلس ' لیعنی اندھیرے میں صحیح کے فرض اداء فرما یہیں (اورمن کی طرف ثریف لے گے حقیقی اپیاء کی مزدلف میں صحیح کی نماز کا مستحب وقت چھوٹا کر اول وقت ' غلس ' میں صحیح کے فرض اداء کیا کرتے ہیں )۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اورمسلم میں متفرق طور پرکی ہے اور ابوداود اورطحاوی نے کچھ ای طرح روایت کی ہے )
دوسری حدیث
کوئی قصور نہیں (بر وقت نماز نہ پڑھنے کا گناہ تو نہیں ہوگا مگر اس نماز کی قضا کرنا ضروری ہوگا) البتہ بیماری میں (سفر جسیا کے جامع الآثار میں ذکور ہے۔12) کی وجہ سے نماز نہ پڑھنے اتنی درجہ کر دوسری نماز کا وقت ہوگیا تو ایسا شخص قصور وار ہوگیا (اوراس پراس نماز کی قضا کجھ لازم ہوگی اور کچھ غفرانی ہوگا) (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated: "I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) pray a prayer outside its time except at Muzdalifah, where he combined Maghrib and Isha. He also prayed Fajr the next day before its time (at dawn)." [Agreed upon]
Abu Dawud and Al-Tahawi narrated a similar version. In another narration by Abu Dawud from Ibn Umar (may Allah be pleased with him): "He combined the prayers similarly."
This hadith mentions the joining of Maghrib and Isha prayers at Muzdalifah, and it is established from the Prophet (peace be upon him and his family) that Zuhr and Asr prayers were joined at Arafat, although the narrator did not mention this. Since other hadiths mention the joining of Zuhr and Asr, it was mentioned first (that they were prayed together). In reality, at Arafat, both Zuhr and Asr prayers are combined, but in these two places, he did not pray any prayer at its prescribed time. However, praying the prayer at its prescribed time is preferable. He did not pray any prayer except in its recommended time. At Muzdalifah, it is recommended to shorten the Fard prayer, and the first time for the Fard prayer is 'ghalas,' meaning in the darkness. And when they proceed towards Tharif, they perform the Fard prayer at Muzdalifah by shortening it in the first time, which is 'ghalas.' (This hadith is narrated separately in Bukhari and Muslim, and Abu Dawud and Tirmidhi have narrated it in a slightly different manner.)
Another hadith:
There is no sin (if one does not pray the prayer at its prescribed time, there will be no sin, but it is necessary to make up the missed prayer) except in the case of illness (or travel, as mentioned in Jam' al-Athar 12). If one does not pray due to such reasons until the time of another prayer arrives, such a person will be considered sinful (and it will be necessary to make up the missed prayer, and some will be forgiven). (This hadith is narrated by Muslim.)
اور مسلم کی ایک اور روایت میں ابوثقادہ رضی اللہ عنه، کے اس طرح مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کس وقت نیند کی وجہ سے (اگر کسی نماز کا وقت گزر جائے) اور نماز قضا ہوجائے تو کوئی قصور نہیں، قصور تو اس شخص کا ہے جو بیمار ہو کر (جسیا کے جامع الآثار میں ذکور ہے۔12 (سفر کی وجہ سے ) کسی نماز کو وقت پر نہ پڑھ کر اتنی درجہ کر دوسری نماز کا وقت آگیا (تو ایسا شخص کچھ غفرانی ہوگا اور اس کونماز کی قضا کچھ کرنا پڑے گا ان حدیثول سے معلوم ہوا کہ مسافر کو ایک نماز بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اس طرح نماز ول کو جمع کرنے والا کچھ غفرانی ہوگا)۔(اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کچھ اس طرح کی ہے۔)
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is no negligence in sleep; negligence lies in delaying a prayer until the time of the next prayer begins.’" [Narrated by Muslim]
In another narration: ‘Negligence is not in sleep but in wakefulness, when one delays a prayer until the time of the next prayer.’ [Narrated by Al-Tahawi]
_ عثمان بن عبد اللہ بن موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ (ہر چیز میں تفرقی طبع ہوتی ہے) نماز میں تفرقی طبع نے کیا مراد ہے تو ابوہریرہ رضی اللہ نے جواب دیا کہ نماز میں تفرقی طبع کرنا یعنی کہ ایک نماز کو (اس کے وقت پر نہ پڑھنے) اتنی درجہ کرنا کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے، اس حدیث سے کچھ معلوم ہوا کہ مسافر کا ایک نماز کو بر وقت نہ پڑھ کر اتنی درجہ کرنا کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے اور دوسری نماز کے ساتھ اس نماز کو ادا کرنا تفرقی طبع ہے اس لے دونوں نماز ول کواس طرح جمع کرنا جائز نہیں)۔
(اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور اس حدیث کی سندرت ہے۔)
Uthman ibn Abdullah ibn Mawhab reported: "Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) was asked, ‘What is negligence in prayer?’ He replied: ‘Delaying a prayer until the time of the next prayer.’" [Narrated by Al-Tahawi with a sahih chain]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں ہوتے تو ظہر کو ( ای وقت ) پڑھتے کر وہ ظہر کا اخر عصر اداء فرما تے تھے، اور مغرب ایسے وقت پڑھتے جب مغرب کا آخر وقت ہوتا، اور عشاء کا وقت شروع ہوتے تو نماز عشاء ادا فرما تے تھے۔
(اس کی روايت امام طحاوي اور امام احمد اور حاكم نے کی ہے، اور اس حدیث کی سنہ حسن ہے)
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) during travel would delay Zuhr and hasten Asr, delay Maghrib and hasten Isha." [Narrated by Al-Tahawi, Ahmad, and Al-Hakim with a Hasan chain]
In a narration by Ahmad and Ibn Abi Shaybah: "The Prophet (ﷺ) would delay Zuhr and hasten Asr, delay Maghrib and hasten Isha during travel."
The narrator Mughirah ibn Ziyad was deemed trustworthy by Ibn Ma’in and Abu Zur’ah.
Al-Allamah Al-Ayni explained: "This does not mean praying both in the time of Isha, but delaying Maghrib to its latest time, then praying it, followed by Isha. This is a form of combination, not a time combination."
اور امام احمد کی دوسري روايت ابن ابي شیبہ کی روایت کی حسیس اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں ہوتے تو ظہر کو ایسے وقت پڑھتے کر وہ ظہر کا آخر وقت ہوتا تھا اور عصر کا وقت شروع ہوتے تو عصر کے فرض کو جلد ادا فرما تے اور مغرب ایسے وقت پڑھتے جب مغرب کا آخر وقت ہوتا، اور عشاء کا وقت شروع ہوتے تو نماز عشاء جلد ادا فرما تے تھے۔ (اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کی نماز کوب وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ محتمل نہیں فرما تے تھے بلکہ ہر نماز کواس کے وقت پراداء فرما کر صورت دونماز ول کو مح کے ہیں، واقعی طور پر ایک نماز کا وقت گزر نے کے بعد یاس کا وقت ہونے کے پہلے دونماز ول کو مح نہیں کے ہیں)
پاچھویسواں حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) during travel would delay Zuhr and hasten Asr, delay Maghrib and hasten Isha." [Narrated by Al-Tahawi, Ahmad, and Al-Hakim with a Hasan chain]
In a narration by Ahmad and Ibn Abi Shaybah: "The Prophet (ﷺ) would delay Zuhr and hasten Asr, delay Maghrib and hasten Isha during travel."
The narrator Mughirah ibn Ziyad was deemed trustworthy by Ibn Ma’in and Abu Zur’ah.
Al-Allamah Al-Ayni explained: "This does not mean praying both in the time of Isha, but delaying Maghrib to its latest time, then praying it, followed by Isha. This is a form of combination, not a time combination."
ابن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ سالم رضی اللہ عنہ نے فرمایا ( ایک دفعہ کا اقعہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں تھا اور ان کو خبر پہوچی کہ ان کی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کا انتقال ہوگیا ہے پخبر سن کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما وال جلد پہوچنا چاہتا تھا، ایسے میں نماز مغرب کا وقت آگیا ) سالم کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے عرض کیا کہ نماز کا وقت
آگیاہے(نمازپڑھتےہوئے)توآپنےفرمائاآگےچلو(پچھدرپینچےکےبعد)میںپھرعرضکیا
کرنمازکاوقتجارباہےتوآپنےفرمائا:چلچلو!جبدوتمیںمیلنےٹکرچکے(اورمغربکاآخر
وقتبہورباتھا)توسواریستےاترکرمغربکینمازپڑھی،اسکےبعدفرمائا:میںدیکھاتھاکہ
جبحضرتصلیاللهعلیهوالہ وسلمکوسفرمیںجلدیہوتیتھیتوایطرحدکرتےتھےیعنیمغربکی
اقامتکاحکمدےکرمغربکےتینركعتفرضپڑھاکرسلامپھیردتیہے،پھرتقوییدیتاوقف
فرماتے،اثنتینعشاءکاوقتشروعہوجاتاتھاتوعشاءکیاقامتکاحکمدیتےاورعشاءکوقضرکے
دورکعتپڑھاتےاورسلامپھیردتیہے(اسحدیثمیں"قَلْمَايُلْبِثُ"،پھرتقوییدیتاوقف
فرماتے)کالفاظمیںاسسےمعلومہواکرمغربکاوقتختمہوگرعشاءکاوقتشروعہونےکا
انتظارفرماتےتھے،جسسےثابتہواکرحضرضلیاللهعلیهوالہ وسلممغربکواسکےوقتپراورنماز
عشاءکوبحیاسکےوقتمیںاداعفرماتےتھےدونمازوںکوحضراسطرحتجمعکہپینذکرایک
نمازکاوقتگزرجانےکےبعددوسرینمازکےوقتمیںدونوننمازوںکوتمعجم(جبیاکمعمدۃقاری
میںندورہ۔12)فرماتے)-اسحدیثکیروايتبنجاریںکیہے-
چہلمحدیث
Ibn Shihab reported that Salim said: "Ibn Umar (may Allah be pleased with him) delayed Maghrib while he was preoccupied with his wife Safiyyah bint Abi Ubayd. I said to him: ‘The prayer!’ He replied: ‘Move on.’ I repeated: ‘The prayer!’ He again said: ‘Move on,’ until we had traveled two or three miles. Then he dismounted and prayed, saying: ‘This is how I saw the Prophet (ﷺ) pray when he was in a hurry.’ Abdullah (ibn Umar) added: ‘I saw the Prophet (ﷺ) pray Maghrib in three rak’ahs when in a hurry, then shortly after, he prayed Isha in two rak’ahs.’" [Narrated by Al-Bukhari]
_حضرتعمربنخطابرضیاللهعنهسروایتکیگئیہےکہآپنےاپنے
دورخلافتمینتمامماملكمحروسهمیںپیغشتقیجاریفرمائیتھیجسکامضمونپیغاهکمسلمانولکوروکا
جاۓکر(سوابدعفاتاورمزدلفرکے)دونمازیںپیکوقت(ایکنمازکوبوقتکردوسری
نمازکےساٹھ)جمعکرنےپڑھاکریاورانکومعلومکروادیکےاسطرحدونمازوںکواپنوقت
میںجمعکرنےپڑھناکبیرہگناہہے-
(اسکیروايتمامحمدبنموطاطیبکیہےاوراسحدیثکوتعقداردیاہے)
پہلی حدیث
Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) wrote to various regions forbidding them to combine two prayers, stating: "Combining two prayers in one time is a major sin." [Narrated by Muhammad in Al-Muwatta’ and authenticated]
عنہما کی یعادت ہوئی کہ آپ نفل نماز سواری پراداء فرماتے تھے، جب وتر اداء کرنا چاہتے تو سواری سے انزکر زمین پر پڑھاکرتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر میں نفل نماز پڑھنا ثابت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وتر واجب ہے، مش فرض کے وتر کچھ زمین پراداء کرنا ضروری ہے، اگروتر سنت ہوتی تو وتر کچھ نوافل کی طرح سواری پراداء کیا جاتا۔(اس کی روایت دار قطعی اور امام احمد نے کی ہے)
دوسرا حدیث
Sa'id ibn Jubayr reported: "Ibn Umar (may Allah be pleased with him) would pray voluntary prayers on his mount, but when he wanted to pray Witr, he would dismount and pray it on the ground." [Narrated by Darqutni and Ahmad]
کی عادت ہوئی کہ وہ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھاکرتے تھے۔ اس لے کر نماز سواری پرجائزہ)
پھر جب وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے انزکر زمین پروتر اداء فرماتے تھے۔ اس لے کر فرض اور وتر بغیر ضرورت کے سواری پر جائزہ نہیں اور حضرت ابن عمر یقین سے فرمایاکرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس طرح نفل نماز سواری پراداوروتر زمین پر پڑھاکرتے تھے، حضرت ابن عمر کے اس طرح فرمانتے سے حدیث مرفو ع ہوگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل سے بھی وتر کا وجوب اور سفر میں نفل نماز پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔(اس کی روایت امام طحاوی نے تحقیق سنے کے ساتھ لکھے ہے۔)
تیسری حدیث
Nafi’ reported from Ibn Umar (may Allah be pleased with him): "He would pray voluntary prayers on his mount but prayed Witr on the ground, claiming the Messenger of Allah (ﷺ) did the same." [Narrated by Al-Tahawi with a sahih chain]
ابن عمر رضی اللہ عنہ کہ مغظّر ہے مدینہ منورہ کا سفر کر رہے تھے، اور میں کچھ حضرت ابن عمر کے ساتھ تھا تو کیا ر کچھ ہول کر آپ نوافل سواری پر پڑھ رہے ہیں اور کو ع اور جدہ اشارہ سے (اس طرح) ادا کر رہے ہیں (کہ رکوع کے لئے سر ٹھوڑا اجھکائے تھا اور جدہ کے لئے رکوع سے زیادہ سر اجھکائے تھا) مگر جب آپ فرض اور وتر پڑھتے تو ان نماز وں کو سواری سے اتنکر زمین پر اداء کرتے تھے، میں حضرت ابن عمر سے دریافت کیا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ سواری پر نماز پڑھتے ہیں تو آپ کارخ قبل کی طرف نہیں ہوتا ہے بلکہ مدینہ منورہ کی طرف ہوتا ہے ( حالا کہ قبلہ روہونا تو نماز میں ضروری ہے ) حضرت ابن عمر نے جواب دیا: جسے تم مجھ کو دیکھ رہے ہو کہ قبلہ رخ چھوڑ کر جس طرف سواری چل رہی ہے اس طرف رخ کر کے نوافل پڑھتا ہوں، ایسا کی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہوں کہ آپ نفل نماز سواری پر اشارہ سے پڑھا کرتے تھے، خواہ سواری کارخ کسی بھی سمت ہوتا۔ (اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے اور امام محمد نے کچھ موافقت میں اس طرح روایت کی ہے۔)
Mujahid reported: "He accompanied Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) from Makkah to Madinah. Ibn Umar prayed voluntary prayers on his mount, gesturing with his head, except for obligatory prayers and Witr, which he dismounted for. I asked him about praying on his mount while facing Madinah. He replied: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) prayed voluntary prayers on his mount, gesturing in whichever direction it faced.’" (1) [Narrated by Imam Abu Hanifah while Muhammad narrated a similar version in Al-Muwatta’.]
(1) A resident or traveler may perform voluntary prayers while riding outside city limits, gesturing in whichever direction the mount faces, even if it does not initially face the Qibla. This is because if prayer is valid without facing the Ka’bah, it is also permissible to begin without facing it. ‘Bahr’ clarifies this and contrasts it with Al-Shafi’i’s view, which requires facing the Qibla initially, as mentioned in ‘Al-Sharnabalaliah.’ It is also noted in ‘Al-Hilyah’ from ‘Ghayat Al-Suruji’ that this is the narration of Ibn al-Mubarak, and it is mentioned in ‘Jawami’ Al-Fiqh.’ After citing the Hadiths, it is concluded that the preferred view is to recommend this practice when there is no hardship, based on the Hadith of Anas. ‘Al-Durr Al-Mukhtar’ and ‘Al-Ikhtiyar’ are derived from these sources.
ف : درختار میں کہا ہے کہ نفل نماز اشارہ کے ساتھ سواری پر مسافر اور مقیم دونوں پڑھ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ شہر سے باہر ہوں، اور سواری پر نفل نماز پڑھنے کے لئے نقوشروع نماز میں قبلہ روہونا ضروری ہے اور ندرمیان نماز میں۔
محمد بن عبد الرحمن رضي اللہ عنه سے روايت ہے وہ کہتے ہیں کہ جابر بن عبد اللہ رضي اللہ عنه نے انبیاء خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سواری پر نفل نماز پڑھا کرتے تھا اور سواری کارخ قبلہ کی طرف نہ ہوتا تھا (نثر وع نماز میں اور ندرمیان نماز میں)۔
محمد بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے انبیاء خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سواری پر نفل نماز پڑھا کرتے تھا اور سواری کارخ قبلہ کی طرف نہ ہوتا تھا (نثر وع نماز میں اور ندرمیان نماز میں)۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے)
Muhammad ibn Abd al-Rahman reported that Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) informed him: "The Prophet (ﷺ) would pray voluntary prayers while riding, not facing the Qibla." [Narrated by Al-Bukhari]
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ جب وہ شام سے لوٹ کر
(بصرہ کو) آ رہے تھے تو انہیں اس تقابل کے لیے نکل جب انہیں مقام عین النمر پہوچ چکے تو کیا
دیکھتے ہیں کہ آپ گردے پرسوار ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کارخ (قبل کی طرف نہیں
جہاں بلکہ) قبلہ بازیں سمت کوہ میں نے عرض کیا کہ آپ قبلكو چھوڑ کر اور طرف رخ کہ نماز
پڑھ رہے تھے تو حضرت انس نے فرمایا کہ آگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (سواری پر) قبل
کے سوا کسی اور طرف رخ کر کے نفل نماز پڑھتے نہ دیکھتا تو میں مجھے ایسای قبل کے سوا کسی اور طرف
رخ کہ ہوئے نمازیں پڑھتا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے مستقیم طور پر کی ہے۔)
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: "When he returned from Syria, we met him at ‘Ayn al-Thamar. I saw him praying on a donkey, facing a direction other than the Qibla (to the left of it). I said: ‘I saw you praying not facing the Qibla.’ He replied: ‘Had I not seen the Messenger of Allah (ﷺ) do so, I would not have done it.’" [Agreed upon]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے مجھے اپنی ضرورت سے بھیجا تھا جب میں واپس ہوا تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی
سواری پر مشرق کی جانب رخ کے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں (حالاںکہ وہ سمت قبلہ کی نہیں تھی) اور آپ
کے سیرہ کا اشارہ رکوع کے اشارے سے کی قدر نیچا ہوتا تھا۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)
سفر میں قصر لازم ہے خواہ سفر کی ضرورت سے ہو
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) sent me on an errand. When I returned, I found him praying on his mount, facing east, making his prostration lower than his bowing." [Narrated by Abu Dawud]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
(ابتداے) سفر اور حضر میں نماز دو رکعت فرض ہوتی تھی، پس سفر کی نماز تو اسی حال پر (دور کرتی، یہ)
رہی (اس لے کوئی سفر میں چار رکعت پڑھنے تو کہنے کا رہوگا) اور حضر کی نماز کو اور دو رکعت بر طرح کر
چار رکعت کر دیا گیا (سوا لے مغرب کے کہ وہ ثروت عیسے تین رکعت ہیں، اس لے کہ وہ دون کی
وثرہ اوراسی لے مغرب میں قصرنہیں سے اور ایسا یہ صبح کے فرض ابتدا سے دور کے تھے۔
(اس حدیث کی روایت مسلما نے کی ہے)
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ابتدا میں سفراور حضر میں دو، دور کے تفرض ہوتے
تھے، سفر کی نماز اس حال پر دور کے ت، یعنی اور حضر کی نماز کو اور دور کے ت بر طها کر چار رکعت کرو اگیا-
واضح ہو کر مقیم پرحضر میں صرف اقامت کی وجہ سے چار رکعت فرض کے گئے جبکہ اوراسی طرح
مسافر پر صرف سفر کی وجہ سے دور کے تفرض کے گئے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ مقیم پرحضر میں چار
رکعت فرض ہونے کی علت صرف اقامت کی حالت سے کولی اور حالتنہیں نہ طاعت کی حالت اور نہ
گناہ کی حالت لیکن مقیم پرحضر میں اس کے مقیم ہونے کی حیثیت سے چار رکعت فرض ہیں، اس کے مطع
ہونے کی حیثیت سے یاگناہ میں بھلا ہونے کی حیثیت سے اس پرحضر میں چار رکعت فرض نہیں ہیں،
اس طرح مسافر پر سفر میں دور کے تفرض ہونے کی علت صرف سفر کی حالت سے کولی اور حالتنہیں
ہے، نہ طاعت کی حالت اور نہ گناہ کی حالت لیکن مسافر پر سفر میں اس کے مسافر ہونے کی حیثیت سے
دور کے تفرض ہیں، اس کے مطع ہونے کی حیثیت سے یاگناہ میں بھلا ہونے کی حیثیت سے اس پر سفر
میں دور کے تفرض نہیں ہیں، اقامت کی حالت میں مقیم پر چار رکعت فرض ہونے پرسب اتم کا انفاق
ہے، البتہ مسافر پر سفر میں جودو رکعت فرض ہیں اس بارے میں بعض آئمر کا اختلاف ہے، وہ فرماتے
ہیں کہ اگر مسافر کسی طاعت مثلًا جہ کے لے سفر کر باہو تو اس کے لے قصر کی اجازت ہونی چاہئے اور
اگر مسافر کسی گناہ جیسے ذاکر زینی وغیرہ کے لے سفر کر باہو تو اس کو پوری نماز پڑھنا چاہئے اور اس کے
لے قصر کا حکم مناسب نہیں، ہمارے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مقیم پر صرف اقامت کی وجہ
سے جب چار رکعت فرض ہوتے ہیں اور اس چار کے ت کے فرض ہوتے میں اقامت کی حالت کے سوا
کسی اور حالت طاعت یاگناہ کی حالت کا لاحظ نہیں سے تو پھر مسافر کے لے کس بنابر قصر کرنے کے
لے سفر کی حالت کے سوا طاعت یاگناہ کی حالت کا لاحظ ضروری سمجھا جارہے مسافر پر کی صرف سفر کی
حالت کی وجہ سے ہی دور کے ت کا حکم دیاجانا ضروری سے اگر قصر کے لے مسافر پر حالت سفر کے سوا کسی
اور حالت لیجن طاعت یاگناہ کی حالت کا لاحظ ضروری سمجھا جانے تو احادیث کے مطلق حکم کے خلاف
ہوگا، چنانچہ نذورہ صدر کی حدیث شریف کے مطلق حکم سے بھی ثابت ہوتاہے کہ مقیم کے لے چار کے ت
کا حکم اس کی اقامت کی وجہ سے ہے،اور مسافر کے لئے دور کے تکا حکم اس کے سفر کی حالت کی وجہ سے
ہے۔اس کے لئے امام عظیم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی ہے کہ سفر خواہ طاعت کے لئے ہو یا گناہ کے لئے ہردو
حالتوں میں قصر کرنے ضروری ہے،اس کے بعد آنے والی حدیثوں سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے
(مضرمون فتح القدیراورطحاوی سے ماخوذہے)-
دوسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "Allah prescribed prayer as two rak’ahs when it was first ordained. Later, it was completed as four rak’ahs at home, while the prayer during travel remained as initially prescribed." [Narrated by Muslim]
In this noble hadith, it is indicated that initially, in the state of residence and travel, two rak'ahs were obligatory for those at home, while four rak'ahs were obligatory for those traveling. The prayer during travel was shortened to two rak'ahs, meaning that the four rak'ahs of the resident's prayer were reduced to two. It is clear that in the state of residence, four rak'ahs became obligatory solely due to being a resident, whereas for the traveler, the reduction to two rak'ahs was due to the state of travel. This shows that the reason for the obligation of four rak'ahs in the state of residence is solely due to the condition of being a resident, and not due to any other condition, neither of obedience nor of sin. However, in the state of residence, four rak'ahs are obligatory because of the status of being a resident, but not because of the status of being obedient or sinful. Similarly, for the traveler, the reduction to two rak'ahs during travel is solely due to the condition of travel, and not due to any other condition, neither of obedience nor of sin. Therefore, for the traveler, the reduction to two rak'ahs during travel is due to the status of being a traveler, but not because of the status of being obedient or sinful. In the state of residence, the expenditure of all efforts is on the obligation of four rak'ahs for the resident. However, for the traveler, there is some difference of opinion among the jurists regarding the obligation of two rak'ahs during travel. They say that if a traveler undertakes a journey for an act of obedience, such as pilgrimage, then the permission to shorten the prayer should be granted. If a traveler undertakes a journey for a sin, such as for pleasure or amusement, then he should perform the full prayer, and the command to shorten the prayer would not be appropriate. Our great Imam (RA) says that since the resident is obligated to pray four rak'ahs solely due to the condition of being a resident, and the four rak'ahs are obligatory without considering any other condition, whether of obedience or sin, then for the traveler, the shortening of the prayer should also be based solely on the condition of travel, without considering any other condition, whether of obedience or sin. If the traveler's shortening of the prayer were to depend on any other condition besides travel, such as obedience or sin, it would contradict the explicit command of the hadith. Thus, it is evident from the explicit command of the hadith narrated by Nadr bin Anas that the obligation of four rak'ahs for the resident is due to his state of residence, and the obligation of two rak'ahs for the traveler is due to his state of travel. Therefore, Imam Abu Hanifah (RA) has stated that whether the travel is for an act of obedience or for a sin, in both cases, the shortening of the prayer is necessary. This is also confirmed by the subsequent hadiths. (Extracted from Fath al-Qadir and Tahawi) - Another hadith
_ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے آپ فرماتے ہیں کے
جب اللہ تعالیٰ نماز فرض کی تو (مغرب کے سواباقی نمازوں کوسفراورحضرت میں)دوردور کعتین فرض
کی تھیں،بعد میں حضرت کی نماز (سواء فجر کے )اوردور کعت برہاکرچار کعت کردی گئیں مگر سفر جیسے
دور کعت فرض کی گئی تھی ویسے،یہ دور کعت باقی رہی-
(اس کی روایت مسلم میں ہے-)
تیسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her), the wife of the Prophet (ﷺ), said: "Prayer was initially prescribed as two rak’ahs, both at home and during travel. (1) The prayer during travel remained as two rak’ahs, while the prayer at home was increased." [Narrated by Muslim]
(1) "Our Imam Abu Hanifah said: ‘Travel for obedience or sin is the same in terms of concessions, as the texts of concession are general. Since the obligation to complete prayers is tied to residence alone, not to obedience or disobedience, it follows that shortening prayers is tied to travel alone, not to obedience or disobedience.’ This is mentioned in Fath al-Qadir and Al-Tahawi."
_ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت سے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے حضرت میں چار کعت (اس طرح)فرض کے کے پہلے دو
کعت فرض کے پھر اور دور کعت برہاکرچار کعت کردیے)اورسفر میں دور کعتین فرض کے (اورسفر
کے پیدور کعت بمیش کے لئے دور کعت،یہ رہے)اورخوف کی حالت میں (نماز اس طرح فرض کی
گئی کر (امام کے ساتھ) ایک کعت (اورتنها ایک رکعت)- (اس کی روایت مسلم میں ہے-)
Allah Almighty prescribed four rak'ahs for the prayer before the obligatory prayer, then He reduced them to two rak'ahs. And for travel, He reduced the two rak'ahs after the obligatory prayer, and for the residents, He made the two rak'ahs before the obligatory prayer. And in the state of fear, the prayer was prescribed as one rak'ah with the Imam, and one rak'ah alone. This is reported by Muslim.
_ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت سے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سفر میں دور کعتین فرض کے (اورسفر کے پیدور کعت بمیش کے لئے دور کعت،یہ رہے)
جسیاکر حضرت میں (پہلے دور کعت فرض کے اورپھر دوبرہاکر)چار کعت فرض کردیے-
(اس کی روایت طبرانی میں ہے-)
پچھویس حدیث
The Messenger of Allah ﷺ, while on a journey, performed four circumambulations of the Ka'bah as part of the obligatory Tawaf (and then performed another four circumambulations for the Tawaf of the visit). This is reported by Al-Tabarani.
36 - ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرما تے ہیں کہ مجھے
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مگھی میں سفر کی نماز کی طرح (چار رکعت والی فرض نماز ون میں قصر
کر کے ) دورکعت پڑھے ہیں، اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھی میں مسافر کی نماز کی
طرح قصر کر کے دورکعت، می پڑھتے رہے، اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجھی میں مسافر کی
طر ح قصر کر کے دورکعت، می پڑھتے رہے، اور حضرت عثمان ذو النور ین رضی اللہ عنہ مجھی میں(6)
سال یا8 سال تک مسافر کی طرح قصر کر کے دورکعت، می پڑھتے رہے (اور جب حضرت عثمان (جسیا
کہ مرقات میں امام احمد رحمۃ اللہ کے خوالہ سے نذور ہے –12) کہ معظیمیں نکاح کر لے تو آپ
مجھی میں قصر نہیں کرتے تھے بلکہ چار رکعت پڑھا کرتے تھے ) – (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے–)
پاچھویس حدیث
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "The Prophet (ﷺ) prayed at Mina as a traveler, as did Abu Bakr, Umar, and Uthman for eight years, or six years." [Narrated by Muslim]
In another narration: "He prayed during travel," without specifying Mina.
آیت نمبر: 21 میں ) لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِی رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ، مسلماو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں تہوارے لے پیروی کا بہترین نمونہ موجود ہے)-
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرما تے ہیں کہ میں سفر میں حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ربا آپ (چار رکعت والی فرض نماز ون کو قصر کر کے دورکعت اداء
فرما یے ) اور اس پر زیادتی نہیں فرما یے یہا ل تک کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دیدی، اور میں
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجھی ر باہول تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھی اپنی
وفات تک سفر میں (چار رکعت والی فرض نماز کو ) دورکعتول سے زیادہ نہیں پڑھے، اور میں حضرت عمر
فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجھی ر باہول تو حضرت عمر مجھی سفر میں (چار رکعت والی فرض نماز کو ) دورکعت
سے زیادہ نہیں پڑھے۔ پھر میں حضرت عثمان ذو النور ین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ر باہول، آپ مجھی اپنے
انتقال کے وقت تک (چار رکعت والی فرض نماز کو سفر میں ) دورکعت سے زیادہ نہیں پڑھے۔
اس کے بعد حضرت ابن عمر نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورہ احزاب پ 21 ع 3،
(اس حدیث کی روایت بخاری اور ابن ماجہ نے کی ہے اور مسلم اور ابوداؤد نے بھی اس طرح روایت کی ہے-)
ف: واضح ہو کہ صدر کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم چار رکعت والی فرض نماز کو بھیشہ قصر کرتے تھے۔اور پورے چار رکعت نہیں پڑھتے تھے، اس کی وجہ یہی ہے کہ سفر میں پی حضرات پورے چار رکعت پڑھنے کو جائز نہیں تھی۔ اگر پورے چار رکعت کا پڑھنا عزم کیت ہوتا تو قصر کرنارخصت ہوتا تو پی حضرات کرام قصر پر مداحمت نہیں فرماتے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں قصر کرنا واجب ہے اور اگر کوئی قصر نہ کرے تو گناہگار ہو گا(جامع الآثار، اعلاء السنن)
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) during travel, and he never prayed more than two rak’ahs until Allah took his soul. (1) I accompanied Abu Bakr, and he never prayed more than two rak’ahs until Allah took his soul. I accompanied Umar, and he never prayed more than two rak’ahs until Allah took his soul. I accompanied Uthman, and he never prayed more than two rak’ahs until Allah took his soul. Allah says: ‘Indeed, in the Messenger of Allah you have an excellent example.’ (Qur’an 33:21)" [Narrated by Al-Bukhari and Ibn Majah while Muslim and Abu Dawud narrated a similar version]
(1) "This indicates the consistency of shortening prayers and its obligation. This is mentioned in Jami’ al-Athar."
سعید بن شقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کر لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کرتے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں نماز کس طرح پڑھا کرتے تھے تو حضرت ابن عباس جواب دیتا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے الہ وعیال سے رخصت ہو کر سفر سے باہر ہوتے تو چار رکعت والی فرض نماز کو دور کرتے پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ سفر سے واپس ہو کر پھر انہوں عیال کے پاس تشریف لا لیتے۔(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے-)
Sa’id ibn Shafi reported: "People began asking Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) about prayer. He said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) would only pray two rak’ahs when he left his family until he returned to them.’" [Narrated by Al-Tahawi]
ابن بلجہ نے حضرت بشر بن حرب سے اس کی روایت کی ہے-
عون بن ابی محیمن رضی اللہ عنہما سے والد سے روایت کرتے ہیں کر ان کے والد کہا (ایک دفعہ کا وقت ہے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا) جس وقت آپ گھر
سے نکل پھر واپس جوئے تک (ہر چار رکعت والی فرض نماز کو قصر کرے ) دور کے تی پڑھے تو (مین بھی نہیں دیکھا کہ آپ فرض چار رکعت پڑھے ہوئے)- (اس کی روایت امام طحاوی نے لکھے-)
Awn ibn Abi Juhaifah reported from his father (may Allah be pleased with him): "The Prophet (ﷺ) went on a journey and continued praying two rak’ahs until he returned." [Narrated by Al-Tahawi]
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زبان مبارک سے میں سنایا کہ سفر میں چار رکعت والی فرض نماز (ابتداے سے) دور کے تی ہے۔ جس عید اگلی کی نماز مجھی ابتداے، یہ سے دور کے تیس پیں۔ الیا، یعنی عید الفطر کی نماز مجھی ابتداے، یہ سے دور کے تی پیں، اور اسی طرح نماز جمع کے مجھی (ابتداے، یہ سے) دور کے تی پیں۔ چارون نمازی اسی طرح دودور کے تمقر کے گے پیں، اور پی پوری نمازی پیں اور اتنی، یہ فرض کی گئی پیں۔ الیا نہیں ہوا کہ پیلے پچھلے کے اتنی زیادہ ہے، پھر کم کے دور کے تکردے گے۔(اس سے معلوم ہوا کہ سفر میں چار رکعت والی فرض مجھی دور کے تی مقرو کے گے۔ الیا نہیں ہوا کہ چار رکعت تک بعد میں دور کے تکردے گے۔ اس لے سفر میں چار رکعت والی نماز کو دور کے تی پڑھنا چاہیے۔ اگر چار رکعت پڑھنا تو گزہ کا رہوگا)۔
(اس حدیث کی روایت نسلی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ابن حبان نے اس کی روایت اپنی کی ہے، اور امام طحاوی نے مجھی اس کی روایت اس طرح کی ہے-)
Umar (may Allah be pleased with him) said: "Travel prayer is two rak’ahs, Eid al-Adha prayer is two rak’ahs, Eid al-Fitr prayer is two rak’ahs, and Friday prayer is two rak’ahs, complete, not shortened, as stated by Muhammad (ﷺ)." [Narrated by Al-Nasa’i, Ibn Majah, and Ibn Hibban in his Sahih while Al-Tahawi narrated a similar version]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ تم طرح طرح کی گمرائیول میں بتلا ہے-(اللہ تعالیٰ کا بر افضل،ہم پر ہوا) کہ ہماری بدایت کے لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاے (آپ کی تعلیم ان کامل تعلیم مجھی کہ ہم تمام گمراہیول سے ایسے نجات پائے، مجھے آفاق بلکہ سے تمام انہی ریول سے نجات لے جانے ہے) مجمل آپ کی تعليمات کے
ایس تعلیم پیش قصی کر آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم دیا کہ سفر میں (چار رکعت والی فرض نماز کو) دور کرتے، پڑھا کریں (اس پراور کعتین زیادہ نہ کریں) اگر کوتیر کعتین زیادہ کر لے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا خلاف کرنے کی وجہ سے گناہگار ہوگا)-
(اس حدیث کی روایت نسائی نے کی ہے-)
پہلی حدیث
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "The Messenger of Allah (ﷺ) came to us when we were lost and taught us. Among what he taught us was that Allah, the Almighty, commanded us to pray two rak’ahs during travel." [Narrated by Al-Nasa’i]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سفر میں (دور کرتے پڑھنا چاہئے اگر) چار رکعت پڑھے تو وہ ایسا (یعنی گناہگار ہوگا اور خداورسول کے حکم کا خلاف کرنے والا) ہوگا جسے حضر میں بجاۓ چار رکعت کے دو رکعت پڑھے (کہ وہ گناہگار ہوگا اور خداورسول کے احکام کا خلاف کرنے والا مجھی ہوگا)-
(اس حدیث کی روایت دار قطعی نے اپنی سنن میں کی ہے-)
دوسری حدیث
The Messenger of Allah ﷺ said: 'In travel, if one performs four rak'ahs, he will be like one who, while in the presence, performs two rak'ahs instead of four, and he will be a sinner and a transgressor of the commands of Allah and His Messenger.'
مورق عجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ سفر میں نماز کس طرح پڑھنا چاہئے تو حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا (4 رکعت والی نماز کو) دور کرتے، پڑھنا چاہئے - (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم نے میش سفر میں دو رکعت ہی پڑھا کرتے تھے) جو شخص (باوجود پیر کے اس کو معلوم ہوا ہو کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میش سفر میں دو رکعت ہی پڑھا کرتے تھے کہی چار رکعت نہیں پڑھے ہیں، پیس کر)
پھر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کا خلاف کرنے گا تو وہ کافر ہوگا-
(اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے-)
Muwaraq al-‘Ijli reported: "Ibn Umar (may Allah be pleased with him) was asked about prayer during travel. He replied: ‘Two rak’ahs. Whoever opposes the Sunnah disbelieves.’" [Narrated by Abd al-Razzaq]
عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ سفر میں نماز کس طرح پڑھنا چاہئ تو حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا ( کہ نماز جتنی زیادہ پڑھی جائے بہتر ہے ) اگر میں کہون ( کہ سفر میں چار رکعت نہیں پڑھنا چاہئ، صرف دو رکعت پڑھا کریں ( یعنی کرتے کو یقین نہ آئے گا اور تم کہو گے کہ چار رکعت نماز پڑھنے سے روک رہے ہیں، اس لیے ) مجھ خوف ہے کہ باہے کرتے مجھ پر جحوت کا الزام لگا گے - ( ایسا نہیں ہے میں پر اپنی طرف سے نہیں کہ رہا ہوں - حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفر میں دو رکعت پڑھتے ہوئے دیکھا اور حضرت سے سنا کہ ہوں کہ سفر میں دو رکعت ہی پڑھنا چاہئ ) پھر جو شخص حضرت کے قول فعل کا قصد اخلاف کرے تو وہ کافر ہو گا - ( اس کی روايت امام طحاوي اور ترمذی نے کی ہے - ) امام مسافر ہوا اور مقتدی مقیم ہوئے تو نماز کس طرح پڑھی جائے
Safwan ibn Muhriz reported: "I asked Ibn Umar (may Allah be pleased with him) about prayer during travel. He said: ‘I fear you may lie. Two rak’ahs. Whoever opposes the Sunnah disbelieves.’" [Narrated by Al-Tahawi and Al-Bayhaqi]
رضی اللہ عنہما ایک دفعہ کہ معظّم آئے اور ( چار رکعت والی فرض نمازوں ) دو رکعت پڑھائے ( جب سلام پچیر چکے تو ) فرما یے : اے ابل کہ ! آپ لوگ اپنی نماز پوری کر لیں، کیونکہ تم مسافر ہیں - ( اس لے روايتا ر میں کہا ہے کہ جب امام مسافر ہو، اور مقتدی سب کے سب مقیم ہوئے یا تحول ہوئے، ان میں سے مسافر ہوئے تو امام کو چاہئے کہ سلام پچیر کر کہ دے کہ تم اپنی نماز پوری کرلو، تم مسافر ہیں ) - ( اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے - 12 ) کتنی مسافت کا سفر ہوتا اس میں قصر کیا جائے
Hammam ibn al-Harith reported: "Umar (may Allah be pleased with him) prayed two rak’ahs in Makkah and then said: ‘O people of Makkah, complete your prayers, for we are travelers.’" [Narrated by Al-Tahawi]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ تم کم از کم کتنی مسافت پر قصر کریں؟ آپ نے فرمايا: علي بن ربيعه والدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے
کیا تم مقام سوپرائے کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ویسے تو نہیں، بلوں سنا ہے۔ آپ نے فرمایا کروہ تین متوسط راول کی مسافت پرہ (جس کے تین منزل ہوتے ہیں، پر منزل 8 کوس تو تین منزل کے 24 کوس لیعنی 48 میل ہوئے) پیس جب تعم (48 میل یا سے زیادہ) کی مسافت کے ارادے سے نقلت پیش تو ہم (چار رکعت والی فرض) نماز کو قصر کر کے دو رکعت پڑھتے ہیں۔ اس حدیث میں قصر کے لیے جسے تین منزل کا اندازہ بتلا گیا ہے۔ ایسا کی اور موقوت پر کہی مسافر کے لیے تین کے عددا کا حاصل کیا گیا ہے۔ مثلًا عورت تین منزل کا سفر کرنا چاہے تو اس کو حرم ساتھ رکنا ضروری ہے۔ ایسا کی مسافر کو تین دن رات تک موزون پڑھ کرنے کا حکم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسافر کے لیے اور موقوت پر کہی تین دن کا حاصل کیا گیا ہے۔ اس لیے سفر میں قصر کے لیے جسے تین منزل کا اعتبار کیا گیا)۔ تعلیق محمد میں ایسا کی ذکور ہے۔12)
(اس حدیث کی روایت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الآثار میں کی ہے اور آثار السن میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سنن ہے۔)