Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ التَّطَوُّع

Voluntary Prayers
Volume 3 · Prayer

اس باب میں نفل نمازول کاذکرہے

حیۃ الوضوء کی فضیلت اوراس کا ثواب

This chapter discusses the supererogatory prayers and the virtues and rewards of the prayer performed after ablution.

1992

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صح کی نماز سے فارغ ہوکر باللہ رضی اللہ عنہ فرماتے: اے باللہتاوکتم

اپنا کونسا عمل کہ ہو جس سے تم کو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھارے اس عمل کو قبول کرے جنت میں

مراتب عالیہ عطا کرے۔ اس وجہ سے کہ میں نے (معراج کی رات) جنت میں دیکھا کہ تم میرے آگے آئے ہواور میں تجہارے لیئے کوئی کام کر رہاہوں سے رباتعا باللہ عرض کرتا: حضرت! میں کیااور میرا عمل، میں کیا، سب حضرت کے تو جہ عالی کا اثر ہے ) کہ مجھے تو فیق ہوتی ہے کہ میں رات دن میں جب تحری ظدوء کرتا ہوں تو ضوع کے بعد دور کعت یاجتنہ ہوسکتی ہے الوضوع پڑھ لیا کرتا ہوں۔ پیتو بخاری اورمسلم کی متفق علیہ روایت ہے۔

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said to Bilal at the time of Fajr prayer: 'O Bilal, tell me about the most hopeful deed you have done in Islam, for I heard the sound of your sandals in front of me in Paradise.' Bilal replied: 'I have not done any deed more hopeful to me than this: I have never performed ablution at any time of the night or day without praying as much as was written for me afterward.'" [Agreed upon by Bukhari and Muslim]

In a narration by Tirmidhi: "I have never become impure without performing ablution immediately, and I felt that I owed Allah two rak'ahs." The Prophet (ﷺ) said: "It is because of these two."

1993

بے وضو ہوتا ہوں تو اس کے ساتھ، میں وضو کر لیتا ہوں اور میں اپنے اوپر لازم ہے لیتا ہوں کہ دو رکعت تحری ظ الوضوع پڑھ لیا کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (پیغمبر) فرماتے کہ جنت میں تم کومراتب عالیہ ملنے کی بہتری تحری ظ الوضوع باعنہ ہے (اس تحری ظ الوضوع کی وجہ سے تم کویہ مرتبہ ملا ہے)، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وضو کے بعد دور کعت تحری ظ الوضوع پڑھنا مستحب ہے اوراس کی برتری فضیلت ہے۔)

نماز استخاره کا طریقہ

When I become devoid of wudu, I perform wudu and make it obligatory upon myself to pray two rak'ahs of tahrir al-wudu. The Messenger of Allah ﷺ said: 'The excellence of tahrir al-wudu is better for you than a high rank in Paradise (you will attain a high rank because of this tahrir al-wudu).' It is understood from this hadith that it is recommended to pray two rak'ahs of tahrir al-wudu after performing wudu, and its virtue is superior.

1994

اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ . وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ . وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ . فَإِنَّكَ تَقْدِرُ . وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ . وَلَا أَعْلَمُ وَأَنتَ عَلَامُ الْغُيُوبِ.

اللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَ عَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ.

وآلہ وسلم جس طرح نے کو قرآن کے سورتوں کی تعلیم دیے تھے اس طرح تمام جائزہ امور میں استعارہ کرنے کی تعلیم دیے تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ تم میں سے کوئی شخص جب کسی ایسے اہم کام کرنے کا ارادہ کرے (جو کچھ بھی ہوتا ہو، مثلًا سفر، نکاح اور تعمیر وغیرہ اوراس کام کے کرنا یاد کرنے میں اس کو تزکرو، اور کوئی نہ رائے قائم نہیں ہورہی ہو، اوراس کام کا انجام کا خبریا نثرہ ہونا بھی نہ آرہا ہو ) تو اس کو (اس طرح استعارہ کرنا چاہیے کہ ) پہلے وہ دور کے نفل استعارہ کی نیت سے اداء کرے اور (پھری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد "قل یا ئہا الکفرؤن" اور دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد "قل ہو اللہ احد" پڑھے اور ان دونوں کے اداء کرنے کے بعد اس طرح دعا کرے :

اے اللہ! میں آپ کے علم کے وسیلے سے آپ سے نہیں مانگتا ہول اورآپ کی قدرت کے وسیلے سے قدرت مانگتا ہول اورآپ کے فضل عظیم کو آپ سے مانگتا ہول کیونکہ آپ (جو چاہیں) کر سکتے ہیں اور میں نہیں کر سکتا اورآپ جانتے ہیں اور میں نہیں جانتا اورآپ تو تمام غیب کی باتوں کے جاننے والے ہیں، اے اللہ! اگرآپ جانتے ہیں کہ یہ معاملہ (جو معاملہ درپیش ہوا سکو زہے ودل میں لے آئیں) میرے دین میری معاش اورانجا م کا رکے لحا ظتے میرے لے نہیں خیراور بہتر ہے تو پھرآپ اس کو میرے حق میں مقدر فرمادیں اوراس کو میرے لے آسان کر دیں تاکہ اورگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام (کام کو پڑنا زہے ودل میں لے آئیں) میرے دین ودنیا اور میری معاش

اور ان جام کے لحاظ سے میرے حق میں براور شرب تو پھر آپ اسے مجھ سے پیہر دتے اور مجھ کو

اس سے پیہر دتے اور جو پیہ میرے حق میں بہترہ وہ جہال مجھی ہوا تو میرے لے مہیا کرتے

پھراسے راضی کرتے اور مطمئن کرتے۔

حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا کہ جہال جہال لاامر، لعن کام کالفظآیہ وبال اپنے

مقصد کی نیت کرے یازبان سے اپنے مقصد کو بیان کرے۔(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)

نماز توبہ کا طریقہ

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) taught us to seek guidance (Istikhara) in all matters, just as he taught us a Surah from the Quran. He said: 'When one of you is concerned about a matter, let him pray two rak'ahs of voluntary prayer, then say:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ؛ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ. وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ

"O Allah, I seek Your guidance by Your knowledge, and I seek ability by Your power, and I ask You from Your immense favor. For You are capable, and I am not. You know, and I do not. You are the Knower of the unseen. O Allah, if You know that this matter is good for me in my religion, my livelihood, and the outcome of my affairs, or he said: in this life and the hereafter, then decree it for me, make it easy for me, and bless it for me. But if You know that this matter is harmful for me in my religion, my livelihood, and the outcome of my affairs, or he said: in this life and the hereafter, then turn it away from me and turn me away from it. Decree for me what is good wherever it may be, and make me content with it."'

He should then mention his need." [Narrated by Bukhari]

1995

وَاَلَّذِينَ اِذا فَعَلُوا فاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمِنْ

يَغْفِرُ الْذُّنُوبَ اِلاَّ اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلى ما فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ 5 اُولِئِكَ جَزاً وَهُمْ

مَّغْفِرَةً مِّنْ رَّبِّهِمْ وَجَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِها الاْنْهَارُ خَلِدِينَ فِيها وَنِعمَ اَجْرُ الْعَمِلِينَ 6

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر

رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یحدیث بیان کی (کون ابوبکر؟) وہ جن کی صداقت کی تعزیف رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرماتا ہے حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنہ کہ جب کسی شخص سے (خواہ مرد ہو یا عورت) کوئی گناہ

ہوجائے اور اس وقت یاجب کہ میں نادم ہوتا اس کو چاہے کر غسل کرے (اگر طہارت پانی سے غسل

کرے تو زیادہ مناسب ہے اگر اس کو طہارت پانی مصفر ہوتا ہوتا گرم پانی سے غسل کرے، اگر غسل نہ

ہو سکے تو وضو، یا کر لے) اور نماز کے لے کڑا ہو (جس کو نماز توبہ یا نماز استغفار کہتے ہیں اور کم

سے کم دو رکعت نماز توبہ کی نیت سے اداء کرے، اس کی چہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد قُلْ

یَا ئیها الکفرو نَ اور دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد قُلْ ہُوَ اللہُ أَحَدٌ پڑھے، اور

تمہالی میں نماز پڑھی جائے تو اس کے لے بہترہ ہے اگر سجدہ میں سر کٹک روتے ہوئے پڑعا

کرے تو زیادہ بہترہ ہے اور اگر رونا نہ آئے تو رو نہ کی صورت بنائے اور اپنے تمام گناہوں کو یاد

کرے تو ہوئے تمصم ارادہ کرے کہ پچھر گناہ نہ کرول گا، اور عرض کرے کہ اے اللہ! مجھے گناہ نہ کرنا

تما نفس و شیطان کے دسو کے گناہ کیا اور اب آپ کے دور پر آپ راہول، آپ کے سوا کوئی گناہ

بھیسے والوں کے اور مجھے عاجز کو آپ کے عذاب کی طاقت نہیں، اس لے آپ پر غضب کے دور رہا

ہول - اپنے گناہوں سے معذرت کیا کرتے ہوئے عرض کرتا ہوں ای! آپ پر بجا کا ہوا بندہ آپ

کے دور پر آپ پر آہے، اگر آپ پر میرے گناہوں کو نہیں معاف کریں گے تو میں کہیں کا نہ رہوں گا آپ

محض اپنے فضل و کرم سے اپنے ہی دربار کے صدقے سے میرے حال پر جا غضب کے رحمت

کی نظر فرما ئے! جو ہوگیا سو ہوگیا، اب گناہ نہ کرنے کا ارادہ کر کے آپ یا ہوں، آپ پر مجھے اپنی رحمت

سے مایوس نہ کیے میرے تمام گناہوں کو معاف کردیجئے، آپ نے دہ مجنہوں گناہوں سے پچائے

رکھے - آپ کا نام غفور و غفار ہے، آپ کی شان کے سب گناہ بخش دیتے ہیں، اس لے میرے کی

کرتا ہے تو آپ اس پر نہایت مہربان ہو کراس کے سب گناہ بخش دیتے ہیں، اس لے میرے کی

تمام گناہ بخش دیتے آپ پر کے فضل و کرم سے امید لگا یا ہوا ہوں، اس لے آپ پر میرے تمام گناہ

بخش دے کر گناہوں کی جگہ نیاں کلمہ دیتے یا آپ کے فضل و کرم سے پھر دور نہیں، جب کوئی

گناہ کار اس طرح سے نماز پڑھتا اور دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ (برتے رحمت پین اس کے تمام گناہ

معاف کردیتے ہیں (اوراس کے گناہوں کے بدالے نیاں کلمہ دیتے ہیں) (صدر میں جوارشاد

ہوا ہے اس کی تائید ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زیل کی یا آیت تلاوت فرمائی:

(سورۃ آل عمران پ4ع14، آیت نمبر:136-13)

اور وہ لوگ جن کا حال یہ ہے کہ (بتقاضاے بشریت) جب کوئی بڑی ہگناہ کر بھی جھٹے ہیں یا کوئی

صغیرہ گناہ کر کے اپنے دین کا نقصان کر لیتا ہیں تو خدا کے غضب کو یا دکر کے اپنے کے پر نادم ہوئے

اور پچھتاۓ پیس اور بہت گرگرا کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں، خدا کے سوا

بندول کے گناہوں کا معاف کرنے والا اور ہے کیا کون؟ اور جو گناہ کرتے ہیں اس پر جان بوجھ کر

اصرا نہیں کرتے۔ جبکہ وہ لوگ جین جن کا بدلا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بجشش کی صورت میں ملتا ہے اور

آخرت میں ان کے لئے باغات جین جن کے پیچ نہیریں بھرتی ہیں پیوگ اس میں بہیشہ بہیشہ رہیں

گے اور توہ بکر کے نیک کام کرنے والوں کے لئے کیا اچھا اجر ہیں۔

(اس کی روایت ترتیزی نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اس کی روایت کی ہے لیکن ابن ماجہ میں

اس آیت کا ذکر نہیں ہے۔)

رنگ و مصیبت کے وقت نماز پڑھنے کا بیان

It is narrated from Ali (RA) that he said:

Abu Bakr (RA) invited me to drink.

Who is Abu Bakr? He is the one whose truthfulness the Messenger of Allah ﷺ has praised. Abu Bakr (RA) narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that when a person commits a sin (whether male or female) and repents, they should perform a ritual bath (ghusl). If they can purify themselves with water, it is more appropriate; if they cannot, they should use warm water for the bath. If they cannot perform ghusl, they should perform wudu (ablution) and then stand for prayer (which is called the prayer of repentance or the prayer of seeking forgiveness, and at least two rak'ahs of this prayer should be performed with the intention of seeking forgiveness). In the first rak'ah, after reciting Surah Al-Fatiha, they should recite 'Qul ya ayyuhal kafirun,' and in the second rak'ah, after Surah Al-Fatiha, they should recite 'Qul huwa Allahu ahad.' It is better to recite these prayers in a low voice. If they can cry while prostrating, it is even better. If they cannot cry, they should assume the appearance of crying and remember all their sins, making a firm resolve not to commit them again. They should confess, saying, 'O Allah! I have sinned due to the incitement of my soul and Satan, and now I seek refuge in You. I have no power to bear Your punishment, and I am weak. Therefore, I seek Your forgiveness and mercy. I am Your servant, and I come to You. If You do not forgive my sins, I will be lost. O Allah, out of Your grace and kindness, look upon me with mercy and forgive me. What has happened has happened. Now, with the resolve not to sin again, I turn to You. Do not make me despair of Your mercy and forgive all my sins. You have pardoned many sinners, and Your name is Ghaffar (the Forgiver). You forgive all sins, so I hope for Your mercy and kindness. Forgive all my sins and replace them with good deeds through Your grace and kindness. When a sinner prays and supplicates in this manner, Allah, the Exalted, forgives all their sins and replaces them with good deeds. This is confirmed by the following verse from Surah Al Imran (3:136-137): And [for] those who, when they commit a sin or wrong themselves, remember Allah and seek forgiveness for their sins - and who forgives sins except Allah? - and [who] do not persist in what they have done while they know. And for those who do this, there is forgiveness from their Lord and gardens beneath which rivers flow, wherein they will abide forever, and how excellent is the reward for the righteous.' This tradition is narrated by Tirmidhi and Ibn Majah, but Ibn Majah does not mention this verse. The plan for praying during times of distress and calamity.

1996

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ

علیہ و آلہ وسلم کی مصیبت کی وجہ سے بہ چین بہوجاتے یا کسی کام میں مشکلات آنے سے غمگین

ہوتے تو اس کا علاج اس طرح کرتے کہ آپ نماز میں مشغول ہوجاتے (تا کہ نماز کی وجہ سے کیسوں

حاصل ہو، اور سارے غم غلط ہو جا تمی اللہ کی طرف لوگ جانے سے کسی چیز کے ہو نے یا نہ ہو نے کا

پھر اثر نہیں ہوتا اور نماز شروع کرنے سے "وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ" کے حکم کی تعبیر

ہو جاتی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

نماز حاجت کا طریقہ

It is narrated from Hudhayfah (RA) that he said:

When distress or difficulty would arise due to the loss of the Messenger of Allah ﷺ, or when they would become sad due to some matter, they would treat it by engaging in prayer, so that through prayer, relief would be obtained, and all sorrow would dissipate. People would turn to Allah, and the effect of whether something happened or did not happen would no longer remain. And starting the prayer would fulfill the command of 'And seek help through patience and prayer.' (This hadith is reported by Abu Dawud.)

1997

لا إله إلا الله الحليم الكريم ٥ سُبْحان الله رب العرش العظيم ٥ والحمد لله رب العالمين ٥ أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل اثم لاتدع لي ذنبا الا غفرته، ولا هما الا فرجته، ولا حاجة هي لك رضا الا قضيتها يا أرحم الراحمين ٥

عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول

اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگ رہا ہو یا کسی شخص

سے کچھ چاہتا ہو کہ اس کی یہ حاجت جلد پوری ہو، اور اس کا جو مقصد ہے وہ جلد حاصل ہو جائے تو

اس کو چاہے کہ سننون اور مستحبات کی پابندی کے ساتھ اچھا وضو کرے اور صلاۃ حاجت کی نیت

سے دور کے ت پڑے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ کی تعریف جواس سے بھوسے بیان کرے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑے (اگر درود ابراہیمی جوالتحیات کے بعد پڑھا جاتا ہے اس کو پڑے ہی تو بہت بہتر ہے) پھر یاد عاکرے کہ:

اللہ کے سوا کوئی معیوب نہیں، وہ برے بردار ہیں (قصورول کوئی جاتے ہیں گر جلداس کی سزا نہیں دیتا) وہ کریم ہیں ( کہ جب کے مزاحیہ کے اور نعمتین دیتے جاتے ہیں تاکہ بندہ اس کے احسانت سے ثمر مندہ اور نادم ہوکر جوکیاہے اس سے توپکرے ) اے عظمت وا لے عرش کے رب ! (جو کوئی ماگے اس کو دیا آپ کے پاس پچھا مشکل نہیں ) میں اللہ کی (جلّتے اور ہرمعبودے ) پاکی بیان کرتا ہوں۔ اور سب تعریف تمام جہاںول کے رب اللہ کو سزاوار ہیں۔ میں آپ سے آپ کی رحمت کو اوجب کرنے والی نیمان ( کرنے کی تو فیق ) مانگتا ہوں اور آپ کی مغفرت (دلانے والے ) برے برے عظمت والے کام اور ہرنیک کام میں سے غنیمت والا کام مانگتا ہوں۔ اور میں ہر برانی سے سلامتی مانگتا ہوں آپ میرے کسی بھی گناہ کو معاف کے بخیر نہ چھوڑو بیاورنے کسی فکرو پریشانی کو ہو لے اور دور کے چھوڑیے۔ اور نہ میری کسی حاجت کو ہوآ پکی کچھ پسند یہ ہے اے پورا کے بخیر نہ چھوڑیے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)

صلاة ايضا يع كي فضيلت اوراس كي پڑھنا طريقة

Abdullah ibn Abi Awfa (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever has a need from Allah or from any of the children of Adam, let him perform ablution and perfect it, then pray two rak'ahs. Afterward, let him praise Allah, send blessings upon the Prophet (ﷺ), and say:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالِمِينَ، أَسْأَلُكَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرِّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمَّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

"There is no god but Allah, the Forbearing, the Generous. Glory be to Allah, the Lord of the Magnificent Throne. Praise be to Allah, the Lord of the worlds. I ask You for the means of Your mercy, the certainty of Your forgiveness, the spoils of every good deed, and safety from every sin. Do not leave any sin of mine unforgiven, nor any worry unrelieved, nor any need that pleases You unfulfilled, O Most Merciful of the merciful.'" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]

Tirmidhi said: "This is a Gharib Hadith."

(40/59) صلاۃ التسپیح (صلاة ايضا يع كبيان اوراس كي پڑھنا طريقة)
1998

ابو وهب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے جین کر مین لے عبد اللہ ابن

مبارک رضی اللہ عنہ سے صلاۃ ایضا کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کر (صلاۃ ایضا کروہ

اوقات کے سوا جس وقت چاہے اور جس روز چاہے پڑھی جاسکتی ہے اور صلاة ايضا جمع کے دون

زوال سے پہلے پڑھنا مستحب ہے اوراس کا طريقيہ یہ کہ صلاۃ ایضا کی نیت سے چار رکعت اس

طرح پڑھے کر ) تکبیر تحریمہ کے بعد شائع "سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا اله غيرك" پڑھنے کے بعد (15) مرتبہ "سبحان الله والحمد لله والا اله الا الله واكبر" (جسیا کہ بعض روایت مین ياضافہ ذکور

به مرقات -12) ولا حول ولا قوة الا باللہ العلي العظیم" پڑھنے اس کے بعد اعودذ بالله من الشيطان الرجيم" اور "بسم الله الرحمن الرحيم" پڑھکر سورہ فاتحہ اور ضحم سورہ

کر کر (10) مرتبہ بھی ذکورہ تشبح پڑھے، پھر رکوع کرے اور رکوع مین (رکوع کی تشبح کے بعد 10 مرتبہ بھی ذکورہ تشبح پڑھے، پھر رکوع سے سراطها کر (سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا لك الحمد کہن کے بعد) قوم مین (10) مرتبہ بھی ذکورہ تشبح پڑھے، پھر سجدہ مین جائے اور سجدہ کی تشبح پڑھنے کے بعد (10) مرتبہ بھی تشبح پڑھے، پھر دوسرا سجدہ مین جائے اور سجدہ کی تشبح پڑھنے کے

بعد بھی تشیع (10) بار پڑے، اس طرح ایک رکعت میں (75) بار پیٹچ پڑے۔ دوسرا سجدہ تو سرائحاں کے بعد نتوء پڑے اور نذکورہ تشیع پڑے بلکہ دوسرا سجدہ تو اٹھتے ہی دوسرا رکعت کا قیام شروع کرے (اور باقی تین رکعتوں کی ہر رکعت میں اس طرح نذکورہ تشیع کو (75) بار پڑھتا جائے لیجن) ہر رکعت کے شروع میں سورۃ فاتحہ اور ضخم سورہ سے پہلے (15) بار اور ضخم سورہ کے بعد (10) بار (رووع میں (10) بار، قوم میں (10) بار، پیلس بدہ میں (10) بار، جلس میں (10) بار، اور دوسرے سجدہ میں (10) بار اس طرح هر رکعت میں (75) بار نذکورہ تشیع پڑھا کرے، اور قعدہ اولی اور قعدہ آخرہ میں تشیع پڑھنے کی ضرورت نہیں، اگر کس شخص کو صلاۃ ایچ میں سہول وجاحے تو وہ سہول کے سدرول میں اس نذکورہ تشیع کونے پڑے کیونکہ صلاۃ ایچ میں (300) بار نذکورہ تشیع پڑھنا چاہئے اور وہ ہوچے، اگر کس رکن میں اس نذکورہ تشیع کی مقررہ تعداد میں سہواً کی ہو جائے تو بعد کے کسی رکن میں اس کی تعداد تمیل کرے۔(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)

Abu Wahb reported: "I asked Abdullah ibn Al-Mubarak about the prayer involving glorification (Salat al-Tasbih). He said: 'One begins with Takbir (saying Allahu Akbar), then recites:

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ

(Glory be to You, O Allah, and praise; blessed is Your Name, exalted is Your Majesty, and there is no god but You).

Then one repeats fifteen times:

سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ

(Glory be to Allah, all praise is to Allah, there is no god but Allah, and Allah is the Greatest).

After this, one seeks refuge [with Allah], recites بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ, Surah Al-Fatihah, and another Surah. Then one repeats the same glorifications ten times.

In each rak’ah, this is repeated: ten times in ruku (bowing), ten times upon rising from ruku, ten times in each prostration (sujood), and ten times while sitting between the two prostrations. This is performed over four rak’ahs, totaling seventy-five glorifications per rak’ah (beginning with fifteen before recitation and ten in each subsequent position).'

In a narration by Abu Dawud, it states: 'If you were the most sinful person on earth, you would be forgiven by this prayer.' In Ibn Majah’s narration, the Prophet (ﷺ) said: 'Even if your sins were as numerous as the grains of desert sand, they would be forgiven.' A companion asked: 'O Messenger of Allah, what if one cannot perform it daily?' He replied: 'Perform it weekly. If unable, then monthly. If still unable, then once a year.'" [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]

1999

اور ابوداود کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ علیہ وآلم وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے گناہ تمہارے روے زمین کے باشندوں کے گناہوں سے بھی زیادہ ہوں گے تب اللہ تعالیٰ اس نماز کی برداشت تمہارے گناہ خشیہ گے۔

It is narrated in a tradition of Abu Dawud that the Messenger of Allah ﷺ said:

If your sins are more than the sins of all the inhabitants of the earth, then Allah, the Exalted, will forgive your sins out of His mercy for this prayer.

2000

اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ علیہ وآلم وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے گناہ کثرت میں ریت کے ثلث کے برابر ہیں تو اللہ تعالیٰ اس صلاۃ ایچ کی برکت سے تمہارے گناہ معاف فرمادیں گے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ سے میں طاقت ہے کہ روزانہ یہ نماز پڑھوں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم روزانہ پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو ہر جمعہ کو پڑھو یا کرواوراگر جمعہ کو بھی نہ ہو سکے تو مہینہ میں ایک دفعہ پڑھو یا کرو (اگر مہینہ میں ایک بار بھی نہ پڑھ سکو تو) آپ نے فرمایا کہ سال میں ایک بار پڑھو۔

فرائض میں اگر کوئی نقص آ جائے تو سنن اور وافل سے اس کو دور کیا جائے گا

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے و فرماتے ہیں کر رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب قیامت میں اعمال کا حساب لیا جائے گا تو سب اعمال

کے حساب تے پہلے نماز کا حساب شروع کیا جائے گا (دیکھا جائے گا کراس کی فرض نماز تچہ ہوتی بے

یا نہیں اگراس کی فرض ) نماز تمام اركان اور سنن کی پابندی کے ساتھ اداء ہوتی ہے تو اس کی نماز

قبول هوگی اور اس کو پورا ثواب دیا جائے گا اور وہ حساب میں کامیاب ہو جائے گا اگراس کی

(فرض ) نماز میں پھر ایسی خرابی ال ہوتی ہون کہ جس کے سبب سے اس کی نماز ناقص ہوتی ہے تو وہ

برے خساره میں ہوگا، ثواب بھی نہیں ملے گا (اور عذاب کا مستحق ہو جائے گا ) اللہ تعالیٰ (پرے کریم

ہیں ) اس وقت محض اپنے فضل و کرم سے فرشتوں سے کہیں گے کہ میرے فرشتو ! دیکھو میرے بندہ

کے نامے اعمال میں فرض کے بعد پھر سنن اور وافل بھی ہیں تو اس فرض کے نقصان کی تلافی ان سنن کو

اور وافل سے کرو (اوراس کی فرض نماز کا ثواب اس کو پورا پورا دے دوتا کروہ عذاب سے نجات

پائے ) یہی حال دوسرے عبادات کا بھی ہے (اگر فرض روزول میں پھر نقصان آگیا ہو تو نفل

روزول سے اس نقصان کو دور کر دیں گے، کامل روزول کا ثواب عطا فرما ئین گے - ایسے فرض

زکات میں پھر نقصان آگیا ہو تو نفل خیرات سے فرض زکات کے نقصان کو پورا کر دیں گے اور وہ

کامل زکوۃ کے ثواب کا مستحق ہو جائے گا - اس طرح دوسرے اعمال کی بھی بھی کیفیت ہوگی جتنی ان

کے فرائض کے نقصان کو وافل سے پورا کیا جائے گا (اس لے بندہ پر لازم ہے کہ فرض نماز ول کے

سوافل نماز کی بھی پڑھا کرے اس طرح فرض روزول کے سوانفل روزے بھی رکھا کرے - اور فرض

زکات کے سوانفل خیرات بھی دیا کرے تاکہ قیامت کے دن فرضوں میں پھر نقصان نہ ہو نفل سے

وہ نقصان پورا کر دیا جائے - (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے )

It is narrated on the authority of Ibn Majah that the Messenger of Allah ﷺ said:

If your sins are as numerous as a third of the sand, then Allah, the Exalted, will forgive your sins due to the blessings of this prayer. Abu Bakr al-Abbas (RA) asked: 'O Messenger of Allah, do I have the strength to pray this prayer every day?' The Messenger of Allah ﷺ replied: 'If you do not have the strength to pray it every day, then pray it every Friday. If you cannot pray it even on Friday, then pray it once a month. If you cannot pray it even once a month, then pray it once a year.'

If any deficiency occurs in the obligatory prayers, it will be rectified by the supererogatory and voluntary prayers. Abu Hurairah (RA) narrates that the Messenger of Allah ﷺ said: 'When the reckoning of deeds takes place on the Day of Judgment, the account of prayers will be taken first. It will be seen whether the obligatory prayer was performed properly or not. If the obligatory prayer is performed with all its components and Sunnahs, then the prayer will be accepted, and full reward will be given, and he will be successful in the reckoning. If there is any deficiency in the obligatory prayer such that it becomes incomplete, then he will be in great loss and will not receive any reward (and will be deserving of punishment). Allah, the Most High, is Most Generous. At that time, out of His grace and mercy, He will command the angels: 'O My angels! Look at the record of deeds of My servant; if after the obligatory acts, there are also Sunnahs and voluntary acts, then make up for the deficiency of the obligatory act through these Sunnahs and voluntary acts (and give him the full reward of the obligatory prayer so that he may be saved from punishment). This is also the case with other acts of worship (if there is any deficiency in the obligatory fast, it will be made up by the voluntary fasts, and the complete reward of the obligatory fast will be granted - if there is any deficiency in the obligatory Zakat, it will be made up by voluntary charities, and he will be deserving of the complete reward of the obligatory Zakat - similarly, the quality of other acts will be such that their deficiencies will be made up by voluntary acts). Therefore, it is incumbent upon the servant to perform the Sunnahs and voluntary prayers along with the obligatory prayers, to keep voluntary fasts along with the obligatory fasts, and to give voluntary charities along with the obligatory Zakat, so that on the Day of Judgment, there is no deficiency in the obligatory acts, and any deficiency can be made up by the voluntary acts (this narration has been reported by Abu Dawud).'

2003

اور امام احمد نے بھی دوسرے راوی سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔

نمازول میں قرآن پڑھنے کی فضیلت

And Imam Ahmad has also narrated this hadith through another reporter. The virtue of reciting the Quran in the prayer.

2004

عن أبي أمامة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ القرآن في صلاةٍ واحدةٍ، كان له بكل حرف عشر حسنات، وعشر حسنات يكتبها الملك، وعشر حسنات يرفعها إلى الله تعالى، وكان له بذلك درجة في الجنة، وكان له بكل حرف حسنة، والحسنة بعشر أمثالها.

جو اپنی رکعتوں میں قرآن پڑھتا ہے تو اس کے قرآن پڑھنے کو بہت غوراور عنايت و توجہ سے سنگ

ہے (جبیا نماز میں قرآن پڑھنے کو سنگ ہے، ایسا کسی چیزوتوچہے سے نہیں سنگ ) تلاوت قرآن کے سوا

سب عبادتوں میں نماز اللہ تعالی کو ایسی پسند ہے کہ جب تک بندہ اللہ تعالی کے سامنے نماز پڑھتا ہوا

کہرا رہتا ہے تو اس کے سر پر حمتین نازل کرتے رہتے ہیں (جس کوئی باشراه اپنے کسی نوکر کی

خدمت کو پسند کرتا ہے تو اس کے سر پر جواهر ثار کرتا رہتا ہے ) اور بنده هر عبادت سے اللہ تعالی سے

قرب حاصل کرتا ہے لیکن بندہ جب نماز میں قرآن پڑھتا ہے تو اس کو جتنا قرب اس وقت اللہ تعالی

سے حاصل ہوتا ہے کسی اور وقت اتنا قرب حاصل نہیں ہوتا۔

(اس کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے)

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah has not granted a servant anything better than two rak’ahs of prayer. Righteousness is showered upon a servant’s head as long as they remain in prayer. Indeed, the closest means by which a servant draws near to Allah is through what emanates from Him (the Qur’an).'" Abu Nasr Al-Rawi, the narrator, explained: "This refers to the Qur’an." [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi]