(یہ باب رات کی نماز کے بیان میں ہے)
(اگر نماز عشاء کے بعد پڑھو یسوع کرائے اور پڑھو سن ونوافل پڑھے تو یہ تجد کہ لائے ہے، اور سوئے
بغیر عشاء کے بعد سے طلوع فجر تک جوسفن اور نوافل پڑھی جائے یعنی ان کو قیام الليل کیے یعنی، علامہ
شامی رحمہ اللہ نے "رداختار" میں "حلیہ" کے حوالے سے کہا ہے کہ نماز تجد امت کے حق میں سنت ہے
اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بیش پابندی کے ساتھ ادا فرمایا ہے، اس وجہ سے بعض
علماء نے فرمایا ہے کہ نماز تجد سنت مؤكد ہے اور درختار میں کہا ہے کہ تجد مستحب نماز ہے، مسلما نول کو
مستحب کے لفظ سے دھوکا نہ کھانا چاہیے، اس لئے کہ فرض نماز ول کے بعد رات ودن کی تمام نمازوں
میں تجد افضل نماز ہے اور تجد کا ثواب سب نمازوں سے بڑا ہے۔
وقول اللہ عز و جل: "وَمِنَ الَّیلِ فَتَهَجَّدُ بِهِ نَافِلَةً لَكَ، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
(سورۃ النبی اسرائیل پ 15 ع 9، آیت نمبر:79 میں)اور (ا لے بی آپ) بعض حضر شب میں بیدار
ہوا کرو (اور تجد کی نماز پڑھا کرو) اور پی (شب خیزی) (جبیا کے تفسیرات احمدی میں ذکور
ہے-12)آپ کے لئے (پنگا نفرض نمازوں کے علاوہ) زائد فرض ہے (جبیا کے تفسیرات احمدی
میں ذکور ہے-12)۔ (اور امت کے لئے نفل ہے)-
وقولہ تعالی: "قُمِ الَّیلِ اَلا قِلیلاً، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ مزمل پ 29 ع 1،
آیت نمبر:2 میں) رات کے وقت نماز میں کٹرے رہا کرو، سووہ بھی ساری رات نہیں بلکہ رات کا پچھلے
حضر (اور پڑھو حضر آرام بھی کیا کرو)
وقولہ تعالی "فَاْقَرْءُ وَا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ" اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ مزمل
پ 29 ع 2، آیت نمبر:20 میں) تو جتنا قرآن تجد میں آسانی سے پڑھا جائے پڑھو لیا کرو۔
تجہدی نماز کا بیان اوراس کی کیفیت
If you read the Witr prayer after the Isha prayer and then recite the Sunnah and Nafl prayers, it will be considered as Qiyam al-Layl (night vigil prayer). According to Imam Shami (RA), in 'Radd al-Muhtar' referring to 'Hilyah,' the Witr prayer is a Sunnah of the community because the Prophet (peace be upon him and his family) performed it with great regularity. For this reason, some scholars have stated that the Witr prayer is a confirmed Sunnah, and in 'Radd al-Muhtar,' it is mentioned that Witr is a recommended prayer. Muslims should not be misled by the term 'recommended' because after the obligatory prayers, Witr is the most excellent of all night and day prayers, and its reward is greater than that of all other prayers.
And Allah, the Exalted, says: 'And during part of the night, offer tahajjud (voluntary) prayer, as additional worship for you' (Surah Al-Isra, verse 79). And the guidance of Allah, the Most High, is: 'Some of the night, rise up (in prayer), except a little, ' (Surah Al-Muzzammil, verse 2). This means that you should spend part of the night in prayer, but not the entire night; rather, you should also get some rest.
And Allah, the Exalted, says: 'Recite (the Quran) what is easy for you' (Surah Al-Muzzammil, verse 20). This means that you should recite as much of the Quran as you can easily manage during the Witr prayer.
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد تے لے کر نہ صادق طلوع ہو نے تک کی درمیانی رات میں گیارہ رکعت نماز ادا فرماتے تھے (ان گیارہ رکعت کی تفصیل یہ ہے کہ عشاء کے بعد آپ آرام فرماتے تھے، پھر تہجد کے لیے بیت رہو کر پڑے) چار رکعت ادا فرماتے تھے تم ان کی خو بی اور درازی تو دریافت ہی نہ کرو (کروہ کسی عمدہ اور کس قدر طولی قرآن تے پڑھی جاتی تھیں) پھراس کے بعد اور چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان کی خوبی اور ان کا طول بھی پڑھنے پوچھو، (کروہ کسی عمدہ اور کس قدر طولی قرآن تے اداء کی جاتی تھیں) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر کے اداء فرماتے تھے (ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تہجد کی ان آٹھ رکعتوں کو جس خوبی سے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے تھے اس کو تو تم نے سنا، اب زرا ان رکعتوں میں جو تبدیل اداء کے جاتے تھا ن کی کیفیت بھی س لو) حضور کو جہدہ میں جا کر سراٹ حا نے تک اٹھ دیں ہوتی تھی جتنی دیر تم کو پچاس آبنیں ترتیل کے ساتھ پڑھتے میں ہوا کرتی ہیں، پھر جب نہ صادق طلوع کرتی تو (اول وقت) مود نا زان دے کر اذان سے فارغ ہوجاتااور حضور دکیلیت کر (افق میں) صبح کی روشنی چھیل گئی ہے تو آپ بلکی قرآن تے دو رکعت سنہ فجر اداء فرماتے اگر میں بیمار رہتے تو مجھے (دینی) گفتگو فرماتے اور آگر بیمار نہ ہوتے تو حضور سیدی کروت لیت جاتے، جب موذن اقامت کی اطلاع دینے آتا تو آپ فجر کی فرض پڑھانے کے لے باہر تشریف لے جاتے تھے (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر لی ہے)
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Prophet (peace be upon him) used to pray eleven rak'ahs between finishing Isha and Fajr. He would pray four rak'ahs – do not ask about their beauty and length – then pray another four rak'ahs – do not ask about their beauty and length – then pray three rak'ahs. He would prostrate (1) in each prostration long enough for one of you to recite fifty verses before raising his head. When the Mu’adhdhin fell silent after the Fajr call and the dawn became clear to him, he would stand and pray two brief rak'ahs. If I was awake, he would talk to me; otherwise, he would lie on his right side until the Mu’adhdhin came for the Iqamah, then he would go out (to the mosque)."
[Agreed upon] (2)
In a narration by Bukhari: "Then he would pray Witr, lie down until the Mu’adhdhin came, then stand and pray two rak'ahs, then go out to pray Fajr."
In a narration by Abu Dawud: "Then he would lie down until the Mu’adhdhin came to call for Fajr prayer. He would pray two brief rak'ahs, then go out to pray."
(1) His statement: "He would prostrate" – Ali Al-Qari said: "The apparent meaning is that the letter 'fa' (then) is used to elaborate on the general statement, meaning he would prostrate in each of those prostrations for a long time."
(2) His statement: "Agreed upon" – This refers to the collective agreement on the Hadith, even if it is not in this exact wording in a single narration, as mentioned in Mishkat Al-Masabih.
اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضور علی الصلاۃ والسلام (تہجد کی نماز سے فارغ ہو کر) وتر اداء فرماتے اور کروت لیت رہے جب موذن نے آکر اطلاع دی (کہ جماعت
تیارہ تو) آپ اٹھاوردورکعت سنن فجر اداءفرماے (پھر صبح کی سنن کے بعد دوبارہ لیط بغیر)
گھرتے نکلاور فجر کی فرض پڑھائے-
اور ابوداود کی روایت میں ہے کہ (کہسی الیا کہی ہواہے کر) پھر حضور علیہ الصلاۃ
والسلام (تہجد کی نماز سے فارغ ہوکر وتر اداءفرماے) اور کروٹ لیط ربتے، جب موؤذن آکر
اطلاع دیتا (کہ جماعت تیارہ تو) آپ مختضر قآتے دورکعت سنن فجر اداءفرماے (پھر صبح کی
سنن کے بعد دوبارہ لیط بغیر) فجر کی فرض پڑھائے کے لے نکلے-
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کرآت میں تہجد کی آٹھ کرعتون کو چار چار رکعت
کر کے اداء کرنا چاہئے اگر الیا نہوتا تو ام المومنین بیارشا دفرما تین کر حضور تہجد کے آٹھ رکعت پڑھتے
تھے، ایسا نہ کہ کرام المومنین نے بیارشا دفرما کر چار رکعت پڑھتے پھر چار رکعت پڑھتے اس سے ثابت
ہوتا ہے کہ فجر چار رکعت کو ایک تکبیر تحریم اور ایک سلام سے اداء فرما تے تھے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے
ہیں قول ہے- یہ قدیمی نذور ہے، رداختار میں کہا ہے کہ دوسری احادیث کی بنابر صاحبین کے
پاس تہجد کے 8 رکعت دو دو کر کے چار سلام سے اداء کرنا چاہئے- اور عمل درآمدہی اس پر ہے-
فجر کی سنن کے بعد لیط نا سنن تھیں ہے
پہلی حدیث
the Prophet ﷺ, after completing the night prayer (Tahajjud), would pray Witr. When the mu'adhin came to inform him that the congregation was ready, he would shorten the last prostration of Witr and then perform the Fajr prayer. After the voluntary prayers of Fajr, he would go out to pray the obligatory Fajr prayer without performing any additional voluntary prayers.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کے دورکعت سنن پڑھنے کے بعد اگر کوئی ضرورت ہوتی تو مجھے دینی کلام
کرتے، ورنہ فجر کی فرض کے لے تشریف لے جاتے- اس کی روایت تزندی نے کی ہے-
(یہ حدیث حسن تھی ہے-)
ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ان نذورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کہی تو سنن فجر کے بعد پڑھ کروٹ لیط ہیں اور کہی سنن فجر کے بعد کہی کروٹ لیط
پیش اور کسی ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ نے تو سنت فجر سے پہلے لیٹ اور نہ تو سنت فجر کے بعد، ان مختلف احوال سے معلوم ہوا کر حضور کمی کمی صرف استراحت کی آرام لین اور تکان دور کرنے کے لیے لیتے ہیں، اگر آپ بھی شرط تو اس سے مستثنیا اور یہ لے سنت ہوتا۔
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "When the Prophet (peace be upon him) prayed the two rak'ahs of Fajr, if he had a need to speak to me, he would do so (3); otherwise, he would go out to pray."
[Narrated by Tirmidhi, who said: "This is a Hasan Sahih Hadith."]
Al-Allamah Al-Ayni said: "These Hadiths indicate that sometimes he would lie down before the Sunnah, sometimes after it, and sometimes not at all. I say: This lying down was for rest, not for legislation."
(3) His statement: "He would talk to me" – Ali Al-Qari said: "His speech was undoubtedly from the speech of the Hereafter. As for worldly speech, it is undoubtedly contrary to the best practice at all times, let alone between prayers, because the wisdom behind the Sunnah is to prepare for a perfect state and dispel heedlessness, so one enters the obligatory prayer with full presence and delight."
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ نے دیکھا کہ ایک شخص دو رکعت سنت فجر پڑھ کر کروت لیت گیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس شخص کو کیا ہوا ہے، نافع نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی عرض کیا کہ پیش شخص کروت لیت کے فجر کے فرض اور سنت کے درمیان فصل پیدا کر رہا ہے، اس پر ابن عمر رضی فرمایا کہ سلام پھیرنا (سنت اور فرض کے درمیان خود فصل ہے) اس سے بہتر اور کیا فصل چاہئے (اس کو لیت کر فصل کرنے کی ضرورت نہیں) اس کی روایت امام محمد نے کی ہے، اور فرمایا ہے کہ تم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول پر عمل کرتے ہیں اور پہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہ اور انہول نے فرمایا ہے کہ فجر کے سنت اور فرض کے درمیان لیٹنے کی ضرورت نہیں۔
(اس حدیث کی سندرت ہے۔)
He saw a man who performed two rak'ahs of the Sunnah prayer before Fajr and then went to urinate. Ibn Umar (RA) said, 'What happened to this man?' Nafi' said, 'I informed Ibn Umar (RA) that this man was creating a gap between the Fajr obligatory prayer and the Sunnah prayer by going to urinate.' Ibn Umar (RA) said, 'Turning back to make wudu' (there is already a gap between the Sunnah and the obligatory prayer) is better, and what other gap is needed? There is no need to create a gap by going to urinate.' This narration is reported by Imam Muhammad, and he said, 'You act upon the statement of Ibn Umar (RA), and his statement is that there is no need to go to urinate between the Sunnah and the obligatory prayer of Fajr.' And Imam Abu Hanifah (RA) also said that there is no need to go to urinate between the Sunnah and the obligatory prayer of Fajr.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ جو شخص فجر کی دو رکعت سنت پڑھ کر جانورا ورگد کی طرح زمین پر لوطا کرتا ہے اس سے اس کی کیا غرض ہے (اگر اس سے وہ فجر کی سنت اور فرض کے درمیان فصل پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس طرح فصل کرنے کی ضرورت نہیں) فجر کی سنت کے ختم پراس کا سلام پھیرنا خود فصل ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) said: "What is wrong with a man who, after praying two rak'ahs, rolls around like an animal or a donkey? If he has said the Salam, he has already separated (his prayers)." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
ابوصدیق نابغی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہول نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ
عنہما نے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز کی دور کے سنن پڑھنے کے بعد کروت لیٹ ہوئے ہیں تو حضرت ابن عمر نے کسی کو پچھ کرانے کا سطرح لیٹنے سے منع فرمایا (پین کر) ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم اس طرح لیٹ کر سنن پڑھنے کرنے چاہتے ہیں تو حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ دوبارہ جاکر ان سے کہ دو کہ نماز کی سننون کے بعد اس طرح لیٹنا (سننیں ہے) بلکہ بدعت ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
پانچویں حدیث
ابراہیم بنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ان سے کسی نے پوچھا کہ نماز کے سننون کے بعد لیٹنا کیسا ہے تو) آپ نے فرمایا کہ (جولوگ اس طرح لیٹا کرتے ہیں دراصل ان کو شیطان بھلا کر لٹا کرتا ہے۔) (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
تچہد کی نماز کا ایک اور طریقہ
چھٹی حدیث
Ibrahim An-Nakha’i said: "It is the lying down of Satan." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ، وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ . رَبَّنَا إِنَّا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي
لِلإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ، رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ .
رَبَّنَا وَأَتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ .
حمید بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے فرمایا کہ میں (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا (حضور سفر میں ہوتے ہیں کہ حضور کا پھل میری آنکھوں کے سامنے تھا) اس لیے میں نے مصیمت ارادہ کر لیا اور دل میں پیٹا کہ لیا تھا کہ آپ کی نماز تچہد کو کیسے کر آپ کے طرح اداء فرما تے ہیں، پھر میں اس پر خود کو عمل کروں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز اداء فرما لے تو دیتے آرام فرما تے رہے پھر بیمار ہوئے اور افت کی طرف نظر فرما لے اور تارول پراور آ سمان پر جب نگاہ مبارک پڑی تو فرما نے کہ: "رَّبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا، سُبْحَنَكَ فِقَاعَذَابَ النَّارِ . رَّبَّنَا إِنَّكَ مَنْ
آپ نے اس (کارخانۂ عالم) کو بکاراور بہ فائدہ (تو) نہیں بنایا، آپ کی ذات عالی (ایسے فضل عبث کرنے) پاک ہے (اور پیکارخانہ خبردارہے رہابہ کہ اختت میں نہیں کی جزاءاور بدی کی سزا جو نی ہے) تو اے ہمارے پروردگار تم کودوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ اے ہمارے پروردگار جس کو آپ پنے دوزخ میں ڈالا اس کو (بہت ہی) زیل و رسوا کیا اور طالع مول کا کونی مدگار نہیں۔ اے ہمارے پروردگار! تم نے ایک منادی کرنے والے لیے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسنا کروہ ایمان کی منادی کرنے تھے (اور لوگوں کو محاجہ کرتے تھے) کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاوتو تم ایمان لے آئے۔ بس اے ہمارے پروردگار ہمارے قصور کو معاف فرمائے اور ہماری برائیوں کو تم سے مطاوعہ اور نیک بندول کے ساتھ ہمارا خاتمہ بالخیر کیے۔ اور اے ہمارے پروردگار جن جن نغمتوں کے وعدے تم نے آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ فرمائے ہیں وہ تم کونصیب فرمائے۔ اور قیامت کے دن نہیں زیل ورسوائے کیے۔ پچھٹک نہیں کر آپ پوعدہ خلافی نہیں کیا کرتے۔ پچھر آپ بستر کی طرف جگاور بستر کے پیچے مساک پیچ کے پچھر چھاگل میں سے ایک برے کطورے میں پائلی ڈالے اور دانتوں پر مساک رگڑے (اس کے بعد راولی خاموش ہیں، صاحب مرقات کیتے ہیں کہ یہاں دواختمال ہیں۔ ممکن ہے کر آپ پنے دوبارہ وضو فرما یا ہو۔ اور پیکھی ممکن ہے کر آپ نے ساقد وضو، یے تجردا وفرما لی ہوا س لے کر نیندے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو نہیں لو طا تھا اور یحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات سے پچھر آپ پ کطرے ہوئے اور نماز تجر
شروع فرمائی - کیا کہوں کر آپ نے کس قدر نماز ادا فرمائی - جتنی درپیک آپ آرام فرماتے تھے، اتنی درپیک آپ نے نماز ادا فرمائی پھر آپ لیٹ گئے اور جتنی درآپ نے نماز پڑھی اتنی ہی دیر آپ آرام فرماتے رہے اور پھر بیمار ہوئے (اجی آپ نے جو پڑھا سناہے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ سب پھر ادا فرماتے اور وہ سب اذکار جس پڑھے جن کو آپ نے پہلی بار پڑھا تھا، پھر صبح صادق سطو عہو نے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بار اس طرح سوتے اور جاگتے رہے اور (یہی عمل فرماتے رہے)۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Humaid ibn Abdur-Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated: "A man from the companions of the Prophet (peace be upon him) said: 'While I was on a journey with the Messenger of Allah (peace be upon him), I said: By Allah, I will observe the Messenger of Allah (peace be upon him) during prayer until I see his actions.' When he prayed Isha – which is Atamah – he lay down for a while at night, then woke up and looked at the horizon. He said: 'Our Lord, You did not create this in vain,' until he reached: 'Indeed, You do not fail in Your promise.' (Quran 3:191-194). Then the Messenger of Allah (peace be upon him) reached for his bed, took a toothstick from it, poured water from a container nearby, and cleaned his teeth. Then he stood and prayed until I thought: 'He has prayed as long as he slept.' Then he lay down until I thought: 'He has slept as long as he prayed.' Then he woke up and did as he had done the first time, saying the same words. The Messenger of Allah (peace be upon him) did this three times before Fajr." [Narrated by Al-Nasa’i]
After this, the Rawali remain silent, and the author of Mirqat states that there are two possibilities here. It is possible that you performed Wudu again, or it may be that you performed Wudu earlier and then secluded yourself, so you did not see the Wudu of the Prophet ﷺ, and due to the special qualities of the Prophet ﷺ, sweat droplets appeared on your body, and you started the prayer. When asked how long you prayed, you replied that as long as you were at ease, you prayed for that duration. Then you lay down and remained at ease for as long as you had prayed. Later, you fell ill (and recited what you had heard). The Prophet ﷺ would then perform all those prayers and recitations that you had heard him recite for the first time. In the morning, Sad bin Abi Waqqas found that the Messenger of Allah ﷺ had been sleeping and waking up in this manner throughout the night (continuing this practice). (This is narrated by Nasa'i.)
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرمائیں کہ مجھے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کچھ) رات (کے آخری حصہ) میں (جبھی تہجد کے لیے اٹھتے اور) تیرہ رکعت پڑھتے تھے (اس کی تفصیل یہی کہ آٹھ رکعت تہجد کے بعد تیس رکعت نماز اور تین رکعتوتر کے) (وتر کی تین رکعتوں کا ذکر صحیح مسلم اور شمال ترمذی میں موجود ہے۔ 12) (اتنے میں صبح صادق طلوع کرتی تو آپ فجر کی دو سننیں ادا فرمائیں۔ (اس طرح جملہ تیرہ رکعت ہوتی تھی)۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "The Prophet (peace be upon him) used to pray thirteen rak'ahs at night, including Witr and the two rak'ahs of Fajr."
[Narrated by Muslim]
مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات میں جونماز پڑھا کرتے تھے وہ کلتنی رکعتیں پڑھا کرتی تھیں؟ ام المومنین فرماتیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو سنتوں کے علاوہ سات رکعات جبھی پڑھتے تھے، نورکعات جبھی اور گیارہ رکعات جبھی (اس کی تفصیل یہ ہے کہ جبھی تہجد چار رکعت پڑھے پھر اور وتر تین رکعت، اور جبھی تہجد 6 رکعت ہوتی اور وتر تین، اور اکثر تو تہجد آٹھ رکعت ہوتی اور وتر تین) (اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
Masruq reported: "I asked Aisha about the night prayer of the Messenger of Allah (peace be upon him). She said: 'He would pray seven, nine, or eleven rak'ahs, excluding the two rak'ahs of Fajr.'" [Narrated by Bukhari]
کریب رضی اللہ تعالیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں
کہ میں نے حضرت ابن عباس سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز
کیسی ہوتی تھی (پیس کر) حضرت ابن عباس نے فرما کر میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی خدمت اقدام میں بسر کی، اس روز آپ (میری خالہ) حضرت ام المومنین میمونہ رضی
اللہ عنہا کے یہاں تشریف فرما تھے، آپ (نماز عشاء کے بعد اولی شب) آرام فرما کے اور جب
تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو آپ بیدار ہوئے اور ایک مشکیزہ کے پاس تشریف لے جا کر جس میں
پانی تھا وضو فرما تھے، میں نے جب آپ کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور
میں جب آپ کے باہمی جانب کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے اپنے دامین جانب کھڑا کر لیا (پیمیرے
چپن کا زمانہ تھا اور مجھے پکڑ غنودگی تھی، حضرات کو معلوم کر کے) میرے سر پر آپ نے اپنا دست
مبارک رکھا اسیا معلوم ہوتا تھا کہ آپ میرا کان پکڑ کر مجھے نیند سے جگا رہے ہیں اس کے بعد آپ
نے دور کعتین محضر قرآن کے ساتھ اداء فرما تھین، اسیا معلوم ہوتا تھا کہ آپ صرف سورۃ فاتحہ پر، ی
اکتفافرما تھین ( حالا نکہ آپ محضر ضم سورہ مجھی کے تھے ) پھر آپ ان دور کعتوں کو ختم فرما کر سلام
پچھر دیے، اس کے بعد آپ تجدمع وتر کے گیارہ رکعت اداء فرما تے جس میں آٹھ رکعت تو تجد کے
تھے اور باقی تین رکعت وتر کے، اس کے بعد پھر آپ سورہ (اور جب صبح صادق طلوع ہوتی اور
جماعت کا وقت آگیا تو بال رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جماعت تیار ہے تو آپ نے نیند سے بیدار ہو کر دو سننیں پڑھیں، پھر جا کر لوگوں کو فجر کی فرض نماز
پڑھائی -
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)
تجھ کا ایک اور طریقہ اور تجھ کے وقت کی مسنون وعا کیں
Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas, reported: "I asked Ibn Abbas: 'How was the night prayer of the Messenger of Allah (peace be upon him)?' He said: 'I spent a night with him while he was at Maymunah’s house. He slept until a third or half of the night had passed, then he woke up and went to a water skin, performed ablution, and I performed ablution with him. Then he stood up, and I stood to his left. He moved me to his right, placed his hand on my head as if he were touching my ear to wake me, and prayed two brief rak'ahs, reciting Surah Al-Fatihah in each rak'ah. Then he said the Salam. After that, he prayed until he had prayed eleven rak'ahs, including Witr. Then he slept until Bilal came and said: 'The prayer, O Messenger of Allah!' He stood and prayed two rak'ahs, then led the people in prayer.'"
[Narrated by Abu Dawud]
اَمْنُوا اصْبِرُوَا وَصَابِرُوَا وَ رَابِطُوَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک رات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سوگیا تھا (اور حضرت مجھے سوگے تے پھر رات کا ایک حصہ
گزر گیا پر) حضرت بیفارہو کرمسواک کے اورو ضوع کرتے ہوئے ان آیتوں کی تلاوت فرمائی۔
(سورۃ آل عمران پ٤ع19-12، آیت نمبر:190تا200) ان فی خلق السموات
والأرض واختلاف الليل والنّهار لایت لاولی الالباب 0 الذین یذکرون اللہ قيما و
قعودا وعلی جنوبهم ویتفكرون فی خلق السموات والأرض ربنا ما خلقت هذا
باطلا سبحنک فقنا عذاب النار 0 ربنا انک من تدخل النار فقد اخزيته وما
للظلمین من انصار 0 ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للايمان ان امنوا برکم فامنا
ربنا فاغفر لنا ذنوبنا وکفر عنا سیاتنا وتوفنا مع الابرار 0 ربنا واتنا ما وعدتنا علی
رسلک ولا تخزنا يوم القيمة انک لا تخلف الميعاد 0 فاستجب لهم ربهم
انی لا اضيع عمل عامل منکم من ذکر او انثی بعضکم من م بعض فالذین
هاجروا وآخرجو من دیارہم وآؤدو فی سبيلی وقتلوا وقتلوا لا کفرن عنہم سیا
تهم ولادخلنهم جنت تجرى من تحتها الانهر ثوابا من عند اللہ واللہ عندہ حسن
الثواب 0 لا یغرنک تقلب الذین کفرو فی البلاد 0 متاع قلیل ثم ماؤتهم جهنم
وبئس المهاد 0 لكن الذین اتقوا ربهم لهم جنت تجرى من تحتها الانهر
خلدین فيها نزل من عند اللہ وما عند اللہ خیر للابرار 0 وان من اهل الکتب
لمن یومن باللہ وما انزل الیکم وما انزل الیہم خشعین للہ لا یشترون بايت اللہ
ثم نا قلیلا او لک لهم اجرهم عند ربہم ان اللہ سريع الحساب 0 یایها الذین
ترجمہ: آسان وز مین کی بناوت اور رات ودن کے آنے جانے میں عظیم دول (کے بھیجے)
کے لئے شہرنشینیال (موجود) میں کریلوگ کہربے اور بیٹھے اور لیٹے (برحال میں) خدا کو یاد
کرتے اور آسان وز میں کی تخلیق میں غور کرتے ہیں اور بختیار بولائے ہیں کر لے ہمارے
پروردگار! آپ پنے اس (کارخانے عالم) کو بفا کردہ (تو) نہیں بنایا آپ کی ذات عالی (ایسے فعل
عبث کرنے پاک ہے (اور پیکارخانہ تخریب دے رہا ہے کہ آخرت میں نکل کی جزا اور بدی کی سزا
ہونی ہے) تو اے ہمارے پروردگار تم کودوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے اے ہمارے پروردگار
جس کو آپ پنے دوزخ میں ظالماس کو (بہت ہی) زیل ورسوا کیا اور طالمون کا کوئی مدد کار نہیں، اے
ہمارے پروردگار تم نے ایک منادی کرنے والے نیمن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سنا کر منادی کر
رہے ہیں (اور وہ لوگوں کو مجھارہے ہیں) کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاو تو تم ایمان لے آئے پس
اے ہمارے پروردگار! ہمارے قصور معاف فرمائیے اور ہماری برائیوں کو تم سے مطاہرہ اور نکی
بندول کے ساتھ ہمارا خاتمہ بالغیر کچے اور لے ہمارے پروردگار جن جن نغمتوں کے وعدے تم سے
آپ پنے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ فرمائیے ہیں وہ تم کونصیب فرمائے اور قیامت کے دن تمیں
زیل ورسوا نہ ہیں پچھڑے نہیں کر آپ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتے تو ان کے پروردگار نے ان
کی دعا قبول کر لی اور (فرمایا) کہ تم تم میں سے کسی (نیک) عمل کرنے والے کے عمل کو واکارت نہیں
جانے دیں گے، خواہ وہ مردوں یا عورت (اس بارے میں مردوں عورت میں پچھڑے نہیں) کیونکہ تم مردوں
عورت ایک ہی جنس سے ہیں تو جن لوگوں نے ہمارے لئے اپنے وطن چھوڑے اور ہمارے لئے وجوہ
تے اپنے گھروں سے نکلے اور میرے راستے میں ستائے گے اور انہوں نے (راہ جہاد میں) قتل کیا
اور (خود کی) قتل ہوئے میں ان سے ان کی خطاوں کو (ان کے نام اعمال سے) ضرور میٹ دولگا
اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے پھل نہریں بہ رہی ہوں گی، پی بدل ان کو اللہ کے پاس سے ملگا اور اللہ کی کے پاس اچھا بلہے۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافرول کا شہرول میں (دنیا کما نے کے لئے) پچنے پھرنے اور پھران کے کامیاب ہونے سے آپ پیخیال نہ کریں (اور پینہ بجیس کہ پی منفعت کچیرہے بلہ) (دنیا کاپی) تحوُّر اسافاقہہے۔ (کیونکہ دنیا فانی ہے اور دنیا کے تمام فاندے ثواب آخرت کے مقابلے میں بہت کم ہیں) پھر آخر کار ان کافرول کا طبع کا دوزخ ہی ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ میں۔ لیکن جولوگ اپنے پروردگار سے ذرے ربتہ میں آخرت میں ان کے لئے باعات میں جن میں نہریں بہ رہی ہوں گی اور وہ ان میں بیش بیشتر میں گے اللہ کی طرف سے بیان کی مہمانی ہوگی اور اللہ کے پاس جوساز و سامان ہے وہ نیک بندول کے لئے (دنیا و ما فیحا تے) بہتر ہے اور ابل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ اور اس کی کتاب پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس کتاب پر جو آن پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے آگے عاجزی کرتے ہیں۔ (یہودی عادت ہی کہ تورات کے بعض مضامین کو مال و دولت لے کر عوام کے حسب مرضی بدل دیتے ہیں گری ابل کتاب جوا میان لا یہیں) اللہ کی آئتون کو دنیا کے حقیر معاوضے کے بدال نہیں پیچے (اور اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کرتے ہیں) یہ لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے پال تیار موجودہ (ان کو اجر کے حاصل کرنے میں انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی کیونکہ) اللہ تعالی جلد حساب کرنے والے ہیں (ان کے نیموں کا بہت جلد بدل دیے گے) مسلمانو! ان تکلیفون کو جو خدا کی راہ میں تم کو پیش آ یں) برداشت کروا اور ایک دوم سے کو صبر کی تعلیم دو اور آپس میں مل کر رہواور اللہ تعالی سے ذروتا کرآ خر کارتے اپنی مراد کو پیہو پچو (وضوعے فارغ ہوکر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے ہوئے اور دور کے تنماز پڑے ہیں میں قیام، رکوع اور سجدول کو حسب عادت مبارک طویل کیا اور نماز سے فارغ ہوکر سوگے یہاں تک کہ کے خرا سے کی آواز آنے گی (جو گہری نیند کی علامت ہے) پھر اس طرح آپ میں بارسوتے اور جا گے
رہے اور ہر دفعہ میں دو دو رکعت کر کے جمل (6) رکعات ادا فرما گے اور جب نیند سے بیدار ہوئے تو
مش سا بقہ ہر دفعہ مسواک کر کے وضو فرما تے اور نذورہ آیت کہی تلاوت فرما تے۔ آخر میں حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر کے ادا فرما گے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "He slept near the Messenger of Allah (peace be upon him). The Prophet (peace be upon him) woke up, used the toothstick, performed ablution, and recited: 'Indeed, in the creation of the heavens and the earth...' (Quran 3:190) until he finished the verse. Then he stood and prayed two rak'ahs, prolonging the standing, bowing, and prostration. Then he went back to sleep until he snored. He did this three times, praying six rak'ahs, each time using the toothstick, performing ablution, and reciting those verses. Then he prayed Witr with three rak'ahs." [Narrated by Muslim]
In a narration by Abu Dawud: "Then he prayed Witr, and Bilal came to inform him of the prayer when dawn appeared. He prayed the two rak'ahs of Fajr, then went out to lead the prayer."
In a narration by Bukhari and Muslim: "In his supplication, he would say: 'O Allah, place light in my heart, light in my sight, light in my hearing, light on my right, light on my left, light above me, light below me, light in front of me, light behind me, and grant me light.'" Some added: "Light on my tongue," and mentioned: "Light in my nerves, flesh, blood, hair, and skin." In another narration by them: "Place light in my soul and increase light for me." In another narration by Muslim: "O Allah, grant me light."
The creation of ease and comfort, and the coming and going of night and day, are for those who dwell in cities, who stand, sit, and lie down in a state of well-being, remembering God and contemplating His creation in ease and comfort. They are the fortunate ones who say, 'Our Lord! You have not created this [world] in vain! Glory be to You (for such futile acts are far from Your exalted essence)! Indeed, the one who ruins it will face retribution and evil in the Hereafter. So, our Lord, protect us from the punishment of Hellfire, our Lord, for You have made those who fall into Hellfire low and contemptible, and there is no helper for the wrongdoers. Our Lord, You have caused a caller to call out, 'O people! Believe in your Lord,' so they believed. Therefore, our Lord, forgive us our faults and purify us of our evils, and bring us to a good end with sincere intentions and noble deeds. And our Lord, grant us what You have promised through Your messengers, and do not disgrace us on the Day of Resurrection, for You never break Your promise.' So their Lord accepted their prayer and said, 'I will not let the work of any worker among you, whether male or female, go to waste, for you are of one another. Those who have left their homes and have been driven out from their dwellings, and have been persecuted in My way, and who have fought and been killed, indeed, I will remove their sins and admit them into gardens beneath which rivers flow, as a reward from Allah, and with Allah is the best of rewards. O Messenger (peace be upon him and his family), do not let the prosperity and success of the disbelievers in this world deceive you, for the world is but a fleeting enjoyment. In the end, the abode of the Hereafter is for the righteous, and it is a better and more enduring place. But those who have a connection with their Lord will have gardens beneath which rivers flow, and they will abide therein, and it will be a welcome from Allah, and with Allah is the best provision. Some of the People of the Book believe in Allah and in what has been revealed to you and what was revealed to them, and they humble themselves before Allah. They do not exchange the signs of Allah for a small price, nor do they alter them. These are the ones whose connection with their Lord is established, and their reward is immediate, for Allah is swift in reckoning. O believers! Bear with patience whatever difficulties come to you in the way of Allah, and enjoin patience upon one another, and hold fast to the command of Allah, and repent to Him. Fulfill your purpose according to the way of the Messenger (peace be upon him and his family), and follow the Sunnah that has been established. In prayer, perform the standing, bowing, and prostration as usual, and after completing the prayer, sleep until the first light of dawn appears, which is a sign of deep sleep. Then, whenever you wake up, perform two rak'ahs each time, making six rak'ahs in total. When you wake up from sleep, perform wudu, use the miswak, and recite the verses of the Quran. Finally, the Messenger (peace be upon him and his family) would perform three rak'ahs of the Witr prayer. (This is narrated by Muslim.)'
/1 _ اور ابوداود کی ایک روایت میں ہے کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر
اداء فرما گے اور جب صبح صادق طلوع ہوئی (اور جماعت کا وقت آگیا) تو باللہ ضی اللہ علیہ
حاضر ہوگر (جماعت کے تیار ہونے کی) اطلاع دی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو سنن پڑھ
کر فرض پڑھا نے کے لے باہر تشریف لے گئے۔
then the Messenger of Allah ﷺ performed the Witr prayer, and when the true dawn appeared (and the time for the congregation arrived), Zayd ibn Thabit (RA) came and informed him that the congregation was ready, so the Messenger of Allah ﷺ recited two Sunnah prayers of Fajr and then went out to perform the obligatory prayer.
/1 _ اور بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ (جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فجر کی سنن پڑھ کر فرض پڑھا نے کے لے تشریف لے چل تو) پیدا پڑھتے ہوئے روحصل تک پہنچ:
اللہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَ فِی بَصَرِی نُورًا۔ وَ فِی سَمْعِی نُورًا۔ وَ عَنْ يَمِینِی
نُورًا۔ وَ عَنْ يَسَارِی نُورًا۔ وَ فَوْقِی نُورًا۔ وَ تَحْتِی نُورًا۔ وَ أَمَامِی نُورًا۔ وَ خَلْفِی نُورًا۔
وَ اجْعَلْ لِی نُورًا طَ
ترجمہ: اللہ (میں انسان ہو نے کی حیثیت سے جہالت اور گمراہی میں گمراہ ہوا ہول، اب آپ
میری مدد کیجئے اور) میرے دل میں نور پیا کیجئے۔ اور میری بصر میں نور پیا کیجئے اور میری
سماعت میں نور پیا کیجئے اور میرے سیدے طرف نور، اور میرے باہمی طرف نور اور میرے اوپر نور
اور میرے نیچے نور اور میرے سامنے نور اور میرے پیچے نور پیا کیجئے، (غرض میرے ہر طرف سے
نور، جی نور ہواور میں سراپا نور ہو جاول جس سے ہروقت میں آپ کی درايت پہنچی رہے اور میں کسی
بھکانے والے کے بھکانے سے گمراہ نہ ہو جاول) اور آپ میرے لے نور پیا فرما یے۔
اور بعض روايتول میں اس دعا کے بعد زیل کے پیالفاظ کی اضافہ آ ے ہیں:
وَ فِی لِسَانِی نُورًا وَ عَصَبِی وَ لُحْمِی وَ دَمِی وَ شَعْرِی وَ بَشَرِی۔
اہی میری زبان میں نور، میرے پھول میں نور، میرے گوشت میں نور، میرے خون میں نور،
میرے بالوں میں نوراورمیرے پوست میں نورپیا کچھ (یعنی مجھے سراپاہدایت بنادیا)-
O Allah, place light in my heart, light in my sight, light in my hearing, light on my right, light on my left, light above me, light below me, light before me, light behind me, and make me a light. (The purpose is that I am surrounded by light, and I become entirely light, so that I may always reach Your nearness and not be led astray by any deceiver) and grant me light. And in some versions, after this supplication, the following words are added: 'And place light in my tongue, my veins, my flesh, my blood, my hair, and my skin.' (That is, make me entirely guided.)
اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں یہی ہے:
وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا .
اہی! میری جان میں نورپیا کچھ (یہ جوپھینورآ پ عطا فرما ئے گے معمولی نور نہ ہو بلکہ سب
سے بڑا نور ہو جس سے مجھے کامل ہدایت ملے)-
And make light in my heart and increase light for me. Oh! My soul should be filled with light (that which You will grant me should not be ordinary light but the greatest light, so that I may attain complete guidance).
اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں یہی ہے:
اللہُمَّ أَعْطِنِي نُورًا .
اہی (آخر میں آپ سے دعا کرتا ہول کے ) آپ مجھے اس قدر نور عطا فرما ئے کہ میں سرتا پا
نور میں نور ہو جاؤں-
تجہد کی نماز کا ایک اور طریقہ
O Allah, give me light. (At the end, he would pray:) O Allah, grant me such light that I may swim in light.
زید بن خالد رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ کہتے ہیں: (ایک دفعہ کا واقعہ
میں ) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تجرات سے باہر ظہیرہ کی طرح ایک مقام پناگیا تجا اور
آپ اس میں تشریف فرما ئے چونکہ میں ظہیرہ کی چوکھٹ پرس رک کر سورہ فتحا اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے تجرات سے باہر ہونے سے حضرت کا پہل میرے سامنے تجااس لئے میں نے مقصود ارادہ کر لیا
اوردل میں تجان لیا تجا کر آنج شب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کو کیہوں، (کے
آپ کس طرح ادا فرما ئے ہیں) تو میں کیا و کیتا ہوں کر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختصر قرأت سے
(تجہد الوضوی) دور کعتین ادا فرما ئے (اس کے بعد تجد کا سلسلہ ثرو ع ہوا) چھرا پ نے دور کعتین
بہت طویل قرآن تے اداء فرامے، اس کے بعد آپ نے چھر دور کعتین جو پڑھیں وہ طویل توحین
گمر قرآن میں پہلے دو کی بسبت کی قدر مختصر تحسین، چھراس کے بعد دور کعتین طویل قرآن تے اداء
فرما تین گمر بسبت ان کے پہلے کی دور کعتون سے قرآن میں کی قدر مختصر تحسین، چھراس کے بعداور
دور کعتین طویل قرآن تے اداء فرامے گمر پیر کعتین قرآن میں ان کے پہلے کی دور کعتون سے کسی
قدر مختصر تحسین (پیآ ظہر کعتین تو تجد کی ہوئیں) اس کے بعد آپ نے چھر تین رکعت وتر کے اداء
فرما تے اس طرح پجملہ 13 رکعتین ہوتیں –(اس کی روایت مسلم نے کی ہے–)
تجد تے پہلے تجہ الوضوء پڑھنے کا بیان
پہلی حدیث
Zaid ibn Khalid Al-Juhani reported: "I resolved to observe the night prayer of the Messenger of Allah (peace be upon him). He prayed two brief rak'ahs (1), then two very long rak'ahs, then two rak'ahs shorter than the previous two, then two rak'ahs shorter than those before them, then two rak'ahs shorter than those before them, then he prayed Witr. That made thirteen rak'ahs." (2) [Narrated by Muslim]
(1) His statement: "Two brief rak'ahs" – The two brief rak'ahs refer to the two rak'ahs after ablution. It is recommended to keep them short, as indicated by narrations emphasizing their brevity in both words and actions, as understood from Al-Azhar.
(2) His statement: "That made thirteen rak'ahs" – In Al-Mabsut, it is mentioned that the maximum number of rak'ahs he prayed at night was eight, and the minimum was two. It is narrated that he sometimes prayed five rak'ahs, seven rak'ahs, nine rak'ahs, eleven rak'ahs, or thirteen rak'ahs. Those who said five rak'ahs meant two rak'ahs for night prayer and three for Witr. Those who said seven rak'ahs meant four for night prayer and three for Witr. Those who said nine rak'ahs meant six for night prayer and three for Witr. Those who said eleven rak'ahs meant eight for night prayer and three for Witr. Those who said thirteen rak'ahs meant eight for night prayer, three for Witr, and two for the Sunnah of Fajr. This is mentioned in Fath Al-Qadir.
امام المومنین علی ظہر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمائیں کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم رات میں جب تجد پڑھنے کے لیے تو پہلے (تجہ الوضوء کی ) دو مختصر کعتین
پڑھتے۔ اس کے بعد تجد کی نماز شروع فراماتے تھے –(اس کی روایت مسلم نے کی ہے–)
دوسری حدیث
The Messenger of Allah ﷺ used to perform two brief rak'ahs before the night prayer after making wudu. After that, he would begin the night prayer.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں کوئی شخص تجد کے لیے نیندے اٹھ تو پہلے (تجہ الوضوء
کی ) دو مختصر کعتین پڑھے، اس کے بعد تجد کی نماز شروع کرے –(اس کی روایت مسلم نے کی ہے–)
تجد میں حضور کی قرآن تکا بیان
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you stands at night to pray, let him begin his prayer with two brief rak'ahs." [Narrated by Muslim]
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر میں مفصل کی
ان سورتوں کو جانتا ہوں جومقدار میں ایک دوسروں کے قریب قریب ہیں اوران میں کی دودوسروں
کو ملا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تہجد کی بھرا کر رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم میں ہے۔)
Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated: "I recognized the pairs of Surahs that the Prophet (peace be upon him) used to recite together." He mentioned twenty Surahs from the beginning of the Mufassal (short Surahs), according to the arrangement of Ibn Mas’ud, reciting two Surahs in each rak'ah, the last of which were Surah Al-Dukhan and Surah 'Amma Yatasa'aloon. [Agreed upon]
In a narration by Muslim from Shaqiq: "A man from Banu Bajilah, named Nahik ibn Sinan, came to Abdullah (ibn Mas’ud) and said: 'I recite the Mufassal in every rak'ah.' Abdullah said: 'Is this like reciting poetry? I know the pairs of Surahs that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to recite, two Surahs in each rak'ah. (3)'"
(3) His statement: "Two Surahs in each rak'ah" – Iyad said: "This is consistent with the narration of Aisha that his night prayer was eleven rak'ahs, including Witr, and this was the extent of his recitation most of the time. His prolonging of the prayer was due to reflection and extending the pillars of prayer. His recitation of Surah Al-Baqarah and Surah An-Nisa’ was rare. Ibn Mas’ud’s disapproval of the man was to encourage him to reflect, not to say that reciting the Mufassal in one rak'ah is impermissible." This is mentioned in Al-Mirqat.
اور مسلم کی ایک اور روایت میں ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے قبیلہ بنی
tubile ke aik sahab jin ka nam tubik bin sanan taha hzrat ibn masood razi allah un ki khidmat mein
hazir hokr arz ke ke ke mien tehjdi ki her rakat mein mafsal ki tamam surton ko pata liya karta houl, to ibn
masood razi allah un ne farmaia: (arab ke shere aati yad bta ne ke lete ashare ko biyed tezi se patra ha
karne th): kyatm nji qra an koi bi tej ho, min tm kotla ta houl ktm rasul allah sallalahu ali wa ali waslam
ke tarqe prml kia kr wo hzoor sali allah ali wa ali waslam tehjdi ki her rakat mein mafsal ki du wo surtis jo
mqtar mien aik du sr se karb qr yib hotin nhayit ztil se patra kart th) tm nji alyati
patra kro)-
f: rd aktr mien kmha he ke frz ki her kat mien agkoni du wo surtis jw aik dusre ki
mtsl houl patra tu ja tz he mgr bxlf awli aur kr w htz bi he bntu afl aur tehjdi ki her kat mien du
dusor ton komlkr patra hnbl kr ahit ja tz he khwh psrtis mtcl houl ya ghr mtcl-
Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated: "I recognized the pairs of Surahs that the Prophet (peace be upon him) used to recite together." He mentioned twenty Surahs from the beginning of the Mufassal (short Surahs), according to the arrangement of Ibn Mas’ud, reciting two Surahs in each rak'ah, the last of which were Surah Al-Dukhan and Surah 'Amma Yatasa'aloon. [Agreed upon]
In a narration by Muslim from Shaqiq: "A man from Banu Bajilah, named Nahik ibn Sinan, came to Abdullah (ibn Mas’ud) and said: 'I recite the Mufassal in every rak'ah.' Abdullah said: 'Is this like reciting poetry? I know the pairs of Surahs that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to recite, two Surahs in each rak'ah. (3)'"
(3) His statement: "Two Surahs in each rak'ah" – Iyad said: "This is consistent with the narration of Aisha that his night prayer was eleven rak'ahs, including Witr, and this was the extent of his recitation most of the time. His prolonging of the prayer was due to reflection and extending the pillars of prayer. His recitation of Surah Al-Baqarah and Surah An-Nisa’ was rare. Ibn Mas’ud’s disapproval of the man was to encourage him to reflect, not to say that reciting the Mufassal in one rak'ah is impermissible." This is mentioned in Al-Mirqat.
تكبير تحریمہ اس طرح شروع فرمائے:
اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، ذُو الْمَلْكُوتِ وَالْجَبْرُوتِ وَالْکِبْرِياءِ
وَالْعَظَمَةِ .
اللّٰهُ تعالی سُبْحَانَہُ بَرَیمَہ، اللّٰهُ تعالی سُبْحَانَہُ بَرَیمَہ
hadif rzi allah un se rawa yt he ke nibin (aki mrty) hzoor sali allah ali
wa ali waslam ko tehjd patra hu d kyhn ka moq mla, kiad kyht hi kr (dl mien) tehjdi niyt kr ke ap
دو جہان کے آپؓ میں ما کہ بھی سب غالب پرآپؓ غالب ہیں جس جن کو برائی سے ان میں آپؓ سب سے برتر ہیں، آپؓ کی عظمت اور برزگی کے ساتھ کسی کی عظمت و برزگی نہیں۔ پھراس کے بعد آپؓ ثناء پڑتے ہیں (اورجب قرآن کا موقع آیتوسورۃ فاتحہ کے بعد پڑتی رکعت میں ) سورۃ بلقرہ نہایت ترتیل سے پڑتی ہے، پھر رکوع فرماتے، کیا کہون کیسا رکوع تھاجسے عادت مبارکہ سے زیادہ غیر معمولی قیام تھا، قیام کی مناسبت سے عادت سے زیادہ رکوع بھی غیر معمولی طویل تھا حسب عادت ثریفہ پورے رکوع میں "سُبْحَانَ رَبِّى الْعَظِیْم" باربار پڑتے جاتے تھے، پھر آپؓ رکوع سے سراٹھا کرقومہ کے، قومہ بھی رکوع کی طرح عادت سے زیادہ غیر معمولی طویل تھا قومہ میں (سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کے بعد ) "لِرَبِّى الْحَمْد" باربار پڑتے تھے جتنی اے میرے رب حمد کے مستحق صرف آپؓ ہی ہیں، پھر آپؓ سجدہ فرماتے، کچھ نہ پوچھو کہ سجدہ کیسا تھا، سجدہ بھی قومہ کی طرح عادت ثریفہ سے زیادہ غیر معمولی طویل تھا، حسب عادت ثریفہ پورے سجدہ میں آپؓ "سُبْحَانَ رَبِّى الْاعْلَی" باربار پڑتے تھے، پھر آپؓ پائل سجدہ سے سراٹھا کرجلسمیں آگے اور پیجلسمی سجدہ کی طرح عادت ثریفہ سے زیادہ غیر معمولی طویل تھااورآپؓ جلسے میں "رَبِّ اغْفِرْلِی رَبِّ اغْفِرْلِی" باربار پڑتے تھے (پائل رکعت تھی ) اس طرح آپؓ چار رکعات اداء فرماتے، الان چار رکعتوں میں جو قرآن آپؓ فرماتے تھااس کی تفصیل یہی، پہلی رکعت میں سورہ بقرہ، دوسروں میں آل عمران، تیسری میں سورۃ نساء، چوتھی میں حضرت شبعب راوی کوشک سے کہ مانے تو ایا سورۃ انعام - بہرحال ان دوسوروں میں سے کوئی ایک سورت تھی - (اس کی روایت البوداود نے کی ہے -)
The Messenger of Allah ﷺ would recite Surah Al-Baqarah in the first rak'ah, Surah Al-'Imran in the second, Surah An-Nisa' in the third, and in the fourth, according to Shu'bah (RA), either Surah Al-An'am or one of the other two. (This is reported by Al-Bazzar.)
_ عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص (تجہد یا صلاۃ الليل میں سورۃ فاتحہ کے سوا ئے ) دس آیتین پڑتے تو اس کا نام غافلین کے درجن میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص (تجہد یا صلاۃ الليل میں سورۃ فاتحہ کے ) سو آیتین پڑتے تو اس کا نام قائمین لیلین خدا کے فرمانبرداروں میں لکھا جائے گا اور جو شخص (تجہد یا صلاۃ الليل میں ) ایک بزارآ آیتین پڑتے (تو پگھنے پوچھو کر اس کا
نام کن میں کہا جائے گا۔" مَقنَطِرینَ " لیکن بگنتی ثواب جمع کرنے والوں میں کہا جائے گا۔
(اس کی روایت البوداود نے کی ہے)
تجہد میں حضور کا قیام مجھی بہت طولیل ہوتا تھا اس کی کیفیت
Abdullah ibn Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays with ten verses will not be recorded among the heedless. Whoever prays with a hundred verses will be recorded among the devout. Whoever prays with a thousand verses will be recorded among those who accumulate good deeds." [Narrated by Abu Dawud]
_ ابوز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرماتے ہیں: (کہی ایا مجھی ہواہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تجہد کے لئے کھڑے ہوئے (اوراپنی امت اوران کے گناہیاد
آگے) تو زیل کی آیت پڑھتے پڑھتے نہ کردیے اوربارباریفرماتے تھے: ان تُعَذِّبُہُمْ فَانَہُمْ
عباہک ج وان تَغْفِرْ لَہُمْ فَاَنَکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ
اللہ العالمین! اگرآپ (میری امت کے گناہگارول کوان کے گناہوں پر) مزاری تویاپ پ
کے بندهیں (آپ کو اختیار ہے آپ کی طرف کوئی ظلم کی نسبت نہیں کرسکتا) اوراگرآپ ان کے
گناہوں کو معاف فرمادیں (تو اس کا مجھی آپ کو اختیار ہے اور کوئی آپ کا باته پکڑنے والا نہیں اس
لئے کر) آپ زبردست قدرت والے اورالیاہی برہی حکمت والے ہیں (حکیم کے فعل پر کوئی
اعتراض نہیں کرسکتا) _ (اس کی روایت نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے)
حضور کے تجہد کی کیفیت
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) stood in prayer until morning, reciting one verse: 'If You punish them, they are Your servants; and if You forgive them, indeed, You are the Mighty, the Wise.'" (Quran 5:118) [Narrated by Al-Nasa’i and Ibn Majah]
_ یعلی بن مملک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المومنین ام سلمہ
رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کیسی ہوتی تھی اوراس
میں آپ کی قرآن کے طرح ہوا کرتی؟ (پیش کر حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اورآپ کی قرآن کے یاد آگئی، آپ کا دل بہرآیا) اورآپ فرماتے گئے کہ
آپ کی نماز اورآپ کی قرآن کا حال سن کر کیا کروں (اس لئے کر حضور کے جیسی نماز اورقرآن کے
پڑھنے کی کس میں طاقت ہے؟ حضور کے دل میں محبت ایس قدر تھی کہ وہ آپ کو سونے دیتے نہ
جتنی، بار بار آپ کو انہا کر بھیاد یت جتنی، اس لے آپ نیندے انکر) نماز تجراداء فراماتے، پھر جتنی
دیر آپ نے نماز پڑھی جتنی، اتنی ہی دیر آپ آرام فراماتے پھر (بیدار ہوکر) جتنی دیر آپ آرام
فرماتے اتنی دیر تک نماز پڑھتے رہتے تھے، پھر جتنی دیر آپ پڑھی اتنی دیر آرام فراماتے
یہاں تک کہ صادق طلوع کرتے (یتوآپ کی نماز کا حال ہوا اب حضور کی قرآن کا حال سنو) ام
المؤمنین آپ کی قرآن کواس طرح بیان فرما ئس کرآپ کی قرآن نہایت ترتیل کے ساتھ ہوتی کہ ہبر
حرف علحدہ ہے کہ ہوتا اور ام المؤمنین خود بھی ترتیل کے ساتھ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ کر سنا کیں
(کہ حضور اس طرح قرآن پڑھا کرتے تھے)-
(اس کی روایت ابوداود،ترمزی اور نسائی نے کی ہے)-
تجد میں حضور کے قرآن کرنے کی کیفیت
پہلی حدیث
Ya’la ibn Mamlak reported: "He asked Umm Salamah, the wife of the Prophet (peace be upon him), about the Prophet’s recitation and prayer. She said: 'What is it to you and his prayer? He would pray, then sleep for as long as he had prayed, then pray for as long as he had slept, then sleep for as long as he had prayed until dawn.' Then she described his recitation, and it was a clear recitation, letter by letter." [Narrated by Abu Dawud, Tirmidhi, and Nasa’i]
ابوبہریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم تجد کی نماز میں اکثر متوسط آواز سے قرآن فرما کرتے تھے اور بھی دیکھی آواز سے بھی
قرآن فرماتے ہیں-(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)-
دوسری حدیث
The Messenger of Allah ﷺ would often recite the Quran in a moderate voice during the Jumu'ah prayer, and he would also recite it in a loud voice.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم مکان میں جب تجد کی نماز پڑھتے تو اتنی آواز سے قرآن فرما کرتے کہ جو مگرہ میں
ہوتے ان کوآواز سنا کی دیتی (لیکن نہ بہت بلند آواز سے قرآن فرما تے اور نہ بالکل آہستہ کر کی کو
سنا کی نہ دے بلکہ اس طرح قرآن فرما تے جسیا کراہی بیان کیا گیا)-
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)-
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet’s (peace be upon him) recitation was such that those in the room could hear it while he was in the house." [Narrated by Abu Dawud]
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت ہے و فراماتے ہیں ایک رات کا واقعہ ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اتفاق سے) باہر نکلے (اور کہیں تشریف لے جارہے تھے تو)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام پر سے گزر رہوا اس وقت ابوبکر صدیق تجد پڑھ رہے تھے
اور بہت آہستہ آواز سے قرآن کرتے تھے (ان کی قرآن کرتے سماعت فراماتے ہوئے حضرت عمر تجد کی نماز میں
بلند آواز) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقام پر سے گزر رہوا تو حضرت عمر تجد کی نماز میں
قرآن کرتے تھے، حضرت سے کہ حضرت عمر بہت بلندآواز سے قرآن کرتے تھے، ابوقتادہ کہتے ہیں
کہ (جب مجھے ہونی تو) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر دونوں حضرت کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے
(حضرت باطنی امراض کے طبیب تھے جس میں جومرض دیکھتا اس کا علاج فرامایتے۔ اس کے صحبہ
کرام کو باطنی امراض کے کامل صحت حاصل ہوئی تھی، مریض سے پہلے کیفیت سن کر علاج کیا جاسکتا
ہے اس لیے) حضرت نے ارشاد فرامایا: ابوبکر میں (آنج کی رات) تہہار کے مقام پر سے ہوکر گزر تو تم
کو بہت آہستہ آواز سے قرآن کرتا ہوا پایا تو ابوبکر صدیق عرض کیے: حضرت میں اس ذات سے راز و
نیاز کر رہا تھا جوآہستہ آواز کو جسیس لیتا ہے اس کو بلندآواز سے سنا نے کی ضرورت نہیں،
پھر حضرت عمر سے خطاب ہوکر فرامایے: عمر! میں جب تہہار کے مقام پر سے گزر را تو تم کو تجد میں بہت
بلندآواز سے قرآن کرتے ہوئے پایا تو حضرت عمر عرض کیے: حضرت میں بلندآواز سے اس کے
قرآن کرتے رہا کہ سوتون کو جگاول (غافلون کو ہوشیار کرول) اور شیطان کو (اپنی قرآن کے)
جگاول (دونوں کی کیفیت کو سن کر اب حضرت علاج فراماتے ہیں) ابوبکر! تم اپنی آواز کو پچھا او پچا
کرو، اور حضرت عمر سے فرامایے: عمر! تم اپنی آواز کو پچھا پست کرو (اس لیے کہ میانہ رویہ کام میں
بہت بہتر ہے)۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور ترنذی نے جسی اس طرح روایت کی ہے۔)
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) went out one night and found Abu Bakr praying in a soft voice. Then he passed by Umar, who was praying in a loud voice. When they both gathered with the Prophet (peace be upon him), he said: 'O Abu Bakr, I passed by you while you were praying in a soft voice.' Abu Bakr said: 'I made audible to the One I was supplicating, O Messenger of Allah.' The Prophet (peace be upon him) said to Umar: 'I passed by you while you were praying in a loud voice.' Umar said: 'O Messenger of Allah, I was waking the drowsy and driving away Satan.' The Prophet (peace be upon him) said: 'O Abu Bakr, raise your voice slightly,' and to Umar, he said: 'Lower your voice slightly.'" [Narrated by Abu Dawud, and Tirmidhi reported something similar]
_ مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس عمل کو بہت پسند فرما تے تھے؟ ام المومنین فرماتیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیں کامل (یعنی اوراد و وظائف اور نوافل میں) سب سے پیارا اور پسندیدہ وہ کام معلوم ہوتا تھا جس پر بیشتر پابندی کی جاتے چھوٹے میں ن عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تجہد کے لیے کب اٹھتے تھے؟ ام المومنین فرماتیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر اس وقت تجہد پڑھنے کے لیے جب مرغ کی آواز سنے (اکثر مرغ اس وقت باگ دیا کرتی ہیں جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے)-
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پرکی ہے-)
حضور کے سونے اور جاگنے کی کیفیت
Masruq reported: "I asked Aisha: 'Which deed was most beloved to the Messenger of Allah (peace be upon him)?' She said: 'The consistent one.' I asked: 'At what time would he rise at night?' She said: 'He would rise when he heard the crowing of the rooster.'" [Agreed upon]
_ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کورات کے کسی خاص حصر میں سونے یا کسی خاص حصر میں جاگنے کی عادت نہیں اس لے جب )ہم خیال کرتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت نمازیں پڑھ رہے ہوں لے گگر (جب دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ ) حضور اس وقت نماز پڑھ رہے ہیں (اپنے )ہمارا خیال ہوتا کہ حضور اس وقت نہیں سورہ ہوں لے گگر (جب دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ ) حضور اس وقت سورہ ہیں (اس سے معلوم ہوا کہ حضور کے رات میں سونے اور نماز تجہد پڑھنے کی عادت ثریفہ مقرر نہیں)-
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)
نقل نماز پڑھ کر بھی پڑھ سکتے ہیں
The Messenger of Allah ﷺ did not have the habit of sleeping at a specific time during the night or staying awake at a specific time. So, when we thought that the Prophet ﷺ was praying at a certain time, it turned out that he was indeed praying at that time. And when we thought that the Prophet ﷺ was not reciting the Qur'an at a certain time, it turned out that he was indeed reciting the Qur'an at that time. This showed that the Prophet's habit of sleeping and performing the night prayer (Tahajjud) was not fixed at specific times.
_ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ میں نے
کہمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے نمین ویجا) جسیا کہ بخاری میں ذکور ہے۔ 12
(بال جب آپ زیادہ سن رسیدے تو گئے اور آپ پڑعف پیری کے آثار ظاہر ہونے لگے تو آپ اکثر
(نفل) نماز ول کو بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے (اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹھ کر نماز
پڑھنے آپ کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی اس لیے کہ حضرت کے خصوصیات سے بخلا ف
امت کے کہ بلا عذر نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے سے آدھا ثواب ملے گا بال اگر عذر کی وجہ بیٹھ کر پڑھیں تو
پورا ثواب ملے گا۔ یہ عمل سے متعلق ہے اگر کوئی شخص فرض نماز بلا عذر بیٹھ کر پڑھے تو نماز اداء نہ
ہوگی، اس لیے کہ قیام فرض ہے بال اگر کسی عذر کی وجہ سے فرض نماز بیٹھ کر پڑھے تو نماز ہوجائے گی
اور ثواب بھی پورا ملے گا) (مرقات۔ 12)
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Messenger of Allah (peace be upon him) grew older and heavier, he performed most of his prayers while sitting." [Agreed upon]