Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ السُّنَنِ وَفَضَائِلِهَا

The Sunnah Prayers and Their Virtues
Volume 3 · Prayer

(یہ باب سنن کی تعرارکعات اور ان کی فضیلتون کے بیان میں ہے)

ف: وا طے ہو کر سنن لے وہ نمازی مراد پیں جودن رات میں فرض نمازول کے ساتھ پڑھی

جاتی پیں اور ان میں پی حمت رکی گئی ہے کر نمازی ان کو ادا کر کے حضور قلب کے ساتھ فرض نماز کے

لے تیار ہو جاے اور غفلت ان کے ذریعہ دور ہو جاے تا کر فرض نماز کو انتہائی حضوری اور کمالی لزت

سے شروع کر سکے۔

سنن کی وشتمیں پیں: ایک روا تب لیعنی موکدہ، پروہ سنن پیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے مداومت فرمائی ہے۔ دوسرا غیر روا تب لیعنی غیر موکدہ، پروہ سنن پیں جن پر نبی کریم

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مداومت نہیں فرمائی جسے عصری سننیں وغیرہ (مرقیات، اشعی اللمعات)

وقول اللہ عزوجل "فَسَبِحُهُ وَادْبَارَ السُّجُودِ" اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے (سورۃ طن

پ26ع2، آیت نمبر:40 میں) فرض نمازول کے بعد سنن کی پڑھا کرو۔

وقولہ تعالی : "فَسَبِحُهُ وَادْبَارَ النُّجُومِ" اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے (سورۃ طورپ27

ع2، آیت نمبر:49 میں) اور تارے ظہور کے بعد (فجر کی فرض کے پیلے) دور کے سنن پڑھا

کرو۔

موکدہ سنن کی رکعتون کا بیان اور ان کی فضیلت

پہلی حدیث

In the context of the virtues and merits of Sunnah prayers:

F: And it is recommended to perform those voluntary prayers at night along with the obligatory prayers, and perseverance has been shown in them. By performing these Sunnah prayers, one prepares oneself with presence of heart for the obligatory prayer, and distraction is removed through them so that one can begin the obligatory prayer with utmost presence and perfect delight.

The types of Sunnah prayers are: One type is established, meaning confirmed, which the Blessed Prophet (peace be upon him and his family) performed consistently. The second type is unestablished, meaning unconfirmed, which the Blessed Prophet (peace be upon him and his family) did not perform consistently, known as contemporary Sunnah prayers (such as Merqiyat, Ashi al-Lam’at).

And Allah’s command, “So glorify Him when you enter the prostration,” (Surah Tin, Chapter 95, Verse 40) indicates that one should recite the Sunnah prayers after the obligatory prayers.

And Allah’s command, “So glorify Him when the stars appear,” (Surah Tur, Chapter 52, Verse 49) indicates that one should recite the Sunnah prayers after the stars become visible (before the Fajr obligatory prayer).

The Merit of the Rak’at of the Sunnah Prayers and Their Virtue

First Hadith

1761

امام الموتین ام حیبر ضی اللہ علیہ سے روایت ہے آپ فرمائیں کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دن رات میں (فرض کے ساتھ 12 رکعت سنن

بھی ادا کرے تو اس کے لے جنت میں ایک گھر تیار کیا جاے گا وہ بارہ رکعتیں پیں: چار رکعتیں

ظہر کے فرض سے پیلے اور (2) اس کے بعد، اور دو رکعتیں مغرب کے فرض کے بعد، دو رکعتیں

عشاء کے فرض کے بعد اور دو رکعتین نماز کے فرض سے پہلے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)

Umm Habibah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays twelve rak'ahs in a day and night, a house will be built for him in Paradise: four before Dhuhr, two after it, two after Maghrib, two after Isha, and two before Fajr." [Narrated by Tirmidhi]

In a narration by Muslim, she said: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'There is no Muslim slave who prays to Allah twelve rak'ahs voluntarily every day, apart from the obligatory prayers, except that Allah will build for him a house in Paradise, or a house will be built for him in Paradise.'"

1762

اور مسلم کی ایک روایت میں ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح

مروی ہے آپ فرما تی ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے کہ

جو مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ کی خوشنوئی کے لیے (فرائض کے ساتھ) بارہ رکعتیں سنت پڑھتا ہے تو اللہ

تعالیٰ (اس کے لیے جنت میں) مکان بناتے ہیں۔

ف: پر اور اس قسم کی حد ثول سے ثابت ہوتا ہے کہ دن رات میں یہ بارہ رکعتیں سنت مؤكد ہیں،

اس لیے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر داومت فرما تی ہے اور کچھ نزک نہیں کیا۔ (مرقات 12)

دوسری حدیث

Umm Habibah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays twelve rak'ahs in a day and night, a house will be built for him in Paradise: four before Dhuhr, two after it, two after Maghrib, two after Isha, and two before Fajr." [Narrated by Tirmidhi]

In a narration by Muslim, she said: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'There is no Muslim slave who prays to Allah twelve rak'ahs voluntarily every day, apart from the obligatory prayers, except that Allah will build for him a house in Paradise, or a house will be built for him in Paradise.'"

1763

عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین

عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دن رات میں فرض نماز ول

کے علاوہ) کتنی سنتیں اداء فرما کرتے تھے؟ ام المومنین فرما تیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

میرے گھر میں ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعت سنت اداء فرما تے تھے، پھر باہر تشریف لے جا کر

لوگوں کو ظہر کی فرض نماز پڑھاتے، پھر گھر میں تشریف لا کر دو رکعت سنت اداء فرما تے تھے، اور مغرب

کی فرض پڑھا کر گھر میں تشریف لا کے اور دو رکعت سنت اداء فرما تے، پھر عشاء کی فرض پڑھا کر گھر

میں تشریف لا کے اور دو رکعت سنت اداء فرما تے، اور ان کے علاوہ رات میں نو (9) رکعت نماز اداء

فرما تے تھے جن میں (6 رکعات تہجد کے ہوئے اور 3 رکعت) وتر (کے) ہوئے (تہجد کی پی تعداد

رکعات اس روایت کے لحاظ سے ہے اور روايتوں میں جو مختلف تعداد رکعات کا ذکر ہے اس کی تفصیل

اب مقام پر آئے گی) اور کچھ کسی رات میں (طولی قرآن کے ساتھ) تہجد کر ہے ہوئے دیتے

اداء فرما تے اور کچھ کسی رات میں دیتے بھی ہوئے ہیں جیسے تہجد اداء فرما تے ہے اور جب قیام کی حالت

میں قرآن فرما تے تو قیام میں جا کر رکوع اور سجود اداء فرما تے ہے اور جب بیٹھ ہوئے قرآن

فرما تے تو بھی نہیں کی حالت سے رکوع اور سجدہ میں جائے تو اور جب نج کی نماز کا وقت ہوتا تو

(گھر میں) دور کے سنہ پڑھتے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے) اور ابوداود نے یا اضافہ کیا

ہے کہ پھر گھر سے نکلتے تو اور لوگوں کو فجر کے فرض پڑھاتے۔

Abdullah ibn Shaqiq said: "I asked Aisha about the voluntary prayers of the Messenger of Allah (peace be upon him). She said: 'He would pray four rak'ahs in my house (1) before Dhuhr, then go out and lead the people in prayer. Then he would return and pray two rak'ahs. He would lead the people in Maghrib prayer, then return and pray two rak'ahs. He would lead the people in Isha prayer, then enter my house and pray two rak'ahs. He would pray nine rak'ahs at night, including Witr. He would pray for a long time standing and for a long time sitting. When he recited while standing, he would bow and prostrate while standing. When he recited while sitting, he would bow and prostrate while sitting. When dawn approached, he would pray two rak'ahs.'" [Narrated by Muslim]

Abu Dawud added: "Then he would go out and lead the people in Fajr prayer."

In a narration by Tirmidhi from Aisha: "The Prophet (peace be upon him) would pray sitting and recite while sitting. When about thirty or forty verses remained of his recitation, he would stand and recite while standing, then bow and prostrate. He would do the same in the second rak'ah."

(1) His statement: "He would pray in my house" – It is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar: "The preferred place for voluntary prayers (other than Taraweeh) is one's home, unless there is a fear of being preoccupied and missing them. The most correct opinion is that what is most humble and sincere is superior."

1764

اور ترمذی کی روایت میں امام مسلمین عاشر رضی اللہ عنہا سے مردی ہے کہ بنی

کربم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں بھی کرتے ہیں پڑھتے تو بیٹھ کر، یقرا آت فرما تے تو اور جب سورہ کی

تقریباً (30 یا 40) آیات کی قرآن ت باقی رہ جائی تو آپ کہرے ہوجاتے اور کہرے کہرے بقیہ

آیات پڑھ کر (قیام سے، ی) رکوع کو جاتے اور سجدہ فرما تے پھر دوسری رکعت میں بھی اس طرح کیا

کرتے تھے۔

ف (1): اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر سے پہلے اور عشاء سے پہلے کی سنن مؤكدہ

نہیں ہیں لیکن ان کے پڑھنے میں بڑا ثواب ہے، چنانچہ عصر کے پہلے کی چار رکعت سنن کے پڑھنے

والے کے بارے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہا کہ پابندی سے پڑھنے والے کا خاتمہ بالآخرہوگا ان کی اور فضیلتیں

آئے آری ہیں۔

ف (2): اس حدیث میں ذکور ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنن گهر میں اداء فرما یا

کرتے تھے، دریختار میں کہا ہے کہ تراوتگ تو مسجد، یہ میں اداء کرنا چاہتے اور اسی طرح معتمد کو بھی

سنن مسجد میں اداء کرنا چاہتے۔ البنتراوتگ کے سوا جملہ سنن کے بارے میں افضل یہ ہے کہ گهر

میں اداء کی جائیں، بالا (اگر گھر میں مشغولیت کی وجہ سنن کا اداء کرنا دشوار ہے تو سنن کو مسجد میں

اداء کرنا چاہتے، اور ترمذی نے قول یہ کہ خواہ مسجد میں ہو یا گھر میں جہاں کہیں زیادہ خشوع اور زیادہ

اخلاص پیرا ہو وہیں سنن کو اداء کرنا چاہتے۔

ملا علی قاری رحمہ اللہ مراقت میں فرما تے ہیں کہ ابن الملک نے کہا ہے کہ اس حدیث سے سنن کو

کا گھر میں اداء کرنا مستحب معلوم ہوتا ہے لیکن علماء سے یہی نقل کیا گیا ہے کہ ہمارے زمانے میں سنن مؤكدہ

کی ادائیگی مسجد میں ہوتی چاہتے تا کہ لوگوں کو اس کا علم ہو، اور انبیا عمل کرنے کی ترغیب ہو سکے۔

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would pray while sitting and recite while sitting. When about thirty or forty verses remained of his recitation, he would stand and recite while standing, then bow and prostrate. He would do the same in the second rak'ah." [Narrated by Muslim]

فجر اور مغرب کے موکدہ سنن کا بیان
1765

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے و فرما تے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اذبار النجوم" سے مراد یہ ہے کہ فجر کے فرض سے پہلے دو رکعت سنت پڑھا کرو، اور "اذبار السجود" سے مراد یہ ہے کہ مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت سنت پڑھا کرو۔ (اس کی روایت ترتیبی نہیں ہے۔)

ظہر کی موکدہ اور غیر موکدہ سنن کا بیان اور ان کی فضیلت

پہلی حدیث

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The two rak'ahs before Fajr are at the disappearance of the stars, and the two rak'ahs after Maghrib are at the end of prostration." [Narrated by Tirmidhi]

1766

ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے ہیں ہول کہ جو شخص ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعت کو (جو سنت موکدہ ہیں ایک سلام سے) پڑھے اور فرض کے بعد چار رکعت کو (دو سلام سے) پڑھے (جن میں سے دو سنت موکدہ ہیں اور دو سنت غیر موکدہ ہیں مستحب ہیں) ان آٹھوں رکعت کو جو پابندی سے پڑھا کر تو اللہ تعالیٰ جنہم کی آگ اس پرح ام کر دی گے۔

(اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)

ظہر کی موکدہ سنن کا اور ان کی فضیلت کا بیان

Umm Habibah (may Allah be pleased with her) narrated that she heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Whoever consistently prays four rak'ahs before Dhuhr and four after it, Allah will forbid the Fire from touching him." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, Nasai, and Ibn Majah)

1767

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ آفتاب ذحل جانے کے بعد ظہر کے فرض سے پہلے جو چار رکعت کے تین سنت پڑھی جانی ہیں ان کا ثواب نماز تہجد کے ثواب کے برابر ہے اور اس وقت یعنی زوال کے بعد ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تشیخ بیان کرتی ہے، پھر حضور علی الصلاۃ والسلام نے (سورہ نحل پ14 ع5 لی)یا آیت (نمبر:48) تلاوت فرمائی "یَتَفَعَّؤُا ظِلْلُهُ عَنِ الْیَمِینِ وَالشَّمَآئِلِ

سُجَّدًا لِّلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ" (بڑے جیزے کے ساتھ کچھ ایک طرف کو اور کچھ دوسری طرف کو جگہ

جا رہے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (یعنی جزی کے ساتھ) خدا کے آگے مر بھجو رہیں)-

(اس کی روایت ترتیزی نے کی ہے اور بیہقی نے کچھ شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے)

دوسری حدیث

Umar (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Four rak'ahs before Dhuhr after the sun has passed its zenith are equivalent to their like in the night prayer (Tahajjud). There is nothing that does not glorify Allah at that time." Then he recited: "Their shadows shift from the right and the left, prostrating to Allah while they are humble." (Quran 16:48) [Narrated by Tirmidhi and Al-Bayhaqi in Shu’ab Al-Iman]

1768

عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم زوال آفات کے بعد ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعت سنت اداء فرماتے اور یہ

ارشاد فرماتے تھے کہ اپنیاوقت میں جس میں آسان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اس لیے

میں چاہتا ہوں کہ اس وقت کوئی نکوئی نکی عمل کروں (چونکہ نماز افضل اعمال صالح ہے، اس لیے یہ

چار رکعت سنت پڑھتا ہوں) تاکہ پیآ سمان کے دروازول سے گزر کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ میں

ہوجائیں-

(اس کی روایت ترتیزی نے کی ہے)-

ظہراور فجر کے فرض کے پہلے کی موکہ سنتوں کا بیان

Abdullah ibn As-Sa’ib (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to pray four rak'ahs after the sun had passed its zenith before Dhuhr. He said: "This is an hour when the gates of heaven are opened, and I love for a good deed of mine to ascend during it." [Narrated by Tirmidhi]

1769

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

فرض ظہر سے پہلے چار رکعتین اور فرض فجر سے پہلے دو رکعتین (بیشتر پڑھتے تھے اور) انہیں کچھ نہ

چھوڑتے تھے-(اس کی روایت بخاری نے کی ہے)-

ظہر کے فرض کے پہلے کی چار رکعت سنتوں کو ایک سلام سے پڑھنا کافی ہوتا

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (peace be upon him) never neglected four rak'ahs before Dhuhr and two rak'ahs before Fajr. [Narrated by Bukhari]

1770

ابوالیوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ظہر کے فرض سے پہلے کی چار رکعت سنتوں کے لیے جتنے

درمیان میں سلام نہیں ہے، آ سمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں –

(اس کی روایت ابوداوداورابن ماجہ نے کی ہے–)

جمع کے فرض کے پہلے کی چار رکعت سنن کو ایک سلام سے پڑھنا کافی ہوت

Abu Ayyub Al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Four rak'ahs before Dhuhr without separation (i.e., praying them continuously) open the gates of heaven for them." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]

1771

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نماز جمع کے پہلے چار رکعت سنن اداء فرماتے تھے اور ان چار رکعتوں کے درمیان سلام

نہیں پڑھرتے تھے (بلکہ ان چاروں رکعتوں کو ایک سلام سے اداء فرمایا کرتے تھے)۔

(اس کی روایت ابن ماجہاورطبرانی نے کی ہے–)

جمع کے فرض کے بعد چار رکعت سنن مؤكد کو ایک سلام سے پڑھنا کافی ہوت

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) used to pray four rak'ahs before Jumu’ah without separating them. [Narrated by Ibn Majah and Al-Tabarani]

1772

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم جمع کے فرض کے بعد سنن پڑھنے تو چار رکعت (سنن

مؤكدہ ایک سلام سے) پڑھو (اس کی روایت مسلم نے کی ہے–)

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When you pray after Jumu’ah, pray four rak'ahs." [Narrated by Muslim]

In another narration by Muslim, he said: "When one of you prays Jumu’ah, let him pray four rak'ahs after it." A similar narration was narrated by Ibn Majah and Tirmidhi.

1773

اور مسلم کی دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت علی الصلاۃ والسلام نے

ارشاد فرمایا کہ جب تم جمع کے فرض پڑھنے والے اس کے بعد چار رکعت (سنن ایک سلام سے) پڑھ لیا

کرو (اور پیسنت مؤكدہ ہیں)۔ (اس کی روایت ابن ماجہاورترمزی نے اس طرح کی ہے–)

ف: واگرچہ کہ امام ابوحنیفہاورامام محمد رحمہما اللہ ان حدیثوں سے استدلال کر کے فرماتے ہیں

کہ جمع کے فرض کے بعد صرف چار رکعت سنن مؤكدہ ایک سلام سے ہیں، اور امام ابویوسف رحمہ اللہ

آگے آنے والی حدیثوں سے استدلال کر کے فرماتے ہیں کہ جمع کے فرض کے بعد (6) رکعت سنن

مؤكدہ اس طرح ہیں کہ پہلے چار رکعت سنن مؤكدہ ایک سلام سے پڑھے پھر دو رکعت سنن مؤكدہ

اکی سلام سے اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ کے قول پر عمل درآمدہ - (ملتقی مرقات)

جمع کے فرض کے بعد (6) رکعت سنن مؤكدہ کا ثبوت

پہلی حدیث

It is narrated from Ali (RA) that he said:

When you have completed the obligatory prayer of Jumu'ah, then pray four voluntary rak'ahs (which are sunnah mu'akkadah) with one salam. (This is narrated by Ibn Majah and Tirmidhi as follows:)

1774

ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ

عنہ نے لوگوں کو تعلیم دیتے کر وہ جمع کے فرض کے بعد چار رکعت سنن (موکدہ ایک سلام سے)

پڑھا کرتے، اور جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ نے لوگوں کو تعلیم

دی کہ جمع کے فرض کے بعد 6 رکعت سنن (موکدہ) پڑھا کریں (ابوعبدالرحمن کہتے ہیں: حضرت علی

رضی اللہ عنہ کا ایارشا دہم کو بہت اچھا معلوم ہوااورتم اسی پر عمل کرنا شروع کردیے)-

(اس کی روایت امام طحاوی اورسعید بن منصور نے کی ہے)

دوسری حدیث

Abu Abdur-Rahman reported that Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) taught people to pray four rak'ahs after Jumu’ah. When Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) came, he taught them to pray six rak'ahs. [Narrated by At-Tahawi and Sa’id ibn Mansur]

1775

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ جمع کے فرض کے

بعد 6 رکعت سنن موکدہ اس طرح پڑھا کرو (کم 4 رکعت ایک سلام سے، پھر دو رکعت ایک سلام

تے)- (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے)-

Ali (may Allah be pleased with him) said: "Whoever prays after Jumu’ah, let him pray six rak'ahs." [Narrated by At-Tahawi]

Abu Dawud reported a similar narration from Ibn Umar (may Allah be pleased with him).

In a narration by Tirmidhi: "I saw Ibn Umar pray two rak'ahs after Jumu’ah, then pray four rak'ahs after that."

At-Tahawi said: "Abu Yusuf said: 'I prefer that one begins with four rak'ahs, then follows them with two rak'ahs, as this is further from resembling the prayer that has been prohibited after Jumu’ah. Indeed, Umar (may Allah be pleased with him) disliked praying the same number of rak'ahs after Jumu’ah as the Jumu’ah prayer itself.'"

Ali Al-Qari said: "Preceding with the four rak'ahs is more appropriate, as the four rak'ahs are a confirmed Sunnah without disagreement in the school of thought."

1776

اور ابوداود نے کہی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس طرح روایت کی ہے

Abu Dawud narrated from Ibn Umar (RA) that he said

it is reported in this manner

1777

ترمذی کی ایک اور روایت میں ایا کہی منقول ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

نے جمع کے فرض کے بعد دو رکعت پڑھ کر پھر چار رکعت سنن اداء فرما کیں - مرقات میں کہا ہے کہ

پیدور کعتین جمع کی سنتن نہیں تھی بلکہ جمع کے فرض اوراس کی سنن کے درمیان بجا کلام کرنے

کے بطور نفس یہ دور رکعت آپ نے اداء فرما کے ہیں، عمل حضرت ابن عمر کے خاص ہے جس پر عمل

درآمدہ ہے، اس کے بعد حضرت ابن عمر کے چار رکعت سنن کا پڑھنا مروی ہے، مرقات میں یہ کہا

سے کہ بیہال اس بات کا کچھ اختمال ہے کہ چار رکعت سنت کے بعد حضرت ابن عمر نے اور دو رکعت

سنت کچھ پڑھے ہوئے گمر راوی نے اس کا اس لے ذکر نہیں کیا کہ حضرت ابن عمر نے جو ایک نئی

کیفیت لیئے چار رکعت سنت کے پہلے دو رکعت کا پڑھنا منقول ہے اس کو بتایا جاتے اور چار رکعت

سنت کے بعد پھر دو رکعت سنت کا اداء کرنا چونکہ مشہور تھا اس لے راوی نے اس کا ذکر نہیں کیا -

فرض اور سنت نماز ول کے درمیان کس طرح فصل کرنا چاہئے اس کا بیان

Ali (may Allah be pleased with him) said: "Whoever prays after Jumu’ah, let him pray six rak'ahs." [Narrated by At-Tahawi]

Abu Dawud reported a similar narration from Ibn Umar (may Allah be pleased with him).

In a narration by Tirmidhi: "I saw Ibn Umar pray two rak'ahs after Jumu’ah, then pray four rak'ahs after that."

At-Tahawi said: "Abu Yusuf said: 'I prefer that one begins with four rak'ahs, then follows them with two rak'ahs, as this is further from resembling the prayer that has been prohibited after Jumu’ah. Indeed, Umar (may Allah be pleased with him) disliked praying the same number of rak'ahs after Jumu’ah as the Jumu’ah prayer itself.'"

Ali Al-Qari said: "Preceding with the four rak'ahs is more appropriate, as the four rak'ahs are a confirmed Sunnah without disagreement in the school of thought."

1778

سائب بن یزید بن اخت نمر رضی اللہ عنہ سے روایت سے انہوں نے کہا کہ

میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز ان کے مقام حفاظت میں پڑھی اور امام کے سلام

پچھرے نے کے بعد (فرض اور سنت کے درمیان فصل کے بغیر) اسی جگہ کھڑے ہو کر سننیں پڑھیں جہاں

میں نے جمعہ کی فرض نماز اداء کی تھی، تو حضرت معاویہ نے مجھے اندر بلا کر فرمایا کہ دوبارہ ایسا نہ کرنا،

جب جمعہ کی نماز پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملانا (فرض و سنت کے درمیان فصل کرنا

چاہئے)۔ فصل کلام کر کے میں کیوں نہ ہو (اگر چکر فرض و سنت کے درمیان کلام کرنا کرو تو تنزیہی

سے) فرض و سنت کے درمیان بہتر فصل یہ ہے کہ جگہ بدل دی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ

وسلم نے ہمیشہ ایسا کیا کرم دیا تھا -

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے -)

Amr ibn Ata’ reported that Nafi’ ibn Jubayr sent him to As-Sa’ib to ask him about something Mu’awiyah had seen him do during prayer. He said: "Yes, I prayed Jumu’ah with him in a secluded area. When the Imam concluded the prayer, I stood in my place and prayed. When he entered, he sent for me and said: 'Do not repeat what you did. When you pray Jumu’ah, do not connect it with another prayer until you speak or leave, for the Messenger of Allah (peace be upon him) commanded us not to connect prayers until we speak or leave.'"

[Narrated by Muslim]

In a narration by Abu Dawud from Ata’: "Ibn Umar, when he prayed Jumu’ah in Makkah, would first pray two rak'ahs, then move forward and pray four rak'ahs."

1779

اور ابوداود کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عطا رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ کر میں جمعہ اداء فرما تے تو آگے بڑھ کر دو رکعت پڑھتے

اور پھر آگے بڑھ کر چار رکعت پڑھتے -

سنتین کہہال اداء کرنا چاہئے

Ali (may Allah be pleased with him) said: "Whoever prays after Jumu’ah, let him pray six rak'ahs." [Narrated by At-Tahawi]

Abu Dawud reported a similar narration from Ibn Umar (may Allah be pleased with him).

In a narration by Tirmidhi: "I saw Ibn Umar pray two rak'ahs after Jumu’ah, then pray four rak'ahs after that."

At-Tahawi said: "Abu Yusuf said: 'I prefer that one begins with four rak'ahs, then follows them with two rak'ahs, as this is further from resembling the prayer that has been prohibited after Jumu’ah. Indeed, Umar (may Allah be pleased with him) disliked praying the same number of rak'ahs after Jumu’ah as the Jumu’ah prayer itself.'"

Ali Al-Qari said: "Preceding with the four rak'ahs is more appropriate, as the four rak'ahs are a confirmed Sunnah without disagreement in the school of thought."

1780

کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ

علیہ و آلہ وسلم (ایک رفع) بنی عبد الاشہل کی مسجد میں تشریف فرما ہوئے (ایہ میں مغرب کا وقت

ہوگیا تو) حضور علی الصلاۃ والسلام نے (سب کو) اس مسجد میں نماز مغرب پڑھائی، جب لوگ مغرب

کے فرض سے فارغ ہوئے تو نہیں کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا دکھتا پین کر لوگ مسجد میں سنتین

اداء کر رہے ہیں (اس پر) حضور علی الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرما یا کہ سنن ایسی نمازیں ہیں کران کو

گھروں میں پڑھنا چاہیے - (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے - )

Ka’b ibn Ujrah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace be upon him) came to the mosque of Banu Abdul-Ashhal and prayed Maghrib there. When they finished their prayer, he saw them praying voluntary prayers afterward. He said: 'This is the prayer of the homes.'" [Narrated by Abu Dawud]

In a narration by Tirmidhi and Nasai: "The people stood to pray voluntary prayers, so the Prophet (peace be upon him) said: 'You should offer such prayers in your homes.'"

1781

اور ترمذی اور نسائی نے بھی اس طرح روایت کی ہے -

ف - ان حدیثول سے استدلال کرتے ہوئے درخواہ مرقات میں کہا ہے کہ جہڑے اوتے کے

اور معتمد کی سنن کے تمام سنن اور نوافل کے بارے میں افضل یہ کہ گھر میں اداء کی جائیں اور

بعض آئتول اور حدیثول سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں خشوع و خضوع ہونا چاہیے اگر گھر میں

خشوع و خضوع نہ ہوتا ہو جیسے اس زمانے میں مشاہدہ ہے تو خشوع کی آئتول اور حدیثول بر عمل کرتے

ہوئے مسجد ولی میں سنن کا اداء کرنا افضل ہے -

عصر کے سنن کی فضیلت

And it is narrated by Tirmidhi and Nasa'i in this manner: In arguing for the preferred method of performing supererogatory prayers, it is stated that the most virtuous way to perform the Sunnah and Nafl prayers is at home. This is supported by some verses and hadiths which indicate that one should have khushu' (humility) and khudu' (submission) in prayer. If one cannot achieve khushu' and khudu' at home, as is often observed in this time, then acting upon the verses and hadiths that emphasize khushu', it is more virtuous to perform the Sunnah prayers in the mosque. This pertains to the virtue of the Sunnah prayers before the Asr prayer.

1782

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ پر اپنی رحمت نازل فرما تے ہیں جو عصر کے فرض سے

پہلے چار رکعت پڑھا کرتا ہے (یہ چار رکعت اگر چیکے سنن غیر مؤکدہ ہیں مگر یہ بڑی فضیلت کی نماز

ہے) - (اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداود نے کی ہے - )

عصر کی سنن کی تعدا و رکعت کا بیان

پہلی حدیث

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "May Allah have mercy on a person who prays four rak'ahs before Asr." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Abu Dawud]

1783

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ و آلہ وسلم عصر کے فرض سے پہلے چار رکعتیں - (ایک سلام سے) پڑھا کرتے تھے اور ان کے

درمیان دور کعت کے بعد قعدہ کرے تو اور قعدہ میں التحیات (پیتر جمع مرقات کے لحاظ سے کیا گیا

ہے۔-12) پڑھتے جس میں مقربین فرشتوں اور ان کے قرب صاح مسلمین اور مومنین پرسلام نذکور

ہے۔-(اس کی روایت ترتیب نہیں کی ہے۔)

دوسرا حدیث

Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to pray four rak'ahs before Asr, separating them with Tasleem (greetings) upon the close angels and those who followed them among the Muslims and believers. [Narrated by Tirmidhi]

Tirmidhi said: "Ishaq ibn Ibrahim preferred not to separate the four rak'ahs before Asr and used this Hadith as evidence. He said: 'The meaning of his statement, "He separates them with Tasleem," refers to the Tashahhud (sitting for testimony).'"

Al-Baghawi said: "The meaning of Tasleem here is the Tashahhud without the final Salam (salutation). It is called Tasleem upon those mentioned because it is a form of supplication for them."

At-Tayyibi said: "This is supported by the Hadith of Abdullah ibn Mas’ud: 'When we prayed, we would say: Peace be upon Allah before His servants, peace be upon Jibreel,' and this was during the Tashahhud."

1784

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت سے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے فرض سے پہلے (کچھ کچھ) دور کعتین کچھ پڑھی ہیں (گمر عام طور پر چار

رکعت ہی ایک سلام سے پڑھا کرتے تھے، اس لئے عصر کے فرض سے پہلے چار رکعت پڑھنا مستحب

ہے)- (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

عصر کی فرض نماز کے بعد کوئی نفل نماز جائز نہیں

پہلا حدیث

Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to pray two rak'ahs before Asr. [Narrated by Abu Dawud]

1785

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت سے آپ فرماتے ہیں (اپنے دونوں کا اقتداء کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے فرض کے بعد دو رکعت اداء فرماتے، ان دو رکعتوں کے

متعلق حقیقت یہ ہے کہ (اس روز) پچھو مال آگیا تھا (اور اس کو تقسیم کرنا ضروری تھا، اس لئے رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کے فرض کے بعد تقسیم شروع فرمائی تقسیم میں اتنی دیر ہوگی کہ ظہر کے

بعد کی دو رکعت آپ اداء نہ کرسکے (یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا، عصر کی جماعت تیار تھی اس لئے

آپ عصر کے فرض پڑھادے) اور ظہر کے بعد کی جودو سنن رہ گئیں تھیں ان کو آپ نے عصر کے

فرض کے بعد اداء فرماتے (پھراس دون کے سوا عصر کے فرض کے بعد نقویسن اداء فرمائی اور نکوئی

اور سنن، اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے سنن کی کچھ قضاء نہیں فرمائی ہے اور نہ عصر کے بعد کوئی نفل

نماز پڑھی ہے اور پیچودو رکعت سنن عصر کے فرض کے بعد آپ نے ادا فرماتے ہیں یا پکا خاص

نماز لے کوئی اور عصر کے بعد سنت یا نفل نماز میں اداء کر سکتا )

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace be upon him) only prayed the two rak'ahs after Asr because some wealth came to him, which preoccupied him from praying the two rak'ahs after Dhuhr. So he prayed them after Asr and did not repeat it." [Narrated by Tirmidhi, who said: "This is a Hasan Hadith."]

In a narration by Al-Daraqutni: "I did not see him repeat it."

1786

اسی واسطے دار قطیب نے روایت کی ہے کرا بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ پھر کسی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دور کے عصر کے فرض کے بعد ادا فرماتے نہیں دیکھا۔ (صدر کی اس حدیث کی روایت تزدی نے کی ہے۔)

دوسری حدیث

It is narrated on the authority of Kuraib bin Abbas (RA) that he said:

I did not see the Messenger of Allah ﷺ performing the obligatory prayer of the distant era after its time.

1787

الوسعی خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ کہ دے رکھا تھا کہ جو بھی عصر کے فرض کے بعد دور کے نفل پڑھا کرے اس کو دوڑ لے مارا کروں (اس سے معلوم ہوا کہ نماز عصر کے بعد اگر نفل کا پڑھنا جائز ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس طرح کا سخت حکم نہیں فرماتے )۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور امام مسلم اور امام ماک نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)

مغرب کی اذان اور مغرب کے فرض کے درمیان کوئی سنت نماز نہیں

پہلی حدیث

Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) ordered him to strike with a whip anyone who prayed two rak'ahs after Asr. [Narrated by At-Tahawi, and similar narrations were Narrated by Muslim and Malik]

1788

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات رضی اللہ عنهن سے دریافت کیا کہ کیا آپ میں سے کسی نے (مغرب کی اذان کے بعد اس کے ) فرض سے پہلے (کچھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلوسلم کو دور کے نماز ادا فرماتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سوا سب امہات المومنین نے متفق طور پر جواب دیا کہ تم نے کچھ نہیں دیکھا ہے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلوسلم نے صرف ایک دفعہ میرے پاس (مغرب کے فرض سے پہلے) دور کعتین پڑھی ہیں، میں اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلوسلم سے دریافت کی کہ یکوں نماز ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلوسلم نے

وآ لہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج میں عصر کے فرض سے پہلے کی ورکعتون کو پڑھنا بھول گیا تھا، انبیس

دور کعتون کو میں نے اس وقت اداء کیا ہے۔

(اس کی روایت طبرانی نے کی ہے اوراس کی سنده نہے)

دوسری حدیث

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: "We asked the wives of the Messenger of Allah (peace be upon him): 'Did you see the Messenger of Allah (peace be upon him) pray two rak'ahs before Maghrib?' They said: 'No,' except Umm Salamah, who said: 'He prayed them once in my presence. I asked him: "What is this prayer?" He replied: "I forgot to pray the two rak'ahs before Asr, so I prayed them now."'" [Narrated by Al-Tabarani, and its chain is Hasan]

1789

حیان بن عبید اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ

نہی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "بین کلی اذانین صلاۃ الا المغرب"، لیکن

ہرنماز کی اذان اوراس کی اقامت کے درمیان نماز کے گھر مغرب کی اذان اوراس کی اقامت کے

درمیان کوئی نماز نہیں۔ اس کی روایت بزار نے کی ہے اوراس حدیث کی سنده نہے۔

تیسری حدیث

Hayyan ibn Ubaidullah ibn Buraidah reported from his father that the Prophet (peace be upon him) said: "Between every two Adhans (call to prayer), there is a prayer, except for Maghrib." [Narrated by Al-Bazzar, and its chain is Hasan]

1790

طاوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما

سے دریافت کیا گیا کہ کیا (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں) مغرب کے فرض سے پہلے دو

رکعتین پڑھی جاتی تھیں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم کے زمانے میں کسی کو مغرب کے فرض سے پہلے دو رکعتین پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔

(اس کی روایت البوداود نے کی ہے)

چوتھی حدیث

Tawus said: "Ibn Umar was asked about the two rak'ahs before Maghrib. He said: 'I did not see anyone during the time of the Messenger of Allah (peace be upon him) pray them,' and he mentioned the Hadith." [Narrated by Abu Dawud]

1791

حماد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی رضی

اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ مغرب کے فرض سے پہلے کیا کوئی نماز پڑھی جاتی ہے؟ تو حضرت ابراہیم نخعی

رضی اللہ عنہ نے مجھ مغرب کے فرض سے پہلے نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور کہا کہ میں تم کواس لے

منع کر رہا ہوں کہ نہی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما

مغرب کے فرض سے پہلے (کچھ) کوئی نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔

(اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں لکھی ہے، اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں۔)

Hammad said: "I asked Ibrahim about praying before Maghrib, and he forbade me from it, saying: 'The Prophet (peace be upon him), Abu Bakr, and Umar did not pray it.'" [Narrated by Muhammad in Al-Athar, and its narrators are trustworthy despite its being Mursal]

پانچویں حدیث
1792

منصور رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا کہ

حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کچھ

مغرب کے فرض سے پہلے دور کرت نہیں پڑھے ہیں۔ (اس کی روايت عبد الرزاق اور مسد د نے لکھی ہے)

Mansur reported from his father: "Abu Bakr, Umar, and Uthman did not pray the two rak'ahs before Maghrib." [Narrated by Abdur-Razzaq and Musaddad]

صلۃ اواخیرین کی فضیلت
پہلی حدیث
1793

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کے فرض کے بعد چھ رکعتیں پڑھے (ان کو صلاۃ اواخیرین کہتے ہیں)، در مختار اور مرقات میں لکھا ہے کہ مغرب کے بعد کے دور کے سنن مؤكدہ ان چھ رکعتوں میں داخل ہیں، پہلے دور کے سنن کو ایک سلام سے پڑھے اور بعد کے چار رکعت میں اختیار سے خواہ ایک سلام سے پڑھے یا دو سلام سے، صلاۃ اواخیرین کو پڑھنے کا طریقت ہے، ملتی میں لکھا ہے کہ مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت سنن مؤكدہ پڑھ کر اس کے بعد چھ رکعتیں صلاۃ اواخیرین اداء کرے، رد المختار میں ذکور ہے کہ ان چھ رکعتوں کو تین سلام سے اداء کرے تا کہ پوری چھ رکعتیں ایک نج پر اداء ہو جین، صلاۃ اواخیرین کو اداء کرنے کا یہ دومراطریقت ہے) ان چھ رکعتوں کو اس طرح پڑھ کر ان کے درمیان کوئی ایسی بات نہ کی جس سے کسی کا دل دکھ یا سے اللہ تعالی ناراض ہول تو اس کو ان چھ رکعتوں کے اس طرح پڑھنے سے بارہ سال کی عبادت کا ثواب دیا جائے گا۔

(اس کی روایت ترمذی نے لکھی ہے۔)

دوسرا حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays six rak'ahs after Maghrib without speaking evil in between, they will be equivalent to the worship of twelve years for him."

[Narrated by Tirmidhi, who said: "This is a Gharib Hadith. We do not know it except through the narration of Umar ibn Abi Khath’am. I heard Muhammad ibn Ismail (Al-Bukhari) say: 'It is a Munkar Hadith,' and he greatly weakened it.")

1794

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت (صلاۃ اواجین اس طرح) پڑھا کرے (کہ دو رکعت-پیرمقات میں نذور ہے-12-سنہ موکدہ (20) میں داخل رہیں تو اس کے صلی میں) اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک (عالی شان) محل تیار کرتے ہیں (جس میں طرح طرح کی نعمتیں ہوں گی)- (اس کی روایت تزندی نہیں ہے-)

مغرب کے فرض کے بعد کی سنن کا بیان

Umm al-Mu'minin 'A'ishah (RA) narrated that she said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever prays two rak'ahs after the Maghrib obligatory prayer (as voluntary prayers) - and they are like the two rak'ahs of the funeral prayer - and remains steadfast in them, Allah, the Exalted, will prepare for him a high place in Paradise (filled with various blessings).'

1795

کہول رضی اللہ عنہ ایک صحابی کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کے فرض کے بعد بات کرنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھا کرتا ہے (جو سنہ موکدہ ہے):

Makhul reported (as reaching him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays two rak'ahs after Maghrib before speaking – and in another narration: four rak'ahs – his prayer will be raised to the highest heavens."

Hudhaifah (may Allah be pleased with him) narrated a similar narration and added: "He used to say: 'Hasten to pray the two rak'ahs after Maghrib, for they are raised with the obligatory prayer.'" [Narrated by Razin, and Al-Bayhaqi reported a similar addition in Shu’ab Al-Iman]

1796

اور دوسرا روایت میں ہے کہ (مغرب کے فرض کے بعد) چار رکعت نماز پڑھا کرتا ہے (جس میں دو تو سنہ موکدہ ہیں اور باقیه دو صلاۃ اواجین اور پی صلاۃ اواجین کی کم سے کم تعداد رکعات ہے) تو اس کی نماز اللہ تعالیٰ قبول فرما کر اعلیٰ علیٰ میں رکھتے ہیں -

Makhul reported (as reaching him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays two rak'ahs after Maghrib before speaking – and in another narration: four rak'ahs – his prayer will be raised to the highest heavens."

Hudhaifah (may Allah be pleased with him) narrated a similar narration and added: "He used to say: 'Hasten to pray the two rak'ahs after Maghrib, for they are raised with the obligatory prayer.'" [Narrated by Razin, and Al-Bayhaqi reported a similar addition in Shu’ab Al-Iman]

1797

اور حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہی اس طرح مروی ہے اور اس میں پر اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما کرتے تھے کہ مغرب کے فرض کے بعد دو رکعت (سنہ موکدہ) ادا کر نے میں جلدی کیا کرو، اس لیے کہ پیدور کعتین کی فرض کے ساتھ اتحالی جاتی ہیں - (ان دونوں حدیثوں کی روایت رزین نہیں ہے)

Makhul reported (as reaching him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays two rak'ahs after Maghrib before speaking – and in another narration: four rak'ahs – his prayer will be raised to the highest heavens."

Hudhaifah (may Allah be pleased with him) narrated a similar narration and added: "He used to say: 'Hasten to pray the two rak'ahs after Maghrib, for they are raised with the obligatory prayer.'" [Narrated by Razin, and Al-Bayhaqi reported a similar addition in Shu’ab Al-Iman]

1798

اور تیسری نے کہی صرف اضافہ کو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس طرح شعب الایمان میں روایت کی ہے -

سنن کو مسجد میں ادا کرنے کا ثبوت

And the third one said: It is only the addition that Habeeb (RA) narrated in this manner in the branches of faith - The evidence for performing Sunnah prayers in the mosque.

1799

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (بیان جواز کے لے لیجنی پیتلا نے کے لے کر سننتین مسجد میں بھی پڑھی جاسکتی ہیں اور سنن کو طویل قرآن تے بھی پڑھا سکتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کے فرض کے بعد (گھمنی) اس سنن مؤكدہ کو (مسجید میں) پڑھے ہیں (اور آپ کی اتباع میں) سب صحابہ رضی اللہ عنہم (مسجید میں) سننتین اداء کے، اس سنن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر قرآن تے طویل فرما کہ مسجد کے نمازی اپنی اپنی سننت پڑھ کر مسجد سے باہر چلے گئے۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

عشاء کے فرض کے بعد کی سنن کا بیان

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would prolong the recitation in the two rak'ahs after Maghrib until the people in the mosque had dispersed." [Narrated by Abu Dawud]

1800

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی عشاء کے فرض پڑھ کر میرے پاس تشریف لا تے تو دو رکعت سنن مؤكدہ پڑھتے اور دو نفل (یا پکا میش کا عمل درآمد تھا اور کبھی دو نفل کے بعد) آپ اور دو نفل کی پڑھتے ہیں۔

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

فجر کی سنن کا بیان

Aisha (may Allah be pleased with her) said: "Whenever the Messenger of Allah (peace be upon him) prayed Isha and came to me, he would pray four or six rak'ahs." [Narrated by Abu Dawud]

1801

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو سنن پڑھس قدر زیادہ پابندی فرما کرتے تھے کہ اس سے پڑھ کر پابندی سنن میں کی سنن پڑھنے فرما تے تھے۔

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)

ف: درختار میں کہا ہے کہ تمام انہی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام سنن میں سب سے زیادہ

موکدہ فجر کی سننت ہیں، فجر کی دو سنتوں کے بعد باقی سب سنتوں میں ظہر کی چار سنن جوفرض سے پہلے پڑتی ہیں نہایت موکدہ ہیں، اس لئے کہ حدیث شریف میں ارشاد ہے جو شخص ظہر کی ان چار سنتوں کو ترک کرتا ہے وہ میری شفاعت سے محروم ہوگا۔ فجر اور ظہر کی سنتوں کے علاوہ بقیہ تمام سنن موکدہ ہوں میں بر ابر ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ فجر کی سنن واجب ہیں اس لئے احتیاط یہ کہ بلا عذر فجر کی سنتوں کو بیٹھ کر یا سواری کی حالت میں پڑھنا جائز نہیں۔

It is narrated from Umm al-Mu'minin Aishah (RA) that she said:

The Messenger of Allah ﷺ used to observe the two sunnah rak'ahs of Fajr with great regularity, such that after reading them, he would not read any other sunnah rak'ahs.

فجر کی سنتوں کی فضیلت
1802

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فجر کے فرض سے پہلے کی دو رکعت سنن و نماز اور دنیا میں جو چیز (مال و دولت اور جاہ و ثروت) ہے ان سب سے کچھ بہتر ہے (یعنی اگر کوئی انتہائی خیرات کرے تو ان کے خیرات کرنے کے ثواب سے دو رکعت فجر پڑھنے کا ثواب زیادہ ہوگا)۔

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے)

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The two rak'ahs of Fajr are better than the world and all that it contains." [Narrated by Muslim]