(پیابان اعمال کے بیان میں بہ جن کا نماز میں کرنا جائز ہے
اور ان اعمال کے بیان میں بہ جن کا نماز کی حالت میں کرنا نا جائز ہے
(یعنی اس باب میں نماز کے مفسدات، کرو بات اور مباحات کا ذکر ہے)
وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "وَقُومُوا لِلَّهِ قَنِّتِينَ" (سورہ بقرہ پ٢ع31میں) اللہ تعالیٰ کا
ارشاد ہے "اور نماز میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ (عمل کثرت پچھے ہوئے) ادب کے کطرے رہیں" -
وَقَوْلُهُ "الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاَتِهِمْ خَاشِعُونَ" (سورہ مومنون پ١8ع1میں) اللہ
تعالیٰ کا ارشاد ہے "و لوگ جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں" -
نماز میں ہر کم کا کلام نماز کو فاسد کر دیتا ہے
This chapter discusses permissible actions during prayer and those actions whose mention is not allowed during prayer (i.e., this section covers the invalidators of prayer, recommended acts, and permissible acts). Allah, the Exalted, says, “And stand before Allah, devoutly obedient” (Surah Al-Baqarah, 2:238), which means, “And in prayer, remain with Allah, maintaining a high degree of reverence and decorum.” And His saying, “Those who are humble in their prayer” (Surah Al-Mu'minun, 23:2), means, “And those who are deeply attentive and reverent in their prayer.” Any unnecessary speech during prayer invalidates it.
معاویہ بن الحکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کر اتفاق سے جماعت میں سے ایک شخص کو چچی ک آئی جس کے
جواب میں، میں نے رحمک اللہ کہا تو لوگوں نے مجھے (آئی پیرا کر بگیر چھڑ پلٹا دے ) گھور کر دیا میں
نے کہا افسوس تم مجھے کیوں گھور کر دیا رہے ہو، پیس کر لوگ اپنی رانول پر باٹھ مارنے گے اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ پیوا قعدہ میں ہوا ہوگا جس میں رانول پر باٹھ مارنا عمل قليل ہو نے کی وجہ سے
فاسد نماز نہیں ہوا) جب میں نے دیکھا کہ یوگ مجھے خاموش کرنا چاہتے ہیں، غصہ تو بہت آیا کیں
میں خاموش ہوگیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، میرے مال باب حضور پر
قربان، میں نے کسی کو حضور سے قبل نہ بعد مجھی آپ سے بہتر تعلیم دین والانہو کیا، خدا کی فتح حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی جوہر کا نہ مارا، اور نہ برا بجل کہ بلکہ ارشاد فرمایا میان! یعنی نماز کے اس میں کوئی باٹ لوگوں کی گفتگو کی قسم سے (کسی طرح) ٹھیک نہیں، (نہ عداؤ سے ہوا اور نہ اصلی صلاۃ کے لیے نہ کسی اور غرض سے خواہ واقف سے ہویا نا واقف سے) کیونکہ نماز تو تشیع، تکبیر اور قرآن (اور انہی کے مشابہ اعمال) کا نام ہے، میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے لوگوں میں جو نماز کی اہلی اسلام لا ہے جس اور عبادت جائے لیتے سے میرا زمانہ قریب ہی ہے، اللہ تعالیٰ نے تم کو اسلام سے مرفرز فرمایا لیکن اب بھی تم میں سے بعض لوگ کا نمونہ کے پاس جائے کرتے ہیں، حضور علیہ السلام نے فرمایا تم نہ جائے کرو، پھر میں نے عرض کیا تم میں بعض لوگ شگون لیتے ہیں، حضور علیہ السلام نے فرمایا بعض ان کے دولت کا وہ تم ہے اس لیے ان کو شگون کی وجہ سے کام سے نہیں رکنا چاہتے، معاویہ بن احکام نے کہا میں نے حضور علیہ السلام نے عرض کیا کہ تم میں بعض لوگ (علم جفر کے ذریعہ) کیہریں کچھ کر پے حال معلوم کر لیا کرتے ہیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک نہیں (علم جفر کی) کیہریں کچھ کرتے تھے (جن کا پیچھر ہوتا) اب جس شخص کی کیہریں ان کی کیہروں کے موافق ہوئی تو اس کے لیے مبارک ہے (لیکن موافقت کا بیچ علم تو ممکن نہیں اس لیے پینا جائزہ ہے۔) (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث ثریف میں ارشاد ہے "ان هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس" (یعنی نماز کے اس میں کلام ناس کی بات لوگوں کے باٹ چیت (کسی طرح) ٹھیک نہیں، اس بارے میں ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا یہ کہ حدیث ثریف میں کلام ناس کی نماز میں ممنوعت مطلقہ نہیں کر جس میں عداؤ یا سہواً واقف سے ہویا نا واقف سے ہو کسی قسم کی قید نہیں ہے اور اس طرح مطلقہ مما نعت میں ہمارے لیے اس باٹ کی دلیل ہے کہ نماز میں کلام ناس عداؤ یا سہواً اصلی نماز کے لیے ہویا کسی اور غرض کے لیے واقف شخص سے ہویا نا واقف شخص سے یہ نماز کو باطل کر دیتے ہیں، جسیا کہ پڑاپی میں نذور ہے، اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نا واقف شخص سے نماز کے بعد ارشاد
فرمایا کر نماز ایسی چیز بھ کر اس میں کسی قسم کا کلام ناس کسی طرح ثبوت نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مطلق ہو نے کی وجہ سے ایسی نماز کے منافی اور مفسد ہے، جسیا کر نماز میں کہنا پینا نماز کے منافی اور مفسد ہے۔
صاحب عنايت نے کہاہے کہ اس حدیث شریف کے الفاظ "ان هذه الصلاة لا يصلح فيها شىء من کلام الناس" سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی بیت میں کر اس میں کلام ناس کیسی لوگوں سے باٹ چیت کانہونا ایسی ضروری ہے جسیا کر نماز میں طہارت کاہونا ضروری ہے تو جس طرح بغير طہارت کے نماز جائز نہیں ہوتی اس طرح کلام ناس سے کچھ نماز جائز نہیں ہوتی، اور پاک و اصح باٹ ہے (عنايتي عبارت یہاں ختم ہوتی-) جامع الآثار میں لکھاہے کر ایک مسلسل قاعدہ ہے کہ کہرہ جب نہیں کے تحت واٹ ہوتاہے تو اس سے عموم کا فائدہ حاصل ہوتاہے اس قاعدہ کو بھی نظر رکھ کر حدیث شریف کے الفاظ "ان هذه الصلاة لا يصلح فيها شىء من کلام الناس" پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ثی کہرہ ہے اور نہیں لیکن "لا يصلح" کے تحت واٹ ہے جس سے واضاحت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ فرم کا کلام ناس عمداً ہو کر سہواً ہو، واقف شخص سے ہو یا اوافق شخص سے نماز کے منافی اور مفسد ہوگا-(جامع الآثار کی عبارت یہاں ختم ہوتی-) ابر نہیں باٹ کر پہر کس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوطانے کے حکم کا ذکر نہونا اس باٹ کی دلیل نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو واقعہ نماز کے لوطانے کا حکم نہیں دیا- امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کر اس باٹ کا امكان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوطانے کا حکم تو دیا ہو کین انہول نے اس حدیث میں اس کا ذکر نہیں کیا -(امام طحاوی کی عبارت یہاں ختم ہوتی-) امام طحاوی رحمہ اللہ کے اس قول کی تا سیرت نہیں کے قول اور زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے محی ہوتی ہے جس کی روایت خود تر نہیں اس طرح کی ہے- زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ تم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچے اس طرح باٹ چیت کریا کرتے تھے کر ایک ساٹھ اپنے پاس والے ساٹھی سے بول لیا
کرتا تھا۔ پھر اس کی آئت نازل ہوئی " وَقُومُوا لِلّٰہِ قَانِتِينَ " (نماز میں اللہ کے سامنے خاموش
ہو کر کٹرے رہو) پھر ان لوگوں کو نماز کی ادائیگاری کے حکم دیا گیا اور بولے کہ منع کیا گیا۔
امام ترمذی اس حدیث کی روایت کر کے فرماتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی پیش
حسن صحیح ہے اور اکثر علم کا ایسی پر عمل ہے۔ اور سب علماء کہتے ہیں کہ جو شخص نماز میں جان بو جھکریا
جھول کر بات کر لے تو وہ نماز کو لطے، امام سفیان ثوری اور امام ابن مبارک کا بھی قول ہے۔ (ترمذی
کی عبارت یہاں ختم ہوتی ہے)
خلاصہ یہ ہے کہ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے معاویہ بن الحکم رضی اللہ عنہ کو نماز کے اعادہ کا
حکم فرما نا ممکن ہے لیکن ترمذی کے اس ذکورہ قول سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے اعادہ کا حکم یقیناً ہوا
ہو گا۔
نماز میں ہر کسی کا کلام نماز کو فاسد کر دیتا ہے اس پر دوسرا حدیث
Mu'awiyah ibn Al-Hakam (may Allah be pleased with him) narrated: While I was praying with the Messenger of Allah (peace be upon him), a man from the group sneezed, so I said, "Yarhamuk Allah (May Allah have mercy on you)." The people glared at me, so I said, "May my mother lose me! Why are you looking at me?" They began to strike their hands on their thighs. When I saw them signaling me to be quiet, I remained silent. When the Messenger of Allah (peace be upon him) finished the prayer, may my father and mother be sacrificed for him, I have never seen a teacher before or after him who taught better than him. By Allah, he did not scold me, hit me, or insult me. He said, "This prayer is not the place for ordinary speech. It is only for Tasbeeh (glorification), Takbeer (magnification), and recitation of the Qur'an." Or as the Messenger of Allah (peace be upon him) said. I said, "O Messenger of Allah, I am new to Islam, and Allah has brought us Islam. Some of us still consult soothsayers." He said, "Do not consult them." I said, "Some of us take omens." He said, "That is something they feel in their hearts, so let it not prevent them." I said, "Some of us draw lines (for divination)." He said, "A prophet among the prophets used to draw lines, so whoever matches his line, that is it." [Narrated by Muslim]
Ash-Shafi'i said: This indicates that the speech of someone ignorant of the ruling does not invalidate the prayer, as the Prophet did not order him to repeat the prayer. Ali Al-Qari said: The generality of the hadith is evidence for us that any speech invalidates the prayer, as mentioned in "Al-Hidayah."
In "Jami' Al-Athar": The generality of something, being indefinite and occurring under negation, includes all speech in any form.
At-Tahawi said: If someone asks why the Messenger of Allah (peace be upon him) did not order Mu'awiyah ibn Al-Hakam to repeat the prayer when he spoke during it, it can be said that the Prophet may have ordered him to repeat it, but it was not transmitted in the hadith.
In this hadith, it is stated: 'In this prayer, nothing of people's speech is permissible.' This means that any conversation or chatter during prayer is not acceptable. Regarding this, Mulla Ali Qari (RA) has said that the prohibition of people's speech in prayer as mentioned in this hadith is not absolute; it does not apply if it occurs out of forgetfulness or unawareness. Thus, the absolute prohibition here serves to inform us that any speech during prayer, whether intentional or unintentional, invalidates the prayer, similar to how a vow invalidates the prayer. This is because the Prophet (peace be upon him) instructed an unaware person after the prayer, indicating that any form of people's speech in prayer is not permissible and that the guidance of the noble Prophet (peace be upon him) is absolute, making such speech detrimental to the prayer, just as eating and drinking during prayer are detrimental.
Shaikh Enaayat has said that from the words of this noble hadith, 'In this prayer, nothing of people's speech is permissible,' it is clearly understood that speaking during prayer is as necessary to avoid as purity is necessary for prayer. Just as prayer without purity is not valid, similarly, prayer with any speech is not valid, and this is the pure and correct view. In Jami' al-Aathaar, it is written that there is a continuous principle that when 'no' is used under the condition of 'not,' it implies a general rule. Applying this principle to the words of the noble hadith, 'In this prayer, nothing of people's speech is permissible,' it is clear that the word 'no' is used, but 'not' is implied under 'la yaslih,' which confirms that any speech during prayer, whether intentional or unintentional, by a conscious or unconscious person, is detrimental to the prayer.
However, the reason why the Prophet (peace be upon him) did not mention the command to repeat the prayer to those Companions is not that he did not command them to repeat the prayer. Imam Tahawi (RA) says that it is possible that the Prophet (peace be upon him) did command them to repeat the prayer, but this was not mentioned in this hadith. This is supported by the hadith of Zaid ibn Arqam (RA), which is more explicit. Zaid ibn Arqam (RA) narrates that people used to converse with each other during prayer behind the Prophet (peace be upon him). Then the verse was revealed: 'And stand before Allah in obedience.' After this, they were commanded to perform their prayers properly and were prohibited from doing so. Imam Tirmidhi, after narrating this hadith, states that the narration of Zaid ibn Arqam (RA) is good and sound, and most scholars act upon this. All scholars agree that if a person nods or sways and speaks during prayer, it invalidates the prayer, as is also the view of Imam Sufyan Thawri and Imam Ibn Mubarak.
In conclusion, it is not possible that the Prophet (peace be upon him) commanded Mu'awiyah bin Al-Hakam (RA) to repeat his prayer, but from Tirmidhi's statement, it is evident that the command to repeat the prayer was certainly given. Any speech during prayer invalidates it, and this is further supported by another hadith.
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نماز میں ہوتے ہی اور تمام حضور کو سلام کیا کرتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں
سلام کا جواب دے دیا کرتے تھا اور پیغمبر کے جب شجاع نے کہ پھلے ہوا کرتا تھا، اور جب تمام جبش کی
سرز میں سے واپس ہوئے تو میں حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ پر نماز
پڑھتے ہوئے پایا عادت کے موافق میں نے حضور علیہ السلام کو سلام کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
مجھے سلام کا جواب دینے دیا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو فرما کر اللہ تعالیٰ جو بھی نیا کم
دینا چاہتا ہے اور مجملہ ان احکام کے ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم نماز کی حالت میں بات چیت نہ کیا
کرو۔ پیر فرما کر حضور علیہ السلام نے میرے سلام کا جواب دیا اور پیغمبر فرما کہ نماز صرف قرآن
قرآن اور ذکر اللہ کے لیے ہے لہذا تم نماز کی حالت میں ابھی چیزوں میں مشغول رہا کرو۔
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)
نماز میں فرشتم کا کلام نماز کو فاسد کر دیتا ہے اس پر تیسری حدیث
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: We used to greet the Prophet (peace be upon him) while he was praying before we went to Abyssinia, and he would respond to us. When we returned from Abyssinia, I greeted him while he was praying, but he did not respond. When he finished the prayer, he said, "Allah decrees what He wills. Among what He has decreed is that you should not speak during prayer." Then he returned my greeting and said, "Prayer is for the recitation of the Qur'an and remembrance of Allah. When you are in it, let that be your concern." [Narrated by Abu Dawud)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا کرتے تو حضور علیہ السلام جواب نماز تم کو سلام کا جواب دیا کرتے تھے لیکن جب تم نمازی کے پاس سے واپس ہوکر خدمت اقدام میں حاضر ہوئے (تو حضور نماز میں تھے) اور تم نے آپ کو سلام کیا تو حضور علیہ السلام نے تم کو سلام کا جواب نہیں دیا نماز کے بعد تم نے عرض کیا یارسول اللہ پیغمبر آپ کو نماز کی حالات میں سلام کیا کرتے تو آپ تم کو سلام کا جواب دیا کرتے تھے (گمراس و فعم تم کو جواب نہ ملا) تو حضور نے فرمایا کہ یقیناً نماز میں خود میں برطی مشغولیت رہتی ہے۔ (اس لے دوسری طرف متوجہ نہیں ہونا چاہئے۔)
(اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متقدم طور پر کی ہے۔)
نماز میں فرشتم کا کلام نماز کو فاسد کر دیتا ہے اس پر چوتھی حدیث
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ پیغمبر نماز میں باٹ چیت کر لیا کرتے تھے ایک نمازی اپنے بازو والے نمازی سے نماز میں باٹ کیا کرتا تھا (اور کوئی ممانعت نہیں) گمرآئے "وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ" (اللہ کے سامنے خاموش کھڑے رہو) کے نزول کے بعد تم کو نماز میں خاموش رہنے کا حکم ہوگیا اور نماز میں باٹ چیت کرنے کی ممانعت کردی گئی۔
-(اس کی روایت مسلم میں کی ہے۔)
نماز میں اشارہ سے بات کرنا کہی نماز کو فاسد کر دیتا ہے
Zaid ibn Arqam (may Allah be pleased with him) narrated: We used to speak during prayer, with a man talking to his companion next to him in prayer, until the verse was revealed: "And stand before Allah in devotion" (Al-Baqarah: 238). We were then commanded to remain silent and forbidden from speaking. [Narrated by Muslim]
In "Jami' Al-Athar": The generality of speech and its incompatibility with the seriousness of prayer includes all speech.
ف : جامع الآثار میں کہا ہے کہ اس حدیث میں "وَنُهِیْنَا عَنِ الْكَلَامِ" لیکن تم کو (نماز میں) باٹ چیت کرنے سے منع کیا گیا کا ارشاد مطلق ہے کہ اس میں عدا سے او اقف شخص سے ہویا اوقف شخص سے ہواصل نماز کے لئے ہویا کسی اور غرض سے کسی فرشتم کی قیمتیں ہے اس لئے نماز میں باٹ کرنے کی ممانعت فرشتم کے کلام سے متعلق ہوگی۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ
سے دریافت کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے اور لوگ حضور علیہ السلام کو اس
حالت میں سلام کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سطرح سلام کا جواب دیا کرتے تھے؟ تو
بلال رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے باٹھ کے اشارے سے جواب دیتے
ھے۔ اس کی روایت ترنذی نے کی ہے اور نسائی کی روایت کہی اس طرح ہے اور اس میں بلال رضی
اللہ عنہ کے جاے صحیب رضی اللہ عنہ کا نام ہے۔)
ف: تشریح منی میں کہا ہے کہ نمازی کا اپنے یاسر کے اشارے سے سلام کا جواب دینا کروہے، اس
سے معلوم ہوتا ہے کراشارے سے سلام کا جواب دینے کی یحدیث اس زمانے سے متعلق ہے جبکہ نماز میں
بات چیت کرنا منسوخ نہیں ہوا تھا اور جب نماز میں بات چیت کرنا منسوخ ہوگیا تو نماز میں اشارے سے
سلام کا جواب دینا کہی منسوخ ہو جائے گا کیونکہ اشارہ کہی کلام کی طرح ہے۔ پیرقات میں ذکور ہے۔
نمازی کو نماز میں چچینک آئے تو کیا کرنا چاہیے؟
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: I asked Bilal, "How did the Prophet (peace be upon him) respond to them when they greeted him while he was praying?" He said, "He would gesture with his hand." [Narrated by Al-Tirmidhi, and a similar narration by Al-Nasa’i, with Suhaib instead of Bilal]
In "Sharh Al-Munyah": It is disliked for a person in prayer to respond to greetings by gesturing with his hand or head. This hadith should be understood as referring to the time before speech was prohibited, as gesturing is similar in meaning. This is mentioned in "Al-Mirqah." It is explicitly stated in "Al-Munyah" that it is disliked (in the sense of being discouraged), but the Prophet's action was to teach permissibility, so his action cannot be described as disliked, as clarified in "Al-Hilyah" and similarly in "Radd Al-Muhtar."
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی (نماز کی حالت میں) مجھے چچینک آگی تو میں نے کہا
"الحمد للہ حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه مباركاً عليه كما يحب ربنا و يرضى"
(سب تعریف اللہ کے لے ہے ایک تعریف جو کثرت کی جا کے جوری کے پاک ہواور خلوص
سے کی جا کے جس میں برکت ہے برکت ہواور جو تعریف کر نے والے کے لے کچی باعث برکت ہو
ے ہے تعریف جس کو ہمارا پروردگار پسند فرما نے اور تعریف کر نے والے سے راضی ہو جائے۔)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر پلٹ تو ارشاد فرما کہ نماز میں چچینک کے
بعد ان کلمات کا کینہ والا کون تھا؟ اس ارشاد کو سن کر کسی نے پچھڑ کہا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ دریافت فرمائا تو جس کسی نے پچھڑ کہا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری دفعہ دریافت فرمائا تو رفاعۃ نے عرض کیا کہ وہ الہی تھا ارسول اللہ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی فتنہ جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے تمیں سے زائد فرشتہ دوز لے اوران میں سے ہرا ایک کی کوشش ہے تھی کہ ان کلمات کو لے کر میں آ سکوں پر چڑھوں۔ (اس کی روایت ترنزی، ابوداوڈاورسلی نے کی ہے۔)
ف: ابن الملک نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کی حالت میں نمازی کو چھینک آ جائے تو اس کے لئے جائزہ کروہ زبان سے احمد اللہ کہ لیکن اولی پیہ کہ نمازی چھینک آ لے پر احمد اللہ لے کہ یا خاموش اختیار کرے، نہ قول لے احمد اللہ کہ اوہ زبان لے پیرقات میں نذور ہے۔
Rifa'ah ibn Rafi' (may Allah be pleased with him) narrated: I was praying behind the Messenger of Allah (peace be upon him) when I sneezed and said,
الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ، مُبَارَكًا عَلَيْهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى
"Praise of Allah in abundance, pure and blessed, as our Lord loves and is pleased with." When the Messenger of Allah (peace be upon him) finished the prayer, he turned and said, "Who was speaking during the prayer?" No one spoke. He asked a second time, and no one spoke. He asked a third time, and Rifa'ah said, "It was me, O Messenger of Allah." The Prophet (peace be upon him) said, "By the One in Whose hand is my soul, over thirty angels rushed to take it up." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Al-Nasa’i]
Ibn Al-Malik said: This hadith indicates the permissibility of praising Allah after sneezing during prayer, according to the correct and relied-upon opinion, unlike the narration of invalidation, which is anomalous. However, it is better to praise Allah silently or remain silent to avoid disagreement, as mentioned in "Sharh Al-Munyah." The hadith can also be understood as referring to the time before speech during prayer was prohibited, as stated in "Al-Mirqah."
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو نماز میں کوئی ایسی چیز پیش آئے جس سے نمازی کو پنج نماز میں ہونے کی اطلاع دینے کی ضرورت پڑے (مثال نمازی کو کوئی باہر بلاوے یا نمازی سے گھر میں آنے اجازت طلب کرے یا ناوا تقیت سے کوئی نمازی کے سامنے گذرنا چاہے) تو سجان اللہ کہ کر اپنا نماز میں ہونا معلوم کر لے۔ (یہ طریقت مردول کے لئے ہے اور ایسی صورت میں) عورتیں دستک دے کر اپنا نماز میں ہونا معلوم کر لیں۔ (دستک کا طریقة یہ ہے کہ عورت اپنے سیدہ ہاتھ کی ہٹھلی کو با کیس با ہتھ کی پشت پر مارے، برخلاف اس کے اگر دونوں با ہتھوں کی ہٹھلیوں سے تالی بجا لے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔)
Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If something happens to someone during prayer, let them say 'Subhan Allah,' for clapping is for women." In another narration: "Tasbeeh (saying سبحان الله') is for men, and clapping is for women." [Agreed upon]
اور دوسری روایت میں ہے کہ سجان اللہ مردول کے لئے ہے اور (ذکور) طریقت سے) دستک دینا عورتوں سے متعلق ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
And in another narration, it is stated that Allah's command is for men, and (regarding) knocking at the door pertains to women. (This narration is agreed upon by Bukhari and Muslim.)
کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا: جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اور (وضو کے فراض، سنن و مستحبات طواف کرے) اچھا وضو کرے، پھر مسجد کے ارادہ سے نکلو تشہیک ذکر کرے، لیکن ایک بات کی انگیون کو دوسروں باٹھ کے انگیون میں نہ دالے، کیونکہ وہ اس حالت میں حکماً نماز میں ہے - (اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداوود، نسائی اور دار قطنی نے لی ہے - )
ف : تشریح النقا یہ میں کہا ہے کہ نماز میں ایسی بیت اختیار کرنا جس سے ترک خشوع و خضوع ہو کر وہ ہے مشاہ نماز میں کپڑوں کے ساتھ یا جسم کے ساتھ یا بالوں کے ساتھ کچھ اور ایسی نماز میں ایک بات کی انگیون کو دوسروں باٹھ کی انگیون میں دلانا جس کو تشہیک کہتے ہیں، کر وہ ہے اور اسی طرح انگیون، چٹا نا بھی کر وہ ہے، اور تو انج نماز جسے مسبر میں نماز کے انظار میں میثنا اینماز کے لیے گرتے باوضوع مسجد کی طرف چلنے و غیرہ ان حالتوں میں تشہیک ایسی کر وہ ہے جسے کہ عین نماز میں کر وہ ہے، نماز میں ہول یا تو انع نماز ہر دو حالتوں میں تشہیک کر وہ ہر یہی ہے، پردامختار میں نذور ہے اور اعلاء اسفن میں کہا ہے کہ خارج نماز اگر کی ضرورت سے مشاہ انگیون کی راحت کے لیے تشہیک کی جائے تو پیجا تزہ جسیا کہ بخاری کی اس حدیث سے ضرورتاً تشہیک کی اجازت ثابت ہوتی ہے، ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر ایک مومن دوسروں مومن کے لیے بناوکی طرح ہے اور آپ نے (بطريق مثل) اپنی ایک بات کی انگیون کو دوسروں باٹھ کی انگیون میں دوال کر تشہیک فرمائی - البتہ بغیر کی ضرورت کے خارج نماز بطور عبیث تشہیک کی جائے تو یہ کر وہ تشہیک ہے - (یہ مضمون اعلاء اسفن سے ماخوذ ہے - )
کولہول پر باٹھ کہنے اور عصاے پر ٹیک دینے کے احکام
Ka'b ibn 'Ujrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you performs ablution and does it well, then goes out intending to go to the mosque, let him not interlock his fingers, for he is in a state of prayer." [Narrated by Ahmad, Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Al-Nasa’i]
In "Sharh An-Naqayah": Every action that distracts from humility is disliked, such as playing with one's clothes, body, or hair, like interlocking fingers or cracking them.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں کولہول پر باٹھ کہنے منع فرمایے - (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر لی ہے - )
ف: اس حدیث شریف میں لفظ "خصر" جو نکودہ اس کے معنی کولہون پر بات کر رہنا ہے، اور اس معنی کو اکثر ابل علم نے اختیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ "خصر" کے معنی عصاء پر بھی دیا کے بھی لے گئے ہیں - رواج کے میں کہا ہے کہ نماز میں کولہون پر بات کر کہنا کروہ تحریک ہے، اور خارج نماز کولہون پر بات کر کہنا کروہ تنزہ ہی ہے۔ اور مرقات میں کہا ہے کہ نماز میں بلاضرورت عصاء پر طیک دینا کروہ ہے اور عمدہ القاری میں کہا ہے کہ ضرورتاً جسے بولنے یا پیار وغیرہ نماز میں بھی عصاء وغیرہ پر طیک دینے کے قیام پر قادر نہ ہو تو ایسے لوگ بھی کر نماز پڑھنے کے بجاے عصا وغیرہ پر طیک دے کر قیام کریں - (عمدۃ القاری کی عبارت ختم ہوئی - ) اور خارج نماز عصاء پر طیک دینا مباح ہوگا جس پر دلیل قرآن مجید میں حضرت موی علی السلام کا قول ہے (سورۃ ط پ16ع1میں) "ہی عصائے آتوگو علیہا" (یہ عصاء جس پر طیک دیا کرتا ہوں) اصول میں ثابت ہے کہ قرآن کسی چیز کو بیان کرنے کے بعد اس کو رونے کے توہ چیز ہماری شریعت میں کہی مباح رہتی ہے اس لے خارج نماز عصاء پر طیک دینا مباح ہوگا -
نماز میں کولہون پر بات کر کہنے کی عدید اور اس کا حکم
In this noble hadith, the word 'khusr' means speaking from the pulpit, and this meaning has been adopted by many scholars. Additionally, 'khusr' has also been interpreted as leaning on a staff. It is said that speaking from the pulpit during prayer is disliked, while speaking from the pulpit outside of prayer is permissible. In Al-Margha, it is stated that leaning on a staff during prayer without necessity is disliked, and in Al-Qari's Al-Emda, it is mentioned that if someone is unable to stand due to necessity, such as illness or weakness, they may lean on a staff or similar support while standing in prayer. Outside of prayer, leaning on a staff is permissible, as indicated by the statement of Prophet Moses (peace be upon him) in Surah Taha (20:16): 'This is my staff, I lean on it.' It is established that in our Shariah, what is mentioned after a prohibition remains permissible, hence leaning on a staff outside of prayer is permissible.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز کی حالت میں کولہون پر بات کر کہنے سے دوز خیول سے مشابہت ہوتی ہے (اس لے کہ دوز خیول کو مہتر میں کٹرے کٹرے جب ناقابل برداشت تک لیف ہوگی تو) دوز خی کولہون پر بات کر کہ آرام میں گے (اس وجہ سے نماز میں کولہون پر بات کر کہنا کروہ تحریک ہے - ) (اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے - )
نماز کا نماز کی حالت میں سجدہ کی جگہ سے کنگریال صاف کرنے کا حکم
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Speaking in whispers during prayer resembles the behavior of devils. When devils are confined in chains until they become unbearable, they speak in whispers. Therefore, speaking in whispers during prayer is a detestable movement.' (This narration is reported by Imam Baghawi in Sharh al-Sunnah.)
معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو (نماز کی حالت میں) سجدہ کے مقام سے کنگریال صاف کرتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہیں ایسا کرنا ہے تو ایک بار صاف
کر لو۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پرکی ہے۔)
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی حالت میں سجدہ کی جگہ سے بلاضرورت کنگر پول کا
صاف کرنا مطلقاً کمروہ ہے۔ اور ضرورت کی حالت میں ایک مرتبہ صاف کرنے کی اجازت ہے کیونکہ اس
سے ضرورت دفع ہو جائے گی۔ اوراس کے بعد دوبارہ ایسا کرنا فضول ہو گا۔ (شرح نقاية، اعلاء السنن۔)
نمازی کا نماز کی حالت میں سجدہ کی جگہ سے کنگر پال صاف کرنے کے حکم پر
دوسری حدیث
The Prophet ﷺ instructed that if you need to do this, then clear it once.
ابوزرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز شروع کر لے تو وہ (نماز کی حالت میں) اپنے سر کو
کرنے کی جگہ سے کنگر پال صاف نہ کر لے کیونکہ رحمت سامنے نازل ہوتی ہے۔ (اور سر کی جگہ پر
رہتی ہے۔ پس نمازی کو چاہے کہ کنگر پال پھٹا کر رحمت میں تغیر نہ کرے۔) (اس کی روایت امام احمد،
ترمذی، ابوداود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
عمل قليل اور عمل كثير کا بیان
ف: اس حدیث میں ذکور ہے کہ حالت نماز بلاضرورت سجدہ کی جگہ سے کنگر پال صاف نہ
کرے اس لیے کہ نماز کی حالت میں ہر عمل قليل بلاعذر کمروہ ہے۔ اس لیے معلوم کرنا چاہیے کہ عمل قليل
کیا ہے اور عمل کثیر کیا ہے؟ عمل کثیر پیہ کہ جس کے کر نے والے کو دورتے دیکھنے والے بھی جان کریں
نماز میں نہیں ہے، جیسے نماز کی حالت میں دونوں بازوں سے عامہ باندھنا و غیرہ۔ اس سے نماز فاسد
ہوجاتی ہے۔ البتہ حالت نماز ایسا عمل كثير جو اعمال نماز سے ہو جیسے ایک رکعت میں دو رکوع یا تین
سجدے کرنا، اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی۔ اس لیے کہ اعمال نماز سے ہے۔ اس طرح ایسے عمل کثیر سے
جب کی نماز فاسد نہیں ہوتی جو اصلاح نماز کے لیے ہو، جیسے نماز کی حالت میں وضو لوٹ جانے سے وضو
کرنے کے لیے چنانا اگر چہ کہ یہ عمل کثیر ہے مگر اصلاح نماز کے لیے ہے اس لیے اس سے کچھ نماز
فاسد نہیں ہو گی۔
اور عمل قليل پیہ کر جس کے کرنے والے کے متعلق دورے دینے والے کو شک ہو کہ نماز
میں بہیں، جیسے نماز کی حالت میں سجدہ کی جگہ سے ایک باٹھ سے کنگریال صاف کرنا اگر
بلاضرورت کنگریال صاف کی جائے تو نماز کروہ ہوگی البتہ ضرورت پرصرف ایک بار کنگریال صاف کی
جا سکتی ہے۔ (رد اختار، اعلاء السنن)
نماز میں ضرورت سے عمل قليل جاتزہ اور بلاضرورت کروہ
When any of you begins the prayer, he should not clear his forehead from the place of prostration, for mercy descends in front and remains on the forehead. Therefore, the one praying should not remove his forehead from the place of prostration so as not to cause a change in the mercy. (This is reported by Imam Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa'i, and Ibn Majah.)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھا کرتا تھا (اور سخت گرمی کی وجہ سے) مستطی بھجر کنگریال ایک باٹھ میں لے لیا
کرتا کہ وہ میری بیلی میں محفوظ ہو جائے اور جب دہ کے وقت پیشانی رکنے کی جگہ ان کورکھ دیا کرتا
تھا کہ میں ان پر سجدہ کرسکون۔
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور نسائی نے بھی اس طرح روایت کی ہے)
ف: تذکر سنن میں شرح نسائی میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی حالت
میں عذر کی وجہ سے عمل قليل جاتزہ۔
نماز میں ضرورت سے عمل قليل جاتزہ اور بلاضرورت کروہ، اس پر دوسرا حدیث
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: I was praying Dhuhr with the Messenger of Allah (peace be upon him) and took a handful of pebbles to cool them in my hand, then placed them for my forehead to prostrate on due to the intense heat. [Narrated by Abu Dawud, and a similar narration by Al-Nasa’i]
Shaykh Al-Hindi said in "Sharh Al-Nasa’i": This indicates the permissibility of minor actions.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور امامت فرامارہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی امامہ بنت الی
العاص (جو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہیں) حضور کے دوش مبارک پرسوار تھیں، اور
جب حضور علیہ السلام رکوع کرتے تو ان کو تار دیتا اور سجدہ سے اٹھتے تو ان کو پھڑا اٹھا لیتے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور نخاری نے بھی اس طرح روایت کی ہے مگر نخاری میں
امامت کرنے کا ذکر نہیں ہے۔)
ف: اتعلیق امجد میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اعدثرع
شریف کے خلاف ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز میں پھول کے جسم اوران کے پرے، جب تک نجا ست کا
یقین نہ ہو پا کر، بھی جائیں گے، اس لئے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پھی کو انہیں طہارت کی شرط کے
خلاف نہ ہو گا۔ اس طرح نماز کے اند عمل قليل ایک ای رکن میں تمیں مرتبہ نہ کیا جائے بلکہ متفرق ارکان
میں متفرق طور پر کیا جائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی۔ یہاں بھی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ایا تی
متفرق ارکان میں متفرق طور پر ہوا ہے اس لئے مفسد نماز نہیں۔ یہ شرح الزرقانی میں ذکور ہے اور
رداختار میں بھی اس طرح حیثیت منقول ہے اور عمدۃ القاری میں بدائع کے حوالے سے ذکور ہے کہ تم
میں سے کسی کے لئے بھی ضرورت کے وقت ایا عمل قليل کرو ہیں البہ بلا ضرورت نماز میں عمل قليل
کرو ہے گا۔
نماز میں ضرورت سے عمل قليل جائزہ اور بلا ضرورت کرو ہے، اس پرتیری حدیث
I saw the Messenger of Allah ﷺ leading the prayer, and the daughter of Al-A's (who is from the lineage of Zainab (RA)) was on the blessed shoulder of the Prophet ﷺ. When the Prophet ﷺ would bow in ruku', he would let her down, and when he would rise from prostration, he would lift her up. (Muslim has narrated this, and Nukha'ri has also narrated it in a similar manner, but in Nukha'ri's narration, there is no mention of leading the prayer.)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ غذشت رات حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے کا ایک جن (جو ان کی قید میں
تحاقید سے چھوٹا کر آیا) اور میری نماز توڑ وانا چاہتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قاب عطا فرما تو میں
نے اس کو پکڑ لیا اور ارادہ کیا کہ اس کو سبد کے کسی ستون سے باندہ دولتا کر (صحیح) تم سب اس کو
دکھیس (اور معلوم کر لیس کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت دی ہے جیسے سلیمان علیہ السلام کو دی تھی)
لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی یمقبول و عاءیادا گئی "رَبِّ اغْفِرْ لِی وَهَبْ لِی
مُلْکًا لاَّ يَنبَغِی لَأَحَدٍ مِّن بَعْدِی "(سورۃ ص:35) (اللہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے
بعد کسی کو نصیب نہ ہو) اس لئے میں اس کونا کام واپس کر دیا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے)
ف : اس حدیث میں ارشاد ہے "فَاخْذُتُهُ" (میں نے اس جن کو پکڑ لیا) پھر نے عمل قليل کے جو
ضرورت سے تھا س لئے عمل قليل مفسد نماز نہیں۔ (عمدۃ القاری)
اور مرقات میں کرا بن الملق نے کہا ہے کہ یہ حدیث ثریف اس بات پر محی دلائل کرتی
ہے کہ جنات کا جسم نہیں ہے اس لئے جنات کو نماز کی حالت میں کچھ ناطہارت کی شرط کے خلاف
نہ ہوگا، اس لئے اس سے کچھ نماز باطل نہیں ہوگی۔ ابن الملق نے یہی کہا ہے کرا س حدیث سے یہ
کچھ ثابت ہوتا ہے کہ حالت نماز میں اگر نمازی کے دل میں ایسے افعال کا وسوسہ پیدا ہو جو افعال نماز
سے نہ ہول تو اس سے کچھ نماز فاسد نہیں ہوتی۔
نماز میں سانپ اور پچھو کے مارنے کا حکم اوراس کی تفصیل
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Last night, a devil from the jinn tried to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him. I seized him and wanted to tie him to a pillar in the mosque so all of you could see him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman: 'My Lord, grant me a kingdom such as will not belong to anyone after me,' so I let him go, humiliated." [Agreed upon]
Ibn Al-Malik said: This indicates that the devil himself is not impure, and touching him does not invalidate the prayer. It also shows that a person's prayer is not invalidated by thoughts unrelated to it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز کی حالت میں دوسیاه چیزوں کو مارو (اکی سانپ اور (دوسرے) پچھو
(اس کی روايت امام احمد، ابوداود اور ترمذی نے کی ہے اور نسائی کی روایت کچھ اس طرح
ہے)
ف: واضح ہو کرا س حدیث ثریف میں سانپ اور پچھو کو نماز کی حالت میں مارنے کا حکم ہوا
ہے وہ مطلق حکم ہے اوراس میں کسی فتنہ کی تیاری نہ ہے اس لئے ان کے مارنے میں ایک ضرب سے کام لیا
جا لے یا متعدد ضربات سے نماز فاسد نہیں ہوگی اگر چہ کہ عمل کثرت ہے، ایا ای ان کے مارنے میں تین یا
تمین سے زائد قدم چلنے پڑے تو اس سے کچھ نماز فاسد نہوگی، اگر چہ کہ یہ عمل کثرت ہے، ایا (قبل سے
سینہ پٹ جانے پر نماز کے فاسد نہوں کا پیشہ اللہ المعین علی شرح ملا مسکین، الکنز، نور الايضاح،
مراتق الفلاح اور حاشیہ طحاوی سے ماخوذ ہے۔) ایا ن کے مارنے میں سینے قبل سے پٹ جانے تو کچھ
نماز فاسد نہیں ہوگی اگر چہ کہ عمل کچھ عمل کچھ مفسد نماز ہے اس لئے کہ یہ سب عمل کثرت اصلاح نماز کے لئے کے
جارہ ہے ایں، اگر ایا ای کیا جا لے گا تو ضرر کے اندیشے دل بث جا لے گا اور اطمینان و جمعیت باقی
نہیں رہے گی اور ایا ای ہے جسیا کہ نماز میں وضو ٹوٹ جانے سے اصلاح نماز کے لئے عمل کثرت
کر کے وضو کرنے کی غرض سے چلنے کی اجازت ہے۔
یہ کچھ واضح ہے کہ نماز کی حالت میں سانپ اور پچھو کو مارنے سے متعلق دو حکم ہیں، ایک مستحب
اور دومسرے واجب، اگر خود نمازی کو ان سے ضرر کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں ان کو مارنا مستحب ہو گا،
برخلاف اس کے اگر خود نمازی کو ان سے ضرر کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں ان کو مارنا واجب ہو گا اور اگر
ان کے ضرر کے اندیشے نماز توڑ دی جائے تو بھی درست ہے، اگر نماز توڑ لی جائے تو ان کو مارنے کی جاں کے لئے نماز جہاں سے چھوٹی گئی ہے پھر وہیں سے شروع کی جائے، نہ سرے سے
toan ke marne ke liye namaz jahan se chhuti gayi hai phir wahi se shuru kar ki jaye, nah sare se
پھر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
( درختار، رواختار، بدایی، فتح القدیر، عمانیہ، عمدة الرعاية، اعلاء السنن، فتح اللہ المعین علی شرح ملا
مسلمین، الکنز، مرآق الفلاح، ثرچ نور الايضاح بر حاشیہ طحاوی )
نماز میں عمل قليل کا جواز اور حالتنماز مشی جیسے چلنے کے احکام کی تفصیل
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Kill the two black things during prayer: the snake and the scorpion." [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Al-Tirmidhi while a similar narration is found in Al-Nasa’i]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرة مبارک میں نماز پڑھ رہے تھے اور تجرہ کا دروازہ بنده تھا میں دروازہ
کھولا ای تو حضور علیہ السلام چل کر میرے لئے دروازہ کھول دیے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ( اک
قدم ) اپنی جگہ لوٹ آئے اور مجھے یادہ کہ تجرہ مبارک کا دروازہ قبل رخ تھا۔ ( اس کی روايت امام
احمد، ابوداوداورترمزی نے کی ہےاورنسالی نے بھی اس طرح روايت کی ہے۔ )
عمل کثرہ نماز ہوگا بلکہ عمل قلیل ہی ہے، اس لئے بھی مفسد نماز نہیں ہوا۔
تمہارے پی کر دروازہ کھولنے کے بعد اپنی جگہ پرواپس ہونا، تواس بارے میں مرقہت میں کچھ
ہے کہ دروازہ کھولنے کے لئے چلناؤر پھرواپس ہونا عمل کثرہ توہے مگراس لئے مفسد نماز نہیں کہی
چلناؤرواپس ہونا پے درپے نہیں تھا، اس لئے کہ دروازہ کھولنے میں ایک رکن کی ادائیگی کے مقدار وقت
صرف ہونے کے بعد واپسی ہوتی اور نماز میں ایک رکن کی مقدار تطہیر تطہیر کر چلنایپے درپے نہ ہونے
سے مفسد نماز نہیں ہوتاہے جسیا کہ رواختا ریبن کہناہے کہ نماز کی حالت میں بقدر ایک مصلی (لیتن قد م
تے لے کر سجدہ کی جگہ) قبل رخ ایک یاد و قدم میں چلنے ایک رکن کی ادائیگی کی مقدار تطہیر نے کے بعد
پھر اتناہی چلنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، چونکہ اس حدیث شریف میں بھی ایساہی ہواہے اس لئے ہی
عمل بھی مفسد نماز نہیں ہوا۔
حالے نماز مشی لیتن چلنے کے احکام کی تفصیل
ف(2): حیثی کی فصل کروبات میں نذور سے کہ نماز کی حالت میں مشی لیتن چلنے کی دو صورتیں
ہوسکتی ہیں، ایک پی کر نمازی نماز میں بلا عذر چلنے اور دوسرے پی کر نمازی کا نماز میں چلنے کی عذر کی وجہ
سے ہو، نماز میں بلا عذر چلنے کی بھی دو صورتیں ہیں، ایک پی کر چلنے کثرہ ہو، اور پے درپے ہوتو اس صورت
میں نماز فاسد ہوجائے گی اگر چہ کہ نمازی قبل رخ می کیون نہ چلے، دوسرے پے چلنے کثرہ ہولیکین پے
درپے نہ ہو، بلکہ رکعتوں میں متفرق طور پر چلا ہوتو اس صورت میں اگر نمازی کا سید قبل کی طرف سے
پلٹ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر نمازی کا سید قبل کی طرف سے نہ پلٹ تو نماز فاسد نہیں ہوگی
بلکہ کروہ ہوگی، اگر نمازی نے نماز میں بلا عذر مشی قلیل کی اوراس کا سید قبل کی طرف سے پلٹ جائے تو
مشی قلیل ہونے کے باوجود بھی نماز فاسد ہوجائے گی، اگر سید قبل کی طرف سے نہ پلٹا ہوتو نماز کروہ ہوگی۔
واضح ہوگا نذور کے صورتیں نماز میں بلا عذر چلنے کی تفصیل اب نماز میں عذر کے ساتھ چلنے کی
صورتیں ملاحظہ ہوں۔
اگر نماز کی حالت میں مشی عذر کی وجہ سے ہو جسے نماز میں وضو لوٹنے کی صورت میں وضوے
کر نے کی خاطر چلا تو یا صلاۃ خوف لینی جہاں میں جو نماز ادا کی جائے تو اس میں چلنے کی نوبت آئی ہو یا
نماز کی حالت میں (ساتھ اور پچھوکو مارنے کے لئے چلنے کی ضرورت ہوتی ہوتا ان صورتوں میں نماز میں
چلنے سے نماز نتو فاسد ہوگی اور نہ کروہ ہوگی، خواہ مشی قليل ہو یا کثرہ ہو، اور چلنے میں سید قبل کی طرف
سے پلٹا ہو یا نہ ہو، ان ذکورہ صورتوں میں لینی صلاۃ خوف یا نماز کی کا حدث کے بعد وضو کے لئے مشی
کرنا یا ساتھ اور پچھوکو مارنے کے لئے نماز میں چلنے ان کے علاوہ اگر کسی اور عذر کے بناء پر نماز کی نے
مشی قليل کی ہو یا مشی کثرہ جس میں اس نے اپنا سید قبل کی جانب سے پلٹ دیا ہوتا اس سے نماز فاسد
ہوجاتے گی، اگر نماز کی حالت میں عذر کی وجہ مشی قليل کی ہوتا اس سے نتو نماز فاسد ہوتی ہے نہ کروہ،
بشر طیعہ چلنے میں نماز کی کسی قبل کی جانب سے نہ پلٹا ہو، اگر نماز میں عذر کی وجہ سے مشی کثرہ ہوا اور پے
در پے ہوتا یہ مشی نماز کو فاسد کر دے گی اور اگر مشی کثرہ ہو لیکن پے در پے اور متواتر نہ ہوتا ایسی مشی کے
مفسد نماز ہونے یا کروہ ہونے میں اختلاف ہے لیکن ظاہری معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی نے نماز میں مشی
کثرہ کی ہو، جو پے در پے نہ ہوتا ہو نماز کو فاسد نہیں کرتی اور نہ تو اس سے نماز کروہ ہوتی ہے بشر طیعہ مشی
مطلق عذر کی بناء پر کی گئی ہو۔
The prayer will not be invalidated by excessive movement, but rather by minimal movement. This is because, after you open the door and return to your place, there is a mention in the Merqah that walking to open the door and then returning is considered excessive movement, yet it does not invalidate the prayer. There was no movement step by step, and this is why, after the time equivalent to performing one part of the prayer has passed while opening the door, the return happens, and the prayer is not invalidated by this movement. It is similar to what Rabee'ah said: In the state of prayer, if one moves forward or backward by the distance of one prostration (from standing to prostration), and this movement is equivalent to the performance of one part of the prayer, then such movement does not invalidate the prayer.
Since this noble hadith also indicates such, it is for this reason that the act did not invalidate the prayer. Now, let us discuss the details of walking during prayer: (2): The chapter on walking during prayer can be divided into two scenarios: one where the person praying walks without any excuse during the prayer, and the other where the person praying walks due to some valid excuse. Walking without any excuse during prayer can also be divided into two scenarios: one where the walking is frequent, and the other where it is infrequent. If the walking is frequent, even if the person praying did not walk before standing in the qiblah, the prayer will be invalidated. If the walking is infrequent but occurs in different rak'ahs, then if the person praying turns their face away from the qiblah, the prayer will be invalidated; if they do not turn their face away from the qiblah, the prayer will not be invalidated but will be considered a sin. If the person praying walks a little without any excuse and turns their face away from the qiblah, the prayer will be invalidated despite the minimal walking; if they do not turn their face away from the qiblah, the prayer will be considered a sin. It is clear that these are the detailed scenarios of walking without any excuse during prayer. Now, let us consider the scenarios of walking with a valid excuse during prayer. If the walking during prayer is due to a valid excuse, such as going to renew wudu or performing the prayer of fear (Salat al-Khawf) where movement is necessary, or if there is a need to pat and stroke during prayer, in these cases, the prayer will neither be invalidated nor considered a sin, whether the walking is minimal or frequent, and whether the person turns their face away from the qiblah or not. In these mentioned scenarios, if the person performs the prayer of fear or needs to renew wudu after breaking it, or if there is a need to pat and stroke, the prayer will not be invalidated or considered a sin. However, if the person walks a little or frequently due to some other valid excuse and turns their face away from the qiblah, the prayer will be invalidated; if they do not turn their face away from the qiblah, the prayer will not be invalidated but will be considered a sin. If the person walks a little due to a valid excuse, the prayer will not be invalidated but will be considered a sin, even if they do not turn their face away from the qiblah. If the person walks frequently and continuously due to a valid excuse, this will invalidate the prayer; if the walking is frequent but not continuous, there is a difference of opinion regarding whether it invalidates the prayer or is considered a sin, but it is apparent that if the walking is frequent but not continuous, it does not invalidate the prayer nor is it considered a sin, provided that the walking is done due to a valid excuse.
ف (1): اس حدیث شریف میں تین چیزیں قابل غور ہیں: (1) ایک یہ کہ دروازہ کھولنا،
(2) دوسرا یہ کہ دروازہ کھولنے کے لئے چلناآور (3) تیسرے یہ کہ دروازہ کھولنے کے بعد تجرہ پنی جگہ
پرواپیس ہونا، دروازہ کھولنے کے بارے میں بحر رائق میں کہا ہے کہ دروازہ کا بند کرنا تو عمل کثرہ ہے لیکن
دروازہ کا کھولنا عمل کثرہ نہیں بلکہ عمل قليل ہے، اس لئے یہاں جو دروازہ کھولنے کیا عمل قليل ہو نے
سے مفسد نماز نہیں ہوا۔
دوسرے یہ کہ دروازہ کھولنے کے لئے چلناؤاس بارے میں اشعۃ اللمعات میں کہا ہے کہ تجرہ
مبارک اس قدر تغلب تھا کہ دروازہ کھولنے کے لئے ایک یادو قدم سے زیادہ چلنے کی نجابت نہیں،
اس لئے حدیث شریف میں دروازہ کھولنے کے لئے چلنے کا جو ذکر ہے وہ ایک یادو قدم چلنے کی وجہ ہے
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جماعتی آجا کے تو جہاں تک ہو سکے جماعتی
کورو کے اس لئے کہ شیطان منہ میں گھس جانا چاہتا ہے - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے-) اور
The Messenger of Allah ﷺ said: 'When any of you comes to join the congregation in prayer, join the congregation as much as possible, for Satan wants to enter your mouth.' - (This is narrated by Muslim.)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جماعتی آجا کے تو جہاں تک ہو سکے جماعتی کورو کے اور (آواز
سے ) حاء نہ کہ کیونکہ آواز حاء کہنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے (اور نمازی جب جماعتی کے وقت
آواز سے حاء کہتا ہے تو ) شیطان اس پر نستا ہے (اس لئے کہ آواز سے حاء کہنے سے نماز فاسد ہو جائے
ہو جاتا ہے، اس لئے جہالت کے بھوسے شیطان کی مراحمت اور دافعت کی جائے اور کوشش کی جائے کر شیطان اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے پائے۔
ف: اس حديث شريف میں ارشاد ہے کہ نمازی کونہاز میں جب جماعت آجاتے تو جہالت کے بھوسے جماعت کورو کنا چاہتے وا ضہو کہ جماعت کورو کنے کے لئے تذبیریں میں، ایک تذبیر یہ ہے کہ جماعت کے وقت پر خیال کیا جائے کہ انبیاء علیہم السلام کو جماعت نہیں آتی تو اس خیال سے جماعت رک جائی ہے،خلاصہ میں کہہا ہے کہ دانتول سے ہونٹ کو دبا کر جسی جماعت کورو کنا چاہتے اور جتنی میں نذور ہے کہ نماز میں اگر جماعت قیام جماعت آجا تو سیدہ با تھی کومنہ پر کہ کہ جماعت کورو کے اور قیام کے سوانماز کے اور کن میں جماعت آجا تو با کی با تھی کی پشت کومنہ پر کہ کہ جماعت کورو کنا چاہتے اور خارج نماز جماعت آنے کی صورت میں جماعت کورو کنے کی جوصورت میں اور بیان کی گئی ہیں ان سب کواختیار کیا جاسکتا ہے۔(یہ پورا مضمون روایت رنڈی ماخوذہے۔)
جوالت نماز جماعت کورو کنے کے حکم پرو وسری حدیث
When any of you comes to join the congregation for prayer, join the congregation as much as possible, and do not call out 'hay' because calling out 'hay' is from the devil. And when a person calls out 'hay' during the time of the congregation, the devil urinates on him. This is because calling out 'hay' invalidates the prayer, so the foolishness of the devil should be prevented, and efforts should be made to ensure that the devil does not achieve his goal. In this noble hadith, it is taught that when a person comes to join the congregation, they should try to join the congregation quietly, and one way to do this is to think that the prophets, peace be upon them, do not come to join the congregation, which can help prevent calling out. In summary, it is said that by pressing the lower lip against the upper teeth, one should try to join the congregation, and if the congregation is already standing in prayer, one should say 'peace be upon him' and join the prayer, and if the congregation is in prostration, one should say 'peace be upon him' and join the prostration. If one joins the congregation after the prayer has started, all these methods can be used. (This entire topic is derived from narrations.) This is the command to join the congregation for prayer and its virtues.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز میں جماعت کا آنا شیطان کی طرف سے ہے، پس جب تم میں سے کسی کو جماعت آنے تو جہالت کے بھوسے اس کورو کے۔(اس کی روایت ترنڈی نے کی ہے۔)
The coming together in prayer is from Satan, so when any of you sees someone coming to join the congregation, he should rebuke him for his foolishness.
اورترنڈی کی دوسری روایت میں اس طرح مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کو جماعت آنے تو اپنے با تھی کی پشت کومنہ پر کہ لے اورترنڈی کی دوسری روایت کے الفاظ ابن ماجے کے مروی ہیں۔
کروہات یامفسدات نماز میں یہ چھ چیزیں کچھ داخل ہیں
And in another narration of At-Tirmidhi, it is reported that when any of you comes to join the congregation, let him place his right foot over his left foot. And the words of this other narration of At-Tirmidhi are reported by Ibn Majah. Six things cause corruption or disruption in the prayer.
عمر بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے اپنے دادا سے اپنے مرفوعاً
روایت کر تے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر نماز میں چھینک، اونگلہ، جمالی،
جیض، قن او رکسیر ریسب شیطان کی طرف سے ہیں۔ (اس کی روایت ترمندی نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث ثریف میں ارشاد ہے کر نماز میں چھینک، اونگلہ، جمالی، جیض، قن او رکسیر
شیطان کی طرف سے ہیں۔
واضح رہے کر تمام چیزیں جب نماز میں واقع ہوں تو شیطان کی خوشی کا سبب ہوتی ہیں اول
الذكر تین چیزوں لیئے چھینک، اونگلہ اور جمالی سے تو نماز کروہ ہوتی ہے اور آخر الذکر تین چیزوں لیئے
جیض، قن او رکسیر سے تو نماز فاسد، یہ وجاتی ہے۔
اس حدیث ثریف میں دوسری اور چیزوں کے ساتھ نماز میں چھینک آنے کو جو شیطان کی
طرف سے ہونا ارشاد ہوا ہے اس کی وجہ یہ کر نماز کی حالت میں چھینک آنے سے توجہ الی اللہ، حضور
قلب اور استغراق میں فرق پیدا ہوجاتا ہے ورنہ خارج نماز تو چھینک پسند یہ ہے جسیا کر ایک حدیث
ثریف میں ارشاد ہے "ان اللہ یحب العطاۃ "(اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرما تا ہے۔)
خلاصہ بحث یہ ہے کر چھینک خارج نماز مطلقاً محبوب ہے اور داخل نماز مطلقاً کروہ
ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)
نماز میں گردون موڑ کردا میں با تمیں دیکھنے کا حکم
Adi ibn Thabit, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with them), reported: "Sneezing, drowsiness, yawning during prayer, vomiting, and nosebleeds are from the devil." [Narrated by Al-Tirmidhi]
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں (گردون موڑ کر) دا تمیں با تمیں دیکھنے کے متعلق دریافت کیا تو
ارشاد فرمایا کر حقیقت میں شیطان کی چھپت ہے کر شیطان بندہ کی نماز کے پچھوڑے حصے کو لے جاگتا
ہے۔ (اسی لے نماز میں گردون موڑ کر ادھر اور کہنا کر وہتر یہی ہے۔ درختار
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پرکی ہے۔)
نماز میں گردون موڑ کردا تمیں با تمیں دیکھنے کے حکم پر دوسری حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: I asked the Messenger of Allah (peace be upon him) about turning around during prayer, and he said, "It is a snatching that the devil snatches from the prayer of a servant." [Agreed upon]
ابوز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ن ارشاد فرمايا کر جب تک کوئی بندہ نماز میں (گردون موڑ کر) ادھر ادھر نہ دیکھے اس وقت تک اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ رہ کر نظر رحمت فرماتے رہتے ہیں اور جب وہ نماز میں گردون موڑ کر ادھر ادھر دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے (نظر عنايت و رحمت) پچھر لیتے ہیں کہ جس سے ثواب کم ہوجاتا ہے۔ (اس لے پیل کر وہتر یہی ہے۔) (اس کی روایت امام احمد، البوداود، نسائی اور داری نے کی ہے۔)
نماز میں گردون موڑ کردا میں با میں دیکھنے کے حکم پرتیری حدیث
As long as a servant does not look around during prayer, Allah, the Exalted, remains attentive to him, bestowing His mercy upon him. But when he looks around during prayer, Allah turns away from him, reducing his reward. This is the command regarding looking around during prayer.
نے ارشاد فرمایا کر پیشا نماز میں (خواہ نفل ہو یا فرض گردون موڑ کر ہرگز ادھر ادھر نہ دیکھا کرو! کیونکہ (نماز میں گردون موڑ کر) ادھر ادھر دیکھنا نماز کی تباہی کا سبب ہے اگر ایسا کی کرنا ہے تو نفل نماز میں کر لیا کرو (کر ایا کر نے سے نفل نماز میں خراب ہوگی) گر فرض میں ہرگز اپنا کرو۔ (کر فرض اصل نماز ہے اور فرض میں ایسا کر نے سے اصل نماز میں تباہ ہو جاتے گی۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
نماز میں دیکھنے کے اقسام اور ان کے احکام
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "O my son, beware of turning around during prayer, for turning around during prayer is ruin. If it is necessary, let it be during voluntary prayer, not obligatory prayer." [Narrated by Al-Tirmidhi]
Ali Al-Qari said: The most apparent understanding of the hadith is that the dislike is less severe in voluntary prayer than in obligatory prayer.
علیہ وسلم نماز میں (جبھی) کن انجمیون سے دا میں اور با میں طرف دیکھیا کرتے تھے (اس لے نماز میں جبھی کن انجمیون سے دیکھنا مبارک ہے لیکن اس کی عادت ذالنا کرو ہے ترہی ہے۔ (جسیا کر درختار، زیلی، تشرح ملتی، البا قانی اور اشعۃ اللمعات میں ذکور ہے۔) گر رسول اللہ علیہ وسلم (نماز میں) گردون موڑ کر پیچپیچ کی طرف دیکھتے تھے (اس لے کر ایا کر نے سے نماز کرو ہے تری ہوتی ہے اور اگر نماز میں سینے پلٹا کر ادھر ادھر دیکھیں تو نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ (جسیا کر درختار اور رواختار میں ذکور ہے۔) (اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) would glance to the right and left during prayer, but he would not turn his neck behind his back. [Narrated by Al-Tirmidhi and Al-Nasa’i]
In "Ad-Durr Al-Mukhtar" and "Radd Al-Muhtar": Turning the chest during prayer invalidates it, and turning the entire face or part of it is prohibitively disliked due to the prohibition. Glancing with the eyes is mildly disliked. In "Az-Zayla'i" and "Sharh Al-Multaqa" by Al-Baqani: It is permissible because the Prophet (peace be upon him) used to glance at his companions during prayer with the corner of his eye.
This does not contradict the previous ruling if understood as referring to unnecessary turning. It is also narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): When the Prophet (peace be upon him) began the prayer, he would only look at the place of his prostration. This is mentioned in "Umdat Al-Qari."
عمدۃ القاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے سب سے کی جگہ کے علاوہ کہیں نہیں دکھتے۔ جب ابتدائی نماز اور خارج نماز آسان کی طرف نگاہ انہا کرد کیہنے کے تفصیلی احکام
when the Noble Prophet ﷺ would begin the prayer, he would not look anywhere except at the place of his prostration. The detailed rulings regarding looking towards the beginning of the prayer and outside the prayer towards the right or left are as follows:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تاکید کے ساتھ فرمایا کہ لوگوں کو نماز میں دعا کے وقت آسان کی طرف نظری انہا نے بازآجانا چاہئے ورنہ خوف ہے۔ کرانے نظریں چھین لی جائیں گی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف: ملاعلی قاری رحمۃ اللہ نے مرقات میں کہا ہے کہ نماز کی بر حالت میں اور بالخصوص دعا کے وقت آسان کی طرف نگاہ انہا کرد کیہنا کمرہ ہے۔ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ عمدۃ القاری میں کہتا ہیں کہ تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دعا کے وقت نماز میں آسان کی طرف نظری انہا کمرہ ہے، البته خارج نماز دعا کے وقت آسان کی طرف نظری انہا نے کے بارے میں اختلاف ہے، قاضی ثرث اور ایک جماعت نے خارج نماز بھی دعا کے وقت آسان کی طرف نظری انہا نے کوکروہ قر ار دیا ہے لیکن اکثر علماء نے اس کی اجازت دی ہے اور ان حضرات کا استدلال یہ ہے کہ جس طرح کعبۃ اللہ قبلہ نماز ہے، اسی طرح آسان قبلہ دعا ہے۔
جا لیت نماز نمازی اپنی نگاہ کہاں رکے؟
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "People must stop raising their eyes to the sky during supplication in prayer, or their eyesight will be snatched away." [Narrated by Muslim]
Ali Al-Qari said: This specifically refers to raising the eyes during supplication. Otherwise, raising the eyes during prayer in general is disliked.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے انس! تم نماز میں اپنی نگاہ جبرہ کی جگہ پر جما کر رکھو۔ (اس کی روایت تیہقی نے سنن کبیر میں کی ہے۔)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "O Anas, direct your gaze to where you prostrate." [Narrated by Al-Bayhaqi in his "Sunan Al-Kubra."]
In a narration by Abu Dawud: "His gaze should not go beyond his gesture." This hadith of Abu Dawud apparently indicates that during sitting, one's gaze should be directed to one's lap. In "Radd Al-Muhtar": The apparent narration indicates that the limit of one's gaze during prayer should be the place of prostration, as mentioned in "Al-Mudmarat." This is also the view in "Al-Kanz" and others. The detailed explanation in "Ad-Durr Al-Mukhtar" is based on the opinions of scholars like At-Tahawi and Al-Karkhi, as found in extensive works.
اور ابو داود کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی الصلاۃ والسلام کی نگاہ (قعدہ کے وقت گود پر) جومقام اشارہ کر با کرتی تھی اور اس سے متوازنہ بنی ہوتی تھی۔
(ابوداود کی اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازی کی نگاہ قعدہ کی حالت میں گود پرتھی
چائے۔)
بحالتِ نماز اور بعد نماز پیشانی پر سے مٹی پوچھنے کے احکام
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "O Anas, direct your gaze to where you prostrate." [Narrated by Al-Bayhaqi in his "Sunan Al-Kubra."]
In a narration by Abu Dawud: "His gaze should not go beyond his gesture." This hadith of Abu Dawud apparently indicates that during sitting, one's gaze should be directed to one's lap. In "Radd Al-Muhtar": The apparent narration indicates that the limit of one's gaze during prayer should be the place of prostration, as mentioned in "Al-Mudmarat." This is also the view in "Al-Kanz" and others. The detailed explanation in "Ad-Durr Al-Mukhtar" is based on the opinions of scholars like At-Tahawi and Al-Karkhi, as found in extensive works.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے (ایک مرتبہ) ہمارے ایک غلام کو جن کا نام ان ح تھا برسیدہ کے وقت (زمنہ پر) چھونک
مارتے ہوئے ملاحظہ فرمایا، تو حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ان ح اپنے چہرے کو خاک لگنے دو
(کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے سامنے نمايت عاجزی کا ظہار ہوتا ہے۔)
(اس کی روایت تزندی نہیں ہے۔)
ف(1): ثریح التقایی میں کہا ہے کہ نماز کی حالت میں پیشانی پر سے مٹی کو پوچھنا کروہے،
البتہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد پیشانی پر سے مٹی کو پوچھنا کروہین بلکہ عبادت کو چھپانے کی خاطر
ریاکاری و شہرت سے پچکے لے پیشانی کی مٹی کو بعد نماز کے پوچھ لینا مستحب ہے۔
نماز میں پوچھنے کے احکام
ف(2): عرف شدہ میں بحر کے حوالے سے کہا ہے کہ نماز میں پوچھنے کے بارے میں
نہیب حقی میں دو قول ہیں، ایک قول تو یہ ہے کہ نماز میں آواز کے ساتھ پوچھنے کے بارے میں نماز فاسد
ہوجاتی ہے ورنہ نہیں، اور دوسرا قول یہ ہے کہ نماز میں اس طرح پوچھنے کے بارے میں جس سے حروف ظاہر
ہوتے ہوں تو نماز فاسد ہوجاتی ہے ورنہ نہیں، اور صحابہ بحر نے اس دوسرا قول کو اختیار کیا ہے۔
نماز میں روتنے کے احکام اور ان کی تفصیل
The Messenger of Allah ﷺ observed one of our slaves named Anh being beaten at the time of rain. The Prophet ﷺ then instructed, 'Let Anh allow his face to touch the ground' (for it is a sign of humility before Allah, the Exalted).
مطرف بن عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہما کے و الد عبد اللہ ابن شخیر سے روایت
کرتے ہیں کہ ان کے والد عبد اللہ بن شخیر نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدام
میں حاضر ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نماز پڑھ رہے ہیں اور رونادبا نے کی وجہ سے
حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے سینہ مبارک سے ایس آوازی آرہی پی جس وگی کے اندر سے دیگ
کے جوش مارت وقت آوازی آیا کرتی ہیں۔
Mutarrif ibn Abdullah ibn Ash-Shikhir, from his father, reported: I came to the Prophet (peace be upon him) while he was praying, and his chest was making a sound like the boiling of a pot, meaning he was crying.
In another narration, it is reported: "I saw the Prophet (peace be upon him) praying, and his chest was making a sound like the grinding of a millstone due to his crying." [Narrated by Ahmad while Al-Nasa’i narrated the first version, and Abu Dawud narrated the second]
In "Sharh An-Naqayah": The summary is that groaning or crying with sound, if it is not related to the Hereafter, such as due to pain or a calamity, invalidates the prayer because it shows distress and impatience, as if one is saying"Help me." However, if it is related to the Hereafter, such as out of fear or hope, it does not invalidate the prayer, as it is like supplication and praise.
اوردوسری روایت میں ہے کہ عبد اللہ بن ثخیر نے کہا میں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور رونادبا نے کی وجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک
سے ایس آواز آرہی جس پی جسے چکی کے چلت وقت چکی کی آواز آیا کرتی ہے ان دونوں حدیثوں کی
روایت امام احمد نے کی ہے اور نسائی نے بھی پہلی حدیث کی روایت کی ہے اور ابو داود نے بھی دوسری
حدیث کی روایت کی ہے۔
ف: واخ ہو کر نماز میں دہشی آواز سے رونا یا بلی آواز سے رونا اگر یا آخرت کے خیال سے
اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور امید کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کسی درد یا نیوی مصیبت کی وجہ سے ہول تو ان
سے نماز فاسد ہوجاتے گی، اس لئے کر اس سے افسوس اور بقراری کا ظہار ہوتا ہے اور پیش
حقیقت میں شکایت سے کہویا نمازی کہ مر باہے کہ میری مد کراونماز میں اپیا کہنا نماز کے اندر کلام
ہوا، اور کلام سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، اس کے برخلاف نماز میں دہشی آواز سے رونا یا بلی آواز سے
رونآآخرت کے خیال سے اور اللہ تعالیٰ کے خوف یا امید کی وجہ سے ہولوی حقیقت میں دعا اور ثناء سے
اور اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔(شرح نقایہ، مرقات)
نماز میں وضوعلوٹنے کے احکام اور بناء کا جواب
Mutarrif ibn Abdullah ibn Ash-Shikhir, from his father, reported: I came to the Prophet (peace be upon him) while he was praying, and his chest was making a sound like the boiling of a pot, meaning he was crying.
In another narration, it is reported: "I saw the Prophet (peace be upon him) praying, and his chest was making a sound like the grinding of a millstone due to his crying." [Narrated by Ahmad while Al-Nasa’i narrated the first version, and Abu Dawud narrated the second]
In "Sharh An-Naqayah": The summary is that groaning or crying with sound, if it is not related to the Hereafter, such as due to pain or a calamity, invalidates the prayer because it shows distress and impatience, as if one is saying"Help me." However, if it is related to the Hereafter, such as out of fear or hope, it does not invalidate the prayer, as it is like supplication and praise.
ام المؤمنین سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو نماز میں (منہ بجر کر) قع آے پاکسی پچھوت پڑے
(یا منہ بجر کر) اچھال ہو جیئی وہ ق جومد میں آکر پلیط جائے یا ندی آوے تو اس کو چاہے کروہ نماز کی
جگہ سے بہت جائے اور وضو کر کے اپنی (پیلی) نماز پر بناء کرے (لیجن جس رکن میں حدث ہوا تھا،
اس رکن سے باقی مانده نماز کی تکمیل کر لے، اس لئے ازسرنومناز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ) بثر طیک
وہ وضو کے لئے آنے اور جانے میں کوئی کلام نہ کرے - ( اس کی روایت ان بلحاظ کی ہے - )
The Messenger of Allah ﷺ instructed that if anyone feels the need to pass wind during prayer, they should leave and perform ablution, then return to complete their prayer from the point where the interruption occurred. There is no need to start the prayer over from the beginning. They should not speak while going to and returning from performing ablution.
اور عبد الرزاق، وارطی اور تہیقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس طرح
موقوفاً روايت کی ہے -
دارتی نے اس حدیث کی روایت مسلما بھی کی ہے -
صحابراورتا بعین سے جمعی بناء کا جواز ثابت ہے
ف(1): اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں وضو ٹوٹ جانے سے نماز کی جلد سے جلد
کروضوع کر کے پھلی نماز پر بناء کرنے جائز ہے، واضح ہوگا کہ اسیا مثلہ ہے جس پر صحاب کرام اورتا بعین کا
اجماع ہے، چنانچہ ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں صحاب میں سے حضرت علی بن ابی طالب، ابوکبر
صد اق، سلمان فارسی، ابن عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے اورتا بعین میں سے حضرت علقمه، طاووس،
سلم بن عبد اللہ، سعيد بن جبير، شعبي، ابراہیم نخی، عطا مکول اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہم اجمعین سے
بناء کرنے کے ثبوت پر متعدد روايتیں لی ہیں، اس وجہ سے بعض علماء نے کہا ہے کہ بناء کرنے کے اس
مثلہ پر صحاب کرام کا اجماع ہے کیونکہ بناء کا جواز حضرت ابوکبر، عمر، عثمان، علی، عبد اللہ ابن مسعود، عبد اللہ
بن عمر، عبد اللہ بن عباس، انس اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے نیز فقہاء وتا بعین میں
سے حضرات اوزاغی، ابن ابی لیلا، حسن بصري، سفیان ثوری اور ابوسلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہم بھی
جواز بناء کے قائل ہیں -(بناییعنی عینی بدایی)
نماز میں وضو ٹوٹ جانے سے بناء کرنے کے تفصیلی احکام
ف(2): واضح ہوگا کہ نماز میں حدث ہونے کی دو صورتیں ہیں (1) اختیاری (2) غیر اختیاری،
اختیاری حدث اس حدث کو کہتے ہیں جس کے واقع ہونے میں بندر کے اختیار کو خلل ہو، مثلًا کوئی
شخص نماز میں تحقیہ کے ساتھ جسے پائے بدن پر کوئی ضرب لگا کر خون نکلے یا عذر اخرانج زٹ کرے،
ان سب صورتوں میں نماز فاسد ہوجائے گی، حدث غیر اختیاری اس حدث کو کہتے ہیں جس میں نمازی
صورت میں مصلی کو چائے کر وہ فوراً پھی جگہ سے بھٹ کرو ضوع کے لے چلا جائے اگر بقدر ادائی ایک رکن بلا عذر طیعیر ار سے تو نماز فاسد ہوجائے گی اور بناء تح نہوگی اور بناء تح ہونے کے لے پیجی ضروری سے کسی رکن کو حالت حدث میں ادانہ کرے اور ای طرح کسی رکن کو چلن کی حالت میں بھی ادانہ کرے اور وضو کرنے اور وضو کے لے جانے کے دوران میں کولی ایا فعل ذکرے جونماز کے منافی ہو یا وضو کے ضروریات سے نہواور وضو کے بعدا پنی نماز کوس رکن پرچپوز اتحا سی رکن سے شروع کرے اور اس رکن کا اعتبار نہ کرے جس میں حدث ہوا ہے۔
اگر نمازی منفرد ہے تو بعد وضو کے جہال وضو کیا ہے وہ قریب میں نماز پڑھسلتا ہوتا وہیں نماز پوری کر لے اور پہی افضل ہے اور چائے تو پہلے جہال نماز پڑھر باقاعدہ بال جاکر نماز پوری کرے پی کچی درست ہے۔
اگر نمازی جس کو حدث لا حق ہوا ہو وہ مقتری ہے تو اس کا حکم اس مدرک کے حکم کی طرح ہے جو ابتدا نماز سے شریک جماعت ربا ہو، اس لے ایام مقتری وضو کے بعد جب اپنی باقی مانده نماز کی تکمل کرنا چائے تو وہ چونکہ مدرک کی طرح ہے اور چونکہ مدرک امام کے پچچقرآت نہیں کرتا اس لے پی مقتری بھی قرآن پڑھنے کے موقع پر ناحمد پڑھے اور نہ سورہ ضم کرے بلکہ ناحمد اور ضم سورہ کی مقدار خاموش قیام کر کے رکوع میں چلا جائے مقتری کے لے یہ حکم اس صورت میں ہے جب کرامام نماز فارغ ہو چکا ہو، اور جماعت ختم ہوچکی ہے اور اگر امام ابھی نماز پڑھر باہے تو مقتری کو چائے کر وہ جماعت میں شریک ہو کر امام کے سلام پچیر نے تک امام کے ساتھ نماز ادا کرے اور امام کے نماز فارغ ہو نے کے بعد مقتری نذورہ بالطریقه پراپنی باقی مانده نماز کی تکمیل کرے اور اگر امام کونماز میں حدث لا حق ہو تو امام کو چائے کر وہ مقتر پول میں سے جمس کوالی سمحتاہے اشارہ کر کے خلیفہ بنائے اور خور وضو کرنے کے لے فوراً چلا جائے اور وضو کے بعداگر جماعت کو پائل تو پی مقتری بن کر جماعت میں شریک ہو جائے اور جماعت ہوچکی ہو تو اوپر بتا ہوے طریقہ پراپنی باقی مانده نماز کی تکمیل کر لے۔
(شرح المدنی، درختار، رواختار، بدایی، عالمگیری)
نماز میں وضو ئے ثانی کے احکام اور بناء کے جواز پر دوسرا حدیث
Muslim also narrated this hadith - It is permissible to gather for collective construction.
f(1): This hadith establishes that if one's wudu breaks during prayer, it is permissible to immediately perform wudu and then complete the first prayer. It is clear that this is the example upon which there is consensus among the noble Companions and the Tabi‘in. Ibn Abi Shaybah has recorded multiple narrations in his Musannaf proving the permissibility of building (continuing the prayer after performing wudu) from the noble Companions, including Ali ibn Abi Talib, Abu Bakr Siddiq, Salman al-Farsi, Ibn Umar, and Ibn Masud (may Allah be pleased with them all), as well as from the Tabi‘in, including Al-Hasan al-Basri, Tawus, Salim ibn Abdullah, Sa'id ibn Jubayr, Al-Sha'bi, Ibrahim al-Nakha'i, Ata al-Makki, and Sa'id ibn al-Musayyib (may Allah be pleased with them all). Some scholars have stated that there is consensus among the noble Companions on the permissibility of building because the permissibility of building is established from Abu Bakr, Umar, Uthman, Ali, Abdullah ibn Masud, Abdullah ibn Umar, Abdullah ibn Abbas, Anas, and Salman al-Farsi (may Allah be pleased with them all), and also from the jurists and Tabi‘in, including Awza'i, Ibn Abi Layla, Hasan al-Basri, Sufyan al-Thawri, and Abu Salama ibn Abd al-Rahman (may Allah be pleased with them). (Building means starting anew)
Detailed rulings regarding building after wudu breaks during prayer:
f(2): It is clear that there are two types of breaking wudu during prayer: (1) voluntary (2) involuntary. Voluntary breaking of wudu refers to situations where the person’s control is compromised, such as when someone in prayer strikes themselves on a part of the body causing blood to flow or intentionally causes a discharge. In all these cases, the prayer becomes invalid. Involuntary breaking of wudu refers to situations where the person in prayer is compelled to leave their place to perform wudu. If they leave for a period sufficient to perform a significant part of the prayer without a valid excuse, the prayer becomes invalid, and building is not permissible. Building is only permissible if a significant part of the prayer is performed while in a state of ritual purity, and if the person performs actions that are contrary to the requirements of wudu or the prayer, or if they start the prayer from the part where the breaking occurred, without considering the part where the breaking happened.
If the person praying is alone, they should complete the prayer near where they performed wudu, and this is the best course of action. However, if they prefer to complete the prayer at the original place, it is also correct.
If the person praying is a follower (muqtadi) and their wudu breaks involuntarily, their ruling is similar to that of a person who joins the congregation late. Therefore, after performing wudu, when they wish to complete the remaining part of the prayer, they should remain silent during the recitation of the Quran and not recite any additional surahs, but instead stand silently until they reach the ruku'. This ruling applies when the imam has completed the prayer and the congregation has dispersed. If the imam is still praying, the muqtadi should join the congregation and pray with the imam until the imam finishes, and then complete the remaining part of the prayer. If the imam’s wudu breaks during the prayer, the imam should appoint a successor by indicating and then immediately go to perform wudu. After performing wudu, if the congregation is still ongoing, the imam should rejoin the congregation as a follower. If the congregation has ended, the imam should complete the remaining part of the prayer as described above.
(Sharh al-Madani, Dakhatar, Rawakhat, Bada'i, Alamgiri)
Rulings regarding the second wudu during prayer and the permissibility of building based on another hadith
- ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے روایت کی گئی ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ جس کونماز میں نكسیر پھوت پڑے یا س کا وضو ئے ثانی جائے (تو اس کو کیا کرنا چاہیے ) آپ نے فرمایا کہ وہ نماز کی جگہ سے بہت جا کے اور وضو ئے کر لے (اور وضو ئے کے لے آنے جانے میں ) ذکر اللہ کے سوا کوئی کلام نہ کرے (اور وہ وضو ئے کے بعد جب ) اپنی جگہ واپس آ جا کے تو اپنی باقی مانده نماز کی تکمیل کر لے اور جو پھوٹ نماز وضو ئے ثانی کے قبل ادا کی گئی اس کو شمار میں رکھے (اور پیچھے کہ جونماز پڑھ چکا ہے وہ ادا ہو چکی ہے اور باقی مانده نماز کی تکمیل اسی رکن سے کرے جس رکن پر حدیث ہوا ہے اور اگر وضو ئے کے لے آنے جانے میں ) بات کر لی تو اسر نومماز کا اعادہ کرے - (اور جونماز پڑھ چکا تحاس کا اعتبار نہ کرے - ) (اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں لکھا ہے - )
Ibrahim (may Allah be pleased with him) said regarding a man who has a nosebleed or an involuntary occurrence during prayer: "He should leave without speaking, except to remember Allah, perform ablution, return to his place, and complete the remainder of his prayer, counting what he has already prayed. If he spoke, he must start over." [Narrated by Muhammad in "Al-Athar."]
In a narration by Ibn Abi Shaybah from Ali (may Allah be pleased with him): "If a man has a nosebleed or vomits during prayer, let him perform ablution without speaking and resume his prayer." The narrators of this chain meet the conditions of authenticity.
- اور ابن ابی شیبا کی ایک روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب کسی شخص کونماز میں نكسیر پھوت پڑے یا منہ بھر کر ) قت آنے تو اس کو چاہے کہ جا کر وضو ئے کر لے اور باقی نماز کرے اور (اگر چاہے تو بعد وضو ئے کے ) اپنی پہلی نماز پڑ بناء کرے _ اس سنہ کے راوی تج کے راوی ہیں -
نماز میں وضو ئے ثانی پر ازسر نومماز پڑھنے کے ثواب کا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے روایت کی، وہ کہتا ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی نماز میں (عمداً) رتنگ خارنج ہوجائے تو اس پر وضو ئے کر کے ازسر نوثرود ع سے نماز پڑھنا واجب ہے، اگر بلغیرا ردنے کے خود بندورتنگ نکل تو اس کو وضو ئے کر کے ازسر نومماز پڑھنا مستحب ہے اور جسقدر نماز پڑھ لیا ہے اس پربناء کرنا بھی جائز ہے - (اس کی روایت البوداود نے کی ہے اور تنذی نے بھی کسی قدري زیادتی اور کی کے ساتھ اس کی
روایت کی ہے۔)
ف: اس حدیث کے ترجمہ میں جو قیود ذکور ہیں، مرقات سے ماخوذ ہیں اور ان سے مقصد یہ
ہے کہ اپرکی حدیثیں جس میں حدث ہوئے پر نماز کے بناء کا حکم ہے، اور یحدث جس میں حدث ہوئے
پرنماز کوثر و عے لوطا نے کا حکم ہے، تیق ہوجائے اوروہاس طرح کا اپرکی حدیثیں جس میں نماز کے
بناء کا حکم ہے ان کو غیر اختیاری حدث سے متعلق کیا جائے اور اس حدیث کوس میں نماز کے لوطا نے کا
حکم ہے، حدث اختیاری اور غیر اختیاری دونول سے متعلق کیا جائے۔ اس حدیث کو دونول صورتوں لیجن
اختیاری اور غیر اختیاری حدث سے اس طرح متعلق کیا جائے گا کہ اگر حدث اختیاری ہوتا نماز کولوطا نا
واجبا ہے اور اگر حدث غیر اختیاری ہے تو نماز کا لوطا نا مستحب لیمن فضل ہے۔(یمضمون پگھزنیادتی
کے ساتھ مرقات سے ماخوذہے۔)
نماز میں امام کا ضوع ظہور پرسی کوخليفہ بناء بغیر وضو کے لے جانے کا بیان
Talq ibn Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If one of you passes wind during prayer, let him leave, perform ablution, and repeat the prayer." [Narrated by Abu Dawud while Al-Tirmidhi narrated it with additions and omissions]
Ali Al-Qari said: The command to repeat the prayer is obligatory if the occurrence was intentional. However, if it was involuntary, the command is for recommendation, as it is better to avoid disagreement.
- عطاء بن سیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نماز ول میں کسی ایک نماز کو تجبیہ تحریم کہ کر شروع فرمائے (پھر حدث ہونے پر) اپنے دست مبارک
سے صحاب کو اشارہ فرمایا (جس کا معنیوم یتخاکر تجہیربے رہو) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
مصلی سے پچلے پھر (وضو فرماکر) ایک حالت میں واپس ہوئے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد
مبارک پر پانی کا اثر تجا پھرا آپ نے (بناء کر کے ) نماز پڑھائی - ( لعنی تجبیہ تحریم کے بغیر جہالت سے
نماز چھوڑی لیتی وہیں سے نماز شروع فرما کر نماز کی تمیل فرمائی -) اس کی روایت امام محمد نے موٹائے
میں کی ہے۔
ف (1) امام محمد رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ تم اسی حدیث سے پاخذ کرتے ہیں کہ جس کسی کا وضو
نماز کی حالت میں ہوت جانے تو اس کے لے جانے زہ کرو نماز کی جگہ سے بہت جانے اور باٹ نہ
کرے اور وضو کر کے جو پھر نماز پبل پڑھ چکا ہے اسی پر بناء کر کے باقی ماندہ نماز کی تمیل کر لے اور
افضل یہ کہ باٹ کر لے اور وضو کر کے نماز کو ازسرنو شروع کے پڑھے۔
ف (2) روایت میں کہا ہے کہ امام کونماز میں حضرت ہو جائے اور پانی مسجد میں موجود ہوتا وہ
نماز پول کو اشارہ سے تھیرا کر کی کو خلیفہ بنانے بغیر نماز کی جگہ سے بہت کر وضو کرے اور واپس آکر بناء
کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور اگر پانی مسجد میں موجود ہوتا امام کی کو خلیفہ بنانے کرخود وضو کے
لے چلا جائے لیکن امام کے لے خواہ پانی مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر ہو نماز میں حضرت ہو نے پر ہر
حال میں وضو کے لے جائے نے کے واسطے کی کو خلیفہ بنالینا فضل ہے۔
نماز میں وضو لوٹنے پروضوع کوجائے نے کے لے شرمندگی دور کرنے کا طریقہ
Ata ibn Yasar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said Takbir in one of the prayers, then gestured to the people to wait. He left and returned with traces of water on his skin, then resumed the prayer. [Narrated by Muhammad in "Al-Muwatta"]
Muhammad said: "This is the ruling we follow. If someone is afflicted with an occurrence during prayer, there is no harm in leaving without speaking, performing ablution, and resuming the prayer. However, it is better to speak, perform ablution, and start the prayer anew."
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہے کہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سے کوئی نماز پڑے تو اور نماز میں اس کا وضو لوٹ جائے تو وہ اپنی
ناک پکڑ لے (تاکہ لوگ کو خیال ہو کہ اسے نسیب آئی ورنہ ممکن ہے کہ وہ شرمندگی وجہ سے وضو ہی نہ
کرے اور بلا وضو، یعنی نماز پڑے ہے) پھر نماز کی جگہ سے بہت جائے - (اور وضو کر کے بناؤ کرے -)
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے -)
نماز میں امام کا وضو لوٹنے پر خلیفہ بنانے کا طریقہ
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "If one of you has an occurrence during prayer, let him hold his nose and then leave." [Narrated by Abu Dawud]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ جب کسی نے
لوگوں کی امامت کی اور اپنے پیٹ میں تکفیف کا احساس کیا ایک کی آمد کا احساس ہوا ایک سیر کے چھوٹ
جا نے کا یقین ہوا تو اپنی ناک پر کپڑا اڑ کہ لے اور مقتدر یوں میں سے کسی کے باٹھ کو پکڑ لے اور اس کو
آگے بر ہاونے - (اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے -)
ف : عمدۃ الرعاية میں بنایی کے حوالے لے کے کہا ہے کہ جب امام کو مقتدر یوں میں سے کسی کو خلیفہ
بنانے کی ضرورت پیش آئے تو مقتدری کو اپنی جگہ لے جائے نے کے لے باٹ کے بغیر اس کا کپڑا پکڑ کر کہیں
یا اتنے سے اشارہ کرے اور اشارہ سے، ایس کو اپنی باقی ماندہ نماز کی اطلاع کرے اور اگر خلیفہ بنانے
وقت باٹ کر لی تو نماز فاسد ہو جائے گی -
قعدہ اخیرہ میں تشهد کے بعد عمدہ احدث کرنے والے کے لہ حکم
Ali (may Allah be pleased with him) said: "If a man is leading people in prayer and feels the need to pass wind, vomit, or has a nosebleed, let him place his garment over his nose, take the hand of one of the people, and let him lead." [Narrated by Al-Daraqutni]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اخرینماز میں قعدہ اخیرہ (بمقدار تشهد بیٹھے کے بعد) سلام پچھیرنے سے قبل عمدہ اوضو توڑ دے تو اس کی نماز ہوگی (اس واسطے کا پن فعل سے نماز سے باہر آنا فرض ہے، اور یہاں مصلی عمدہ احدث کرنے اپنے فعل سے باہر ہوگیا تو اوراس کے ذمہ کوئی فرض واجب باقی نہ رہاس لے اس کی نماز ہوگی۔)
(اس کی روایت تنزیل کی ہے۔)
The Messenger of Allah ﷺ said: 'When any one of you intentionally breaks his wudu before giving the final salutations in the last sitting (after the tashahhud), his prayer is invalid (and it becomes obligatory to repeat the prayer). If someone intentionally breaks his wudu after the first part of the prayer, he must leave the prayer, and if he does so, there will be no remaining obligation upon him, and his prayer will be valid.'