Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الذِّکْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ

Remembrance After Prayer
Volume 2 · Prayer

(یہ باب نماز کے بعد دعا اور ذکر کرنے کے بیان میں ہے)

فرض نمازوں کے بعد اللہ أکبر کہنے کی تحقیق

This chapter deals with the recitation of supplications and remembrance after prayer.

The investigation into saying Allahu Akbar after the obligatory prayers

1504

- ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ أکبر کی آواز سننے

سے نہیں اٹلاع ہوتی جس کے حضور گراہی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گے - (اس کی روایت

بخاری اور مسلم میں متفق طور پر ہے - )

ف: ابوحسن ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ نے شرح بخاری میں اس حدیث کی اس طرح تاویل کی

کہ کہ حدیث ثبوت میں فرض نماز کے بعد اللہ أکبر جہرے کہنا جائز کرتے ہیں ہر فرض نماز سے متعلق

نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جہاد کے موقع پر ہے جہاں جہادیں ہر فرض نماز کے بعد اللہ أکبر جہرے کہنا

کرتے ہیں تاکہ کفار پر عب طاری ہو، اگر اس حدیث سے یہی مراد ہے تو عمل اب جملہ جاری ہے کہ

جہادیں جب نماز پڑھ کر سے فارغ ہونے والے کے لئے مستحب ہے کہ وہ ہر فرض نماز کے بعد دشمن کو

ذرا نہ کے لئے آواز اللہ أکبر کہا کرتیں -

ابن بطال رحمۃ اللہ نے یہی کہنا کہ اگراس کا تعلق جہادیں کے ہر فرض نماز کے بعد جہرے

اللہ أکبر کہنے سے نہیں ہے، بلکہ اس حدیث سے یہ مراد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے ختم

ہونے کے بعد جہرے اللہ أکبر فرما یا کرتے تھے جسیا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس کو ختم نماز کی

علامت بنگے تھے تو عمل اب اجماع سے منسوخ ہے کیون کہ تم نے نماز کے ختم پر بلند آواز اللہ أکبر

کہنے کے قائل کسی عالم کو نہیں پایا -

صاحب بنایی نے امام ابویکبر رازی رحمۃ اللہ کا قول نققل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء

نے کہا ہے کہ ایام تشریق کے سوا دوسروں ایام میں فرض نمازوں کے بعد بلند آواز اللہ أکبر کہنا

مسنون نہیں ہے بلکہ جہرے اللہ أکبر کہنے کے مواقع یہ ہیں: جہاں دشمنوں کے مقابلے ہوں یا ذو اکرز انوں

کے مقام بل یا آگ لگی ہواور ایسے تم ام خوف اور دہشت کے موقعول پر جہرت اللہ اکبر کہنا مسنون ہے۔

فرض نمازول کے بعد مجھ پر دعا کی پڑھی گئی ہے

It is narrated from Ibn Abbas (RA) that he said:

One does not become aware of the voice of 'Allah is the Greatest' until the Prophet ﷺ has finished the prayer. - (This is narrated by agreement in Bukhari and Muslim.)

1505

عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فرض) نماز کے سلام پھیر نے کے بعد (تعالیماً) پیدا عبلنداً وازت فرماتے تھے لااللہ لااللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ المُلک وَلہ الحمد وَهوَ علی کُلِّ شیء قدیر لا حول وَلاقوَة الا باللہ، لااللہ الا اللہ وَلانعبد الا ایاہ، لہ النعمة وَلہ الفضل وَلہ الشاءُ الحسن لااللہ الا اللہ مخلصین لہ الدین و لوکرہ الكافرون، اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، سارا اقتدار علی اس کا ہے اور اس کے لئے سب تعریف ہے اور وہ بھرث پر قادر ہے گناہو ل سے بازرہ نا اور نکیا ل کرنا بغیر اللہ کی مد کے نہیں ہوسکتا، اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس لئے ہم اس کی عبادت کرتے ہیں، سب نعمتیں اس کی دی ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ فضیلت اس کو ہے، جتنی بہتریں تعریف ہیں سب اس کو مزاوار ہیں (پھر ہم کہتے ہیں کر) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس لئے ہم اس کی طاعت و عبادت اخلاص سے کرتے ہیں، ہمارا اخلاص گو کا فرو ل کو بر ا،ی کیون نے گے۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

فرض نماز کے بعد دعا کر نے کا ثبوت

Abdullah ibn Az-Zubayr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) would say aloud after finishing his prayer:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النَّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنُ، وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ

"There is no god but Allah alone, with no partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise, and He is over all things competent. There is no power nor strength except with Allah. There is no god but Allah, and we worship none but Him. To Him belongs all favor, grace, and excellent praise. There is no god but Allah, sincere in faith to Him, even if the disbelievers dislike it." [Narrated by Muslim]

In Al-Umm, this is understood as a method of teaching. Once the teaching is accomplished, it is stopped. As mentioned in Al-Mirqah. In Al-Madkhal, it is said: "People should be cautious of raising their voices in remembrance and supplication after finishing the prayer in congregation, as this is an innovation."

1506

ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ کس وقت کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ حضرت علی الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرما یا کر رات کے آخری نصف کے درمیانی وقت کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے، ایسا کی فرض نماز ول کے بعد کی دعا کہی جہت مقبول ہوتی ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)

فرض نماز کے بعد باٹھاٹھا کر دعا کرنے کا ثبوت

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that it was said: "O Messenger of Allah, which supplication is most likely to be answered?" He said: "In the last third of the night and after the obligatory prayers." [Narrated by Al-Tirmidhi]

1507

- اسود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا کہ میں

ن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتوں نماز فجر ادا کی، جب حضور علی الصلاۃ والسلام نے (ختم نماز

پر) سلام پچھیرا تو لپٹ گئے اور دونوں ہاتھوں کواٹھاکر دعا فرمائی - (اسکی روایت ابن ابی شیبرہ نے

مصنف ملتکی بھاوراس حدیث کی تفسیرابن سنکی حدیدث سمجھتے تھے جسکی روایت انہوں

نكتاب "عمل اليوم والليلة"، میناس رضی اللہ عنہ سکی بحكه

Al-Aswad, from his father (may Allah be pleased with him), reported: "I prayed Fajr with the Messenger of Allah (peace be upon him). When he finished, he turned and raised his hands and supplicated." [Narrated by Ibn Abi Shaybah in Al-Musannaf]

This is supported by what Ibn As-Sunni narrated in Amal Al-Yawm wa Al-Laylah from Anas, from the Prophet (peace be upon him), who said: "There is no servant who spreads his hands after every prayer and says:

اللَّهُمَّ إِلَهِي، وَإِلَهَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ، وَإِلَهَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيْلَ، أَسْأَلُكَ أَنْ تَسْتَجِيْبَ دَعْوَتِي؛ فَإِنِّي مُضْطَرُّ، وَتَعْصِمَنِي فِي دِينِي فَإِنِّي مُبْتَلَى، وَتَنَالَنِي بِرَحْمَتِكَ، فَإِنِّي مُذْنِبُ، وَتَنْفِيَ عَنِّي الْفَقْرَ؛ فَإِنِّي مُتَمَسْكِنُ،

“O Allah, my Lord and the Lord of Ibrahim, Ishaq, and Yaqub, the Lord of Jibril, Mika’il, and Israfil, I ask You to answer my supplication, for I am in need. Protect me in my religion, for I am tested. Grant me Your mercy, for I am sinful. Remove poverty from me, for I am in need”

… except that Allah Almighty, in His infinite mercy, takes it upon Himself not to return his hands empty."

These narrations confirm the practice of supplication and raising the hands after the obligatory prayers, as established by the leader of the Prophets and the model of the righteous, as is clear to the wise scholars. This was stated by Mawlana Abdul Hayy Al-Laknawi in his Fatawa.

1508

- نبى صلى الله عليه وسلم نعرشاوفر ماياكر جوكوتى بنده هر(فرض) نماز كبحددونول

باتكه پچھيراكر يون دعا كرتاه "اللهم الهى وَاللهِ ابراهيم وَاسحاق ويعقوب وَاللهِ جبرائيل

وميكائيل واِسرافيل أسلُك أن تستجيب دعوتى فانى مضطر و تعصمنى في

دينى فانى مبتلى وتالنى برحمتك فانى مذنب و تنفى عنى الفقر فانى متمسكن"

(آء الله! میرے معبد!اورحضرت ابراہيم او رحضرت اسماعق وحضرت يعقوب عليهم السلام كمعبد!

اور جبريل وميكائيل واِسرافيل عليهم السلام كمعبد!ميانآپ سالتاجارتاهونكار پميريدعا

بولفرمانيس لتهكرميبقراري او رپيشانيكي حالتييندعائگرباهون،اورميلآنپس

والكرتا هونكار پميريدينكيحفاظتفراييناسلتهكرميازميشميلپحسابواهون

ورميلبيجي درخواستكرتا هونكار پاپنيرحمتسميزرعناهولكومعاففرماتي،اس

لكرميگنهگارهولاورميريبيجيعرض بهكار پميريمتحابي كودورفرماديس لتهكرميمتحاج

تنقدستهول-) تو الله تعالى برحق به كل اي شخصكي دعاكوقبولفرمالايوراسي باطحولكو

کے بعد وعا کرنا اور دعا میں دونوں با تحول کا اتحاد پیدا کرتا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے اتقیاء علیہ وسلم سے ثابت ہیں جو علما از کیا پڑھنے میں۔

جن فرضوں کے بعد نیش ہیں، ان کے بعد مختصر دعا کرنا کا بیان

After the obligatory prayers, making a brief supplication is established from the pious predecessors, who were scholars of the Sunnah.

-ناكمذلوطاًميلاً

:ف:موالاعبداكلحنويرحم الله آبنفتاويملكةبابكراناحاديثسفرزنماز

1509

اِمَّا الْمُؤْمِنِينَ حَضَرَتْ عَلَيْهِمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ سَرَايِتْ بَهْ آبَ فِرْمَاتِيْ يَنْ كَرْسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (جَنْ فَرْضُوْلَ كَبَعْدَ سَنَتِيْنِ بَهُوْتِيْ يَيْنَ) اَنْ كَا سَلا مَكْحِيْرَتَ تَوْ تَحَوْرِيْ دِرْيَالْلُّهُمَّ آُنْتَ الْسَّلا مُ وَ مِنْكَ الْسَّلا مُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلا لِ وَالْاِكْرَامِ" (اَلَّلَّهُ!آَبَپْتَحَامِ عَيْوُبَ اوْرْقِصَانُوْلَ سَپَا كَوَسا لَمْ يَيْنَاوْرْتَحَامْبَنْدُوْلَكوْبَلِيَاتَوَاَفا تَ سَسَلا مْتَرَكْتَ يَيْنَ آَبَپْبَهْتَبَرْكَتْوَا لَيْيَيْنَاَوَوَهْپَا كَذَاتْ! عَظْمَتْوَجَلا لَكَآَپْ،يَمَسْتَقْيَيْنَ) كَمْنَكَيْ

جن فرضوں کے بعد نیش ہیں ان میں فصل کرنے کے لئے

مختصر دعا کرنا کا بیان

After which obligatory prayers there is a nap, it is recommended to make a brief supplication before them.

مقدار بلیتے - (پھر مختصر دعا فرماتے اور سنتوں کے لئے کہتے ہوجاتے -)

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے -)

1510

اِزْرَقَ بْنَ قَيْسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَرَايِتْ بَهْ،وَهْفِرْمَا تَيْيَنْكَرْتَمْيِنَآَکَيْاَما مْ نَ نَمازْپَرْهَا لِيْجَنْمِيْنَابُوْرْمَثَرَضِيَالْلَّهُعَنْهُكَما جَا تَا نَحا (اِزْرَقَكَاپِيَانْبَهْکَرْ) اَبُوْرْمَثَنَکَما کَرْمِيْنَ نَجَمِيْ(آَکَيْدْفَعْ) يَنْمازْنِيْکَرْیِمْصَلِيَالْلَّهُعَلِيْوَسَلَّمْکَسَا تَهْپَرْطَمِيْتَحْيَ،ابُوْرْمَثَرَضِيَالْلَّهُعَنْهُنَیَجِمِیْ فَرْمَايَکْحَضَرَتْابُوْکَبرْوَعْمَرْرَضِيَالْلَّهُعَنْهُمَاْپَلِيْصَفْمِيْرَسُوْلَالْلَّهِصَلِيَالْلَّهُعَلِيْوَسَلَّمْکَسَيْدِمِيْجَا نَبْ کَطَرْبَهْوَنَتَحْ،آَکَشَخْصْتَکْبِيْرْتَحْرْبِیْمْمِيْلَآَکَرْثَرْیِکْنَمازْبَوْا (اَوْرَوْهْمَسْبُوْقْنَحا) نَبِصَلِيَالْلَّهُعَلِيْ وَسَلَّمْنَخَتَمْنَمازْپَرَا پَنْسَيْدْاَوْرَباْمِيْنَجَا نَبْسَلا مْپَحِيْرَاْیَهَا لْتَکْکَرْتَمْیِيْنْحَضْوَرْعَلِيْاَصْلَا وَاَسَلا مْکَرْخَسَارْمَبا رَکْکِسَفْیَرِيْنَظْرَا تِيْ،ابُوْرْمَثَکَتْيَيْنْکَپْحَرْرَسُوْلَالْلَّهِصَلِيَالْلَّهُعَلِيْوَسَلَّمْمِبِرْيَ

طر ح قبل کی طرف سے پھر کر بیٹھ تو وہ شخص جو تبیہ تحریم میں آ کر شریک نماز ہوا تھا (بغیر کسی توقيف کے اور جگہ بدلتے کے) سننین ادا کرنے کے لئے فوراً کہرا ہوگیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جلدی سے اٹھ اور اس شخص کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر بلايا اور فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، امل کتاب اس سبب سے تباہ ہوے کہ وہ فرضون اور سننون کے درمیان (اپنا) فصل نہیں کرتے تھے (جس سے معلوم ہو سکے کہ فرض ختم ہو چکے ہیں اور سننین شروع ہورہی ہیں) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر انہا کردیکے اور ارشاد فرمایے اے ابن الخطاب (تم نے چھ کہا) اللہ تعالیٰ اپنا ئی تمہارے ذریعے لوگوں کی تعریف کریں۔

(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

ف: اس حدیث میں فرض نمازون اور سننون کے درمیان فصل کرنے کا ذکر ہے، فصل کی کیا مقدار ہوتی چاہے اس کو تشریح منیے نے اس طرح بیان کیاہے کہ ای فرض نمازون کے ختم پر جن کے بعد سننین ہوتی اللہُمَّ أَنتَ السَّلامُ وَ مِنكَ السَّلامُ تَبارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالْعُرَامْ “کا پڑھنا ایس کے مقدار کوئی اور مختصر دعا کرنا فصل ہے اس طرح مختصر فصل کرنے کے سننون کا پڑھنا مستون ہے، اگر مختصر دعا کے جاے طویل دعا کی جائے یا دیگر اور اد وظائف پڑھ کر سننون کی ادائی میں دریکی جاے تو اس سے سننین ادا تو ہوجا یعنی کیا کیسننون کے ادا کرنے کا جومسنون وقت ہے وہ ہوتا ہو جائے گا اور تا نہیں کے ساتھ سننون کی اس طرح ادائیگروہ تنزہی ہوگی۔ رواج کاریں کہ اپنے نذکور ہے۔ جن فرائض کے بعد سننین ہیں، ان میں فصل کرنے کے لئے مختصر دعا کرنے کا بیان

It is narrated from Tariq ibn Shihab that

a man who joined the prayer in the state of prostration (without any notice and without changing his place) immediately stood up to perform the Sunnah prayers. Umar (RA) quickly rose and grabbed the man by both shoulders, saying, 'Sit down, O Ibn al-Khattab, the people's recitation was ruined because they did not make a distinction between the obligatory prayers and the Sunnah prayers (so it was not clear when the obligatory prayers ended and the Sunnah prayers began).' At that moment, the Messenger of Allah ﷺ looked at them and said, 'O ibn al-Khattab, you have spoken well; may Allah exalt your status among the people through you.' (This is reported by Abu Dawud.)

In this hadith, mention is made of making a distinction between the obligatory prayers and the Sunnah prayers. The amount of distinction is explained as follows: After the completion of the obligatory prayers, before the Sunnah prayers, one should recite: 'Allahumma anta as-salamu wa minka as-salamu, tabarakta ya dhul-jalali wal-ikram' or any other brief supplication. This brief distinction makes the performance of the Sunnah prayers valid. If a long supplication is made instead of a brief one, or if other acts of worship are performed before the Sunnah prayers, then the Sunnah prayers are still considered valid, but the time for the Sunnah prayers is over, and performing them without the brief distinction is not proper. It is customary to make a brief supplication after the obligatory prayers for which Sunnah prayers are prescribed.

1511

ثوبان رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے ختم پر جب سلام کہیں تو تین دفعہ استغفر اللہ (اللہ تعالیٰ سے میں اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں) کہنے کے بعد اللہُمَّ أَنتَ السَّلامُ وَ مِنكَ السَّلامُ تَبارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالْعُرَامْ فرماتے (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

فرض نماز ول کے بعد جن اذکار کے پڑھنے کا ذکر ہے، اس سے ان کا سننول کے

بعد ادا کرنامراد ہے

Thawban (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) would seek forgiveness three times after finishing his prayer and say:

اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

"O Allah, You are As-Salam, and from You is peace. Blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor." [Narrated by Muslim]

1512

بعدیفرماتے تھے لاالله الاالله وحدۃ لاشریک للہ، له الملک وله الحمد وهو علی

کل شئ قدیر۔ اللہم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد

منک الجد، (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ تنهائے اس کا کوئی شریک نہیں اس کی

اصل حکومت ہے اور اس کو سب تعریف سزاوار ہے، اور وہی مرچیز پر قادر ہے اے اللہ! جب آپ کسی

کو دینا چاہیں تو اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جب آپ کسی کو نہ دینا چاہیں تو اس کا دینے والا کوئی نہیں

اور کسی مالدار کو اس کا مال آپ کے عذاب سے نہیں بچاسکتا۔) (اس کی روايت بخاری اور مسلم میں

متقطر پر کی ہے۔)

فرض نماز ول کے بعد جن اذکار کے پڑھنے کا ذکر ہے، اس سے ان کا سننول کے

بعد ادا کرنامراد ہے، اس پر دوسری حدیث

The recitation of certain remembrances after the obligatory prayer is intended to be performed after their completion. This is indicated by another hadith.

1513

کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا کہ جوشخص مغرب کی (کی سنت کے) اور نماز فجر کے فرض کے

بعد کسی طرف پلی بغير اس حالت میں کہ وہ بیعت نماز پر، اپنے چیروں کو موٹے ہوئے (یعنی تشهد

میں جسیما جیسا تھا اور ساہی جیسا تھا) پیدا عدل بار کہ "لاالله الاالله وحدۃ لاشریک للہ، له

الملک وله الحمد بیدہ الخیر یحیی ویمیت وہو علی کل شئ قدیر"، توہربار کے

کہنے پراس کے لے دس نکیاں کہ دی جائی جیں اور اس کے دس گناہ مطاویہ جائے جیں اور اس کے

وہ دورہ بلند کر دیتے ہیں اور وہ شخص تمام دن بھرا فت و ناپسند یہ چیز اور شیطان مردوں سے

اللہ کی حفاظت و نگہبانی اور امان میں رہتا ہے۔ اور عبادت کے بعد پھر اگر اسے کوئی گناہ ہوجائے تو اس دعا کی برکت سے اس کو توہین تو فیق ہوگی۔ اور وہ اس گناہ کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہوگا۔

ہان آگراس نے اس دعا کے پڑھنے کے بعد شرک کیا (تو اس دعا میں جو تو حیدتی وہ شرک سے زائل

ہوگی اور وہ نذکورہ ثواب سے محروم ہو کر عذاب میں گرفتار ہو جائے گا) اور اس دعا کے پڑھنے والے کے

نیک عمل ان لوگوں کے مقابلے میں جو اس کونہ پڑھتے ہو ل زیادہ کہ جا سکیں گے البته جو شخص اس دعا کو دس

مرتبہ سے زیادہ پڑھ تو اس کے اعمال اس دس مرتبہ پڑھنے والے کے اعمال سے زیادہ ہو ل گے۔

(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)

They raise their voices and that person remains full of anger and aversion all day. This thing and Satan keep him in Allah's protection and safety, and he remains in security. And after the prayer, if he commits any sin, then by the blessing of this supplication, his sin will be forgiven, and he will not be seized by punishment because of that sin. If someone commits shirk after reciting this supplication, then the purity it provides will be nullified, and he will be deprived of the mentioned reward and seized by punishment. The good deeds of the one who recites this supplication will be greater than those of the one who does not recite it. However, if someone recites this supplication more than ten times, his deeds will be greater than those of the one who recites it ten times. (This is narrated by Imam Ahmad.)

1514

اور تمہیں مجھیں ابوذر رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے۔

ف: اس حدیث میں صلاۃ مغرب کے بعد نذکورہ دعا پڑھنے کا جو ذکر ہے پہلے صلاۃ مغرب

سے مراد فرض میں سنت ہے کیونکہ صلاۃ مغرب کا اطلاق فرض اور سنت دونوں پر ہوتا ہے اس لے اس

دعا کو پڑھنے والا مغرب کی وسنتوں کے پڑھنے کے بعد پیٹ نماز پڑی جسے کروہ تشهد میں بیٹھتا ہوا

ویسے بیٹھے ہوئے پیدعا پڑھے البتہ فجر کے فرض کے بعد چوکس سنن نماز پڑی اس لے فجر کے فرض

کے بعد مجھیسی حالت میں بیٹھے ہوئے پیدعا پڑھے۔

اور تم غیب وترہیب میں نسائی کی جو روایت نذکورہ اس میں بجاے مغرب کے عصر کا ذکر ہے۔

اس لے فجر اور عصر کے فرض کے بعد اس پیٹ نماز پڑی دعا پڑھی جاتے تو اس کے پڑھنے والے کو

نذکورہ ثواب حاصل ہو گا۔ (اعلاء اسنن)

فرض نماز ون کے بعد جن اذکار کے پڑھنے کا ذکر ہے اس تے الکاسنتوں کے بعد ادا

کرنامراد ہے اس پرتیری حدیث

And you have narrated to me from Abu Dharr (RA) as follows:

In this hadith, the mention of reciting the following supplication after the Maghrib prayer refers to the obligatory or the Sunnah prayer, since the term 'Maghrib prayer' applies to both. Therefore, one should recite this supplication after performing the Sunnah prayers of Maghrib and then sitting down in the last unit of the prayer, which is the tashahhud. One should sit and recite the supplication while seated. As for Fajr, after the obligatory prayer, one should perform the confirmed Sunnah prayer and then sit down to recite the supplication. In the narration mentioned by Nasa'i, instead of Maghrib, the term 'Asr' is used. Therefore, if one recites this supplication after the obligatory and Sunnah prayers of Fajr and Asr, they will receive the mentioned reward. (Al-'Aala Al-Sunan)

The mention of recitations after the obligatory prayers refers to their recitation after the Sunnah prayers.

1515

نماز ول کے بعد سُبْحان الله، الْحَمدُ للہ اور اللہُ أَکْبَرُ پڑھنے کی فضلیت

کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پڑھو الفاظ فرض نماز کے بعد پڑھنے کے بین جن کا پڑھنے والا (جنت اور ثواب سے) محرم نہیں ہوسکتا وہ الفاظ یہیں کہ برفرض نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحان اللہ، تینتیس بار الْحَمدُ للہ اور چونتیس بار اللہُ أَکْبَرُ پڑھنا چاہئے - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

ف: اس حدیث میں فرض نماز ول کے بعد جن تسپیحات کے پڑھنے کا ذکر ہے اس سے فرض کے بعد سننول سے پہلے یا ان تسپیحات کا پڑھنا مراد ہے بلکہ سننول کے بعد ان تسپیحات کو پڑھنا چاہئے کیونکہ سنن فراض کے لواحق تو ان کا عمل کے پیش یا پیچے کرنا چاہئے۔ اس لیے اگر سنن کے بعد پڑھنا جانا گویا فرض کے بعد یا پڑھنا جانے ہے، مگر مجھے کہ جو پیچیس سننول کے بعد پڑھی جانے والے متعلق یہ پڑھنا جاتا ہے کہ وہ فراض کے بعد پڑھی جائے گا۔ (رواحیار)

Ka'b bin 'Ujrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There are some acts of remembrance after every obligatory prayer that will not cause the one who says or does them to be disappointed: thirty-three Tasbeeh (سبحان الله), thirty-three Tahmeed (الحمد لله), and thirty-four Takbeer (الله اكبر)." [Narrated by Muslim]

In the explanation of "Al-Munyah": The statement of 'Aisha, "The amount he used to say, etc." indicates that it is not meant that he (the Prophet) used to say exactly that, but rather he would sit for a while, glorifying Allah approximately that amount or something similar. This is because the mentioned amount is approximate and not precise, so it does not contradict what is in these hadiths.

1516

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ایک بار) چند فقراء مهاجرین نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت کے) بڑے بڑے درجات اور لا زوال نعمت کے حصول میں دولت مندلگ (صدقہ اور نذرات کی وجہ سے) تم سبقت لے گے، فرمایے طرح؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت جس طرح تعم نماز پڑھتے ہیں پڑھتے ہیں، جس طرح تم روزے رکتے ہیں پڑھتے ہیں، مگر نذرات کرتے ہیں اور تم نذرات نہیں کرتے، مغلام، بندی آزاد کرتے ہیں اور تم نہیں کرتے تو حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایے تم کو ایسی بات بتاتا ہوں کہ جس پر عمل کر کے تم ثواب حاصل کر نے میں آپنے آگے برہم جانے والوں کے پیچھے جاوگے اور پیچھے رہنے والوں میں سے کوئی شخص تمہاری برابری کو پیچھے سے کا اور کوئی شخص تم سے افضل نہ ہوگا، مگر جو تمہاری طرح کرے گا وہ تمہارے برابر ہو جائے گا مہاجرین نے عرض کیا کہیں بال یا رسول اللہ ضرور فرمائیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمايتم بنماز کے بعد تننتیس بار سُبْحان اللہ، تینتیس بار اللہم د للہا ور چونتیس بار اللہ اکبر پڑھا کر وابوصاح راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ پگھزمانہ بعد فقراء مهاجرین پھر رسول اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے کہ ہمارے دولت مند بجاپیون کو ہمارے اس عمل کا پتہ چل گیاہے اور وہ مجھی ہماری طرح ان تسپیحات کو پڑھنے لگے ہیں (اب تم کیا کریں؟) اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیتو خدا داد فضل سے خدا جس کو چاہتا ہے مرفر از فرما تا ہے - (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے-) ابوصاح راوی کا قول "آخرتک" نہیں ہے سواے مسلم کے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the poor among the Muhajireen came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: "The wealthy have taken the highest ranks and eternal bliss." He asked, "How is that?" They replied, "They pray as we pray, fast as we fast, but they give in charity, and we do not, and they free slaves, and we do not." The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "Shall I not teach you something by which you can catch up with those who have preceded you and surpass those who come after you, and no one will be better than you except those who do the same as you?" They said, "Yes, O Messenger of Allah." He said, "Say سبحان الله, الحمد لله, and الله اكبر thirty-three times after every prayer."

Abu Salih said: The poor Muhajireen returned to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said, "Our wealthy brothers heard what we did and did the same." The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "That is the favor of Allah, which He gives to whom He wills." [Agreed upon]

The statement of Abu Salih to the end is only found in Muslim. In a narration by Al-Bukhari: "Say سبحان الله ten times, الحمد لله ten times, and الله اكبر ten times after every prayer, instead of thirty-three."

1517

نماز ول کے بعد سُبْحان الله، اللحمد للہ اور اللہ اکبر پڑھنے کی فضیلت پر

اور بخاری کی ایک روایت میں تننتیس کے بجائے دس مرتبہ سجعان اللہ اور دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہنا بھرفرض نماز کے بعد ذکر ہے۔

دوسری حدیث

And in one narration of Bukhari, it is mentioned that after completing the obligatory prayer, one should say 'Subhan Allah' ten times, 'Alhamdulillah' ten times, and 'Allahu Akbar' ten times.

1518

نماز ول کے بعد سُبْحان الله، اللحمد للہ اور اللہ اکبر پڑھنے کی فضیلت پر

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز کے بعد چونتیس بار سُبْحان اللہ، تینتیس بار اللحمد للہ اور تننتیس بار اللہ اکبر پڑھے گا تو پیشناوے وفعہوے اورسوی تکمیل کے لے ایک بار لا الہ الا اللہ و حُدہ لا شریک لہ لہ الملک و لہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر " کہ گا تو اس کے کل گناہ معاف کردیا جائے گا اگر چوہ سمندر کے کف کے برابر ہوں - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)

تیسری حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever glorifies Allah thirty-three times, praises Allah thirty-three times, and magnifies Allah thirty-three times after every prayer, that makes ninety-nine. And to complete one hundred, say:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

(There is no god but Allah alone, with no partner, to Him belongs the dominion and praise, and He is over all things competent). His sins will be forgiven, even if they are like the foam of the sea." [Narrated by Muslim]

1519

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ تم کو کہم دیاگیا

پڑھاکر یہ، اس کے بعد ایک انصاری کے خواب میں فرشتے نے آکر پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بر نماز کے بعد اتنی بار سُبْحَانَ اللہ اور اتنی بار اللہمدد للہ، اور اتنی بار اللہ أکبر پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ ان انصاری نے خواب میں جواب دیا کہ بالا ایسے حضور علیہ السلام کا حکم ہوا ہے، پیس کو خواب میں اس فرشتے نے کہا کہ ان تینوں کلمات کی تعداد کو (25،25) بار کر لواور اس میں (25) بار لااللہ الااللہ کا جو اضافہ کرواس طرح پسوہوئے) جب صحہوی تو انصاری نے رسول اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکراپنا خواب سنا اتو رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بالا اس پڑھی عمل کرو تو بہتر ہے۔

(اس کی روایت امام احمد، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔)

Zaid bin Thabit (may Allah be pleased with him) narrated: "We were commanded to say سبحان الله thirty-three times, الحمد لله thirty-three times, and الله اكبر thirty-four times after every prayer. Then a man from the Ansar saw a dream in which he was told, 'Did the Messenger of Allah (peace be upon him) command you to say سبحان الله, الحمد لله, and الله اكبر after every prayer?' The Ansari said in his dream, 'Yes.' He was told, 'Make it twenty-five and include the Tahlil (لا اله الا الله) twenty-five times.' When he woke up, he went to the Prophet (peace be upon him) and informed him. The Messenger of Allah (peace be upon him) said, 'Do so.'" [Narrated by Ahmad, Al-Nasa’i, and Al-Darimi]

نماز کے بعد پڑھاجانے والے ایک تعویز
1520

سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے میٹھے کوئی کلمات سکھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد (زیل میں آنے والی چیزوں کے ان الفاظ میں پڑاہ ماگئے تھے، اللہم اِنی اعوذبک من الجبن واعوذبک من البخل واعوذبک من ارذل العمر واعوذبک من فتنۃ الدنیا وعذاب القبر، (اے اللہ! مجھے بزدلی اور کہمتی سے پچایے، اے اللہ مجھے بخل سے پچایے اپیانہ ہوکے میں مال خرچ کرنے کی جلد خرچ نہ کرلے اور اپیانہ ہوکے لوگوں کو علم پہنچانے میں کوتاہی کرلے اور اپیا ہوکے جہالت میں خیر خواہی کرنے سے میں آپ خیر خواہی نہ کرلے، اے اللہ! مجھے اپی عمر کو پہنچایے کہ جس میں قوت ناکارہ ہوجانے سے میں آپ کی عبادت نہ کرسکون، اے اللہ! مجھے دنیا کے فتنے سے پچایے کر دنیا میں زیب و زینت کے ساتھ میرے سامنے آکر میرا دل بجھانے اور آخرت کو بجلادے، اے اللہ! مجھے قبر کے عذاب سے پچایے

کہ مجھے ایسے کام نہ ہول جن کی وجہ سے قبر میں عذاب ہو نے گے۔

(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)

It is narrated from Sād (RA) that he used to teach his sweet words and said that the Messenger of Allah ﷺ would recite the following after prayer: 'O Allah, I seek refuge in You from cowardice, miserliness, a lowly age, the trials of this world, and the punishment of the grave. O Allah, protect me from cowardice and miserliness, so that I do not become timid and miserly, and do not spend my wealth hastily or fall short in imparting knowledge to people, and do not desire goodness while being ignorant. O Allah, grant me an age in which I can still worship You with strength, and protect me from the trials of this world, which come with its allurements to corrupt my heart and blind me to the Hereafter. O Allah, protect me from the punishment of the grave, so that I do not commit deeds that will cause me to be punished in the grave.'
نماز ول کے بعد معوّز تین پڑهن کا بیان
1521

عَقْبَ بن عامر رضي اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں بر نماز کے بعد "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَق" اور "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" کی سورتوں کو پڑھ لیا کروں۔

(اس کی روایت امام احمد ابوداووداورنسائی نے کی ہے اور تہقی نے کچھ الدعوات اكبری میں اس کی روایت کی ہے۔)

Imam Ahmad, Abu Dawud, and Nasa'i have narrated this. Tuhfa has narrated some supplications related to this in Al-Du'awat Al-Kubra.

نماز ول کے بعد اورسوت وقت آئے اکری پڑهن کی فضیلت
1522

حضرت علی رضي اللہ عنه سے روايت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم کو اس منبر پر طرف کر فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص آئت اکبری کو بر نماز کے بعد پڑھتا ہے تو اس کے لے جنت میں داخل ہو نے سے موت کے بعد قبر میں رہنے کے سوا کوئی اور چیز نہ ہوگی (جب قبر سے اٹھ کا تو جنت میں داخل ہو جائے گا اور قیامت کے سب تکالیف سے محفوظ رہے گا) اور جو شخص سوت وقت بستر پر لیٹ کر آئت اکبری پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معم اس کے گھر کے آفات و بلیات سے محفوظ رکھے ہیں اور اسی طرح اس کے پڑوس کے گھر کو اور اس کے اطراف کے گھر والوں کو بھی آفات و بلیات سے محفوظ رکھیں گے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر طرف کر فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص آئت اکبری کو بر نماز کے بعد پڑھتا ہے تو اس کے لے جنت میں داخل ہو نے سے موت کے بعد قبر میں رہنے کے سوا کوئی اور چیز نہ ہوگی (جب قبر سے اٹھ کا تو جنت میں داخل ہو جائے گا اور قیامت کے سب تکالیف سے محفوظ رہے گا) اور جو شخص سوت وقت بستر پر لیٹ کر آئت اکبری پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معم اس کے گھر کے آفات و بلیات سے محفوظ رکھے ہیں اور اسی طرح اس کے پڑوس کے گھر کو اور اس کے اطراف کے گھر والوں کو بھی آفات و بلیات سے محفوظ رکھیں گے۔

(اس کی روایت تہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)

ف: اس حدیث ثریف میں صلاة، لیعنی نماز کے بعد آئت اکبری پڑھنے کا ذکر ہے اور صلاۃ کا اطلاق فرض اور سنن دونوں پر ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ آئت اکبری کو سنن کے بعد پڑھنا چاہئے۔

پڑھناچاہے۔ (رداحکام)

فجراورعصرکےبعدذكرمیںبیٹھنےکیفضیلت

اس رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ن ارشاد فرمایا: (فرض کرو کر حضرت امام علی علیہ السلام کی اولاد غلام توگیا ہے تو ثرافتنہیں کی وجہ

سے ان کو آزاد کرنا بہت برے ثواب کی بات ہے مگر جب حضرت امام علی علیہ السلام کی اولاد کے چار

غلام آزاد کرنے سے یہ بات زیادہ پسندہ کر میں نماز نے کے بعد طوع آفات کے ان لوگوں

کے ساتھ بیٹھارہوں، جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں (اس طرح) مجھے چار غلام آزاد کرنے

سے یہ بات زیادہ پسندہ کر میں نماز عصر کے بعد غروب آفات کے ان لوگوں کے ساتھ بیٹھارہوں

جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)

نماز فجر کے بعد ذکر میں بیٹھنے کی فضیلت

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے

نجر کی جانب ایک فونج روانہ فرمایا اس فونج نے مہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور مہت جلد واپس آگئی

تم میں سے ایک ایسے شخص نے جواس فونج کے ساتھ میں گیا تھا کہا تم نے اس شکر کے زیادہ کی شکر کو

انتاجلدی واپس آئے اور اتنا زیادہ مال غنیمت لائے تھے اس کی حالت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا

میں تم لوگوں کو اس جماعت کا پتہ نہ دیتا لیکن مال غنیمت لوٹنے میں بہتر اور واپس ہو نے میں اس

سے کچھ تیزتر ہو؟ (لوسنو) پروہ لوگ بین جوح کی نماز میں حاضر ہوں (یعنی صح کی نماز جماعت ہے

پر حسین ) پھر بیٹھ کر آفات ب طلوع ہو نے تک اللہ کا ذکر کر نے رہیں تو یلگ اس سے جلد و اپس آنے

والے اور بہتر مال غنیمت حاصل کرنے والے ہیں ( کیونکہ ان لوگوں کو متاع و نیا باتوں کی اور وہ فانی

سے اور ان کو خوزی و ریمیں بہت ثواب عقیبی حاصل ہوااور وہ باقی ہے۔)

(اس کی روایت تنزیل کی ہے۔)

نماز فجر کے بعد ذکر میں بیٹھنے اور اشراق پڑھ کر اٹھنے کی فضیلت

اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے فرما کر جس نے فجر کی نماز جماعت سے ادا کی پھر مسجد میں بیٹھ کر سورنگ نکلنے تک اللہ کا ذکر

کرتا رہا ( پھر سورنگ کے ایک نیزہ بلند ہو نے پر ) دو رکعت نماز پڑھ لی تو اس کو ایک نج اور ایک عمر ہے کا

ثواب مل گا، اس رضی اللہ عنہ نے فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کر اس کو پورے

نج اور عمر کا ثواب مل گا اس کو پورے نج اور عمر کا ثواب مل گا اس کو پورے نج اور عمر کا

ثواب مل گا۔ (اس کی روایت تنزیل کی ہے۔)

This hadith mentions reciting the Great Verse after prayer, which includes both obligatory and supererogatory prayers. It indicates that the Great Verse should be recited after the supererogatory prayers. It is also mentioned that sitting in remembrance after Fajr and Asr prayers is meritorious.

1523

اس رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ن ارشاد فرمایا: (فرض کرو کر حضرت امام علی علیہ السلام کی اولاد غلام توگیا ہے تو ثرافتنہیں کی وجہ

سے ان کو آزاد کرنا بہت برے ثواب کی بات ہے مگر جب حضرت امام علی علیہ السلام کی اولاد کے چار

غلام آزاد کرنے سے یہ بات زیادہ پسندہ کر میں نماز نے کے بعد طوع آفات کے ان لوگوں

کے ساتھ بیٹھارہوں، جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں (اس طرح) مجھے چار غلام آزاد کرنے

سے یہ بات زیادہ پسندہ کر میں نماز عصر کے بعد غروب آفات کے ان لوگوں کے ساتھ بیٹھارہوں

جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)

نماز فجر کے بعد ذکر میں بیٹھنے کی فضیلت

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Sitting with a group of people who remember Allah from the Fajr prayer until sunrise is more beloved to me than freeing four slaves from the descendants of Isma'il. And sitting with a group of people who remember Allah from the Asr prayer until sunset is more beloved to me than freeing four slaves." [Narrated by Abu Dawud]

Ibn Al-Malik said: The freeing of slaves is obligatory and specific.

1524

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے

نجر کی جانب ایک فونج روانہ فرمایا اس فونج نے مہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور مہت جلد واپس آگئی

تم میں سے ایک ایسے شخص نے جواس فونج کے ساتھ میں گیا تھا کہا تم نے اس شکر کے زیادہ کی شکر کو

انتاجلدی واپس آئے اور اتنا زیادہ مال غنیمت لائے تھے اس کی حالت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا

میں تم لوگوں کو اس جماعت کا پتہ نہ دیتا لیکن مال غنیمت لوٹنے میں بہتر اور واپس ہو نے میں اس

سے کچھ تیزتر ہو؟ (لوسنو) پروہ لوگ بین جوح کی نماز میں حاضر ہوں (یعنی صح کی نماز جماعت ہے

پر حسین ) پھر بیٹھ کر آفات ب طلوع ہو نے تک اللہ کا ذکر کر نے رہیں تو یلگ اس سے جلد و اپس آنے

والے اور بہتر مال غنیمت حاصل کرنے والے ہیں ( کیونکہ ان لوگوں کو متاع و نیا باتوں کی اور وہ فانی

سے اور ان کو خوزی و ریمیں بہت ثواب عقیبی حاصل ہوااور وہ باقی ہے۔)

(اس کی روایت تنزیل کی ہے۔)

نماز فجر کے بعد ذکر میں بیٹھنے اور اشراق پڑھ کر اٹھنے کی فضیلت

Umar bin Al-Khattab (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) sent an expedition towards Najd, and they returned quickly with abundant spoils. A man among us who did not go out said, "We have never seen an expedition return faster or with greater spoils than this one." The Prophet (peace be upon him) said, "Shall I not guide you to people who have a faster return and greater spoils? They are those who attend the Fajr prayer in congregation, then sit remembering Allah until the sun rises. They are the ones with the fastest return and greatest spoils." [Narrated by Al-Tirmidhi, who said: This is a Gharib Hadith]

1525

اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے فرما کر جس نے فجر کی نماز جماعت سے ادا کی پھر مسجد میں بیٹھ کر سورنگ نکلنے تک اللہ کا ذکر

کرتا رہا ( پھر سورنگ کے ایک نیزہ بلند ہو نے پر ) دو رکعت نماز پڑھ لی تو اس کو ایک نج اور ایک عمر ہے کا

ثواب مل گا، اس رضی اللہ عنہ نے فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کر اس کو پورے

نج اور عمر کا ثواب مل گا اس کو پورے نج اور عمر کا ثواب مل گا اس کو پورے نج اور عمر کا

ثواب مل گا۔ (اس کی روایت تنزیل کی ہے۔)

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays Fajr in congregation, then sits remembering Allah until the sun rises, and then prays two Rak'ahs, will have a reward like that of Hajj and Umrah." He said, "The Messenger of Allah (peace be upon him) said, 'Complete, complete, complete.'" [Narrated by Al-Tirmidhi]