(یہ باب قعدہ میں (تشهد اور درود کے بعد) دعا کرنے کے بیان میں ہے)
قال اللہ عز و جل: "وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ" اللہ تعالیٰ کا
ارشاد ہے (سورۃ غافر 26ء24 میں) (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) آپ نماز میں ہونے یا غیر نماز
میں) اپنے گناہوں سے جو صورت گناہ پس مغفرت ماگئے اور مسلمان مرد ون اور عورتوں کے واقعی
گناہوں سے بھی مغفرت ماگئے۔
ف: گناہ واقع ہو تو ایک تو واقعی گناہ ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی
ہے، دومرا گناہ پیش کر صورت تو گناہ کی ہے واقع میں گناہ نہیں بلکہ فضل عمل ترک کر کے جو فضل نہیں
ہے اس کو اختیار کیا گیا ہے ایسے وسط مقریین کا فضل کام کو چھوڑ کر غیر فضل کام کا اختیار کرنا ان کے درجہ
کے لحاظ سے گناہ سمجھا جاتے گا خلاف اس کے جیسے عمل اگر عوام کریں وہ ان کے لئے گناہ نہیں بلکہ
عبادت ہی ہو گا، اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ حسنات الابرار سیئات المقربین (بعض وقت
نیوں کی نمازل مقریین کیلئے گناہ ہوجاتی ہیں) جیسے ایک دن کا واقعہ ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت اقدس میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ناپینا صحابی آگے اس وقت حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فروکو
اسلام کی حقانیت کے جواب میں تھا ایسے وقت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں دخل دے کر خود پچھا پوچھنے
گیا، حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوناگوار ہوا اور واقعہ سورہ "عبس" میں ذکور ہے، اب طاہر ہے کہ ایک
طرف مسلمان ہوا اور دوسرا طرف کافر ہوتا اس وقت مسلمان کے فرعی سوال کے جواب کولتوی کر کے
اس کافر کو اصل دین کی دعوت دینا کون نہیں جانتا کہ عبادت ہے؟ مگر اس کا فائدہ یقینی نہ ہوتا۔
فضل نہیں ہے اور مسلمان کے سوال کا جواب دے کر مستند سمجھانا یہی عبادت ہے اور اس کا فائدہ یقینی
ہوتا کی وجہ یا فضل ہے، مسلمان کو چھوڑ کر کافر کو فیم کرنا گو فضل نہیں مگر اور ول کیلئے گناہ تو نہیں
مگر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے جی عمل صورت گناہ سمجھا گیا اس لئے یا اور اس طرح کے غیر فضل امور جو
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتهاد اصادرہوئے جس اگرچہ کروہ مجھی عبادت پینگر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
کی شان کے لحاظ سے ان کوگناہ سمجا گیااور حکم کیاگیا کراے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپاپنے گناہوں سے
جوصورتاً گناہ پین مغفرت ماگلنے اور مسلمان مردون اور عورتوں کے واقعی گناہوں سے بھی مغفرت
ماگئے۔(بیان القرآن)
وقال اللہ عزّ و جلّ "رَبِّ اغْفِرْ لِى وَلِوَالِدَى وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِى مُؤْمِناً وَ
لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ" اوراللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورہ نوح پ29ع2م) (اے میرے
پروردگار مجھکو اور میرے مال باپ کو اور جو شخص ایمان لاکر میرے گھر میں پناہ لینے آیاہے اس کو اور عام با
ایمان مردون کو اور با ایمان عورتوں کو خش و تکبر)
قعدہ اخیرہ میں تشهد اور درودشریف کے بعد پڑھی جانے والی دعا ہے
This chapter deals with the expression of supplication in Qadeh (after Tashahhud and Darood).
Allah, the Exalted, says: "And seek forgiveness for your sins and for the believing men and women" (Surah Ghafir 40:26-27). This is the guidance of Allah, the Most High, addressed to the Prophet ﷺ, that whether in prayer or outside of it, you should seek forgiveness for your sins, which involve disobedience to Allah, and also seek forgiveness for the actual sins of Muslim men and women.
It is stated: When a sin occurs, there are two types: one is the actual sin, which involves disobedience to Allah; the other is the apparent sin, which is not actually a sin but rather the omission of a meritorious act. For the righteous, choosing a less meritorious act over a more meritorious one is considered a sin in their context. Conversely, what might be a sin for the righteous could be an act of worship for the common people. Hence, it is said that the good deeds of the righteous are the sins of the near ones (some acts that are sins for the near ones are acts of worship for the common people).
For example, there was an incident where Ibn Umm Maktum (RA), a blind Companion, approached the Prophet ﷺ while he was delivering the message of Islam to some non-believers. Ibn Umm Maktum (RA) said, 'I will interrupt and ask my question.' The Prophet ﷺ was displeased, and this incident is mentioned in Surah 'Abasa. It is clear that on one side was a Muslim, and on the other side were non-believers. At that time, neglecting the secondary question of a Muslim to invite a non-believer to the true faith, though it is an act of worship, might not have been beneficial. However, answering the Muslim's question and clarifying matters for him is an act of worship with certain benefits, and thus it is meritorious. Neglecting the Muslim to focus on the non-believer, though not a sin for others, was considered an apparent sin for the Prophet ﷺ. Therefore, such non-meritorious actions, which are not sins for others, were considered apparent sins for the Prophet ﷺ.
The Prophet (peace be upon him) made an effort (ijtihad) which, although it was worship, was considered a sin due to his exalted status, and he was commanded to seek forgiveness for his sins as if they were actual sins, and also to seek forgiveness for the real sins of Muslim men and women. (Bayan al-Quran)
And Allah, the Exalted and Glorious, says: 'My Lord, forgive me and my parents and whoever enters my house as a believer, and the believing men and women.' And the command of Allah, the Most High, is (Surah Nuh, verse 28): (O my Lord, forgive me and my parents and whoever enters my house as a believer, and the believing men and women.)
This is the supplication recited after the tashahhud and the noble salutations in the final sitting of the prayer.
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی پین کہ رسول
صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (تشهد اور درود کے بعد سلام پہیرنے سے قبل) پر دعا پڑھا کرتے تھے،
"اللہُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَ
أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتنَةِ الْمَحِیَا وَفِتنَةِ الْمَماتِ اللہُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَمِنَ
الْمَغْرَمِ" اے اللہ! میں عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں (نے اس سے پچایے) اور میں
کا نے دجال کے فتنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں (نے اس سے پچایے) اور میں آپ کی پناہ میں
آتا ہوں زندگی کے فتنوں سے اور موت کے فتنوں سے۔ (نے ان سے پچایے) اے! میں آپ کی
پناہ میں آتا ہوں گناہوں میں بھتلا ہو نے سے اور قرض میں پھنسے سے (نے ان سے پچایے۔)
ایک شخص نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرض سے بہت پناہ مانگ کرتے پین
اس کی کیا وجہ ہے؟ تو حضرت علی الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: بات یہ ہے کہ آدمی جب قرض میں بھتلا
ہوجاتا ہے تو ادائی میں جودری ہوتی ہے اس کی وجہ سے جھوٹ بولنے لگتا ہے اور قرض کی ادائیگی کا جو
وعدہ کرتا ہے اس کو پورا نہیں کرتا۔ (اس کی روايت بخاري اور مسلم میں متفق طور پر ہے۔)
قدہ اخیرہ میں درود شریف کے بعد جس چیز ول سے پناہ ماںگنے کا حکم ہوا ہے، ان کا بیان
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to supplicate in prayer, saying: "O Allah, I seek refuge in You from the punishment of the grave, and I seek refuge in You from the trial of the False Messiah, and I seek refuge in You from the trials of life and death. O Allah, I seek refuge in You from sin and debt." Someone said to him, "Why do you so frequently seek refuge from debt?" He replied, "When a person is in debt, he speaks and lies, and he makes a promise and breaks it." [Agreed upon]
ابوبهریه رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص (نماز کے آخری قدہ میں) تشهد (اور درود سے
فارغ ہو جائے) تو اللہ تعالیٰ سے پناہ ماںگ کرو اس کوان چار چیزوں میں مبتلا ہو نے سے پچائے-
(1) جہنم کے عذاب سے، (2) قبر کے عذاب سے، (3) زندگی اور موت کے فتنوں سے
اور (4) کانے دجال کے شر سے-
(اس کی روایت مسلم میں ہے۔)
قدہ اخیرہ میں درود شریف کے بعد پڑھی جانے والی دعا
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you finishes the final Tashahhud, let him seek refuge in Allah from four things: from the punishment of Hell, from the punishment of the grave, from the trials of life and death, and from the evil of the False Messiah." [Narrated by Muslim]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح صحابہ
کرام کو قرآن کی سورتین سکھا کرتے تھے اس طرح پڑھا بھی سکھا تے تھے۔ (تا کہ قدہ اخیرہ میں تشهد
اور درود کے بعد اس کو پڑھا کرتے تھے۔)
"اللہم اِنی اعوذُ بکَ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ وَ اعوذُ بکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اعوذُ
بکَ مِنْ فِتنَةِ الْمَسیحِ الدَّجَالِ وَ اعوذُ بکَ مِنْ فِتنَةِ الْمَحیَا وَ فِتنَۃِ الْمَماتِ" ابی
میں آپ کی پناہ میں آتا ہو لے جہنم کے عذاب سے (مجھے اس سے پچائے) اور میں آپ کی پناہ میں آتا
ہو لے قبر کے عذاب سے (مجھے اس سے پچائے) اور میں آپ کی پناہ میں آتا ہو لے کانے دجال کے
فتنہ سے (مجھے اس سے پچائے) اور میں آپ کی پناہ میں آتا ہو لے زندگی اور موت کے فتنوں سے-
(مجھے ان سے پچائے۔)
(اس کی روایت مسلم میں ہے۔)
قعدہ آخرہ میں درودشریف کے بعد پڑھی جانے والی ایک اور دعاء
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) used to teach them this supplication just as he taught them a chapter of the Quran. He would say: "Say: O Allah, I seek refuge in You from the punishment of Hell, and I seek refuge in You from the punishment of the grave, and I seek refuge in You from the trial of the False Messiah, and I seek refuge in You from the trials of life and death." [Narrated by Muslim]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسی کوئی دعا سیکھائیے جس کو میں نماز میں (تشهد اور درود کے بعد پڑھا کروں) تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو: "اللّٰہُمَّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِىْ ظُلْمًا كَثِیرًا وَّ لَا یَغْفِرُ الدُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْ لِىْ مَغْفِرَةً مِّنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِىْ اِنَّكَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ"، اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کر کے گناہ کیا ہے اور آپ کے سوا کوئی گناہوں کا معاف کرنے والا نہیں ہے، اس لے آپ سے عوض کرد باہول کرآ پاپ کے محض اپے فضل و کرم سے میرے گناہ معاف فرمادیں اور مجھے پردہم دیں، ایا پا کی شان سے لعیدین کیونکہ آپ بہت مغفرت کرنے والے ہیں اور بہت رحم کرنے والے ہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے)
قعدہ آخرہ میں درودشریف کے بعد پڑھی جانے والی ایک اور دعاء
Abu Bakr As-Siddiq (may Allah be pleased with him) said: I said, "O Messenger of Allah, teach me a supplication to say in my prayer." He said: "Say: O Allah, I have wronged myself greatly, and no one forgives sins except You, so forgive me with forgiveness from You and have mercy on me. Indeed, You are the Forgiving, the Merciful." [Agreed upon]
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا سنومعاذ! اس میں پھر شک نہیں کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے مال بابآ پ پر قربان) مجھے مجھی سب سے زیادہ حضور سے محبت ہے، اس پر حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا معاذ! میں تم کو بتا دتا ہے محبت ایک دعا سکھا تاہوں) اس کو تم نماز کے آخر میں (تشهد اور درود کے بعد ضرور پڑھا کرو اور مجھے ترک نہ کرنا (وہ دعا یہ ہے) "رَبِّ أَعِنِّىْ عَلَى ذِکْرِكَ وَشُکْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ" اے میرے پروردگار میری مدد کیجے کہ میں آپ کا ذکر اور شکر کمیش کیا کروں اور آپ کی عبادت ایسی
کیا کرول کرگویمیس آپ کو کیہر باہول اگراپیانہہوسکتوکم ازکم اس خیال سے عبادت کیا کرول
کرآپ پچھد کرہے ہیں۔(اسکی روایت امام احمد، ابوداووداورنسائی نے کی ہے۔)
قدہا خیرہ میں درودشریف کے بعد پڑھی جانے والی ایک اور دعاے
Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) took his hand and said: "O Mu'adh, I truly love you." I said, "And I love you, O Messenger of Allah." He said: "Do not forget to say after every prayer: O Lord, help me to remember You, to thank You, and to worship You in the best manner." [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Al-Nasa’i, except Abu Dawud did not mention: "Mu'adh said, 'And I love you.'"]
شدادبن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نماز میں (تشهد اور درود کے بعد) یادعا پڑھا کرتے تھے۔ اللہُمَّ اِنِّیْ أَسْئَلُكَ
الثَّبَاتَ فِی الْأَمْرِ وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ وَأَسْئَلُكَ شُکْرَ نِعْمَتِكَ وَ حُسْنَ عِبَادَتِكَ
وَأَسْئَلُكَ قَلْباً سَلِیماً وَلِسَاناً صَادِقاً وَأَسْئَلُكَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ
شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، اے اللہ! میں آپ سے مانگتا ہوں کہ پمجھودین پر
استقامت اور ثابت قدی عطا کیجئے اور آپ سے یہی مانگتا ہوں کہ آپ کی نغمتوں پر شکر کی تو فیق ہو اور آپ سے کی عبادت ایسی
ہمت سے جمارہوں اور پیچھی مانگتا ہوں کہ آپ کی نغمتوں پر شکر کی تو فیق ہو اور آپ سے کی عبادت ایسی
کرول جس کو آپ پسند فرما ئیں، اے میرے اللہ! میں آپ سے قلب سلیم مانگتا ہوں جو برے عقائد
اور برے اخلاق سے پاک ہو، اور ایک زبان مانگتا ہوں کہ جب کہہ پچ کہہ، اے اللہ! میں پکھیئیں
جانتا آپ کو ہر چیز کی خبر ہے آپ جس کو میرے لیے خیر چاہتے ہیں وہ دتے اور جس چیز کو آپ میرے لیے
لے شر چاہتے ہیں مجھے اس سے پاچیے، اے میرے اللہ! میں گناہ کیا اور بھول گیا میرے سب گناہوں
کی آپ کو خبر ہے ان سب گناہوں کو جن کو آپ جانتے ہیں خش دتے۔
(اسکی روایت نسائی نے کی ہے اور امام احمد نے کچھ اس طرح روایت کی ہے۔)
قدہا خیرہ میں درودشریف کے بعد کچھ پیالافاظ کچھ پڑھے گے ہیں
Shaddad ibn Aws (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to say in his prayer: "O Allah, I ask You for steadfastness in faith, determination in guidance, gratitude for Your blessings, and excellence in worship. I ask You for a sound heart and a truthful tongue. I ask You for the best of what You know, and I seek refuge in You from the worst of what You know. I seek Your forgiveness for what You know." [Narrated by Al-Nasa’i, and Ahmad narrated something similar]
جابر رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے نماز میں تشهد (اور درود کے) بعد (بعض وقت) پیالافاظ کچھ پڑھے ہیں، احسنُ الکلامِ کلامُ
اللہ و احسن الهدی ہدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب کلامول سے بہتر کلام،
الدکا کلام سے اور سب طریقون سے بہتر طریقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سے-
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)
ختم نماز پرسالم پچیرے کامصنون طریقہ
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to say in his prayer after Tashahhud: "The best of speech is the speech of Allah, and the best of guidance is the guidance of Muhammad." [Narrated by Al-Nasa’i]
عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا
کہ (ختم نماز پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پچیرے نامری نظرول کے سامنے سے مجھے خوب یاد
ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سیدے طرف اور پچیرے باشین طرف سلام کے وقت پچیرے مبارک کو اتنا
پچیرے تے تک پچپے والول کو آپ پ کے رخصار مبارک کی سفیدی نظرآجاتی تھی -(اس کی روایت مسلم
نے کی ہے-)
نماز کو دوسلامول سے ختم کرنے کا ثبوت اوراس کامصنون طریقہ
Amir ibn Sa'd, from his father (may Allah be pleased with him), reported: "I used to see the Messenger of Allah (peace be upon him) turning to his right and left when saying the Salam until I could see the whiteness of his cheeks." [Narrated by Muslim]
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم (ختم نماز پر) اپنی دتنی طرف پچیرے مبارک پچیرے تے ہوئے السلام علیکم ورحمة
اللہ فرماتے تھے یہاں تک کہ حضرت علی الصلاوة والسلام کے سیدے رخصار مبارک کی سفیدی پچپے
والول کو دھائی دیتی اور پچیرے باشین جانب پچیرے مبارک پچیرے تے ہوئے السلام علیکم ورحمة
اللہ فرماتے تھے یہاں تک کہ (پچپے والول کو) آپ کے باشین رخصار مبارک کی سفیدی نظرآجاتی تھی
(اس کی روایت ابوداوود، نسائی اورترمزی نے کی ہے-)
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) used to turn to his right and say, 'Peace be upon you and the mercy of Allah,' until the whiteness of his right cheek could be seen, and to his left, 'Peace be upon you and the mercy of Allah,' until the whiteness of his left cheek could be seen." [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Al-Tirmidhi, though Al-Tirmidhi did not mention, "until the whiteness of his cheek could be seen."]
Ibn Majah also narrated it from Ammar ibn Yasir. Al-Tirmidhi said: "The most authentic narrations from the Prophet (peace be upon him) are two Salam, and this is the view of the majority of the scholars among the companions of the Prophet (peace be upon him), the Tabi'in, and those after them."
اور ابن ماجہ نے بھی عامرا بن ياسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اورترمزی نے
کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کو سلام سے ختم کرنے کے بارے میں جتنی روايتیں آئی ہیں ان
میں سب سے زیادہ تحقیق ہے کہ نماز کے ختم پردوسلام ہیں اوراسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے
اکثر ابل علم صحابراورتا بعین اوران کے بعد کے علماء کا اتفاق ہے۔
امام اورمقتدی دونوں کوسلام پچھرے وقت کیانیت کرنی چاہئ؟اس کی تفصیل
Should the imam and the follower both perform the salutation at the end of the prayer? The details of this are as follows:
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے تمیم ( لیعنی مقتدر یول کو ) حکم دیا ہے کہ تم ( ختم نماز پرسالم پچھرے وقت ) نیت کریں کہ تم امام
کے سلام کا جواب دے رہے ہیں اور یہی حکم دیا ہے کہ تم نمازی ایک دوسروں کے ساتھ محبت سے
رہیں (اورآپس میں محبت پیدا ہوتی ہے سلام سے ) اس لیے امام اورمقتدی آپس میں ایک دوسروں کو
سلام کریں - (تاکہ آپس میں محبت پیدا ہو ) اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) commanded us to respond to the Imam, to love one another, and to greet one another." [Narrated by Abu Dawud]
In the narration of Al-Bazzar: "And to greet our Imams and to greet one another in prayer."
اور برزار کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ تم مقتدی ( نماز کے ختم پر ) نیت
کریں کہ تم امام کے سلام کا جواب دے رہے ہیں اور یہی نیت کریں کہ تم آپس میں ایک دوسروں
کو سلام کر رہے ہیں -
ف: اس حدیث شرفیف میں ارشاد ہے کہ امام اورمقتدی آپس میں ایک دوسروں کو سلام کریں
اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب امام ختم نماز پرانے سیدے طرف سلام پچھرے تو سیدے طرف
کے مقتدیوں اورفرشتون پرسالم کرنے کی نیت کرے اورجب امام باقی طرف سلام پچھرے تو باقی
طرف کے مقتدیوں اورفرشتون پرسالم کرنے کی نیت کرے یا امام کے سلام کی کیفیت ہے، ابربا
مقتدی کا سلام تو اس کی تین حال تین ہو لگی، (1) ایک امام کے سیدے جانب والے مقتدی،
(2) دوسروں امام کے باقی جانب والے مقتدی، اور (3) تیسرے وہ مقتدی جو امام کے باکل پچھے
ماظی ہو لہرائے کے سلام کی صورت اس طرح ہو گی -
(1) امام کے سیدے جانب والے مقتدی جب اپنے سیدے طرف سلام پچھری تو اپنے
ساٹھ سیدے جانب کے نماز پڑھنے والوں اورسیدے جانب کے فرشتون پرسالم کرنے کی نیت کریں
اور جب اپنے باقی جانب سلام پچھری تو اپنے ساتھ باقی جانب کے نماز پڑھنے والوں اور باقی
جانب کے فرشتون پرسالم کرنے کی نیت کے ساتھ امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کریں -
(2) امام کے باعین جانب والے مقتدی جب اپنے سیدے جانب سلام پڑھری تو امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ اپنے سیدے جانب کے نماز پڑھنے والوں کی اورسیدے جانب کے فرشتوں پر حجی سلام کرنے کی نیت کریں اور جب رواپنے باعین جانب سلام پڑھری تو اپنے ساتھے باعین جانب کے نماز پڑھنے والوں اور باعین جانب کے فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کریں۔
(3) اور جومقتدی امام کے باعل پچھے مازی ہول وہ اپنے سیدے جانب سلام پڑھرتے وقت امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ اپنے سیدے جانب کے نماز پڑھنے والوں اورسیدے جانب کے فرشتوں پر حجی سلام کی نیت کریں اور اس طرح جب وہ اپنے باعین جانب سلام پڑھری تو اس وقت حجی امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ اپنے باعین جانب کے نماز پڑھنے والوں اور باعین جانب کے فرشتوں پر حجی سلام کی نیت کریں۔
اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی امام کے پچھے مازی ہونے کی صورت میں پہلی دوسروں کے برخلاف ہردوجانب سلام پڑھرتے وقت امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کرنے گا، یعنی اس نماز کی بھی جمعاعت کے ساتھ پڑھی جائے گی اور جو تھا نماز پڑھنے والا ہے اس کو جاپے کر ختم نماز پڑ دو نوں جانب سلام پڑھرتے وقت کراماً کاشبن اور محافظ فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کرے۔
– (مرقات، رواختار، اشعۃ اللمعات – )
نماز ختم کرتے ہی امام کو سطرفرنگ کر کے پیٹ ضاحاچا ہے
نماز ختم کرتے ہی امام کو سطرفرنگ کر کے پیٹ ضاحاچا ہے؟ اس پر ایک اور حدیث
پلمچاپے ( کیون کہ کسی غیر لا زم امر کو پینے اوپر لا زم قرار دینے کا اعتقاد کرنا شیطان کے تاثیر ہوتا
ہے ) حالا نکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بسا اوقات باگی جانب پچھے دیکھا
ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پرکی ہے۔)
نماز ختم کرتے ہی امام کو کس طرف رخ کر کے پیٹھ ناچاپے؟ اس پرا کیا وحدیث
And in one narration from Buraydah, it is stated: When you conclude the prayer, intend that you are responding to the salutation of the imam, and intend that you are exchanging greetings with one another.
In this noble hadith, it is indicated that the Imam and the followers should greet each other. The details of this are as follows: When the Imam turns to the right at the end of the prayer to offer greetings, the followers on the right and the angels should intend to greet them. When the Imam turns to the left to offer greetings, the followers on the left and the angels should intend to greet them. Or, the manner of the Imam's greeting is such, but the manner of the follower's greeting can be summarized in three points: (1) The follower on the right side of the Imam, (2) the follower on the left side of the Imam, and (3) the follower who stands behind the Imam. The manner of their greetings is as follows:
(1) The follower on the right side of the Imam, when he turns to his right to offer greetings, should intend to greet those praying on his right and the angels on that side. When he turns to his left to offer greetings, he should intend to greet those praying on his left and the angels on that side, along with intending to respond to the Imam's greeting.
(2) The follower on the left side of the Imam, when he turns to his right to offer greetings, should intend to respond to the Imam's greeting and to greet those praying on his right and the angels on that side. When he turns to his left to offer greetings, he should intend to greet those praying on his left and the angels on that side.
(3) And the follower who stands behind the Imam, when he turns to his right to offer greetings, should intend to respond to the Imam's greeting and to greet those praying on his right and the angels on that side. When he turns to his left to offer greetings, he should intend to respond to the Imam's greeting and to greet those praying on his left and the angels on that side.
From this, it is clear that when a follower stands behind the Imam, he should intend to respond to the Imam's greeting on both sides, meaning that this prayer should also be performed in congregation, and the one who is praying should, upon finishing the prayer, turn to both sides to offer greetings, intending to greet the angels and the guardians on both sides.
– (Mirqat, Rawatib, Ash'at al-Lama'at)
When the prayer is completed, the Imam should turn his face to the right and then to the left. Is there another hadith about this? (Because considering something non-obligatory as obligatory is the influence of Satan) although I have seen the Messenger of Allah (peace be upon him) many times turn to the left after the right. (This narration is found separately in Bukhari and Muslim.)
When the prayer is completed, which direction should the Imam turn to first before turning his back? Is there a specific hadith about this?
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے بعد اکثر اوقات اپنی باگی جانب مجھرہ مبارک کی طرف رخ فرما کر پیٹھ ناچاپے
تھے۔ (اس کی روایت امام بخاری نے ثرواح السنبل کی ہے۔)
نماز ختم کرتے ہی امام کو کس طرف رخ کر کے پیٹھ ناچاپے؟ اس پرا کیا وحدیث
After the Messenger of Allah ﷺ, most of the time, when finishing the prayer, the imam would turn his back towards the blessed pulpit and face his left side.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
(سلام کے بعد) کہی اپنے سیدے کے جانب پلٹا کر تے تھے۔ (اس کی روایت مسلم میں کی ہے۔)
نماز ختم کرتے ہی امام کو کس طرف رخ کر کے پیٹھ ناچاپے؟ اس پرا کیا وحدیث
Anas (may Allah be pleased with him) said: The Prophet ﷺ would turn to his right when concluding the prayer. [Narrated by Muslim]
براع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہماری خواتش رہتی تھی کہ حضرت علی الصلاۃ والسلام کے دائیں جانب
رہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سلام کے بعد) سیدے جانب پلٹ کر ہماری جانب رخ
فرماتے تھے، حضرت براع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پردا فرماتے
ہوئے سناتا تھا کہ قلنی عذابک یوم تبعث عبادک آپرور دگار! جس دن آپ لوگوں کو
قبروں سے انحا کر میدان قیامت میں لے کر لیں گے وہ دن اپنے عذاب سے پچاڑ کے۔
(اس کی روایت مسلم میں کی ہے۔)
ف: ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نمازی جن کے بعد سنتی نہیں ہیں جیسے فجر اور عصر،
ان میں امام کو اختیار سے کر سلام پھیر نے کے بعد وہ ج جانب پلٹ کر پیٹہ جائے یا با کسی جانب پلٹ کر
پیٹہ اور مستحب پیہ کر جس جانب امام کو جائے کی حاجت ہواس جانب پلٹ کر پیٹہ جائے اور اگر
دونول جانب برابر ہول تو پھر دونوں جانب فضل سے اور ایک، کی جانب پلٹ کر پیٹہ جائے کو واجب جائنا
بر عت اور کروہے اور بلا اعتقاد وجو را ایک، کی جانب پلٹ کر پیٹہ جائے میں کوئی حرج نہیں سے اور جن
نماز ول کے بعد سنن بین جیے ظهر، مغرب، اور عشاء تو امام کو چاہے کر سلام پھیر نے کے بعد بہت در
تک دعا کرنے ماگے بلکہ مختصر دعا کر سنتول کے پڑهن میں مشغول ہوجائے - (اعلاء السنن-
عالمگیری -)
فرض نماز ول کے بعد سنن اور نوافل کیلے جگہ تبدیل کر کے کا بیان
Al-Bara' (may Allah be pleased with him) said: When we prayed behind the Messenger of Allah ﷺ, we loved to be on his right side so that he would face us. He said: I heard him say, "O Lord, protect me from Your punishment on the Day You resurrect or gather Your servants." [Narrated by Muslim]
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے، وهفرماتے پین کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ن ارشاد فرمایا کر جس جگہ امام فرض نماز پڑھ چکا ہو، و بال کوئی اور نماز (سنن و نوافل ) نہ پڑھ جب
تک وہ جگہ تبدیل نہ کرے -(اس کی روایت ابوداوود نے کی ہے-)
فرض نماز ول کے بعد سنن اور نوافل کیلے جگہ تبدیل کر کے کیا ن پردوسري حدیث
Al-Mughirah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said, "The imam should not pray in the same place where he led the prayer until he moves to another spot." [Narrated by Abu Dawood]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے، وهفرماتے پین کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ن ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص فرض نماز پڑهن کے بعد اس بات سے عاجز نہ کر نوافل
اوا کر ن کیلے فرض نماز کی جگہ سے بہت کر آگے برطے پیچھے سے یا پیش وا کسی با کسی جانب کہرا
ہوجائے حالا کہ پیچھے ایسا مشکل کام نہیں سے کہ جس کے کر نے سے عاجز ہو، لہذا ہر شخص کواس کا
اہتمام کرنا چاہیے -)(اس کی روایت ابوداوود نے کی ہے-)
ختم نماز پر مقتدر یول کا امام کی دعا کے پہلے اتحدا کروہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said"Is any one of you unable to step forward, step back, move to his right, or move to his left in prayer?", meaning in voluntary prayer. [Narrated by Abu Dawood]
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے، آپ فرماتی پین کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے زمانے میں عورتیں فرض نماز کا سلام پھیر نے کے بعد کطری ہوجائی چھین (اور مر دول سے پہلے
مسجد سے چلی جائیں تھیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معدوگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا اپنی اپنی جگہ بیٹھ رہے تھے (تاکہ مرداور عورتین مسجد سے نکل وقت ایک دوسرے سے مل نہ جائیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کی مقدار میں نہیں بلکہ حالات کے لحاظ سے نمازول کے بعد بیٹھنے کی مقدار مختلف ہوا کرتی تھی، جب نمازول کے بعد سننہ ہونے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہُمَّ أَنتَ السَّلامُ وَ مِنكَ السَّلامُ تَبارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرامِ، کی مقدار بیٹھنے اور جتنمازول کے بعد سننہ نہ ہول ان میں بقدر دعا یااحکام ایسی بیان کرنے کی مقدار تشریف رکنے اور فجر کی نماز میں سورح کے طلوع ہونے تک تشریف فرما ہوتے تھے) پھر جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہرے ہوتے تو لوگ بھی کہرے ہوتے تھے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ مقتریول کیلئے مستحب یہ کروہ امام کے اٹھنے سے پہلے نہ ٹھیسنے) اس کی روایت بخاری نے کی ہے)
ختم نماز پر مقتریول کا امام کی دعا سے پہلے اٹھنا کروہے
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) said: During the time of the Messenger of Allah ﷺ, when the women completed their obligatory prayer, they would leave, while the Messenger of Allah ﷺ remained seated. The men who had prayed as much as Allah willed would also remain seated. When the Messenger of Allah ﷺ stood up, the men would then stand. [Narrated by Bukhari]
ابن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام کو بیشہ جماعت سے نماز پڑھنے کی ترغیب دلا تے اور سلام کے بعد (ذکراور دعا میں شرکت کے لیے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اٹھ کر (مسجد سے) چلے جانے سے منع فرما تے۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)
encouraged the noble Companions to pray in congregation and prohibited them from leaving the mosque before him after the salutation, in order to participate in remembrance and supplication.