پیاپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی اوراس کی فضیلت کے بیان میں
قال الله عزوجل ان الله وملايكته يصلون علي النبي يا ايها الذين امنوا صلوا عليه وسلموا تسليما الل عزوجل ن ارشاد فرمايا سور احزاب ٢ ع مي الل تعالي اوراس ك فرثت يغمبر صلي الل علي وسلم ر درود كي ربت ي تو مسلمانو تم ب ي يغمبر صلي الل علي وسلم ر دروداورسلام كي ر و
قعدہ آخری میں التحیات کے بعد دروداوردعاء پڑھنے کا ثبوت
In the final sitting, after offering salutations, the evidence for reciting the Durud and Dua is presented.
فضالت بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم تشریف فرما تے کرتے میں ایک شخص نے آکر نماز پڑھی (اور قعدہ آخری میں اس شخص (پی
ترجمہ ابوداود کی روایت کے لحاظ سے کیا گیا ہے) نے نتو اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور نہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم پر درود کیا) (یقین مرقات میں ذکور ہے) اورصرف اللہُمَّ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِی (یعنی
اے اللہ مجھے مغفرت دے اور مجھے پر رحم فرما) کہا سے پر رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لے نماز
پڑھنے والے تو نے جلدی کی ہے، جب تو نماز پڑھے اور قعدہ آخری میں بیٹھے تو پہلے التحیات کے
ذریعہ (یقین مرقات سے ماخوذ ہے) اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر جسیا کے سے شایان شان ہے پھر مجھے
پر درود کچھ، اس کے بعد اللہ سے دعاے ما نگے فضالت کے میں کے سے واقع کے بعد ایک اور شخص نے
نماز پڑھی تو اس نے (نماز کے قعدہ آخری میں التحیات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور نہیں صلی
اللہ تعالیٰ و سلم پر درود بھیجا (اور دعا کی) تو اس شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کے نماز پڑھنے والے اب دعا کر تیری دعا قبول ہوگی - (اس کی روایت ترتیب نے کی ہے اور ابوداود نے کی اس طرح روایت کی ہے-)
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس نماز میں حمداور درود کے بعد دعا قبول ہوتی ہے اس طرح خارج نماز کی دعا کی جائے تو اس ترتیب کے ساتھ کی جانی چاہئے کہ پہلے حمد باری تقابلی کی جائے پھر درود پڑھا جائے اور اس کے بعد دعا کی جائے یا کہ قبولیت کو پہلے قعدہ آخرہ میں التحیات کے بعد درود اور دعا پڑھنے کے ثبوت پر دوسری حدیث
Fadala bin ‘Ubaid (may Allah be pleased with him) said: "While the Messenger of Allah ﷺ was sitting, a man entered and prayed. Then he said, ‘O Allah, forgive me and have mercy on me.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘You have hurried, O worshipper! When you pray and then sit, first praise Allah as He deserves, then send blessings upon me, and then supplicate.’"
He continued: "Then another man prayed after that. He praised Allah and sent blessings upon the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ said to him: ‘O worshipper, ask and you will be given.’" [Narrated by Al-Tirmidhi, and a similar narration was narrated by Abu Dawood and Al-Nasa’i]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں نماز پڑھ رہا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما جبی و بال روق افرود تجب (میں نماز میں قعدہ اخیر کیلئے) بیٹھ گیا تو پیلے (میں نے التحیات کے ذریعہ) حمد و ثناء کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور اس کے بعد میں نے اپنے دعا میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کو پسند فرما کر) ارشاد فرمایا اچھا ہے ماگر تمہیں دیا جائے گا - (اس کی روایت ترتیب نے کی ہے-)
دعا کی قبولیت کیلئے درودثریف پڑھنے کی ضرورت
‘Abdullah bin Mas‘ud (may Allah be pleased with him) said: "I was praying while the Prophet ﷺ, Abu Bakr, and ‘Umar were with him. When I sat, I began by praising Allah, then I sent blessings upon the Prophet ﷺ, and then I supplicated for myself. The Prophet ﷺ said: ‘Ask, and you will be given. Ask, and you will be given.’" [Narrated by Al-Tirmidhi]
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ جب تک تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجو گے تب تک تمہاری دعا آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہے گی، ذرا کچھ اوپر نیچے چلتی ہی - (اس کی روایت ترتیب نے کی ہے-)
ف: اس حدیث کے تحت صاحب مرقات نے حسن حسین کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابوسليمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت کو مانگنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود کیے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت ماگر اور اپنی اس دعا کو
درود،یہ پرختم کرے کیون کہ اللہ تعالیٰ دونوں درودول کو قبول فرمائے ہیں اور یہان کریں سے
بعید ہے کہ دونوں درودول کو تو قبول فرمائین اوراس وعا کو چھوڑ دیں جو، ان دونوں کے درمیان سے
التحیات کے بعد جس درود کا پڑھنا فضل ہے وہ درود ابراہیمی ہے
‘Umar bin Al-Khattab (may Allah be pleased with him) said: "Indeed, supplication remains suspended between heaven and earth, and nothing of it ascends until you send blessings upon your Prophet." [Narrated by Al-Tirmidhi]
عبدرحمٰن بن ابی لیلٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے
سے کعب ابن عجرۃ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوتی تو وہ فرما نے گگ کیا میں تخمیں ایک ایسا تخفیذ دول جو
مجھے نہیں صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے؟ میں نے ان سے کہا جی بلال ضرور دیکھ تو حضرت کعب رضی اللہ
عند نے کہا کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اللہ تعالیٰ نے (نماز میں التحیات کے ذریعہ) آپ پر سلام کیجیئے تو تمیں سکھا ئیہ، اب فرماییے کہ میں
آپ پر اور آپ کے اعلیٰ بیت پر (نماز میں) درود کس طرح کچھ کریں؟ تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام
نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح کہا کرو: اللہُمَّ صَلِّ عَلَی سِیدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الْ سِیدِنَا
مُحَمَّدٍ گَمَا صَلَّیْتَ عَلَی سِیدِنَا ابْرَاہِیمَ وَ عَلَی الْ سِیدِنَا ابْرَاہِیمَ وَ صَلِّ عَلَیْنَا
مَعَهُمْ، (بیاضافہ تر میں لیا گیا ہے) انک حَمِیدُ مَجِیدُ اللہُمَّ بَارِکْ عَلَی سِیدِنَا
مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الْ سِیدِنَا مُحَمَّدٍ گَمَا بَارَکْتَ عَلَی سِیدِنَا ابْرَاہِیمَ وَ عَلَی الْ سِیدِنَا
ابْرَاہِیمَ وَ بَارِکْ عَلَیْنَا مَعَهُمْ، (بیاضافہ تر میں لیا گیا ہے) انک حَمِیدُ مَجِیدُ،
ای اللہ! رحمت نچھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر (جس کا پرثر ہوکر دنیا میں آپ کی
عظمت کا ذکر ہر جگہ ہوتارہے آپ کی دعوت اسلام ہر جگہ نچھ جانے اور آپ کی شریعت میشہ باقی رہے
اور آخرت میں اس رحمت کا اثر اس طرح ہوکر آپ کی شفاعت عام آپ کی تمام امت کو نچھ اور اجرو
ثواب دل مرتبہ کے برابر ہوکر ملتارہے۔ رحمت کے معنی مرقات سے ماخوذہ۔12)
اور ایسی ہی رحمت آپ کے آل پر جیبے پر اسی رحمت کی طرح ہو جسے کر آپ نے حضرت
ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر رحمت کی ہے اور ان کے ساتھ تم پر جسی رحمت فرمائیے، بے شک
آپ کی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں۔
اے اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پرامی برکت نازل فرمائیے (جس کا یا اثر
ہو کہ جو عمتین آپ کو عطا ہوتی ہیں وہ میش باقی رہیں اور ان میں زیادتی ہوتی رہے پی) ایسی برکت ہو جو
حضرت ابراہیم اور ان کی آل کو آپ کے عطا کی ہے اور ان کے ساتھ ہم پر بھی برکت نازل کیے، ب
شک آپ کی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)
ف (1): واضح ہو کہ امام محمد رحمۃ اللہ نے فرمایا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ پنی روایت
کے ہوئے تشهد کے الفاظ پر ایک حرف کے بھی برہانے اور غلط نہ کو پسند نہیں فرماتے تھے اس وجہ سے
صاحب رواختار نے کہا ہے کہ التحیات میں "أشهد أن محمداً عبدُه ورسولُه" کے پرہت وقت
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے پہلے لفظ "سيدنا" نہیں برہانا چاہیے، البتر ورود ابراہیم میں جو
تشهد کے بعد پرہاجات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے پہلے لفظ "سيدنا" برہانا چاہیے اور
اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام مبارک کے پہلے بھی لفظ "سيدنا" برہانا چاہیے رواختار میں الیا
میں نہ کورہے۔
ف (2): واضح رہے کہ رود ابراہیم میں "کما صلى على سيدنا ابراهيم وعلى ال
سيدنا ابراهيم" کے بعد انک حمید مجید " سے پہلے "و صلى علينا معهم" اور اس
طرح "کما بارکت على سيدنا ابراهيم وعلى ال سيدنا ابراهيم" کے بعد انک
حمید مجید " سے پہلے "و بارك علينا معهم" کا جواضاف کیا گیا ہے وہ تنزیلی ایک روایت
سے ماخوذ ہے جس کے راوی عبد الرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ ہیں۔ (ملاحظہ وتنزیلی کے ابواب الوتر
میں "ما جاء في فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم"۔)
التحیات کے بعد رود بھی پرہاجا سکتا ہے گرا فصل نہیں ہے
‘Abdur-Rahman bin Abi Layla said: "Ka‘b bin ‘Ujrah met me and said: ‘Shall I give you a gift that I heard from the Prophet ﷺ?’ I said, ‘Yes, please give it to me.’ He said: ‘We asked the Messenger of Allah ﷺ, ‘O Messenger of Allah, how should we send blessings upon you and your household? For Allah has taught us how to greet you.’
He said: ‘Say: O Allah, send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent blessings upon Ibrahim and upon the family of Ibrahim; You are indeed Praiseworthy and Glorious. O Allah, bless Muhammad and the family of Muhammad, as You blessed Ibrahim and the family of Ibrahim; You are indeed Praiseworthy and Glorious.’"
This was agreed upon [Narrated by both Bukhari and Muslim, except that Muslim did not mention "upon Ibrahim" in both places]
f (1): It is clear that Imam Muhammad (rahmatullah) has stated that Hazrat Ibn Masood (RA) did not approve of changing or altering even a single word in the tashahhud as per his narration. Therefore, the narrator of the tradition has said that in the tashahhud, 'Ashhadu anna Muhammadan abduhu warasuluh' should not have 'Sayyiduna' before the blessed name of the Prophet (SAW) at the time of recitation. However, in the salutation after the tashahhud, 'kama sallayta ala Sayyidina Ibraheem wa ala al-Sayyidina Ibraheem,' 'Sayyiduna' should be used before the blessed name of the Prophet (SAW) and similarly before the blessed name of Hazrat Ibraheem (AS), but it should not be used in the phrase 'wa ala al-Sayyidina Ibraheem.'
f (2): It should be noted that in the salutation for Ibraheem, 'kama sallayta ala Sayyidina Ibraheem wa ala al-Sayyidina Ibraheem,' the phrase 'wa sallayna ma'ahum' is added before the blessed name of the Prophet (SAW) and similarly, 'kama barakta ala Sayyidina Ibraheem wa ala al-Sayyidina Ibraheem,' the phrase 'wa barakna ma'ahum' is added before the blessed name of the Prophet (SAW). This addition is derived from a single tradition narrated by Abdur Rahman bin Abi Layli (RA). (Refer to the chapters on the virtues of sending blessings upon the Prophet (SAW) in the sections of Witr in the Tanzihi.) The salutation can also be performed after the tashahhud, and there is no specific distinction in this regard.
البحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے عرض کیا کہ
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر درود کس طرح بھی کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماپایتم اس طرح کہا کرو اللہم صلّ علی سیدنا محمد و آزو اجہ و ذریّتہ کما صلّیت علی ال سیدنا ابراہیم و بارک علی سیدنا محمد و آزو اجہ و ذریّتہ کما بارکت علی ال سیدنا ابراہیم انک حمید مجید، اے اللہ رحمت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے ازواج مطہرات و رآپ کی مقدس آل و اولاد پر جس طرح تو نے رحمت نزیلی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد پر اور برکت نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات پراورآپ کی مقدس آل و اولاد پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد پر بشک آپ کی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں - (اس کی روايت بخاري اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے- )
التحیات کے بعد یہ درود کی پڑھا جاسکتا ہے گرافضل نہیں ہے
Abu Humayd As-Sa‘idi (may Allah be pleased with him) said: "They asked: ‘O Messenger of Allah, how should we send blessings upon you?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Say: O Allah, send blessings upon Muhammad and his wives and his descendants, as You sent blessings upon the family of Ibrahim. And bless Muhammad and his wives and his descendants, as You blessed the family of Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious.’" This was agreed upon [Narrated by both Bukhari and Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، آپ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا جس شخص کو پر اچھا معلوم ہو کر وہ نعم پر اور تمام پر بلیت پر درود نچ کر پوراپورا ثواب حاصل کر تو اس کواس طرح درود کیاچاہے اللہم صلّ علی سیدنا محمد ن النبی الأمی و آزو اجہ أمہات المومنین و ذریّتہ و اہل بیتہ کما صلّیت علی ال سیدنا ابراہیم انک حمید مجید، اے اللہ رحمت کامل نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو نی ای یہ اورآپ کی ازواج مطہرات پر جو تمام مسلمانوں کی ما کی یہ اورآپ کی مقدس آل و اولاد پر اور آپ کے برکزیدہ خاندان پر جس طرح تو نے رحمت کامل نازل فرمائی ہے، حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد پر بشک آپ کی تعریف کے قابل ہیں اور بہت عظمت والے ہیں - (اس کی روایت البوداوود نے کی ہے- )
ف: سعای میں نذور سے کہ قعدہ آخرہ میں تشهد کے بعد کسی خاص درود پڑھنے کی تخصیص نہیں
ہے بلکہ سنن موکدہ ہیں کہ کوئی بھی ماثورہ درود پڑھاجائے اور مارے اکثر فقہاء نے ایسائی کہہے اور
فضل و مختار پیہ کہ درود ابراہیمی پڑھاجائے، جسیا کہ شرح قدوری میں نذور سے کہ امام محمد رحمہ اللہ
سے جب پیریافت کیا گیا کہ کونسا درود پڑھاجائے تو امام محمد رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ درود ابراہیمی کا
پڑھنا فضل ہے، علامہ زابدی نے بھی مذہبی میں بہی ذکر کیا ہے اور غنیہ المستملی میں کفاپی کے حوالے
درود ابراہیمی کے پڑھنے کو مختار قرار دیاہے اور درود ابراہیمی پیہ "اللہم صل علی سیدنا محمد
و علی ال سیدنا محمد کما صلیت علی سیدنا ابراهیم و علی ال سیدنا ابراهیم
انک حمید مجید اللہم بارک علی سیدنا محمد و علی ال سیدنا محمد کما
بارکت علی سیدنا ابراهیم و علی ال ابراهیم انک حمید مجید"۔
اس کے علاوہ بخاری اور مسلم میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے قعدہ آخرہ میں تشهد کے بعد
درود پڑھنے کے بارے میں جو حدیث آئی ہے اس میں بھی درود ابراہیمی نذور سے اور صاحب ذہیرہ
نجمی عیسی بن ابان کی "كتاب الحجة على أهل المدينة کے حوالے کے حجہ کہ امام محمد رحمہ
اللہ سے جب پیریافت کیا گیا کہ قعدہ آخرہ میں کونسا درود پڑھاجائے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ نے درود
ابراہیمی کے پڑھنے کو فضل قرار دیا۔
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم برود و سلام بھی کی فضیلت
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever wishes to receive the fullest measure (of blessings) when sending blessings upon us, the members of the household, let him say:
'O Allah, send blessings upon Muhammad, the unlettered Prophet, and upon his wives, the mothers of the believers, and his descendants and his household, as You sent blessings upon Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious.’" [Narrated by Abu Dawood]
And in "As-Sa‘ayah," it is mentioned: "The confirmed Sunnah is to send blessings after Tashahhud, without specifying certain words. This is indicated by the statements of most of our jurists. However, they differed regarding which wording is preferred. In ‘Ghuniyat Al-Mustamli,’ the preferred wording of the blessings is as mentioned in ‘Al-Kifayah,’ ‘Al-Qunyah,’ and the explanation of ‘Al-Quduri’:
Muhammad (peace be upon him) was asked about it, and he said: ‘Say: O Allah, send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent blessings upon Ibrahim and upon the family of Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious. O Allah, bless Muhammad and the family of Muhammad, as You blessed Ibrahim and the family of Ibrahim. Indeed, You are Praiseworthy and Glorious.’
And this is in agreement with what is found in the two authentic books (Bukhari and Muslim) from the Hadith of Ka‘b.
And the author of "An-Nakhira" reported from the book "Al-Hujaj ‘Ala Ahl Al-Madinah" by ‘Isa bin A‘ban: That Muhammad (peace be upon him) was asked about the way of sending blessings, and he answered with what has been mentioned before.
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر دس (10) رحمتیں نازل فرما تے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہیں کی فضلیت پرتیری حدیث
عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روايتہ، وہ فرما تے پی کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم (ایک روز) باہر نکل اور ایک کھور کے باگ میں تشریف لے گئے و بال حضور علی الصلاۃ
والسلام سجدہ فرما لے اور تحدے میں اتنی دیر تک رہہ کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم دنیا
سے تشریف تو نہیں لے گئے؟ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرما تے پی کہ میں (گہبرا ہوا)
نزو کی پنچا کہو کیہون کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیے پی؟ مجھے قریب آتا کیہ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
سجدے سے مہرباک کو اٹھا لے اور فرما کیون عبد الرحمن کیاہے (اس قدر گہبرا لے ہو کیون
ہو؟) میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا خیال طابہ کیا (یعنی کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کر عبد الرحمٰن پچھر کی بات نہیں، جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور پیغامبری سنائی کر اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر درود پڑھے گا تو میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جو سلام کہے گا تو میں مجھی اس پر سلام کچھ چون گا - (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے-)
‘Abdur-Rahman bin ‘Awf (may Allah be pleased with him) said: "The Messenger of Allah ﷺ went out until he entered a garden and prostrated for a long time, to the point that I feared that Allah had taken his soul. I went to check on him, and he raised his head and said: ‘What is the matter?’ I mentioned to him my concern.
He said: ‘Jibreel came to me and said: Shall I not give you glad tidings? Allah, the Almighty, says to you: Whoever sends blessings upon you once, I send blessings upon him, and whoever greets you with peace, I greet him with peace.’" [Narrated by Ahmad]
انس رضی اللہ عنه سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرما تے ہیں، اس کے دس گناہ معاف کردیتے جاتے ہیں اور اس کے دس درج بلند کرتے جاتے ہیں۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہیں کی فضلیت پر چوٹی حدیث
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرما تے ہیں، اس کے دس گناہ معاف کردیتے جاتے ہیں اور اس کے دس درج بلند کرتے جاتے ہیں۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہیں کی فضلیت پر چوٹی حدیث
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever sends blessings upon me once, Allah will send blessings upon him ten times." [Narrated by Muslim]
ابوطرہ رضی اللہ عنه سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اس حالت میں تشریف فرما ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور خوشی سے چک رہا تھا آپ نے ارشاد فرما یا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور پیغامبری سنائے کر اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم آپ کو ایک خوشخبری سناتے ہیں جس سے آپ راضی اور خوش ہو جائیں گے
ابوطرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اس حالت میں تشریف فرما ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور خوشی سے چک رہا تھا آپ نے ارشاد فرما یا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور پیغامبری سنائے کر اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم آپ کو ایک خوشخبری سناتے ہیں جس سے آپ راضی اور خوش ہو جائیں گے
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sends one prayer upon me, Allah will send ten prayers upon him, ten sins will be erased from him, and he will be raised by ten degrees.” [Narrated by Al-Nasa’i]
وہ یہ کر آپ کی امت میں سے جو کوئی آپ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے اس پر میں دس دفعہ رحمت
نازل کرتا ہوں اور آپ کی امت میں سے جو کوئی آپ پر ایک دفعہ سلام کہتا ہے تو میں بھی اس پر دس
دفر سلام کہتا ہوں -
(اس کی روايت نسائي اور دارمي نے کی ہے-)
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی فضیلت پر پاچویں حدیث
Abu Talhah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) came one day with joy on his face and said: “Jibril came to me and said: ‘Your Lord says: O Muhammad, does it not please you that no one from your Ummah sends blessings upon you except that I send ten blessings upon him, and no one greets you except that I send ten greetings upon him?’” [Narrated by Al-Nasa’i and Al-Darimi]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص نبی صلی
اللہ علیہ وسلم پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ستر (70) دفعہ رحمت کہتے
ہیں -(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے-)
درود کی فضیلت اور اس دعا کا ایک جس کا پڑھنے والے شفاعت کا حق ہوتا ہے
Abdullah bin Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sends one prayer upon the Prophet (ﷺ), Allah and His angels send seventy prayers upon him.” [Narrated by Ahmad]
رویف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ جو شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کہتا ہے اور اس کے ساتھ یہ دعا کہتے ہیں:
"اللہمّ انزلہ المَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِندَکَ یَومَ الْقِيَامَۃ"
اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن ایسی جگہ بٹھائیے جو سب سے زیادہ
آپ کے قریب ہو تو اس شخص کیلئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی -
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے-)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود کی فضیلت
Ruwayfi’ (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sends blessings upon Muhammad and says: ‘O Allah, grant him the closest position near You on the Day of Judgment,’ my intercession will be guaranteed for him.” [Narrated by Ahmad]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ وہ شخص مجھ سے زیادہ یکہوگا جو سب
سے زیادہ مجھ پر درود کہتا ہے -(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے-)
Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The closest people to me on the Day of Judgment will be those who sent the most blessings upon me.” [Narrated by Al-Tirmidhi]
ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض
کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں چاہتا ہوں کہ کرتے آپ پر درود بھیجا کروں، میں نے
اپنے لئے دعا کا ایک وقت متعین کر لیا ہے، اس میں سے کتنا وقت آپ پر درود بھیج کیلے مقرر کروں؟
تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جتنا چاہو، تو میں نے عرض (احتجاً) ایک چوٹیالی وقت
مقرر کروں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنا چاہو، اگراس سے مجھی زیادہ کرو تو تمہارے لئے بہتر
ہے میں نے عرض کیا تو کیا آدھا وقت اس میں لگادوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جتنا چاہو
اور اگراس سے مجھی زیادہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے، میں نے عرض کیا کہ دو تھائی وقت درود بھیج میں
گزاردوں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جتنا چاہو، اگراس سے مجھی زیادہ پڑھو تو تمہارے لئے
بہتر ہے میں نے عرض کیا حضور! اگر اسیا، یہ تو میں اپنے دعا پڑھنے کا ہل وقت آپ پر درود پڑھنے میں
لگادیتا ہوں، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو ایسی حالت میں (درود کی برکت تے) تمہارے
دینی اور دنیوی تمام مقاصد پورے کردیتے جائیں گے اور تمہارے سارے فکر و غم دور ہوجائیں گے اور
تمہارے گناہ بخش دیتے جائیں گے۔ (اس کی روایت ترنذی نے کی ہے۔)
جو بد نصیب ہیں، ان کی تفصیل
Ubayy bin Ka’b (may Allah be pleased with him) narrated: I said: “O Messenger of Allah, I send many blessings upon you. How much of my supplication should I devote to you?” He said: “As much as you wish.” I said: “A quarter?” He said: “As you wish, but if you increase it, it will be better for you.” I said: “A half?” He said: “As you wish, but if you increase it, it will be better for you.” I said: “Two-thirds?” He said: “As you wish, but if you increase it, it will be better for you.” I said: “Shall I dedicate all my supplication to sending blessings upon you?” He said: “Then your worries will be relieved, and your sins will be forgiven.” [Narrated by Al-Tirmidhi]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بہت بد نصیب ہے وہ شخص کہ جس کے سامنے میرا نام لیاجائے اور وہ
مجھ پر درود نہ بھیجے (اس سے معلوم ہوا کہ جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیاجائے تو وہ
والے کو چاہے کہ درود پڑھا کرے، اور وہ بھی بد نصیب ہے کہ جس کی زندگی میں رمضان المبارک
آ کہیں اور (اس نے اس ماہ مبارک میں عبادت و نہرو نہارات اور شب بیداری کر کے) اپنی مغفرت نہ
کروائی کرتے میں رمضان ختم ہو گیا، اور وہ بھی بدشیب ہے کہ جس کے ساتھ اس کے والدین یا
ان میں سے کسی ایک پر برہاپا آیااور (ان کی خدمت کر کے اور ان کو راضی رکھ کر ) جنت کا مستحق ہوا۔ (اس کی روایت تزندی نہیں ہے۔)
جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک سن کر درود نہ پڑھے، اس کی وعید
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “May the nose of a man be rubbed in dust who hears my name and does not send blessings upon me! May the nose of a man be rubbed in dust who enters Ramadan and then it passes before he is forgiven! May the nose of a man be rubbed in dust who finds his parents, one or both of them, in old age and yet they do not cause him to enter Paradise!” [Narrated by Al-Tirmidhi]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرما کہ بر اتی بھیل ہے وہ شخص کہ جس کے ساتھ میرا نام لیا جائے اور وہ میرا نام
سن کر مجھ پر درود نہ پڑھے۔ (اس کی روایت تزندی نہیں ہے۔)
Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The miser is the one in whose presence I am mentioned, and he does not send blessings upon me.” [Narrated by Al-Tirmidhi, and Ahmad narrated it from Al-Husayn bin Ali (may Allah be pleased with him). Al-Tirmidhi said: “This is a Hasan Sahih Gharib Hadith.”)]
اور امام احمد نے بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس کی روایت
کی ہے۔)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف پر قصد آ حاضر ہو نے کی فضیلت
the merit of visiting the noble grave of the Messenger of Allah ﷺ.
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیار شاد فرما تے سنا ہے کہ تم اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ (یعنی گھروں میں
مردہ کی طرح پڑے سوتے نہ رہو بلکہ گھروں میں کہی نفل نمازی پڑھا کرو اور جس طرح مسجدوں
میں عبادتیں کر کے اوار حاصل کرتے ہو ای طرح گھروں میں کہی پڑھنے پچھے عبادتیں کر کے اوار
حاصل کرتے رہو) اور تم میری قبر کو عید نہ بناؤ (کہیں کہیں اتفاقی طور پر میری قبر پر نآیا کرو بلکہ
قصد آباد میری قبر پر آنے کی کوشش کرنا اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو بار بار آنے کی آرزودل میں رکھنا۔)
ف : حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فرما نا کہ میری قبر کو عید نہ بناؤ، ایسا کہ کہ جسیا کر آپ تم
اپنے کسی دوست کو جو بہت دنون بعد آئے کہا کرتے ہیں کہ تم تو عید کے چا ند ہو چنانچہ اشعة اللمعات اور
مرقات میں اس ارشاد مبارک کی شرح اس طرح کی گئی ہے کہ میری قبر کی زیارت کو عید کی طرح کہیں کہیں
نآو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اپنی قبر شریف کی زیارت کی ترغیب اس لے دی بے کر آپ رحمۃ اللعالمین ہیں، آپ اپنی امت کو وہ ساری فضیلتیں دلانا چاہتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کی زیارت سے حاصل ہوتی ہیں ان فضیلتون کو قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شفاء شریف میں اور شاہ عبد الحق مدثر دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جذب القلوب اور مولا نا انوار اللہ خال صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے عمران القلوب میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمایاہے مجمل ان کے ذیل میں چند حدیثیں نموٹا درج کی جاتی ہیں۔
(1) طبرانی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے "مَنْ زَارَ قَبْری وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتی" جس نے میری قبر (شریف) کی زیارت کی ہے میں اس کی ضرو رشفاعت کرول گا۔
(2) تہقیق نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوًعا روایت کی ہے "مَنْ خَرجَ فَزَارَ قَبری بَعْدَ مَوتی کانَ گَمنُ زَارَنی فِی حَياتی" (جو کوئی مجھ کرے میری قبر کی زیارت کرے گا تو اس کو میری زندگی میں ملاقات کرنے کا ثواب اور ثواب حاصل ہوگا)
(3) علامہ ملا علی قاری نے شرح شفاء میں لکھا ہے کہ حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوًعا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "مَنْ زَارَ قَبری بَعْدَ مَوتی فَکَانَما زَارَنی فِی حَياتی وَ مَنْ لَمْ يَزرْ قَبری فَقدَ جَفَانی" (میرے انتقال کے بعد میری قبر کی زیارت کرنے والا میری زندگی میں مجھ سے ملاقات کرنے والے کے جسیاہے اور جس نے میری قبر کی زیارت نہیں کرتا وہ مجھ پر لم اور جفا کیا۔)
صاحب! اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم و جفا کرنے کا کیا نتیجہ ہے اس کو سوچ لو، قبر شریف کی زیارت کرنے سے ایک فضیلت یہی حاصل ہوتی ہے کہ زیارت کرنے والے کے گناہوں کی بھی مغفرت ہو جاتی ہے۔
علامہ قسطلانی شارح بخاری نے مواهب لدنیہ میں، علامہ نور الدین علی سہووی نے خلاصۃ الوفا میں، اور شیخ ابن عبد اللہ احمادی نے مصباح الظلام فی المستخبین کیے الام میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں سے تین دونوں بحدا ایک اعرابی آیا اور قبر شریف سے
پر طگیا اور قبر مبارک سے مطیب جو رخا کے لکرا پن سرپر ظالی او ر عض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پے جو فرما یا تاہم نے اے سنا اور جو پکھآ پے اللہ تعالی سے محفوظ رکھا تم نے اس کو آپے سیکھ کر محفوظ اور یاد رکھا، آپ پر جو قرآن ثریف ( اتر اے اس کی اکی آیت پر ہے ( سورہ نساء پ۔5ع19 ) وَلَوْ أَنْهُمْ إِذْ ظَّلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا ) ( آپ کی امت جس وقت اپنی جانوں پر لم کرے لیجن کسی گناہ میں بھلا ہو، پھر ( ندامت کے ساتھ ) آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی چاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیجن آپ کہی اس کیلے معافی طلب کریں تو وہ اللہ تعالی کو ضرورت قبول کرے نے واللا اور نہایت رحم اور مہربانی کرے نے والا پینے گے - ) اس آیت کو پڑھ کر اس اعرابی نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی جان پر لم کیا لیجن گناہ میں بھلا ہوا ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں اس لے حاضر ہوا ہوں کہ آپ اللہ تعالی سے میری مغفرت چاہیں، اس وقت قبر ثریف سے آواز آئی کہ یقیناً تیری مغفرت ہوگئی اور تجہ بخش دیا گیا۔ اس سے جبی مزار ثریف پر حاضر ہو نا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معروضہ قبول فرمانا یہ سب چیزیل ثابت ہوتی ہیں، اس واقعہ کا بن عساکر اور ابن الجوزی نے جبی نقل کیا ہے اور عمر ان القلوب میں کہاہے کہ پر واقع مشہور واقعات میں سے ہے اور چارول نداہب کے اتما ور اور ایول نے مختلف روايتون اور متعد وطرق سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے - مسلما نو ! تم خوش تقدير ہو کہ ایسی دولت تمہیں نصیب ہوتی تم قصد ارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ثریف پرزیارت کی نیت سے حاضر ہوا کرو تا کہ تمہارے گناہ معاف ہوجا گیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق بنواور تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملاقات کر نے والے کے جسیا و رجے حاصل ہو جائے ہے اور جنت میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب ہو اور خبردار ! قبر ثریف پر حاضر نہ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جفا کر نے والے نہ بنو کہیں سے کچھ امت کے درود پڑھنے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہو نے کا بیان حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے روایت
کی بہ کر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا ہے کہ تم جہال کو میں ہو مجھے پر درود کیجا کرو (پرخیال
نہ کیا کرو کہ تمہم ور افتادہ اتنی دور سے درود پڑھا کر یہ تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیہ خبر ہوگی نہیں نہیں
مجھے ضرورخبر ہوگی) اورتمہارادرود جہال کو میں سے ہو مجھے پہنچ جا کر یے گا۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Do not turn your houses into graves, and do not make my grave a place of celebration. Send blessings upon me, for indeed, your blessings reach me wherever you may be.” [Narrated by Al-Nasa’i]
The Blessed Prophet (peace be upon him) advised: 'Do not make my grave a place of celebration, as you would say to a dear friend who has come after a long time, 'You have come like a festival.' In this context, in As'ahat al-Lama'at and Murqat, the explanation of this blessed advice is given as follows: 'Do not refer to the visitation of my grave as a festival.' The Prophet (peace be upon him) encouraged his ummah to visit his blessed grave because he is the Mercy to the Worlds, and he wishes for his ummah to benefit from all the virtues that can be gained through visiting his blessed grave. These virtues have been detailed by Qadi Iyad (may Allah have mercy on him) in his Shifa, by Shah Abd al-Haq Muhaddith Dehlawi (may Allah have mercy on him) in Jazb al-Qulub, and by Mawlana Anwar Allah Khaliq Sahib (may Allah have mercy on him) in Umaran al-Qulub. Here are some relevant hadiths:
(1) Tabarani narrates from Ibn Umar (may Allah be pleased with both of them): 'Whoever visits my grave, my intercession is obligatory for him.'
(2) Tuhfat al-A'imma narrates from Ibn Umar (may Allah be pleased with both of him) in Shu'ab al-Iman: 'Whoever goes out to visit my grave after my death will be like one who visited me during my life.'
(3) Imam Mulla Ali Qari writes in Sharh al-Shifa that it is narrated from Amir al-Mu'minin Ali (may Allah be pleased with him): 'Whoever visits my grave after my death is like one who visited me during my life, and whoever does not visit my grave has wronged me.'
O people! Consider the consequences of wronging and neglecting your beloved Prophet (peace be upon him). One of the virtues gained from visiting the blessed grave is the forgiveness of sins.
Imam Qastalani, the commentator of Bukhari, in Mawahib al-Ladunniya, Imam Nur al-Din Ali Suhrawi in Khulasat al-Ufa, and Sheikh Ibn Abdullah Ahmad in Misbah al-Zulam fi Mustakhbine al-Ulama narrate from Ali (may Allah be pleased with him) that once an Arab came and prostrated himself at the blessed grave, touching it with his face and forehead, and recited a verse from the Quran (Surah Nisa, 4:64): 'And if they, when they wronged themselves, came to you and asked Allah for forgiveness and the Messenger also asked for forgiveness for them, they would surely find Allah Relenting, Merciful.' After reading this verse, the Arab said, 'O Messenger of Allah (peace be upon him), I have wronged myself by committing a sin, and I have come to your blessed presence to seek forgiveness from Allah, and I ask you to pray for my forgiveness.' At that moment, a voice came from the blessed grave saying, 'Indeed, your sins are forgiven, and you are pardoned.' This incident proves that appearing before the blessed grave, presenting oneself to the Prophet (peace be upon him), and having his supplication accepted are indeed true. This event has been narrated by Ibn Asakir and Ibn al-Jawzi, and it is mentioned in Umaran al-Qulub as one of the well-known incidents, which has been transmitted by various scholars through different chains of narration.
O Muslims! You are fortunate to have such a blessing. Visit the blessed grave of the Prophet (peace be upon him) with the intention of seeking forgiveness for your sins, so that you may become worthy of his intercession, and gain the same blessings as those who met him during his lifetime, and attain nearness to him in Paradise. Beware! Do not neglect visiting the blessed grave and do not wrong the Prophet (peace be upon him). Even if you read a few salutations from afar, the Prophet (peace be upon him) will know about it. Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrates that the Prophet (peace be upon him) said, 'If you send salutations to me, I will receive them, even if you are far away. Your salutations will reach me and be conveyed to me.' (This is narrated by Nasa'i.)
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میری قبر کے پاس آ کر مجھے پر درود پڑھتا ہے تو میں خود اس کے درود
کو (بغیر واسطے کے) سنتا ہوں اور جو شخص دور دراز مقام سے مجھے پر درود کہتا ہے تو وہ درود مجھ کو
فرشتون کے ذریعے پہنچا جاتا ہے۔
(اس کی روایت نسائی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
امت کے سلام کو جہال کو میں سے ہو فرستے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
میں پہنچادیتے ہیں
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sends blessings upon me at my grave, I hear him. And whoever sends blessings upon me from far away, it is conveyed to me.” [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman]
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایک فرشتہ مقرب ہیں جن کا کام، یہ مجھ کے
سلام کا پیغامانا ہے اور وہ زمین میں بر جلد پھرتے رہتے ہیں اور جب کوئی میرا امتیاج پرسلام کیچا ہے
تو وہ فوراً اس کا سلام مجھے پیغامادیتے ہیں۔ (اس کی روایت نسائی اورداری نے کی ہے۔)
امت کے سلام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو جواب دیا کرتے ہیں، اس کی تحقیق اور
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدسة کا ثبوت
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah has angels who travel throughout the earth, conveying to me the greetings of my Ummah." [Narrated by Al-Nasa’i and Al-Darimi]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کر (میرے انتقال کے بعد میری روح ملا، علی کی طرف متوجہ رہ گی اور اس کو ذات و صفات اہی میں استغراق اور حیوت حاصل ہو گی اہی حالت میں ) جب کوئی تم میں سے مجھے پرسالم کچھ گا تو اللہ تعالیٰ مجھ کو اس استغراق سے اپنی اصلی حالت پر لٹادی گا اور میں سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دو گا۔
(اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور بہت سے مجھی دعوات کے بھی اس کی روایت کی ہے)
ف: پہلے پر بھی جسنا جاپے کہ موت کیا پیزہے، موت انقال کا نام ہے کہ روح ایک جسم کو چھوڑ کر
دوسرے جسم میں منتقل ہوتی ہے، پر ایسا ہے جسیا کہ دو پتھر یے میں اور پرنده ایک سے دونوں پتھر یوں
کے دروازے کھول کران کے منکو ملا دیتا ہے تو پرنده ایک پتھر یے سے دوسرا پتھر یے میں منتقل
ہوجاتا ہے، عالم برزخ میں اسی جسم خاکی کے ہو بھو ایک دوسرا جسم کچی تیار کیا گیا ہے، فرق یہ ہے کہ یہ
جسم خاکی کثیف ہوتا ہے اور برزخ کا جسم لطیف ہوتا ہے، چنانچہ بعض اولیاء اللہ جی حضرت مجید الدف
ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا اقتداء کر آپ کوئی جلد دعوت دی گئی اور سب دعوت کا وقت ایک، دی تھا تو آپ ہر
مقام پر اس ایک ہی وقت میں بر جلد تشریف رکھتے ہوئے نظر آتے ہیں، ایک تو یہ جسم خاکی تھا اور دوسرا ہو
کی جسم نظر آتے ان کوآپ عالم برزق سے کرامتآ لے کراس عالم میں دکھائی دیتے اور تم کو خواب میں
جسی مردہ کا جسم نظر آتا ہے وہ وہی عالم برزخ کا جسم لطیف ہے کراس جسم لطیف میں روح جسم خاکی
سے منتقل ہوگیا ہے، اب خلاصہ موت کا یہ واکر روح خاکی جسم کا کثیف جسم چھوڑ کر برزخ کے لطیف جسم
میں داخل ہوتی ہے اور پہی موت ہے، بظاہری موت ہر انسان کوہوتی ہے، عوام کو جسی اور شہدا کو جسی اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جسی اس کی نسبت کی جاتی ہے اور پیموں روحی زندہ ہیں، پھر ان
متیوں کی زندگی میں کیا فرق ہے؟ فرق یہ ہے کہ ہر انسان کی روح زندہ تو رہتی ہے مگراس جسم خاکی کے
ساتھ جب تک ہے وہ اعمال کے ذریعہ ترتیب اور ثواب حاصل کر سکتے ہے، برزخ کے جسم میں جانے کے
بعد عام انسان کی روح کی ترتیب بندہ ہوجاتی ہے، نتوہ برزخ میں کہا تا پیشہ اور نکوی عمل کر کے باطنی
ترتیب حاصل کر سکتا ہے اس واسطے کہ پیدارا عمل نہیں ہے دارا الجزاء ہے، گوہر عام انسان کی روح زندہ
ہے مگر کہا پینا اور باطنی ترتیب بندہ ہو نے کہا جاتا ہے کہ وہ مرگیا ہے۔
بخلاف اس کے شہیدوں کی روح جسی خاکی جسم چھوڑ کر برزخ کے لطیف جسم میں حلی جاتی ہے،
اس کے شہید پر کسی موت کا اطلاق ہوتا ہے مگر اعمال کے ذریعہ اس کی ترتیب نہیں ہوتی ہے جسم
خاکی میں جسی عمل کے ذریعہ ترتیب کرتے ہیں، شہید، برزخ کے جسم لطیف میں جانے کے بعد جسی
ویں،یہ بستورترقی کرے اور کہاتے پیہے جس رہے ہیں،اسی لے کہ جاتاہے کہ شہید زندہ ہیں ان کی
زندگی جس پچھ فرضی نہیں،مبالغہ نہیں،واقی وہ زندہ ہیں،زندگی کے سارے آثار موجود ہیں "یُرزُقُونَ.
فَرِحِينَ بِمَا اتَّقَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ" (اپنے خدا کے پاس اس کے فضل سے کہاتے پیہے اور خوشیاں
مناتے ہیں) عمدہ عمدہ ہیئت برسم کی لذت اور آرام حاصل کر رہے ہیں جہال چاہے گل گشت کرتے ہیں
سبز پرندول کے خول میں رہ کرا یہ،یہ سیر کرتے ہیں جسیا کہ تم آنج کل ہواگی جہاز میں سیر کیا کرتے
ہیں،اپنے اعمال سابقہ کی بہار لوٹ رہے ہیں ان کے اعمال گل دریا میں اور حور جنت بن کران کے
ساخ پیں وہ ان سے لذت لے رہے ہیں عالم قدس میں ترقی کرتے ہیں خدا کے قرب کے درب
بلہرہ ہیں،پران کی آخرت کی زندگی ہے-
بخلاف اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اقدس حسین مطہر نقل اس لے آپ پر چھی
موت کا طلاق ہوا،ارشادباری تعالیٰ کے "انک میت" و انہم میتون"،(آپ پر چھی موت آئی
ہےاوران پر چھی) مگر عالم برزخ میں کوئی ایسی لطف حسین حقا جواب پ کی روح مطہر کے لاگ ہو،اس
مجے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر نہ نہیں میں سے عالم برزخ میں اور نآخرت میں،جب عالم
برزخ میں ایسی حسین لطف نہیں رہا تو پھر اسی حسین خاکی میں روح مطہر کو واپس کرو ایا گیا اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا پیہی حسین مطہراس عالم سے عالم برزخ میں منتقل ہوگیا اور اسی مجے آپ کو حیات ابی صلی
اللہ علیہ وسلم کیتے پیں کر آپ اس حسین خاکی کے ساتھ عالم برزخ میں تشریف فرمائیں،چوکہ عالم انسانوں
اور شہداء کی رویں عالم برزخ میں دوسرے لطف اجسام میں منتقل ہوگی پیں اس لے ان سے حسین خاکی
تقسیم ہوسکتی ہے،اس
کے لوازم پچھ توٹ گئے پیں ان کی پیپول سے نکاح کیا جاسکتا ہے،ان کی میراث تقسیم ہوسکتی ہے،اس
کے برعکاف چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیہی حسین خاکی عالم برزخ میں منتقل ہوگیاہے اور آپ کے
حسین خاکی کے لوازمات منقطع نہیں ہوئے پیں،اس لے ازدواج مطہرات سے آپ پ کے بعد نکاح کرنا
حرام قرار دیا گیا ہے،اور آپ کی میراث تقسیم نہیں کی گئی اگر ایسا کیا جاتا تو لا زم آتا کر زندہ کی پیوی سے
نکاح کیا گیا اور زندہ کا مال تقسیم ہوا،عالم برزخ کے حسین میں جو لافت پانی جاتی ہے وہ لافت حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کے اس حسین خاکی میں بدر جہازا ندمو جودہی،چھر عالم برزخ میں آپ کے لے لطف حسین کی
کیا ضرورت؟جبہے عالم برزخ کے حسین مبارک کو سایہ پیہیں ہوتا ایے،یآپ کے حسین مبارک کو سایہ پیہا اور عالم
برزخ کے لطیف جسم میں سے جس کو نہ چیز ادھر سے ادھر نکل جائے ہے ایسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عالم کے خاکی جسم میں سے پڑکا کرم مبارک سے باہر ہوگیا تو اس وجہ سے آپ کا ارشاد مبارک ہے جس میں سامنے دیکھا ہو ل وی پیچے سے بھی دیکھا ہو ل، کیا کہی آپ نے کسی کثیف جسم کو دیکھا سے کہ وہ سامنے کی طرح پیچے سے بھی دیکھا کرتا ہو؟ یتو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں لطافت ہی کہ آپ سامنے کی طرح پیچے سے بھی دیکھا کرتے تھے، آپ کے اس عالم کے جسم کے لطیف ہوئے پر معرارج شریف کا اقتدار کرتا ہے، کونی کثیف جسم ایسا نہیں پیچ سکتا، جسیا کہ معرارج میں آپ کا لطیف جسم کہاں سے کہاں پیچ گیا۔ اس تمہید کے بعد ذکور الصدر حدیث کواس طرح ہے۔ کونی مسلمان کہیں ہو جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام مجھتا ہے تو روح اقدس جو عالم برزخ میں احوال ملكوت کی طرف متوجہ رہتی ہے اور مشاہدہ رب العزت میں مستغرق ہے، سلام کا جواب دینے کے لیے روح مطہر کو نذورہ حالت سے ایا، ای افاقہ ہوتا ہے، جسے دنیا میں وہ کے وقت عالم ملكوت کی طرف مشغولیت ہوتی ہے تی اور وہی ختم ہو نے کے بعد مہر آپ اس عالم کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حدیث شریف میں "رَّدَ اللہُ عَلَیَ رُوحی" جو نذورہ اس میں ردورح سے، روح مطہر کا جسم سے نکلنا اور سلام کے وقت پھر جسم کی طرف آنا مراد نہیں ہے، بلکہ روح اقدس کا استغراق اورحویت سے اپنی اصلی حالت پر لوٹ آنا مراد ہے اگر روح اقدس کا جسم سے نکلنا اور پھر جسم میں داخل ہونا مراد ہوتا تو حدیث شریف میں "رَّدَ اللہُ عَلَیَ رُوحی" کے جگہ "رَّدَ اللہُ عَلَیَ جَسِمی رُوحی" ارشاد فرما یا جاتا، لیکن میری روح کو میرے جسم کی طرف لوٹایا جاتا ہے، جب ایا نہیں فرما یا بلکہ فرما یا کہ "روح میری طرف لوٹ آئی ہے" تو اس کے بیان میں ہوئے کہ نہیں اس عالم سے اس عالم کی طرف افاقہ ہوتا ہے اور سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دیتا ہو ل۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک کا جسم اقدس سے نکلنا اور پھر اس جسم اقدس میں داخل ہونا اور آپ کا اس جسم خاکی کے ساتھ اپنی قبر شریف میں تشریف فرما ہونا کوئی جیرت کی بات نہیں سے جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کی اس جسم خاکی کے ساتھ عالم بالا کو اٹھا لے گئے اور آپ اس جسم خاکی کے ساتھ اس وقت عالم بالا میں تشریف فرما ئے۔
حضرت علی علیہ السلام کے اوپر انہا لے جانے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جسم خاکی کے ساتھ قبر مبارک میں تشریف رکھنے کی نظیر ملتی ہے، رباروح مبارک کا جسم اطہر سے نکلنا اور پھر جسم اقدس میں واپس جونا اس کی نظیر بھی احمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے واقع میں موجود ہے اور اس واقع کی تفصیل ذیل میں تفسیر روح المعانی سے درج کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ مریم میں حضرت اور لیس علیہ السلام کی شان میں ارشاد فرما یہ "وَرَفَعْنَہُ مَکَانًا عَلِیًّا" (اور انہیں اعلیٰ مقام پر بلند کیا) تفسیر روح المعانی میں حسن باصري رضی اللہ عنه روایت ہے "مَکَانًا عَلِیًّا" سے مراد جنت ہے اس لیے کہ جنت سے بلند کر بلندی کی مقام کو حاصل نہیں اور کثر مفسرین کی رائے پیہ کہ حضرت اور لیس علیہ السلام حضرت اس جسم خاکی کے ساتھ جنت میں پہنچا یے گی۔
حضرت اور لیس علیہ السلام کے جنت میں انہا لے جانے کی تفصیل پیہ کہ صاحب روح المعانی نے ابن احمد رکی تخریج سے عمر مولی عفرة رضی اللہ عنه سے ایک مر فوع حدیث نقل فرماتا ہے، جس کا خلاصہ یہ کہ حضرت اور لیس علیہ السلام پر مہرگار نبی مرس ل ہے، آپ نے بهفت کے ساتھ دونوں کورو حصول میں تقسیم کر رکھا تھا، تین دونوں کو میری تعالیم دیتے اور باقی چار دونوں زمین میں سیاحت فرماتے اور لیس عبادت شاق فرما کرتے کہ تھا آپ کی نیا ل جوآ سان پر انہا لی جانے تحسین وہ اس زمانے کے سارے انسانوں کی نیپیون کے برابر ہوتی تحسین حضرت اور لیس علیہ السلام کے تقوی عبادت اور نیپیون کی وجہ سے ملك الموت کو آپ سے ملاقات کا شوق ہوا اور وہ آپ کی سیاحت کے دوران میں آپ کے پاس پنچھا اور آپ سے خواہش کی کر اے اللہ کے نبی! اپنی صحبت بارکت میں بھی چند دن رہنے کی اجازت دی! حضرت نے فرما کہ تمہارا گز ارہ میرے ساتھ دشواری ہے لیکن اصرار پر آپ نے اجازت دی، دودن تک ملك الموت آپ کی صحبت میں رہے، ان کے کہنا نے کہا نے اور عبادت سے نہ تکنے کی وجہ حضرت اور لیس علیہ السلام نے ان سے فرما یا خدا! تم انسان نہیں تو انہول نے جواب دیا پیشک میں فرشتہ ہول اور ملك الموت ہول اور آپ سے للہ اور نے اللہ صحت رکتا ہول، پیس کر حضرت اور لیس علیہ السلام نے فرما کہ ان دونوں میں آپ نے کسی کی روح قبض تو نہیں کی؟ ملك الموت نے جواب دیا کیوں نہیں؟ جس کسی کی روح قبض کرنے کا مجھے حکم ہواہے میں نے اس کی روح
قبض کر دیا، اور پھر تو بیکر پوری دنیا میرے سامنے ایسی ہے جسیا کر آدمی کے سامنے دسترخوان پھتا
ہوا ورود جس چیز کو چاہے کہ اپنا ہو پس کر حضرت اور لیس علی السلام نے ملك الموت سے فرما کر میں تم
کو اس ذات اقدس کی قسم دیتا ہوں جس کے سبب تم نے مجھے محبت کر کیا ہے کہ تم میری ایک
ضرورت کو پوری کرو، ملك الموت نے کہا یا نبی اللہ! فرماییے وہ کیا حاجت ہے؟ حضرت اور لیس علیه
السلام نے فرما کر جاپتا ہوں کہ موت کا مزہ چھون، پھر آپ میری روح مجھ پرواپس فرما دین، ملك
الموت نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت اور لیس علی السلام کی روح مبارک کو نکالا اور پھر واپس کرو دیا،
اس کے بعد حضرت اور لیس علی السلام کی فراش پر آپ کودوزخ اور جنت کہانی، جب آپ نے جنت
دیکھی اور جنت کی ختمی، خوشبواورگل ور بیان دیکہ تو ملك الموت سے فرما کر مجھے جنت میں داخل کرو
کہ میں پھر کہاون اور پیون تاکہ جنت کی طلب اور شوق کا مجھ میں اضافہ ہوجائے، الغرض حضرت
اور لیس علی السلام جنت میں داخل ہوئے میو کہا کہ اور پانی پیا، اس کے بعد ملك الموت نے کہا
اے یا اللہ! اب تو تمہاری حاجت پوری ہوچکی ہے اب یہاں سے چلو کر اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کے
دون انگیاء علیہم السلام کے تمراه جنت میں داخل فرما دین، حضرت اور لیس علی السلام نے جنت کے ایک
درخت کو پکڑ لیا اور فرما کر اب یہاں سے نہیں نکلون گا اور اگر تم چاہو تو میں تم سے اس بارے میں
مباحثہ کر سکتا ہوں جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرما گا، اللہ تعالیٰ نے ملك الموت پروی نازل فرما کر
اور لیس سے مباحثہ کرو! ملك الموت نے حضرت اور لیس علی السلام سے فرما کر اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے "کلُّ
کیا مباحثہ کرنا چاہتے ہیں؟ اس پر حضرت اور لیس علی السلام نے فرما کر اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے "کلُّ
نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ" (بہرخص ایک ناکی دن موت کا مزہ چھون والاح) اور میں نے موت کا مزہ
چھون لیا، اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے "وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا" (تم میں کوئی ایسا نہیں جو جنم پر
سے ہو کر نگذرے) اور میں جنت میں پرے گزر چکا ہوں) اور ابل جنت کیے اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے "وَمَا
ہُمْ مِّنْهَا بُمُخْرَجِينَ" (اور تی جنت میں جنت سے نکالے نہ جا سکیں گے) تو اللہ تعالیٰ نے جب مجھے
جنت میں داخل فرما کر تو جنت سے کیا نقل جاؤں؟ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت پروی نازل فرما کر
میرے بنے اور لیس نے مباحثہ میں تم پر کا میا بی حاصل کر لی، میری عزت و جلال کی قسم کہ یہ سب پکھو
میرے علم میں تھا تو اے ملک الموت! اور لیس کو چھوڑ دو کر انبول نے تم پر بری قوی جحت پیش کی ہے -
اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد صاحب روح المعانی کہتا کر اللہ تعالیٰ نے حضرت ادريس
علیہ السلام کی تو صیف اورشان میں جو "وَرَفَعْنَهُ مَکَانًا عَلِيًّا" فرماپی کر اس کا اقتضاء بھی ہے۔
علاوہ ازی تقسیر ورمنثور میں بھی ایسی بی تفصیل کے ساتھ ابن المنذر نے کی تخریج تے عمر مولی عفرة رضی
اللہ عنہ سے بھی حدیث مرفو ع موجود ہے۔
حضرت اوریس علیہ السلام کے اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی روح مطہرہ جسم سے نکالی
گئی پھر واپس لگئی اورآپ ابا سی جسم خاکی کے ساتھ جنت میں تشریف فرما ئے۔
الغرض او پر کے دونوں واقعات سے جب پی ثابت ہوگیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس جسم
خاکی کے ساتھ عالم بالا میں تشریف فرما ئے، اور حضرت اوریس علیہ السلام کی روح مبارک آپ
کے جسم الطہر سے نکالی گئی، پھر واپس لگئی اورآپ اس وقت اسی جسم خاکی کے ساتھ جنت میں
تشریف فرما ئے تو اگر سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک جسم الطہر سے نکل کر پھر جسم اقدس
میں داخل ہوئی اورآپ بھی اسی جسم خاکی کے ساتھ عالم برزخ میں اپنی قبر مبارک میں تشریف فرما
پیں تو کیا تجب کی بات ہے؟
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There is no one who sends greetings upon me except that Allah returns my soul to me so that I may respond to their greetings." [Narrated by Abu Dawud and Al-Bayhaqi in Al-Da'awat Al-Kabir]
It is said that the one who recites the first part [of the verse] and says, 'What is death?' Death is the name of transition, where the soul leaves one body and enters another. This is like when a bird is placed between two cages, and when the door of one cage is opened, the bird moves from one cage to the other. In the world of Barzakh, a new subtle body is created for this earthly body. The difference is that the earthly body is dense, while the Barzakh body is subtle. Thus, some of Allah's saints, such as the Majid Daf Thani (RA), would be invited to many gatherings at once, and they would appear in each place at the same time. One was their earthly body, and the other was the subtle body that appeared to people, bringing miracles from the world of Barzakh into this world. When you see the body of a deceased person in a dream, it is the subtle body of the Barzakh, into which the soul has transferred from the earthly body. In summary, death is when the soul leaves the dense earthly body and enters the subtle body of Barzakh. Apparent death happens to every human, whether common or martyr, and even to the Prophet (SAW). However, their souls remain alive. What is the difference in their life after death? The difference is that every human's soul remains alive, but as long as it is with the earthly body, it can earn rewards through actions. After entering the Barzakh body, the soul of a common person becomes limited and can no longer perform physical actions, though it can still make inner progress. For common people, the soul is alive, but because it cannot act or make inner progress, it is said to have died. In contrast, the soul of a martyr, upon leaving the earthly body, enters the subtle body of Barzakh. Although the term 'death' applies to them, they do not earn rewards through actions as they did in the earthly body. After entering the subtle body of Barzakh, the martyr continues to progress and remains in the state they were in. Therefore, it is said that martyrs are alive, not in a hypothetical sense, but truly alive, with all the effects of life present: 'They are sustained, and they are happy with what Allah has bestowed upon them from His bounty.' They enjoy the pleasures and comforts of the world of sanctity, wandering in green gardens and resting in the shade of birds. They revisit their past deeds, which are like rivers of flowers, and they take pleasure from them in the world of sanctity, progressing towards the nearness of Allah. This is the life of the hereafter.
In contrast, the pure soul of the Prophet (SAW) experienced a form of death, as indicated by the divine revelation: 'Indeed, death has come to him, and to them.' However, there is no such sublime favor in the world of Barzakh for the pure soul of the Prophet (SAW). There is no parallel to the Prophet (SAW) in the world of Barzakh or the hereafter. Since there is no such sublime favor in the world of Barzakh, his pure soul was returned to his earthly body, and the Prophet (SAW) was transferred from the world of Barzakh to his pure earthly body, thus being granted life. The requirements of the world of Barzakh, such as the division of inheritance and remarriage, do not apply to the Prophet (SAW) because his pure earthly body remains intact. Therefore, it is forbidden to marry his widows after him, and his inheritance is not divided. If this were to happen, it would imply that the living could remarry and divide property. The favors found in the subtle body of Barzakh are also present in the pure earthly body of the Prophet (SAW), making it unnecessary for him to enter the world of Barzakh. When the pure soul of the Prophet (SAW) is in his earthly body, it is as if he is in the world of Barzakh, and vice versa. The pure soul of the Prophet (SAW) can leave and return to his body, as seen during the Ascension. A dense body cannot do this, as demonstrated during the Ascension, where the Prophet's (SAW) subtle body moved from one place to another. After this introduction, the hadith is explained as follows: Whenever a Muslim greets the Prophet (SAW), his pure soul, which is engaged in the observation of the divine realm and the vision of the Almighty, turns its attention to respond to the greeting. This is a momentary shift, similar to how the Prophet (SAW) would turn his attention to the divine realm after completing his worldly tasks. From this, it is clear that in the noble hadith, 'Allah returns my soul to me,' the meaning is not that the soul leaves the body and then returns, but rather that the soul returns from its absorption and focus to its original state. If the meaning were that the soul leaves the body and then returns, the hadith would say, 'Allah returns my soul to my body.' However, since it says, 'My soul returns to me,' it indicates a shift in attention within the same world, and the soul responds to the greeting. The idea that the pure soul of the Prophet (SAW) leaves and re-enters his body, and that he rests in his blessed grave with his earthly body, is not extraordinary. Before the Prophet (SAW), Jesus (AS) was raised to the higher world with his earthly body, and the Prophet (SAW) was similarly raised with his earthly body. The raising of Ali (AS) with his earthly body to his blessed grave parallels the raising of the Prophet (SAW) with his earthly body. The departure and return of the pure soul to the pure body is also paralleled in the case of Ahmad (SAW), as detailed in the interpretation of Ruh al-Ma'ani. Allah (SWT) says in Surah Maryam about Jesus (AS): 'And We raised him to a noble station.' According to the interpretation of Ruh al-Ma'ani, this refers to Paradise, as nothing surpasses Paradise in nobility. Many interpreters believe that Jesus (AS) was raised to Paradise with his earthly body. The details of Jesus (AS) being raised to Paradise are narrated by Ibn Ahmad Razi from Umar ibn Al-Khattab (RA), summarizing that Jesus (AS) was a prophet sent to both tribes, dividing his time between teaching and traveling. His piety and worship made the angel of death desire to meet him, and he visited Jesus (AS) during his travels, asking to stay with him for a few days. Jesus (AS) initially refused but eventually agreed. During this time, the angel of death did not interrupt his worship. Jesus (AS) asked the angel of death to take his soul and return it, which the angel did by divine command. Jesus (AS) then experienced the joys of Paradise and asked to be admitted, so that his desire for Paradise would increase. He entered Paradise, ate and drank, and the angel of death asked him to return to the world. Jesus (AS) refused, and a debate ensued, which Allah (SWT) resolved in his favor. This narrative shows that Jesus (AS) left his body, returned to it, and entered Paradise with his earthly body. Similarly, the story of Adris (AS) shows that his pure soul left his body, returned, and he entered Paradise with his earthly body. Therefore, if the pure soul of the Prophet (SAW) left his body, returned, and he rested in his blessed grave with his earthly body, why should this be considered extraordinary?