Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ تَأخِيرِ الصَّلَوَاتِ وَ تَعْجِيلَها

Delaying and Advancing Prayers
Volume 2 · Prayer

( بعض نماز ون کوتا خیر کر کے مستحب وقت میں اور بعض نماز ون کوجلدی کر کے

اول وقت پڑھنے کی فضیلت کا باب )

نماز ظہر کا مستحب وقت

The Chapter on the Merit of Some Prayers Being Performed in Their Preferred Times and Others Being Performed Promptly at the Beginning of Their Prescribed Times

The Recommended Time for the Zuhr Prayer

881

- خالد بن وینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے امیر نے نماز جمعہ پڑھانے

کے بعد انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ظہر پڑھا کرتے تھے؟

انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب سخت سردی کا موسم ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں

تَعْجِل فرما تے تھا اور جب گرمی سخت ہوجاتی تو نماز ظہر کو تھندے وقت ادا فرما تے - ( اس کی روایت

بخاری میں ہے - )

نماز ظہر کا مستحب وقت

Narrated by Khalid bin Dinar: Our leader led us in Friday prayer, then he asked Anas: "How did the Messenger of Allah ﷺ pray Zuhr?" He said: "When it was extremely cold, the Messenger of Allah ﷺ would hasten the prayer, and when it was extremely hot, he would delay it." [Narrated by Bukhari]

882

- انس بن ماک اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم موسم سرمائی نماز ظہر جلد ادا فرما کرتے اور گرمائی نماز ظہر میں تاخیر فرما کرتے تھے - ( اس کی

روایت طحاوی میں ہے - )

نماز ظہر کا وقت مستحب

Narrated by Anas bin Malik and Abu Mas'ud: The Messenger of Allah ﷺ would hasten the prayer in winter and delay it in summer. [Narrated by At-Tahawi]

883

- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب

موسم گرمہ ہوتا تو نماز ظہر کو تھندے وقت ادا فرما کرتے اور جب جب سردی کا موسم ہوتا تو جلدی ادا فرمایا

کرتے تھے - ( اس کی روایت نسائی میں ہے اور اس حدیث کے راوی ثقة ہیں اور سب سے کے راوی ہیں - )

بعض حدیثوں سے بالاقید موسم تقلیل ثابت ہوتی ہے اور بعض احادیث سے بالاقید موسم تاخیر اور پیش تعارض

اس باب کی حدیثوں سے اس طرح دور ہوجاتا ہے کہ جن حدیثوں میں تقلیل ظہر ذکور ہے وہ موسم سرا

سے متعلق ہیں اور جن حدیثوں میں تاخیر ظہر ذکور ہے وہ موسم گرم کے متعلق ہیں اور جن حدیثوں سے

موسم گرم میں تقلیل ظہر ثابت ہے ایسی حدیثوں کے متعلق بھی اس کا قول ہے کہ ایسی حدیثیں منسوخ ہیں۔12

Narrated by Anas bin Malik and Abu Mas'ud: The Messenger of Allah ﷺ would hasten the prayer in winter and delay it in summer. [Narrated by At-Tahawi]

نماز ظہر تختے وقت پڑنے کی وجہ
884

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کہ جب شدت کی گرمی ہوتی نماز ظہر (پیتر جمع بخاری کی روایت کے لحاظ سے کیا گیا ہے

جو ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں نماز ظہر کی صلاحت ہے۔12) کو تختے وقت پڑھو!

Narrated by Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "When it is intensely hot, then delay the prayer – and in another narration from Bukhari, from Abu Sa'id: ‘delay Zuhr prayer.’ The intense heat is from the scorching breath of Hell. The Fire complained to its Lord and said: 'O my Lord, some of me have consumed the rest of me.' So, He allowed it two breaths: one in winter and one in summer. The most intense heat that you experience is from it, and the most intense cold is from its freezing cold." [Agreed upon] And in a narration from Bukhari: "The most intense heat you experience is from its poisonous breath, and the most intense cold is from its freezing cold."

885

کیون کہ گرمی کی شدت جتنم کی بجائے پرتے ہوتی ہے جتنم نے اپنے پروردگار کے

شکایت کی اور کہا کہ اے میرے پروردگار میرے بعض نے بعض کو حالیاہ تو اللہ تعالیٰ نے جتنم کو دو

دفر سانس لینے کی اجازت دی (1) ایک سانس سرما میں اور (2) دوسرا گرمی میں اس وجہ سے تم سخت

سخت گرمی محسوس کرتے ہو اور سخت سردی پائے ہو۔ (جو انہی دو نوں سانسون کا اثر

ہے)۔(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر لی ہے۔)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

Narrated by Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "When it is intensely hot, then delay the prayer – and in another narration from Bukhari, from Abu Sa'id: ‘delay Zuhr prayer.’ The intense heat is from the scorching breath of Hell. The Fire complained to its Lord and said: 'O my Lord, some of me have consumed the rest of me.' So, He allowed it two breaths: one in winter and one in summer. The most intense heat that you experience is from it, and the most intense cold is from its freezing cold." [Agreed upon] And in a narration from Bukhari: "The most intense heat you experience is from its poisonous breath, and the most intense cold is from its freezing cold."

886

کرتے ہووہ جتنم کی گرم سانس کی وجہ سے ہوتی ہے اور سخت سردی جس کو تم محسوس کرتے ہووہ جتنم کے

طبقہ زمہریر کی تختے سانس کی وجہ سے ہوا کرتی ہے۔

نماز ظہر تختے وقت پڑنے کا پیمان

Narrated by Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "When it is intensely hot, then delay the prayer – and in another narration from Bukhari, from Abu Sa'id: ‘delay Zuhr prayer.’ The intense heat is from the scorching breath of Hell. The Fire complained to its Lord and said: 'O my Lord, some of me have consumed the rest of me.' So, He allowed it two breaths: one in winter and one in summer. The most intense heat that you experience is from it, and the most intense cold is from its freezing cold." [Agreed upon] And in a narration from Bukhari: "The most intense heat you experience is from its poisonous breath, and the most intense cold is from its freezing cold."

887

کہ جب گرمی کا موسم ہوتا نماز ظہر کے وقت پڑھا کر ویون کر گرمی کی شدت جہنم کی بجا پ سے ہوتی

ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

گرمیون میں نماز ظہر کو اول وقت ادا کرنے کا حکم منسوخ ہے

Narrated by Al-Mughira bin Shu'ba: The Messenger of Allah ﷺ led us in Zuhr prayer at midday, then said: "The intense heat is from the scorching breath of Hell, so delay the prayer." [Narrated by At-Tahawi]

Al-Mughira mentioned in this narration that the Messenger of Allah ﷺ instructed to delay Zuhr prayer after previously praying it during the heat, which establishes the abrogation of hastening Zuhr during intense heat, and it is now necessary to delay it in such heat.

888

مغيرہ بن شعبر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم نے تم کو نماز ظہر دو پہر دو سلن لیعنی ابتدائی وقت میں پڑھانی اور رشا فر ما یا کر گرمی کی شدت جہنم کی

بجا پ سے ہوتی ہے اس لئے ظہر کی نماز ظہر کے وقت پڑھا کرو۔

(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے) اور امام طحاوی نے کہا ہے کہ مغیرہ ضی اللہ عنہ نے اس

حدیث میں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز ظہر تاخیر کر کے ظہر کے وقت

پڑھیں اور یہ حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دیا کر آپ اس حکم کے دونے سے پہلے نماز ظہر کو

گرمی میں ابتدائی وقت ادا فر ما یا کرتے تھے، اس سے پی ثابت ہوا کہ سخت گرمی میں نماز ظہر کا ابتدائی

وقت میں پڑھنا منسوخ ہوگیا اور نماز ظہر کو گرمی میں تاخیر کر کے ظہر کے وقت پڑھنا واجب ہوگیا۔

نماز ظہر گرمیون میں ظہر کے وقت پڑھنے کا حکم مطلق ہے کسی موقع سے خاص نہیں

Narrated by Al-Mughira bin Shu'ba: The Messenger of Allah ﷺ led us in Zuhr prayer at midday, then said: "The intense heat is from the scorching breath of Hell, so delay the prayer." [Narrated by At-Tahawi]

Al-Mughira mentioned in this narration that the Messenger of Allah ﷺ instructed to delay Zuhr prayer after previously praying it during the heat, which establishes the abrogation of hastening Zuhr during intense heat, and it is now necessary to delay it in such heat.

889

ابوز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ تم ایک سفر میں نبی صلی اللہ

علیہ وسلم کے ہم رکاب تھے موزن نے ازال دین کا ارادہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے

ارشاد فر ما یا کر دھوب میں ظہر کے آنے دو تحویزی دیے کے بعد ارادہ کیا کر اذان دی، حضور صلی اللہ علیہ

وسلم نے پھر ان سے فر ما یا کر دھوب میں ظہر کے آنے دو، پھر ان تک کر طیلون کا سایہ طیلون کے ایک

مشہوگیا (حدیث ثریف کے الفاظ "حتی ساوى الظل التلول") (پہان تک کر طیلون کا سایہ

طیلون کے ایک مشہوگیا ہے)۔ اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ظہر کا وقت ایک مشہوگی باقی

رہتا ہے اس کی وجہ یہ کہ اشياء منسٹط (لیعنی چیزیں جو مشہوگیا ہوتی ہوتی جیسے سیل و غیرہ) کا سایہ جب

ایک مشہوٰتاہ تو اشیاء منتصبہ ( لیعن ایسی چیزیں جو کہری بھوییہ بول جیسے لاٹی وغیرہ ) کاساپرو

مش کے قریب پچھ جاتاہے۔ ( ماخوذ از اعلماۓ اسلفن _12) ( لیعن عام چیزوں کاساپیان کے دوش

کے قریب پچھپااوراس وقت ظہراداکیگئی ) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرماياکرگرمی کی شدت

جہنم کی بجاپ سے ہوتی ہے۔ ( اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔ )

نماز ظہر گرمیون میں تحدیدے وقت پڑهنے کا حکم مطلق ہے جو کسی موقع سے خاص نہیں؛

اس پر دوسرا حدیث

Narrated by Abu Dharr: We were traveling with the Prophet ﷺ, and when the muezzin was about to call the adhan, the Prophet ﷺ said to him: "Delay." Then the muezzin attempted to call the adhan again, and the Prophet ﷺ said: "Delay," and again he said: "Delay," until the shadow was equal to the hilltops. The Prophet ﷺ then said: "Indeed, the intense heat is from the scorching breath of Hell." [Narrated by Bukhari]

890

ابوز رضی اللہ عنہ روایت سے، انہوں نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم کے سفر اہ سفر کی ایک منزل میں فروش ہوئے تھے تو بال رضی اللہ عنہ ازال دیناچاہے تو رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظہر جاوا لے بلال ! پھر انہوں نے تحویزی دریکے بعد ارادہ کیا کراذا ندیں

تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ظہر جاوا لے بلال ! یہاں تک کہتم کوٹیوں کاساپی کحا لی دیں

لگا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرگرمی کی شدت جہنم کی بجاپ سے ہوتی ہے اس لے تم

ظہر کی نماز کو تحدیدے وقت پڑھاکر وجہبہ گرمی کا موسم سخت ہوجائے۔ ( اس کی روایت طباوی نے کی

ہے اور ترجمہ نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔ )

ف : ترجمہ نے واضاحت کی ہے کہ جن اتمر نے ( جیسے امام اعظم، امام احمد اور ابن مبارک

و غیرہ تم رحمہ اللہ ) نے پمسلك اختیار کیاہے کہ نخت گرمی میں نماز ظہر میں تاخیر کی جائے تو قول پیروی

کیے مرتجع اور اولیہ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جومسلک اختیار کیاہے کہ گرمی کے موسم میں

تاخر ظہر کی رخصت ان لوگوں کیلے ہے جودور سے آتے ہیں اس لے ان کی مشقت دور کرنے کیلے

تاخر کا حکم دیا گیا حالاکہ ابوز رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں جواب قطعی ذکور ہے وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے

قول کی تائید نہیں کرتا کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جس مسلک واختیار کیاہے اگروہ درست ہوتا تو سفر کی

حالات میں ابراد ( لیعن تحدیدے وقت میں ) نماز ظہر پڑھنا ایک بہ محتی بات ہوجاتی، کیونکہ نماز ادا

کر نے والے حالات سفر میں تھا اور ایک جگہ جسے تھا اور ان کو اس بات کی ضرورت نہیں تھی کے دور سے

آکر آ کٹھے ہول - (یہ پورا مضمون ترجمہ میں ذکور ہے)

نماز عصر تا خیر سے پڑھنا مستحب ہے

Narrated by Abu Dharr: We were with the Messenger of Allah ﷺ at a place, and Bilal called the adhan. The Prophet ﷺ said: "Wait, O Bilal," and then when he wanted to call again, he said: "Wait, O Bilal," and then when he tried to call again, he said: "Wait, O Bilal," until we saw the sun. The Messenger of Allah ﷺ then said: "The intense heat is from the scorching breath of Hell. So, delay the prayer when the heat intensifies." [Narrated by At-Tahawi, and a similar narration is narrated by Tirmidhi]

He said: The interpretation of the delay of Zuhr prayer during intense heat is more in line with following the Sunnah. As for the view of Imam Shafi'i, which suggests the concession is for those who travel long distances or for people who face difficulty, the narration from Abu Dharr contradicts what Imam Shafi'i said. If it were as Imam Shafi'i said, there would have been no reason for delaying prayer during that time, especially when they were all in the journey and did not need to travel from a distance.

891

عبد الواحد بن نافع رضی اللہ عنہ ت روایت سے، انہوں نے کہا کہ میں کوفہ کی

مسجد میں داخل ہوا تو موزن نے عصر کی اذان دی (و بال) ایسے رسیدہ بزرگ بیٹھے ہوئے تھے

انہوں نے موزن کو ملامت کی اور کہا کہ بیرے والد نے تجہ خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

حکم دیا کرتے تھے کہ یہ نماز (عصر) تاخیر سے پڑھی جائے، پیس کر میں نے ان بزرگ کے متعلق

لوگوں سے دریافت کیا کہ بیکون بزرگ ہیں؟ تو لوگوں نے کہا کہ یہ عبد اللہ بن رافع بن خدر رضی اللہ عنہما

ہیں (ان کے والد رافع بن خدر نے جبل القدر صاحبی ہیں)- (اس کی روایت وارثی اور زیادتی نے کی ہے)-

نماز عصر میں اس قدر تاخیر مستحب ہے کہ آفتاب زردہ ہوجائے

Narrated by Abdul Wahid bin Nafi': I entered the mosque of Kufa, and the muezzin called the adhan for Asr. An elder sitting there reproached him, saying: "My father told me that the Messenger of Allah ﷺ used to command the delay of this prayer." I asked about it, and they said: "This is Abdullah bin Rafi' bin Khadij." [Narrated by Darqutni and Bayhaqi]

892

عبد الرحمن بن علی بن شیبان رضی اللہ عنہ اپنے والد کے وسط میں اپنے دواوں

روایت کرتے ہیں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مددینہ منورہ پہنچ تو دیکھا کہ حضور صلی

اللہ علیہ وسلم نماز عصر میں اتنی تاخیر فرماتے تھے کہ آفتاب صاف اور روشن رہتا-

(اس کی روایت ابوداووداور ابن ماجہ نے کی ہے)-

عصر کی نماز میں دیر کرنا سنت ہے

Narrated by Abdul Rahman bin Ali bin Shayban, from his father, from his grandfather: We arrived in Madinah, and the Prophet ﷺ used to delay Asr prayer as long as the sun remained white and clear. [Narrated by Abu Dawood and Ibn Majah]

893

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں تم لوگوں سے زیادہ جلدی فرماتے تھا اور تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

سے زیادہ عصر کی نماز میں جلدی کرتے ہو- (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے اور اس

حدیث کی سنن ہے اور اس حدیث کے راوی تین کی شرط کے موافق ہیں-)

نماز عصر دیری سے پڑھنا صحابہ رضی اللہ عنہم کی کچھ سننت ہے

Narrated by Umm Salamah: The Messenger of Allah ﷺ used to hasten Zuhr prayer more than you do, and you hasten Asr prayer more than he did. [Narrated by Ahmad and Tirmidhi]

Its chain of narration is authentic, and its narrators meet the criteria of authenticity.

894

زیاد بن عبدراللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سب سے برتری مسجد میں پیٹھ پیٹھ ہوئے تھے موزن نے آخر الصلوۃ کہا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرماپیتے جاؤ! وہ پیٹھ گئے۔ دوسری دفعہ پھر موزن نے الصلوۃ کہا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرماپیتے جاؤ! اور علی رضی اللہ عنہ نے فرماپا کہ بیکتا تم کونہاز سکھار پاہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھ اور تمیں نماز عصر پڑھائی نماز سے فراغت کے بعد تم پلیکر اس جگہ پینچ جہال تم پہلے پیٹھ ہوئے تھا اور تم گھٹن طیک کرآ فتاب کے ذوبے کو کیچ لگے۔ (اس کی روایت حاکم نے کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی سندت ہے اور بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اگرچہ کرانہول نے اس کی روایت نہیں کی ہے اور حدیث کی روایت دارتی نے یہی اس طرح کی ہے)

نماز عصر دوشل کے بعد پڑھنے کا بیان

It is narrated from Ziyad bin Abd Allah (RA) that he said:

You were sitting with Ali (RA) in the mosque, and Muzan said at the end of the prayer, 'O Ali (RA)! Go!' He went. Another time, when Muzan said, 'O Ali (RA)! Go!' Ali (RA) said, 'Bikta, you should learn to be cautious.' Then Ali (RA) stood up and led the Asr prayer. After completing the prayer, you sat in the same place where you had been sitting before, and you adjusted your legs, and then you caught hold of the hem of his garment. (This narration is reported by Hakim, who said that this hadith is authentic and meets the conditions of Bukhari and Muslim, although Karanwal did not report it, and Darati narrated it in this manner.)

895

عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تم ایک نماز جنازہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھے انہوں نے نماز عصر ادا نہیں کی اور ساکت رہے یہاں تک کہ تم ان کو بار بار متوجہ کرتے رہے اس پر مجھی انہوں نے نماز عصر اس وقت تک ادا نہیں کی جب تک تم نے مدینہ منورہ کے سب سے اوپر پہاڑ کی پرآ فتاب کو نیش دکھ لیا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے)

نماز عصر دیری سے پڑھنا تا بعین کی کچھ سننت ہے

Narrated by Ikrimah: We were with Abu Huraira at a funeral, and he did not pray the Asr prayer and remained silent. We asked him repeatedly, but he did not pray it until we saw the sun at the top of the tallest mountain in Madinah. [Narrated by At-Tahawi]

896

حماد رضی اللہ عنه، ابراہیم نخی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نخی نے کہا کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ول کو دیکھا ہے کہ وہ نماز عصر کو آخری وقت میں ادا کیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کتاب الحجج میں کی ہے)

عصر کا نام عصر رکن کی وجہ

Narrated by Hammad from Ibrahim An-Nakha'i: I saw the companions of Ibn Mas'ud praying the Asr prayer at its latest time. [Narrated by Muhammad in the Book of Hujaj]

897

ابوقلا بر ضی اللہ علیہ روایت ہے، انہوں نے کہا کر عصر کا نام اس لئے عصر رکھا

گیا ہے کر عصر کی نماز اس وقت ادا کی جائے تو جب کر آفتاب نچوڑا جاربا ہو (یعنی آفتاب میں ایسی

تمازت نہیں رہتی جیسی کر ایک مشل کے وقت رہتی ہے اس سے ثابت ہوا کر عصر کی نماز دو مشل پر ہوتی ہوتی

کرتی ہے - اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے - )

آفتاب کے زرد پڑجانے سے عصر کا کروہ وقت شروع ہوتا ہے

Narrated by Abdullah bin Amr bin al-As (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The time for the 'Asr prayer is until the sun turns yellow and its first horn sets." [Narrated by Muslim]

In another narration: "The time for the 'Asr prayer is until the sun sets."

Al-‘Ayni, in his commentary on the hadith of "Whoever catches a rak'ah..." said: "It has been widely reported from the Prophet (peace be upon him) that it is prohibited to pray at the time of sunrise and sunset unless it has been widely reported that prayer is permitted at that time. This indicates that the permission for prayer at those times has been abrogated by the widely reported prohibitions."

This is further supported by what is found in Muslim's narration: "Pray the prayer at its appointed time," and this was chosen by the author of "Radd al-Muhtar."

Imam al-Tahawi, in his explanation of the hadith "Whoever catches a rak'ah..." said: "It is possible that the meaning of 'catching' refers to children who reach maturity before sunrise, menstruating women who become pure, and Christians who embrace Islam. This is because when 'catching' is mentioned in this narration without reference to the prayer, it refers to those we have mentioned, and those similar to them, as being those who catch this prayer. Therefore, it is obligatory for them to make up the prayer, even if the remaining time of the prayer is less than the time in which they would normally perform it."

(1) The statement "It was abrogated" in the author's original work reads: "Both were abrogated."

(2) You might ask: What is the true nature of abrogation here? What you mention is a possibility, and does abrogation take place based on a possibility? I would respond that the true nature of abrogation here is that both prohibition and permission came together in this case. The prohibitive reports and narrations are widespread, while those regarding permission are not as widely reported. It is well known from the principle that when prohibition and permission coexist, the action must be according to the prohibition, and the permission is considered abrogated. This is because the abrogator is the later one, and there is no doubt that prohibition follows permission, as the default ruling for things is permissibility, and prohibition is an exception. The reverse would result in two abrogations, which is not possible. This was stated by al-‘Ayni. Understand this, for it is a delicate point that has become clear to me through divine illumination.

If you ask: The prohibition mentioned only applies to voluntary prayers, not to the making up of obligatory prayers. I would respond that the hadith of Imran bin Husayn, narrated by al-Bukhari, Muslim, and others, shows that a missed prayer falls under the prohibition of prayer at the time of sunrise and sunset. Imran said: "We traveled with the Messenger of Allah ﷺ on an expedition, or, he said, in a campaign, and when it was the last part of the night, we stopped to rest. We did not wake up until the heat of the sun had awoken us." The narration shows that the Fajr prayer was delayed until after sunrise, and it was not prayed before the sun rose. This indicates that the prohibition is general and applies to both obligatory and voluntary prayers. The specific mention of voluntary prayers is an unwarranted preference. This is discussed in "Umdat al-Qari."

898

انس رضی اللہ علیہ روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کر پی منافق کی نماز ہوتی ہے کر بیٹھا ہوا سورن کا انتظار کرتارہے یہاں تک کہ سورن

جب شیطان کے دونوں سینگون کے درمیان بیٹھ جائے (یعنی زرد پڑجانے) تو اس وقت اٹھ کر (مرغ

کی طرح) چار ٹھونگ مار لے جتن میں اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا (موقع) لے -

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے - )

ابرکے دونوں کی نماز عصر کا بیان

Narrated by Anas: The Messenger of Allah ﷺ said: "That is the prayer of the hypocrite. He sits and waits for the sun until it turns yellow and is between the two horns of Shaytan. Then he gets up and offers four rak'ahs, not remembering Allah in them except for a little." [Narrated by Muslim]

899

بریدہ رضی اللہ علیہ روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کر جب دن ابرآلو ہوتا نماز عصر ابتدا کی وقت پڑھ لیا کرو (اس لئے کر ابر کی وجہ سے

تمہیں وقت کا تخمینہ نہ ہوگا اور نماز نکے ہو جائے گی) اور (یہ معلوم ہے کر) جونماز عصر (کسی کا مکی

وہتے) نکل کر دیتا ہے تو (اس کام سے) برکت مطاوعی جائے ہے - (ابر کی وجہ سے جس کی اگر تمہاری

نماز نکے ہو جائے گی تو تمہارے اس وقت کے کام سے برکت مطاوعی جائے گی - ) (اس کی روايت

امام احمد، ابن ماجراور ابن جبان نے کی ہے - )

Narrated by Buraidah: The Messenger of Allah ﷺ said: "Make the prayer early on a cloudy day, for whoever delays the Asr prayer, his deeds are nullified." [Narrated by Ahmad, Ibn Majah, and Ibn Hibban]

نماز مغرب اول وقت پڑھنے کی تاکید
900

مرشد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جب جہادی غرض سے تشریف لائے تو اس زمانہ میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ حاکم مصر تھا، امر مصر عقبہ نے نماز مغرب میں پچھدی کو ابوایوب رضی اللہ عنہ اٹھاور فرمایا کر اے عقبہ! یہ کیسے نماز ہے؟ عقبہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ تم ( حکومت کے ) کاموں میں مشغول تھے (اور یہ عبادت ہے، اس وجہ سے درپوگئی ) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کو نہیں سنا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں شہ بجلالی پر رہے گی ایوں فرمایا کہ میری امت اسلام کی اصلی حالت پر رہے گی جب تک کہ نماز مغرب کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ کرے کہ ستارے چمک لیں - ( اس کی روایت ابوداود نے کی ہے - )

Narrated by Martad ibn Abdullah: Abu Ayyub came to us as a warrior, and Uqbah ibn Amir was in charge of Egypt at that time. He delayed the Maghrib prayer. Abu Ayyub stood up and said: "What is this prayer, O Uqbah?" He replied: "We were busy." Abu Ayyub said: "Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ saying: 'My Ummah will remain in good condition, as long as they do not delay the Maghrib prayer until the stars begin to appear.'" [Narrated by Abu Dawood]

نماز مغرب اول وقت پڑھنے کی تاکید پر دوسرا حدیث
901

ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز مغرب کو غروب آفتاب کے ساتھ ہی پڑھا کرو اور اس کی ابتداے تاروں کے نکلنے سے پہلے کیا کرو - ( اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے - )

Narrated by Abu Ayyub: The Messenger of Allah ﷺ said: "Pray the Maghrib prayer when the sun sets, and hasten to it before the stars appear." [Narrated by Al-Tabarani in the Kabir]

نماز مغرب اول وقت پڑھنے کی تاکید پر تیسری حدیث
902

ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز مغرب کی ابتداے تاروں نکلنے سے پہلے کیا کرو - ( اس کی روايت امام احمد اور دار قطنی نے کی ہے - )

Narrated by Abu Ayyub: The Messenger of Allah ﷺ said: "Hasten to offer the Maghrib prayer before the stars appear." [Narrated by Ahmad and Al-Daraqutni]

نمازِ مغرب اول وقت پڑھنے کی تاکید پر چوٹی حدیث
903

ابو یوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ مغرب تارے نکلنے سے پہلے اس وقت پڑھا کرو جب روزے دار کے افطار کا وقت آ جاتا ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)

Narrated by Abu Ayyub: The Messenger of Allah ﷺ said: "Pray the Maghrib when the fasting person breaks his fast, hasten it before the stars appear." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]

نمازِ مغرب اول وقت پڑھنے کی تاکید پر پاچویں حدیث
904

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ مغرب پڑھا کرتے تھا اور تم میں سے کوئی شخص نماز کے بعد واپس جھوٹا (تو ایکی روشنی میں واپس جھوٹا ہے) کراس کو اپنے تیرا نشانہ دکھائی دیتا۔

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔)

ابرکے دونوں میں احتیاط پیہ کہ نمازِ مغرب پڑھ دیتے پڑھے

Narrated by Rafi' ibn Khadij: We prayed Maghrib with the Messenger of Allah ﷺ, and when we finished, one of us could still see the location of his arrow. [Agreed upon]

905

عبدالعزیز بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابرکے دونوں میں دونوں کی نمازی جلدی پڑھا کرو اور مغرب کی نماز میں ورکیا کرو۔

(اس کی روایت ابوداود نے اپنے مراسل میں کی ہے عزیزی نے کہا ہے کراس حدیث کی سنن قوی ہے باوجود کہ یہ مرسل ہے اور جامع صغير نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔)

It is narrated from 'Abd al-'Aziz bin Rafi (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ instructed that in both the Fajr and 'Isha prayers, recite the Qunut, and in the Maghrib prayer, recite the Witr.

نمازِ عشاء کا مستحب وقت
906

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا اندریشمنہ ہوتا تو میں انہیں پیغم دیتا کہ وہ نمازِ عشاء میں تہاجی شب یا آدمی رات کے تاخیر کریں۔

(اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے یہ حدیث حسن ہے۔)

Narrated by Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "If I did not find it difficult for my Ummah, I would have commanded them to delay the Isha prayer until a third of the night or half of it." [Narrated by Ahmad, Al-Tirmidhi, and Ibn Majah; Al-Tirmidhi said it is good and authentic]

نماز عشاء کے مستحب وقت پر دومسری حدیث
907

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نماز عشاء کو (سفید) شفق غائب ہونے کے بعد سے رات کے پہلی تہائی تک پڑھ لیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Narrated by Aisha: They used to pray Isha between the disappearance of the twilight and the first third of the night. [Agreed upon]

نماز عشاء کے مستحب وقت پر تیسری حدیث
908

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اس نماز کی نماز عشاء کے وقت سے تحویل واقف ہوں نماز عشاء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری تارت کا چاند ظہور کے وقت ادا فرما کرتے تھے۔ (اس کی روایت البودا و داورداری نے کی ہے۔)

Narrated by Nu‘man ibn Bashir: "I know the time for this prayer, the last night prayer (Isha). The Messenger of Allah ﷺ would pray it when the moon had completely set, around the third part of the night." [Narrated by Abu Dawood and al-Darimi]

نماز عشاء کے مستحب وقت پر چوتھی حدیث
909

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک رات عشاء کی نماز کیلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دریک انظار کرتے رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت باہر تشریف لا کے جب کرتا کا ایک تہائی حصد گذر چکا تھا ایس کے بعد تشریف لا کے معلوم نہیں کرتشریف آوری میں کیا چیز ملتی ہے؟ کوئی خاصی ضرورت تو نہیں یا پھر اور؟ بہرحال تشریف لا کر ارشاد فرما یا تم لوگ ایک ایسی نماز کا انظار کر رہے ہو کہ تمہارے علاوہ دیگر نذاہب والوں میں سے کوئی اس وقت نماز کے انظار میں نہیں ہے۔ اگر میری امت پر بار نگز رتا تو میں ان کو اس وقت اس نماز کو پڑھا کرتا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے موزن کو حم ریا تو موزن نے نماز کی تعبیر کی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

Narrated by Abdullah ibn Umar: "One night, we waited for the Messenger of Allah ﷺ for the last Isha prayer. He came out when a third of the night had passed, or maybe even later. We didn't know if something had delayed him due to his family or something else. He said: 'You are waiting for a prayer that no other people wait for like you. If it were not for the hardship of my Ummah, I would have prayed this prayer at this time.' Then he instructed the muezzin to call for prayer, and he led the prayer." [Narrated by Muslim]

نماز عشاء کے مستحب وقت پر آنے والے حدیث
910

جابر بن سمرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاچھون نماز ول کو (اوقات کے لحاظ سے) تقریباً تمہاری نماز ول کی طرح ادا فرمایا کرتے تھے اور عشاء کی نماز میں تمہاری نماز کے وقت سے پچھتا نہیں فرمایا کرتے اور نماز ول کو (قرأت کے اعتبار سے) بھی پڑھا کرتے تھے (نکارکان کے اعتبار سے)۔

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

It is narrated from Jaber bin Samura (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ used to perform the five prayers at times similar to your prayer times, and he would not delay the Isha prayer beyond your prayer time, and he would also recite in the prayers as the rejecters do.

نماز عشاء کے مستحب وقت پر آنے والے حدیث
911

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھنے کے ارادے سے نجح ہوئے، آپ باہر تشریف ختم لائے یہاں تک کہ تقریباً نصف شب گزر گئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی جگہ پیٹہ رہو تو تم اپنی اپنی جگہ پیٹہ رہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگ اس وقت نماز پڑھنے چلے جین اورا پچھی اپنی خواب گاہوں میں آرام کر رہے ہیں اور تم جب سے نماز کا انظار کر رہے ہو اس وقت سے نماز میں ہو۔ اور تم کو بر اب نماز کا ثواب مل رہا ہے۔ اور اگر ضعیف کے ضعف کا اور پہاری پہاری کا اندیشہ رہوتا تو میں اس نماز میں نصف شب تک تا نہیں کرتا۔

(اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)

Narrated by Abu Sa'id al-Khudri: "We prayed Isha with the Messenger of Allah ﷺ, and he did not come out until half the night had passed. He said, 'Take your seats.' We sat down, and he said, 'The people have prayed and gone to their beds, but as long as you are waiting for the prayer, you are still in prayer. If it were not for the weakness of the weak and the illness of the sick, I would have delayed this prayer until the middle of the night.'" [Narrated by Abu Dawood and al-Nasa'i]

نماز عشاء ترک کرنے والے کی وعید
912

عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز عشاء کے نافل ہو کر سوگیا اس طرح کے اس کا وقت گزر جائے تو خدا کرے اس کو نیند آئے۔ (اس کی روایت ابن عساکر نے مرسلا کی ہے۔)

افق میں سپیدی چھلنے کے بعد نماز فجر پڑھنا مستحب ہے

It is narrated from Amr bin Dinar (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever goes to sleep after the voluntary night prayer and thus misses its time, may Allah make him drowsy.' (This is reported by Ibn Asakir as a mursal hadith.) It is recommended to pray Fajr after the whiteness of dawn appears.

913

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز فجر روشنی چھلنے پر پڑھو کیونکہ پیغمبر کے اجر کا بعث ہے۔

(اس کی روایت ترمذی نے ابوداوداوردارمی نے کی ہے اورترمذی نے کہا ہے کر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن ہے۔)

نماز فجر کے مستحب وقت پروسری حدیث

Narrated by Rafi‘ ibn Khadij: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Delay the Fajr prayer because it is more rewarding.'" [Narrated by al-Tirmidhi, Abu Dawood, and al-Darimi; not mentioned by al-Nasa'i: 'because it is more rewarding'). Al-Tirmidhi said: 'The Hadith of Rafi‘ ibn Khadij is a good and authentic Hadith.'

914

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز فجر روشنی میں ادا کرو کیونکہ پیغمبر کے اجر کا بعث ہے۔

(اس کی روایت طبرانی نے اکبرین کی ہے۔)

نماز، فجر کے مستحب وقت پرتیری حدیث

Narrated by Rafi‘ ibn Khadij: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Illuminate (brighten) the Fajr prayer, for it is more rewarding.'" [Narrated by al-Tabarani in al-Kabir]

915

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز فجر سپیدی چھلنے پر ادا کروا سے تمہارے گناہ نکش جا تین گے۔

(اس کی روایت دیلمی نے کی ہے۔)

نماز فجر کے مستحب وقت پر چوٹی حدیث

It is narrated from Anas (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'If you perform the Fajr prayer when the whiteness spreads, your sins will be wiped away.'

916

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بلال (رضی اللہ عنہ)! صبح کی نماز سپیدی چھلنے پر پڑھو، یہ تمہارے لے نہیر ہے۔

(اس کی روایت طبرانی نے اکبرین کی ہے۔)

Narrated by Abu Bakr al-Siddiq, from Bilal: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'O Bilal, make the morning (Fajr) prayer early, for it is better for you.'" [Narrated by al-Tabarani in al-Kabir]

نماز فجر کے مستحب وقت پر پڑنے والے حدیث
917

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو فجر کی نماز روشنی چھلنے پر ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قبر کو اوراس کے دل کو روشن کردیتا ہے اوراس کی نماز قبول فرامائے گی۔ (اس کی روایت دیگری نے کی ہے)

Narrated by Anas ibn Malik: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever brightens (or illuminates) the Fajr prayer, Allah will brighten his grave, his heart, and his prayer will be accepted.'" [Narrated by al-Dailami]

نماز فجر کے مستحب وقت پڑنے والے حدیث
918

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت فطرت اسلام لینی اسلام کی اصلی حالت پراس وقت تک قائم رہے گی جب تک وہ فجر کی نماز روشنی چھلنے پر ادا کرتی رہے۔

(اس کی روایت بزار نے کی ہے اور طبرانی نے بھی الاوسط میں کی ہے)

Narrated by Abu Huraira: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'My Ummah will remain on the Fitrah (natural state) as long as they perform the Fajr prayer with early dawn.'" [Narrated by al-Bazzar and al-Tabarani in al-Awsat]

نماز فجر کے مستحب وقت پرسناٹوی کے حدیث
919

رافع بن خدنج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز صبح کواس قد روشنی چھلنے پر ادا کرو کلوگ اپنے تیرول کے نشانون کو دکیسکیس۔ (اس کی روایت طیالی نے کی ہے)

Narrated by Rafi‘ ibn Khadij: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Delay the Fajr prayer until the people can see the location of their arrows.'" [Narrated by al-Tayalisi]

نماز فجر کے مستحب وقت پر آٹھویں کے حدیث
920

رافع بن خدنج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح کی نماز ادا کرنے میں اس قد روشنی آنے دو کے لوگ اپنے تیرول کے نشانون کو دکیسکیس۔ (اس کی روایت طبرانی نے البہترین کی ہے)

Narrated by Rafi‘ ibn Khadij: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Brighten the Fajr prayer until the people can see the location of their arrows.'" [Narrated by al-Tabarani in al-Kabir]

نماز فجر کے مستحب وقت پر نوی حدیث
921

عبداللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو پیکرتے ہوئے سناتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں اس کے نام کی طرح تاخیر فرماتے تھے۔(فجر کے معنی پہلے کے تار کی چہت کر سپیدی چلنے لگے۔)(اس کی روایت طحاوی نے سننے کے ساتھ کی ہے۔)

Narrated by Abdullah ibn Muhammad ibn Aqil: "I heard Jabir ibn Abdullah say: 'The Prophet ﷺ would delay the Fajr prayer to its proper time, not like the way it is prayed now.'" [Narrated by Al-Tahawi with an authentic chain]

نماز فجر کے مستحب وقت پر دوسی حدیث
922

ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا اتفاق یہ چیز پراس طرح نہیں ہوا جسیا کہ نماز فجر کے خوب روشنی میں ادا کرنے پر ہوا ہے۔(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

ف: نذورۃ بالاحد ثول سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز فجر اسفار لینے سپیدی میں ادا کی جائے اس بارے میں پروا ضر ہے کہ نماز فجر کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ ہو کہ طلوع آفتاب کا شک ہو نے لگ بلکہ نماز فجر کو اسفار لینے ایسی سپیدی میں ادا کرنا مستحب ہے کہ برتر تیل کم و بیش چائے لیس آئیون کے ساتھ نماز ختم ہو نے پر اگر نماز میں فساد طاہر ہو تو دوسری مرتبہ نماز فجر کا اعادہ اس طرح کیا جائے جسے کر پہلی مرتبہ ادا کیا تھا۔(ملتقی الاخر)

Narrated by Ibrahim: "The companions of Muhammad ﷺ never agreed on anything more than they agreed on brightening the Fajr prayer." [Narrated by al-Tahawi]

عرفات کی مغرب اور عشاء الفرضی فجر کا مستحب وقت
923

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ نہیں ہر نماز اس کے مستحب وقت پرادافر ما کرتے تھے۔(البتہ میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ نج کے موقع پر دونمازیں مغرب اور فجر ا لن کے مستحب وقت سے ہٹا کر اس طرح ادافر ما تی پین کر مزدلفر میں نماز مغرب کو)(اس کے مستحب وقت سے ہٹا کر) عشاء کے ساتھ ادافر ما اور (اسی طرح) نماز فجر کو اس کے مستحب وقت (اسفار) سے ہٹا کر غلس لینے

تار کی مس افرماگی - (اس کی روایت مسلمن کی ہے)

عرفات کی مغرب اور عزوالفن کی فجر کے مستحب وقت پر دوسری حدیث

رضی اللہ عنہ - البوا ساق رضی اللہ عنہ تروايته، انهول ن كها ك مين عبد الرحمن بن يزيد

رضی اللہ عنہ کو پیکرتے ہوئے سناتے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشریف لا لے مجھے علقمر رضی

اللہ عنہ نے فرمایا کہ مین عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ رہول مزدلفہ کی رات (جب

وسوی ذی الحجہ ) صح صادق طلوع ہونے گی تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا کہ

اقامت کرو ! مین نے عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن (رضی اللہ عنہ )! مین نے کچھ آپ کواس طرح تار کی

مين نماز فجر ادا کرتے نمیں ویکھاتے _ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم ایسا ہی اس دن کی نماز فجر کواس جگرا لے وقت، ای ادا فرمایا کرتے تھے _ پھر عبد اللہ بن

مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دونمازیں میں جواب پن مستحب وقت سے ہٹا کرادا کی جائے ئے اکی تو

مغرب کی نماز بجواب پن مستحب وقت سے ہٹا کر (عشاء کے ساتھ ) اس وقت پڑی جائے ہے جب

لوگ (عرفات سے ) مزدلفہ کو تشخیجاتے ہیں اور دوسري نماز فجر سے جون صح صادق ہوتے ہی تار کی

مین پڑی جائے ہے _ مین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس طرح ادا فرماتے ہوئے ویکھاتے

_ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے)

نماز وتر کا مستحب وقت ایک لحظت

Narrated by Ibn Mas'ud: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ perform any prayer except at its appointed time, except for two prayers: the Maghrib and Isha prayers during the Journey of Muzdalifah, and the Fajr prayer on that day before its appointed time, during the darkness of dawn." [Narrated by Muslim]

925

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تہباری رات کی آخری نماز وتر کو قرار دو _ (اس کی روایت مسلم نے کی

ہے )_

ف: اس حدیث میں جو ارشاد ہوا ہے کہ رات کی نماز وتر میں آخری نماز وتر ہونی چاہیے تو

و ا ض ر بہ کر بیم مستحبہ اس لے وتر کے بعد اگر کوئی نماز ادا کرنا چاہے تو ادا کر سکتا ہے کیون کہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعت ادا فرمائی کرتے تھے۔ (اشعة اللمعات)12-

نماز وتر کا مستحب وقت دوسرا لحاظ ہے

Narrated by Ibn Umar, from the Prophet ﷺ: "Make the last of your night prayers Witr." [Narrated by Muslim]

926

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دلی دوست نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے(1) ایک ہر مہینے کے وسط میں )تین روزہ رکھنے کی (جس کو ایام بیض کہتے ہیں)اور (2) دوسروں دور کے نماز چاشت ادا کرنے کی (جو نماز چاشت کی کم سے کم مقدار ہے اور آٹھ یا بڑہ رکعت نماز چاشت کی پوری مقدار ہے)(3) تیرہی وصیت یفرمائی کر میں سونے سے قبل نماز وتر ادا کر لیا کرول-

(اس کی روایت مسلم اور بخاری نے متقق طور پر کی ہے)

نماز وتر کے مستحب وقت میں وسعت

Narrated by Abu Huraira: "My friend (Messenger of Allah ﷺ) advised me with three things: fasting three days of every month, performing two Rak'ahs of Duha, and to pray Witr before sleeping." [Agreed upon]

927

عُدَیٌّ بن حارث رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، انہوں نے کہا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقة رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جناپت کا غسل اول شب میں کیا کرتے تھے یا آخر شب میں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھی اول شب غسل جناپت فرمایا ہے تو مجھی آخر شب میں میں نے کہا اللہ اکبر! اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں آسانی فرمادی ہے۔ پھر میں نے دریافت کیا چھا پیتو فرمایے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر اولی شب میں ادا فرماتے تھے یا آخرشب میں؟ ام المؤمنین جواب دی کہ مجھی اولی شب میں آپ نے وتر ادا فرمائی اور مجھی آخرشب میں میں نے کہا کہ اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں وسعت عطا فرمائی پھر میں نے دریافت کیا چھا

پھر بھی بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز تجوید میں) قرآن آواز سے پڑھا کرتے تھے یا نہیں؟

ام المومنین ارشاد فرماتیں کہ مجھی آپ قرآن آواز سے پڑھتے تھے اور مجھی آہستہ، میں نے کہا اللہ أکبر!

اللہ کا شکر کہ جس نے دین میں آسانی کردی ہے-

(اس کی روایت ابوداوود نے کی ہے اور ابن ماجہ نے صرف آخری فقره روایت کیا ہے-)

نماز وتر کے مستحب وقت میں اختلاف ہونے کی وجہ

It is narrated from 'Udayy ibn Harith (RA) that he said:

I asked Umm al-Mu'minin 'A'ishah Siddiqah (RA), 'Tell me, did the Messenger of Allah ﷺ perform the ritual bath for janabah in the early part of the night or at the end of the night?' Umm al-Mu'minin (RA) replied, 'The Messenger of Allah ﷺ performed the ritual bath for janabah in the early part of the night, so I also performed it in the early part of the night. I said, 'Allah is the Greatest! Praise be to Allah who has made ease in the religion.' Then I asked, 'When did the Messenger of Allah ﷺ perform the Witr prayer, in the early part of the night or at the end of the night?' Umm al-Mu'minin answered, 'He performed the Witr prayer in the early part of the night, and I performed it at the end of the night. I said, 'Allah is the Greatest! Praise be to Allah who has granted spaciousness in the religion.' Then I asked, 'Please tell me, did the Messenger of Allah ﷺ recite the Quran aloud during the prayer with proper recitation or not?' Umm al-Mu'minin said, 'He used to recite the Quran aloud, and I recited it slowly. I said, 'Allah is the Greatest! Praise be to Allah who has made ease in the religion.'

928

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اندر پشتمی ہو کر وہ اخیر رات نیندے نہ آئے سگا تو وہ اول شب میں نماز وتر

ادا کر لے اور جس کو امید ہو کر وہ آخر شب میں آٹھ سگا تو وہ آخر شب میں نماز وتر ادا کر لے کیون کہ

آخر شب کی نماز میں رحمت کے فرض حاضر ہوتے ہیں اور اس لے آخر شب میں نماز وتر پڑھنا فضل

ہے-(اس کی روايت مسلم اور امام احمد نے کی ہے-)

ہرنماز اس کے مستحب وقت میں ادا کر نے کی فضیلت

Narrated by Jabir: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever fears that he will not be able to stand for prayer at the end of the night, let him perform Witr at the beginning of the night. And whoever hopes to stand in the last part of the night, let him perform Witr in the last part, for the prayer at the end of the night is witnessed, and it is better." [Narrated by Muslim and Ahmad]

929

ولید بن عیزر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو عمرو

شیبانی رضی اللہ عنہ کو پیکھتے ہوئے ساکر اس غر کے ماکے نے جمعیں یہ حدیث سناتی اور (پیکھتے کر)

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے غر کی طرف اشارہ کیا کر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کر اعمال میں کونسا عمل اللہ تعالیٰ کے پاس زیادہ پسند یہ

ہے؟ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز اس کے (مستحب) وقت پرادا کرنا اور والدین کے

ساتھ اچھا سلوک کرنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا (اللہ تعالیٰ کے پاس سب اعمال سے زیادہ

پسندیدہ ہیں)-

(اس کی روایت نسائی نے کی ہے-)

ہر نماز اس کے مستحب وقت میں ادا کرنے کی فضیلت پر دوسری حدیث

Narrated by al-Waleed ibn al-Aizar: "I heard Abu Amr al-Shaybani say: 'The companion of this house (pointing to Abdullah's house) told us: I asked the Messenger of Allah ﷺ, "Which deed is the most beloved to Allah?" He replied: "Performing prayer at its proper time, being kind to one's parents, and Jihad in the way of Allah."'" [Narrated by al-Nasa'i]

930

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علی (رضی اللہ عنہ ) تم چیزیں جتنے کر ان میں درین کرو ( ایک (1) نماز کہ جب اس کا مستحب وقت ہوجائے ( تو پھراس کی ادائی میں درین کرنا ) اور (2) دوسرا جنازہ کہ جب وہ آجائے تواس کی نماز میں درین کرو ) اور (3) تیرہ ب شوہر عورت کہ جب اس کو مناسب خاوندل جائے (تواس کے نکاح کردینے میں درین کرو )۔

(اس کی روایت تنزہی نہیں ہے۔)

ہر نماز کواس کے مستحب وقت میں ادا کرنے کی فضیلت پرتیسری حدیث

It is narrated from Ali (RA) that the Prophet ﷺ said to him:

O Ali, when you do something, do it with deliberation: (1) perform the prayer when its recommended time begins, and do it with deliberation; (2) when a funeral comes, perform its prayer with deliberation; (3) when you approach your wife, do so with deliberation. This narration is not continuous. Each prayer should be performed in its recommended time with deliberation.

931

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں (جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) ہر نماز کو بمیش اس کے مستحب وقت برادرما تے تھاس لے کہ مجھے ایسا تقاق نہیں ہوا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات تک کسی ایک نماز کے آخری وقت میں ادا فرمایا ہو۔

(اس کی روایت تنزہی نہیں ہے۔)

ہر نماز اس کے مستحب وقت میں پڑھنے کی تاکید

It is narrated from Umm al-Mu'minin Aishah (RA) that she said

that the Messenger of Allah ﷺ would perform every prayer at its preferred time, so much so that I never saw him delay any prayer until its last permissible time until his death.

932

ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوزر (رضی اللہ عنہ ) اس زمانے میں تمہارا کیا حال ہوگا جبکہ تم پر ایسے حکام مسلط ہوں گے جو نماز ول کو (ان کے آداب وشرائط کے خلاف ہیں ) مردوں کے پڑھنے کے نمازوں کو ان کے مستحب وقت سے پہلا کر کروہ اوقات میں ادا کریں گے میں نے عرض کیا حضرات ایسے وقت کیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم نماز ول کوان کے مستحب وقت پر پڑھا کر واوراگر اسی نماز کو ان حکام کے ساتھ پھر پالوت دوبارہ باجماعت پڑھ لو کیوں کروہ بعد

والی نمازتمہارے لئےفلہوگی -

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے _)

ف : علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ "من أدرك ركعة" والي حدیث البوز رضی اللہ عنہ کی

اس حدیث میں سوخ بے "من أدرك ركعة" والی حدیث کا خلاصہ یہ کہ جس شخص کو طلوع

آفتاب سے پہلے نجر کی ایک رکعت اور ایک طرح غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت ملتی اور

اس نے باقی نماز کو طلوع یا غروب کے بعد ادا کر لی تو اس کو نجر اور عصر کی پوری نماز لگی، م _ ن

أدرك ركعة" والي حديث البوز رضي الله عنه کی ذکور الصدر حدیث سے متعارض ہوتی ہے کیون کہ"

من أدرك ركعة" والي حديث میں تاخیر صلوۃ کا جواز ذکور ہے اور البوز رضي الله عنه کی ذکور الصدر

حديث سے تاخیر صلوۃ کا عدم جواز ثابت ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں سے کوئی

ایک حدیث منسوخ قرار پائے _ البوز رضي الله عنه کی حدیث اس وجہ سے منسوخ نہیں ہوسکتی کرام

المؤمنین عاشر رضي الله عنها کی حدیث (حدیث نمبر:931/51) سے برہان حث ثابت ہے کہ حضور صلى

الله عليه وسلم نے اپنی پوری عمر شریف میں کبھی کسی نماز میں تاخیر نہیں فرمائی بلکہ هر نماز کو میشرا س کے

مستحب وقت پرادافرمایا ہے، اس لئے البوز رضي الله عنه کی ذکور الصدر حدیث نازل ہے اور "م _ ن

أدرك ركعة" والي حدیث منسوخ "من أدرك ركعة" والي حدیث کے منسوخ ہونے کی تفصیل

بحث اور مرید نازل حدیثوں کا ذکر "باب أنمواثبت" کی حدیث نمبر (861/9) کے فاتحہ میں ذکور

ہے؛ ملاحظہ فرمائیجے _ 12

ہر نماز اس کے مستحب وقت میں پڑھنے کی تاکید پر دومسری حدیث

Narrated by Abu Dharr: The Messenger of Allah ﷺ said: "How will you be when there are rulers over you who delay the prayer or miss its appointed time?" I replied: "What should I do?" He said: "Pray at the time of the prayer. If you catch up with them, then pray with them, for it will be a voluntary prayer for you." [Narrated by Muslim] And the scholar al-‘Ayni said: "The Hadith about catching one rak'ah is abrogated." (1)

(1) “His statement: ‘Abrogated’ – its clarification has already been discussed in the chapter on timings.”

933

عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ مجھے رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد تم پر ایسے حکام مسلط ہوں گے جن کو بر وقت نماز ادا

کرنے کے ان کے دنیاوی مشغولیات اس طرح مانع ہوں گے کہ نماز کا وقت ہی گذر جائے گا، اس

لئے تم نماز کواس کے مستحب وقت پر پڑھ لیا کرو _ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کہا میں ( علیہ بروقت تہما نماز پڑھ لین کے بعد ) ایس امبرول کے ساتھو کچھ نماز پڑھ لول تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بال پڑھ لو_ (اس کی روایت ابوداوون کی ہے_)

ان نمازوں کا بیان جتن کودوبارہ نفل کی نیت سے باجماعت ادا کرنےجا تنہیں

Narrated by Ubadah bin As-Samit (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: "After me, there will be rulers who will be preoccupied with affairs, causing them to neglect prayers at their due times until their time has passed. So, perform the prayer at its proper time." A man asked: "O Messenger of Allah, should I pray with them?" He (ﷺ) replied: "Yes." [Narrated by Abu Dawood]

934

نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص نے مغرب یا صبح کی نماز تہما پڑھ لی اوراس کے بعد دینمازی باجماعت ملگئی تو وہ ان دونوں نمازوں کو پھر دوبارہ نہ پڑھے _ (اس کی روايت امام ما لك نے کی ہے)_

Narrated by Nafi: Ibn Umar (may Allah be pleased with him) used to say: "Whoever performs the Maghrib or Fajr prayer, and then catches up with them, should not repeat it, except for what he has already prayed." [Narrated by Malik, and a similar narration was [Narrated by Al-Daraqutni from Ibn Umar (may Allah be pleased with him)]

935

اوردارتی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس طرح اس حدیث کی روایت مرفوعاً کی ہے_)

ف : ایس زمانے میں جب کہ حکام نمازوں میں تاخیر کرتے کے نمازوں کومکروہ اوقات میں ادا کرتے ہیں تو مناسب یہ ہے کہ نمازیں تہما مستحب اوقات میں ادا کرنی چاہیے اور پھر حکام کے ساتھ نماز باجماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہوجائیں، یا اگرہے کر نفل کی نیت سے شرکت صرف ظہر اور عشاء کی حد تک رہے گی کیون کہ نجراور عصر کے بعد نمازیں جائز نہیں اور تہما مغرب پڑھ لینے کے بعد نفل کی نیت سے مغرب کی نماز میں شرکت اس لے نا جائز ہے کہ نفل نماز تین رکعت والی نہیں ہوا کرتی، اگر ایک رکعت کے اضافے میں نفل کی چاہر کعتیس پوری کرنی چاہیے تو امام کی نماز کے خلاف ہوتا ہے، جب ہے کہ تہما مغرب پڑھ لینے کے بعد نفل کی نیت سے مغرب کی جماعت میں شریک ہونا نا جائز ہے اگر چہ کہ مغرب کی نماز کے بعد نفل نمازیں ادا کر سکتے ہیں _ (اشعة اللمعات_)

قضاء نماز کب ادا کرنے چاہیے اس کی تحقیق

It is narrated from Ibn Umar (RA) that he said:

In such times when rulers delay the prayers, it is appropriate to perform the prayers at their recommended times and then join the congregational prayers with the rulers with the intention of voluntary (nafil) prayers. If this participation with the rulers is limited to only the Dhuhr and Isha prayers, it is because prayers are not permissible after Asr and before Maghrib. After performing Maghrib, it is not permissible to join the Maghrib congregation with the intention of nafil prayers, as nafil prayers are not performed in three rak'ahs. If one wishes to complete four rak'ahs by adding one rak'ah, it would conflict with the Imam's prayer. Therefore, after performing Maghrib, it is not permissible to join the Maghrib congregation with the intention of nafil prayers, although nafil prayers can be performed after the Maghrib prayer.

936

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی نماز کو بھول جاۓ یا س نماز کو ادا نہ کر کے سورہ تواس کا کفارہ پیچ کہ نماز جب یاد آئے (اور وہ مکروہ وقت نہ ہو ) اس وقت ادا کر لے _

Narrated by Anas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever forgets a prayer or sleeps through it, (2) the expiation for it is to pray it when he remembers it." In another narration: "There is no expiation for it other than this." [Agreed upon]

(2) The statement: "Whoever forgets a prayer or sleeps through it..." Imam Al-Shafi'i used this narration as evidence to allow the performance of missed prayers during the time when it is prohibited to pray. However, according to our position, it is disliked to pray during these prohibited times, whether it is a missed prayer, obligatory, or voluntary, because it is not necessary to pray immediately upon remembering. The main point here is that remembering the prayer makes it obligatory to perform it. If one remembers it during the prohibited time and delays it until the prohibited time has passed, then they would be acting in accordance with both hadiths, this one and the one that forbids praying during the prohibited times. I took this from "Umdat al-Qari," and it is supported by the hadith regarding the practice of resting, which comes later.

937

- اور دوسری روایت میں ہے کس کافرہ اس کے سوا اور پھیریس

(اس کی روایت بخاری اور مسلماً متقدم طور پر کی ہے -)

ف: اس حدیث میں ذکور ہے کہ جو شخص کسی نماز کو جہول جائے یا نیندگی وجہ سے نماز ادا نہ کرسے

اور اس نماز کا وقت گزر جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب وہ اس نماز کو ادا کرنے آئی وقت پڑنے لاسے

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے استدلال کیا ہے کہ منوع اوقات میں قضا نماز ول کا ادا کرنا اس لے

جا رہے ہے کہ حدیث میں وارد ہے کہ جب نماز یاد آجائے پڑنے لے، چونکہ نماز منوع اوقات میں یاد آئی ہے

اس لے ممنوع اوقات میں نماز ادا ہونی چاہیے امام شافعی رحمۃ علیہ کا قول ہے لیکن ہمارے پاس ان

اوقات ممنوع میں فوت شدہ نماز یادگی آجاؤے تو اس کا ان اوقات میں ادا کرنا کروہی یہ خواہ وہ نماز

قضا ہو یا ادا ہو یا نفل اس حدیث سے ہمارے پاس فوت شدہ نماز کے یاد آنے یا اس کا جواب ثابت

ہوتا ہے نہ کر اس نماز کا اس وقت ادا کرنا اور چونکہ دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ ممنوع اوقات میں

نماز ول کا ادا کرنا ناجائز ہے اس لے ممنوع اوقات کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے فوت شده نماز ول کو

ممنوع اوقات میں ادائیگی کیا جائے گا بلکہ ممنوع اوقات کے بعد وہ نماز یی ادا ہونگی اور یہ وصو رت

ہے جس سے دونوں حدیثوں پر عمل ہوجاتا ہے اس کے برخلاف انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر عمل

کر کے ممنوع اوقات میں فوت شده نماز ول کے یاد آنے یا فوراً انجی اوقات میں نماز یی ادا کر لی

جا کیسے تو اس حدیث پر عمل ہوجاتا ہے مگر ممنوع اوقات والی حدیث پر عمل نہیں ہوتا علاوہ ازیں ہمارے

قول کی تفسیر حدیث تعریس سے بھی ہوتی ہے جو آنے گے آری ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کر ایک سفر میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم راست میں آرام فرما گے یہاں تک کہ کے سورج نکل پڑا

اور نماز ظہر قضا ہوئی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ فوراً اسب اس جگہ سے کوئی کریں چنانچہ آگے

جا کر سورج کے بلند ہونے کے بعد فوت شده نماز ظہر ادا کی گئی۔ اگر ممنوع اوقات میں نماز کے یاد آنے

میں نماز کا اس وقت پڑنے لیکن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کچھ فرمایا جو حقی مسلک پر قوی دلیل

ہے -(عمدۃ القاری)12-

نیند کی وجہ سے یا بھو لنکی وجہ سے کوئی نماز فوت ہو جائے تو اس کے ادا کر نے کا حکم

Narrated by Anas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever forgets a prayer or sleeps through it, (2) the expiation for it is to pray it when he remembers it." In another narration: "There is no expiation for it other than this." [Agreed upon]

(2) The statement: "Whoever forgets a prayer or sleeps through it..." Imam Al-Shafi'i used this narration as evidence to allow the performance of missed prayers during the time when it is prohibited to pray. However, according to our position, it is disliked to pray during these prohibited times, whether it is a missed prayer, obligatory, or voluntary, because it is not necessary to pray immediately upon remembering. The main point here is that remembering the prayer makes it obligatory to perform it. If one remembers it during the prohibited time and delays it until the prohibited time has passed, then they would be acting in accordance with both hadiths, this one and the one that forbids praying during the prohibited times. I took this from "Umdat al-Qari," and it is supported by the hadith regarding the practice of resting, which comes later.

938

ابوقادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کہ (کسی وقت) نیند کی وجہ سے (کسی نماز کا وقت گزر جائے) تو کوئی قصور نہیں

(بروقت نماز نہ پڑھنے کا گناہ تو نہیں ہوگا مگر نماز کی قضا ضروری ہوگی) البتہ بیماری میں (کسی وجہ

سے کوئی نماز فوت ہو جائے) تو (ایسا شخص) قصور وار ہوگا (کر اس نماز کی قضا کچھ لازم ہوگی اور گناہ

بھی ہوگا) اس لہ تم میں سے کوئی شخص کسی نماز کو بھول جائے یا اٹی دری سوجائے کر اس نماز کا وقت

گزر جائے تو جب یاد آ جائے (اور کر وہ وقت نہ ہو) نماز ادا کر لے کیون کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

ہے "وَاقِمِ الصَّلوۃَ لِذِکْرِى" (سورۃ ط،پ:16،ع:1،آیت نمبر:14) میرے (خوف) سے

جب نماز یاد آ جائے تو نماز ادا کر لیا کرو-

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)

نیند کی وجہ سے یا بھو لنکی وجہ سے نماز وتر فوت ہو جائے تو

اس کے ادا کر نے کا حکم

From Abu Qatadah, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no negligence in sleep. Negligence occurs in wakefulness. If any of you forgets a prayer or sleeps through it, let him pray it when he remembers it; for indeed, Allah, the Almighty, said: 'And establish the prayer for My remembrance.'" (Quran 20:14) [Narrated by Muslim]

939

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص وتر نہ پڑھ کر سوجائے یا وتر پڑھنا بھول جائے وہ وتر کواس وقت

پڑھ لے جب یاد آ جائے یا جب نیند کے بیار ہو (اور کر وہ وقت نہ ہو)-

(اس کی روایت ترمذی، ابوداوداور ابن ماجے نے کی ہے-)

نماز وتر کے واجب ہونے کے جود لائل پین ان کے مجملہ یہی ایک ویل ہے

ف : اس حدیث میں وتر کے فوت ہو جانے پر ارشاد ہورہا ہے: "فَلُیُصَلِّ اِذا ذَکَرَ" لیتن

جب نماز وتر یاد آ جائے تو پڑھ لے اور یہی اس رضی اللہ عنہ کی حدیث (قضاء نماز کب ادا کرنا چاہئے والی

حدیث دو احادیث ) میں فرض نماز کے بھول جانے پر کیسے اس کے الفاظ وارد ہیں اور وہ یہ ہیں: " ان

یُصَلِّيَهَا اِذا ذَكَرَهَا، لیعن جب نماز کو یاد کر لے تو اس وقت پڑھ لی جب وتر کیلئے ایسے الفاظ

استعمال کے گے جس جیسے فرض نماز کیلئے تو اس سے وتر کا جواب ثابت ہوتا ہے -12-

" حدیث تعریس " نیند کی وجہ سے یا بھول لئے کی وجہ سے کوئی نماز فوت ہو جائے تو اس کو ادا

کرنے کے حکم پر دوسرا حدیث

From Abu Sa’id, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever sleeps through the Witr or forgets it, let him pray it when he remembers it or when he wakes up." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawood, and Ibn Majah]

940

سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ ت روایت سے کہ رسول اللہ علیہ وسلم جب

خیبر سے واپس ہو کر تورات مجھر چلتے رہے پہا ل تک کہ جب رات کا آخری حصہ باقی رہ گیا تو آرام

کیلئے ایک مقام پر اتر پڑے - حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ ت ارشاد فرما یا لے بلال

( رضی اللہ عنہ ) تم بیدار ہو کر نہ کی نماز کیلئے تمام کو بیمار کر دواس کے بعد رسول اللہ علیہ وسلم اور

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سوگے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ ت جہا ل تک ہوسکا بیمار رہے پھر

بلال رضی اللہ عنہ ت اپنی سواری کو لیکا لے کر مشرق کی طرف رخ کر کے بیٹھ رہے، پہا ل تک کہ ان کو

جب نیند لگ گئی اور دھوپ اوپر آ نے تک نتو رسول اللہ علیہ وسلم بیمار ہو کے اور نہ بلال رضی

اللہ عنہ ت اور نہ کوئی صحابی قافلے سے جاگ سکے، سب سے پہلے رسول اللہ علیہ وسلم مجھرا لے ہو کے

اس طے اور فرما لے کیا بلال؟ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یرسول اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ اسی

نے سلاویا جس نے حضور ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو سلاویا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ

کجا وے کسواور پہا ل سے چلو ! تو سب نے اپنی سواریوں کو اٹھا کجا وے کس دیتے اور پچھدور پلے

( اور جب آفتاب ایک نیزہ بلند ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ ت کو ازا ل کا حکم دیا

اور بلال رضی اللہ عنہ ت نے ازالہ بی پھر رسول اللہ علیہ وسلم نے مجھر کی دو سنتیں اطمینان کے ساتھ

اور فرما لے ( سننول کا پڑھنا اتعلیق کمجہ میں "مسد امام احمد" کے حوالے سے ذکور ہے ) اور رسول

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو نماز کی قضا پڑھائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے فارغ ہونے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی نماز کو (اس طرح) بجول جائے (کہ نماز قضا ہوگئی) تو وہ فوت شدہ نماز کی قضا اس وقت ادا کر لے جب اس کو یاد آجائے (اور وہ وقت کروہ نہ ہو) کیون کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما یہ "وَاقِمِ الصَّلوۃَ لِذِکْرِی" سورۃ طہ،پ:16،ع:1،آیت نمبر:14) (جب نماز یاد آجائے تو پڑھ لیا کرو،) (اس آیت کا ترجمہ "لِذِکْرِی" راء کے آخر اور الف مقصورہ کی قرأت کے لحاظ سے، جس کی تحقیق ذیل کے فن کے نمبر 1 میں آرائے ہے۔

(اس کی روايت امام ما لك اور مسلم نے کی ہے)-

ف (1): وا ضح ہوگا "وَاقِمِ الصَّلوۃَ لِذِکْرِی" میں دو قرأت:

(1) ایک لِذِکْرِی (راء کے زراوریا مقصورہ کے ساتھ) اور دوسرا "لِذِکْرِی" (راء کے زبراورالف مقصورہ کے ساتھ)-

ابو قادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث (938/58) میں پہلی قرأت "لِذِکْرِی" کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کی حدیث (940/60) میں دوسری قرأت لِذِکْرِی کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے تحقیق یہ کہ آخضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اس آیت سے جواب دلال فرما یہ وہ دوسری قرأت کی بناء پر جورا وی کے تصرف سے "لِلذِکْرِی" ہوگیا ہے۔

چنانچہ ابودا ود نے اس روایت میں "لِلذِکْرِی" کہا ہے اور ابن شہاب جح ف کوزہری کہا جاتا ہے اور جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ جی لِذِکْرِی کی قرأت پڑھا کرتے تھے۔ (تعلیق لمحہ میں تنویر کے حوالے ایام کیا گیا ہے-)12

ف (2): اس حدیث میں ذکور ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی سوار یول کواس مقام سے لے کر جل یہاں تک کہ کے اس وادی سے باہر ہوگئے، جا بے تو یہ تجا کر فوت شدہ نماز کو جین ادا کرتے اور پھر روانہ ہوئے، ایا ند کر کے وہال سے روانہ ہوئے اور نماز اس وقت ادا فرما لی جب کہ فتاب ایک نیزہ بلند ہو چکا

تحا پراس بات کی ویل سے کر ممنوع اوقات میں نماز یاد آئے تو نماز نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ ممنوع وقت گزرے

کے بعد فوت شدہ نماز کو ادا کرنا چاہئے جسیا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے - (عمدۃ القاری - )12

نیند کی وجہ سے نماز فجر فوت ہو جائے تو اس کے ادا کر نے کا حکم

From Sa'id ibn al-Musayyib, who reported: When the Messenger of Allah (ﷺ) returned from Khaybar, and it was near the end of the night, he rested. He said to Bilal: "Guard the morning for us." The Messenger of Allah (ﷺ) and his companions slept, and Bilal ate what was available to him. Then, he leaned against his mount facing the dawn. He was overcome by sleep, and neither the Messenger of Allah (ﷺ), Bilal, nor anyone else in the caravan woke up until the sun struck them. The Messenger of Allah (ﷺ) then woke up startled and said: "O Bilal!" Bilal replied: "O Messenger of Allah, I was overtaken by sleep just as you were." The Prophet (ﷺ) said: "Get up and continue your journey." They set out, and the Prophet (ﷺ) commanded Bilal to establish the prayer. Bilal led them in the morning prayer, and after completing the prayer, the Prophet (ﷺ) said: "Whoever forgets a prayer, let him pray it when he remembers it; for indeed, Allah, the Almighty, says: 'And establish the prayer for My remembrance.'" [Narrated by Malik and Muslim]

The scholars have said: The reason for them continuing their journey and leaving that valley was because the Prophet (ﷺ) woke up when the sun had risen, and it is a sunnah not to pray at the time of sunrise or sunset. Therefore, it is not permissible to perform the missed prayer during the times when the Prophet (ﷺ) forbade praying. The mention of "remembrance" applies to times outside these restricted hours.

This hadith mentions that the noble Companions (RA) dismounted from their mounts at this place and proceeded out of this valley up to Juhfa. Upon reaching there, they performed the missed prayer and then continued their journey, proceeding from there and offering the prayer when the sun had risen to the height of a spear. Therefore, it is prohibited to pray during the forbidden times; if one remembers the prayer during these times, one should not pray until the forbidden time has passed, and then perform the missed prayer, as the Messenger of Allah (peace be upon him) did. - (Imda al-Qari, Vol. 12)

If the Fajr prayer is missed due to sleep, the ruling regarding its performance is as follows:

941

شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں نے حکم اور حادث اللہ

عنہما سے ایک شخص کے متعلق دریافت کیا جو سوتا رہا پیہال تک کہ نماز فجر کا وقت گزر گیا اور اسے وقت

پیرا رہوا کر آ فتاب کا پھوٹ حصر طلوع ہو چکا تھا دونول نے جواب دیا کہ وہ اس وقت تک نماز نماذا

کر لے جب تک کرآ فتاب بلند نہ ہو جائے - (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے - )

صاحب ترتیب کا حکم

From Shu'bah, who said: I asked al-Hakam and Hamad about a man who sleeps through the prayer, and upon waking, some of the sun has risen. They both said: "He should not pray until the sun has fully risen." [Narrated by al-Tahawi]

942

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کر ایا (صاحب ترتیب) شخص جو کسی نماز کو جہول جائے اور اس قضا نماز کو ادا کرے بغیر

دوسری نماز میں امام کے ساتھ شریک ہو جائے (فوت شدہ نماز جماعت میں شریک ہو نے تک یاد نہ

آئی اور شریک ہو نے کے بعد یاد آئی اور اس نے امام کے ساتھ پوری نماز ادا کی اور سلام پھیرا

(اب) اس کا حکم یہ کہ نماز باجماعت سے فراخت کے بعد پہلے اس فوت شدہ نماز کو ادا کر لے جس

کو جہول گیا تھا اور اس کے بعد اس نماز کو دہرا لے جس کو امام کے ساتھ پڑھا ہے -

(اس کی روایت دارقطنی اور نہجق نے کی ہے اور طبرانی اور خطیب نے بھی اس طرح روایت کی ہے - )

ف : یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیث صاحب ترتیب کے احکام سے متعلق ہیں جو فوت

شرہ نماز ول کو ادا کرنا چاہتا ہے، اس بارے میں نہہب حقی یہے وقتی نماز تھہو نے کی شرط یہے کہ

قضاء نماز پہلے ادا کی جائے کیون کہ صاحب ترتیب کیلئے ترتیب اس طرح فرض ہے کہ وہ پہلے قضاء نماز ادا

کرے پھر وقت نماز ادا کرے اس کی وضاحت نہایت شرح و بسط سے ابن الہمام نے فتح القدیر میں اور

صحابہ حرائق نے شرح المنار میں کی ہے۔ تفصیل کیلئے ان کتب کا مطالعہ کیا جائے

From Ibn Umar, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever forgets a prayer and does not remember it until he is with the Imam and has finished his prayer, then when he finishes his prayer, let him repeat the one he forgot, and then let him repeat the one he prayed with the Imam." [Narrated by al-Daraqutni and al-Bayhaqi, Al-Tabarani and al-Khatib also narrated something similar]

(1) His saying: "And from Ibn Umar..." These hadiths are meant to clarify the rulings regarding making up missed prayers for the one who follows the proper sequence. Ibn al-Humam in Fath al-Qadir and the author of Bahr al-Ra'iq in the commentary on al-Manar have lengthy discussions on what our scholars have concluded regarding the condition of performing the missed prayer before the regular prayer for the validity of the performance. Those who wish may refer to them.

صاحب ترتیب کے حکم پر دوسرا حدیث
943

حبيٌ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ان سے روایت

سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب ادا فرمائی اور نماز عصر ادا کرنا بجول گے ٹھ (غالباً یواقع کسی

جنگ کا ہے ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے مجھے نماز

عصر پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں یارسول اللہ آپ نے نماز عصر نہیں پڑھی

سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے موذن کو حکم دیا تو موؤذن نے ازالدی پچرا قامت کی اور حضور صلی اللہ

علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور عصر کے بغیر جومغرب کی نماز پڑھی گئی یہی اس کوشش میں نہ لکر دوبارہ

نماز مغرب ادا فرمائی - (اس کی روایت امام احمد طبرانی اور ابو نعیم نے کی ہے - )

From Habibullah, who was from the companions of the Messenger of Allah ﷺ: The Prophet ﷺ prayed Maghrib and forgot Asr. He asked his companions, "Did you see that I prayed Asr?" They replied, "No, O Messenger of Allah, you did not pray it." He instructed the mu'adhin to call the adhan, then he stood for prayer and prayed Asr, then he repeated Maghrib. [Narrated by Ahmad, al-Tabarani, and Abu Nu'aym]

صاحب ترتیب کے حکم پر تیسری حدیث
944

جا بر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ مشترکین

قریش کو خندق کی لڑائی کے موقع پر باجلا کینے کے اور وجہ بتانے کے یارسول اللہ میں آفتا ب غروب

ہونے کے قریب تک نماز عصر ادا کرسکا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جدا میں نے

جب کی نماز عصر نہیں پڑھی ہے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم بطن کی وادی میں اتنے اور رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمايا اور تم سب نے جبی وضو کیا اور اس وقت تک آفتا ب غروب ہوچکا

تحا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نماز عصر ادا فرمائی اور اس کے بعد نماز مغرب پڑھی - (اس کی

روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے - )

From Jabir, Allah be pleased with him: On the day of the Battle of the Trench, Umar ibn al-Khattab said: "O Messenger of Allah, I nearly missed Asr until the sun was almost setting." The Messenger of Allah ﷺ replied: "By Allah, I did not pray it." We then descended to Butahan, where the Messenger of Allah ﷺ made wudu, and we made wudu as well. Then, he prayed Asr after the sun had set, and after that, he prayed Maghrib. [Narrated by Bukhari and Muslim]

صاحب ترتیب کے حکم پر چوتھی حدیث
945

ابراہیم نخعی (رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ) کہ أن تے (صاحب ترتیب ) شخص

کے متعلق (دریافت کیا گیا ) جونماز ظہر بجول کیا ہوااور عصر کی نماز میں ثر کیے ہوگیا اور اس کونماز عصر

میں ظہر کی نماز یاد آگئی تو ابراہیم نخی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کر وہ عصر کو توڑ دے اور ظہر کی نماز پہلے پڑھ لے۔ اس کے بعد عصر ادا کرے - (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے-)

صاحب ترتیب سے نماز وتر فوت ہوجائے تو اس کے ادا کرنے کا حکم

From Ibrahim: Regarding a person who forgot Zuhr and remembered it during Asr, he said: "He should perform Zuhr first, then pray Asr." [Narrated by Al-Tahawi]

946

زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز وتر نہ پڑھ کر سوجائے اور رات میں ادا نہ کر سکے اور وہ صاحب ترتیب ہے) تو وہ وتر کون صادق ہو نے کے بعد (نماز فجر کے پہلے) پڑھ لے۔

(اس کی روایت ترمذی نے مرسلا کی ہے-)

ف: اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ صاحب ترتیب کیلئے جس طرح فرض نماز ول کی قضاء کے موقع پر قضا اور وقتی نماز دون کے درمیان ترتیب کا قائم رکنا فرض ہے (کہ وہ پہلے قضاء ادا کرے پھر وقتی نماز) اس طرح صاحب ترتیب کیلئے بھی فرض ہے کہ وہ وتر اور فرض نماز ول کے درمیان ترتیب قائم رکھے، مثلًا کسی صاحب ترتیب کی نماز وتر فوت ہوگئی اور فجر کا وقت شروع ہوگیا تو ایسے صاحب ترتیب کیلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے وتر کی قضاء پڑھے پھر فجر کے فرض ادا کرے۔ یہ مضمون شرح و قایدے سے ماخوذ ہے

صحاب ترتیب کے لئے ترتیب فرض ہونے کا ثبوت

From Zayd ibn Aslam: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever sleeps through his Witr, should pray it when he wakes up." [Narrated by al-Tirmidhi as marfu']

Ali al-Qari said: "This means before the Fajr prayer, if the person follows the proper sequence. If not, then after it, even if it is at the end of his life."

947

ابوعبد اللہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین نے خندق کی لڑائی کے موقع پر چار نماز ول سے روک رکھا تھا (اس لئے چار نمازیں ادانہ کر سکے)۔ یہاں تک کہ اللہ کی مشیت میں جہاں تک منظور تھا رات کا پکھا حضرت زرگیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بالل رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ازال وی پھرا قامت کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر افر مالی پھرا قامت ہوئی اور نماز عصر ادا فر مالی پھرا قامت ہوئی اور مغرب ادا فر مالی پھرا قامت ہوئی اور عشاء کی نماز ادا فر مالی -

(اس کی روایت ترتیبی اورسالی نکی ہے اورابن حبان اور بزار نے جو اس طرح روايت

کی ہے۔)

صاحب ترتیب کی تعریف اور ترتیب کے تفصیلی احکام

ف: ہمارے علماء نے ان احادیث سے استدلال کیا ہے کہ صاحب ترتیب کیلئے وقتی نمازون

اور قضا نمازوں کے درمیان ترتیب کا قائم رکھنا فرض ہے اس طرح کہ پہلے قضاء نماز ادا کی جائے پھر

وقتی اوراسی طرح قضاء نمازوں کے درمیان کی ترتیب کا لحاظ رکھنا فرض ہے آگر کسی صاحب ترتیب کی

نماز میں فوت ہوجائے اور وہ ظہر تک اسکواوانہ کر سکے تو وہ ظہر کے وقت پہلے نماز فجر ادا کرے اوراس کے

بعد نماز ظہر ادا کرے اوراسی طرح کسی صاحب ترتیب کی فجر اور ظہر دونوں قضاء ہون تو اس کو چاہئے کہ

پہلے فجر کی قضاء ادا کرے پھر ظہر کی قضاء ادا کرے صاحب ترتیب کے بارے میں مرید تو ضعیف ہے کہ کسی

شخص کی دویا تین یا جاریا پائے نمازیں قضاء ہوگئیں اور ان نمازوں کے سوالس کے ذمہ کسی اور نماز کی قضاء

باتی نہیں ہے لیکن عمر بحر میں سن بلوغ سے کہی کوئی نماز فوت نہیں ہوتی اور اگر فوت ہوتی تو اس کی قضاء

کرنی، ایسا شخص صاحب ترتیب ہے اور ایسے شخص کیلئے ادا نماز کا پڑھنا اس وقت تک درست نہیں جب

تک وہ ان پانچویں فوت شدہ نمازوں کی قضاء پڑھ لیوے اور ایسا شخص ان فوت شده نمازوں میں کچھ

لازمًا ترتیب رکھا لیکن جونماز سب سے اول فوت ہوتی ہے پہلے اس کی قضاء پڑھے پھراس کے بعد

والی پھراس کے بعد والی اس طرح ترتیب سے پانچویں کی قضاء پڑھے مثلًا کسی سے دن بحر کی پانچوں

نمازیں فجر ظہر عصر مغرب عشاء فوت ہوگئیں تو پی صاحب ترتیب ہونے کی وجہ سے پہلے فجر پھر ظہر

پھر عصر پھر مغرب اور پھر عشاء ترتیب سے پڑھے اگر اس نے پہلے فجر کی قضاء نہیں پڑھی بلکہ ظہر قضاء پڑھ

لی ای عصر کی قضاء کی یا لن پانچویں نمازوں میں سے بالا لحاظ ترتیب کوئی اور نماز ادا کر لی تو یہ نماز درست نہیں

ہوتی اور اس شخص کیلئے اس نماز کو پھر پڑھنا ضروری ہوگا البتر کس شخص کی چھ نمازیں فوت ہو جائیں تو ایسا

شخص صاحب ترتیب نہیں رہا اب وہ ان فوت شدہ نمازوں کی قضاء پہلے ادا نماز پڑھ سکتا ہے اور

ایسے شخص کیلئے فوت شدہ نمازوں میں کچھ ترتیب ضروری نہیں ہے۔12

From Abu Ubaidah, from his father Abdullah ibn Mas'ud: The polytheists distracted the Messenger of Allah ﷺ from four prayers on the day of the Battle of the Trench until a part of the night had passed. He then ordered Bilal to call the adhan, and he prayed Zuhr, then Asr, then Maghrib, and finally Isha. [Narrated by al-Tirmidhi and al-Nasa'I, Ibn Hibban and al-Bazzar narrated something similar]

Our scholars have used these hadiths to support the obligatory sequence between the time-specific prayers and the missed ones, as well as the ordering of some missed prayers with others.

Our scholars have argued from these hadiths that for a person who is capable of maintaining order (ṣāḥib al-tartīb), it is obligatory to maintain the order between the timely prayers and the missed (qadā) prayers such that the missed prayer should be performed first, followed by the timely prayer. Thus, if a person who is capable of maintaining order misses a prayer and can make it up before noon, they should perform the Fajr prayer first and then the Zuhr prayer. Similarly, if a person who is capable of maintaining order has missed both Fajr and Zuhr, they should perform the Fajr qadā first and then the Zuhr qadā. The view regarding a person who has missed two consecutive or intermittent prayers is weak, as the missed prayers do not affect the obligation to perform another prayer. However, it is said that Umar (RA) did not miss any prayer after reaching the age of puberty, and if he had missed any, he would have made them up. Such a person is considered capable of maintaining order, and for such a person, it is not correct to recite the adhān until they have performed the qadā of the five missed prayers, and they must maintain some order in these missed prayers, starting with the one that was missed first, followed by the next, and so on, until the fifth. For example, if someone misses all five daily prayers, Fajr, Zuhr, ʿAsr, Maghrib, and Isha, they should, due to being capable of maintaining order, perform Fajr first, then Zuhr, then ʿAsr, then Maghrib, and finally Isha. If they perform the qadā of Zuhr before Fajr, or ʿAsr before Zuhr, or any other prayer out of order among the five missed prayers, their prayer is not valid, and they must perform that prayer again. However, if a person misses six prayers, they are no longer considered capable of maintaining order. In this case, they can perform the qadā of the missed prayers before the adhān, and for such a person, maintaining order in the missed prayers is not necessary.