Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ الْمَوَاقِيتِ

یہ باب اوقات نماز کے بیان میں

Prayer Times
Volume 2 · Prayer

وقول الله عز و جل ان الصلوه كانت علي المومنين كتبا موقوتا سوره نساء ع ايت نمبر مي ارشاد باري تعالي يقينا نماز مسلما ر بقيد وقت فرض وقوله واقم الصلوه طرفي النهار وزلفا من اليل اور ارشاد باري تعالي سوره حود ع ايت نمبر ا يمبر صلي الل علي وسلم نماز كي اند ي ك دن ك دونو كنارو اور رات كي قربي ساعتو مي ف اس ايت ك الفاظ طرفي النهار و زلفا من الليل س ان و نمازو كي طرف اس طرح اشار و ر ا ك طرفي النهار دن ك دونو طرف مي طرف اول س نماز فجر اور طرف اخر س مراد نماز ظ ر اور عصر اور زلفا من الليل رات كي قربي ساعتو س نماز مغرب اور عشاء مراد خازن وقوله اقم الصلوه لدلوك الشمس الي غسق اليل وقران الفجر ان قران الفجر كان مشهودا اور ارشاد باري تعالي سوره بني اسراييل ع ايت نمبر مي ا يمبر صلي الل علي وسلم افاتب ك ذكر س رات ك اند ير تك ظ ر عصر مغرب اور عشاء كي نمازي ا كرو اور ن كي نماز ك كيون ك كي نماز فرشتو ك حاضر و ن كا وقت وقوله وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها ومن

اَنَا ئِ الَّیْلِ فَسَبْحُ وَاُطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى “ارشاد باری تعالیٰ ﷺ (سورۃ،

پ:16، ع:8، آیت نمبر:130 جس ) وَسَبْحُ بَحْمِدِ رَبِّکَ (اے پغمبر صلی اللہ علیہ وسلم )

آپ اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تشیح کیا کچھ ” قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ “ آفتاب نکلنے

سے پہلے (نماز فجر ادا کیا کچھ ) ”وَقَبْلَ غُرُوبِہَا“ اور نیزا فتاب کے ذوبنے سے پہلے (نماز عصر

پڑھا کچھ ) وَمِنْ انا آئِ الَّیْلِ اور نیز رات کے وقت میں ”فَسَبْحُ“، تشیح کیا کچھ (یعنی نماز

مغرب وعشاء پڑھا کچھ ) ”وَاُطْرَافَ النَّهَارِ“ اور دوپہر کے وقت (نماز ظہر ادا کیا کچھ ) ظہر

کے وقت کو ”اُطْرَافَ النَّهَارِ“ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ نماز ظہر کا وقت زوال پر موقوف ہے اور

وقت زوال کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک طرف تو دن کے نصف اول کی انتہائے تو دوسرا طرف ہے

دن کے نصف آخر کی ابتدا ہے، گویا زوال کا وقت دن کے دونوں طرف کا جامع ہے اور اس وجہ

سے ظہر کے وقت کو ”وَاُطْرَافَ النَّهَارِ“ سے تعبیر دی گئی ہے ”لَعَلَّکَ تَرْضَى“ تاکہ آپ

(اس عبادت کاصل پاکر) خوش ہو جائیں۔

O Prophet, praise your Lord and glorify Him before the rising of the sun (i.e., perform Fajr prayer) and before its setting (i.e., perform Asr prayer) and during some part of the night (i.e., perform Maghrib and Isha prayers) and at the edges of the day (i.e., perform Dhuhr prayer) so that you may be pleased (by this worship). This is based on the verse: 'And glorify the praises of your Lord before the rising of the sun and before its setting, and during some part of the night, and at the edges of the day, so that you may be pleased' (Surah Al-An'am, verse 16, Ayat number: 130). The term 'at the edges of the day' (وَاُطْرَافَ النَّهَارِ) is used for the time of Dhuhr prayer because the time of Dhuhr is fixed at noon, which marks the end of the first half of the day and the beginning of the second half. Thus, the time of Dhuhr is considered to encompass both parts of the day, and hence it is referred to as 'at the edges of the day.'

وقول فسبحن الل حين تمسون وحين تصبحون ول الحمد في السموات والارض وعشيا وحين تظ رون سور روم ع ايت نمبر جس ارشاد باري تعالي صلي الله عليه وسلم الل كي تشيح كيا كرو شام ك وقت يعني نماز مغرب و عشاء ا كرو اور صبح ك وقت يعني نماز فجر اور تمام اسمان اور زمين مي اس كي حمد وتي اور دوساي بعدي نماز عصر اور ظ ر ك وقت يعني نماز ظ ر

ہر نماز کے اول وقت اور آخر وقت کا بیان

The times of the beginning and end of each prayer

853

ہمام رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں نے عطاء بن الی

رباح رضی اللہ علیہ کو کہتا ہوئے سنا کہ ان کو صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک صحابی نے حدیث بیان کی

کر ایک شخص نے صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آنحضرور صلی اللہ علیہ وسلم سے

اوقات نماز کے متعلق سوال کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ آپ کے ساتھ

نماز ون میں شریک رہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا فرمائی اور اول وقت ادا فرمائی، پھر نماز

ظہر ادا فرمائی اور اول وقت ادا فرمائی! پھر نماز عصر ادا فرمائی اور اول وقت ادا فرمائی، پھر نماز مغرب ادا

فرمائی اور اول وقت ادا فرمائی پھر نماز عشاء ادا فرمائی اور اول وقت ادا فرمائی پھر دوسرے دن پاچوں

نمازیں ادا فرمائیں اور ہر نماز کو اس کے آخر وقت ادا فرمائی - بعد ازا ل حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس

شخص سے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں دونوں کی میری نماز ون کو تم نے دیکھا ہے (اور تم کوان دونوں دونوں

کی ہر نماز کا اول وقت اور آخر وقت معلوم ہوگیا) تو ان دونوں دونوں کی ہر نماز کے اول وقت اور آخر

وقت کے درمیان کا پورا وقت ہر نماز کا وقت ہے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

نماز ظہر کے اول وقت کا بیان

It is narrated on the authority of Hammam (RA) that he said: I heard 'Ata bin Yarib (RA) say that one of the Companions (RA) reported to him that a man came to the Prophet ﷺ and asked him about the times of prayer. The Prophet ﷺ commanded the man to pray with him. The Prophet ﷺ then performed the Asr prayer at its earliest time, then the Zuhr prayer at its earliest time, then the Asr prayer at its earliest time, then the Maghrib prayer at its earliest time, then the Isha prayer at its earliest time. On the second day, he performed all five prayers at their latest times. After that, the Prophet ﷺ said to the man, 'You have seen my prayers on both days, and you have seen the earliest and latest times for each prayer. Therefore, the entire period between the earliest and latest times for each prayer is the time for that prayer.'
854

ابن جرتہ رضی اللہ عنه، سلیمان بن موسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، انہول

نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز ظہر کا وقت آفات کے وصل سے شروع

ہوجاتا ہے۔ (اس کی روایت عبد الرزاق نے مرسل کی ہے۔)

نماز ظہر کے اول وقت اور آخر وقت کا بیان

Ibn Jarir (RA) and Suleiman bin Musa (RA) narrate that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'The time for the Dhuhr prayer begins when the harmful effects [of the sun] join together.' (This narration is reported by Abd al-Razzaq as mursal.)

855

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

و سلم نے فرمایا: پیشکہ نماز کے لئے ایک اول وقت ہے اور ایک آخر وقت اور نماز ظہر کا ابتدائی وقت

پیشہ کر جب آفتاب وصل جاے اور نماز ظہر کا آخری وقت وہ ہے کہ جب وقت عصر آجاے۔ (اس

کی روایت تزندی اور امام احمد نے کی ہے۔)

نماز ظہر کا وقت ایک سا پیکے بعد محی باقی رہتا ہے اور عصر کا وقت دوساپیکے بعد شروغ ہوتا ہے

Abu Huraira narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "Indeed, prayer has an early and a late time. The earliest time for Dhuhr prayer is when the sun has passed its zenith, and the latest time for it is when the time for Asr has entered." [Narrated by Tirmidhi and Ahmad]

856

عبد اللہ بن رافع رضی اللہ عنہ جوام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ

غلام ہیں، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وقت نماز کے متعلق دریافت کیا تھا تو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے

فرمایا: میں تم کو ظہر اور عصر کے نماز ول کا وقت بتلاتا ہوں، نماز ظہر اس وقت پڑھو جب کہ تمہارا ساپی

(ساپی اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے ایک مشل ہوجاے۔ اور نماز عصر اس وقت ادا کرو جب کہ تمہارا ساپی

(ساپی اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے دو مشل ہوجاے۔

(اس کی روایت امام ماک نے اسناد کے ساتھ کی ہے اور عبد الرزاق نے بھی اس طرح

مرفوعاً کی ہے اور تمہیں میں کہی عبد اللہ بن رافع سے، میں مرفوعاً اس طرح مرودی ہے۔)

ف: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے الفاظ "صلی الظہر إذا کان ظلک مشلک" نماز ظہر اس وقت پڑھو جب کہ تمہارا ساپی (ساپی اصلی کو چھوڑ کر) تمہارے ایک مشل ہوجاے۔ حدیث کے ان الفاظ سے پی ثابت ہو رہا ہے کہ نماز ظہر کا شروع کرنا اس وقت ہی جائز ہے

جب کسی چیز کا ساپی اس کے ساپی اصلی کو چھوڑ کر اس چیز کے ایک مشل کو پیچھے جاے۔ اور ایک واضح بات

ہے کہ جب نماز ایک مشل پرشونع کی جاے گی تو باقی نماز ایک مشل کے بعد، یا داہوگی، اگر ایک مشل

کے بعد ظہر کا وقت باقی نہیں رہتا ہے تو پچھری نماز جو ایک مشل کے بعد ادا ہو رہی ہے اس کا شمار ادا میں ہو گا

یا قضا میں؟ حدیث شریف سے تو یہی معلوم ہو رہا ہے کہ ایک مشل کے بعد کی ادا ہو نے والی نماز کا شمار ادا

میں ہو گا تو اس سے پی ثابت ہو گیا کہ ایک مشل کے بعد ظہر کا وقت باقی رہتا ہے اور یہی حقیقت ہے۔

Abdullah bin Rafi' (RA), the freed slave of Umm Salamah (may Allah be pleased with her), narrated from Abu Hurairah (RA) that

I asked Abu Hurairah (RA) about the time of prayer, and Abu Hurairah (RA) said: 'I will tell you the time for the Zuhr and Asr prayers. Pray Zuhr when your shadow, excluding its original length, becomes equal to one cubit. And pray Asr when your shadow, excluding its original length, becomes equal to two cubits.'

857

بخاری شریف کی ایک روایت میں مرفوعاً نذکورہ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص سے فرمایا ’’ابر د حتی ساوى الظل التلول‘‘ (نماز ظہر کو) محض دی کر کے پڑھو یہاں تک کر ساپی طیلون کے برابر ہو جائے (اور جب ساپی طیلون کے برابر ہو جاتا ہے تو دوش ہو جاتا ہے اور نماز ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔ بخاری شریف کے ان نذکورہ الفاظ ’’ابر د حتی ساوى الظل التلول‘‘ سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں (1) ایک تو یہ چیز کہ ظہر کا وقت ایک مش کے بعد ہی باقی رہتا ہے اور دو یہ چیز کہ ظہر کا وقت ایک مش کے محض دکر ایک مش کے بعد یہ شروع ہوتی ہے اور حدیث کے باقی الفاظ ’’ابر د حتی ساوى الظل التلول‘‘ (یہاں تک کہ ساپی طیلون کے برابر ہو جائے) ان الفاظ سے (2) دوسرا یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ نماز ظہر کا وقت ساپی طیلون کے برابر ہو نے تک باقی رہتا ہے اور یہ حال تا اس وقت ہوتی ہے جب کہ ساپی دوش کو تک جا کے تو اس سے ثابت ہوا کہ نماز ظہر کا وقت دوش پر ختم ہو جاتا ہے اور یہ حقیقت ہے۔

ف: واضح ہو کہ نذکورہ فائدہ (1) میں نماز ظہر کے وقت کے بارے میں جو ضاحت کی گئی ہے وہ از راہ حقیقت ہے اس لیے مناسب یہہ کہ شریف الاسماعیلیہ سراج میں جو کہا ہے اس پر عمل ہوا اور وہ یہہ کہ ظہر کا وقت ایک مش کے بعد ہی باقی رہتا ہے لیکن اختیار اس میں ہے کہ نماز ظہر کو ایک مش سے پہلے ختم کر دیں اور نماز عصر اس وقت تک نہ پڑھی جائے جب تک کہ دوش نہ ہو جا کیسے اس سے دونوں نمازیں بالاجماع اپنے اپنے وقت پراداہول گی پر دو اختیار میں نذكورہ۔

نماز عصر کا دوش پر پڑھنا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔

It is narrated in Sahih al-Bukhari, on the authority of the Prophet ﷺ, that he said to a person:

‘Pray Dhuhr until the shadow equals the length of the object.’ This means: Pray Dhuhr until the shadow becomes equal to the length of the object, which is when the sun begins to decline, and the time for Dhuhr prayer ends. From these words in Sahih al-Bukhari, ‘Pray Dhuhr until the shadow equals the length of the object,’ two things are established: (1) One is that the time for Dhuhr remains after one cubit, and the other is that the time for Dhuhr starts just after one cubit. From the remaining words, ‘Pray Dhuhr until the shadow equals the length of the object,’ it is established (2) that the time for Dhuhr remains until the shadow equals the length of the object, and this continues until the sun reaches its decline, indicating that the time for Dhuhr ends at the decline. This is the truth. It is clear that the explanation given in the first benefit regarding the time for Dhuhr is correct. Therefore, it is appropriate to act according to what is stated in Sharif al-Isma'ili Sajjād, which is that the time for Dhuhr remains after one cubit, but there is an option to complete Dhuhr before one cubit and not pray Asr until the sun declines, so that both prayers are performed within their respective times. It is established from the Prophet ﷺ that Asr can be prayed at the time of the sun's decline.

858

جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیں عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ پر چیز کا سایہ (ساپی اصلی کو چھوٹا کر) دوش مش کو پہنچ گیا تھا۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی سنن کے ساتویں کے جو قابل قبول ہے۔)

نماز عصر کا ابتدائی وقت دو مش سے شروع ہوناس حدیث سے کچھ ثابت ہوتاہے

It is narrated from Jaber (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ taught us to pray the Asr prayer at the time when the shadow of an object reaches twice its length, excluding the original length.

859

ا ب ن ع م ر رضی اللہ تعالیٰ ع نہ م ا ر س و ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روایت کر تے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری چھوٹی عمر میں تم سے پیشتر کے امتون کی عمروں کے مقابلے میں اتنی پیش جتنا وقت عصر سے لے کر غروب آفتاب تک ہوا کرتا ہے، اور تمہاری اور یہود و نصاری کی مثال اللہ تعالیٰ کے ساتھ، ایسے ہے کہ ایک شخص نے چند کام کرنے والوں کو کام میں اجرت پر دیا اور سیکھا کہ کون میرا کام صحیح سے دوپہر تک ایک ایک قرآن اجرت پر کرے گا؟ تو یہودی سے دوپہر تک ایک ایک قرآن اجرت پکام انجام دیتے رہے، پھراس شخص نے کہا دوپہر سے لے کر نماز عصر تک عصر تک ایک ایک قرآن اجرت پر کون میرا کام کرے گا؟ تو نصاری دوپہر سے لے کر نماز عصر تک ایک ایک قرآن اجرت پکام کرتے رہے، پھراس شخص نے کہا کہ کون میرا کام نماز عصر سے لے کر آفتاب کے ذوبتے تک دو دو قرآن اجرت پرانجام دے گا؟ (حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) خوب سن لو کہ تم یوہ لوگ ہو جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک عمل کرتے ہیں، پھرس لو کہ تم یو دوہرے اجرت کے مستحق ہو یہود و نصاری اس پر ناراض ہوگئے اور کہنے لگے کہ تم تو زیادہ عمل کرتے اور اجرت کم پائیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے حق کے ادا کرنے میں تم پر پچھے ظلم کیا ہے؟ یہود و نصاری نے جواب دیا کہ نہیں! پس اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ دوگنا اجرت دینا میرا فضل ہے جس کو جاہول دیوال۔

(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)

گئی۔ اس میں نصاری کی مدت جودوپہر سے عصر تک بھاس کوزیادہ بتایا گیا ہے اور عصر سے مغرب تک کی مدت کو جواس امت کی مدت سے کم بتایا گیا۔ اس طرح اس سے ثابت ہوا کہ عصر کا وقت دو مش کے بعد شروع ہوتا ہے اور کہی امام ابوحنیفرحمۃ اللہعلیہ نے فرمایا ہے

It is narrated from Ibn 'Amr (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ narrated that Allah ﷺ said:

Your youth compared to the ages of previous nations is like the time from midday until sunset. And the example of you and the Jews and Christians with Allah is like that of a man who hired some workers and said, 'Who will work for me from morning until noon for one Qirat each?' So the Jews worked until noon for one Qirat each. Then the man said, 'Who will work for me from noon until the 'Asr prayer for one Qirat each?' So the Christians worked from noon until the 'Asr prayer for one Qirat each. Then the man said, 'Who will work for me from the 'Asr prayer until sunset for two Qirats each?' The Messenger of Allah ﷺ said, 'Listen well, for you are the people who work from the 'Asr prayer until sunset, and you will receive double the reward.' The Jews and Christians were displeased and said, 'You do more work and receive less reward?' Allah said, 'Have I wronged you in fulfilling your rights?' They replied, 'No!' Then Allah said, 'Giving double the reward is My favor, which I bestow upon whom I will.'

ف : اس حدیث سے ہمارے علماء نے ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں استدلال کیا ہے کہ نماز عصر کا ابتدائی وقت اس وقت ہوتا ہے جب کہ برس کاسای (سايا صلی چھوٹا کر) اس شے کے دو مش ہوجانے کیون کر اگر عصر کا وقت ایک مش پر قرار دیا جائے تو ایک مش سے غروب تک زیادہ وقت ہوتا ہے اور دوپہر سے ایک مش تک تحویلی وقت حالاکہ اس حدیث میں جومثال دی

نماز عصر کے آخری وقت کا بیان
860

عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: نماز عصر کا وقت اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک کرآفقاب کارگے زردہ پڑجا گے اور آفقاب کا پھلا کناڑہ ذوب نہ جا گے -(اس کی روایت مسلم نے لکھے-)

It is narrated from Abdullah bin Umar and bin Al-As (RA) that they said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'The time for the Asr prayer remains until the yellowish hue sets in and the first edge of the sun melts away.' - (This is reported by Muslim.)

861

عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ

الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ ، وَلَا تَحِينُوا لِصَلاةِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا

فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ " .

اور مسلم کی دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ نماز عصر کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک کرآفقاب ذوب نہ جا گے-

جو شخص فجر کی ایک رکعت پائے کے بعد آفقاب طلوع کیا ایے، تو عصر کی ایک رکعت پائے کے بعد آفقاب غروب ہوا، ایسے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟ اس کی تحقیق ف : اس حدیث میں نماز عصر کے آخری وقت کے بارے میں مسلم کی ایک روایت جو عبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنہما سے مردی ہے، میرے: (وقت العصر مالم تغرب الشمس ) نماز عصر کا وقت غروب آفقاب تک رہتا ہے (اور غروب ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے) اور نماز فجر کی ابتدا ءاور انتہا کے بارے میں امام احمد اور ترمذی کی پیر(2) حدیث مردی ہے:

عن ابی هریرۃ رضی اللہ عنه، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : "ان اوّل وقت الفجر حين يطلع الفجر، و ان آخر وقتها حين تطلع الشمس".

نماز فجر کا ابتدائی وقت صح صادق کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور نماز فجر کا آخری وقت طلوع آفقاب سے ختم ہوجاتا ہے اور وہ اوقات جن میں نماز ون کا پڑنا منوع ہے-

اس بارے میں بخاری ومسلم کی متفرق ایک حدیث ہیں:

(3) عن ابن عمر رضى اللہ تعالیٰ عنہما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرودی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد

فرمایا کہ جب آفتاب کا کنارہ ہوئے سے کیا ہے) اور جب آفتاب کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز عصر کو

چھوڑ دو یہاں تک کہ آفتاب خوب ظاہر ہو جائے (اس کا اندازہ فقہاء نے سورج کے ایک نیزہ برابر

طلوع ہوئے سے کیا ہے) اور جب آفتاب کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز عصر کو چھوڑ دو یہاں تک کہ پورا

آفتاب ڈوب جائے اور آفتاب طلوع اور غروب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو کیون کہ آفتاب

شیطان کے دوسیتوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔

ان تینوں حدیثوں نمبر (3،2،1) کو متشابہ نظر رکھ کر ذیل کی حدیث کا مطالع کیا جائے جس کو

بخاری اور مسلم نے بالاتفاق ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے:

"مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ

أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ".

جو طلوع آفتاب سے پہلے نماز صبح کی ایک رکعت کو پا لے تو وہ نہ کوپوری نماز پالیا اور جو غروب

آفتاب سے پہلے نماز عصر کی ایک رکعت پالیا تو وہ عصر کی پوری نماز پالیا۔

اس حدیث سے واضح ہورہا ہے کہ جو طلوع آفتاب سے پہلے نہ جو غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت اور اسی طرح

غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالے اور اس نے باقی نماز طلوع یا غروب کے بعد ادا کر لی تو

وہ فطر اور عصر کی پوری پوری نماز پالیا علامہ ابن رحمۃ اللہ علیہ نے "مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً" والی حدیث

اور اسی مضمون کی جودوسری حدیث مرودی ہے ان دونوں حدیثوں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ دونوں

حدیثیں ذکور الصدر تینوں حدیثوں سے تعارض کی بناء پر منسوخ ہیں کیون کہ صدر کی تینوں حدیثیں متواتر

ہیں اور یہ دونوں متعارض حدیثیں اس درجہ کہ نہیں پائیں، اس لیے یہ دونوں متعارض حدیثوں کے صدر کی تینوں

ن متواتر حدیثوں سے منسوخ ہیں، ان دونوں متعارض حدیثوں کے منسوخ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ

ان تینوں حدیثوں سے دو چیزیں ثابت ہورہی ہیں۔

(1) ایک پیکر طلوع اور غروب کے وقت نماز ناجائز ہے اور (2) دوسرے پیکر فجر اور عصر کا وقت طلوع اور غروب تک رہتا ہے اس کے برخلاف ان دونوں متعارض حد یثول سے معلوم ہو رہا ہے کہ طلوع اور غروب کے وقت نماز جائز ہے اور دوسرے پیکر فجر اور عصر کا وقت طلوع اور غروب کے وقت باقی رہتا ہے جو صرح تعارض ہے، اس کے علاوہ ان دونوں متعارض حد یثول کا منسوخ ہونا مسلم ہے ایک اور حدیث "صلِ الصلاوة لوقتها" (ہر نماز کو اس کے وقت پرادا کیا کرو) سے بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان دونوں متعارض حد یثول سے اس بات کا پیش چلتا ہے کہ نماز اپنے وقت سے متجاوز ہو کر ادا ہوری ہے اور پی مسلم کی اس روایت کے صرح خلاف ہے۔ علاوہ ازیں کتاب اللہ کی آیت "ان الصلاوة کانت علی المومنین کتبًا موؤوتا" (یقیناً نماز مسلماں پر لپید وقت فرض ہے) (سورۃ نساء، پ:5، ع:15، آیت نمبر:103) پر آیت کی ان دونوں متعارض حد یثول کے منسوخ ہونے پر قیمت ہے کیونکہ ان دونوں متعارض حد یثول سے غیر وقت میں نماز ادا کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے اس کے برخلاف آیت مذکورہ سے صرف پیچھے ثابت ہوتی ہے کہ نماز کو اس کے وقت پر ہی ادا کیا جائے۔ واقع ہو کہ صدر کی تیول حد یثول جو عبد اللہ بن عمر و بن العاص ابوہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروری بیان تیول حد یثول سے "من اذرک رکعة"، والی دونوں حد یثول متعارض ہوری تھیں، اس تعارض کو علماء عینی رحم اللہ نے اس طرح دورفر مایا کہ "من اذرک رکعة"، والی دونوں حد یثول منسوخ ہیں، اس کی تفصیلی بحث ابھی سطور بالا میں آپ کی نظر سے گزر چکی ہے، اب ذیل میں امام طحاوی رحم اللہ نے اس تعارض کو جس طرح دورفر مایا ہے اس کو سنے۔ امام طحاوی رحم اللہ فرماتے ہیں کہ "من اذرک رکعة"، والی دونوں حد یثول ان لوگوں کے بارے میں میں ہیں جنہوں نے فجر کی اعرکی نماز دیر کر کے ادا کی ہو یہاں تک کہ ایک رکعت کے ادا کرنے کے بعد طلوع یا غروب ہوگیا اور انہوں نے باقی نماز طلوع یا غروب کے بعد ادا کی ہو بلکہ یہ دونوں حد یثول واجب عمل ہیں اور منسوخ نہیں ہیں اور ان دونوں حد یثول کا حکم اس متم کے لوگوں سے متعلق ہے جسے نابالغ لڑکے جوآقتاب کے طلوع یا غروب سے پہلے ایس وقت میں بالغ ہون کر ان کو طلوع یا غروب سے پہلے صرف اتنا وقت مل گیا جس میں ایک رکعت ادا کی جاسکتی ہے تو ایس وقت

میں باقی ہوئے والے اٹھ کے پراس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور اس نماز کی قضاء اس پر لازم

ہو گی، نماز کے واجب ہو جانے کا سبب نماز کے وقت کا طل جانا ہے اگر چہ وہ تحوّر ای کیون نہ ہو اور

پہال باقی ہوئے والے اٹھ کے تحوّر اوقت مل گیا تو اس لے اس پر نماز واجب ہو گی ایسے "مَنْ

ادْرَكَ رَكْعَةً"، والی دونوں حدیثیں ان حیض والی عورتوں کے بارے میں ہیں جو طوعی غروب سے

پہلے پاک ہو جائیں اور ان کو طوعی غروب سے پہلے اتنا وقت مل گیا جس میں ایک رکعت ادا کی جاسکتی

ہے تو ان پر حیض اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور وہ اس نماز کی قضاء کریں گی۔ اور بالکل اسی

طریح "مَنْ ادْرَكَ رَكْعَةً"، والی دونوں حدیثیں ان مسلمون کے بھی متعلق ہیں جو طوعی غروب سے پہلے اسلام قبول کرلین اور طوعی غروب سے پہلے اسلام لا نے کے بعد ان کو اتنا وقت مل گیا کہ اس میں

ایک رکعت ادا ہوسکتی ہے تو ان پر حیض اس وقت کی نماز فرض ہو جائے گی اور وہ اس نماز کی قضاء کریں گے۔

اس پر دلیل یہ ہے کہ حدیث میں لفظ "ادْرَكَ" نکودہ ہے جس کے معنے پانے کے پینے کے

نماز پڑنے کے اگر طوعی غروب سے پہلے ایک رکعت نماز پڑ ہیں سے طوعی غروب کے بعد باقی

نماز کا پڑنا جائز ہوتا اور یہ نماز او نماز میں محصوب ہوتی تو "مَنْ ادْرَكَ" کی بجاے "مَنْ

صلّی" جونماز پڑھا ارشاد ہوتا، یہاں بجاے "مَنْ صَلَّی" کے ارشاد ہواہے "مَنْ ادْرَكَ رَكْعَةً"،

(جس نے ایک رکعت پانی) لیکن جس نے ایک رکعت کا وقت پالیا تو ایسا شخص جو ایسے وقت میں ایک

رکعت پالیا ہووہ پوری نماز کا پانے والا محججا جاے گا اور اس پراس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور وہ

شخص اس نماز کی قضاء کرے گا۔12

نماز مغرب کا آخری وقت سفید شفق کے غائب ہونے تک رہتا ہے

The time for the Asr prayer remains until the blackness of the night sets in. If someone finds one rak'ah of Fajr remaining and then the sun rises, or if someone finds one rak'ah of Asr remaining and then the sun sets, what is the ruling regarding their prayer? This requires investigation.

This hadith discusses the last time for the Asr prayer, as narrated by Muslim from Abdullah ibn Umar and Ibn Umar (RA): (The time for Asr is until the sun sets) meaning that the time for Asr prayer remains until sunset (and ends when the sun sets). Regarding the beginning and end of Fajr prayer, a hadith narrated by Imam Ahmad and Tirmidhi from Abu Hurairah (RA) states: The Messenger of Allah (SAW) said: 'The first time for Fajr is when the true dawn appears, and its last time is when the sun rises.' The initial time for Fajr prayer begins with the appearance of the true dawn and ends when the sun rises. The times during which it is prohibited to pray are as follows:

There are different narrations in Bukhari and Muslim:

(3) From Ibn Umar (RA), who said: The Messenger of Allah (SAW) said: 'When the edge of the sun starts to set, leave the Asr prayer until the sun is fully visible (which scholars estimate to be when one finger of the sun has risen) and when the edge of the sun starts to set, leave the Asr prayer until the sun has completely set. Do not intend to pray at the time of sunrise or sunset, for the sun rises between the horns of Satan.'

These three hadiths (3, 2, 1) should be considered similar and the following hadith, narrated by Bukhari and Muslim from Abu Hurairah (RA), should be examined:

'Whoever performs one rak'ah of Fajr before the sun rises has performed Fajr, and whoever performs one rak'ah of Asr before the sun sets has performed Asr.'

This means that if someone performs one rak'ah of Fajr before the sun rises, they have completed the entire Fajr prayer, and if someone performs one rak'ah of Asr before the sun sets, they have completed the entire Asr prayer.

From this hadith, it is clear that if one rak'ah of Fajr is performed before sunrise or one rak'ah of Asr is performed before sunset, and the remaining prayer is completed after sunrise or sunset, then both Fajr and Asr prayers are considered complete. Imam Ibn Rajab (RA) mentions that the hadith 'Whoever performs one rak'ah' and another similar hadith are narrated, and it is stated that these two hadiths are abrogated due to the contradiction with the three aforementioned hadiths, as the three hadiths are mutawatir (widely transmitted) and these two contradictory hadiths do not reach that level. Therefore, these two contradictory hadiths are abrogated by the three mutawatir hadiths. The reason for their abrogation is that the three hadiths establish two things: (1) Prayer is forbidden at the time of sunrise and sunset, and (2) the time for Fajr and Asr extends until sunrise and sunset. In contrast, the two contradictory hadiths suggest that prayer is permissible at the time of sunrise and sunset and that the time for Fajr and Asr continues until these times, which is a clear contradiction. Additionally, the abrogation of these two contradictory hadiths is evident from the hadith 'Perform the prayer at its prescribed time,' as these two contradictory hadiths imply that prayer can be performed outside its prescribed time, which contradicts the established practice. Furthermore, the verse from the Quran, 'Verily, prayer is enjoined on the believers at fixed times' (Surah An-Nisa, 4:103), also supports the abrogation of these two contradictory hadiths, as they suggest that prayer can be performed outside its prescribed time, which contradicts the verse.

In fact, the three hadiths from Abdullah ibn Umar, Ibn Umar, and Abu Hurairah (RA) are consistent, while the two hadiths 'Whoever performs one rak'ah' are contradictory. Scholars like Al-Aini (RA) resolved this contradiction by stating that the two hadiths 'Whoever performs one rak'ah' are abrogated. The detailed discussion of this has been presented above. Imam Tahawi (RA) resolves this contradiction by saying that the two hadiths 'Whoever performs one rak'ah' apply to those who delay the Fajr prayer and perform one rak'ah before sunrise or sunset, and then complete the remaining prayer after sunrise or sunset. These two hadiths are obligatory and not abrogated, and they apply to those who become adults just before sunrise or sunset and have only enough time to perform one rak'ah, making the remaining prayer obligatory and requiring qada (make-up) prayer. The obligation arises because the time for prayer has arrived, even if the person did not intend to pray. If the remaining time allows for the completion of the prayer, it becomes obligatory, and the person must perform the qada prayer. Similarly, these hadiths apply to women who become pure before sunset and have enough time to perform one rak'ah, making the remaining prayer obligatory and requiring qada. They also apply to new Muslims who accept Islam before sunset and have enough time to perform one rak'ah, making the remaining prayer obligatory and requiring qada. The evidence for this is the use of the word 'performs' (adraka) in the hadith, which implies obtaining something. If one rak'ah is performed before sunset, the remaining prayer can be performed after sunset, and the person is considered to have obtained the prayer, making the remaining prayer obligatory and requiring qada.12

The last time for Maghrib prayer is until the white twilight disappears.

862

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کا ابتدائی وقت وہ ہے جب سورج غروب ہو جائے (اور مغرب کے

آخری وقت کے بارے میں ارشاد ہواہے "جِنَ يَغِيبُ الْفُقُرِ، لیعن) مغرب کا آخری وقت وہ

ہے جب کنارہ آسمان سیائی پچلنے کی وجہ سے نظر نہ آے -(لیعن سفید شفق غائب ہو جائے -)

(اس کی روایت ترمذی اور امام احمد نے کی ہے -)

Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said, "The first time for Maghrib prayer is when the sun sets, and the last time for it is when the twilight disappears." [Narrated by al-Tirmidhi and Ahmad]

In another narration by al-Tabarani, it is mentioned: "Then the call for Maghrib prayer was made when the sun had set, and the Messenger of Allah ﷺ delayed it until the whiteness of the day nearly disappeared, which is the twilight as seen." Al-Haythami said its chain of narration is Hasan.

863

اور طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ پھر مغرب کی اذان غروب آفتاب کے وقت دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرمائی اور طویل قرآن تلاوت کے بعد تاخیر فرمائی پہلے تک کہ دن کی سفیدی (جسے سفید شفق) قریب تک کہ غائب ہوجائے، (اس سے معلوم ہوا کہ مغرب کا آخری وقت سفید شفق کے غائب ہونے تک رہتا ہے، اگر مغرب کا آخری وقت سرخ شفق کے غائب ہونے تک ہے قرار دیا جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب کا جو حصر سرخ شفق کے بعد ادا فرما یہ وہ وقت کے بعد ہوگا حالاکہ ایمانہ نہیں ہے-) (یعنی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سنہ حسن ہے-)

Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said, "The first time for Maghrib prayer is when the sun sets, and the last time for it is when the twilight disappears." [Narrated by al-Tirmidhi and Ahmad]

In another narration by al-Tabarani, it is mentioned: "Then the call for Maghrib prayer was made when the sun had set, and the Messenger of Allah ﷺ delayed it until the whiteness of the day nearly disappeared, which is the twilight as seen." Al-Haythami said its chain of narration is Hasan.

مغرب کے اول وقت کا بیان
864

جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب اس وقت پڑھا کرتے تھے جب کرافتاب دوب جا یا کرتا تھا-

(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے-)

Narrated Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ would pray Maghrib when the sun had set. [Narrated by al-Tahawi]

نماز مغرب کے ابتدائی وقت کا بیان
865

سلما بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب غروب آفتاب کے ساتھ پڑھا کرتے تھے-

(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے-)

Narrated Salama ibn al-Akwa (may Allah be pleased with him): We used to pray Maghrib with the Messenger of Allah ﷺ when it had disappeared behind the horizon. [Narrated by Al-Tahawi]

نماز مغرب کے آخر وقت کا بیان
866

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نے صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغرب کا وقت شفق کے پھیلاو کے ختم ہونے تک رہتا ہے-

(اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)

نماز عشاء کا ابتدائی وقت سفید شفق عارب ہونے سے شروع ہوتا ہے

Abdullah bin Umar (RA) narrates from the Prophet ﷺ that

the time for Maghrib prayer lasts until the red twilight has faded away. The initial time for the Isha prayer begins when the white twilight has spread.

867

اٰس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں عشاء کی نماز کب پڑھوں؟ تو آپ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کرم ( نماز عشاء اس وقت پڑھا کرو ) جب آسمان کے کناروں میں سیائے چھیل جائے۔

( اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ )

Narrated Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) that the Prophet ﷺ said: "The time for Maghrib prayer lasts until the red twilight disappears." [Narrated by Muslim]

In a narration from Anas (may Allah be pleased with him), he asked the Prophet ﷺ, "When should I pray Isha?" The Prophet ﷺ replied, "When the horizon has turned completely dark."

In a narration by Abu Dawood, it is mentioned: "Isha should be prayed when the horizon becomes completely dark." Ibn Khuzaymah and others have authenticated this narration.

(1) The statement: "When the horizon turns dark": In Al-Istikhara, it is said that "the twilight" refers to the whiteness of the sky, and this was the view of Abu Bakr, Mu'adh ibn Jabal, and Aisha. I said: [Narrated by Abdul Razzaq from Abu Huraira and Umar ibn Abd al-Aziz, and al-Bayhaqi only narrated the red twilight from Ibn Umar, and the full narration is in his work. When the narrations and reports contradict each other, the time for Maghrib should not be determined by doubt, as mentioned in Al-Hidaya and others.

The scholar Qasim stated that the opinion of the Imam is the most correct, and it is followed in Al-Bahr. However, the general practice of people today in many areas is based on the opinion of the two (other scholars), which has been supported in Al-Nahr following Al-Naqaya, Al-Waqaya, Al-Durr, Al-Islah, Durar al-Bihar, Al-Imdad, Al-Mawahi, Sharh al-Burhan, and others who have explicitly stated that this is the view upon which fatwas are given. In Al-Siraj, it is mentioned that the opinion of these two is broader, while the opinion of the Imam is more cautious, as noted in Radd al-Muhtar.

868

اور ابو داود کی ایک روایت میں مرفوًعاً نذوربہ کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اس وقت ادا فرما تے جب افق لیجئی کنارہ آسمان میں سیائے دکھائی دیا کرتی۔ اس حدیث کو ابن خزیمہ اور دیگر محمد بن نجیح قرار دیا ہے۔

ف: " کتاب الاختیار " میں لکھا ہے کہ شفق سے مراد سفید شفق ہے اس سے معلوم ہوا کہ سیدی ختم ہو نے تک مغرب کا وقت رہتا ہے اور سپیدی ختم ہو نے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے، چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق، معاذ بن جبل اور امام المومنین علی رضی اللہ عنہم کا بھی قول ہے اور صحابہ ردو اختلاف کیے ہیں کہ اس کی روایت عبد الرزاق نے ابو ہریرہ اور عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہما سے جمع کی ہے۔ ای وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے شفق سے سفید شفق مراد لی ہے۔ البتر شفق سے سرخ شفق مراد ہو نے کی روایت جمع نے صرف ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کی ہے اور اس حدیث کی پوری روایت جمع میں موجود ہے اور اس لے صحابین نے شفق سے سرخ شفق مراد لیا ہے۔

"ہدایہ" وغیرہ میں نذوربہ کہ جب احادیث و آثار میں تعارض پیدا ہوگیا کہ شفق سے کیا مراد ہے؟ شفق کے بارے میں کسی حدیث سے سفیدی اور کسی حدیث سے سرخی معلوم ہوتی ہے تو شک مراد ہے گیا اس لے اس شک کی وجہ سے سرخ شفق کے غاہب ہو نے سے مغرب کا وقت ختم نہیں ہو گا۔ علامہ قاسم نے فرما یا ہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ترجیح زین قول ہے اور "جرآق" نے اس کو اختیار کیا ہے، لیکن اس زمانہ میں اکثر مما لک میں لوگوں کا تعلق صحابین کے قول پر ہو چلا ہے۔ نہہر نے تقایی، وقایی، درہ، الاصلاح، در راجحہ، الامداد، الحواہب اور اس کی شرح البرہان نے

بھی ان ساری کتابوں کے حوالے سے صحیحین کے قول کی تائید کی ہے اور ان سب نے صراحت کی ہے

کہ فتوی صحیحین کے قول پر ہی ہے اور سراج میں ذکور ہے کہ صحیحین کے قول پر عمل کرنے میں سہولت

ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر عمل کرنے میں احتیاط ہے پورا مضمون رد اختارتے ماخوذ

ہے عمدۃ الرعا میں لکھا ہے کہ اس اختلاف کی وجہ تو اولی یہ ہے کہ نماز مغرب سرغ شفق تک ادا کر لی

جا گے اور نماز عشاء سفیر شفق کے ختم ہونے کے بعد شروع کی جا گے تا کہ ہر دو نمازیں مغرب اور عشاء

بالاتفاق اپنے وقت پراداہو جا گیں۔12

It is narrated on the authority of Abu Dawud in a marfu' hadith that the Prophet ﷺ used to perform the Isha prayer when the horizon was tinged with a grayish hue.

In 'Kitab al-Ikhtiyar,' it is written that the term 'shafaq' refers to the white shafaq, indicating that the time for Maghrib remains until the white shafaq disappears, and the time for Isha begins after the white shafaq has disappeared. This is also the view of Abu Bakr al-Siddiq, Muadh bin Jabal, and Ali ibn Abi Talib (RA), and the Companions have no disagreement about this. The narration was collected by Abd al-Razzaq from Abu Hurairah and Umar bin Abdul Aziz (RA). For this reason, Imam Abu Hanifah (RA) considered the white shafaq to be the intended meaning of 'shafaq.' However, the narration that 'shafaq' refers to the red shafaq is only reported by a group from Ibn Umar (RA), and the complete narration is found in the collections, leading the Companions to understand 'shafaq' as the red shafaq. In 'Hidayah' and other works, it is stated that when there is a contradiction in the hadiths and athars regarding the meaning of 'shafaq', with some hadiths indicating whiteness and others indicating redness, the meaning becomes ambiguous. Therefore, due to this ambiguity, the time for Maghrib does not end until the red shafaq has completely disappeared. Imam Qasim has stated that this confirms that the view of Imam Abu Hanifah (RA) is the preferred one, and 'Jawhar' has adopted this view. However, in this era, most people follow the view of the Companions. Al-Nahr, Tabaqat, Waqayi', Darah, Al-Islah, Dar Rajih, Al-Amad, Al-Hawaib, and its commentary Al-Burhan have all confirmed the correctness of the view of the Companions and stated explicitly that fatwas should be based on the view of the Companions, as it is easier to act upon their view. It is mentioned in Sarih that acting upon the view of the Companions is easier, while acting upon the view of Imam Abu Hanifah (RA) requires more caution. The entire discussion is taken from 'Umda al-Ragha,' which states that the primary reason for this difference is that the Maghrib prayer should be performed until the white shafaq, and the Isha prayer should begin after the white shafaq has disappeared, so that both prayers, Maghrib and Isha, are performed within their respective times.

نماز عشاء کے ابتدائی وقت کا بیان
869

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عشاء کا ابتدائی وقت اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب کنارہ آسمان سیاہی

چھلنے سے نظر دآ گے۔(اس کی روایت تزندی اور امام احمد نے کی ہے۔)

سفیر شفق کے بعد سیاہی پچلنے سے عشاء کا ابتدائی وقت شروع ہوتا ہے

From Abu Huraira (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The first time for 'Isha' is when the horizon disappears." [Narrated by Tirmidhi and Ahmad]

870

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا، نے صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ حضور

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عشاء کا وقت اس وقت ہوتا ہے کہ رات کی تار کی روئے زمین پڑچیل

جا گے۔(اس کا حاصل یہ ہے کہ سفیر شفق خاتمہ ہوجا گے۔)

(اس کی روایت طبرانی نے لاوسط میں کی ہے۔)

Narrated by Aisha: They used to pray Isha between the disappearance of the twilight and the first third of the night. [Agreed upon]

نماز عشاء کے آخری وقت کا بیان
871

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز عشاء میں اتنی تاخیر فرمائی کہ رات ختم ہونے کے قریب تقی اورمسجد کے

نمازی سوگے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم برآمد ہوئے اور نماز عشاء ادا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ شگ

رات کا آخری حصہ نماز عشاء کا وقت ہے اگر مجھے اپنی امت پر شواری کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس

وقت نماز عشاء پر جہاں کا حکم دیتا۔ (اس کی روايت امام طحاوي، نسائي اور مسلم نے کی ہے۔) (پرتجمہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کی بناپہ تشریح بدایی سے ماخوذہے۔12)- ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے تشرح الآثار میں اس مقام پر ایک برہی اچھی بات لکھی ہے جس کا خلاصہ یہ کہ ان جملہ احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نماز عشاء کا آخری وقت صبح سادق کے طلوع ہونے تک رہتا ہے اس کی ویل یہ کہ ابن عباس، ابوموسی اشعری، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کی ادائی میں ایک تہائی شب تک تاخیر فرما لی ہے اور ابوہریرہ اور انس رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف شب تک تاخیر فرما لی ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں اس وقت تک تاخیر فرما لی کردات کا دو تہائی حصر گذر چکا تھا اور امام المومنین عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر فرما لی یہاں تک کردات ختم ہوئے کے قریب تھی۔ یہ تمام روايتیں تج میں نذکور ہیں۔ اس بناء پر امام طحاوی نے واضاحت کی ہے کہ ان احادیث کی روشنی میں یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ پوری رات نماز عشاء کا وقت ہے۔ اس کو علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے بدایی کی تشرح میں ذکر کیا ہے۔

Narrated by Aisha (may Allah be pleased with her), she said: "The Prophet ﷺ delayed the prayer one night until most of the night had passed and the people of the mosque had gone to sleep. Then he came out and prayed, saying: 'This is its time, had it not been for the fear of making it difficult for my Ummah.' " [Narrated by At-Tahawi, Al-Nasa’i, and Muslim]

(1) Regarding the phrase "most of the night," At-Tahawi, in his explanation of the Athar, made a good point. His summary is as follows: From the collection of narrations, it appears that the last time for Isha is when Fajr (dawn) begins. This is because Ibn Abbas, Abu Musa al-Ash'ari, and Abu Sa'id al-Khudri narrated that the Prophet ﷺ delayed it until a third of the night. Abu Huraira and Anas also narrated that he delayed it until midnight, while Ibn Umar narrated that it was delayed until two-thirds of the night had passed. Aisha narrated that he delayed it until most of the night had passed. All these narrations are found in the Sahih collections. Therefore, it is established that the entire night is a valid time for the Isha prayer, as stated by the scholar Al-Aini in his explanation of "Al-Hidayah."

تمام رات عشاء کا وقت ہے
872

نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے نام یہ حکم نامہ روانہ فرمایا کہ نماز عشاء رات کے جس حصہ میں چاہیں پڑھے اور اس نماز کو غفلت کر کے قضاء نہ ہوئے دیکھے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور اس حدیث کے تمام راوی ثقة ہیں۔)

نماز عشاء کا وقت نے صادق طلوع کر نے سے ختم ہوجاتا ہے

Narrated by Nafi' bin Jubair: Umar wrote to Abu Musa: "Pray Isha at any time of the night you wish, but do not neglect it." [Narrated by At-Tahawi, and its narrators are trustworthy]

873

عبید بن جرتہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے

پوچھا کر نماز عشاء میں افراط کرنا (یعنی اس قدر تاخیر کرنا جونا جائے ہے) کیا ہے؟ اب وہ ریہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کر نماز عشاء میں اتنی تاخیر کرنا کرے صبح صادق طلوع ہوجائے افراط اور نا جائے ہے - (اس لئے کرے صبح صادق کے طلوع ہونے سے نماز عشاء کا وقت باقی نہیں رہے۔)

اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور اس کی سنن میں ہے - )

صبح صادق اور نہ کاذب کا بیان

Narrated by Ubayd bin Jurayj: He asked Abu Huraira, "What is the end time for Isha prayer?" He replied, "When dawn breaks." [Narrated by At-Tahawi, and its chain is authentic]

874

جا بر ضی اللہ عنہ نے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح دو ہیں (1) ایک صبح کاذب اور (2) دوسری صبح صادق) مجھ کاذب وہ ہے جس کی روشنی بہیرے یہ کے دم کی طرح مشرق سے مغرب کی طرف دراز ہوتی ہے (اس کے بعد پھر سیاہی آجائے ہے اس میں نماز فجر جائز نہیں ہے لیکن سحری کھانا جائز ہے اور نہ صادق وہ ہے جس کی روشنی میں آسمان کے کناروں جنوب و شمال کی طرف چھلتی ہے - (اس کے بعد سیاہی نہیں آتی بلکہ سفیدی بہ صحت جائے ہے) اس میں نماز صبح جائز ہے اور سحری کھانا ممنوع ہوجاتا ہے - (اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور مسلم کی ایک روایت مجھ ای طرح ہے - )

Narrated by Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah ﷺ said: "There are two dawns. The first one is like the tail of a fox; it does not permit prayer nor prohibit food. The second one extends across the horizon; it permits prayer and prohibits food." [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak and there is a narration similar to this in Sahih Muslim]

نماز فجر کا ابتدائی وقت اور اس کا آخری وقت
875

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز فجر کا ابتدائی وقت صبح صادق کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور سورج طلوع ہونے پراس کا وقت ختم ہوجاتا ہے - (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے - )

Narrated by Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "The first time for Fajr is when the dawn breaks, and the last time for it is when the sun rises." [Narrated by Ahmad and Tirmidhi]

نماز وتر کا وقت
876

ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ن ارشاد فرمايا کر نماز وتر رات میں پڑھی جاتی ہے۔ (لیعن پردات کی نماز ہے۔)

(اس کی روايت امام احمد اور ابویعلی نے کی ہے۔)

نماز وتر کے واجب ہونے کا ثبوت اوراس کا بندالی اور آخری وقت

Narrated by Abu Sa'id: The Messenger of Allah ﷺ said: "Witr is at night." [Narrated by Ahmad and Abu Ya'la]

877

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے رب نے میری (امت کیلئے) ایک اور نماز زیادہ فرمادی ہے اور وہ

وتر کی نماز ہے اوراس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔

(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)

تمام رات نماز وتر کا وقت ہے!

Narrated by Mu'adh bin Jabal: The Messenger of Allah ﷺ said: "My Lord has increased me with a prayer, and it is Witr. Its time is between Isha and the rising of dawn." [Narrated by Ahmad]

878

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہے کر رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم رات کے برحص میں نماز وتر ادا فرما تے ہیں اول شب میں وسط شب میں اور آخر شب

میں اورآپ کے وتر کی ادائیگی سحر کے وقت تک بھی پانی ہے۔

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر کی ہے۔)

نماز وتر کا آخری وقت

Narrated by Aisha: The Messenger of Allah ﷺ prayed Witr from every part of the night: from the beginning, middle, and end, and his Witr prayer ended at dawn. [Agreed upon]

879

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے

روایت کرتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب صبح صادق طلوع ہوجائے تو

رات کی نماز اور وتر کا وقت ختم ہو جاتا ہے اس لیے تم نماز وتر کو صبح صادق سے پہلے پڑھ لیا کرو۔

(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)

صبح صادق کے بعد نماز وتر کا وقت باقی نہیں رہتا

Narrated by Ibn Umar, from the Messenger of Allah ﷺ: "When dawn breaks, all the night prayers, including Witr, are gone. So make Witr before the rising of dawn." [Narrated by Tirmidhi]

880

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کر صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے وتر کے ادا کرنے میں جلدی کرو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

Narrated by Ibn Umar, from the Prophet ﷺ: "Hasten to pray Witr before dawn." [Narrated by Muslim]