یہ باب سے تیمم کے بیان میں
وقول الله عز وجل وان كنتم مرضي او علي سفر او جاء احد منكم من الغايط او لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحوا بوجوهكم وايديكم اور ارشادباري تعالي سور نساء ع ايتنمبر مي اور ا ر تم يار و يا سفر مي و يا تم مي س كويي رخ حاجت س ا تو يا تم ن غورول س جماع كيا اورتم كو اني ن مل تو اك م ي س تيمم كرو اس طرح كرا ن اور با ون كا سح كرو
وقوله تعالي ولا جنبا الا عابري سبيل حتي تغتسلوا اور ارشادباري تعالي سور نساء ع ايتنمبر مي اور اسي طرح ن ا ن كي حاجت وت ب ي نماز ك اس ن جانا ال تك كر غسل كرو بالصرف كي حالت مي راست ر جار واور اني ن ملت تم كر ك نماز لو
وقوله تعالي ما يريد الله ليجعل عليكم من حرج ولكن يريد ليطهركم وليتم نعمته عليكم لعلكم تشكرون اور ارشادباري تعالي سور ما نده ع ايتنمبر مي الل تعالي صرف اني كو مطلوب كرت ي رسي طرح كي تكي كرن ن ي ا ت بلك تم كو صاف اور ست ر اركنا ا ت ي اس ل اني ن و ن كي صورت مي تم كو جايز رك تا كرت ران عام ورا كرو يا ناك تم اس كا شكر ادا كرت ر و
وہ واقعہ جس میں آیت تیمم نازل ہوئی
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے راویت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک سفر میں نکل یہاں تک کہجبہ تم مقام بیداء یاذات اجیش
کہا تو میرا ایک بارتوط کرگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواس کی تلاش کے لے تحریر نا پڑا اور
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرامی،اور ہمارا قیام پانی پرتھااور نہ تو لوگوں کے پاس پانی
تحا تو لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ نے دیکھا عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا تو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس طرح رالیا اور دوسرا لوگی حال انہوں پر قائم پانی پر ہے اورنہ کسی کے پاس پانی پہے ابو بکر رضی اللہ عنہ پیس کر میرے پاس تشریف لاے اوراس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری ران پر سر کہ کر سوگے تھے آئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور لوگوں کو جی روک رکھا ہے، حال انہوں کا قیام پانی پر ہے اور نہ ان کے ساتھ پانی پہے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے برا بجا کہا اور حسب مشیت اللہ بہت پکڑا انتا اور میرے کو لے میں ہاتھ کو پچ دینے لگے چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر میرے ران پرتھا سمجھے میں حرکت نہ کرسکی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے رہ یہاں تک کہجہوگی اور پانی بالکل نہ تھاتب اللہ تعالی نے آئے تمہیں نازل فرمائی۔ آیتِ تیمم کا نزول آل صدیق رضی اللہ عنہ کی برکتوں میں سے ایک برکت ہے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خاندان والوتمہاری پیچھلی برکت نہیں ہے، امام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر تم نے اس اونٹ کو اٹھا جس پر میں سوار تھی تو اس کے پیچھے پڑ لگیا۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور بخاری اور مسلم کی روایت کی اس طرح ہے۔ مطی مسلم انہوں کے لے پانی کے قائم مقام ہے اگرچہ کہ اے دس سال تک پانی نہ ملے فرمایا کہ پاک مطی مسلم ان کے لے پانی کے قائم مقام ہے۔ اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے اور جب اس کو پانی مل جائے تو عسل کر لے پاس کے لے بہتر ہے۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور البوداود نے کی ہے اور نسائی کی روایت میں بھی
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
عشر سنین (دس سال) کے الفاظ تک اس طرح ہے۔)
زبانج نے کہا کہ صعید زمین کی سطح کو کچھ جیسے خواہ اس پر مٹی ہو یا ہو یا لی چٹان ہو کر اس پر
گرد نہ ہو، زجاج نے پیش کیا کہ اپنے کہ "صعید" کو طرز میں کچھ میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔
حتیٰ نہ ہے بہ میں تیمم و ضوء کا کامل طور پر قائم مقام ہے، اس لئے تیمم کا حکم بے عینہ وضو
کے حکم کی طرح ہے ان جزئیات کی تفصیل جواس کلبی کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں
ہمارے علماء نے واضاحت کی سے کہ اس حدیث میں اس بات کی ویل ہے کہ تیمم و ضوع کا مطلقاً
یعنی کامل طور پر قائم مقام ہے تیمم کا وضو کے کامل طور پر قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تیمم پانی کے
ملک رافع حدث یعنی ناپا کی کو ایسا کی دور کر دینے والے جسیا کہ پانی اور تیمم اپنا اصل یعنی پانی کی
طرح ایسا کی پاک کرنے والا ہو گا، جسیا کہ خود پانی اور نماز کے وقت کا گذر جانا تیمم کو نہیں توڑے گا جس
طرح وقت کے گزر نے سے وضو نہیں توڑتا بلکہ تیمم کا حکم بیعنہ وضو کے حکم کی طرح ہے کہ وقت کے اندر
اور وقت کے قبل بھی جائز ہے اور تیمم سے فرض اور نفل جتنی نماز بن جائے ادا کر سکتے ہیں اور ان کی وجہ
کی بنابر تیمم اور وضو کو جمع نہیں کیا جاسکتا کہ بدلا اور مبدل یعنی قائم مقام اور اصل کا جمع کرنا درست نہیں
سے اور تیمم کے مطلق قائم مقام ہونے کی وجہ سے یہ دروی نہیں کہ خارج نماز پانی کے ملنے پر بھی تیمم
باطل ہوجائے بلکہ جس طرح خارج نماز پانی مل جانے سے تیمم باطل ہوجاتاہے بالکل اس طرح دوران
نماز میں بھی پانی کے مل جانے کے علم سے بھی تیمم باطل ہوجائے گا، علاوہ ازیں اس حدیث کے
الفاظ (عشر سنین ) یعنی دس برس تک پانی نہ ملنے کی صورت میں بھی بر ارتیمم کرتا رہے، سے اس بات کی
ویل ملتی ہے کہ تیمم مطلقًا وضو کا قائم مقام ہے نہ کہ ضروراً، حتى انه۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تیمم ضرورتا ادا کے لئے وضو کا قائم مقام ہے
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تیمم ضرورتا وضو کا قائم مقام ہے، تیمم کے ضرورتا قائم مقام
ہو نے کی حیثیت سے امام موصوف کے پاس تیمم حقیقت میں حدث کو دور کرنے والا نہ ہو گا بلکہ حدث
کے باقی رکن ہو ادالی فرض کے لئے تیمم ان کے پاس جائز ہو گا، یہی وجہ سے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ
کے مسلک کے لحاظ سے وقت کے پہلے تیم جائز نہیں کیون کہ وقت نماز کے شروع ہوئے پرادائی فرض
کے لے تیم کی ضرورت لا حق ہوتی ہے۔ (عمدۃ الرعاية) 12
The incident in which the verse was revealed: Umm al-Mu'minin Aisha (RA) narrates that she said: 'We set out with the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) on one of his journeys. When we reached a place called Baida, my ornament (bead necklace) was lost. The Messenger of Allah (peace be upon him and his family) did not have any writing material to record this incident, and we were staying by a water source, but the people did not have any water.'
Then people came to Abu Bakr (RA) and said, 'Have you seen what Aa'ishah (RA) has done? She is weeping and in a state of distress over the Prophet (peace be upon him and his family) and other people are also in a similar state of distress, but they have not found any place to rest. Abu Bakr (RA) came to me and found the Prophet (peace be upon him and his family) sleeping with his head on my thigh. He said, 'You have kept the Prophet (peace be upon him and his family) and those with him in a state of distress, as they have not found any place to rest.' Aa'ishah (RA) said, 'Abu Bakr (RA) scolded me harshly and, according to Allah's will, he became very agitated and began to push me away, as the Prophet (peace be upon him and his family) was sleeping with his head on my thigh, so I could not move. The Prophet (peace be upon him and his family) continued to sleep until the time came for prayer, and then Allah, the Exalted, revealed the verse: “It is He who sent down tranquility into the hearts of the believers that they may increase in faith along with their [present] faith.” The revelation of this verse is one of the blessings of Al-Siddiq (RA). Ibn Abbas (RA) said: 'O Abu Bakr (RA), your family has not been without blessings. The leaders of the believers (RA) said: 'Then you lifted the camel on which I was riding, and it fell behind.' This narration is reported by Nasa'i, and the narration of Bukhari and Muslim is as follows: Mati'ah (RA) was a substitute for a pillow, although she did not find a pillow for ten years. It is said that the pure Mati'ah (RA) was a substitute for a pillow. Although she did not find a pillow for ten years, when she found one, it was better to take it. This narration is reported by Imam Ahmad, Tirmidhi, and Al-Bazzar, and it is also mentioned in the narration of Nasa'i.
The phrase 'ten years' is as follows: Zanj said that whether the surface of the earth is covered with dust or stones, as long as there is no pebble on it, there is no difference in the term 'ṣaʿīd.' Even if there is no moisture, the place for tayammum and light is fully established; therefore, the ruling of tayammum is like that of wudu without water. The details of these specifics are influenced by the reasons for their occurrence. Our scholars have explained that this hadith indicates that tayammum and wudu are fully established, meaning that tayammum is equivalent to wudu in its completeness. Just as water purifies and removes impurities, tayammum also purifies and removes impurities in the same way as water does. The passing of time does not invalidate tayammum, just as the passing of time does not invalidate wudu. Thus, the ruling of tayammum is like that of wudu without water, both before and during the time. One can perform obligatory and voluntary prayers after tayammum, and they are valid based on tayammum. However, tayammum and wudu cannot be combined, as combining a substitute and the original is not permissible. Furthermore, since tayammum is fully established, it is not invalidated even if water becomes available outside the prayer time. Just as tayammum is invalidated when water becomes available outside the prayer time, it is similarly invalidated if water becomes known to be available during the prayer. Additionally, the phrase 'ten years' in the hadith indicates that one can continue to perform tayammum even if water is unavailable for ten years, thus emphasizing that tayammum is a full substitute for wudu, not just a necessary one. According to Imam Shafi'i (RA), tayammum is a substitute for wudu in necessity. In his view, tayammum is not actually a means to remove impurity but remains a part of the state of impurity, and it is permissible for performing obligatory prayers. This is because, according to Imam Shafi'i (RA), tayammum is a substitute for wudu in necessity, not in reality.
From the perspective of the methodology, it is not permissible to perform tayammum before the time of prayer has entered, because the necessity for tayammum arises only after the time of the obligatory prayer has commenced. (‘Umdah al-Ri‘ayah) 12
حضرات علی، عبد اللہ بن عمر و، ابو هریره، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، البوامۃ اور
البؤ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، ان سب حضرات نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
میرے لے تمام روے زین، نماز کی جگراور تمام روے زین پاک کرن والی بنادی گئی ہے۔ (اس
کی روایت تزدی نے کی ہےاور بخاری کی روایت کی اس طرح ہے۔)
اس امت کا اقتیاز کہ تمام روے زین اس کے لے سبرہ گاہ ہےاور تمام روے
زین پاپی نہ ملن کی صورت میں اس امت کے لے پاپی کا قائم مقام ہے
ف: اس حدیث میں ارشاد مبارک ہے کہ میرے لے تمام روے زین کونماز کی جگہ بنادیا گیا
ہے، اس سے اس امت کی خصوصیت کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح سابقہ امتوں پر نماز برکلیسوں
اورعبادت خانوں کے جائز نہیں تھی اس کے برخلاف اس امت کو اقتیاز عطا فرمایا گیا ہے کہ پی جہال
نماز اداء کرنا چاہیں وہ اس جائز ہوجائے گی، اس حدیث میں دوسرا ارشاد یہ ہے کہ تمام روے زین
میرے لے طہور لیجن پاک کرن والی قرار دی گئی ہے، اس سے مقصد یہ ہے کہ جہال پاپی نہ ملتوم ہیا
اس کی جنس سے تیم کرنے جو ضوعاور عمل ہردو کے لے کافی ہوجائے گا۔ (مرقات) 12۔
Ali, Abdullah bin Amr, Abu Hurairah, Jabir, Ibn Abbas, Hudhayfah, Anas, Abu Umamah, and Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet ﷺ said: "The whole earth has been made for me a mosque and a means of purification." [Narrated by Tirmidhi, and a similar narration was narrated by Bukhari]
عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ تم ایک سفر میں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاضرین کو نماز پڑھائی، جب
آپ (نماز تے) فراغت کے بعد (قوم کی جانب) متوجہ ہوئے تو آپ نے اپاک ایک شخص کو
دیکھا کہ وہ دور بیٹھا ہوا ہےاوراس نے جماعت کے ساتھ نماز اداء نہیں کی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے فلان شخص کس چیز نے تم کو قوم کے ساتھ نماز پڑھنے سے روک رکھا ہے؟
اس شخص نے جواب دیا کہ مجھے جنابت لا حق ہوگی ہےاور پاپی نہیں ہے اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلٰم نے فرمایا کہ تم پاک مٹی سے تیمم کرو، یہی تمہارے لے غسل کے بجائے کافی ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔)
آیت وَلاَ جُنُباً اِلاَّ عَاۤبِرِى سَبِيلٍ حضرت علي رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے مطابق مسافر کے بارے میں نازل ہوئی۔ جہ کروہ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کر کے نماز ادا کرے گا۔
Imran (may Allah be pleased with him) narrated: We were on a journey with the Prophet ﷺ, and he prayed with the people. When he finished his prayer, he noticed a man who had not prayed with the group. He said: "What prevented you, O so-and-so, from praying with the people?" He replied, "I was in a state of janabah (major impurity) and there was no water." He ﷺ said: "Use the pure soil, for it will suffice you." [Agreed upon]
_علی رضی اللہ عنہ تھے روایت میں آپ نے قول باری تعالی وَلاَ جُنُباً اِلاَّ عَاۤبِرِى سَبِيلٍ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ایسے مسافر کے بارے میں نازل ہوئی۔ جہ کہ جس کو جنابت لاٹی ہوئی ہو (وہ پانی نہ ملنے کی صورت میں) تیمم کر کے نماز ادا کرے۔
Ali (may Allah be pleased with him) said regarding the verse: "And do not approach prayer unless you are in a state of purity, except for those who are travelers who are struck with major impurity..." (An-Nisa 4:43): This verse was revealed regarding travelers who experience major impurity and cannot find water. They may perform tayammum and pray. In another narration, it is mentioned that a traveler who experiences janabah (major impurity) and does not find water should perform tayammum and pray until they find water. [Narrated by Bayhaqi, Ibn Abi Shaybah, Firyabi, Ibn al-Mundhir, and Ibn Abi Hatim]
_اور ایک دوسرا روایت میں ہے کہ نہاں کی حاجت ہوتی نماز کے قریب نہ جائے بل مسافر ہواور پانی نہ ملتا تو پانی کے حاصل ہونے تک تیمم کر کے نماز ادا کر لیا کرو۔ (اس کی روایت تہقی، ابن ابی شیبہ، فریابی، ابن المنذر راوی ابن ابی حاتم نے کی ہے۔)
Ali (may Allah be pleased with him) said regarding the verse: "And do not approach prayer unless you are in a state of purity, except for those who are travelers who are struck with major impurity..." (An-Nisa 4:43): This verse was revealed regarding travelers who experience major impurity and cannot find water. They may perform tayammum and pray. In another narration, it is mentioned that a traveler who experiences janabah (major impurity) and does not find water should perform tayammum and pray until they find water. [Narrated by Bayhaqi, Ibn Abi Shaybah, Firyabi, Ibn al-Mundhir, and Ibn Abi Hatim]
_ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قول باری تعالی وَلاَ جُنُباً اِلاَّ عَاۤبِرِى سَبِيلٍ کے متعلق روایت ہے، انہول نے کہا کہ جب تیمیم پانی ملتا ہے تو (غسل کر نے تک) نماز کے قریب نہ جائے، اگر تم نے پانی نہیں پایا تو تمہارے لے جانے قر اردو اگیا ہے کہ زمین پر باٹھ ماڑ کر تیمم کر لو۔ (اس کی روایت ابن جریر نے کی ہے۔)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated regarding the verse: "And do not approach prayer while you are in a state of major impurity except when you are traveling" (An-Nisa: 43): He said: "This means: Do not approach the prayer while you are in a state of janabah (major impurity) unless you have found water. If you do not find water, then it is permissible for you to perform tayammum by striking the earth." [Narrated by Ibn Jarir and Abdul bin Humayd from different sources]
_اور عبد بن حمید نے کچھ متعدد اسناد سے اس کی روایت کی ہے۔ ابْن عباس رضی اللہ عنہما سے کہی آیت وَلاَ جُنُباً اِلاَّ عَاۤبِرِى سَبِيلٍ کے بارے میں کچھ مسافر کی منقول ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated regarding the verse: "And do not approach prayer while you are in a state of major impurity except when you are traveling" (An-Nisa: 43): He said: "This means: Do not approach the prayer while you are in a state of janabah (major impurity) unless you have found water. If you do not find water, then it is permissible for you to perform tayammum by striking the earth." [Narrated by Ibn Jarir and Abdul bin Humayd from different sources]
_ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قول باری تعالی: وَلاَ جُنُباً اِلاَّ عَاۤبِرِى سَبِيلٍ
کے بارے میں روایت ہے، انہول نے کہا کر اس آیت میں وہ مسافر مراد ہے جس کو پانی نہ ملتا تو وہ
تمام کر کے نماز پڑھے لے۔(اس کی روايت طبراني، ابن ابي شیبااورعبد الرزاق نے کی ہے)
تمام کرنے کا طریقہ
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) also narrated regarding the same verse: He said: "It refers to a traveler who does not find water, so he performs tayammum and prays." [Narrated by Tabarani, Ibn Abi Shaybah, and Abdul Razzaq]
وَاْل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیه وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان لوگوں نے کہا کہ تم
رگیستان میں تین چار مہینہ رہاکرتے ہیں اورتم میں جبہی اور نفس و حیض والی عورتیں ہواکرتی ہیں اور
تمیں پانی نمیں ملتا تو حضرت صلی اللہ علیه وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکرتے زمین پر تمام کر لیا کرو، پھر آپ
نے چہرے کے لے زمین پر ایک دفعہ باٹھہمارکرچہرے پر لیااوردوسری مرتبہزمین پرباطھہمارکر
دونوں ہاتھوں کا کہنوںسمیتمسح کیا۔(اس کی روايت امام احمد، طبرانياورابوعیانی نے کی ہے)
تمام کرنے میں وضوءاور غسل دونوں برابر ہیں
In completing, both Wudu and Ghusl are equal.
خدمت میں حاضر ہوااور کچھ لگا کر مجھے جنابت لا حق ہوگئی تو میں مطی میں لوٹ گیا، پیس کر رسول اللہ
صلی اللہ علیه وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیں بلکہ اس طرح زمین پر باٹھہماروکہ کر حضرت صلی
الله علیه وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کوزمین پرمارکرچہرے کا مسح فرمایاپھردوبارہدونوں ہاتھوں کوزمین
پرمارکردونوں ہاتھوں کا مسح کہنوں سمیت فرمایا۔
(اس کی روايت حاكم نے مستدرک میں کی ہے اور واضاحت کی ہے کہ اس حدیث کی اساندیج
میں اور ایک روايت میں یاضافہ کے حضرت صلی اللہ علیه وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کوزمین پرمارنے
کے بعد کہکر یون کے گرانے کے لے ہر ہاتھ کے انگوٹھے کودوسرے ہاتھ کے انگوٹھے پرمار کر جھٹک دیا۔
خدمت میں حاضر ہوااور کچھ لگا کر مجھے جنابت لا حق ہوگئی تو میں مطی میں لوٹ گیا، پیس کر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیں بلکہ اس طرح زمین پر باٹھہماروکہ کر حضرت صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کوزمین پرمارکرچہرے کا مسح فرمایاپھردوبارہدونوں ہاتھوں کوزمین
پرمارکردونوں ہاتھوں کا مسح کہنوں سمیت فرمایا۔
(اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور واضاحت کی ہے کہ اس حدیث کی اساندیج
میں اور ایک روایت میں یاضافہ کے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کوزمین پرمارنے
کے بعد کہکر یون کے گرانے کے لے ہر ہاتھ کے انگوٹھے کودوسرے ہاتھ کے انگوٹھے پرمار کر جھٹک دیا۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: A man came and said: "I have been affected by janabah, and I have rubbed myself in the dust." The Messenger of Allah ﷺ said: "Strike like this," and he struck his hands on the earth. Then he wiped his face with them and struck again, wiping his hands up to the elbows. (1) [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak, and he said the chain of narration is authentic]
In a narration of Bukhari, it mentions: "Then he dusted them off."
کر تے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں یہ کہ ایک دفعہ میں پڑاتے مارنا چہرے کے لئے اور دوسری دفعہ ہاتھوں مارنا کہنیوں سمیت ہاتھوں کے لئے۔ (اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے۔)
اور واضاحت کی ہے کر اس حدیث کے جمل راوی ثقفی پین اور حاکم کی روایت بھی اس طرح ہے اور کہا ہے کر اس حدیث کی اسناد ہے۔)
You should do this: once strike the face with the whip, and another time strike the back, including the shoulders, with the whip. (This is reported by Dar Qutni.) And it is explained that the narration of this hadith by Thaqafi and Hakim is also in this manner, and it is said that this is the isnad of the hadith.)
ابن عمر رضی اللہ عنہما، سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں دودفعہ (زیین پر) ہاتھوں مارنا ہے، ایک دفعہ چہرے کے لئے اور دوسری دفعہ کہنیوں سمیت ہاتھوں کے لئے۔ (اس کی روایت حاکم اور دار قطني اور ابن عدی نے کی ہے۔)
Narrated from Ibn Umar: The Prophet ﷺ said: "Tayammum consists of two strikes: one for the face and one for the hands up to the elbows." [Narrated by al-Hakim, al-Daraqutni, and Ibn Adi while Al-Bazzar narrated from Aisha something similar]
اور بر زار نے امام المومنین علی رضی اللہ عنہ سے اس طرح بسندر فوع روايت کی ہے۔
سلع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو (تمہیں کر نے کا طریقہ) بتلا کہ س طرح مسح کرول پس آپ نے دونوں ہاتھوں کوز میں پمار کر چہرے پر ہاتھوں پھیرنے کے لئے دونوں ہاتھوں کو اٹھالیا پھر دوسری دفعہ میں پر ہاتھوں مار کر دونوں ہاتھوں کے اندر ون وبر ون دونوں حصول کا رح اس طرح فرمایا کہ دونوں ہاتھوں کہنیوں سمیت رح میں آگے اور پھر حصہ کی نییں پچونا۔ (اس کی روایت تہقی، دار قطنی اور طبرانی نے کی ہے۔)
The Messenger of Allah ﷺ told me the method of wiping (over the khuffain) as follows: Wipe over both khuffain in such a way that you lift both heels to wipe over the face. Then, in the second round, after wiping over both heels, insert your fingers between the toes of both feet. He said this in such a manner that the wiping should extend to the ankles and not stop at the instep.
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو غزوہ ذات السلاسل کے ساتھ روانہ فرمایا تو مجھے ایک نہایت سردی کی رات میں احتلام ہوگیا، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر غسل کر لون تو بلاکہ مجھاول کا چنا پھیلنے نے تمہیں کر لیا پھر میں نے اپنے ساتھیوں کو مجھ کی نماز پڑھانی اور جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا، حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو (رضی
الدین) تم نے اپنے ساتھیوں کی نماز ایسی حالت میں پڑھادی کرتے جبی تو میں عرض کیا کر
پالیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نہایت تحقیقی یاسخت سرودی کی رات میں تمہیں ہوگیا ورخوف کیا کر
اگر غسل کر لون تو میں بلاکہ ہوجاؤ لگااور مجھے اللہ تعالیٰ کا رشاد و لا تقُتلوا انفسکم ان اللہ
گان بکم رحیما (سورۃ نساء آیت نمبر:29) اپنی جانول کو بلاکرت میں مترد الوجیع الدتم
پربھی مہربان ہیں) یادآیاتو میں نہیں کیا پچراسی سے نماز اداء کی پس کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نفس پڑے اور پچھے فرمایا-
(اس کی روایت امام احمد، ابوداود، حاکم، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے کی ہے اور طبرانی کی
روایت بھی اس طرح ہے-)
Narrated from Amr ibn al-As: When the Prophet ﷺ sent me during the year of the chains, I had a wet dream on a very cold night, and I feared that I would perish if I performed ghusl, so I did Tayammum and prayed Fajr with my companions. When I came to the Prophet ﷺ and mentioned this to him, he asked: "O Amr, did you pray with your companions while in a state of Janabah?" I replied: "Yes, O Messenger of Allah, I had a wet dream on a very cold night and feared that I would perish if I performed ghusl, and I remembered Allah's statement: 'And do not kill yourselves. Surely, Allah is ever merciful to you' (Quran 4:29), so I performed Tayammum and prayed." The Messenger of Allah ﷺ laughed but did not say anything. [Narrated by Ahmad, Abu Dawood, al-Hakim, Ibn al-Mundhir, Ibn Abi Hatim, and al-Tabarani]
علی رضی اللہ عنہ تے ایس شخص کے متعلق روایت ہے جوسفر میں ہواور اس کو
جنابت لاقہ ہوجائے اور اس کے ساتھ ہوئے اس پانی ہو، اگراس پانی سے غسل کر لے تو پیاسارہ کا
اندیشہ کرتا ہوتا تعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کروہ تیمم کر لے اور غسل نہ کرے-(اس کی روایت دار قطنی
نے کی ہے-)
Narrated from Ali: Regarding a traveler who experiences Janabah and has only a little water, fearing he might get thirsty, he should perform Tayammum and not take a ghusl. [Narrated by al-Daraqutni]
ابن عباس رضی اللہ عنہما تے روایت ہے، انہوں نے کہا کرسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنازہ آجاتے اور تم بوضوع ہو(اور وضو کرنے کا تک نماز جنازہ
کے فوت ہوجانے کا خوف ہو) تو تیمم کر لو-(اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے-)
غیر وہی بوضوع ہونے کی حالت میں پانی کے لئے کے باوجود نماز جنازہ کے فوت
ہوجانے کا اندیشہ تیمم کر کے نماز جنازہ میں شرکی ہوجائیں
ف: اس حدیث میں ذکور ہے کہ نماز جنازہ تیار ہواور اندیشہ ہوکہ اگر وضو کرنے لگیں تو نماز
جنازہ فوت ہوجائے گی تو ایسی صورت میں جائز ہے کہ تیمم کر لے اور نماز جنازہ میں شرکی ہوجائے
کیونکہ نماز جنازہ کا بدل اور قائم مقام کوئی اور نماز نہیں بلکہ اس کے لیے قرآنی رشیدار ہوگا
جس کو نماز جنازہ پڑھانے کا حق ہے اور اس طرح باشہ اور قاضی بیٹھون نذکورہ بالصورت میں تعمیم نہیں
کریں گے بلکہ وضوے کریں گے اس لیے کہ ان کا انتظار کیا جاسکتا ہے۔ 12
Narrated from Ibn Abbas: The Prophet ﷺ said: "When a funeral procession comes and you are not in a state of Wudu, then perform Tayammum." [Narrated by Ibn Adi]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب تم کو اندیشہ ہو
کہ جنازہ کی نمازتم سے چھوٹ جائے گی اور تم بے وضوے ہو تو تم کرلو اور نماز جنازہ پڑھ لو
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور اس حدیث کی راوی صرف مغیرہ رضی اللہ عنہ کے سوا
سب کے سب مسلم کے راوی ہیں اور زیادہ نے کہا ہے کہ مغیرہ کی ثقافت قبل جمعت ہیں۔)
Narrated from Ibn Abbas: "If you fear that you will miss the funeral procession and you are not in a state of Wudu, then perform Tayammum and pray." [Narrated by Ibn Abi Shaybah, and its narrators are all trustworthy except for al-Mughira, who is disputed but still considered acceptable, as mentioned by al-Zaylai]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک جنازہ لاگیا اور اس وقت ابن عمر
رضی اللہ عنہما بے وضوے تھا اسہول نے تم کیا اور نماز جنازہ پڑھ لی۔
(اس کی روایت دار قطی اور تہقیق نے "معرفہ" میں لکھے۔)
Narrated from Ibn Umar: A funeral procession was brought to him while he was not in a state of Wudu, so he performed Tayammum and prayed over it. [Narrated by al-Daraqutni and al-Bayhaqi in "al-Ma'rifah]
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک شخص کے متعلق دریافت
کیا گیا جو نماز جنازہ پڑھنا چاہتا تھا مگر بے وضوے ہے اور اگر وہ وضوے کر نے کے لیے جائے تو نماز
جنازہ چھوٹ جائے گہ تو حسن بصری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ تم کر لے اور نماز جنازہ پڑھ
لے۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے لکھے۔)
a person inquired about someone who wanted to pray the funeral prayer but was without ablution, and if he were to go to perform ablution, the funeral prayer would be missed. Hasan al-Basri (RA) replied, 'Let him perform ablution and pray the funeral prayer.' (This is reported by Sa'id bin Mansur.)
ابراہیم رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے متعلق روایت ہے کہ جس کے پاس
یا کی جنازہ آجا گے اور وہ بے وضوے ہے تو آپ نے فرمایا کہ تم کر لے اور اس جنازہ کی نماز پڑھ
لے۔ (اس کی روایت طباوی نے لکھے۔)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنازہت میں سوئے کا رادہ فرما تے تو وضوے یا تم کر لیے
a funeral came to him while he was without ablution, he said: 'Perform it and pray the funeral prayer.' (This is reported by Tabawi.) The Messenger of Allah ﷺ used to disapprove of sleeping in the state of janazah, so perform ablution or you perform it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جب جبی ہوجاتے تھا اور سوئے کا رادہ فرما تے تو وضو فرما تے یا تمتم کرتے۔
(اس کی روایت تہقیق نے اسنا حسن کے ساتھ کی ہے۔)
Narrated from Aisha: When the Prophet ﷺ was in a state of Janabah and wanted to sleep, he would perform Wudu or Tayammum. [Narrated by al-Bayhaqi with a reliable chain of narration]
ابواجیم بن الحارث بن الصمع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "بئر جمل" کی جانب سے (جو ایک کنوال تھا) تشریف فرما ہوئے تو
ایک شخص آپ تے ملا اور آپ کواس نے سلام کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب
تمیس دیا، پھلان کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیوار کی طرف برہہ اور اپنے چہرے اور دونوں
باٹحوں کا مسح فرمایا (یعنی تمتم فرما ہے) اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب
دیا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر کی ہے۔)
و اخ ہو کہ عبادتین دو طرح کی ہو اکرتنی ہیں ایک وہ عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدلموجود ہے
وہ عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدلموجود نہیں ہے وضو کر نے تک ان کے فوت ہو جانے کا
اندیشہ ہو تو شرائط تمتم کے پائے جانے کے لگیران کی ادائیگی کے لے تمتم کیا جاسکتا ہے جیسے
نماز جنازہ و غیرہ اور وہ عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدلموجود ہے، ان کے فوت ہو جانے
کے اندیشہ ہے شرائط تمتم کے لگیر تمتم نہیں کیا جاسکتا جیسے جمعہ اور پنچگا نماز یعنی
جیسے نماز جمعہ کے اس کا قائم مقام ظہر ہے اور نماز پنچگا نکران کا قائم مقام اور بدلمان کی قضاء
سے اور دوسری وہ عبادتیں کہ جن کا بدلا اور قائم مقام موجود نہیں جیسے نماز جنازہ اور عیدیں و غیرہ، ہمارے
علم کے کہا ہے کہ ذکورہ بالا الان حدیثول سے بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسی عبادتیں کہ جن کا قائم مقام
اور بدلموجود نہیں ہے اور وضو کر نے تک وقت کے لگز رجاؤں نماز کے ختم ہو جانے سے ان کے
فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی عبادت کی باوجود کیہ صحت مندہ ہول اور پانی موجود ہو اور پانی کے
استعمال پر قدرت بھی حاصل ہو، ان ساری صورتوں کے باوجود تیم جائزہ جی نماز جنازہ و عیدین،
نماز کسوف، سلام اور جواب سلام و غیرہ اور ایسی عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدلا موجود ہے، ان کے
فوت ہوجانے کے اثر پر تیم نہیں کیا جاسکتا کیون کہ ان کا بدلا ورقا تمقام موجود ہے جیسے جمعہ اور
پنچگا نمازی۔12
پانی کی تلاش اور انتظار میں تیم کونماز کے آخری وقت تک موخر کیا جاسکتا ہے
Narrated from Abu al-Juhaym ibn al-Harith ibn al-Simmah: The Prophet ﷺ was coming from the direction of Bithr Jamal when a man met him and greeted him. The Prophet ﷺ did not respond until he approached the wall, wiped his face and hands on it, and then returned the greeting. [Agreed upon]
Our scholars say that from these narrations, it is understood that Tayammum is permissible in any situation where it is necessary to perform an action that requires purification, but where water is not available, such as for sleeping, greeting, responding to greetings, funeral prayers, Eid prayers, eclipse prayers, and optional prayers. However, it is not permissible for actions that require specific conditions like the Friday prayer (Jumu'ah).
علی رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ جب پانی نہ پایے تو تیم کونماز
کے آخری وقت تک کے لئے (پانی کی تلاش اور انتظار میں) موخر کردے۔
(اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے۔)
Narrated from Ali: "If water is not found, then delay performing Tayammum until the last moment." [Narrated by Abdul Razzaq]
ابوعید خدری رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ دوآدمی سفر کو نکل
جب نماز کا وقت آگیا تو دونوں کے ساتھ پانی نہ تھا، دونوں نے پاک مٹی سے تیم کر کے نماز ادا کی،
بعد ازاں دونوں نے وقت نماز کے اندر، یا پانی پالیا تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے نماز
دہرانی لیکن دوسرا نے نہیں دہرانی پھر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہوئے اور دونوں نے اپنے واقعہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے اس شخص سے خطاب کیا کر فرمایا جس نے نماز دہرانی نہ کی کہ تم نے سنن کو پالیا ورتمہاری
نماز تم کو کافی ہوئی اور جس نے وضو کر کے نماز دہرانی نہ کی، ان سے فرمایا کر تمہاری لئے دگنا
اجزہ ہے۔(اس کی روایت ابودا ودارداری نے کی ہے)
اور نسائی کی روایت کی ای طرح ہے۔
Narrated from Abu Sa'id al-Khudri: Two men went on a journey, and the time for prayer came, but they had no water. So they performed Tayammum with clean earth and prayed. Later, they found water during the time for prayer. One of them repeated the prayer with Wudu, while the other did not repeat it. They then went to the Messenger of Allah ﷺ and mentioned this to him. He said to the one who did not repeat the prayer: (1) "You have followed the Sunnah, and your prayer suffices you." And he said to the one who performed Wudu and repeated the prayer: "You will receive the reward twice." [Narrated by Abu Dawood and al-Darimi]
Al-Nasa'i narrated something similar, and both he and Abu Dawood also narrated it from Ata' ibn Yasir as a mursal narration.
(1) The statement: "For the one who did not repeat [the prayer], etc." – The scholars agree that if one finds water after completing the prayer, there is no need for a repeat of the prayer, even if time for prayer is still remaining. However, there is a difference of opinion regarding what should be done if water is found after one has already started the prayer. The majority hold that the prayer remains valid and should not be interrupted. On the other hand, Abu Hanifa and Ahmad (according to a narration) say that the Tayammum is invalidated. If a person performs Tayammum and then finds water before entering the prayer, the consensus is that their Tayammum becomes invalid. This is mentioned in "al-Mirqat."
اور نسائی اور ابوداود نے بطور مرسل عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کی
ہے۔
تتمہ سے نماز پڑھنے والانماز سے فارغ ہونے کے بعد پانی موجود پائے تو اس پر
نماز کا اعادہ نہیں ہے
ف: علماء کا اس پراجامع ہے کہ اگر تتمہ سے نماز پڑھنے والانماز سے فارغ ہو جانے کے بعد پانی
دکھے لے تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں اگرچہ وقت باقی ہو، البتر علماء کا اختلاف اس صورت میں ہے کہ نماز
شروع کرنے کے بعد نماز کی حالت میں پانی مل جانے تو احتیاط کے سوا جہور کا مسلک پیہ کہ نماز کون
توڑے اس کی نماز درست ہو جائے گی، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کے پاس اور امام احمد رحمۃ اللہ کی ایک
دوسری روایت میں اس طرح نکور کے کاس شخص کا تمہم باطل ہو جائے گا اور اگر تمہم کرنے کے بعد نماز
شروع کرنے سے قبل پانی مل جانے تو اس شخص کے تمہم کے باطل ہونے پر سبق کا اتفاق ہے۔
پیوہ لیجنی بد سے کی کچھ پیون پر حکم کیا جاسکتا ہے
If one performs tayammum and completes the prayer, and then finds water, there is no need to repeat the prayer. The scholars are unanimous that if one performs tayammum and completes the prayer, and then finds water, there is no need to repeat the prayer even if time remains. However, there is a difference of opinion among the scholars regarding the situation where one finds water while still in the state of prayer. The preferred course of action is to break the prayer and perform wudu, so that the prayer becomes valid. According to Imam Abu Hanifah (RA) and another narration from Imam Ahmad (RA), if one finds water after starting the prayer, their tayammum becomes invalid, and they must perform wudu. If one finds water before starting the prayer after performing tayammum, there is consensus that their tayammum is invalid.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم پیون (لیجنی بد کی کچھ پیون) پر حکم فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت دار قطی نے
کی ہے۔)
The Messenger of Allah ﷺ would command the consumption of (a type of) dates.
زید بن علی رضی اللہ عنہ اپنے والد علی رضی اللہ عنہ کے واسطے اپنے دار احضرت
امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت علی ابن
ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری ایک کلائی توٹ گئی
تو میں نے اس کے متعلق نی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
مجھ کو حکم دیا کہ بد سے کی کچھ پیون پر حکم کیا کرو، اور تمہم کی ضرورت نہیں ہے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ،
جہیقی اور دار قطی نے کی ہے۔)
زخم پر پھی باندھی گئی ہوتو پھی پر مسح کیا جائے اور ماہی عضویا بد ن کو دصولیا جائے۔
ف: اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زخم پر پھی باندھی گئی ہوتو پھی پر مسح کیا جائے اور
بدن کے ماہی جہ حصر کو دصولیا جائے اور جہ حصر بد ن کو دصول کر پھی پر مسح کے جا نے تیمم کرنا جائز ہے۔
کیول کر اس سے وضو اور تیمم کو جمع کرنا لازم آتا ہے، حالا کہ بد ل اور مبدل کو جمع کرنا درست نہیں
ہے، یا مام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ہے، البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا نہب پ یہ کہ پھی پر مسح
کرنے کے جا نے تیمم کیا جائے اور ماہی حصر بد ن کو دصولیا جائے۔ (مرق ات اور تقی)12-
زخم کی پھی کی وجہ سے عضو کا جو حصر کی طرح سے ذہکار ہوتا ہے اس پر مسح کیا جائے۔
Narrated Zaid bin Ali, from his father, from his grandfather, Al-Husayn bin Ali bin Abi Talib, from Ali bin Abi Talib: One of my forearms was fractured, and I asked the Prophet ﷺ, and he ordered me to wipe over the bandages. [Narrated by Ibn Majah, Al-Bayhaqi, and Al-Daraqutni]
(1) The statement "He ordered me to wipe over the bandages" indicates that wiping over the bandages is sufficient, and washing the rest of the body with water is not required, according to the opinion of Abu Hanifa. This contrasts with the opinion of Al-Shafi'i, who holds that both wiping and washing the rest of the body with water are necessary. This interpretation is derived from "Al-Mirqat."
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق مرودی سے کا پنے ایسی حال ت میں وضو کیا کے
آپ کی تقلی پر پھی باندھی ہوتی تھی تو آپ نے (تہذیل کے دورسرے جانب کے) اس حصر پر مسح کیا جو
زخم کی پھی کی وجہ سے کی طرح سے ذہکا ہوا تھا (اور یہی کی) پھی پر مسح کیا، اس کے بعد دورسرے
اعضا سے وضو کو دصولیا اور تیمم نہیں فرمایا (اس کی روایت منذری نے کی ہے)
ف: اس حدیث سے بھی حتمی مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے
زخم کے علاوہ ماہی حصر بد ن کے دصول نے اور زخم پر مسح کرنے کو جمع فرمایا اور دصول نے اور تیمم کو جمع نہیں فرمایا
ہے۔ (ملتقی میں ایسے نذر ہے)
Narrated by Ibn 'Awana: He performed Wudu while his hand was bandaged. He wiped over the bandage and the bandage itself, and washed the rest of his body. [Narrated by Al-Mundhiri]