Nūr al-Maṣābīḥ
باب المسح علی الخفین

Wiping Over the Leather Socks (Khuffayn)
Volume 1 · Purification
About this text. The Urdu here was machine-read (OCR) from the printed volumes and has not yet been proofread: it contains misread words, some of which change the meaning. Please check the printed Nūr al-Maṣābīḥ before quoting it. English beside a hadith is the scholarly Zujājah translation of the matching hadith; English commentary and chapter introductions are unreviewed machine translation.

(یہ باب میں مسح کرنا کے بیان میں)

قال اللہ عز و جل : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا

وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ ﴾ -

( لام کوز ریک ساتھ پڑھاجائے ) "الی الكعبین" - ( سورہ ما نده، پ :6، ع :2، آیت

نمبر :6 میں ) اللہ عز و جل نے ارشاد فرما یہ ( اے ایمان والو، جب تم نماز ادا کرنا کا ارادہ کرو تو

اپنے چہرے کو دھولو اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولو اور اپنے سروں کا مسح کرواور ( موزے پینے ہوئے

ہوئے تو ) پیروں کا حکر کو ٹخنوں تک - )

موزول پرع قرآن سے ثابت ہے

ف : "أرجلکم" میں دو قرأت میں ایک "أرجلکم" لام کے زبر کے ساتھ اور دومسرے "

أرجلکم" لام زبر کے ساتھ، لام کے زبر کے ساتھ جو قرأت ہے وہ موزہ پینے ہوئے تو وضو میں چیر

دھوئے سے متعلق ہے اور لام کے زبر کے ساتھ جو قرأت ہے وہ موزہ پینے ہوئے ہوئے تو وضو میں چیر

مسح کرنے سے متعلق ہے

Machine translation, unreviewed

In this chapter, the discussion is about the wiping (مسح) in the ritual ablution.

Allah, the Exalted and Glorious, says: “O you who have believed, when you rise to [perform] prayer, wash your faces and your forearms to the elbows and wipe over your heads and [wash] your feet to the ankles” - (read with “alay al-kabayn”) - (Surah Ma'idah, Part 6, Section 2, Verse number: 6). Allah, the Exalted and Glorious, has instructed that (O believers, when you intend to perform prayer, wash your faces and your hands up to the elbows and wipe over your heads and [wash] your feet to the ankles - and if you are in a state of major impurity, then wash your entire body up to the knees -).

It is established from the Quranic exegesis that in the verse “أرجلکم” there are two readings: one with a fatha on the lam and the other with a kasra on the lam. The reading with a fatha on the lam pertains to washing the feet in ablution when the footwear has been worn, while the reading with a kasra on the lam pertains to wiping over the footwear in ablution when the footwear has been worn

699

مگرہ ضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

موزول پرع فرما تو میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ فراموش کرگئے ہیں

حضرتی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا: بلکہ تم جہول گئے ہومیرے رب عز و جل نے مجھے اس کا

حکم دیا ہے - ( اس کی روايت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے - )

It is narrated from Mugirah, may Allah be pleased with him, that he said: The Messenger of Allah ﷺ said to me, 'O Mu'adh, what if I forget?' So I said, 'O Messenger of Allah ﷺ, have you forgotten?' The Messenger of Allah ﷺ said, 'No, but you have forgotten. My Lord, the Exalted and Glorious, has commanded me to do this.'
700

ام المومنین عائشہ ضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ جب سے رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرسورہ ما نده نازل ہوئی ہے اس وقت سے آپ اللہ تعالیٰ سے ملتک وضو

میں موزول پرع فرما تے رہے - ( اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے - )

701

البہریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کر وضو کرنا وتو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لے آیا۔ آپ نے وضو فرمایا اور جائے پاول دھونے کے اپنے دونوں موزول پڑھ کیا، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے دونوں پیرنیں دھوئے تو آپ نے فرمایا کر میں نے دونوں چیروں کو موزول میں ایک حالت میں ذا لابہ کروہ دونوں پاک تھے۔ (اس کی روایت امام احمداور ترمذی نے کی ہے۔)

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قسمی مردی نے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزول پڑھ کیاہے

702

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کر میں وقت کا کرتا ہوں کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وضو میں) موزول پڑھ فرماياہے۔ (اس کی روایت بزاز نے کی ہے۔)

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے موزول پڑھ کے منکر کے لیے کفر کا اندیشہ فرمایاہے تھا رے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنه، نے کہا کر میں موزول پڑھ کر نے کا قائل اس وقت تک نہیں ہوا یہ حال تک کہ میرے پاس اس مسئلے میں تشکی بخش وضاحت روز روشن کی طرح حاصل نہ ہوگی اور اس شخص کے کافر ہوجانے کا اندیشہ کرتا ہوں جوموزول پڑھ کے جانے زہو نے کا عقیدہ نہ رکتا ہو۔ 12

703

اسامة بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ مقام اسواق میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاجت کے لیے تشریف لے گئے اور حاجت سے فراغت کے بعد باہر آئے، اسامة رضی اللہ عنہ نے کہا کر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کر رسول اللہ صلی

اللہ تعالیٰ و آله وسلم حا جت کو گے تو بحدا زال حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو فرما یا اپنا چہرہ

دھوئے دونوں با تحویل کو دھوئے اور سر کا سح فرما یا اور دونوں موزول پسح فرما یا۔ چہرآ پ نے نماز ادا ئے

فرما یا۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)

غزوہ تبک کے موقع پر جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موزول پسح فرما یا ہے

From Usama ibn Zaid, may Allah be pleased with him, who said: "The Messenger of Allah ﷺ entered with Bilal into the market. He went to relieve himself, then came out. I asked Bilal: 'What did he do?' Bilal replied: 'The Prophet ﷺ went to relieve himself, then performed wudu, washed his face and hands, wiped his head, and wiped over his leather socks, then prayed.'" [Narrated by Al-Nasa'i]

704

_عباد بن زیاد رضی اللہ عنہ تے جوم غیرہ بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک لڑکے ہیں

روایت سے کہ نہی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تبک کی لڑائی میں حا جت کو تشریف لے گے _عباد بن

زیاد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پانی لے کر گیا وہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بحد فراخت آ لے تو میں آپ پ کے لے پانی ذاتا گیا، انہوں نے کہا کہ

حضر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چہرہ دھویا چہرآ پ با تحویل کونکا لے نے گ تو جب کے آستینو ل کے تگ

ہو نے کی وجہ تے نکال دے کے، وہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب کے پچے

با تحویل کونکا لا اور دونوں با تحویل کو دھو لیا اور اپنے سر کا سح فرما یا اور دونوں موزول پسح کے _چہر رسول

اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت تشریف لا لے جبکہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز میں امامت

کر رہے تھے اور ایک رکعت نماز پڑھا چکے تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کے

سا تھ مقتری بن کر نماز ادا ئے فرما یا، اس کے بعد جو رکعت آپ کی رہ گئی تھی اس کو تھا ادا ئے فرما یا (تو بخیر

انتظار کے نماز شروع کرنے کی بنا پر) لوگ گہرائے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ تم

نے اچھا کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے اور اس طرح اس کی روایت بخاری نے کی

کی ہے۔)

موزول پر حکیمدت مسافر کے لے تین دن اور تین رات میں اور مقیم کے لے ایک دن اور ایک رات ہے۔

705

روایت کی ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسافر کے لے تین دن اور تین رات تک اور مقیم کے لے ایک دن اور ایک رات تک مسح کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ اس نے طہارت کرے (خواہ وضو کیا ہو یا صرف پیر دھوکر) موزول کو پہن لیا ہو۔ (اس کی روایت اثر میں اپنی سنن میں کی ہے اور ابن خزیمہ اور دار قطنب نے بھی اس کی روایت کی ہے اور خطابی نے واضاحت کی ہے کہ یہ حدیث اسادوالی ہے اور "منتقی" میں بھی بھی نذکور ہے اور اس حدیث کو ابن خزیمہ نے تج قرار دیا ہے۔ موزول پر حکے لے موزے پینے وقت طہارت کامل لیعنی وضو ضروری نہیں ہے بلکہ طہارت غیر کامل لیعنی صرف پیر دھوکر موزے پینے لے جاسکے ہیں البتہ موزول کے پینے کے بعد جو پہلا حدث ہوگا اس حدث کے وقت طہارت کامل لیعنی وضو شرط ہے۔ ف: موزول پر حک کرنے کی شرط طہارت پرموزول کا پینا لینا ہے، واضح رہے کہ طہارت دو قسم کی ہوتی ہے: ایک طہارت کامل جو پورے وضو سے حاصل ہوتی ہے۔ اور دوسرا غیر کامل جوصرف پیروں کے دھوینے سے حاصل ہوجاتی ہے۔ اور ان دونوں طہارت کے لیے ایک طہارت کے بعد موزول کو پہن لیا گیا تو موزول پر حک کیا جاسکتا ہے۔ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس میں طہارت کا ذکر ہے مطلقاً ہے جو نذکور ہے دو قسم کی طہارت کو شامل ہے البتہ خفیہ کے پینے کے بعد جو پہلا حدث ہوگا اس حدث کے وقت طہارت کامل ضروری ہے، مثل کسی شخص کے پیر دھوکر موزے پینے کے اور اگر اس نے وضو پورا نہیں کیا تھا کہ اس کو حدث ہوگیا تو ایسا شخص موزول پر حک نہیں کرسکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ طہارت کامل لیعنی پورا وضو موزول کے پینے کے وقت ضروری نہیں ہے، البتہ حدث کے وقت

طہارت کا لیے پورا ضرور لازمی ہے تاکہ موزول پر صبح تھوڑے - (عمدۃ الرعایہ)12-

And from Abu Bakrah, from the Prophet ﷺ: "He allowed the traveler to wipe over his socks for three days and nights, and the resident for one day and one night, if he performed ablution and then wore his socks, to wipe over them." [Narrated by Al-Athram in his Sunan, Ibn Khuzaymah, and Al-Daraqutni]

Al-Khattabi said: "The chain of narration is authentic, as stated in Al-Muntaha," and Ibn Khuzaymah confirmed it as authentic.

706

_ثرتہ بن بانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے علی ابن ابی

طالب رضی اللہ عنہ سے موزول پر صبح کرنے کے بارے میں دریافت کیا، آپ نے جواب دیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کے لیے موزول پر صبح کرنے کی مدت تین دن اور تین رات

مقرر فرمائی ہے اور مقیم کے لیے موزول پر صبح کی مدت ایک دن اور ایک رات محہرائی ہے- (اس کی

روایت مسلم نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اس طرح روایت کی ہے-)

جانبت وا قع ہو نے پر موزے اتا ر لے جا ئیں !

707

_صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تین دن اور تین رات مسافر کے لیے ایک دن اور ایک رات مقیم کے

لیے مدت ہے تو موزول کو نیند اور پیشہ اور پاخانہ آنے کی وجہ سے مت نکلا کروئین جنا بت کی

وجہ سے نکال دو (اگر چیہ مدت میں ابھی باقی رہے)- (اس کی روایت طبرانی نے کہیر میں کی ہے اور

اس طرح ترجمہ اور نسائی نے بھی اس کی روایت کی ہے-)

And from Safwan bin Abdal, Allah be pleased with him, who said: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Three days and nights for the traveler, and one day and one night for the resident, and do not remove them due to sleep, urination, or defecation, except due to janabah (ritual impurity).'" [Narrated by Al-Tabarani in his Al-Kabir, and narrated similarly by Al-Tirmidhi and Al-Nasa'i]

708

_اس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کر کے موزول کو پہین لے تو ابھی موزول کے ساتھ نماز

پڑھے اور وضو کے وقت ان پر صبح کر لیا کرے (اور مدت باقی رہے پر) چاہے تو نہ اتا رے البته

جانبت وا قع ہو جا ے تو نکال دے- (اس کی روایت دار قطنی اور حاکم نے کی ہے اور حاکم نے اس

حدیث کو صحیح قرار دیا ہے-)

And from Anas, Allah be pleased with him, who said: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'When one of you performs ablution and wears his socks, he should pray in them and wipe over them, then he should not remove them unless due to janabah.'" [Narrated by Al-Daraqutni and Al-Hakim, who authenticated it]

709

_ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت سعد اور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان موزول پر صبح کے متعلق اختلاف ہوگیا تو سعد رضی اللہ عنہ نے

فرمایا کہ میں موزول پرسع کرتا ہوں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں (موزول پر) مسج نہیں کرتا

ہوں، سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے ثالث تمہارے

والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ظہیر اتا ہوں ابوعثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے

پاس کچھ اور ہم نے ان کے ساتھ اس مستند کا ذکر کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند سے فرمایا کہ

تمہارے پچھا تم سے بطہ کر عالم ہیں جب تم اپنے موزول کو ضوء کر کے پہن لیس اوراس کے بعد تمہارا

وضوء لوٹ جانے پر تم نے وضو کر لیا اور موزول پرسع کیا تو تمہارے لے (مقیم ہوئے کی حالت

میں) مسج کرنا دومسرے دن کے اس وقت تک کے لے کافی ہوگا (جس وقت سے کہ تم نے پہلے حدث کے

بعد) مسج کرنا ثروع کیا تھا خواہوہ رات کا ہو یادن کا (اس کی روايت سعيد بن منصور نے کی ہے)

موزول پرسع کی مدت کی ابتدا موزول کے پہن لینے کے وقت سے نہیں ہوتی بلکہ

موزول کے پہن لینے کے بعد جب پہلا حدث وا قع ہوا ہو، اس وقت سے ہوگی،

ایک مثل کے ذریعہ اس کی توضیح

ف: موزول پرسع کرنے کی مدت مقیم کے لے ایک دن اور ایک رات ہے اور مسافر کے لے

تمین دن اور تین را تین ہیں، اس مدت کی ابتدا موزول کے پہننے کے وقت سے نہیں ہوگی بلکہ موزول کے

پہننے کے بعد جو پہلا حدث ہوا ہے اس وقت سے ہوگی، مثلًا ایک شخص نے صبح صادق کے وقت وضو

کر کے موزول پہن لے اور سورن نگلنے کے بعد اس کو حدث لا حق ہوا اور وضو لوٹ کیا اوراس نے زوال

کے بعد وضو کر کے چیروں پرسع کیا تو مسج کی مدت سورن نگلنے کے وقت سے ثروع ہوگی نہ صادق سے

نہیں ہوگی، کیونکہ اس کو پہلا حدث سورن نگلنے کے بعد لا حق ہوا ہے اور اس مثل کے لحا ظ سے آگروہ

مقیم ہے تو دومسرے دن سورن نگلنے کے بعد تک چیروں پرسع کر سکتا ہے اور اگر مسافر ہے تو تین دن اور تین

رات تک مسج کرنے کا (عمدۃ الرعاية)

And from Abu Usman Al-Nahdi, who said: "Sa'd and Ibn Umar disagreed about wiping over the socks. Sa'd said: 'I wipe over the socks.' Ibn Umar said: 'I do not wipe over them.' Sa'd said: 'Between me and you is your father.' We then went to Umar and mentioned this to him. Umar said: 'Your uncle knows better than you. When you wear your socks after performing ablution, then if you break your ablution, you can perform ablution and wipe over your socks, and that wiping is valid until that hour, whether it is night or day.'" [Narrated by Sa'id bin Mansur]

موزول پر حکر نے کا طریقہ
710

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑا کر آپ نے پیشہ بفرما پھرو ضوع کیا اور اپنے موزول پر حفرمیااس طرح کہ سیدہ بات کو سیدہ جانب کے موزے پر کھا اور با کسی بات کو با کسی جانب کے موزے پر کھا اورصرف ایک دفعہ دونوں موزول کے اوپر کے حضرت پر حفرمیا۔ نہ جا اب تک یاد میں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشانات جوموزول پر پڑے تھے گویا میں ان کواب تک موزول پر دکھائے رہاہوں۔

(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور سہیہ کی روایت کی اس طرح ہے۔) اگر دین کا انحصار صرف راے پر ہوتا تو مسح کے لیے موزول کا نہیں حصہ اوپر کے حضرت کے مقابلوں زیادہ موزول ہوتا

711

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر دین کا انحصار صرف راے پر ہوتا تو موزول کا نہیں حصہ بہ نسبت اوپر کے حضرت کے لیے زیادہ موزول تھا حال کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزول کے اوپر کے حضرت پر حفرمیا تھوڑی کیا ہے۔ (اس کی روایت ابوداود نے تحقیق اساد کے ساتھ کی ہے اور دار قی کی روایت اس کے تمام معنی ہے اور تخمیص میں نہ کورہ کے اس کے اساد تحقیق ہے۔)

712

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہا تھا اس نے اپنے موزول کو دھویا تو آپ نے اس کو اپنے پاؤں سے ڈھونسا دیا اور فرمایا کہ (موزول پر حکر نے میں) سنن پیشی ہے! تم کو حکر نے کا حکم اس طرح

دیا گیا ہے کہ کر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں باہوں کی انگلیوں کو دونوں موزول پر گذا رکر

انہیں مسح کرتلا یا - (اس کی روایت طبرانی نے اوسط میں لکھے - )

And from Jabir, Allah be pleased with him, who said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by a man who was performing ablution and washing his socks. He nudged him with his foot and said: 'This is not the Sunnah. We were commanded to wipe over them like this,' and he passed his hands over his socks." [Narrated by Al-Tabarani in Al-Awsat]

In another narration, he showed him with his hands from the front of the socks to the base of the shin once, spreading his fingers apart. And in another narration from Ibn al-Mundhir, from Umar ibn al-Khattab, that he wiped over his socks until the marks of his fingers appeared on the socks.

713

اور طبرانی کی دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ اس کے بعدرسول اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے ان کوچ کرنے کا طریقہ اس طرح بتلا یا کہ باہوں کو ایک دفعہ موزول کے اگلے حصے

سے پڑھ لیتے اس طرح گزاردیا کہ باہوں کی انگلیاں کھیلی ہوتی ہیں -

714

اور ابن المنذر کی روایت میں عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق مرودی ہے کہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے موزول پراس طرح مسح کیا کہ باہو کی انگلیوں کے نشانات موزول پر

کیروں کی طرح نما ئی ہیں -

And from Jabir, Allah be pleased with him, who said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by a man who was performing ablution and washing his socks. He nudged him with his foot and said: 'This is not the Sunnah. We were commanded to wipe over them like this,' and he passed his hands over his socks." [Narrated by Al-Tabarani in Al-Awsat]

In another narration, he showed him with his hands from the front of the socks to the base of the shin once, spreading his fingers apart. And in another narration from Ibn al-Mundhir, from Umar ibn al-Khattab, that he wiped over his socks until the marks of his fingers appeared on the socks.

715

حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ موزول پر مسح کرنے کا

طریقہ یہ ہے کہ انگلیوں کے ذریعہ موزول پر خطوط کھینچ جائیں - (اس کی روايت سعيد بن منصور نے

کی ہے)

جراب پر مسح درست ہے

And from Al-Hasan, who said: "The wiping over the socks is done in stripes with the fingers." [Narrated by Sa'id bin Mansur]

716

ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں جراب پر (یعنی چھترے کے ان لفا فول پر جوموزول پر پھے جاتے ہیں)

اور اپنی یعنی پر مسح فرما یا - (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور امام احمد ترمذي، ابوداود اور ابن ماجہ کی

روایت یہی اس طرح ہے - )

نعلیں پر مسح درست نہیں اس بارے میں امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کی تو ضیح

امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ مارے پاس یعنی (یعنی چپل) پر مسح جائز نہیں ہے اور اس

کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں حضرت اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چپل پر مسح کرنے کا جو ذکر ہے اس

سے مراد یہ ہے آپ نے پھر بھی ان جراول پر فرمایا جو چھل کے اندر تھا تو چھل پر محکرنا دراصل جراول پر محک تھا کیونکہ اگر جراب کے اوپر چھل موجود نہ ہوتا تو محک جراب کی پر محک کیا جاتا تو اس طرح آپ نے چھل کوشل کرتے ہوئے جراول پر محک فرمایااورآپ کا جراب پر محک کرنے کا اصل پاکی ہے، اس طرح چھل پر محک کرنا زندقر اردیاجا گا۔ جب اس حدیث میں ہماری اس وضاحت کا اختیال موجود ہے اوراس میں چھل پر محک کرنے کی دلائل پائینہیں جاتی تو ہم نے بذریعہ قیاس اس کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کی تو ہم نے دیکھا کہ وہ موزے جن پر محک جاتے ہے جب وہ پچت جا کیس اوران میں سے پھر ظاہر ہو پچے ہول یا پچول کابر احمد کہانی دینے کے قوس اتمکرام اس باٹ پر متقق پین کر ایس موزول پر محک جاتزیبل ہے، اس طرح جب ثابت ہوگیا کہ موزول پر محک اس صورت میں جاتز ہے جبکہ دونول پچے موزول میں چھپ جا تمیں اورموزول پر محک ایسی صورت میں بالطل ہے جبکہ پچے ظاہر ہوجاتے ہول اورپودا خبات ہے کر چھل میں کچی پچے ظاہر رہتے ہیں اور پچینہیں پائے تو چھل ان موزول کی طرح ہوگے جن میں سے پچے کہانی دیتے ہول اورپچی بالاتفاق ثابت ہوچکاہے کر ایس موزے جن میں سے پچے ظاہر ہو جاتے ہول ان پر محک بالطل ہے تو چھل پر محک محک بالطل ہوگا۔

It is narrated from Abu Musa (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ performed wiping over his two leather socks (meaning the folded parts of the leather socks on which one rides a mount) and over his sandals - this is according to the narration of Imam Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah. Imam Tirmidhi (may Allah have mercy on him) said: Wiping over sandals is not correct. Imam Tirmidhi (may Allah have mercy on him) said: Wiping over sandals is not permissible, and the evidence for this is that in this hadith, the mention of the Messenger of Allah ﷺ wiping over his sandals means that he wiped over the leather socks inside the sandals, because if there were no sandals over the leather socks, then wiping would have been done directly on the leather socks. Thus, by wiping over the sandals, he was actually wiping over the leather socks. The purity of wiping over the leather socks is established, so wiping over the sandals would be invalid. Since this clarification is present in the hadith and the evidence for wiping over the sandals is found therein, we have deduced through analogy that the ruling is that one wipes over the mounts when they are made of leather and the leather is visible, just as one wipes over the leather socks when the leather is visible. Therefore, it is established that wiping over the mounts is permissible when the leather is visible, while wiping over the mounts is impermissible when the leather is hidden. Similarly, if the leather is hidden in the sandals and not visible, the sandals will be like the mounts from which the leather is not visible, and since it is established that wiping over such mounts is impermissible, wiping over the sandals will also be impermissible.
717

عبد ثمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کر انہول نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ قیدیول کا معائنہ کر رہے تھے۔ آپ نے پیشاب کیااور بعدازال وضو کیااوراپنے جراول پر محک کیا۔(اس کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے)

And from Abdul Khayr, who said: "I saw Ali, while he was presenting the prisoners, urinate, then perform ablution and wipe over his socks." [Narrated by Sa'id bin Mansur]

718

ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ موزول پر محک کرتے تھا اورجراول پر محک کرتے تھے۔(اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے)

719

بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ موزول پر محک کرو اور چھل کے جراول پر محک کرو۔(جو موزول کے اوپر پینے جاتے ہیں)۔(اوراس کی روایت طبرانی اوربغوی نے کی ہے)

720

عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ عبد اللہ بن رواحداوراسامبن زید

رضی اللہ عنہما روایت کرتے جس کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بلا ل رضی اللہ عنہ محمل

"وارحمل"، میں تشریف لے گئے تو بلال رضی اللہ عنه، عبد اللہ بن رواحہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم

کے پاس باہر آئے۔ اور ان دونوں حضرات کو نہیں نے خبر دی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

وضوع کیا اور جرابول پڑھ فرمائیں (اس کی روایت ابن عساکر نے کی ہے۔)

721

اور امام احمد اور البوداودی نے بلال رضی اللہ عنہ سے اس طرح مرفوعاً روايت کی

ہے۔

Imam Ahmad and Al-Bawardi narrated from Bilaal (RA) as marfu‘:
722

حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں

کروہ جرابول پڑھ کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے۔)

موزول کا پچھلا حصہ جوتلوول سے ملا ہوا ہوتا ہے اس پڑھ نہ کیا جاتے

723

بشام بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد روح رضی اللہ عنہ کے

متعلق روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد کوموزول پڑھ کرتے ہوئے دیکھا اور وہ موؤے

کے پچھلے حصہ پڑھتلوول سے ملا ہوا تھا۔ حصہ نہیں کرتے تھے، بشام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پڑھ وہ سرتے

عمادۃ اتحادے اور سکا مسجدا کرتے۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے۔)

باوضوء موؤول کواتار نے کی صورت میں صرف پڑھول کا وجو لینا کافی ہے

وضوء کا اعادہ ضروری نہیں

724

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کروہ ایک غزوہ میں تھے انہوں نے اپنے

موؤول کواتارا اور پیردویں اور وضو کا اعادہ نہیں کیا۔

725

ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب تم باوضوء رہ کر

موزول پر سح کر چکے ہوا ورتم نے موزول کو اتاردیا ہے تو اس پنچیرول کودھولو۔

(اس کی روایت امام محمد نے "كتاب الآثار" میں لکھے-)

727

ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے

فرمایا کہ پاک مطی مسلمان کے لے پانی (کے قائم مقام ہے) اگر چہ وہ دس سال تک پانی نہ پایے

اورجب اس کو پانی مل جائے تو عسل کر لے پاس کے لے بہتر ہے۔

( اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور البوداود نے کی ہے اور نسائی کی روایت میں کچھ

عشر سنین (دس سال) کے الفاظ تک اس طرح ہے۔)

زبانج نے کہا کہ صعید زمین کی سطح کو کچھ جیسے خواہ اس پر مٹی ہو یا ہو یا لی چٹان ہو کر اس پر

گرد نہ ہو، زجاج نے پیش کیا کہ اپنے کہ "صعید" کو طرز میں کچھ میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔

حتیٰ نہ ہے بہ میں تیمم و ضوء کا کامل طور پر قائم مقام ہے، اس لئے تیمم کا حکم بے عینہ وضو

کے حکم کی طرح ہے ان جزئیات کی تفصیل جواس کلبی کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں

ہمارے علماء نے واضاحت کی سے کہ اس حدیث میں اس بات کی ویل ہے کہ تیمم و ضوع کا مطلقاً

یعنی کامل طور پر قائم مقام ہے تیمم کا وضو کے کامل طور پر قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تیمم پانی کے

ملک رافع حدث یعنی ناپا کی کو ایسا کی دور کر دینے والے جسیا کہ پانی اور تیمم اپنا اصل یعنی پانی کی

طرح ایسا کی پاک کرنے والا ہو گا، جسیا کہ خود پانی اور نماز کے وقت کا گذر جانا تیمم کو نہیں توڑے گا جس

طرح وقت کے گزر نے سے وضو نہیں توڑتا بلکہ تیمم کا حکم بیعنہ وضو کے حکم کی طرح ہے کہ وقت کے اندر

اور وقت کے قبل بھی جائز ہے اور تیمم سے فرض اور نفل جتنی نماز بن جائے ادا کر سکتے ہیں اور ان کی وجہ

کی بنابر تیمم اور وضو کو جمع نہیں کیا جاسکتا کہ بدلا اور مبدل یعنی قائم مقام اور اصل کا جمع کرنا درست نہیں

سے اور تیمم کے مطلق قائم مقام ہونے کی وجہ سے یہ دروی نہیں کہ خارج نماز پانی کے ملنے پر بھی تیمم

باطل ہوجائے بلکہ جس طرح خارج نماز پانی مل جانے سے تیمم باطل ہوجاتاہے بالکل اس طرح دوران

نماز میں بھی پانی کے مل جانے کے علم سے بھی تیمم باطل ہوجائے گا، علاوہ ازیں اس حدیث کے

الفاظ (عشر سنین ) یعنی دس برس تک پانی نہ ملنے کی صورت میں بھی بر ارتیمم کرتا رہے، سے اس بات کی

ویل ملتی ہے کہ تیمم مطلقًا وضو کا قائم مقام ہے نہ کہ ضروراً، حتى انه۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تیمم ضرورتا ادا کے لئے وضو کا قائم مقام ہے

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تیمم ضرورتا وضو کا قائم مقام ہے، تیمم کے ضرورتا قائم مقام

ہو نے کی حیثیت سے امام موصوف کے پاس تیمم حقیقت میں حدث کو دور کرنے والا نہ ہو گا بلکہ حدث

کے باقی رکن ہو ادالی فرض کے لئے تیمم ان کے پاس جائز ہو گا، یہی وجہ سے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ

کے مسلک کے لحاظ سے وقت کے پہلے تیم جائز نہیں کیون کہ وقت نماز کے شروع ہوئے پرادائی فرض

کے لے تیم کی ضرورت لا حق ہوتی ہے۔ (عمدۃ الرعاية) 12