یعنی باب ان چیزول کے بیان میں سے جتنے سے وضو کرنا واجب ہوتا ہے
وقول الله عز و جل اوجاء احد منكم من الغايط ارشادا لي سور نساء ع ايت نمبر ايتم مي كويي بيت الخلاء س ان
نماز بغیر وضو کے قبول نہیں ہوتی 1/313 - ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: اس شخص کی نماز جس کو وضو نہو بغیر وضو کے قبول نہیں ہوتی۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)
مال حرام سے نذرات مقبول نہیں 2/314 - ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: بغیر طہارت اور وضوے کے نماز قبول نہیں کی جائے اور مال حرام سے خیرات بھی قبول نہیں ہوتی -
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Prayer without ablution is not accepted 1/313 - It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ said: 'The prayer of the person who does not perform ablution is not accepted.' (Bukhari and Muslim have narrated this by agreement.)
Offerings from unlawful wealth are not accepted 2/314 - It is narrated from Ibn Umar (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ said:
It is stated: Prayer is not accepted without purification and ablution, and alms are also not accepted when given from unlawful wealth - (This tradition has been narrated by Muslim.)
منذر ابویعلی ثؤری رحمۃ اللہ محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،منذر
کہتا ہے : میں محمد بن الحنفیہ کوالن کے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سناؤں
کے والد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے فرمایا: مجھے نذی کرتے آیا کرتی تھی تو میں نے مقدار ضی
اللہ عنہ کو حکم دیا کروہ آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کریں اور مجھے آخضرت
صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے میں ثریم محوس ہوتی تھی کیونکہ آپ کی صاحجزادی میرے
نکاح میں تھیں-
نذی کیا چیز ہے؟
نذی اس ریق پانی کو کہتے ہیں جو مرتن کے ساتھ نذاق کرنے پلان کو شہوت کے ساتھ دکھنے
سے نکلتا ہے-
متی سے غسل اور نذی سے وضو واجب ہوتا ہے
مقدار ضی اللہ عنہ نے آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو ارشاد ہوا کہ ہر جوان مردوں
نذی آتی ہے، اگر متی خارج ہوتو غسل واجب ہے اور اگر نذی نکلو اس پرصرف وضو واجب ہے،
غسل واجب نہیں ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے،اور بخاری اور مسلم نے بھی اس طرح
روایت کی ہے۔)
نذی نکلنے پر کیا شرط مگاہ کا وجہ نا کہی واجب ہے؟
ف: مردوں کے جب نذی نکلو اس پر وضو ضروری ہے،اس بارے میں امام طحاوی رحمۃ اللہ
علیہ نے اوّلاً ایک جماعت کے مسلک کو نقل کیا ہے جو حنفیوں کے خلاف ہے جن کا قول یہ ہے کہ مردوں
جب نذی نکلو اس پر ثر مرگہ کا دھونا واجب ہے، جس طرح پیشہ ب کرنے کے بعد ثر مرگہ کا دھونا
ضروری ہے۔ لیکن احتیاط نے ان کی خلافت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض حدیثوں سے نذی نکلو پر ثر مرگہ کا جو
دھونا معلوم ہوتا ہے اس سے ثر مرگہ کے دھونے کا واجب کرنا مقصد نہیں بلکہ اس کی غرض نذی کی آمد کا بنڈ کرنا
ہے، اس وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ثر مرگہ کے دھونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف وضو
کرنے کا ذکر ہے۔ جس سے یہ بتانا مقصد ہے کہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں، امام ابوحنیفہ اور ابو يوسف
اور محمد بن الحسن رحمهم اللہ کا بھی ارشاد ہے -
نذی کے لیے صرف وضو کافی ہے
Narrated by Mundhir Abu Ya'la al-Qauri from Muhammad ibn al-Hanafiyyah: I heard him narrate from his father that he said, "I used to experience wet dreams, so I instructed Al-Miqdad to ask the Prophet (ﷺ) about it, and I was too shy to ask him myself because his daughter was present with me. So Al-Miqdad asked him, and the Prophet (ﷺ) said, 'Whenever semen is discharged, a ghusl (ritual bath) is obligatory, and when pre-ejaculate (madhiy) is discharged, wudu (ablution) is required.'" (1) [Narrated by Tahawi, and also by Bukhari and Muslim in similar wording]
(1) The saying: "And if it is pre-ejaculate, then wudu is required." Al-Tahawi said: Some scholars are of the view that it is obligatory for a man to wash his private parts (the penis) when he experiences pre-ejaculate (madhiy) or after urination. However, others disagreed with them, stating that the Prophet (ﷺ) did not mandate washing the private parts in such cases, but rather to prevent the pre-ejaculate from flowing. Do you not see that when Ali (may Allah be pleased with him) narrated what the Prophet (ﷺ) prescribed for him in such situations, he mentioned performing wudu for prayer? Therefore, it is established that anything other than the wudu for prayer prescribed by the Prophet (ﷺ) was for a different reason and not for the same cause that requires wudu for prayer. This is the view of Abu Hanifa, Abu Yusuf, and Muhammad ibn al-Hasan (may Allah have mercy on them).
عائشہ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں نے علی
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منبر پر کیتے ہوئے سنا کہ میں ایک شخص تھا کہ مجھے نذی بہشت خارج ہوا کرتی
تھی تو میں اس بارے میں آخفرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا چاہا مگر آپ کی صاحجزاوی
میرے نکاح میں ہوئے کی وجہ سے مجھے ثر مرگوس ہوئی تو میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو دریافت کر نے کے
لیے کہا، عمار رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا:
اس کے لیے وضو کافی ہے۔ (امام طحاوی نے اس کی روایت کی ہے۔)
نذی کے وضو اور غسل لا زم آتا ہے
From Aisha bint Anas, she said: I heard Ali on the pulpit saying: "I was a man who experienced pre-ejaculate (madhiy), and I wanted to ask the Prophet (ﷺ), but I felt shy because his daughter was married to me. So, I instructed Ammar to ask him, and he replied: 'Wudu is sufficient for it.'" [Narrated by al-Tahawi]
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ آخفرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
نذی کی نسبت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: نذی کے نکلو کے وضو لا زم آتا ہے اور غسل کے نکلو کے
غسل۔ (اس کی روایت تزندی نے کی ہے۔)
نذی خارج ہوتو ثر مرگہ کو دھونے کے اور وضو کرنے
From Ali (may Allah be pleased with him), he said: I asked the Prophet (ﷺ) about semen, and he said: "For pre-ejaculate (madhiy), wudu is required, and for semen (mani), ghusl is required." [Narrated by al-Tirmidhi]
نڈی خارج ہو جائے تو حشفہ بھی نثر مرگاہ کو دھوؤا لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
پکی ہونی چیز کے کھانے سے وضو نہیں تو طا علی وسلم نے کبری کا دست تناول فرمایا اوراس کے بعد نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔(بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے اور طحاوی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)
When the menstrual bleeding stops, one should take a bath, wash the private parts, and perform ablution like the ablution for prayer. (This is reported by Tirmidhi.) If one eats something cooked, there is no need for ablution; so, the Prophet ﷺ took a morsel of bread and then prayed without performing ablution. (This is reported by Bukhari and Muslim, and Tirmidhi also reported it in this manner.)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبری کے دست کا گوشت تناول فرمایا پھراس طاقت سے باطہ صاف فرمایا جس پر آپ تقریبا تھے، پھر کٹرے ہوئے اور نماز ادا فرمائی، (گوشت تناول فرمائی کی وجہ سے وضو نہیں فرمایا)- (ابوداوداورابن ماجہ نے اس کی روایت کی ہے۔)
The Messenger of Allah ﷺ ate from the hand of Kabirah, then he clearly passed wind while he was about to pray, so he broke his wudu' and performed the prayer (he did not perform wudu' again because he had already eaten).
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی ہوں پھلو کا گوشت پیش کیا تو آپ نے اس میں سے پھلتاول فرمایا پھرنماز کے لیے کٹرے ہوئے اور وضو نہیں فرمایا-(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
پکی ہونی چیز کے کھانے سے تازہ وضو کی ضرورت نہیں
From Umm Salama (may Allah be pleased with him), she said: I presented a roasted side of meat to the Prophet (ﷺ), and he ate from it. Then he got up for prayer and did not perform wudu. [Narrated by Ahmad]
حضرت محمد بن منکدر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات (رضی اللہ عنہم) میں سے ایک کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اس چیز کے متعلق کوئی حدیث بیان فرمایے جو آگے سے پہلی گئی ہو، انہوں نے کہا کہ
From Muhammad ibn al-Munkadir, he said: I entered upon one of the wives of the Prophet (ﷺ) and said: "Tell me about something that was changed by fire?" She said: "Very rarely did the Messenger of Allah (ﷺ) come to us except when we had a certain type of grain available in Madinah. He would eat from it, then pray without performing wudu." [Narrated by Al-Tahawi]
آخرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ ہمارے پاس تشریف لائے تو اکثرہم آپ کے لئے ایک غلم کی داندارتم کی چیز جومینہ پانی جاتی ہے تل دیا کرتے تو آپ پاس کوتناول فرما تے اور نماز پڑھتے اور (تا زہ) وضو نہیں فرما تے - (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے-)
The Prophet ﷺ, when he brought something to us, would often give a small amount of oil to a servant, who would mix it with water. He would then drink it and pray, without performing ablution.
ابورافع رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں وقت مکا کر کہتا ہوں کہ میں آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بگری کا دل اور کچھ بھونتا اور آپ پاس کوتناول فرما کر نماز ادا فرما تے اور (تا زہ) وضو نہیں فرما تے - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور طحاوی کی روایت کچھ اس طرح ہے-)
From Abu Rafi (may Allah be pleased with him), he said: I bear witness that I used to roast the stomach of a sheep for the Messenger of Allah (ﷺ). Then he prayed without performing wudu. [Narrated by Muslim, and al-Tahawi narrated something similar]
ابورافع رضی اللہ عنہ تے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابورافع کے پاس بگری کا گوشت بلور پہیچیا گیا تو انہوں نے اس کا گوشت پکانے کے لئے باندی میں چڑھایا تو آخرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرما یا: اے ابورافع! یکیا ہے تو انہوں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بگری کا گوشت ہے جو ہمارے یہاں تک کہفآیا ہے جس کو میں نے باندی میں پکالیا ہے، آپ نے ارشاد فرما یا: اے ابورافع! اس کا ایک دست چھڑو، پس میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دست پیش کر دیا، ارشاد ہوا کہ دوسرادست دو، میں نے دوسرادست پیش کر دیا، پھر ارشاد فرما یا: ایک اور دست لادو، ابورافع نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بگری کے دو، می دست ہوتے ہیں، آپ نے فرما یا: اے ابورافع: تم اگر خاموش رہتے تو تم دست پردست دیتے جاتے جب تک تم خاموش رہتے، پھر آپ نے پانی منگوا کر کلی فرما یا اور انگلیوں کے سروں کو دھوؤا لا، پھر کہتے ہو کر نماز ادا فرما یا، پھر آپ دوبارہ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کے بال شہنزادا گوشت موجود پایا پھراس کوتناول فرما یا اور پھر مسجد میں جا کر نماز ادا فرما یا اور پانی استعمال نہیں کیا - (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے-)
When a piece of rabbit meat was brought to Abu Rafe‘, he placed it in a pot to cook. Then the Messenger of Allah ﷺ came and said, 'O Abu Rafe‘! What is this?' He replied, 'O Messenger of Allah ﷺ, it is rabbit meat that has been brought to us, which I have placed in the pot to cook.' The Messenger of Allah ﷺ said, 'O Abu Rafe‘, leave one piece.' So, I presented one piece to him. He then said, 'Give another piece.' I presented another piece. Then he said, 'Bring another piece.' Abu Rafe‘ said, 'O Messenger of Allah ﷺ, there are only two pieces of rabbit left.' The Messenger of Allah ﷺ said, 'O Abu Rafe‘, if you had remained silent, you would have continued to give pieces until you remained silent.' Then he asked for water, performed ablution, and prayed. When he returned to him again, he found the rabbit meat still present, so he ate it and then went to the mosque to pray without using water again.
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پی بھوتی چیز تناول فرما کر وضو نہیں فرما یا کرتے تھے
اورد اری نے اس کو اوعید رضی اللہ عنہ تے روایت کیا ہے جس میں پانی منگوانے
سے لکر آخر تک کا واقعہ ذکر نہیں ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اور ابی بن
کعب اور ابو طلحة رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے گوشت اور روتی کھائی، پھر میں
وضو کے لیے پانی مگوا ایا تو دونوں نے کہا: وضو کیون کرتے ہو، میں نے کہا: اس کہانے کی وجہ
جس کو تم نے کہایا ہے، تو ان دونوں نے کہا: کیا پا کیزہ چیزیں کھا کر وضو کرتے ہو، حالا نکہ جوتم
بہتر _ (یعنی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) تے انہوں نے تو پی بھوتی چیز کھا کر وضو نہیں فرما یا _ (امام
احمد نے اس کی روایت کی ہے) _
From Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him), he said: I, Ubayy, and Abu Talha were sitting and eating meat and bread. Then I asked for water to perform wudu, and they said: "Why are you performing wudu?" I replied: "Because of this food we ate." They said: "Do you perform wudu after eating good food? No one better than you has ever done that." [Narrated by Ahmad]
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ تے روایت ہے کہ وہ فتح تہبر کے سال حضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ نکل اور جب مقام صحاباء پر پہنچ گو تہبر تے قریب تر ہے تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
نے عصر کی نماز ادا فرمائی، پھر آپ پ نے توش طلب فرما کے توصرف ستوحاضر کیا گیا تو ستو کے متعلق
فرما یا کہ بھگویا جائے تو خود حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تناول فرما یا اور تم بھی کہا یے، پھر آپ پ نماز
مغرب کے لیے اٹھ اور آپ پ نے کل کی تم نے بھی کل کی، پھر آپ پ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں
فرما یا _ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے اور امام طحاوی اور امام محمد نے بھی اس کے مشہ روایت کی
ہے)
From Suwayd ibn Nu’man (may Allah be pleased with him), he said: He went out with the Messenger of Allah (ﷺ) during the year of Khaybar. When they reached the area of Sahlbah, which is one of the lowest parts of Khaybar, the Prophet (ﷺ) prayed the Asr prayer, then asked for food. But they were only given sawiq (a type of flour). He ordered it to be mixed, and the Messenger of Allah (ﷺ) ate, and we ate as well. Then he stood up for Maghrib prayer, rinsed his mouth, and we also rinsed our mouths. He then prayed without performing wudu. [Narrated by Bukhari, and al-Tahawi and Muhammad narrated something similar]
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
شوربا گوشت کے ساتھ تناول فرما یا پھر نماز پڑھی _ (اس کو ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے
روایت کی ہے) _
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گوشت تناول فرما کرتا زہ وضو نہیں کیا
From Jabir (may Allah be pleased with him), he said: The Prophet (ﷺ) ate broth with meat, then prayed. [Narrated by our Imam Abu Hanifa]
وہب بن کیسان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر
بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہاں کے آپ نے گوشت
تناول فرمایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں لکھی ہے۔)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شام کا کھانا کھایا اور تازہ وضو نہیں فرمایا
From Wahb ibn Kaysan (may Allah be pleased with him), he said: I heard Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) say: "I saw Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be pleased with him) eat meat, then pray without performing wudu." [Narrated by Muhammad in al-Muwatta]
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن
خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شام کا کھانا کھایا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں
کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں لکھی ہے۔)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے گوشت اور روتی کھا کرتا زہ وضو نہیں کیا
From Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him), he said: He had dinner with Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him), then prayed without performing wudu. [Narrated by Muhammad in al-Muwatta]
ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے
گوشت اور روتی تناول فرمائی، پھر کلی کی اور دونوں باتھ دھوئے، پھر دونوں ہاتھوں کو چھڑے پر ل دیا، اس
کے بعد نماز ادا فرمائی اور وضو نہیں کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں لکھی ہے۔)
ابوہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان آگے سے پیہلوئی چیز کے کھانے پر
وضوء نہ کرنے کے متعلق ایک لطیف مکالمہ
From Aban ibn Uthman, he said: Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with him) ate meat and bread, then rinsed his mouth, washed his hands, and wiped them on his face. He then prayed without performing wudu. [Narrated by Muhammad in al-Muwatta]
سعید بن الی بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ اپنے والد ابو برده رضی
اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ وہ چیز
کھا کر وضو کرنے سے متعلق کیا کہتے ہیں جس کو آگے نے پکایا ہے؟ فرمایا: وضو کیے۔ ابن عمر رضی
اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: آپ چکنی چیز اور گرم پانی کی نسبت کیافرما تے ہیں کہ آپ ان کے استعمال سے
وضوع کیا جائے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم قریشی ہواور میں قبیلہ دوس کا ہوں - ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کر اے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) شاندار آپ پ (سورہ زخرف، پ:25، ع:6، آیت نمبر:58، کی) اس آیت سے استدلال کرتے ہیں ﷲ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ (بلکہ پیغمبر کے لو قوم ہے)- (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے-)
From Sa'id ibn Abi Burda, from his father (may Allah be pleased with him), he said: Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said to Abu Huraira (may Allah be pleased with him): "What do you say about wudu from what has been changed by fire?" He replied: "Perform wudu from it." Ibn Umar (may Allah be pleased with him) asked: "What do you say about oil and heated water, should one perform wudu from it?" Abu Huraira (may Allah be pleased with him) replied: "You are a man from Quraysh, and I am a man from Daws." Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "O Abu Huraira, perhaps you refer to this verse: ‘But they are a contentious people’ (Az-Zukhruf 43:58)." [Narrated by al-Tahawi.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ خضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل آگ سے پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو کرنا تھا - (طحاوی اور نسائی نے اس کی روایت کی ہے اور شرح مسلم میں امام نووی نے کہا ہے کہ یہ حدیث ہے-)
اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا مستحب ہے
From Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him), he said: The last of the actions of the Messenger of Allah (ﷺ) was to leave wudu from what had touched fire. [Narrated by al-Tahawi and Al-Nasa’i. Imam Nawawi said in his explanation of Sahih Muslim: "And this is an authentic hadith."
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے آخِذرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ: آیا بڑی کا گوشت کھانے کے بعد وہم وضو کریں؟ ارشاد ہوا: اگر تم چاہو تو وضو کرلو اور اگر نہیں چاہتے ہو تو مت کرو، کیا اونٹ کا گوشت کھا نے کیسے تو وضو کر لیں؟ فرمایا: بال اونٹ کا گوشت کھانے سے (جب کہانے کے بعد) وضو کر لیا کرو (اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنے کا حکم بطور اختیاب ہے واجب نہیں، علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی صراحت کی ہے) میں نے عرض کیا کہ بڑی پول کے باندھن کی جگہ نماز ادا کر سکتا ہوں؟ ارشاد ہوا: بال، عرض کیا کہ اونٹ کے بیٹن کی جگہ نماز پڑھ سکتا ہوں؟ فرمایا: نہیں - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے-)
دو دہ پی کر کی کی جائے
From Jabir ibn Samura (may Allah be pleased with him), he said: A man asked the Messenger of Allah (ﷺ): "Should I perform wudu (1) from the urine of sheep?" The Prophet (ﷺ) replied: "If you wish, perform wudu, and if you wish, do not." The man then asked: "Should I perform wudu from camel meat?" The Prophet (ﷺ) replied: "Yes, perform wudu from camel meat." The man asked: "Should I pray in the places where sheep rest?" The Prophet (ﷺ) replied: "Yes." The man asked: "Should I pray in the places where camels rest?" The Prophet (ﷺ) replied: "No." [Narrated by Muslim]
(1) The phrase "فَتَوَضَّأْ" (perform wudu) refers to a recommended action, as stated by Ash-Shami.
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ خضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پینے کے بعد کلی کی اور فرمایا اس میں چلنہ بہت ہوتی ہے - (بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔
ایک،یہ وضوے سے کئی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں
Narrated by Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah ﷺ drank milk, then performed mouth rinsing, and said: "It has fat." [Agreed upon]
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ
والمسلمین نے فتح کے روز کئی نمازیں ادا کی،یہ وضوے سے اداؤں میں اور موزون پر صلیا، عمر رضی اللہ
عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے آج ایسا کام کیا جس کو آپ نے اس سے قبل نہیں کیا ہے (یعنی ایک
یہ وضوے سے جملہ نمازیں ادا کیں) ارشاد ہوا: اے عمر! (رضی اللہ عنہ) میں نے قصد ایسا کیا ہے
،تاکہ اس کا جواز معلوم ہو)۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
شبہ کے موقع پر جب تک کہ ہوا کے نگلنے کی آواز نہ سے لے پا محسوس نہ کر لے وضوے
نہیں تو شاہ و ضوے لوٹنے پائے لوٹنے کے بارے میں لیقین پر عمل کرے
Narrated by Buraidah: The Prophet ﷺ performed the prayers on the Day of the Conquest with one wudu and wiped over his shoes. Umar said to him: "You did something today that you never did before." He replied: "I did it deliberately, O Umar." [Narrated by Muslim]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جب تم میں کوئی شخص اپنے پیٹ میں پھر (حرکت) پائے اور اس پر شبہ ہو کہ اس سے کچھ
ہو اخراج ہوتا ہے، یا نہیں تو وہ بھگز مسبحت نے نگل جب تک کہ آواز نہ سے لے پا ہوا نہ محسوس کر لے
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
ف: درخت اور ردوخت ارمیں سے کاگر وضوے رین پر لیقین ہو اور وضوے کے لوطے لوٹ پر شک ہو یا
اس کے بر عكس ہو لیقین وضوے لوطے پر لیقین ہو اور وضوے قائم رین پر شک ہو تو جس پر لیقین ہو اس پر عمل
کرے۔
ہوا آواز سے نگل یا بدبو ظاہر ہو تو وضوے لوٹ جاتا ہے
Narrated by Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ said: "If any of you feels something in his stomach and is unsure whether anything has been released or not, he should not leave the mosque until he hears (2) a sound or detects a smell." [Narrated by Muslim]
(2) The statement "until he hears" – In "Al-Durr Al-Mukhtar" with "Radd al-Muhtar," it is mentioned: "Even if he is certain of purity and doubts about the state of impurity, or vice versa, he should act according to certainty."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: آواز سے ہوا خارج ہو، یا بدبو (ظاہر ہو نے) سے وضوے کرنے لازم ہو جاتا ہے البترصرف
شک کی وجہ سے وضوے لازم نہیں ہوتا۔ (اس کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Narrated by him (Abu Huraira): The Messenger of Allah ﷺ said, "There is no ablution except from sound or smell." [Narrated by Ahmad and Tirmidhi]
علی بن طلق رضی اللہ عنه روايت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا کہ جب تم میں کسی شخص سے (بلا آواز کے) تو اخراج ہوتا وضو کر لے اور تم اپنی عورتوں سے لواط مت کرو۔ (اس کی روايت ترمذی اور ابوداود نے کی ہے۔)
علی بن طلق رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں کسی شخص سے (بلا آواز کے) تو اخراج ہوتا وضو کر لے اور تم اپنی عورتوں سے لواط مت کرو۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداود نے کی ہے۔)
نیندے وضو ہوتا ہے
Sleep invalidates wudu.
معاوية بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما روايت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا کہ دونوں آنکھیں سریں کی بندش میں جب آنکھیں نیندے بنے ہو جائیں تو سریں کی گره کحل جائے ہے۔ (یعنی نیندے اعصاب ذہیل ہوجاتے اور تو اخراج ہو جائی ہے تو وضو ہوتا ہے۔) (اس کی روايت دار قی نے کی ہے۔)
معاوية بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دونوں آنکھیں سریں کی بندش میں جب آنکھیں نیندے بنے ہو جائیں تو سریں کی گره کحل جائے ہے۔ (یعنی نیندے اعصاب ذہیل ہوجاتے اور تو اخراج ہو جائی ہے تو وضو ہوتا ہے۔) (اس کی روایت دار قی نے کی ہے۔)
بیٹھے ہوئے سوجائے سے وضو نہیں ہوتا
Wudu is not valid from a sitting position.
علی رضی اللہ تعالیٰ عنه روايت ہے آپ نے ارشاد فرمايا کہ سریں کا بندرونون آنکھیں پیں تو جو شخص سوجائے تو اسے چاہے کر وہ وضو کر لے۔ (ابوداود نے اس کی روايت کی ہے۔)
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ سریں کا بندرونون آنکھیں پیں تو جو شخص سوجائے تو اسے چاہے کر وہ وضو کر لے۔ (ابوداود نے اس کی روایت کی ہے۔)
اور شیخ امام حی السنة رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہ کہ بیٹھے ہوئے سوجائے والوں کے لئے نہیں ہے کیونکہ .......
And from the Prophet ﷺ: "Ablution is not obligatory on one who sleeps while sitting, standing, or prostrating, until he lays down on his side; for when he lies down, his joints become relaxed." [Narrated by Al-Bayhaqi]
In another narration from Abu Huraira, it is mentioned similarly, and its chain is good.
انس رضی اللہ عنه حدیث میں مرودی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے سر نیندے وجہ سے نماز عشاء کے انتظار میں جھک جائے تو پھر وہ نماز ادا فرما تے اور دوبارہ
وضو نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)
اور تزدی نے اپنی روایت میں "یَنتَظِرُوْنَ الْعِشَاءَ حَتّی تَخْفَقَ رُؤُسُهُمْ" کے جگہ
"یَنامُوْنَ" (جس بیٹھ ہوئے بھیگری چیز کے سہارے کے) سوجا کرتے تھے، نقل کیا ہے۔
قيام، رکوع، یا سجدہ کی حالت میں نیڑگ جائے تو کہی وضو نہیں جاتا،
کروت سورت پڑتے وضو لوٹ جاتا ہے
اور شاخ امام ابن حمام رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ وضو لوٹ کا حکم اس شخص سے بھی متعلق ہے
جو بیٹھ ہوئے یا سجدہ کرو ع کی حالت میں سوجا گے۔
And from Anas: The companions of the Messenger of Allah ﷺ would wait for the Isha prayer until their heads would droop, then they would pray without performing ablution. [Narrated by Abu Dawood and Tirmidhi, except that in it, he mentioned "they would sleep" instead of "they would wait for Isha until their heads would droop." Sheikh Imam Ibn al-Humam said: "This applies to those who are neither standing nor prostrating nor bowing, as confirmed."
جسیا کہ تحدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آخضرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوبارہ وضو کرناس شخص پروا جب نہیں جو بیٹھ گی حالت میں یا کٹرے
ہوئے یا سجدے میں سوجا گے بشرط کے اس نے کروت نے سویا ہو، کیون کہ زمین پر کروت لیٹ جانے تو
اس کے جوز و ضیل پڑ جاتے ہیں۔ (اور ہوا نکلنے کا شبہ ہوجاتا ہے) اور ایسی صورت میں وضو لوٹ جاتا
ہے۔ (اس کی روایت تہذیب نے کی ہے۔)
And from the Prophet ﷺ: "Ablution is not obligatory on one who sleeps while sitting, standing, or prostrating, until he lays down on his side; for when he lies down, his joints become relaxed." [Narrated by Al-Bayhaqi]
In another narration from Abu Huraira, it is mentioned similarly, and its chain is good.
اور تہذیب نے دوسری روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بیان کی ہے جس کی
سنہ جیسے ہے۔
And Tadhin narrated another version from Abu Hurairah (RA) as follows:
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
سیدے کی حالت میں سوتے دیکھا یہاں تک کہ آپ زورے سانس لے رہے تھے پھر نماز ادا فرما
رہے تھے میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ سوتے ہیں؟ ارشاد ہوا کہ وضو اس شخص
پروا جب ہے جو کروت سوجا گے اس لیے کر جب وہ کروت سوجا تا ہے تو اس کے جوز بنڈ و ضیل
پڑ جاتے ہیں (جس سے ہوا نکلنے کا شبہ ہوجاتا ہے اور ایسی صورت میں وضو لوٹ جاتا ہے)۔ (اس
کی روایت ابوداوداورترمزی نے کی ہے۔)
ز مین پر پھلوڑک کر سوجائے سے وضو ئے ث جاتا ہے
And from Ibn Abbas: He saw the Prophet ﷺ sleeping while prostrating until he either snored or exhaled, then he got up to pray. I said: "O Messenger of Allah, you slept?" He said: "Ablution is only obligatory on one who sleeps while lying down, for when he lies down, his joints become relaxed." [Narrated by Abu Dawood and Tirmidhi]
عمر وبن شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اپنے والداوران کے والدان کے
دراوں سے روایت کرتے تھے، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص پروضوے
واجب نہیں جو کہرے ہ کر یا پیٹھ کر سوجائے یہ حال تک کہ وہ زمین پر پھلوڑک کر نہ سوجائے۔ (تو ایسی
صورت میں وضو ئے ث جاتا ہے)۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے۔)
And from Amr ibn Shu’aib, from his father, from his grandfather: The Messenger of Allah ﷺ said: "There is no ablution required for one who sleeps while standing or sitting until he lies on his side on the ground." [Narrated by Ibn Adi]
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں مدینہ (منورہ) کی مسجد میں اوگھٹے
ہوئے بیٹھا تھا کر ایک حضرت نے مجھ سے پوچھا کہ تو گود میں لے لیا، میں پلت کر دیکھتا تو نہیں کریم صلی اللہ
علیہ وسلم پیں، تو میں نے عرض کیا یرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وضو ئے کرنا ضروری ہے؟ فرمایا: نہیں، جب
تک تم اپنے پھلوکو زمین پر کہرنے سوجائے۔ (ابن عدی نے اس کی روایت کی ہے۔)
And from Hudhayfah ibn al-Yaman: I was sitting in the mosque of Madinah, dozing off, when a man from behind embraced me. I turned and found the Prophet ﷺ. I said: "O Messenger of Allah, is ablution required for me?" He said: "No, until you lay your side on the earth." [Narrated by Ibn Adi]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول خدا صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: وضو ئے شخص پروا جب ہے جو لیط ہوئے سوجائے، کیونکہ جب وہ لیط کر سوجائتا
ہے تو اس کی جوڑی وہیلی ہوجاتی ہے۔ (اس کی روایت ترمزی اورابوداود نے کی ہے۔)
شرمگاہ کو ہاتھ گنے سے وضو نہیں ہوتا
The Messenger of Allah ﷺ said: 'A person's ablution is not valid if he urinates while standing, because when he urinates while standing, his private part becomes exposed.' (This is narrated by Tirmidhi and Abu Dawud.) Ablution is not valid if one urinates while standing.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے تھے کہ آخحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
سے دریافت کیا گیا کہ آدمی وضو ئے کر لینے کے بعد اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگادے تو (کیا وضو ئے ث جاتا
ہے؟) اس پرحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ جیسی آدمی کے جسم کا ایک حصہ ہے (یعنی اس کو
باٹھے لگ جانے سے وضو نہیں ہوتا، جیسے اور عضو کو ہاتھ لگ جانے سے وضو نہیں جاتا)۔ (اس کی
روایت ابوداود، ترمزی، نسائی اورابن حبان نے اپنے میں اورامام محمد نے اپنے موطا میں کی ہے۔)
امام ترمذی کے پاس طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث زیرنظر مسئلے سے متعلق حدیثوں
میں تین حدیثوں
اور ترمذی نے صراحت کی ہے کہ طلاق رضی اللہ عنہ کی پحدیث ان تمام حدیثوں میں جواس
مسلک کے تعلق سے بیان کی گئی ہیں، ان سب میں زیادہ تر ہے۔ اور طحاوی کی روایت کچھ اس طرح ہے
اور طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ اس حدیث کی سنن نہایت مستقیم ہے، جس کے اسناو اور متن
دونوں میں کسی قسم کا اضطراب نہیں ہے۔
امام ابن مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث طلق کو حدیث بسرہ سے بلحاظ سنن قوی تقرار دیتے ہیں
امام طحاوی رحمۃ اللہ نے ابن مدنی رحمۃ اللہ سے نقل کیا ہے کہ طلاق رضی اللہ عنہ کی پحدیث جس
کی سنن میں ملازم بن عمر و بین، بسرۃ بنت صفوان رضی اللہ عنہما کی حدیث (جس میں شرمگاہ کو باٹھ لگ
جانے سے وضو کا ظہر ثابت ہوتا ہے) سے زیادہ قوی ہے۔
امام حسنی السنہ کا اعتراض کہ طلاق رضی اللہ عنہ کی حدیث منسوخ ہے
امام حسنی السنہ و غیرہ کا قول ہے کہ بسرہ کی حدیث منسوخ ہے اور انہوں نے منسوخ ہونے کی پی
وجہ بتلانے کہ طلاق رضی اللہ عنہ بجرت کے پہلے سال آئے ہیں اور حدیث بسرہ کے راوی ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ ہیں، جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا ہے اس وجہ سے طلاق رضی اللہ عنہ کی حدیث جواسلام
لا نے میں پہلے ہیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جواسلام لا نے میں بعد میں منسوخ قرار پانی
ہے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ناگہوتو ہے۔
امام ابن مہمام کا مفصل اور مدل جواب کچھ یہ طرح حدیث طلق منسوخ نہیں قرار دی جاسکتی
امام ابن مہمام رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا جواب یول دیا ہے کہ طلاق رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں
شرمگاہ کو باٹھ لگ جانے سے وضو کا ظہر ثابت ہوتا ہے، اس وقت منسوخ قرار پانی جبکہ طلق رضی
اللہ عنہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لا نے قبل وفات پائے یاسبات کا ظہور مل جاتا کہ وہ اپنے
وطن و اپس کے جس کے بعد آخِرِت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا موقع ان کو پھر حاصل نہ ہوسکا اور طلق رضی اللہ عنہ کا بوہریہ رضی اللہ عنہ کے اسلام سے قبل وفات پاجانا یا وطن و اپس ہوکر پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کون پانا، ان دونوں باٹول کو طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث کو منسوخ مانے والے ثابت نہیں کر سکتے اور پیس طرح ثابت کر سکتے ہیں کہ خود انہوں نے طلق رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف حدیث "مَنْ مَسَّ ذَكَرَةَ فَلْيَتَوَضَّأْ" (جس نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا تو وہ وضو کر لے) کی روایت کی ہے اور یہ قول بھی ان کی کہ کر طلق رضی اللہ عنہ نے آخرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ناگومنسوخ کوسنا سے تو ظاہر ہے کر طلق رضی اللہ عنہ کا وفات پانا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا نہ ملانہ گرزن ثابت نہیں ہوسکتا۔ علاوہ بریں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ضعیف سے اس لے کر ان کی سنن میں زیادہ بن عبد الملک بین جوضعیف بین اور طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث اس ویل کی وجہ سے مرنے سے جس کوابن مدینہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے صدر میں نقل کیا گیا ہے اور طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث اس وجہ سے بھی مرنے سے کر طلق رضی اللہ عنہ مرد بین اور بسرہ رضی اللہ عنہ امورت بین، اور مردول کی حدیث قوی تر ہوتی ہے کر وہ زیادہ حافظ اور ضابط ہوتے ہیں، اس وجہ سے دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے مساوی قرار دی گئی ہے، نیز نواقص وضو کا حکم خاص و عام سے متعلق ہے بسرہ رضی اللہ عنہ پر وضو لوٹ کا حکم تو ظاہر ہوجائے اور ان حضرات سے پوشیدہ رہ جن کا ذکر زیل میں آتا ہے۔ حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما اور دیگر جلیل القدر صحابہ کے پاس بھی شرمگاہ کو باٹھوگلے جانے سے وضو نہیں لوطا چنانچہ حضرت علی، عمر بن یاسر، عبد اللہ بن مسعود، ابن عباس، حذیفہ بن یمان، عمران بن حصین، ابوالدرواء اور سعد بن الی واقص رضی اللہ عنہم کے نزدیک شرمگاہ کے چھو نے سے وضو نہیں لوطا، لہذا ان حضرات سے اس مستند کا حکم باوجود یہ اس کی ان کو زیادہ ضرورت سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا اور صرف بسرہ رضی اللہ عنہ پر طاہر ہونا کر جس حکم کی ان کو ضرورت نہیں قیاس کے خلاف سے، پس حدیث بسرہ رضی اللہ عنہ میں کی وجوہ سے انقطاع باطن سے، بیتہام تفصیل حیثیت میں نذور ہے۔
حضرت ابن عباس اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کے پاس جھڑی
شرمگاہ کو باتچلگ جانے سے وضو نہیں لوطا
And from Talq ibn Ali: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man touching his private part after performing ablution. He said: "Is it not just a part of him?" [Narrated by Abu Dawood, Tirmidhi, Nasai, Ibn Hibban in his Sahih, and Muhammad in Al-Muwatta]
Tirmidhi said: "This is the best narration in this chapter." Al-Tahawi narrated similarly and said: "This narration has a straight chain of transmission, without any inconsistencies in its chain or content." Ibn Madini stated: "The narration of Mulazim ibn Amr is better than the narration of Busra." Amr ibn Ali Al-Fallas said: "The narration of Talq is more reliable than that of Busra bint Safwan." And the scholar Muhi al-Sunnah and others said: "The narration of Busra is abrogated, for Talq arrived in the early years of Hijrah, while the narration of Busra was narrated by Abu Huraira, who embraced Islam later."
Imam Ibn al-Humam said: "It is correct only if they can prove that Talq passed away before the Islam of Abu Huraira or returned to his land, and had no companionship with him after that. But they are not able to do so, since they also narrated a weak Hadith from him: 'Whoever touches his private part should perform ablution.' They claimed he heard both the abrogating and the abrogated narration, even though Abu Huraira's Hadith is also weak due to the inclusion of Yazid ibn Abd al-Malik in its chain."
Then the Hadith of Talq is preferred based on what has been mentioned from Ibn al-Madini and others, and because the Hadith of men is stronger; they are more reliable and accurate, which is why the testimony of two women is equivalent to the testimony of one man. Additionally, matters concerning the nullifiers of wudu' are things that both the private and public need to be aware of. It has been established from Ali, Ammar ibn Yasir, Abdullah ibn Masud, Ibn Abbas, Hudhayfah ibn al-Yaman, Imran ibn Husayn, Abu Darda, and Saad ibn Abi Waqqas that they do not see the act of touching the private part as a nullifier of wudu'. Therefore, its concealment from them, despite their need for it, and its appearance to a woman who does not need it, is highly unlikely. Furthermore, there is a contradiction with analogy, as it involves a break in reasoning.
Imam Tirmidhi has three narrations related to this issue from Thalq (RA). Tirmidhi explicitly states that the narration of Thalq (RA) is mentioned in all these narrations concerning the practice, and it is the most prevalent among them. The narration of Tahawi (RA) is somewhat as follows: Tahawi (RA) has stated that the chain of this narration is extremely sound, with no confusion in either its chain or text. Imam Ibn Madani (RA) considers the narration of Thalq (RA) to be more reliable in terms of its chain than the narration of Basrah (RA). Imam Tahawi (RA) has reported from Ibn Madani (RA) that the narration of Thalq (RA), whose chain includes Mala bin Umar and Basrah bint Safwan (RA) (wherein the need for ablution after touching the private parts is established), is stronger than the narration of Basrah (RA). Imam Hassan al-Sanaa argues that the narration of Thalq (RA) is abrogated. Imam Hassan al-Sanaa and others argue that the narration of Basrah (RA) is abrogated, and they provide the reason that Thalq (RA) came in the first year of the conquest of Mecca, while the narrator of Basrah's (RA) narration, Abu Hurairah (RA), embraced Islam later. Therefore, the narration of Thalq (RA) was revealed earlier, and the narration of Abu Hurairah (RA) was revealed later and abrogated the former. Imam Ibn Mahmiyan provides a detailed and reasoned response, stating that the narration of Thalq (RA) cannot be considered abrogated. Imam Ibn Mahmiyan (RA) responds that the narration of Thalq (RA), which establishes the need for ablution after touching the private parts, could only have been abrogated if Thalq (RA) had died before Abu Hurairah (RA) embraced Islam. However, it is evident that Thalq (RA) did not have the opportunity to meet the Prophet (SAW) again after his return to his homeland, and Thalq (RA) died before Abu Hurairah (RA) embraced Islam. Thus, those who claim that the narration of Thalq (RA) is abrogated cannot prove their point. Moreover, it is clear that Thalq (RA) narrated a weak hadith, 'Whoever touches his private part should perform ablution,' and this statement itself indicates that Thalq (RA) did not hear the final, un-abrogated version of the hadith from the Prophet (SAW). Furthermore, the narration of Abu Hurairah (RA) is weak because many of its narrators, such as Zayd bin Abd al-Malik, are considered weak. The narration of Thalq (RA) is also considered stronger because it is narrated by Thalq (RA) and Basrah (RA), and the narration of a man is considered more reliable than that of two women, especially since the rules regarding the invalidation of ablution are specific and general. The command for ablution due to touching the private parts was clearly established for Basrah (RA), but it remained hidden from other Companions, including Ali and Ibn Masud (RA), and other noble Companions, who did not require it. Therefore, the command for ablution due to touching the private parts, despite being established for Basrah (RA), could not remain hidden from these Companions, and it would be contrary to analogy to assume that they required it. Hence, the narration of Basrah (RA) contains an internal discontinuity, and this is evident in detail. According to Ibn Abbas and Saad bin Abi Waqqas (RA), there was no requirement for ablution after touching the private parts.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سوال کیا گیا کہ اگر آپ نماز میں ہول اور آپ کا باتھ
شرمگاہ کو لگ جانے تو ( کیا وضو لوٹ جانے گا )؟ تو آپ نے جواب دیا کہ مجھ کو نہیں پرواہ نہیں کہ میرا
باتھ شرمگاہ کو لگ جانے یا ناک کو ( لیجن وضو کے نہ توڑنے میں دونوں مساوی ہیں )۔ ( اس کی
روایت امام محمد وطحاوی نے کی ہے )۔
From Ibn Abbas, he said about touching the private part while in prayer: "I do not mind whether I touch it or touch my nose." [Narrated by Muhammad and al-Tahawi.
برائے قیس رضی اللہ عنہ روایت ہے انہول نے کہا کہ میں نے حذیفہ بن
یمان رضی اللہ عنہ سے شرمگاہ کے چھونے کی نسبت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ( وضو کے نہ لوطے
میں ) شرمگاہ کو باتھ کرنا ایسا ہے جسیا کہ اپنے سر کو باتھ لگ جانے۔ ( اس کی روایت امام محمد وطحاوی اور
ابن ابی شیبہ نے کی ہے )۔
I asked Hudhayfah bin al-Yaman (RA) about the wiping over the khuff (leather socks), and he said: 'Wiping over the khuff is like water reaching your head.' (This narration is reported by Imam Muhammad al-Shaybani, al-Tahawi, and Ibn Abi Shaybah.)
قیس رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ ایک شخص عبد اللہ بن مسعود
رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہا: میں نے نماز کی حالات میں اپنی شرمگاہ کو باتھ کرگا تو عبد اللہ
بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ( اگر شرمگاہ کو باتھ لگ جانے سے وضو لوٹ جاتا ہے ) تو تم نے
اتے کیون نہ کاف دیا، پھر فرمایا: تیری شرمگاہ تیرے جسم کے اور دیگر عضو کے ما نہدے۔ ( اس کی
روایت امام محمد نے کی ہے )۔
From Qays, he said: A man came to Abdullah ibn Mas'ud and said: "I touched my private part while I was in prayer." Abdullah ibn Mas'ud replied: "Why didn’t you cut it off?" Then he said: "Is your private part not like the rest of your body?" [Narrated by Muhammad]
قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہول نے کہا کہ ایک شخص سعد
ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ آپ میرے لئے حالات نماز شرمگاہ کو
باتھ کرنا جائز ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم اس کو پچھسم کا ایک خمس کلرا تجہتے ہوتے کات ذو الو، تمہارا
پیخیال نہیں کہ حالات نماز اس کو باتھ لگ جانے سے وضو لوٹ جاتا ہے۔ ( اس کی روایت امام محمد
اورطحاوی نے کی بے اورطرانی کی کبیر میں اس طرح روایت ہے اورجمع الزوائد میں کہاہے کہاس کے
تمام رجال (لیکن رواي) قابل بہروسمہیں -)
عورت کوچھوں نے سے وضوعین طوطا
A man came to Sa'd ibn Abi Waqqas (RA) and asked him if it was permissible to perform the prayer in a state of minor ritual impurity after bathing at a public bath. Sa'd (RA) replied, 'If you can see a fifth of your face in a mirror while you are in the bath, then you do not consider that the state of minor ritual impurity is nullified by bathing.' This narration is reported by Imam Muhammad and Tirmidhi, and in the Musnad of Ahmad it is narrated as follows: In Jami' al-Zawaid it is stated that all the narrators of this chain are reliable.
عاشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض
بیبول کا بوسم لیے اور پھرنماز ادافرماتے اور وضوعین کرتے تھے۔ (اس کی روایت البودا ور، تزندی،
نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
صاحب مشکوۃ کا اعتراض
صاحب مشکوۃ نے کہا کہ ترنذی کا یقول سے کہہمارے اصحاب کے نزدیک عروة رضی اللہ عنہ کا
عاشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث کی روایت کرتے نہیں تھے۔
علامہ طیبی کا جواب
علامہ طیبی نے اس کا جواب دیاہے کہ عروة رضی اللہ عنہ کا عاشر رضی اللہ عنہ سے روایت نہ کرنا کس
طرح نہیں تھے، کیونکہ نخاری اور مسلم میں عروة رضی اللہ عنہ کا عاشر رضی اللہ عنہ سے سمار کرتے کے
ساتھ ثابت ہے، اس لیے عروة رضی اللہ عنہ کا عاشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد تھے۔
صاحب مشکوۃ کا دوسرا اعتراض
اور دوسرا اعتراض کا جواب
صاحب مشکوۃ نے پیچھے کہاہے کہ ابراہیم تمیم کی سنہ عاشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درست نہیں،
اور البودا ور نے کہی اس کی تفسیر میں کہاہے کہ یہ حدیث مرسل ہے اور ابراہیم تمیم نے عاشر رضی اللہ تعالیٰ
عنہ سے نہیں سنے اس کا جواب یہہے کہ اس سے کوئی حرج نہیں واقع ہوتا کیونکہ مرسل نہصرف ہمارے
پاس بلکہ جمہور کے پاس جگہ ہے، اور برائے اپنی سنہ میں اسانہ سن کے ساتھ اس طرح روایت کی ہے۔
The Messenger of Allah ﷺ would kiss some of his wives and then go out to pray and perform ablution.
عاشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں : میں آخضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوتی رہتے تھے اور میرے دونوں چیر آپ کے ساتھ قبل کی طرف رہتے،
جب آپ سیدہ فرماتے تو مجھے باطمہ سے موسادیت اور میں اپنے چیر سمیت میں اور جب آپ کطرے
ہوجاتے تو میں اپنے چیر راز کر دیتی۔ آپ فرماتی ہیں کہ ان دونوں گھروں میں چراغ نہ تھے۔ (اس کی
روایت امام حسنی کی ہے اور بخاری اور مسلم نے جس طرح روایت کی ہے اور زیادہ کہا
ہے کہ نسائی کے اسانید و طرق کے مطابق ہیں۔)
From Aisha, she said: "I used to sleep between the hands of the Messenger of Allah ﷺ with my legs towards his qibla. When he would prostrate, he would gently touch my legs, and I would pull them back. When he stood, I would stretch them out." She said: "And at that time, the houses did not have lamps." [Narrated by Muhyi al-Sunnah]
Al-Bukhari, Muslim, and al-Nasa'i narrated something similar, and Zayla'i said: "The chain of narration in al-Nasa'i meets the condition of being authentic."
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں: میں آخیرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
پہلو میں سورہی قرآن کرتی تھی کہ رات میں آپ کو موجود نہ پانی، میں نے باطمہ سے طولا تو میرا باطمہ آپ کے
قد مول پڑا، آپ پہڑے میں تھے اور فرماتے تھے: "أعوذ برضاک من سخطک، و أعوذ بك منک لا أخصی ثناء عليك، أنت كما
بمعافاتک من عقوبتک، و أعوذ بك منک لا أخصی ثناء عليك، أنت كما
اثنیت علی نفسک"۔
(میں آپ کی رضا مندی کی پناہ میں آتا ہول آپ کی ناراضی سے، اور آپ کی معافی کی پناہ
میں آتا ہول آپ کے غذاب سے، اور میں آپ کی رحمت کی پناہ میں آتا ہول آپ کے غضب سے،
میں آپ کی پوری تعریف نہیں کرسکتا ہون جس طرح کہ خود آپ نے اپنی تعریف کی ہے)۔ (اس کی
روایت حسنی کی ہے اور مسلم کی روایت جس طرح ہے۔)
From Aisha, she said: "I was lying next to the Messenger of Allah ﷺ, and I missed him at night. I touched him with my hand, and my hand fell on his feet while he was in prostration. He was saying: 'I seek refuge in Your pleasure from Your anger, and in Your pardon from Your punishment, and I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough, You are as You have praised Yourself.'" [Narrated by Muhyi al-Sunnah, and Muslim narrated something similar]
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی
اللہ عنه، نماز کے لئے نکل تو ان کی پیوی نے ان کا بوس لیا اور آپ نے نماز پڑھ لی اور روضہ نہیں کیا۔
(عبد الرزاق نے اس کی روایت کی ہے۔)
From Yahya ibn Sa'id: Umar ibn al-Khattab went out to pray, and his wife kissed him, then he prayed without performing wudu (ablution). [Narrated by Abd al-Razzaq]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ عورت کا
بوس لونیا کسی پچول کو سنگ لول وضو کے نوٹنے میں دونوں برابر ہیں۔ (اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے)۔
ایسے اور کی حد یہ ہے کہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت کے مس کرنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حضرت علی، ابن عباس اور حسن بصری رضی اللہ عنہم کے پاس لمس سے مراد جماعت ہے
I do not consider it significant whether a woman touches a small or large object; both are equal in terms of nullifying wudu. (This is reported by Abd al-Razzaq.) And the limit of this is that it is established that wudu is not invalidated by touching a woman. According to Ali, Ibn Abbas, and Hasan al-Basri (RA), touching refers to sexual intercourse.
علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ لمس کا ذکر قرآن میں آیہ اس سے مراد جماعت ہے اس لے اللہ تعالیٰ نے بطور کناپ جماعت کے لئے لمس کا ذکر فرمایا ہے۔ (ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے اس کی روایت کی ہے۔)
From Ali ibn Abi Talib, he said: "Touching (or caressing) is intercourse, but Allah used a euphemism for it." [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Ibn Jarir, and Muhyi al-Sunnah narrated something similar from Mujahid and Qatadah.
اور امام مجی السنہ کی روایت مجداور قدامت اس طرح کی ہے۔
And the narration of Imam Mujahid of the year of seniority is as follows.
اولمستم النسا کی تفسیر میں (لمس کا جوڑ کرہے) اس سے جماعت مراد ہے۔ (سورۃ نساء، پ: 5، ع: 7، آیت نمبر: 43)۔ (ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے اس کی روایت کی ہے۔)
اولمستم النسا کی تفسیر میں (لمس کا جوڑ کرہے) اس سے جماعت مراد ہے۔ (سورۃ نساء، پ: 5، ع: 7، آیت نمبر: 43)۔ (ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے اس کی روایت کی ہے۔)
From Ibn Abbas, regarding the verse: "Or you have touched the women," he said: "It refers to intercourse." [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Ibn Jarir]
حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ملامسة مراد جماعت ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
ہربہ و اے خون سے وضو ؤ ث جاتا ہے
From al-Hasan, he said: "Touching is intercourse." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
عمر بن عبد العزیر رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے، اور وہ تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہربہ و اے خون سے وضو ؤ ث جاتا ہے اس لے پھر وضو ؤ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ (اس کی روایت دار قطی نے کی ہے۔)
دار قطی کا پہلا اعتراض
صاحب مشکوۃ نے دار قطی سے دو اعتراضات نقل کی ہیں، جن میں پہلا اعتراض یہ ہے کہ عمر بن عبد العزیر نے تمیم داری رضی اللہ عنہ سے نقوس نہے اور نہ ان کو ریما ہے۔
جواب
شخ ابن همام نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے اور
جمہور کے نزدیک حدیث مرسل جمع ہے۔
قطعنی کا دوسرا اعتراض
دار قطعنی کا دوسرا اعتراض یہ کہ اس حدیث کی سنن میں یزید بن خالد اور یزید بن محمد مجہول
ہیں۔
دار قطعنی کے دوسرا اعتراض کا مفصل اور مدل جواب
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث متعدد طرق سے مرور ہے، جن میں بعض کو بعض سے تقویت
پہنچتی ہے اور اس طرح سے یہ حدیث مرتبہ حسن تک پہنچ جاتی ہے، علاوہ از یہ ابن عری نے کامل میں
زیر ضی اللہ عنہ تا ئ طرح کی حدیث مرفوًع روایت کی ہے۔
شہ وبلوي نے فتح المنان میں صراحت کیا ہے کہ یزید بن خالد اور یزید بن محمد کی نسبت اختلاف ہے، لیکن
بعض علماء نے ان میں سے ایک کی توہین کی ہے، جناں چڑھتی کی کاشف میں ای طرح ذکور ہے، اور مجہول سے مراد
مجہول لعمین ہے کہ حس سے صرف ایک شخص روایت کرے اور وہ قابل بجر وسرنہ ہواور حس شخص سے دویادو سے
زاکر اوری روایت کری وہ مجہول نہیں، اور چونکہ دونوں راویوں یزید بن خالد اور یزید بن محمد سے کئی حضرات نے
روایت کی ہے اس وجہ سے مجہول نہیں ہوسکتے۔ 12
قت کر نے سے وضو لوٹ جاتا ہے!
حسین معلم ضی اللہ عنہ جن کی سنن معدان بن ابی ظفر ضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے وہ
ابودردا ء ضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قت فرمائی اور وضو کیا۔
معدان ضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دمشق کی مسجد میں ثوبان ضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو ابودردا ء
ضی اللہ عنہ کی روایت کاز کران کے ساتھ کیا تو ثوبان ضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابودردا ء ضی اللہ عنہ نے
مج کہا، میں یہ آخ ضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وضو کا پانی ڈال رہا تھا۔ (ابودا ود، تنزی اورنسائی نے
اس کی روایت کی ہے اور تمذی نے صراحت کی ہے کہ اس باب میں جتنی حدثیں آئی پیں ان سب
Hunting with a dog and blood invalidates wudu, so it becomes necessary to perform wudu again. (This is narrated by Dar Qutni.)
میں یہ حدیث زیادہ تھی، اور حاکم نے کہا کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔
نماز میں تحقیہ لگا کر بنے سے وضوے اور نماز دونوں لوٹ جاتے ہیں
In prayer, if one makes a movement causing the nullification of wudu, both the wudu and the prayer are invalidated.
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز میں تحقیہ لگا کر بنے وہ نماز اور وضوے دونوں کا اعادہ کرے۔ (اس کی
روایت ابن عدی نے کامل میں کی ہے۔)
The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever performs the prayer with a defect, his prayer and ablution both must be repeated.' (This is reported by Ibn Adi in Al-Kamil.)
اور دار قطنی کی ایک روایت میں ابو بریرہ رضی اللہ عنہ نے آخرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
روایت کیا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جب نماز میں کوئی تحقیہ لگا لے تو نماز اور وضوے دونوں کا اعادہ کرے۔
When someone finds a doubt in his prayer, he should repeat both the prayer and the ablution.
معبد بن الی معبر الخزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آخرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز
پڑھارہے تھے کہ ایک نائی نماز پڑھنے کے لیے آیا گرتہ ہیں گرتے، قوم کو نہیں آگئی اور
تحقیہ لگا لے، آخرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم میں سے جس نے تحقیہ
لگایا ہے وہ وضوے اور نماز ہر دو کا اعادہ کرے۔
(اس کی ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی منہ میں روایت کی ہے، اور اس کی روایت
دار قطني، طبرانی، عبد الرزاق، ابن الی شیبہ اور ابن عدی نے کی ہے اور ابوداود نے کچھ اپنے مراسیل میں
ایسے طرح کی روایت کی ہے اور عبد الرزاق کی روایت کے رجال بخاری اور مسلم کے رجال ہیں۔ نصب
الراوی میں نہیں ذکور ہے۔)
ف : یہ حدیث منہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ میں منہ اور مرسل ہر دو طرح سے مرور ہے۔ اور
کتاب الآثار میں جس یہ حدیث موجود ہے اور کتاب الآثار کے رجال سب کے سب ثقة اور مشہور ہیں،
اور معبد رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ (احیاء السنن میں اس طرح ذکور ہے۔)
مباشترت فاحشہ سے وضوے لوٹ جاتے ہے
the Prophet ﷺ was praying when a man came tumbling and stumbling to pray. The people did not come forward, and he performed tashahhud. When the Prophet ﷺ finished the prayer, he said: 'Whoever among you performed tashahhud should renew his wudu and repeat the prayer.'
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ و سلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ یارسول اللہ علیہ وسلم بتلا یے کر ایک شخص کی ایک عورت سے ملاقات ہوگئی اور وہ ایک دوم سے کہنے پچائے اور اس شخص نے اس اجنبی عورت کے ساتھ جماع تو نہیں کیا گر باقی تمام ایک چیزیں کیں جس کو ایک مرد اپنی بیوی سے کرتا ہے (تو ایسے شخص کے متعلق کیا حکم ہے) معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس پر (سورہ نبود، پ12،ع:10،آیت نمبر:114،کی)یا ہے نازل ہوئی واقم الصلاۃ طرفي النہار و زلفا من الیل، ان الحسن ت یذہبن السیات، ذلک ذکری للذکرين (اے سگیمر صلی اللہ علیہ وسلم) پابندی کے ساتھ نماز پڑھا کرو، دن کو دونوں طرف میں اور رات کے قریب ساعتین میں (دن کے دونوں طرف میں، ایک طرف سے مراد نماز فجر سے اور دوسرا طرف سے مراد نماز ظہر اور عصر سے اور قریبی ساعتون میں نماز سے مراد مغرب و عشاء میں) کیونکہ نیمیال گناہوں کو دور کردیتی ہیں جولگ ذکر ایکی کرتے ہیں ان کے حق میں ایک طرح کی یادداشت ) تو آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ضوع کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ علیہ وسلم کیا یہم اس شخص کے لیے خاص ہے یا تمام ایمان والوں کے لیے ہے؟ ارشاد فرمایا: بلکہ تمام ایمان والوں کے لیے عام ہے (تنزیل نے اس کی روایت کی ہے) صاحب البدر نے کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلائل کرتی ہے کہ مباشرت فاحشہ و ضوع توڑ دیتی ہے۔
ف : مباشرت فاحشہ مراد پیہ کہ مرد اور عورت برہنہ ہو کر بگیر کپڑوں کے ایک دوم سے کے بد کوس کری اور آلہ تناسل میں اغشار ہوا اور دونوں اپنی شرمگاہوں کو ملا دیں۔ (شرح و قایدہ اس طرح نکور ہے۔)