Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ فَضَائِلِ الْوُضُوءِ

یہ باب وصوع کی فضیلت کے بیان میں

The Virtues of Ablution
Volume 1 · Purification

وقول الله عز و جل ما يريد الله ليجعل عليكم من حرج ولكن يريد ليطهركم وليتم نعمته عليكم لعلكم تشكرون ارشاد باري تعالي ن سور ما يده ع ايت نمبر مي الل تعالي كو ي منظور ن ي ك تم ر كويي ي ذاييس ليكن الل تعالي كو ي منظور ك تم

کو خوب پاک و صاف رکھا اور بیکہ تم پراپنا انعام پورا فرامائے تاکہ تم شکر ادا کرو۔

طہارت اور وصوع نصف ایمان ہے اور نماز نور ہے

"سُبْحَانَ اللّٰهِ "اور "الْحَمْدُ للّٰهِ " کی فضیلت

May He keep you pure and clean, and grant you the full reward so that you may give thanks. Purity and sincerity constitute half of faith, and prayer is light. The virtues of 'Subhan Allah' and 'Alhamdulillah'.

293

ابو ماکے اشعری رضی اللہ عنہ تے مرودی ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طہارت اور وصوع نصف ایمان ہے اور الحمد للہ کا ثواب میزان عمل کو بھر دیتا ہے

اور دونوں کے "سُبْحَانَ اللّٰهِ "اور "الْحَمْدُ للّٰهِ " کا ثواب یفرمایاں میں سے ہر ایک کلمہ کا ثواب

آسان اور زین کی درمیانی و سعت کو بھر دیتا ہے اور نماز نور ہے اور خیرات (ایمان کی صرفت پر)

ویل ہے اور صبر روشنی ہے (یعنی گناہ ول سے بازر ہنا، طاعتون پر مستعد رہنا اور مصیبتوں پر جزع و

فزوع نہ کرنا، یہ سب قبر میں روشنی کا سبب ہیں) اورقرآن تعمہار سے حق میں دلیل ہے یا تمہار سے خلاف

جحت ہے (یعنی اگر قرآن پر عمل کیا ہے تو وہ نفع دے گا اور لی عمل نہیں کیا ہے تو وہ نقاصان پہنچا یے گا اور

جہنم گا) اورہر شخص صحیح کرتا ہے تو اپنے نفس کو نجیذالت سے، اباس کو آزاد کرادے گا ایاس کوتاہ اور

بر باد کردے گا (یعنی جب صحیح ہوتی ہے تو عمل کے اعتبار سے انسان کی دو حالیں ہوتی ہیں، اگراس

نہ اتنے عمل کے تو اپنے کو عذاب سے محفوظ کر لیا ورنہ برے اعمال کر کے اپنے کو بلا ک کروالا)۔

(مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔)

Abu Malik Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Purification is half of faith. Saying 'Alhamdulillah' fills the scale, and saying 'SubhanAllah' and 'Alhamdulillah' together fill the space between the heavens and the earth. Prayer is light, charity is proof, patience is brightness, and the Qur'an is an argument for you or against you. Every person sets out in the morning as a merchant of his soul, either freeing it or ruining it." [Narrated by Muslim]

In another narration: "'La ilaha illallah' and 'Allahu Akbar' fill the space between the heaven and the earth."

(2) His statement: "Purification is half of faith", the most apparent explanation is that it is considered half because faith removes both major and minor sins, whereas ablution specifically pertains to the removal of minor sins. Additionally, according to our school of thought, this ablution must also be accompanied by intention for it to become an act of worship that expiates sins. This is as mentioned in Al-Mirqat.

294

سبحان الله، الحمد لله، الله اكبر كاثواب روزه نصف صبر ہے، طہارت اور وضوے نصف ایمان ہے

اور ایک اور روایت میں ہے کہ "لا الہ الا اللہ" اور "اللہ اکبر" ان دونوں کلموں کا ثواب آسان اور زمین کی درمیانی وسعت کو جھر دیتا ہے۔ ایسے وضوے میں جس سے گناہ دور ہو تو یہی نیت شرط ہے ف: طہارت اور وضوے، نصف ایمان ہے، ایمان کا نصف اس لیے ہے کہ ایمان سے بھیڑہ اور صغیرہ گناہ میں جاتے ہیں اور وضوے سے صرف صغیرہ گناہ دور ہوتے ہیں اور اس وضوے کو احتیاط کے نزدیک بھی نیت سے مشروط کرنا ضروری ہے تاکہ وضوے ایسی عبادت قرار پائے جس سے گناہ دور ہوتے ہیں اور بھیڑہ نیت کے ایسی عبادت نہیں؛ کیونکہ بھیڑہ نیت کا وضو، عبادت کے لیے صرف وسیلہ اور ذریعہ کا کام دیتا ہے جس سے نماز تو نہ ہوجائے ہے مگر ایسے وضوے پر اجر و ثواب نہیں ملتا۔ (از مرقات)12۔

Abu Malik Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Purification is half of faith. Saying 'Alhamdulillah' fills the scale, and saying 'SubhanAllah' and 'Alhamdulillah' together fill the space between the heavens and the earth. Prayer is light, charity is proof, patience is brightness, and the Qur'an is an argument for you or against you. Every person sets out in the morning as a merchant of his soul, either freeing it or ruining it." [Narrated by Muslim]

In another narration: "'La ilaha illallah' and 'Allahu Akbar' fill the space between the heaven and the earth."

(2) His statement: "Purification is half of faith", the most apparent explanation is that it is considered half because faith removes both major and minor sins, whereas ablution specifically pertains to the removal of minor sins. Additionally, according to our school of thought, this ablution must also be accompanied by intention for it to become an act of worship that expiates sins. This is as mentioned in Al-Mirqat.

295

قبلہ بن سلیم کے ایک شخص سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھوں پانے دست مبارک (کی پانچوں انگلیوں پر زیلی ان پانچوں کو) شمارفرمايا اور رشاو فرمایا کہ (1) سبحان اللہ کے ثواب نصف میزان کو اور (2) الحمد للہ پر زیادہ کا ثواب پورے میزان کو جھر دیتا ہے اور (3) اللہ اکبر کے ثواب آسان اور زمین کی درمیانی وسعت کو جھر دیتا ہے۔ (4) روزہ رکھنا نصف صبر ہے (پورا صبر یہ ہے کہ نفس کو طاعت کے پرگاہ نے اور گناہوں سے پچانے پر رکے رکے چونکہ روزہ نفس کو طاعت کے پرگاہ نے رکتا ہے اس لیے یہ اور صبر ہے اور (5) طہارت اور وضوے نصف ایمان ہے۔ (اس کی روایت تزندی نے کی ہے)۔

مشقت میں کامل طور پر وضو کرنا، مسجدول کودورہوئے کے باوجود باربارجاں

اور مسجد میں ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا کی فضیلت

A man from the tribe of Banu Sulaym narrated: The Messenger of Allah ﷺ counted them in my hand or in his hand and said: "Glorification of Allah (tasbih) is half of the scale, and saying 'Alhamdulillah' (All praise is due to Allah) fills the scale, and saying 'Allahu Akbar' (Allah is the Greatest) fills what is between the heavens and the earth. Fasting is half of patience, and purification is half of faith." [Narrated by Tirmidhi, who said: This is a Hasan Hadith]

296

_ ابوبهریرضی اللہ تعالیٰ عنہ روايتہ انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتاون جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مغفرت کرے

ذرائع سے درجات بلند کرے، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتائیے، ارشاد

فرمایا: مشقت (یعنی شدت سردی یا تکلیف کے اوقات) میں کامل طور پر وضو کرنا اور مسجدول کی

طرف (باوجود دورہوئے کے) باربارجاں (اور مسجد میں جائے جوئے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا

انتظار کرنا اور میں رباطہ)

Abu Hurayrah reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Shall I not tell you about what Allah uses to erase sins and elevate ranks?" They said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "Perfecting ablution even under difficult circumstances, taking many steps to the mosques, and waiting for one prayer after the other. That is ribaat (dedication in Allah’s cause)."

In the narration of Malik ibn Anas, it is repeated: "That is ribaat, that is ribaat," twice. [Narrated by Muslim]

In Tirmidhi's narration, it is repeated three times.

297

_ اور حضرت ماک بن اس کی روایت میں اس طرح کہ اور میں رباطہ اس کو دو

مرتبہ فرمایا (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور ترمذی کی دوسری روایت میں تین دفعہ کاز کرہ)

رباط کس کیے ہیں؟

ف: مسحد اسلام پر دشمنان دین کے مقابلے میں گھہبائی کرنے کو رباط کیے ہیں تاکر دوسر حد کو پار

نہ کریں اور اس کا بر اثواب آیہ اس طرح حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں مسجد میں

نماز کے انتظار میں بیٹھنے کو بھی رباط قرار دیا کہ جیسے و بال کفار کے مقابلے میں بیٹھنے ہیں یہاں شیطان کے

مقابلے میں بیٹھنے کو دین کا خلا و شمن ہے۔ 12

اچھی طرح وضو کرنے سے صغیرہ گناہ جسم سے خارج ہوجاتے ہیں

It is narrated from Ma'qil bin Yasar (RA) that he said,

I was with the Messenger of Allah ﷺ, and he said to me twice, 'What is your intention (niyyah)?' I replied, 'To perform ribat (guarding the frontiers) at the mosque of Islam against the enemies of the religion so that they do not cross the boundary, and its reward is such that the Messenger of Allah ﷺ has considered sitting in the mosque while waiting for prayer as ribat, just as sitting in preparation to face the disbelievers is a shield against the devil, and good purification (wudu) expels minor sins from the body.'

298

_ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ روايتہ، انہوں نے فرمایا کر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے وضو کیا، اور اچھی طرح وضو کیا تو اس کے (صغیرہ) گناہ جسم سے

نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ کاس کے ناخن کے پیچے سے جی خارج ہوجاتے ہیں۔ (مسلم نے اس کی

روایت کی ہے)-

وضوے میں ہر عضو کے دھوئیں کے بعد تمام گناہ دور ہوجاتے ہیں

Uthman reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever performs ablution and perfects it, his sins depart from his body, even from beneath his nails." [Narrated by Muslim]

299

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ مسلم یا مومن وضو کرتا ہے، اور اپنا چہرہ دھو لیتا ہے تو اس نے اپنی

آنکھوں سے جتنے گناہوں کی طرف دیکھا تھا وہ تمام گناہ اس کے چہرے سے پانی کے ساتھ یا پانی کے

آخری قطرہ کے ساتھ (بہہ کر) نکل جاتے ہیں اور جب باتھوں دھووتا ہے تو جتنے گناہوں کو اٹھا ہے پکڑا

تھا وہ سب گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ (بہہ کر) نکل جاتے ہیں اور جب پاؤں

کو دھووتا ہے تو جتنے گناہوں کی طرف پاؤں سے چلا تھا وہ تمام گناہ پانی کے ساتھ یا آخری قطرہ وضوے

کے ساتھ (بہہ کر) نکل جاتے ہیں یہ حال تک کہ وہ بندہ گناہوں سے پاک و صاف ہوجاتا ہے-(اس

کی روایت مسلم میں ہے-)

وہ کوئی نماز کے جس کی وجہ سے تمام پچھلے گناہ بھر کباہتر کے مطاویے جاتے ہیں

Abu Hurayrah reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "When a Muslim or believer performs ablution, and he washes his face, every sin that he looked at with his eyes is washed away with the water, or with the last drop of water. When he washes his hands, every sin that his hands have committed is washed away with the water, or with the last drop of water. When he washes his feet, every sin that his feet walked towards is washed away with the water, or with the last drop of water, until he emerges purified from sins." [Narrated by Muslim]

300

عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا: فرض نماز کا وقت آنے پر جو کوئی مسلمان نماز کے لئے اچھی طرح وضو کرے اور نماز کو خشثوع

کے ساتھ ادا کرے اور رکوع عمدہ طریقے سے کرے تو گناہ کبیرہ کے سوا جس قدر گناہ اس سے قبل اس

سے ہوئے ہیں وہ تمام مطاویے جاتے ہیں اور اسیا بمیشہ ہوتا رہتا ہے -(اس کی روایت مسلم میں ہے-

ہے-)

اپنے وضوے اور نماز کے جس کی وجہ تمام پچھلے گناہ خش دیے جاتے ہیں گے

Uthman reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no Muslim who, when the prescribed prayer becomes due, performs its ablution properly, with humility and proper bowing, except that it becomes an expiation for his previous sins, as long as he does not commit a major sin. And this is true for all time." [Narrated by Muslim]

301

عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے وضو کیا تو دونوں باہوں پر

تمین مرتبہ پانی ڈالا، پھر کلی کی اور ناک صاف کیا، پھر چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر سید حا بات کہنیوالے سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر بایال بات کہنیوالے سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا سح کیا، پھر سید حا پیراس کے بعد بایال چیر تین مرتبہ دھویا، پھر فرما یا کر رسول اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ نے میرے اس وضوے کی طرح وضوے فرما تھا (اس کے بعد عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ) آپ خضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: جو شخص میرے اس وضوے کی طرح وضوے کرے اور دو رکعت نماز ادا کرے اور ان دونوں رکعتوں میں اپنے دل میں وسوسنہ لائے (اگر خود نہ ہو وسوسہ آئے تو پھر مضر نہیں) تو اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے اور الفاظ حدیث بخاری کے ہیں۔)

کس وضوے اور نماز سے جنت واجب ہوگی

Uthman narrated that he performed ablution by pouring water over his hands three times, then rinsing his mouth and nose, then washing his face three times. He washed his right hand up to the elbow three times, then his left hand up to the elbow three times. He wiped his head and washed his right foot three times, then his left foot three times. Then he said, "I saw the Messenger of Allah ﷺ perform ablution similar to mine." He then said, "Whoever performs ablution like mine and then prays two rak’ahs without allowing his thoughts to distract him during them, his previous sins will be forgiven." [Agreed upon, and this version is from Bukhari]

302

عقیم بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: جو کوئی مسلمان اچھی طرح وضوے کر کے دو رکعت نماز دلی تو جہا ور خشوع کے ساتھ ادا کرے گا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

وضوے میں پورے آداب کا لحاظ کر کے شہادت کی پڑھنے کی فضیلت

From Uqbah ibn Amir: We were responsible for tending camels, and my turn came. I took them for grazing in the afternoon and caught up with the Messenger of Allah ﷺ, who was standing addressing the people. I overheard him saying: "No Muslim performs wudu and does it well, then stands to pray two rak'ahs, focusing on them with his heart and face, except that Paradise becomes obligatory for him." [Narrated by Muslim]

303

وضوعے کے بعد سب حانک اللہم و بحمدک آشہد ان لا الہ الا انت

استغفرک و اتوب الیک پڑھنے فضیلت

عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: تم میں سے جو کسی وضوے میں پانی کو اعضا کے اس مقدار تک پہنچادے جہاں تک پہنچانا ضروری ہے، یا پھر فرما یا کر وضوے میں پورے سننون کو پابندی کے ساتھ ادا کرے، پھر کہے "أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً عبدُه ورسولُه"، تو اس کے لئے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیے جائیں گے۔ جس سے چاہے جس میں داخل ہو جائے۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے اور ترمذی نے بیزاند کیا ہے: "اللہُمّ اجعلني من التوابين واجعلني من"

المتطہرین۔ (خدا اتوہ مگ توہ کرن والول اور خوب پاک و صاف رہ والول میں بنادے)

Umar ibn al-Khattab reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "None of you performs ablution, completing and perfecting it, then says, 'I bear witness that there is no god but Allah, and that Muhammad is His servant and Messenger' – in one narration: 'I bear witness that there is no god but Allah alone, without any partners, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger' – except that all eight gates of Paradise will be opened for him, and he may enter through whichever one he wishes." [Narrated by Muslim]

Tirmidhi added: "O Allah, make me among those who repent often, and make me among those who purify themselves."

304

(بیعناء) آسان کی جانب نگاہ اٹھا کر پڑھے اور اس دعاء کے ختم پر اید میان میں "اللہمّ اجْعَلْنِی مِنَ التَّوَابِينَ وَ اجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ وَ اجْعَلْنِی مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ الَّذِینَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُونَ" پڑھے (جس کا ترجمہ یہ ہے) اے اللہ! مجھے توہ کرنے والوں میں سے بنائے اور خوب پاک و صاف رہ والوں میں سے بنائے اور مجھے آپ کے ان صالح بندوں

البوعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص و ضوع کرنے اور و ضوعے فارغ ہونے کے بعد کہ "سُبْحَانَكَ اللْهُمَّ وَ بَحْمْدِكَ آشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَ أَتُوبُ إِلَيْكَ" تواس کو ایک کاغذ میں لکھ لیا جاتا ہے، پھر مہر کر دی جاتی ہے اور قیامت کے مہر میں توڑی جاتی۔ (اس کی روایت نسائی اور حاکم نے کی ہے)-

وضوعے کے بعد کی دعا

ف: "منية المصلى" کی شرح کبیر میں لکھا ہے کہ مستحبات و ضوعے سے پیہ کے و ضوع کرنے والا و ضوعے فارغ ہونے کے بعد "سُبْحَانَكَ اللْهُمَّ وَ بَحْمْدِكَ آشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَ حَدَكَ لَا شَرِیکَ لَکَ أَسْتَغْفِرُكَ وَ أَتُوبُ إِلَیْكَ وَ آشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ"۔ ترجمہ: اے اللہ! آپ پاک ہیں، سب تعریف آپ ہی کے لئے ہے، میں گو اے یا دیتا ہوں کر آپ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، آپ کیتا ہیں اور آپ کا کوئی شریک نہیں، میں آپ سے مغفرت چاہتا ہوں اور سب میں ہوں توہ کرتا ہوں اور میں گو اے یا دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے بندے اور آپ کے رسول ہیں۔

میں سے بنائے جن کو مرد کے بعد بھی آنے والی چیزول سے خوف نہ ہوگااورندنیا کے چھوٹ جانے

پر غم لکین حلیہ میں کس حالت کروضوع کے ختم پر عین نذور الصدر شہادت میں "أشهد أن لا إله إلا الله

وأشهد أن محمد عبده ورسوله" کے بعد "اللهم اجعلني" سے لکر "ولا هم

یحزنون" والی وعاء بھی پڑے

اچھی طرح وضو کر کے شہادت میں پڑنے کی فضلیت

Abu Sa'id reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever performs ablution and then, after completing it, (1) says: 'Glory and praise be to You, O Allah. I bear witness that there is no god but You. I seek Your forgiveness and repent to You,' it will be written on a parchment, then sealed, and it will not be broken until the Day of Resurrection." [Narrated by al-Nasa'i and al-Hakim]

(1) His statement: "He said after completing it..." It is mentioned in Sharh al-Munya al-Kabir (Commentary on "al-Munya"): One of the etiquettes of ablution is to say after completing it:

"Glory and praise be to You, O Allah. I bear witness that there is no deity except You, alone without any partner. I seek Your forgiveness and repent to You. And I bear witness that Muhammad is Your servant and Messenger," while looking towards the sky.

Additionally, it is recommended to say upon completing or during the ablution:

"O Allah, make me among those who repent often, and make me among those who purify themselves, and make me among Your righteous servants upon whom there shall be no fear, nor shall they grieve."

However, it is stated in al-Hilah that what has been authentically transmitted from the Sunnah is the recitation of the aforementioned supplication (of the two testimonies of faith) immediately after ablution.

305

ثوبان رضی اللہ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا اور چھرآسان کی طرف نگاہ اظہاری اور کہا "أشهد أن لا

الله إلا الله وحدة لا شريك له و أشهد أن محمداً عبده ورسوله" تواس کے لے

جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں کہ جس میں سے چلا ہے وہ داخل ہوجاتے۔ (اس کی

روایت نسائی نے کی ہے۔)

اس امت کا قب قیامت کے دون اعضاء وضو کے منور ہو نے کی وجہ سے کیا ہوگا؟

Thawban narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever performs ablution and perfects it, then raises his gaze towards the sky and says: 'I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah, alone without any partner, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger,' the gates of Paradise will be opened for him, and he may enter through whichever one he wishes." [Narrated by al-Nasa'i]

306

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کو قیامت کے دون اعضاء وضو کے منور ہو نے کی وجہ سے، "غیرا

محجّلين من آثار الوصوئء" اے روش پیشانی والو! اے روش با تہ میروالو! کہ کر پکاراجا گا،

پس تم میں سے جو شخص اپنا اس وضو کے نور کو برہاسکتا ہے تو برہا گے۔ (بخاری اور مسلم نے

بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)

وضوع کا نور کیا ہے؟

ف : رَدُّالمحتار میں کہا ہے کہ آداب وضو سے پیہ کرا پی پیشانی اور با تہ او ر پیچر کے نور کو

برہا یا جا گے اور ابحر میں کہا ہے کہ اس نور کے برہا نے کی صورت پیہ کہ وضو میں با تہ او ر پیچر کے

دوسرے کی جوہد (بعضی مقدار) مقربہ اس سے اضافہ کیا جا گے اور حیثیت میں کہا ہے کہ جبل (بعضی با تہ او ر

پیر کے نور) کی حد کے متعلق ہمارے احناف سے کوئی صراحت منقول نہیں ہے، البتہ امام نووی نے لکھا ہے

کراس مستند میں شواہ کے تین قول ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ کسی اور شخص کے بڑھا کر دونوں مستحب ہیں

اس کی حد مقرربین، دوسرا قول یہ ہے کہ کسی سے بڑھا کر نصف موٹا ہے تو اور پاول میں نصف پائڈی ہے تو

دسوں، تیسرا قول یہ ہے کہ باہر کندہ کے اور پیر کے دونوں تک دسوں، آخر میں امام نووی نے کہا ہے کہ

احادیث سے تمام احکام نکلتے ہیں -

مومن کا زیور کیا ہے؟

Abu Huraira narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "Indeed, my nation will be called on the Day of Judgment with radiant faces and bright limbs (1) from the traces of ablution. So, whoever among you can increase the radiance of his face and limbs should do so."

[Agreed upon]

(1) Regarding the statement: "to prolong the radiance of the face and limbs," in the commentary of "Radd al-Muhtar," it is mentioned that it is an etiquette of ablution to prolong the radiance (ghurra) and brightness (tahjil). In "al-Bahr," it is explained that prolonging the radiance refers to increasing beyond the defined limit. In "al-Hilya," it is noted that tahjil applies to the hands and feet. There is no fixed limit mentioned by our scholars. Al-Nawawi reported a difference of opinion among the Shafi'iyyah on this matter, with three views:

It is recommended to extend beyond the elbows and ankles without specific time constraints.

To extend up to the middle of the forearm and shin.

To extend up to the shoulders and knees.

Al-Nawawi concluded that the hadiths support all of these views. The second opinion was also mentioned by al-Tahawi in "Sharh al-Shar'iah," who restricted it to this view.

307

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا زیور (بروز قیامت) و بال تک ہوگا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچا

ہوگا -(اس کی روایت مسلم نے کی ہے)

اعمال میں نماز سے بہتر کوئی عمل نہیں اور وضو کی محافظت صرف مومن کی کرسکتا ہے

From him (i.e., the Prophet ﷺ), it is reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "The radiance of a believer reaches as far as the ablution." [Narrated by Muslim]

308

ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا: اعمال خیر کے بیش پاپند رہو (اور راہ راست سے مت ہٹو) اور تمہارے زبان کر سکوگے (کیون

کہ اعمال خیر کی پاپندی اور راہ راست پر استقامت بہت مشکل ہے) اور یقین رکھو کہ تمہارے سب

اعمال میں سب سے بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی محافظت صرف مومن کی کرسکتا ہے -(اس کی

روایت امام ماک، امام احمد، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے)-

وضوع پر وضو کرنے کا ثواب

From Thawban (may Allah be pleased with him), it is reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Be upright and you will never be able to fully do so, and know that the best of your deeds is the prayer. Only a believer will maintain the ablution." [Narrated by Malik, Ahmad, Ibn Majah, and Darimi]

309

ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کے بعد دوبارہ وضو کیا تو اس کے لئے دس نجیاب کحس

جا میں گی -(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)-

ف: مستحبات وضو سے یہ کہ باوضوء ہونے کے باوجود وبارہ وضو کر لے، یعنی اصلی

میں نذور سے اور رداختار میں کہ حسب کردو بارہ وضو کرناس وقت مستحب سے کر پیل وضو سے نماز پڑھی

ہو یا کولی الی عمل کیا ہو جس کا ثمار عبادت مقصدہ میں سے جسے سجدہ تلاوت اور مس مصحف وغیرہ، یہ

مضمون شرعیہ اور قنینہ سے ماخوذہ تو اس وقت معمول کے بغیر وضو پرو ضوع کرناستحب نہیں ہوگا

وضوع کے وقت برعضوے گناہ نقل جاتے ہیں

عبد اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بنده موسمن وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ منہ سے نقل

جاتے ہیں اور جب ناک چھینلتے ہے تو اس کی ناک سے ناک کے گناہ نقل جاتے ہیں، اور جب اپناچھرہ

دھووتا ہے تو اس کے چھر سے سے چھر کے گناہ نقل جاتے ہیں، یہاں تک کہاس کی دونوں آگھوش کی

پکول کے پیچے سے گناہ جھٹ جاتے اور جب اپنے ہاتھوں دھووتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں سے ہاتھوں

کے گناہ نقل جاتے ہیں، حتی کراس کے ہاتھوں کے ناخن کے پیچے سے گناہ جھٹ جاتے ہیں، اور جب

سر کا سح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ نقل جاتے ہیں حتی کراس کے دونوں کانوں کے گناہ جھٹ جاتے

ہیں اور جب اپنے دونوں پیروں کو دھووتا ہے تو اس کے پیروں سے دونوں پیروں کے گناہ نقل جاتے

ہیں، حتی کراس کے پیروں کے ناخون کے پیچے سے گناہ جھٹ رنے گئے ہیں، پیراس کے مسجد کی طرف

چلنے اور نماز پڑھنے کا ثواب اس کے علاوہ ربّا (امام ما کے ناس کی روایت بلطوار سال کی ہے)-

قبرستان میں کیا دعاے پڑھی جائے؟

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے اور فرمایا: (السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَومٍ مُؤْمِنينَ وَ إِنا إِنْ شاءَ

اللهُ بُكم لا حقونَ).

Abu Hurayrah reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "When a Muslim or believer performs ablution, and he washes his face, every sin that he looked at with his eyes is washed away with the water, or with the last drop of water. When he washes his hands, every sin that his hands have committed is washed away with the water, or with the last drop of water. When he washes his feet, every sin that his feet walked towards is washed away with the water, or with the last drop of water, until he emerges purified from sins." [Narrated by Muslim]

311

سلام ﷺوتم پر اے مسلما نوں کی جماعت ! ایقیناً، تم تم سے ملن وا لے پی انشاء اللہ (اس کے بعد فجر فرمایا ) مجھے آرز و حی کہ تم اپنے بھائیوں کو کیسے، صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تم آپ کے بجا ئی نہیں ہیں؟ ارشاد ہوا: تم میرے صحابہ ہو، اور تم اڑے بجا ئی وہ پیں جو اپنے بچے پیدا ہوئے ہیں، صحابہ نے عرض کیا کہ آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو کیسے پچانیں گے جو اپنے تک پیدا نہیں ہوئے ہیں: ارشاد ہوا کہ تم بتلاو کر شخص کے اپنے گھوڑے سے ملن جمن کی پیشانیا لاور با تھے پیرسفید ہول اوروہ سیاہ گھوڑوں میں مل جا میں تو کیا وہ شخص اپنے گھوڑوں کو پی پچان لے گا، صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!

In this hadith, the Prophet ﷺ visits the graveyard and greets the believers resting there, saying, "Peace be upon you, O abode of a believing people. And indeed, if Allah wills, we will join you." The companions ask if they are not his brothers, and the Prophet ﷺ replies that they are his companions, but their brothers are those who have not yet arrived. When they ask how he would recognize those who have not yet come, he compares it to a man who has horses with distinctive white markings on their foreheads and legs. Just as the man would recognize his horses among others, the Prophet ﷺ would recognize his followers by their marks of purity from ablution (wudu), and he would be their guide at the Pond (Al-Hawd). This narration was [Narrated by Muslim]

وہ ضرو رپچان لے گا_

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو بروز قیامت با تھے، پیرا ور پیشانی پروضوئے کے نور کی وجہ سے پچان لیس گے ارشاد ہوا: میری امت (قیامت میں) وضو کے نور کی وجہ سے روشن پچھرے اور چمکدار با تھے چیر کے ساتھ آ لے گی (اس علامت سے میں ان کو پچان لون گا) اور میں حوض کوثر پران لے پہلے پہو چے جاؤ لگا اور ان کے راحت اورآرام کا سامان مہیا کرتا رہو لگا _ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے_) قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کی اجازت مل گی

312

ابود ردا ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت ہوگی اور سب سے پہلے سجدہ سے مر اٹھانے کی اجازت مجھے ہوگی، پس میں اپنے روبرو دیکھوں گا اورا پنی امت کو تمام امتوں میں پچان لون گا، میں اپنے پچھے دا میں اوربا کی اس طرح اپنی امت کو پچان لون گا_ وہ تین علامتوں جن کی وجہ سے روزہ آخر میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو پچان لیس گے

ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کے زمانے تک کی ورمیائی امتوں میں اپنی امت کو کسی پیچان سکینے گے؟ ارشاد فرما یا: میری امت وضو کے نور کی وجہ سے روش بات کے چیروالی ہوگی اور یہ بات کی اور میں نہ ہوگی اور ان کواس وجہ سے پیچان لون گا کہ ان کو نامۂ اعمال سیدہ بات کے میں دی جائیں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کراس امت کی خصوصیت ہے کہ ان کو سب سے پہلے داعی بن بات کے میں اعمال نام دیا جائے گا، یا ان کو اعمال نام دینے کی کوئی خاص صفت ہوگی اور اس وجہ سے کہ پیچان لون گا کہ ان کے چھوٹے پڑے (جو چھوٹی عمر میں انتقال کر گئے ہیں ان کی مغفرت کی کوشش میں) ان کے آگے دور ہوتے ہوں گے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)

In this hadith, the Prophet ﷺ describes a unique and distinguishing feature of his followers on the Day of Judgment. He will be the first to be allowed to prostrate, and the first to be permitted to raise his head. When he does, he will see before him and recognize his followers from among the nations. They will be identifiable by their distinct marks, such as the white marks of ablution (wudu), and their deeds will be evident as they will be given their deeds in their right hands. The Prophet ﷺ will also recognize their descendants walking before them. A companion asks how the Prophet ﷺ will recognize his followers among all the nations, and the Prophet ﷺ explains that their distinguishing marks from the effects of wudu will be visible, and no other nation will have this unique sign. [Narrated by Ahmad]