تقديرپرامان لانے کا بیان
( تقديرپرامان لانے کے بیان میں )
وَقَوْلُ اللّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ : ﴾ اللہ خالق کُلِّ شَیْء ﴿ اور (سورۃ زمر، پ:24، ع:6، آیت
نمبر:62، میں) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ برچیز کاخلاق ہے -
وَ قَوْلُہُ : ﴾ فَعَالٌ لِّمَا يُرِيدُ ﴿ - اور (سورۃ مریم، پ:30، ع:2، آیت نمبر:16، میں)
ارشادباری ہے : وہ جو چاہے کرگرز رتا ہے -
وَ قَوْلُہُ : ﴾ وَ لَا حَبَّةٍ فِی ظُلُمَتِ الْأَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ إِلَّا فِی كِتَبٍ
مُّبِيَّنٍ﴿ اور (سورۃ انعام، پ:7، ع:7، آیت نمبر:59، میں) ارشادباری تعالیٰ ہے : زمین کی
ارکیبون میں اورتری او رتی میں کونی دانہیں مگروہ کتاب میں میں نذکور ہے -
وَ قَوْلُہُ : ﴾ وَ مَا تَشَاءُ وَ نِ اَلاَّ أَنْ يَشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ﴿ اور (سورۃ تکویر، پ:30،
ع:1، آیت نمبر:29، میں) ارشادباری تعالیٰ ہے : تم کونی باٹ نہیں جان سکتے مگر یکرب العالمیں
چاہے -
خلوق کی تقديری کب کسی گمنے؟
In the context of establishing the predestination of creation:
And Allah’s statement, exalted and glorified be He: “Allah is the Creator of all things” [Surah Zumar, Part 24, Section 6, Verse 62], and His guidance is: “Allah is the Creator of all things.”
And His statement: “He does what He wills” [Surah Maryam, Part 30, Section 2, Verse 16], and His guidance is: “He does what He wills.”
And His statement: “Not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry but is inscribed in a clear record” [Surah Al-An'am, Part 7, Section 7, Verse 59], and His guidance is: “Not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry but is inscribed in a clear record.”
And His statement: “And you cannot will unless Allah, the Lord of the worlds, wills” [Surah At-Takwir, Part 30, Section 1, Verse 29], and His guidance is: “You cannot will unless Allah, the Lord of the worlds, wills.”
When has the predestination of creation ever been doubted?
عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کی پیداش سے پچاس پھزار سال پہلے خلوق کی تقديری کصدی تھیں،
آپ نے فرمايا : اس وقت اس کاعرش پانی پرتھا - (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)-
ہرچیز تقديری تے ہے !
Narrated by Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Allah wrote the destinies of all creatures before He created the heavens and the earth, fifty thousand years before." He said: "And His Throne was upon the water." [Narrated by Muslim]
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر
چیز تقديری سے ہے تا کہ نادانی اور دانا تی بھی - (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)-
حضرت آدم اور حضرت موسى عليهما السلام کے درمیان تقدیر کے بارے میں مناظره
Narrated by Ibn Umar (may Allah be pleased with them): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Everything happens by predestination, even weakness and intelligence." [Narrated by Muslim]
رَّبَّهُ فَغَوَىٰ (سورۃ طہ، پ:16، ع:7، آیت نمبر:121) موجود ہے (ترجمہ: آدم عليه السلام نے اپنے
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ حضرت آدم اور حضرت موسي عليهما السلام نے اپنے پروردگار کے سامنے مناظرہ کیا، آدم علیہ السلام،
موسی علیہ السلام پر جحت میں غالب آئے، موسی علیہ السلام نے کہا: آپ وہی آدم (علیہ السلام) ہیں جس کو
اللہ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور جس میں اپنی روح خاص پھوک لی اور اسے فرشتوں سے آپ کو
سجدہ کرا اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا، اس کے باوجود آپ نے اپنی خطاء کی وجہ سے لوگوں کو زمین پر آتار
دیا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: آپ وہی موسی علیہ السلام ہیں جس کو اللہ نے اپنی رسالت اور کلام سے مرفرز
فرمایا اور جس کو الوارح (یعنی توریت کی تختیان) دیا جس میں عبرات و اخلاق طور پر بیان کردی ہیں اور تم کلام
بنا کر اپنا مقرب بنایا، بتلا والد تعالیٰ نے مجھ کو پیدا کرنے سے کتنے سال پہلے توریت لکھی؟ موسی علیہ السلام
رب کی نافرمانی کی اور غلطی میں پڑ گیا) موسی علیہ السلام نے کہا کہ بال! آدم علیہ السلام نے کہا: پھر آپ
مجھ پر ایسی بات پر لامت کر رہے ہیں جس کو میں نے کیاہے اور جومیری پیداش سے چاپیس سال قبل اللہ
تعالیٰ نے مجھ پر لحدیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام موسی علیہ السلام پر جحت
میں غالب آگے۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)-
پھر کی تقدیر کے چار باتیں روح پھوکنے سے پہلے لحدی جاتی ہیں
جب دوہمال کے پیٹ میں چار ماہ کا ہوتا ہے
Narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Adam and Musa (Moses) argued with each other in the presence of their Lord. Adam defeated Musa in the argument. Musa said: 'O Adam, you are the one whom Allah created with His own hands, breathed His spirit into, and made the angels prostrate to you, and placed you in His paradise, and then you caused mankind to fall into sin and were sent down to the earth?' Adam replied: 'O Musa, you are the one whom Allah chose with His message and spoke to, and gave you the Torah, in which is a clear explanation of everything, and He brought you close to Him as a confidant. How long did you find it written that the Torah was given before I was created?' Musa said: 'Forty years.' Adam asked: 'Did you find in it that "Adam disobeyed his Lord and went astray" (Taha: 121)?' Musa replied: 'Yes.' Adam said: 'So, do you blame me for doing something that Allah had written for me to do forty years before He created me?' Then the Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'So Adam defeated Musa in the argument.'" [Narrated by Muslim]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا کہ رسول صادق علي الصلوة والسلام نے
جن کی صداقت مسلماً حدیث پر ماں بھ کرتے میں سے برآمدی کی تخلیق مال کے پیٹ میں
چاپس روزگار کے شکل نظرن جمع کی جائے، پھراتے، دونوں تک محمد خون رہتا ہے، پھراتے،
دونوں تک گوشت کا لحم ابنار رہتا ہے، پھر خدا تعالیٰ ایک فرشتے کو چار با تن کے کام دے کر مجحتا
ہے تو وہ (1) اس کا عمل، (2) اوراس کی موت، اور (3) اس کا رزق اور (4) شفقی اسعید ہوا لگودیتا
ہے، پھراس میں روح پچوگی جائے۔ اس ذات باری تعالیٰ کی قسم کے جس کے سوا کوئی معبر نہیں،
یقیناً تم میں سے ایک شخص جنت کا عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ کاس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک
بات ہے کا فصل رہ جاتا ہے کر تقیر کا کہا س پر غالب آجاتا ہے اوروہ دوزخیوں جیسے کام کر نے گلتا ہے
اور وہ دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے اور یقیناً تم میں سے ایک شخص دوزخیوں جیسے کام کرتا ہے یہاں تک کہ
کر اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بات ہے کا فصل رہ جاتا ہے کر تقیر کا کہا س پر غالب
آجاتا ہے اوروہ جنت والوں کا عمل کرتا ہے، پس وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (بخاری اور مسلم نے
اس کی متفرق طور پر روایت کی ہے)-
اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہوتا ہے!
Narrated by Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him): who is the truthful and the believed: said: "The creation of each one of you is gathered in his mother's womb for forty days as a sperm, then it becomes a clot for a similar period, then it becomes a lump of flesh for a similar period. Then Allah sends an angel to it with four words: to write down its deeds, its lifespan, its provision, and whether it will be miserable or happy. Then the soul is breathed into it. By Him, besides whom there is no deity, one of you may do the deeds of the people of Paradise until there is only an arm's length between him and it, but the decree overtakes him, and he acts in the way of the people of Hell and enters it. And one of you may do the deeds of the people of Hell until there is only an arm's length between him and it, but the decree overtakes him, and he acts in the way of the people of Paradise and enters it." [Agreed upon]
سهل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت سے کہ کہا کر آخیرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: پیشک بندہ دوزخیوں کا عمل کرتا ہے، حالاکہ وہ اعلیٰ جنت سے ہے اور بندہ جنتیوں کا عمل کرتا ہے
حالاکہ دوزخی ہے۔ اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)-
انسان کا جنتی ہونا یا دوزخی ہونا اس حالت میں طے ہو چکا جب وہ اپنے آباء (باب)
کے ذنب میں نہا
Narrated by Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A servant may do the deeds of the people of Hell, and yet he is from the people of Paradise. He may do the deeds of the people of Paradise, and yet he is from the people of Hell. Indeed, actions are judged by their endings." [Agreed upon]
امام مولین عاشر رضی اللہ عنہ روایت سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک
انصار کے لڑکے کے جنازہ پر بلا کے گے، پس میں نے عرض کیا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس لڑکے کی خوشحالی ہے یتو ایک چھیاہے جنت کی چڑیوں میں سے، اس لے کراس نے نتو کونی برائی کی اور ناس کو پایا آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کراے عاشر! اس کے سواء پچھااور کچھی بے سنو! ایقیناً اللہ تعالیٰ نے جنت کے لے اس کے اعل کو پیدا کیا، اوراس حالت میں پیدا کیا کروہ اپنے آباء (باب) کے صلب میں تھاور اللہ تعالیٰ نے دوزخ کے لے اس کے اعل کو پیدا کیا اور ان کواس حالت میں پیدا کیا کر جب وہ اپنے آباء (باب) کے صلب میں تھا (امام مسلم نے اس کی روایت کی ہے)-
بشرخص کے لے وہ عمل آسان کر دیا جاتاہے جس کے لے وہ پیدا ہوتاہے
The Messenger of Allah ﷺ led the funeral prayer for a boy from the Ansar. I then said: 'O Messenger of Allah ﷺ! This boy is fortunate, for he will be among the inhabitants of Paradise.' He replied: 'O Mu'awiyah! Do not ask about him, and do not speak ill of him! Verily, Allah, the Exalted, has created for Paradise those who are destined for it, while they were still in their fathers' loins, and He has created for Hellfire those who are destined for it, while they were still in their fathers' loins.' (Imam Muslim has narrated this.) - For whom Allah has made easy the actions that lead to his destiny, He has created him for that purpose.
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کراپ نے کہا: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: تم میں سے ہر ایک کے لے اس کا ظہاکندوزخ اور جنت کا لکھدیا گیاہے، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے نوشی تقذر پر بھروسہ کر لیں اور عمل چھوڑ دیں، توآپ نے فرمایا: عمل کرو، پس بشرخص پروہ چیز آسان کر دی گئی ہے کہ جس کے لے وہ پیدا ہواہے تو جو شخص سعادت مندول ہے ہوگا تو سعادت مندل کا عمل اس کے لے آسان کر دیا جاگے گا اور جو بد کھٹول ہے ہوگا تو بد کھٹی کا عمل اس پر آسان کر دیا جاگے گا پھر آپ نے (سورہ وا لیل، آیت نمبر: 10/5، پ، 30، ع: 1، کی) یہ آیت فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى پڑھی (بس جس نے اللہ کی راہ میں مال دیا اور پرہیزگاری کا شیوه اختیار کیا اوراچھی بات کی اور اسلام کو پا سمجھا تو، تم آسانی کی جگہ (یعنی جنت میں پچھے کاراست) اس کے لے آسان کر دیں گے اور جس نے (راہ خدا میں) دینے سے پچل کیا اور (آخرت کی پرواہ نہ کی) اور عده بات (یعنی دین اسلام) کو جحوط جانا تو، تم مشکل کی جگہ (یعنی دوزخ میں پچھے کاراست) اس کے لے آسان کر دیں گے- (بخاری اور مسلم نے اس کی روایت کی ہے)-
آدی کے لئے اگر زنا مقدر ہے تو وہ اس میں ضرور مبتلا ہوگا
Narrated by Ali (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There is none of you except that his place in the Fire and his place in Paradise has been written." The people asked, "O Messenger of Allah, then should we not rely on our fate and abandon action?" He replied, "Do deeds, for each one is facilitated for that for which he was created. As for the one who is among the people of happiness, he will be facilitated to do the deeds of happiness, and as for the one who is among the people of misery, he will be facilitated to do the deeds of misery." Then he recited: {As for him who gives and fears Allah and believes in the best reward} [Al-Lail: 5-6]. [Agreed upon]
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے، آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
یقیناً اللہ تعالیٰ نے آدمی کی تقدیر میں زنا کے اس کا ایک حصہ کھڑا یاہے اور ضرور وہ اس کو پائے گا، پس
آنکہ کا زنا (غیر محارم کو) وکھنا ہے، اور زبان کا زنا شہوانی کلام کرنا ہے، دل آرز واور خواہش کرتا ہے
اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا متذیب کرتی ہے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی
ہے)
Narrated by Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah has decreed for the son of Adam his share of zina (adultery), and he will inevitably attain it. The zina of the eye is the gaze, the zina of the tongue is speech, the soul desires and covets, and the private part confirms it or denies it." [Agreed upon] In a narration by Muslim, he said: "Allah has decreed for the son of Adam his share of zina which he will inevitably attain. The zina of the eyes is the gaze, the zina of the ears is listening, the zina of the tongue is speech, the zina of the hands is grasping, the zina of the feet is walking, the heart desires and covets, and the private part either confirms or denies it."
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر آدمی پراس
کے زنا کا ایک حصہ دیا گیا ہے۔ جس کو وہ ضرور پائے گا، آنکہ کول کا زنا وکیفنا اور کا نول کا زنا ستا، زبان
کا زنا غفتگو ہے، بات کا زنا غیر محارم کو پیٹنا، اور دیکا زنا ناجائز مقامات کی طرف چلانا ہے، دل فریفتہ ہوتا
ہے اور آرز و کرتا ہے اور اس کی تصدیق اور متذیب شرمگاہ کرتی ہے۔
انسان اپنی تقدیر کے کچھ کے موافق عمل کرتا ہے پی
Narrated by Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah has decreed for the son of Adam his share of zina (adultery), and he will inevitably attain it. The zina of the eye is the gaze, the zina of the tongue is speech, the soul desires and covets, and the private part confirms it or denies it." [Agreed upon] In a narration by Muslim, he said: "Allah has decreed for the son of Adam his share of zina which he will inevitably attain. The zina of the eyes is the gaze, the zina of the ears is listening, the zina of the tongue is speech, the zina of the hands is grasping, the zina of the feet is walking, the heart desires and covets, and the private part either confirms or denies it."
عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ قبیلد مزینہ کے دو آدمیوں نے
عرض کیا: یا رسول اللہ! بتلا یے آنج لوگ جو پیغمبر کے پیچاون جس با کی کوشش کرتے ہیں، کیا
یہاں کی چیز ہے جو ان کی تقدیر میں مقدر ہوچکی ہے کہ اس کے موافق وہ عمل کرتے ہیں یا کیا چیز ہے
جو ان کی تقدیر میں بروز ازل نہیں لکھی گئی ہے بلکہ وہ زمانہ آئندہ میں جسیا جسیا ان کو سوچتا ہے، وہ
اپنے اختیار سے عمل کرتے جاتے ہیں اس کے بیچ کر پیلے سے ان پر مقدر ہواور نہیں کے فرما نے کے
موافق نہ کرنے سے ان پر عذاب ہوتا ہے؟ آخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! بلکہ یہ
ایسی چیز ہے جو ان کے مقدر میں لکھی چاچکی ہے اور وہ اپنی تقدیر کے کچھ کے موافق عمل کرتے ہیں
اور اس کی تصدیق کتاب اللہ کے (سورہ واشمس، پ:30، ع1، آیت نمبر:8/7) میں موجود ہے
اور وہ یہ وَنَفْسٍ وَّمَا سَوْها، فَأَلْهَمَها فُجُورَها وَتَقْوَاهَا ( قسمہ انسان کے جان کی اور اس ذات کی حس نے اس کو درست بنایا پھراس کی بدکرداری اور پرہیزگاری (دونوں باٹول) اس کو الٹا کیا )۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے )۔ اب وہ رپہ رضی اللہ عنہ کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زنا کے اندیشہ کے خصوصی ہونے کی اجازت ماگئے پر ارشاد ہوا کہ جو پڑھتم پر پیش آ نے والا ہے اس کو لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے
Narrated by Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with them): Two men from Muzayna asked: "O Messenger of Allah, do you see what the people do today and how they strive in their actions? Is it something already decreed upon them, or is it what they will do in the future, guided by what their Prophet has brought them and the proof being established upon them?" He replied: "No, it is something already decreed upon them and carried out. The confirmation of this is in the Book of Allah, the Almighty: {And by the soul and the One who balanced it and inspired it with its wickedness and its righteousness} [Ash-Shams: 7-8]." [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہا کرتے نے عرض کیا کہ: یارسول اللہ میں ایک جوان آدمی ہوں اور مجھے اپنے نفس پر زنا کا اندیشہ ہے اور میرے پاس اتنی مال نہیں ہے کہ عورت کو ست کر سکوں کیا مجھے خصوصی ہونے کی اجازت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں نے (دوبارہ) ایسا عرض کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے نفس پر زنا کا اندیشہ ہے اور میرے پاس اتنی مال نہیں ہے کہ عورت کو ست کر سکوں کیا مجھے خصوصی ہونے کی اجازت ہے (چوچھی بار) جب میں نے ویسا عرض کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ جو پڑھتم پر پیش ہو نے والا سے اس کو (کلہ کر قلم) خشک ہو چکا ہے، اب تو چاہے تو خصوصی بنے یا سخیال کو چھوڑ دے - (جو پڑھتم ہو نے والا ہے وہ تو ہو کر دے گا)۔ (امام نخاری نے اس کی روایت کی ہے )۔ تمام انسانوں کے دل رحم نے دو انگیوں کے نچ میں قلب کے مانند ہیں
Narrated by Abu Huraira (may Allah be pleased with him): I said, "O Messenger of Allah, I am a young man, and I fear for myself the trials (fitnah), and I cannot find the means to marry women." It seemed as though he was seeking permission to practice celibacy. The Prophet (peace be upon him) remained silent, then I repeated the same request, and again he remained silent. I repeated it a third time, and the Prophet (peace be upon him) then said: "O Abu Huraira, the pen has dried regarding what you are going to face, so either marry or refrain from it." [Narrated by Bukhari]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت سے کہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام آدمیوں کے دل رحم نے دو انگیوں کے نچ میں قلب 1 کے مانند ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے کہیرو دیتا ہے، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہُمَّ مُصَرِّفَ القُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنا عَلی طَاعَتِکَ"۔ ترجمہ: اے دلون کے کہیرو دین وا لے ہمارے دلون
کو پچی اطاعت کی طرف پھیر دے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)(1 قلب ایسی چیز ہے جس میں تبریہوئی رقت ہے)
ہرپڑکی پیداش فطرت لعنی اسلام پرہوتی ہے اوراس کے مالباپ
اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنالیتا ہے
Narrated by Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The hearts of the children of Adam are all between two fingers of the Most Merciful, and He turns them as He wills." Then the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "O Allah, the Turner of hearts, turn our hearts towards Your obedience." [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب کمرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: ہرپڑکی پیداش فطرت (یعنی اسلام) پرہوتی ہے اوراس کے مالباپ اس کو یہودی یا نصرانی یا
مجوسی بنالیتا ہے، جس طرح چوپا یے کے نے پیداش کے وقت کامل الاعضاء پیدا ہوتے ہیں، کیا تم
اس میں کسی وقت کا نقصان پائے ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (سورہ روم، پ:21، ع:4، آیت
نمبر:30 کی) اس آیت کو پڑھا کرتے تھے فطرت اللہ التی فطر الناس علیها، لا تبدیل
لخلق اللہ ذلک الدین القيم۔ (تم اللہ دی ہوئی قابلیت (یعنی اسلام) کا اتباع کروجس پر
اللہ نے لوگون کو پیدا کیا ہے، اللہ کی اس پیدا کی ہوئی قابلیت میں تبریہوئی رقت ہے) (بخاری اورمسلم
نے متفق طور پراس کی روایت کی ہے)۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ باٹون پرمشتمل ایک خطبہ ارشاد فرمایا
Narrated by Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There is no child born except that he is born upon the fitrah (natural disposition), and his parents make him a Jew, a Christian, or a Magian, just as cattle give birth to a full-grown offspring. Do you see any of them mutilated?" Then he recited: {This is the nature of Allah upon which He has created mankind; there is no changing the creation of Allah. That is the straight religion} [Ar-Rum: 30]. [Agreed upon]
ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کمرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ہمارے درمیان خطبہ ارشاد فرمایا جو پانچ باٹون پرمشتمل تھا، پیس فرمایا: پیشک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا ہے اور
سونا اس کے مناسب شان نہیں۔ بندول کے رزق کے ترازو کو پست کرتا ہے اوراس کو بلند کرتا ہے
(یعنی کسی پررزق تھک کرتا ہے اورکسی پرفرانگ اورہ سبب گناہوں کے بعضون کوزیل کرتا ہے اورہ
سب طاعت کے بعضون کا مرتبہ بلند کرتا ہے) اس کی جانب میں رات کے اعمال دون کے اعمال
سے پہلے اوردون کے اعمال رات کے اعمال سے پہلے پیش ہوتے ہیں، پردہ اس کا نور ہے اگر اس کو
اٹھائے تو اس کے ذات کے انوار تمام مخلوق کو جلا دیں، جہاں تک اس کے بصر کی رساۓ ہے (یعنی تمام
دنیا جس اٹھ کر خدا کی بصر کا احاطہ تمام عالم کو ہے)۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
سب کے رزق کی ترازو اللہ تعالیٰ کے باتمیں ہے کہ کسی پر کشادہ کرتے پیاور کسی پر ٹگ
Narrated by Abu Musa (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) stood among us and said five words: "Indeed, Allah does not sleep, and it is not befitting for Him to sleep. He lowers the scale and raises it. The deeds of the night are raised to Him before the deeds of the day, and the deeds of the day are raised to Him before the deeds of the night. His veil is light. If He were to remove it, the rays of His face would burn everything that His sight reached of His creation." [Narrated by Muslim]
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: اللہ کا باتھو مجرا ہوا ہے، رات دن کا بیشخرچ اس کو کم نہیں کرتا، بتلاو کے آسان و زمین کو پیا
کرنے کے وقت سے لے کر اب تک کس قدر خرچ کیا ہوگا پھر بھی اس کے باتمیں جوپچھہ ہے، اس
وقت سے کم نہیں ہوا جبکہ اس کا عرش پانی پر ہے، اس کے باتمیں (سب کے رزق کی) ترازو ہے،
اسے وہ بلند کرتا ہے اور پست کرتا ہے (یعنی کسی پر رزق تگ کرتا ہے اور کسی پر کشادہ)۔ (بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)
Narrated by Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The Hand of Allah is full; it is not diminished by the expenditure of the generous night and day. Do you not see what He has spent since He created the heavens and the earth? Yet what is in His Hand has not decreased. His Throne is upon the water, and in His Hand is the scale. He lowers and raises it." [Agreed upon]
And in a narration by Muslim: "The right hand of Allah is full."
اور مسلم کی روایت میں یہ ہے اللہ کا سید حاپتو مجرا ہوا ہے۔
مشترکین کے پیچھو عمل کرنے والے تھے اس کو اللہ نے مہتر جانتے ہیں
And in Muslim's narration it is: Allah's noblest servant has been made to walk this path. Those who follow the example of the Companions, Allah knows them well.
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
مشترکین کی اولاد کی نسبت و ریافت کیا گیا، تو ارشاد فرمایا: اللہ مہتر جانتا ہے کہ کیا عمل کرنے والے تھے،
(یعنی بہشت میں داخل ہوئے والے تھے یاد وزرخ میں۔ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے)۔ (بخاری اور
مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور پھر اس کو حکم دیا تو قلم نے
جو پچھا ہوا اور جو پچھا ابد تک ہوئے والا ہے سب کلہو دیا
When the lineage and offspring of the companions were mentioned, he said: 'Allah knows best who they were, meaning those who entered Paradise and those who entered Hell. This knowledge is with Allah alone.' (Bukhari and Muslim have narrated this.) Allah created the Pen first, then He commanded it, and the Pen wrote down whatever was decreed and whatever will be decreed until the end of time.
عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے پہلی چیز جس کو پیدا کیا وہ قلم ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
کہہ دے۔ قلم نے کہا کر کیا کہیں؟ فرمایا کہ (ہر چیز کی) تقدیر کہ دے تو قلم نے جواب دیا، اور جواب کہ
ابتداء ہوئے والاتہ سب اللہ دیا۔ (ترنمی نے اس کی روایت کی ہے)-
سورۃ اعراف کی آیت (وَاذَاخْذَرَبُكَمِنْبَنِیْآدَمْ اذْکَاتَرْجِمَہَاوَتَقْسِیمَ)
Narrated by Ubadah ibn al-Samit (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The first thing that Allah created was the Pen. He said to it: 'Write.' The Pen asked: 'What should I write?' He replied: 'Write the decree.' So, it wrote what was and what will be until the end of time." [Narrated by Tirmidhi, who said: This is a strange hadith in its chain of narration]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں باٹحوں میں دو کتابیں لے کر نگاہی میں اہل جنت کی تفصیل تھی اور دوسری میں اهل دوزخ کی تفصیل تھی، پھر حضور نے فرما یا:
مسلم بن بیارضی اللہ عنہ تے روایت سے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تے
(سورۃ اعراف، آیت نمبر:172، پ:9، ع:22،) کی آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا)
وَاذَاخْذَرَبُكَمِنْبَنِیْآدَمْمِنْظُہُوْرِہُمْذُرِیْتِہُمْوَاشْہَدْہُمْعَلَیْاَنْفُسِہِمْ،اَلْسُّ
بربکم، قالوا بلى شهدنا ان تقولوا يوم القيمة انا كنا عن هذا غفلين۔) ترجمہ:(اے
پیغمبر! لوگوں کو وہ وقت ہی یاد دلا دو) جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پشتون سے
ان کی نسلوں کو باہرنکالا، اور ان کے مقابلے میں خود ان کو گواہ بنایا (اس طرح پرکر ان سے پوچھا) کیا
میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، سب نے کہا کہ بالکہ میں سب (اس بات کے) گواہ ہیں (اور پاس غرض
سے کیا کہ اپیانہ ہو کہ کبیں قیامت کے دن) تم کہ لگو کہ تم اس بات سے بختری رہے (یعنی کسی
نہ تم سے کسی فتنہ کا عہد نہیں لیا تھا)-
"يوم الست" میں آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی ذریت کو باہرنکالا گیا ان میں سے ایک حضرت
جنہیں تھا اور وسرا دوزخی، جنہیں جنت وا لعمل پمرے گا اور دوزخی دوزخ وا لعمل پمرے گا-
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے سانے اس کے بارے میں آخرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
پوچھا جارہا تھا تو تب آپ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر ان کی پشت پر اپنا سیدھا
باتہ کچھ اور ان کی ذریت (اولاو) کو باہرنکالا، اور فرمایا کہ میں نے ان کو جنت کے لے پیدا کیا اور پی
جنہیں وا عمل کریں گے۔ پھر آدم علیہ السلام کی پشت پر با تہ کچھ اور ان کی ذریت کو نکالا اور کہا کر میں
نے ان کو دوزخ کے لے پیدا کیا۔ پھر دوزخیوں کا عمل کریں گے، پس ایک شخص نے کہا: پھر کیوں
عمل کیا جائے یا رسول اللہ! (جوہونا تھاسوہو چکا) تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ اللہ نے جب بندہ کو جنت کے لئے پیدا کیا تو اس کو جنتیوں کے کام میں لگادیا پیہال تک کر اس کی موت جنتیوں کے اعمال میں سے کس عمل پرہوگی اوراس کی وجہ سے اس کواللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دیں گے اور اللہ نے جب بندہ کودوزخ کے لئے پیدا کیا تو وہ دوزخیوں کے کام میں لگادیا پیہال تک کروہ دوزخیوں کے اعمال میں سے کس عمل پرمرے گا، اوراس کی وجہ سے اس کواللہ دوزخ میں داخل کر دیں گے۔ (اس کی روايت امام ما لك، ترمذي اور ابوداود نے کی ہے )۔
نیک اعمال کے ذریعہ اللہ کا تقریب حاصل کرتے رہو
Narrated by Muslim ibn Yasaar: Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) was asked about the verse: "And when your Lord took from the Children of Adam, from their loins, their descendants..." (Al-A'raf 7:172). Umar said: "I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) being asked about it. He said: 'Indeed, Allah created Adam, then He wiped his back with His right hand and extracted from him his descendants. He said: I have created these for Paradise, and they will act according to the deeds of the people of Paradise. Then He wiped his back again and extracted from him his descendants. He said: I have created these for Hell, and they will act according to the deeds of the people of Hell.'" A man asked: "Then what about the deeds, O Messenger of Allah?" The Messenger of Allah (peace be upon him) replied: "When Allah creates a servant for Paradise, He directs him to the deeds of the people of Paradise, so that he dies while performing the deeds of the people of Paradise, and He will admit him into Paradise through them. And when Allah creates a servant for Hell, He directs him to the deeds of the people of Hell, so that he dies while performing the deeds of the people of Hell, and He will admit him into Hell through them." [Narrated by Malik, Tirmidhi, and Abu Dawood)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب کرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں باٹحوں میں دو کتابیں لے کر نگاہ اور فرما یا تم جانتے ہو کہ یہ دو کتابیں کیا ہیں؟
تم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کے بتلانے بغیر، تم نہیں جان سکتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدے ہاتھوں کی کتاب کے متعلق فرما یا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ایک کتاب ہے اس میں جنتیوں اور ان کے باب دادا اور قبیلون کے نام ہیں اور پھر آخر میں سب کی جمل تعداد بتلا دی گئی ہے، پھر ان میں نہ کچھ اضافہ کیا جا سکتا اور نہ کچھ کمی، پھراس کتاب کی نسبت جواب میں بتہیں تھی فرما یا: رب العالمین کی طرف سے ایک کتاب ہے اس میں دوزخیوں اور ان کے آباء وقبائل کے نام ہیں جس کے آخر میں سب کی جمل تعداد درج کردی گئی ہے ان میں نہ کچھ اضافہ کیا جا سکتا اور نہ کچھ کمی، پھر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! پھر عمل کیون کیا جائے، جب کر معاملہ اپنا ہے کہ اس سے فراغت ہوچکی ہے؟
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: افراط و تفریط کے بغا عمل کے پابند رہو، اور نیک اعمال کے ذریعہ
اللہ کا تقرب حاصل کرتے رہو، اس لے کر جنت کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوگا خواہ اس نے کیسا ہی عمل کیا ہو، اور دوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے عمل پر ہوگا اگر چھکر اس نے کیسا ہی عمل کیا ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا وہ اس طرح کر آپ نے ان کو پیچھے پیچھے ذوال دیا (یعنی یا ایام رہے کہ جس سے فراخت ہوچکی) پھر فرمایا: تمہارا رب بندرول سے فارغ ہوگیا، ایک گروہ جنت کے واسطے اور ایک گروہ دوزخ کے واسطے۔ (اس کی روایت تزدی نے کی ہے)۔
دعائے واسع اللہ کی تقدیر ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them): The Messenger of Allah (peace be upon him) came out with two books in his hands. He said: "Do you know what these two books are?" We replied: "No, O Messenger of Allah, except that you inform us." He said to the one in his right hand: "This is a book from the Lord of the Worlds, containing the names of the people of Paradise and the names of their fathers and their tribes. It has been sealed at the end of the list, and no one can be added or removed from it." Then he said to the one in his left hand: "This is a book from the Lord of the Worlds, containing the names of the people of Hell and the names of their fathers and their tribes. It has been sealed at the end of the list, and no one can be added or removed from it."
ابوخرز امرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ میرے والد نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ بتلا ئے کہ میںترز (یعنی دعا کیسے) جتن کو تم پڑھواتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جتن کو تم استعمال کرتے ہیں، اور وہ حفاظت کی چیزیں جتن کے ذریعے سے تم اپنا پچاو کرتے ہیں کیا یا اللہ کی تقدیر کو فرغ کر سکتے ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ یہ تمام چیزیں اللہ کی تقدیر ہے۔ (اس کی روایت امام احمد، تزدی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
چھلی امتیاز تقدیر کے بارے میں بحث کرنے سے پلاک ہوتی ہے۔
Narrated by Abu Khuzamah, from his father (may Allah be pleased with him): I said: "O Messenger of Allah, what do you think about the ruqyah (incantations) we use to seek healing, the medicines we use, and the precautions we take, do they prevent any of Allah's decree?" The Prophet (peace be upon him) replied: "They are part of Allah's decree." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Ibn Majah)
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ اخفرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے برآمد ہوئے اور تم اس وقت تقدير کے بارے میں بحث کر رہے تھے، پس آپ غضبنے کے ہوگئے حتی کہ چہرہ مبارک سرخ ہوگیا گویا آپ پے رخسارول پرانار کے دانے توڑ کر پھوڑ دیے گئے ہیں، فرمایا: کیا تم کو اسی کا حکم دیا گیا ہے یا تمہیں کوئی چیزیں دے کر بجاگیا ہے، تم سے پہلے کے لوگ جب ان باٹول پر جھگڑے نے گے تو پلاک ہوگئے، میں تمہیں فتنہ دیتا ہوں، میں تمہیں فتنہ دیتا ہوں کہ تقدیر کے معاملہ میں بحث مت کیا کرو۔ (تزدی نے اس کی روایت کی ہے)۔
انسان کے رنگ اور مزاج کا اختلاف متی کے اختلاف کی وجہ سے ہوا کرتا ہے
Narrated by Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) came out to us while we were disputing about the matter of Qadr (divine predestination). He became angry until his face turned red, as if pomegranate seeds had been crushed in his cheeks. He said: "Was this what you were commanded to do, or was this the message I was sent to you with? Indeed, those who came before you were destroyed when they disputed over this matter. I command you, I command you not to dispute over it." [Narrated by Tirmidhi]
ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے، کہ جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ایک ایسی مشت خاک سے پیرا کیا جس کو ہر طرح کی زمین سے لیا تھا، اللہذا آدم علیہ السلام کی اولاد زمین کے موافق پیرا ہوتی، جن میں چند سرخ رنگ والے، چند سفید، چند کالے، اور چند سانووالے، اور چند زرمزرانج، اور چند سخت مزاج، اور چند برے اور چند اچھے ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداود نے کی ہے)-
انسان کی بدایت اور مراہی کا سبب کیا ہے؟
Narrated by Abu Musa (may Allah be pleased with him): I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Indeed, Allah created Adam from a handful He took from all of the earth. Therefore, the children of Adam came according to the earth: some are red, some white, some black, and some are between that. Some are easy-going, some are harsh, and some are good, and some are bad." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Abu Dawood)
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہوئے سنا کہ اللہ نے اپنی مخلوق کو تار کی میں پیرا کیا، پھراس پر اپنا پچھنوڑو لا حس کواس نور کی پکھروشنی میں اس نے سیدہاراستہ پایا اور جس پر پردہ نہیں پڑی وہ گراہ ہوگیا، پس اس لے میں کہتا ہوئے قلم اللہ کے علم پر خلف ہوچکا ہے جیسے اس کی تقدیر میں کسی وقت کی تبدیلی نہیں ہوگی، جوہوں ا سے وہ کہا جاچکا ہے۔ (اس کی روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے)-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاے اکثریہ واکرتی کہتے اے دولت کے پیہر نے وا لے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ
I heard the Messenger of Allah ﷺ say that Allah has made a path for His creation, and whoever follows this path will find it straight and firm, and whoever deviates from it will fall into ruin. Therefore, whoever goes against the knowledge of the Pen of Allah has already gone astray, as there will be no change in what is decreed for him, and whatever has been said about him will come to pass. The Messenger of Allah ﷺ often used to pray, 'O Allah, keep my heart firm on my religion.'
انس رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرما کرتے تھاے دولت کے پیہر نے وا لے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آپ پراورآپ کی لائی ہوئی باتوں پر ایمان لائے، کیا آپ کو تم پر پکھا اندیشہ ہے، فرما یا: بال! دل اللہ کی انگیون میں سے دو انگیون کے درمیان ہیں، وہ جس طرح چاہتا
بھان کو پیہر دیتا ہے۔ (اس کی روایت ترجمہ اور ابن ماجہ نے کی ہے)-
انسان کا دل ایک پرکے مانند ہے جو کہ میدان میں پڑا ہو
Narrated by Anas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) used to frequently say: "O Turner of hearts, make my heart firm upon Your religion." I said: "O Prophet of Allah, we have believed in you and in what you have brought. Do you still fear for us?" He replied: "Yes, indeed, the hearts are between two fingers of Allah's fingers, He turns them as He wills." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: دل کے مثل ایک پرکے مانند ہے جوز مین کے کتل میدان میں ہو جس کو ہوا کی ط پلت
کرتی رہتی ہے- (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)-
وہ چار باتیں جن کے بغیر موسی، موسی نہیں
Narrated by Abu Musa (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The example of the heart is like a feather on a barren land, which the winds turn over, from front to back." [Narrated by Ahmad]
علی رضی اللہ تعالیٰ علیہ روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: کوئی بندہ چار باتوں پر ایمان لائے بغیر مومین نہیں ہوسکتا- (1) گو، ای وے کر اللہ کے سوا
کوئی معبود نہیں، اور (2) میں خدا کا رسول ہوں، مجھے دین حق دے کر مبعوث فرمايہے، (3)
موت پر اور مرنے کے بعد زندہ ہو نے پر ایمان لائے اور (4) تقدیر پر ایمان لائے- (اس کی
روایت ترجمہ اور ابن ماجہ نے کی ہے)-
دوگروہ کا اسلام میں کوئی حصر نہیں: ایک مر جتنے دور سے قدریہ
Narrated by Ali (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A servant does not believe until he believes in four things: he bears witness that there is no god but Allah, and that I am the Messenger of Allah, who was sent with the truth, and he believes in death, in resurrection after death, and in predestination." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ علیہما روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کے دوگروہ کے لئے اسلام میں کوئی حصر نہیں- (1) ایک
مرجعہ (عمل کو بہتر بنانے والے) اور (2) دوسرے قدریہ (تقدیر کا انکار کرنے والے)- (ترجمہ
نے اس کی روایت کی ہے)-
ف: قدر پیوہ فرق ہے جو تقدیر کا منکر ہے، پیکہ ہیں کر افعال بنداول کے پیدا کر ہو ہیں
، خودان کے اختیار سے ہیں اور اللہ کی قدرت سے نہیں-
قدر پیاور مر جتنے کون ہیں؟
مرجہ سے مراد فرقہ جبریہ ہیں اس باب کے قائل نہیں اور ان کے پاس بنے کی طرف فضل کی
نسبت ایسی ہے جیسے کر فعل کی نسبت جمادات کی طرف کی جائے۔ لہیتن بندہ محض باختیار ہے۔
منکرین تقدر پزہسف اورخ ہوگا
Narrated by Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Two groups from my Ummah have no share in Islam: the Murji'ah and the Qadariyyah." [Narrated by Tirmidhi, who said: This is a strange Hadith]
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہا کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
فرما تے ہوئے سنا کہ میری امت میں خسف (زیین میں واقعہ) اورخ (صورت کا بدلا جانا) ہوگا
کرے گا اور پیالوگوں کے ساتھ ہوگا جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی
ہے اور ترمذی کی روایت میں اس طرح ہے)-
قدر پیاس امت کے موس ہیں
Narrated by Ibn Umar (may Allah be pleased with him): I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "In my Ummah, there will be earthquakes and transformations, and that will be among those who deny the predestination." [Narrated by Abu Dawood, and Tirmidhi reported something similar]
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قدر پیاس امت کے موس ہیں اگروہ پیار ہو جا یس تو ان کی عیادت مت
کیا کرو، اور اگروہ مر جا یس تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو۔ (اس کی روايت امام احمد اور
ابوداود نے کی ہے)-
منکرین تقدر پے کس وقت کا برتا کیا جائے
Narrated by Ibn Umar (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The Qadariyyah are the Magians of this Ummah. If they fall ill, do not visit them, and if they die, do not attend their funeral." [Narrated by Ahmad and Abu Dawood]
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ تقدر پے انکار کرنے والوں کی صحبت اختیار مت کرو، اور فیصلہ کے لیے تم ان کو حاکم مت
باناو۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے)-
وہ چھ آدمی کون تھے جن پر اللہ تعالیٰ اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
اور ہر مستجاب الدعاء نبی کی لعن کی تھی
Do not keep company with those who deny predestination, and do not appoint them as judges. (This is narrated by Abu Dawud.) - Who were those six people upon whom Allah and the Messenger of Allah ﷺ, and every supplication-answering prophet, had cursed?
عاشر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: چھ آدمی ہیں جن پر میں نے اور اللہ تعالیٰ اور ہر نبی کی دعا مقبول کی لعن کی تھی
(1) اللہ کی کتاب میں زیادتی کرنا والا (2) اللہ کی تقذیر کو جعل کرنا والا (3) جبر و طاقت سے حکومت
حاصل کرنا والا کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے لیل کیا جائے عزت دے اور جس کو اللہ تعالیٰ عزت دی ہے اس
کو چیل کرنا (4) جس چیز کو اللہ تعالیٰ حرم کر دیا ہے ان کو حلال قرار دینا
و لا (5) میری اولاد کو ایسے اپنے پاس لا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور (6) میری سنن کو
چھوڑ دینے والا - (یہی تو نہ مخلی میں اور زیں میں اپنی کتاب میں اس کی روایت کی ہے)-
ف: اگر ستی اور کاملی سے سنن کو چھوڑ دے تو گناہ کار ہوگا اور اگر کوئی بطور تحقیق سنن کو چھوڑ دے
تو کافر ہے، لعن میں دونوں شمار کی جاتی ہیں، پہلے پر تنبیہاً لعن ہوتی ہوگی اور دوسرا پر حقیقتاً لیکن
احياناً اگر سنن ترک ہوتے گنہگار ہیں جو تاگر بھی برآہے-
جس کو جس سرز میں پر مرنا ہے وہ وہیں جا کر مرے گا
Narrated by Aisha (may Allah be pleased with her): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Six people I have cursed, and Allah has cursed them, and every Prophet has prayed against them: the one who adds to the Book of Allah, the one who denies Allah's predestination, the one who rules with arrogance to honor those whom Allah has humiliated and humiliate those whom Allah has honored, the one who makes lawful what Allah has made unlawful, the one who makes unlawful what Allah has made lawful from my family, and the one who abandons my Sunnah." [Narrated by al-Bayhaqi in Al-Madkhal and Razin in his book]
مطر بن عکامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ تھیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی بندے کی موت اللہ تعالیٰ کسی سرز میں پر مقرر فرمادیتے ہیں تو اس
بندے کی کسی حاجت کو اس سرز میں سے متعلق کردیتے ہیں اور وہ وہیں جا کر مر جاتا ہے- (اس کی
روايت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے)-
ہر پیہ پیدا ہش کے وقت اسلام کی قابلیت پر پیرا ہوتا ہے
Narrated by Matar bin Ukkamis (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Allah decrees that a servant will die in a land, He will create for him a need to go there." [Narrated by Ahmad and Tirmidhi]
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ میں پیدائش کے وقت اسلام کی قابلیت ہوتی ہے پھراس کواس کے مال بپ،
یہودی اور نصرانی بنایا جاتا ہے، وریافت کیا گیا کہ یارسول اللہ! اگر کوئی بچہ میں مر جاتے تو حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ (امام ابو حنیفہ رحمۃ
اللہ علیہ نے اس کی روایت کی ہے)-
ہر بندے کے متغلق 5 با تم ایسی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ فارغ ہو چکے ہیں
Narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Every child is born with a natural disposition (fitrah), and then his parents make him a Jew or a Christian." It was asked: "What about those who die as infants, O Messenger of Allah?" He replied: "Allah knows best what they were doing." [Narrated by Imam Abu Hanifa]
ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر بندے کے متغلق پانچ باٹول سے فارغ ہو چکا ہے: ایک اس کی مدت حیات، دوسرا
اس کا عمل نک و بد، تیسرا اس کا تحقاند (یعنی قبر کہاں ہوگی)، چوتھا اس کا انجام (یعنی جنت یا جوگا یا
دو نچی)، پا چووال اس کا رزق (تحوز ارب گا یازیادہ رہ گا)- (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)-
تقدری کے مستند میں جوہی کلام کیا جاتے گا اس پر باز پرس ہوگی
Narrated by Abu Darda (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah, the Mighty and Majestic, has decreed for every servant the following five things: his lifespan, his deeds, his place of death, his legacy, and his provision." [Narrated by Ahmad]
عاشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تقديری کے بارے میں جو پچھچہی کلام کرے گا اس سے اس
کے متغلق قیامت میں سوال کیا جاتے گا اور جو شخص تقديری کے بارے میں کلام نہیں کرے گا اس سے
اس بارے میں سوال نہ ہوگا- (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)-
تقدیر پر ایمان کے بغیر نہیں عمل قبول نہیں ہوتا اور نہ نجات ممکن ہے
Narrated by Aisha (may Allah be pleased with her): I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Whoever speaks about anything related to predestination will be questioned about it on the Day of Judgment, and whoever does not speak about it will not be asked about it." [Narrated by Ibn Majah]
ابن دیلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں اپنی بن کعب
رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا کہ تقديری کے بارے میں میرے دل میں پچھتر دوبہ
آپ اس کے متغلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرما ئے شاند کہ میرے دل کا تردد
اللہ تعالیٰ کے پچھوٹے فرزندوں کو عذاب
میں بھٹلا کر دے تو وہ ان پر طالم نہیں ہوگا اور اگر ان پر رحم فرما لے تو اس کی رحمت ان کے عمل سے بہتر
ہوگی، اگر تم کوہ احکی مقدار میں سونا راہ خدا میں خرچ کرو تمے اللہ قبول نہیں فرما لے گا تو قتیگہ تم
تقدیر پر ایمان نہ لااور لیقین رکھو کہ جو چیز تم کوپہنچتی ہے وہ تک والی نہیں اور جو چیز تم کوپہنچنے
والی نہیں، اگر تم اس کے سوا دوسرے اعتقاد پر مر جا تو دوزخ میں داخل ہو گے۔ پھر میں عبد اللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے باکل وی بات فرمائی جواب میں کعب رضی
اللہ عنہ نے فرمائی کہ، پھر حذیفہ ابن میان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا تو انہوں نے مجھے بھی کہا، پھر
میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح
کی حدیث بیان کی۔ (اس کی روایت امام احمد، ابو داوداور ابن ماجہ نے کی ہے)-
منکر یں تقعر پڑھسف، مسخ اور قد ف ہوگا
Narrated by Ibn al-Dailami: I went to Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) and said: "Something related to predestination has occurred in my heart, so tell me something that might remove it from my heart." He said: "If Allah, the Mighty and Majestic, were to punish the inhabitants of His heavens and the inhabitants of His earth, He would punish them, and He would not wrong them. And if He had mercy on them, His mercy would be better for them than their deeds. If you were to spend a mountain of gold in the way of Allah, He would not accept it from you until you believe in predestination and know that whatever befalls you could not have missed you, and whatever missed you could not have befallen you. If you were to die without this belief, you would enter Hell." I then went to Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him), and he said something similar. Then I went to Hudhayfah ibn al-Yaman (may Allah be pleased with him), and he said something similar. Then I went to Zayd ibn Thabit (may Allah be pleased with him), and he narrated to me from the Prophet (peace be upon him) something similar. [Narrated by Ahmad, Abu Dawood, and Ibn Majah]
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص ابن عمر رضی
اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوااور کہا کر فلال شخص نے آپ کوسلام کہلا کیجیاہے، آپ نے فرمایا
: مگر یا طاع ملی ہے کہ اس نے دین میں کیا بات پیدا کر لی ہے، اگراس نے وقت ایسا کیاہے تو اس کو
میرے سلام کا جواب نہ پینچا چکیوں کر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہوئے سناتا ہے کہ
میری امت یا اس امت میں حسف (ز میں میں دھنسنا) اور مسخ (چھرہ کا بدل جانا) یاقد ف (پھڑ کا
برسا یا جانا) ہوگا اور یا اس قد ر (منکر یں تقعر) کے لئے ہوگا۔ (اس کی روایت ترمذی، ابو داوداور
ابن ماجہ نے کی ہے)-
مسلمانوں کے پچھوٹے فرزندوں کو عذاب
Narrated by Nafi': A man came to Ibn Umar (may Allah be pleased with him) and said: "So-and-so sends you greetings." Ibn Umar replied: "I have heard that he has committed an innovation (bid'ah). If he has done so, do not convey my greeting to him. I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'There will be in my Ummah (or in this Ummah) an earthquake, transformation, and a stone-throwing for the people of Qadar.'" [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawood, and Ibn Majah while Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Gharib Hadith."]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: مسلماون کے نچے جنت میں رہیں گے، ان کی پرورش (سیدنا) ابراہیم علیہ السلام فرما کیں
گے۔ (اس کو حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے)۔
حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش پرساری نسل انسانی کا آپ کی پشت سے نکل پڑنا
Narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The descendants of the believers in Paradise will be taken care of by Ibrahim (peace be upon him)." [Narrated by Al-Hakim in "Al-Mustadrak"]
_ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو
پیرا کیا تو ان کی پشت پر باتھ پچھرا تو آدم علیہ السلام کی پشت سے وہ تمام روحین نکل پڑیں جن کو اللہ
تعالی آدم علیہ السلام کی ذریعت میں قیامت کے پیدا کرنے والے تھا اور ان میں سے برانسان کے
دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی چک طاہر کی (یہ چک فطرت اسلام کی تھی جس کا ذکر پہلے گزر چکا
ہے) پھر ان سب کو آدم علیہ السلام کے سامنے لا یا، آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب یہ کون ہیں؟
فرمایا: یہ تمہاری اولاد ہیں۔ آدم علیہ السلام نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تو اس کے دونوں
آنکھوں کے درمیان
داود علیہ السلام کی خصوصیت
کی چک آپ کو پسند آئی، کہا اے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ داود علیہ السلام ہیں، آدم
علیہ السلام نے دریافت کیا کہ ان کی عمر کس قدر رہے؟ فرمایا: ساٹھ سال، آدم علیہ السلام نے کہا! اے
رب میری عمر میں سے چالیس سال داود علیہ السلام کی عمر میں زاڈفر مادے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی ملک الموت سے بحث
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدم علیہ السلام کی عمر میں صرف چالیس سال رہ گئے تو
ان کے پاس ملک الموت آے تو آدم علیہ السلام نے کہا: کیا میری عمر سے چالیس برس ابھی باقی نہیں
ہیں؟ ملک الموت نے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے اپنے فرزند داود علیہ السلام کو اپنی عمر سے
سال دیے ہیں۔ آدم علیہ السلام نے انکار کیا (یعنے انسان کی وجہ سے نفاذ کے عناوی وجہ)
تو ان کی ذریعت نہ جھی انکار کیا۔
جبول اور خطا انسان کو حضرت آدم علیہ السلام سے تزکری میں لے پین
اورآدم علیہ السلام بجول گے اور درخت (ممنوع) کو تادل کر لے تو آپ کی ذریعت نہ جی بجول کے
گئی اورآدم علیہ السلام نے خطا کی، تو ان کی ذریعت نہ جی خطا کرتی ہے - (اس کی روایت ترندي نے کی
سے)-
آدم علیہ السلام کی اولاد میں جنتی اور جہنمی کون ہیں؟
Narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Allah created Adam, He wiped his back, and from his back fell every soul that He would create from his descendants until the Day of Judgment. He placed between the eyes of each of them a light. Then He displayed them to Adam. Adam said: 'O Lord, who are these?' Allah replied: 'These are your descendants.' He saw a man among them and was impressed by the light between his eyes. Adam said: 'O Lord, who is this?' Allah replied: 'This is Dawood.' Adam said: 'O Lord, how long did You decree his life to be?' Allah said: 'Sixty years.' Adam said: 'O Lord, increase his life by forty years from mine.'" (The narration continues in the original text, explaining how the matter is resolved regarding the extension of Dawood's life.)
The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Adam's life came to an end, except for forty years, the Angel of Death came to him. Adam said: 'Hasn't there remained forty years of my life?' The angel replied: 'Did you not give it to your son Dawood?' Adam denied it, and his descendants also denied it. Adam forgot, and his descendants forgot. Adam made a mistake, and his descendants made a mistake." [Narrated by Tirmidhi]
ابودردا ئ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور جس وقت ان کو پیدا کیا تو ان کے سید کے
موٹے ہے پراکی ضرب لگائی، اس سے ان کی نورانی اولاد کون کلا جو چونیوں کی طرح تقی اور باشیں
کندے ہے پراکی ضرب لگائی اور سیاہ اولاد کون کلا جو کوئلے کے ماں دے تقی پس اللہ تعالیٰ نے سید کے طرف
والول کے متتعلق فرمایا کہ تقی یہ اور مجھ کونی پرواہ نیں اور باشیں جانب والول کی نسبت فرمایا: تقی جہنمی
پی اور مجھ کونی پرواہ نیں -(اس کی روایت امام احمد نے کی سے)-
ایک صحابی کا بستر مرگ پر تقدر رواںی حدیث کو یاد کر کے بیقرار ہونا
Narrated by Abu Darda (may Allah be pleased with him), from the Prophet (peace be upon him): "When Allah created Adam, He struck his right shoulder, and from it He brought forth a white progeny, like grains of sand. Then He struck his left shoulder, and from it He brought forth a black progeny, like masses of charcoal. He said to the ones on the right: 'To Paradise, and I do not care.' And He said to the ones on the left: 'To the Fire, and I do not care.'" [Narrated by Ahmad]
ابنضر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت سے انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے ایک صحابی جن کا نام ابو عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے، ان کی عیادت کے لیے ان کے چند
اصحاب آئے اور وہ روزہ تھے، دوستوں نے کہا: کیوں روزہ ہو؟ کیا تم کرسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ تم اپنی برطی بهوتی موچھوں کوتر شوارو، اور اس پرقامت رہو مجھے سے ملتے کے، ابو
عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بلال! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتے کہ اللہ عزوجل نے اپنے سید کے باعث ایک تقی اتحالی اور
دوسری مشہدی دورے باتوں میں اور فرمائی: یاس کے (جعفر جنت) کے لئے اور یاس کے (جعفر دوزخ) کے لئے اور مجھے کسی کی پرواہ نہیں، اور مجھے علم نہیں کہ مین کس مشہدی میں ہوں - (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)-
میدان عرف میں اللہ تعالیٰ کا تمام اولادآدم علیہ السلام سے اپنے رب ہونے پر عہد و قرار کالیا تاکر قیامت میں جگہ ذکریں
Narrated by Abu Nadrah (may Allah be pleased with him): A man from the companions of the Prophet (peace be upon him), known as Abu Abdullah, was visited by his companions while he was crying. They asked him: "Why are you crying? Did not the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Take from your beard, and keep it until you meet Me'?" He replied: "Yes, but I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Indeed, Allah, the Blessed and Exalted, took one handful of creation with His right hand, and another with His other hand, and He said: 'This is for this, and this is for that, and I do not care.' I do not know which of the two handfuls I am in.'" [Narrated by Ahmad]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ حکم آپ نے فرمایا کہ نعمان لیعنی میدان عرف میں اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کی پشت سے عہد لیا وہ اس طرح کہ آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی تمام ذریت کونکلا جس کواس نے پیدا فرمایا ہے اور آدم علیہ السلام کے سامنے ان سب کو چیونیوں کے ماںند پھیلا دیا، پھران تمام کے روبرو گفتگو کی اور کہا "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" سب نے کہا: کیوں نہیں، آپ ضرور ہمارے رب ہیں، (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: میں نے تم سے اس لئے گواہی لی ہے کہ تم قیامت میں پینے کہہ دو کہ تم اس سے پہلے، یا پیشہ کہہ دیا کہ ہمارے آباء و اجداد نے تم سے قبل شرک کیا تھا اور تم تو ان کے بعد پیدا ہوئے اور ان کی اولاد ہیں، کیا آپ تم کو باطل کام والوں کے عمل کی وجہ سے بلاک کروئیں گے؟
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)-
یوم میثاق میں اللہ تعالیٰ کے رب اور معبد ہونے پرتام انسانوں کا اقرار زاوراس اقرار پر آسانوں اور زمینوں اور آدم علیہ السلام کو گواہ بنانے کی تفصیل اور انہیں علیہم السلام کی خصوصیت
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Allah took the covenant from the back of Adam at Namaan (meaning Arafat) and He brought forth from his loins all his descendants, scattering them before him like grains of sand. Then He addressed them saying: 'Am I not your Lord?' They replied: 'Yes, indeed!' He said: 'Do not say on the Day of Resurrection: "We were unaware of this," or "Our forefathers before us associated others with You, and we were their descendants. Will You destroy us for what the wrongdoers did?"' (Surah Al-A'raf: 172-173)" [Narrated by Ahmad]
أبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (سورۃ اعراف، آیت نمبر:172، پ:9،
ع:22، ل )اس آيت کے بارے میں روایت ہے وَاذَاخْذَرُبْکَمِنْبَنِىٰاَدَمِمِنْ
ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَتَهُمْ، ( اے پیغمبر لوگوں کو ہ وقت کہیااورلاو، جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم
لیئن ان کی پشت سے ان کی نسلوں کو باہرنکالا )-
حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کو مج فرمایا اور ان کو مختلف گروہ
مین منقسم کیا ( لیئن غنی وفقیراور نیک وبد ) چھران کو صورت عطا فرمائی اور ان کو کیا تو انہوں نے کہنا شروع
کیا، چھران سے عہد و پیمان لیا اور خود ان کوالن، ی پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہول؟ تو ان سب نے
کہا: کیول نہیں! پیشک آپ ہمارے رب ہیں، اللہ تعالی نے فرمایا: میں تم پرساؤں آسامون اور ساتوں
زمینوں کو گواہ رکتا ہول اورتمہارے بابآدم کو جس تم پر گواہ بناتا ہول تاکہ قیامت کے روز تم پینہ کہہ سکو کہ تم
کواس کا علم نہ تھا، لیقین رکھو کہ میرے سوا کوئی معزود نہیں ہے اور نہ میرے سوا کوئی تمہارا پروردگار ہے اور
میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، میں تمہارے پاس اپنے رسولوں کو بھجوں گا جو تم کو میرا یعهد و پیمان یاد
دلاتے رہیں گے اورتمہارے لیے اپنی کتابیں نازل کرلن گا۔ ان سب نے کہا: تم گواہی دیتے ہیں
کر آپ ہمارے رب ہیں اور ہمارے معزود ہیں، آپ کے سوا کوئی ہمارا رب نہیں اور نہ آپ کے سوا
کوئی ہمارا معزود ہے، سب نے اس کا قرار کر لیا اور آدم علیہ السلام کوان تمام پربند فرمایا کہ سب کو کیہ
لیس تو آپ نے دیکھا کر اس میں کوئی توگرہے اور کوئی محتجج او رکوئی خوبصورت ہے اور کوئی بدشکل،
آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب! سب بندر ول کو آپ نے برابر کیوں نہیں کیا، اللہ تعالی نے فرمایا:
میں چاہتا ہول کہ میرا شکر ادا کیا جائے، آدم علیہ السلام نے ان انبیاء (علیہم السلام) کو چراگوں کی
مانند (روشن) دیکھا جتن پرنور تھا اوروہ ایک دوسرے سے خصوصی معہد رسالت اور نبوت سے مخصوص
کہ گے اوریا اللہ کے اس قول (سورہ احزاب، پ:21، ع:1، آیت نمبر:7،) میں نذکور ہے، وہ یہ
وَاذَاخْذَنَا مِنَ النَّبِّينَ مِیثَاقُهُمْ وَمِنكَ وَمِنْنُوحٍ وَإِبْرَهِیمَ وَمُوسَى وَعِیْسَى
ابن مریم (اس وقت کویاد کر وجب کہ تم نے تمام انبا علیا وآپ سے جس اور حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ اورعیسی بن مریم علیہم السلام سے بھی )اورعیسی علیا السلام کی روح بھی ان کی میں تھی جس کومریم علیہا السلام کے پاس بجا آبی بن کعب رضی اللہ عنہ حدیث بیان کی گئی ہے کر عیسی علیا السلام کی روح مریم علیہا السلام کے منہ سے داخل ہوتی –(اس کوامام احمد نے روایت کیا ہے )– پہارا پی جلد سے بہت سکتا ہے لیکن انسان اپنے پیراٹ او صاف سے نہیں بہت سکتا خدمت میں آمدہ ہونے والی باتوں کا تذکرہ کر رہے تھے کر آخ ضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جب تم یسنوا کوئی پہارا پی جلد سے بہت گیا تو اس کی تقصد قدر کرو، اوراگر یسنوا کوئی شخص اپنے پیراٹ او صاف سے بہت گیا تو اس کی تقصد قدر کرو، اس لئے کروہ پہراٹ طرف لوٹ جائے گا جن (صفات) پروہ پیدا ہوائے –(اس کوامام احمد نے روایت کیا ہے )– حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوزہردا لی ہوتی بگری سے تکلیف اس وقت کسی جاچکی تھی جب کرآدم علیہا السلام اپنی نخبر میں تھے
Ubayy bin Ka'b (may Allah be pleased with him) said about the verse of Allah: "And when your Lord took from the Children of Adam, from their loins, their descendants" (Surah Al-A'raf: 172), that Allah gathered them, turned them into spirits, and then He formed them. He made them speak, and they responded. Then Allah took the covenant and the oath from them and made them testify upon themselves: "Am I not your Lord?" He said: "I will bear witness to you, the seven heavens and the seven earths, and I will also bear witness to your father, Adam, that you will not say on the Day of Judgment: 'We were unaware of this.' Know that there is no deity except Me, and no Lord other than Me, and do not associate anything with Me. I will send My messengers to remind you of My covenant and oath, and I will send down My books upon you." They said, "We bear witness that You are our Lord and our God. There is no Lord for us other than You, and no God for us other than You." They acknowledged this, and Adam looked at them. He saw the rich and the poor, those of good appearance and others less so. Adam then said, "My Lord, why did You not make all of Your servants equal?" Allah replied, "I loved to be thanked." Then Adam saw the Prophets among them, shining like lamps, with light upon them. They were chosen with another covenant in the message and prophethood. This is as Allah, Blessed and Exalted, said: "And when We took the covenant from the Prophets..." up to His saying, "And Jesus, the son of Mary" (Al-Ahzab: 7). These souls were present, and He sent them to Maryam (Mary). It is narrated from Ubayy that he entered through her. [Narrated by Ahmad]
Imam Ahmad has narrated this: A mountain can be moved by water, but a person cannot be moved from his nature and purity. They were discussing matters that arose in service until they came to the point where the Prophet ﷺ said, 'When you see a mountain being moved by water, consider it a great wonder; and if you see a person being moved from his nature and purity, consider it a great wonder, for he will return to the qualities that he was born with.' Imam Ahmad has narrated this: The Prophet ﷺ was suffering from the discomfort of a fever when he was in the house of Umm Salama (RA).
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ انہوں نے کہا کرآے اللہ کرسول آپ کو برسال زہردا لی ہوتی بگری کی تکلیف ہوتی رہتی تھے جس کا کوشش (ایک یہودی نے آپ کوخبر میں کہلا دیا تھا )اورآپ نے اس کوتناول فرمایا تھا، فرمایا : مجھے اس بگری سے جو تکلیف پچی ہے وہ میرے لئے کسی جاچکی تھی جب کرآدم علیہا السلام اپنی نخبر میں تھے ( ابن ماجہ نے اس کی روایت کی ہے )–
Narrated by Umm Salama (may Allah be pleased with her): She said, "O Messenger of Allah, do you still suffer pain every year from the poisoned sheep that you ate?" He replied: "Nothing has harmed me from it except what was destined for me, while Adam was still in his clay." [Narrated by Ibn Majah]