Nūr al-Maṣābīḥ
کتاب العتق

Emancipation
Volume 6 · Emancipation

آزاد کرنا کا بیان

To emancipate captives

فاقتحم العقبه وما ادراك ما العقبه فك رقب او اطعام في يوم ذي مسغب يتيما ذا مقرب او مسكينا ذا مترب

(سورۃ البلد، آیت نمبر:16-11)

تم اس حالی سے بھوکنے والے کسی غلام کو زاد کرنا اور تم کو کیا معلوم حالی کیا ہے؟

جو آدمی کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے

صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے بر عضو کے بدلا اس کے اس عضو کو وزیر کی آگ لے سے آزاد کرے گا۔

O people, what do you know about the state of a slave who is being fed? The one who frees a Muslim slave, may Allah's peace and blessings be upon him, has said: Whoever frees a Muslim slave, Allah will save that person from the Fire of Hell, freeing a part of his body for each part of the slave he has freed.

4604

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ

1(قولہ: "وما أدراك ما العقبة۔ فک رقبۃ") تم کو کیا معلوم حالی کیا ہے۔ گردان چھڑانا

(غلامی، قید و بندے آزاد کرنا)-شریعت نے اس آیت کریم کے ذرائع غلام کو آزاد کرنے کی ترغیب دی ہے-مبسوط)

2(قولہ :"من اعتق رقبة مسلمة") (جو آدمی کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے گا) اس حدیث شریف سے پیشہ برہ کہ مسلمان کو آزاد کرنا کافر کو آزاد کرنے سے افضل ہے اور سارے علماء کا بھی قول ہے جتنی اس میں اختلاف نہیں ہے کہ کافر غلام کو آزاد کرنے والے کو بھی غلام آزاد کرنے کا ثواب مل گا۔ لیکن اس کا ثواب مسلمان غلام کو آزاد کرنے کی طرح نہیں ہے۔ مسلمان ہونے کی قدر اس کے لگائی گئی تاکر اس کو زیادہ سے زیادہ ثواب لے-(عمدۃ القاری، نیل الاوطار، مرقات)

تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے اس عضو کو وزر کی آگ سے آزاد کرے گا۔

پہال تک کاس کی شرمگاہ کواس کی شرمگاہ کے بدلے - (بخاری، مسلم) -

فدیہ حتم سے پچھتا رے کا ذر پیمہ ہے

It is narrated from Sayyiduna Abu Hurairah (RA) that he said: The Messenger of Allah ﷺ said:

May Allah, the Exalted, free his every limb from the Fire of Hell in exchange for the shame of each of his limbs. The regret of the one who turns back from the path of truth is like the regret of the one who has lost everything.

1(قوله: "وما أدراك ما العقبة۔ فک رقبۃ") تم کو کیا معلوم حالی کیا ہے۔ گردان چھڑانا

(غلامی، قید و بندے آزاد کرنا)-شریعت نے اس آیت کریم کے ذرائع غلام کو آزاد کرنے کی ترغیب دی ہے-مبسوط)

2(قولہ :"من اعتق رقبة مسلمة") (جو آدمی کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے گا) اس حدیث شریف سے پیشہ برہ کہ مسلمان کو آزاد کرنا کافر کو آزاد کرنے سے افضل ہے اور سارے علماء کا بھی قول ہے جتنی اس میں اختلاف نہیں ہے کہ کافر غلام کو آزاد کرنے والے کو بھی غلام آزاد کرنے کا ثواب مل گا۔ لیکن اس کا ثواب مسلمان غلام کو آزاد کرنے کی طرح نہیں ہے۔ مسلمان ہونے کی قدر اس کے لگائی گئی تاکر اس کو زیادہ سے زیادہ ثواب لے-(عمدۃ القاری، نیل الاوطار، مرقات)

4605

سیدنا عمر و بن عبس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا: جو کوئی آدمی مسجد بنانے تاکر اس میں اللہ کا ذکر ہوتا اس کے لے جنت میں ایک گھر

بنایا جائے گا اور جو شخص کسی مسلمان (غلام) کو آزاد کرے گا تو اس کے لے وہ حتم سے فدیہ بین

پچھتا رے کا ذر پیمہ اور کوئی آدمی اللہ کے راستے میں (جد وجہد کرتے ہوئے) بوڑھا ہوجائے گا

تو پی(اس راہ میں بوڑھا ہوجانا) اس کے لے قیامت کے دن نور ہے-

(کتاب المصافح کے مولف نے اپنی دوسری تالیف شرح السنة میں اس حدیث کی روایت

کی ہے)-

تم اس کی طرف سے غلام آزاد کرو

Amr ibn Abasah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “Whoever builds a mosque in which Allah is remembered, Allah will build for him a house in Paradise. Whoever frees a Muslim soul, it will be his ransom from Hell. Whoever grows gray in the way of Allah, it will be a light for him on the Day of Resurrection.” [Narrated by the author of Al-Masabih in Sharh As-Sunnah]

4606

سیدنا غریف بن ویمیٌّ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ تم واٹلم بن اسقع

رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پنچھا اوران سے عرض کیا کر آ پ تم کو کوئی حدیث شریف اس طرح بیان

فرما کیں کر اس میں نہ تو کوئی زیادتی ہوندی فتنہ کی کی - پیس کرو ہغصہ میں آ گئے اور فرما کر تم میں

سے کوئی تلاوت کرتا ہے اور مصحف شریف اس کے گھر میں لکا ہوا ہوتا ہے اس کے باوجود اس میں

کی وزیادتی کر جاتا ہے۔ بھیم نے عرض کیا: ہمارا رادہ توصرف اسی حدیث سنناہے جس کو آپ نے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سناہوتا انہول نے فرمایاہم رسول اللہ علیہ وسلم کی خدمت

میں اپنے اس ساتھی کے تعلق سے عرض کرنے حاضر ہوئے۔ جس نے قتل عام کر کے دوزخ کو (اپنے

آپ پر) واجب کر لیا تھا۔ 1(پسن کر) آپ علیہ صلاۃ للہ نے ارشاد فرمایا تم اس کی طرف سے (غلام)

آزاد کرواللہ تعالیٰ اس (غلام) کے بر عضو کے بدلاس (قاتل) کا ویاہی عضو (دوزخ کی)

آگ کے آزاد کر دے گا۔ (ابوداود، نسائی)

ایسا عمل سکھا یے جو مجھ کو جنت میں داخل کرے

Al-Gharif ibn Ad-Daylami narrated: We came to Wailah ibn Al-Asqa‘ and said to him: “Tell us a hadith without addition or omission.” He became angry and said: “One of you recites while his Quran is hung in his house, yet he adds and omits.” We said: “We only meant a hadith you heard from the Prophet (ﷺ).” He said: “We came to the Messenger of Allah (ﷺ) regarding a companion of ours who had incurred punishment, meaning the Fire, due to killing. He said: ‘Free a slave on his behalf, and Allah will free for every limb of his a limb from him from the Fire.’” [Narrated by Abu Dawud and An-Nasa’i]

(1) The statement: “Who had incurred, etc.”: This means he committed a sin that necessitated entering the Fire, meaning intentional killing, due to the words of Allah, the Exalted: And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell [An-Nisa: 93]. It must be specified that this was after fulfilling the penalty for killing; otherwise, how could freeing a slave suffice for the right of the victim’s guardian, or it is understood that he killed himself. This indicates that, according to us, punishments do not suffice to expiate the crime, for if they did, there would be no need to free a slave afterward. Thus, it is stated in Badhl Al-Majhud. The essence is what is stated in Ad-Durr Al-Mukhtar and Radd Al-Muhtar: The punishment is not purifying according to us; rather, purification is through repentance. If one is punished but does not repent, the sin of the disobedience remains. Many scholars hold that it is purifying, and our clearest evidence is in An-Nahr.

1(قولہ: "اعتق الله بكل عضو منه عضوًا منه من النار حتى فرجه بفرجه" (اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو

کے بدلے اس کے اس عضو کو وزر کی آگ سے آزاد کرے گا یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کواس کی شرمگاہ کے

بدلے) پداپی میں ہے کہ غلام کو آزاد کرنا مستحب ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما کوئی مسلمان

کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر حصر کے بدلے اس کا وہ حصر وزر کے آزاد کرے گا۔ اس

لے فقہاء نے مستحب قرار دیا ہے کہ مرد، غلام کو آزاد کرے اور عورت، باندی کو، تاکر اس کے اعضاء کا اس کے اعضاء

سے تقابل ہو سکے

4608

کسی سے منہرکے کام آؤ میں نے پھر عرض کیا اگر میں پیچھی نہ کرسکون؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا لگو کوثر سے دور رکھاور بلاشبہ ایک ایسا صدقہ جس کو تم اپنے لئے کردے ہو۔ (بخاری،مسلم)

سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے بی

کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کونسا عمل افضل ہے؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اللہ پر ایمان

لا نا اوراس کے راستے میں جہاد کرنا۔ پھر میں نے عرض کیا: کونسا غلام (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ

صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا: جو سب سے زیادہ قیمتی ہواوراپنے مالک کے پاس سب سے زیادہ عزیز ہو

پھر میں نے عرض کیا اگر میں بھی نہ کرسکون؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کسی صنعت کا رکی مدد کرو یا

1(قولہ: "فای الرقاب افضل" اغ (کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟) کتاب مبسوط میں ہے کہ ان احادیث ثبوتی فہم

سے یہ بات ظاہر ہے کہ غلام کوآ زاد کرنا نہیں اور مہربانی کرنے کے قبل سے ہے اور جو غلام اپنے مالک کے پاس زیادہ عزیز ہو

اس کوآ زاد کرنا افضل ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ و السلا م کے ارشاد "افضلہا اغلاها " کی بنیاد پر امام ما لک رحمۃ اللہ کا قول

ہے کہ جب کافر غلام، مسلمان غلام سے زیادہ قیمتی ہوتا اس کوآ زاد کرنا مسلمان غلام کوآ زاد کرنے سے زیادہ افضل ہے مگر یہ

بات قابل ترجیح نہیں ہے بلکہ اس میں پیغام ظاہر ہے کہ وہ قیمتی غلام مسلمانوں میں سے ہو کیونکہ اس سے ایک مسلمان کوآ زادی کا

موقد فراہم کرنا اوراس کوآ پین مقاصد کے حصول کے لیے فارغ کرنا ہے۔ کافر غلام کوآ زاد کرنے کو مستحب قرار دینے کی ظاہر

وجہ یہ ہے کر اس سے مسلمانوں کے لیے جزییہ اصل کرنا ہے۔ اب رہایہ کہنا کہ کافر غلام کوآ زاد کرنے میں اس کو خور و قلر کا موقد

فراآہم کرنا ہے تا کہ وہ مسلمان ہو جائے تو ایک دور کا اختیال ہے۔ (مرقات)

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: I asked the Prophet (ﷺ): “Which deed is best?” He said: “Faith in Allah and striving in His way.” I said: “Which slaves are best?” He said: “The most valuable in price and the most precious to their owners.” I said: “If I cannot do that?” He said: “Help a worker or do something for the incapable.” I said: “If I cannot do that?” He said: “Leave people from harm, for it is a charity you give to yourself.” [Agreed upon]

(1) The statement: “Which slaves are best?” He said: “The most valuable in price and the most precious to their owners”: It is stated in Al-Mabsut: These narrations clarify that emancipation is an act of righteousness and kindness, and the best slaves are those most valued by their owners. As for what is narrated from Malik, that if a non-Muslim slave is more valuable than a Muslim slave, his emancipation is better than that of a Muslim due to the saying, “The best are the most valuable,” this is far from correct and must be restricted to the most valuable among Muslims. This is because it enables the Muslim to achieve his objectives and frees him. The apparent reason for preferring the emancipation of a non-Muslim is to collect jizyah from him for the Muslims, and as for freeing him for contemplation, it is conceded as a possibility. Thus, it is stated in Al-Mirqat.

فضل صدقہ
4609

سید ناصرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فضل صدقہ غلام کوآزاد کرنے کی سفارش کرنا ہے۔ (امام ترمذی شعب الایمان)

Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best charity is intercession by which a slave is freed.” [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu‘ab Al-Iman]