(اسباب میں پاک روزی اورحلال پیشکی فضیلت کاپیانے)
In this chapter, the virtues of pure sustenance and lawful earnings are expounded.
وقول الله عزوجل مكلوا من الطيبات واعملوا صالحا
اورالد تعالی کا ارشاد ہے (سورۃمؤمنون، پ:18، ع:4، آیت نمبر:51)
(تم میرے دینے ہوئے پاکیزہ رزق سے کھاؤاورنک کام کرو)-
اپنے باٹول سے کما کر کھانا انخیاء کی سنہ ہے
And the Exalted Allah instructs (Surah Al-Mu'minun, Vol. 18, Part 4, Verse Number: 51): (Eat from the sustenance I have provided and do not commit evil deeds).
Earning one's sustenance through one's own efforts is a praiseworthy tradition.
مقراو بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما لے ہیں کسی شخص سے کہی کوئی کہنا اس کہانے سے بہتر نہیں کہا یا جواس کے اپنے باٹول کی محنت سے کما یا ہوا ہو (لمتن ذاتی کسب اورمحنت سے جورو زی حاصل کی جائے ہے وہ سب سے بہتر اور پاک ہوتی ہے) اوراللہ کے نبی حضرت داود علیہ نبیا وعلیہ الصلاۃ و السلام اپنے باٹول کی محنت سے کما کر کہاتے تھے۔ (لمتن ذی رہبناتے اوراس کوفر وخت کر کے روزی پیڑا کرتے ) اس کی روایت خاری نے کی ہے۔
ذرائع معاش میں کوساز رپیا فضل ہے
ف: واضح ہوگا روزی اورمعاش کے ذرائع میں سب سے بہتر ذریعہ جہاد ہے جس کے ذریعہ مال غنیمت حاصل ہوتا ہے جو سب سے بہتر کمانے ہے۔ اس کے بعد تجارت، چھوڑ زراعت اوراس کے بعد صنعت وحرفت کے ذریعہ مال کمانے ہے۔ ”الاختیار ثرح المحار“ میں ذکور ہے۔ عامگیری میں کہا ہے کہ اتمہ کے پاس زراعت کو تجارت پر فضیلت ہے، اوراما منوی رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ صدر کی حدیث سے زراعت اورصنعت وحرفت دونوں کو دگر زراعت معاش پرفضیلت حاصل ہے اس لے کر ان دونوں میں باٹول کمانی کو خل ہے البہتان دونوں میں کہی زراعت صنعت وحرفت سے افضل ہے اس لے کر زراعت کا نفع عام ہوتا ہے اورساری مخلوق غلب کی محتاج ہوتی ہے جسیا کے عمدۃ القاری میں صراح کی گئی ہے۔
پاکیزہاورمقبول کمانی کا بیان
Miqdam ibn Ma'dikarib (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No one has ever eaten better food than that earned by the labor of his hands. Indeed, the Prophet of Allah, Dawud (peace be upon him), used to eat from the work of his hands." [Narrated by Bukhari]
Jihad (highest),
Trade
Agriculture
Craftsmanship
Some scholars consider trade superior to farming, but the majority hold that agriculture is better due to its widespread benefit for humanity and animals alike. This is mentioned in Al-Ikhtiyar and Al-Wajeez by Al-Kurdi, as cited in Al-'Alamgiriyyah. Imam Nawawi stated that the hadith in Bukhari clearly favors farming and craftsmanship since they involve manual labor, though farming is superior due to its universal benefit. ('Umdat Al-Qari)
راغ بن خدنج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ: - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیاگیا کہ لوی کمانی سب میں پاکیزہ ہے۔ تو حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (وہ کمانی) جس کوانسان اپنے ہاتھ کا کر لیتا ہے (جسے زراعت، صنعت اور کتابت وغیرہ) اور ایسی تجارت جو (ثریت میں) مقبول ہو (یعنی وہ تجارت جودھوکہ اور خیانت سے پاک ہو)۔ اس کی روایت امام احمد نے لی ہے۔
کتابت قرآن پراجرت لین کا بیان
Rafi' ibn Khadij (may Allah be pleased with him) narrated that it was asked: "O Messenger of Allah, what is the purest form of earning?" He replied: "A man’s work with his hands and every honest sale." [Narrated by Ahmad]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: کہ ان سے قرآن مجید کی کتابت پر اجرت لینے کے بارے میں دریافت کیاگیا (کہ کیا پیجا چاہئے؟) تو انہوں نے فرمایا (کتابت قرآن پراجرت لینے میں) کونی حرج نہیں اس لیے کہ کا بیان تو (حقیقت میں) الفاظ کی صورت گزری کرتے ہیں اور اس طرح سے وہ اپنے ہاتھ کی کمانی لیتا ہے۔ اس کی روایت "رزین" نے لی ہے۔
ف : ہداپی میں ذکور ہے کہ ہمارے بعض مشائخ نے تعالیم قرآن پراجرت لینے مستحسن قرار دیا ہے اس لیے کہ اس زمانے میں دینی امور میں تساؤل آگیا ہے اس وجہ سے اگر تعالیم قرآن پراجرت لینے سے منع کردیا جائے تو حفظ قرآن نہ کیا جاسکتا اور اسی پرفتوی ہے اور علمگیری میں کہا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی آدمی کو قرآن لکھنا کہ کر تو پیرجا تنہے اور شیخ امام خوابرزا دہ رحمۃ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں کراہت نہیں جسیا کہ "فتاوی قدی خان" میں ذکور ہے۔
کاروبار کے ذریعہ حال روزی کمانے کی ترغیب
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) was asked about the wages for copying the Qur’an. He replied: "There is no harm in it, for they are merely illustrators, and they eat from the labor of their hands." [Narrated by Razin]
ابوبکر ابن ابی مریم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مقدام بن
حضرت مقداماس کی قیمت لیپاکرتے تھے۔ آپ کہاگیابڑی حیرت کی بات ہے کہ لوٹ دی تو دور ہی چلتی ہے اور آپ باوجود پیکر صاحب استطاعت ہیں دور ہفر وخت کرواۓ ہیں اور اس کی قیمت لے لیتے ہیں ( حال انکہ آپ کے لئے مناسب توپی تہا کرآپ دور ہکوفقرا، احباباور متعلقین پر خرج کردیتے ) حضرت مقدام نے فرمایا : بال! بال ! ( میں دور ہپچاہول اور اس کی قیمت مجھے لیتاہون ) اور اس میں کوئی حرج ( اورگناہ ) نہیں ہمجاتا اس لئے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پیارشاد فرما تے سناتے کرلوگون پراکی ایازمانے لئے گاجب کران کودیناراوردورتم کے سوا کوئی اور چیز فانکہ نہ دے گی۔ اس روایت کو امام احمد نے بیان کیا ہے۔
جب ہوتی روزی کو چھوڑنے کی ممانعت
We used to buy the shoes of Mughdam bin Shu'bah. He would say, 'It is a matter of great wonder that if I return them, they will still be worn far away, and despite being a person of means, I have performed many journeys and bought them myself (although a suitable cap for me was made and its cost was spent on scholars, friends, and relatives). Mughdam said: No, no! (I will go far away and take their price) and there is no harm (or sin) in this, because I heard the Messenger of Allah ﷺ say: People will be asked about every dinar and dirham except what they spend on a journey or for sustenance.' This narration has been reported by Imam Ahmad.
نافع رحمۃ اللہ تے روایت ہے : وہ فرماتے ہیں کہ میں ( اپنے تجارتنے قافلون کو ) ملک شاماورمصر کی طرف بھیجا کرتا تھا۔ پھر میرا ارادہ ہوا کہ ( اب آبندهتجارتنے قافل کو ) عراق کی طرف بھیجون ( مشورہ کے لئے ) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت اقدسمیں حاضر ہوااورعرض کیا ام المومنین ! میں اپنے شام ( اور مصر ) کی طرف ( تجارتنے قافلہ ) بھیجا کرتا تھا اب ارادہ ہے کہ عراق کی طرف قافلہ بھیجا کروں ( پیسکر ) ام المومنین نے فرمایا کہ تم اپنی پچلی تجارت کے سلسلے کو کیون بدل رہے ہو ( جب کہ اس میں نفع ہے ) سنو! میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرما تے سناتے کہ جب اللہ تعالیٰ تمہارے رزق کا کوئی سامان کر دے تو تم اس کونہ چھوڑو جب تک کہ اس میں کوئی نقصان یا تغیر واقع نہ ہوجائے۔ اس کی روايت امام احمداور ابن ماجہ نے کی ہے۔
ف : اس حدیث شریف سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ انسان اپنے موجودہ ذریعہ معاش کو بلا کسی معقول سبب کے موهوم فانکہ لی امید پر ترک نہ کرے اور دوسرا یہ کہ جہاں تو کاروبار کو چھوڑ کر لاچار طرح کی خاطر ایکاروبار کا ارادہ نہ کرے جس میں اس کو تحری بنہ ہواور اس کا فانکہ نہیں ہے۔
قبولت وعا کے لئے اكل حللاورصدقمقابل ضروری ہے
Nafi' narrated: "I used to trade with Syria and Egypt, then I began trading with Iraq. I visited Aisha (may Allah be pleased with her) and said: 'O Mother of the Believers, I used to trade with Syria, but now I trade with Iraq.' She replied: 'Do not do that. What is wrong with your previous trade? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "When Allah provides sustenance to someone from a certain means, they should not abandon it unless it changes or becomes unfavorable."'" [Narrated by Ahmad and Ibn Majah]
اَبْوِهِرِيْه رضى الله عنه سے روايت ہے : وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک (یعنی حلال) چیزون میں قبول فرماتے ہیں اور اللہ
تعالیٰ نے مسلمانوں کو انہی چیزوں کا حکم دیا ہے۔ جس کا حکم اپنے انپیاء اور رسولوں کودیا ہے - چنانچہ
(اپنے کلام پاک میں ) ارشاد فرمایا : " اے میرے رسولو ! پاک (یعنی حلال) چیزوں کو کھاؤ اور نہیں
کام کرو " اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ " اے ایمان والو! پاک یعنی حلال چیزوں کو کھاؤ جتن کو
تم نے تمہیں دیا ہے - " پھر حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی (عبادتوں یعنی نماز اور جہاد کے لئے)
پرآگندہ بالاور غبارآلود حال میں طویل سفر کرتا ہے اورآسمان کی طرف ہاتھوں کو اٹھا کر فریاد کرتا ہے
(اور پکارتا ہے ) اے میرے پروردگار ! اے میرے پروردگار ! حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے ، اس کا
پینا حرام ہے ، اورلباس حرام ہے اوراس کی پروش بھی حرام (مال تو ) ہوتی ہے تو ایسے شخص کی
وعا کے او رکے قبول ہوگی - اس کی روايت مسلم نے کی ہے -
ف : صاحب مرقات رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ بارگاه خداوندی میں دعا کی قبولیت کے لئے دوبازود رکار
ہیں ایک اکل حلال دوسرا صدق مقابل یعنی حلال کی روزی کھانا اور پچ بولنا اور اشعہ الملعامت میں کچا ہے کر اگر کسی
شخص کی پروش حرام روزی سے ہوتی لیکن اب حلال روزی کھار پا ہے تو بھی اس کی دعا قبول نہ ہوگی جب تک صدق
دل سے توپہڑ کرے اورآمنہ دہ کے لئے حلال خوری کا سجا عہد نذر کر لے - اس وقت اس کی دعا قبول ہوسکتی ہے -
مال حرام کی نہارات قبول نہیں ہوتی اوراس میں برکت بھی نہیں ہوتی بلکہ وہ وزر کا توشه بنتا ہے
اَبْوِهِرِيْه رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک (یعنی حلال) چیزون میں قبول فرماتے ہیں اور اللہ
تعالیٰ نے مسلمانوں کو انہی چیزوں کا حکم دیا ہے۔ جس کا حکم اپنے انپیاء اور رسولوں کودیا ہے - چنانچہ
(اپنے کلام پاک میں ) ارشاد فرمایا : " اے میرے رسولو ! پاک (یعنی حلال) چیزوں کو کھاؤ اور نہیں
کام کرو " اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ " اے ایمان والو! پاک یعنی حلال چیزوں کو کھاؤ جتن کو
تم نے تمہیں دیا ہے - " پھر حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی (عبادتوں یعنی نماز اور جہاد کے لئے)
پرآگندہ بالاور غبارآلود حال میں طویل سفر کرتا ہے اورآسمان کی طرف ہاتھوں کو اٹھا کر فریاد کرتا ہے
(اور پکارتا ہے ) اے میرے پروردگار ! اے میرے پروردگار ! حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے، اس کا
پینا حرام ہے، اورلباس حرام ہے اوراس کی پروش بھی حرام (مال تو ) ہوتی ہے تو ایسے شخص کی
وعا کے او رکے قبول ہوگی - اس کی روایت مسلم نے کی ہے -
ف : صاحب مرقات رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ بارگاہ خداوندی میں دعا کی قبولیت کے لئے دوبازود رکار
ہیں ایک اکل حلال دوسرا صدق مقابل یعنی حلال کی روزی کھانا اور پچ بولنا اور اشعہ الملعامت میں کچا ہے کر اگر کسی
شخص کی پروش حرام روزی سے ہوتی لیکن اب حلال روزی کھار پا ہے تو بھی اس کی دعا قبول نہ ہوگی جب تک صدق
دل سے توپہڑ کرے اورآمنہ دہ کے لئے حلال خوری کا سجا عہد نذر کر لے - اس وقت اس کی دعا قبول ہوسکتی ہے -
مال حرام کی نہارات قبول نہیں ہوتی اوراس میں برکت بھی نہیں ہوتی بلکہ وہ وزر کا توشه بنتا ہے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah is Pure and accepts only what is pure. He has commanded the believers as He commanded the Messengers: 'O Messengers, eat from the good things and do righteous deeds.' (Al-Mu'minun 23:51) And He said: 'O you who believe, eat from the good things We have provided for you.' (Al-Baqarah 2:172)" He then mentioned a man who travels widely, disheveled and dusty, raising his hands to the sky, saying: "O Lord! O Lord!" Yet his food is haram, his drink is haram, his clothing is haram, and he was nourished with haram, so how can his supplication be answered? [Narrated by Muslim]
عبرہ اللہ بن مسعور رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو بندہ مال حرام کاے اوراس میں سے نہارات
کرے اوراس سے وہ نہارات قبول کر لی جائے ( ایساہرگز نہیں ہوسکتا یا ) پھر وہ شخص اس ( مال
حرام ) میں سے ( اپنی ذات یا ابل وعمال پر ) خرج کرے اوراس میں برکت دی جائے ( ایساہرگز
شخص (اپنی موت کے بعداس مال حرام کو) اپنے بعد (وارثون کے لئے) چھوڑ جائے تو وہ مال اس کے لئے دوزخ کا توشه ہوگا اس لئے کہ اللہ تعالی برانی کوبرانی کے ذریعہ دورنیس فرماتے (لیجنی مال حرام سے گناہول کونین مطاہے ہیں) بلکہ برانی کوبجلانی کے ذریعہ دورکرتے ہیں۔(لیعنی پاک مال کی خیرات سے گناہ مٹے ہیں) اس لئے کہ ناپاک مال ناپاک کونین مطاہا اس کی روایت امام احمد نے کی ہےاورثرح السند میں بھی اس طرح مرودی ہے۔
حرام مال سےخریدے ہوۓ لباس میں نماز پڑھنے کی وعید
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If a servant earns wealth through haram means and gives charity from it, it will not be accepted. If he spends from it, he will not be blessed. And if he leaves it behind, it will only be a provision for him in the Fire. Indeed, Allah does not erase evil with evil but erases evil with good. Verily, filth cannot purify filth." [Narrated by Ahmad and similar is narrated in Sharh As-Sunnah]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: وہ فرما تے ہیں کہ (مثالاً) جو کوئی شخص دوسروں کا ایک کپڑا خریدے او ران میں ایک درہم حرام مال کا ہوتا اللہ تعالی اس شخص کی نماز اس وقت تک قبول نہیں فرما ئیں گے جب تک کہ وہ کپڑا اس کے جسم پر ہو (یحدیث سنکر) حضرت ابن عمر نے اپنے دونوں کانوں میں اپنی انگلیاں داخل کردیں اور فرمایا کہ میرے یدونوں کان مہربہوجائیں اگر میں نے الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کی روایت امام احمد نے کی ہےاور زیادہ نے اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔
مال حرام سے پرورش پائے نے کی وعید ایک حدیث
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "If someone buys a garment for ten dirhams, and one of those dirhams is haram, Allah will not accept his prayers as long as he wears it." Then he put his fingers in his ears and said: "May they be deaf if I did not hear the Prophet (ﷺ) say this!" [Narrated by Ahmad and Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman and said: Its chain is weak]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ارشاد فرما تے ہیں کہ جس کی پرورش حرام مال سے ہوتی ہو (وہ حرام خوری کی سزا ے پائے گی) جنت میں داخل نہ ہوگا اور جو گوشت حرام مال سے پرورش ہوا ہووہ دوزخ میں کے لا یق ہے۔ اس کی روایت امام احمد اورداری نے کی ہےاور زیادہ نے شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے۔
ایضًا وسری حدیث
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No flesh nourished by haram earnings will enter Paradise. Every flesh nourished by haram is more deserving of the Fire." [Narrated by Ahmad, Ad-Darimi, and Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]
اِیَا حَسَمْ جوهرام مال سے پروش پايا هو(نیک لوگون کے ساتھ وہلم اول میں)جنت میں داخل ہوگا۔
اس کی روایت بہت نے شعب الایمان میں لی ہے۔
حلال روزی کا کمانافرض ہے
Abu Bakr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No body nourished by haram will enter Paradise." [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]
عَبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کر رسول الله صلی الله علیه وسلم ارشاد فرماتے ہیں کر حلال روزی کا کمانا (ایاہی) فرض ہے (جبیا کر نماز ، روزہ و غیرہ ايمان لا نے کے ) بعد فرض ہیں (اس لئے کر حلال روزی پرتیزگاری کی اصل او رتقوتی کی نیاز ہے جس کی قدر مسلمان کو آ خری سانس تک رتنی چاہیے ) اس کی روايت بہت نے شعب الايمان میں لی ہے۔
عَبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کر حلال روزی کا کمانا (ایاہی) فرض ہے (جبیا کر نماز، روزہ و غیرہ ایمان لا نے کے ) بعد فرض ہیں (اس لئے کر حلال روزی پرتیزگاری کی اصل او رتقوتی کی نیاز ہے جس کی قدر مسلمان کو آ خری سانس تک رتنی چاہیے ) اس کی روایت بہت نے شعب الایمان میں لی ہے۔
رزق کے بارے میں ایک پیشن گوئی
A prediction about sustenance
اِبوہریرہ رضي الله عنه سے روايت ہے : وہ فرماتے ہیں کر رسول الله صلی الله علیه وسلم ارشاد فرماتے ہیں کر لوگول پراک اپنا زمانآ کے گا کر انسان کواس با ت کی پرواہی نہ ہوگی کر اس کو جومال ملا ہو حلال ہے یا حرام (اور نہ حلال و حرام کی اس کو تمیز ہوگی ) اس کی روايت بخاری نے لی ہے۔
مشترک چیزوں سے پچھاجا ہے تا کر حرام میں بتلانہ ہول
He disassociated himself from common things so as to avoid falling into what is forbidden.
نِعمان بن بشیر رضي الله عنهما سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کر رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلم ارشاد فرماتے ہیں کر حلال چیزیں جو ظاہر ہیں اور حرام چیزیں جو ظاہر ہیں
اور ان دونوں کے درمیان میں چند مشترک چیزیں بھی ہیں۔ (جو حلال اور حرام دونوں سے میل رکھتی ہیں) ان کو اکثر لوگ (صلاحیت کی کیسی وجبت) نہیں جانتے۔ بھی تو جو شخص ایسی مشترک چیزوں سے دور رہتا ہوا سے آپ کو دین اور اپنی آبرو کو پچالیا (کراس کی دینداری کی کامل رہی اور لوگوں کی طعنز نہیں سے بچی رہا) لیکن جو شخص مشترک چیزوں میں بھٹلا ہوگیا تو وہ بالا خطرام میں گرفتار ہوجائے گا (اس کی مثل ایک) چرواہے جیسے ہے جو (اپنے جانوروں کو) کھیت کی باڑ کے پاس چراتا ہوتا ہمیشہ پرخطرہ لگا رہتا ہے کہ (اس کا کوئی جانور) کھیت میں چلا جائے، یاد رکھو کہ ہر باڑشاہ (کی مملکت) کے پچھے حدود ہوتی ہیں اور سن لو! کر اللہ تعالیٰ کے حدود اس کے محارم ہیں (یعنی وہ چیزیں جو حرام ہیں اور جن کے کرنا سے اللہ تعالیٰ نے بنڈول کرو کاہے مشاق قتل ناحق، شراب، حرام کاری، سود، جوا، چوری، زنا، وغابازی اور جھوٹ و غیرہ) اور پیکی یاد رکھو کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک طغرآ ہے جب تک وہ تھیک رہتا ہے سارا بدنت طبع رہتا ہے اور جب وہ خراب ہوجاتا ہے تو سارا بدنت طبع جاتا ہے اور وہ ہے "دل"!۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پر کی ہے۔ مومین کے تنزہل اور تقی کے ذرائع اوران کی تفصیل ف(1) اس حدیث ثریف میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اَلاَ وَ إِنَّ حَمَى اللہ مَحارُمہ : نہبردار ! کر اللہ تعالیٰ کے حدود اس کے محارمات میں اس کی توہین میں شاءعبد احتیاط و بلوي رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیخ کے حوالے سے اشعار المتعات، میں کہا ہے کر اس سلسہ میں اعمال کے مرتب کی ایک ترتیب اس طرح قائم فرمائی ہے:(1) ضروری(2) مباح،(3) کمروہ،(4) حرام،(5) کفر۔ اگر انسان اپنی روزی کے سلسہ میں ضرورت پر اکتفا ورقاعت کر لے تو وہ مباحات میں نہیں پڑتا جن کے بعد کمروبات کا رجحان اور اس طرح محارمات کے حدود میں داخل ہو نے سے نہ جاتا ہے جن کی حد یا کمروبات سے ملتی ہیں اور اگر وہ حرص اور لاچار آ کر کمروبات میں گرفتار ہو جائے تو محارمات میں بھٹلا ہو جائے گا جس کے بعد کفر کا رجحان
بھ اللہ تعالیٰ : بہم سپ کواس سے حفوظ رکے _ حضرت شاہ عبد احق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ثخ کے اس بیان کے بعد فرمایا
بھ کرمین نے مومین کے ترتیب درجات کیلے پیر تیب قائم کی ہے _
فرض 1، واجب2، سنۃ3، مستحب4، آداب5 اگر کوئی شخص مستحبت کی حفاظت کرنے چاہتا ہے تو اس کو چاہے
کہ آدا ب کی پابندی کرے اور اگر سنۃ کی حفاظت مطلوب ہے تو مستحبات کوڑک نہ کرے _ اس طرح واجبات کی
حفوظت کے لئے سنۃ کی پابندی کرے اور فراض پر استقامت کے لئے واجبات کونے چھوڑے _ اس طرح وہ درجہ
کمال کو پہوچے سکتا ہے _ اللہ تعالیٰ بہم سپ کواس کی توفیق عطا فرماے آمین _
حلال اور حرام غذا کادل اورجسم پراثر
ف(2) حدیث شریف کے آخری حصہ میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی بجلائی پرسار لے بدلا کی بجلائی کا
احضار ہے _ اس بارے میں حضرت ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے فرمایے کہ جسم کی بجلائی اس باٹ میں سے کہ جسم کو
حلال غذاؤں پر حالی جاتے جس سے دل کو صاف خون ملتا ہے اور دل صاف اور منور ہوجاتا ہے اور دل کی نورانیت
سارے اعضاء بدلا پر پھیلی ہے اورجسم سے اعمالی صالح صادر ہوتے ہیں _ اس کے برخلاف لئے حرام اگر پیت میں
جاۓ تو اس سے فاسد خون پیدا ہوتا ہے اور دل کدراور تارکی ہوجاتا ہے اور دل کیظلمت کا اثر سارے اعضاء بدلا پر
پڑتا ہے _ آکھا نامحرم پر پھیلی ہے کان غیبت سے لطف انہاتے ہیں اور زبان افتراء اور جھوٹ پر چلتی ہے اور باتوں پاول
برے کاموں کی طرف بلکہ ہیں اور انسان شیطان کا آلة کار بن جاتا ہے ناس کموٹ کی فطرہوتي ہے نزیامت کا ذر
ہے _ صاحب مرقات نے پیغمی کہہ کہ یہ حدیث اپنے مضامین کے اعتبار سے ان میں احادیث میں شمار ہوتی ہے جن
پراسلام کا دار ہے _ ایک حدیث تو ہے جس میں نیت کی اہمیت کا ذکر ہے : " انما الأعمال بالنيات " کے اعمال کا
مدار نیتوں پر ہے _
دوسری حدیث میں : " مِنْ حُسنِ إِسْلامِ المرءِ تَرْكُهُ ما لا يَعْنيه " _ ( لیعنآدمی کے اسلام کی خوبی یہ کہ وہ
فضولیات سے پچارہ ) اور تیسرے صدر کی پحدیث ہے جس میں حلال اور حرام کی اہمیت واخ فرمائی گئی ہے _
اس لئے مسلما نوں کوچاہے کرانا احادیث شریفہ پر عمل کرتے رہیں اور مشتبہات سے پچترہیں تاکہ خرت
کی سرخرودی حاصل کر سکیں _
نج اور جحوط کا معايار
An-Nu'man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The halal is clear, and the haram is clear. Between them are doubtful matters that many people do not know. Whoever avoids doubtful matters safeguards his religion and honor. But whoever indulges in doubtful matters falls into haram, like a shepherd grazing near a restricted zone, soon he will enter it. Every king has a restricted zone, and Allah’s restricted zone on His earth is His prohibitions. Indeed, in the body is a piece of flesh; if it is sound, the whole body is sound, and if it is corrupt, the whole body is corrupt. Indeed, it is the heart." [Agreed upon]
In this hadith, the Holy Prophet (peace be upon him and his progeny) has instructed: 'Beware! Verily, the sanctity of Allah is His prohibitions.' Shaukat Allah (may Allah have mercy on him) has stated in Asyaar al-Muta'at, based on his teacher's guidance, that a sequence of actions has been established as follows: (1) Necessary, (2) Permissible, (3) Desirable, (4) Forbidden, (5) Disbelief. If a person confines himself to necessities in his daily life, he will not fall into permissible acts, which lead to desirable acts, and thus will not transgress the boundaries of prohibitions, which are closely related to desirable acts. If, however, driven by greed or necessity, he becomes entangled in desirable acts, he will eventually transgress into prohibitions, leading to disbelief. May Allah protect us from such a fate, Allah Almighty: 'May He protect us from the evil of our souls.' After this statement, Shah Abd al-Haq (may Allah have mercy on him) said: 'The degrees of a believer's perfection have been established as follows: (1) Obligatory, (2) Necessary, (3) Sunnah, (4) Recommended, (5) Manners. If someone wishes to preserve recommended acts, they must adhere to manners; if they wish to preserve Sunnah acts, they must not neglect recommended acts; to preserve necessary acts, they must adhere to Sunnah acts; and to remain steadfast in obligatory acts, they must not neglect necessary acts. In this way, one can attain the degree of perfection. May Allah grant us success in this, Amen.'
The impact of lawful and unlawful food on the body and soul:
In the last part of this noble hadith, the enlightenment of the heart is described as a result of the purity of the body. According to Imam Ali Qari (may Allah have mercy on him), the purity of the body comes from consuming lawful food, which results in clean blood for the heart, making it clear and radiant. This radiance spreads to all parts of the body, leading to righteous deeds. Conversely, if unlawful food is consumed, it produces impure blood, causing the heart to become dark and gloomy. The darkness of the heart affects all parts of the body, leading to sinful actions. The eyes become attracted to forbidden sights, the ears to backbiting, the tongue to lies and deceit, and the body to evil deeds, turning the person into an instrument of Satan. This is a deviation from the natural disposition towards goodness and a cause of corruption. The author of Mirqaat states that this hadith, in terms of its themes, belongs to those hadiths that pertain to the abode of peace. One hadith emphasizes the importance of intention: 'Actions are judged by intentions,' indicating that the value of actions depends on intentions. Another hadith states: 'Part of a person's excellence in Islam is leaving what does not concern him,' meaning avoiding unnecessary matters. The third hadith highlights the importance of lawful and unlawful matters. Therefore, Muslims should strive to act according to these noble hadiths and avoid doubtful matters to achieve the pleasure of Allah.
The criteria for purity and impurity.
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سے بغير کسی واسطے کے) یہ بات یاد رکھی ہے کہ جو چیز تمہیں شک میں آئے
امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں
اس کو چھوڑ دواورا میں چیز کو اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ آئے لے لے کر سپائی (دل کے)
اطمینان کے ذریعہ۔اور جحوط شک اورترز دکا سبب ہے۔
اس کی روایت امام احمد، ترمذی اورنسائی نے کی ہے اوردارمی نے حدیث کے صرف پہلے
حصہ کی روایت کی ہے۔
نجی اور بدی کی پچجان
Al-Husayn ibn Ali (may Allah be pleased with them) narrated: I memorized from the Messenger of Allah (ﷺ): "Leave what makes you doubtful for what does not make you doubtful, for truth brings peace of mind while falsehood sows doubt." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Nasa'i; Darimi narrated only the first part]
وابصرہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (وہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو) حضرت علیؓ نے ان سے ارشاد فرمایا:
وابصرہ! تم تو پیر ریافت کرنے کے لیے آئے ہو کہ نجی کیا چیز ہے اورگناہ کیا؟ میں عرض کیا۔جی بال
(اسی لے حاضر خدمت ہول!) راوی کاپیانے کہ (پین کر) آپ نے اپنی انگلیوں کو اٹھا کیااور
میرے سینہ پران کومارکر فرمایا پنچس سے پوچھا! اپنے دل سے پوچھا اس جملے کوآپ نے تمہیں
مرتبہ دہرايا پھر ارشاد فرمایا نجی وہ ہے جس سے نفس کو اطمینان حاصل ہواور جس سے دل کوسکون
نصیب ہواورگناہ وہ ہے جو س میں خلش پیدا کرے اوردل میں ترز دکا سبب بنے اگرچہ اور لوگ
(اس چیز کے جوازہ) فتوی دی۔اس کی روايت امام احمد اور دارمی نے کی ہے۔
حرام سے پچجان کے لیے مباح چیز کو چھوڑ دیاجائے
Wabisa ibn Ma'bad (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Wabisa, have you come to ask about righteousness and sin?" I said: "Yes." He gathered his fingers and struck his chest, saying: "Consult your soul, consult your heart (three times). Righteousness is what comforts the soul and heart. Sin is what wavers in the soul and causes hesitation in the chest - even if people give you verdicts (in its favor)." [Narrated by Ahmad and Darimi]
ارشاد فرما تے پین کر بندہ اس وقت تک پربھیزگارول کے درج کونیس پہوچ سکتا جب تک وہ ان
چیزوں کونہ چھوڑ دے جتنی میں کونی برانی نہیں ہے تاکروہاس طرح ان چیزوں سے پڑ سکن جتنی
برانی ہے۔
اس کی روايت تنزي او رابن بلحب نے کی ہے۔
ف : اس حدیث کی تشریح میں حاشیہ مشکوۃ میں لکھا ہے کہ حرام سے پچ کے کے مباح کو چھوڑ دینا چاہئے مثالاً
جبی عورت سے ضرورت بات کرسکتے ہیں گربات ذکر سے اس ذرے کہ بات کرناآمنہ حرام کاری کا زر لیئردن جائے
اوراشتعة الملعات میں امبر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقلاً گیا ہے کہ تم حلال کے دس حصوں میں سے نو
حصول کواس اندیشہ سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کبیلہ حرام میں بتلانہ وجہ میں۔
لقومہ حرام آگر کمالیاجا تو فوراً تق کردینا چاہئے
The servant can reach a state of piety when he abstains from things that are not inherently evil so that he may avoid those things that are evil. In the explanation of this hadith, it is written in the margin of Mishkat that one should refrain from the permissible to avoid the forbidden, for example, speaking with a woman when it is necessary to speak with her, but avoiding idle talk that could lead to forbidden actions. In Ash-Shi'ta al-Malik, it is reported from Amir al-Mu'minin Umar (RA) that you give up nine parts of what is lawful out of ten due to the fear that it might lead to something forbidden. If something becomes forbidden, it should be immediately abandoned.
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتے
یعنی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو اپنی کمالی میں سے آپ کو پچھڑا رہ جیسے
مقصد یا کرتا تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کو لیا کرتے ایک دن اس کے
کونی کمانے کی پیر پیش کی آپ نے اس کو حالیا اس غلام نے عرض کیا آپ کو پچھڑا معلوم ہے یہ جیسے
کیا تھی (اور میں نے کہا لے لا تی تھی؟ ) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرما کرتے ہی بتا کروہ کیا
جیزہ اس نے کہا کہ میں زمانہ جابلیت میں (جب کردار تھا) غیب کی باتمیں بتاتا (اور اس پر
معاوضہ کی لیتا) اور میں اس میں ماهر بھی نہیں تھا، تو ایک شخص کو میں نے غیب کی باتمیں بتامیں اور
میں نے (عدم مہارت کی وجہ سے) اس کو دھوکہ دیا آج (اتفاق سے) اس سے ملاقات ہوگی اور
اس نے (معاوضہ میں) یہ چیز دی اور میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے اس میں
سے پھر تناول فرما لیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (پس کر) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (حلق میں) انگلیاں دا لیس اور جوپڑے پیٹ میں تھا اس کو قلع کر دیا (اور پی کھی فرما لیا۔ اللہ! میرے بس میں جوہری تھا میں نے اس کو نکال دیا اور جو رہ گیا تو اس کو معاف فرمادے) اس کی روایت بخاری نے لکھا۔
شکاری کے کی خرید و فروخت کا جواز ایک حدیث
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: Abu Bakr had a servant who collected taxes for him, and he would eat from those earnings. One day the servant brought something, and Abu Bakr ate from it. The servant asked: "Do you know what this is?" Abu Bakr asked: "What is it?" The servant replied: "In pre-Islamic times, I pretended to foretell for a man (though I knew nothing of divination) and deceived him. Later he met me and gave me this for that deception - this is what you just ate." Abu Bakr immediately inserted his finger into his throat and vomited everything in his stomach. [Narrated by Bukhari]
(A similar narration about 'Umar drinking milk appears in the Book of Zakat)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور (وحش) کے کی قیمت لینے سے منع فرما لیا۔ البتہ شکاری کے کی قیمت (نی جاسکتی ہے)۔ اس کی روایت امام نسائی نے لکھا۔
ایضاً دوسرا حدیث
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) prohibited the price of cats and dogs except hunting dogs. [Narrated by Nasa'i with a good chain]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وحش) کے کی قیمت لینے سے منع فرما لیا۔ البتہ (شکار کے لئے) سدھا ہونے کے کی قیمت لی جاسکتی ہے۔ اس کی روايت امام احمد اور نسائی نے لکھا۔
ایضاً تیسری حدیث
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) forbade the price of dogs except trained dogs. [Narrated by Ahmad and Nasa'i]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کے کی قیمت لینے کی اجازت دی ہے۔ اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کی ہے۔ اور اس کی سنہ جید ہے۔
ایضاً چوتھی حدیث
The Messenger of Allah ﷺ has permitted taking the price of game. This is narrated by our Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him), and it is his sound tradition.
عنہم سے روایت کر تے پین کر ان کے دادا نے اکی شکاری کے کے قتل پر (کے کے ما لک کو قاتل
سے) چاپس ورتم (معاوضہ میں) دولاے اور پالتو کے (کے معاوضہ میں) ایک بگرا (دلا نے کا)
فیصلہ فرمایا۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
ایضاً پچویں حدیث
This narration is reported by Imam Tahawi. This is the sixth hadith.
عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ شکاری کے کی قیمت
لین میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
ایضاً چھٹی حدیث
There is no harm in taking payment for hunting.
زُہْری رحمۃ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب سدہا گے ہوئے
کے کو بلاک کر دیاجائے تو اس کی قیمت مقرر کی جائے اور قاتل پرتاوان لگا یاجائے۔ اس کی
روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
ایضاً ساتویں حدیث
When a castrated animal is blocked, its value should be determined, and the killer should be fined or punished. This narration is reported by Imam Tahawi.
ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ شکاری کے کی قیمت
لین میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
ایضاً آٹھویں حدیث
There is no harm in taking payment for hunting.
عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے شکاری
کے (کی قیمت کے معاوضہ) میں چاپس ورتم کا فیصلہ فرمایا۔
اس کی روایت امام بخاری نے اپنی تارتیب میں کی ہے اور سعید بن منصور اور تہقی نے بھی اس
کی روایت کی ہے۔
اس حدیث کے راویوں میں اسماعیل بین جحساس کے بیٹے بین جحن کوا بن حبان نے ثقت
میں ذکر کیا ہے۔
They ruled that the price of game could be paid in cheese and barley. Imam Bukhari has narrated this in his compilation, and Sa'id bin Mansur and Tahq have also narrated it. In the chain of this hadith, Isma'il bin Juhaysh, son of Juhaykwa bin Hiban, is mentioned as reliable.
اورسعید بن منصور اورزہق دونوں کی ایک اور روایت میں ہے۔
اس کمالی کا بیان جس کالینا متحے اوران پیشون کا بیان جن پلعنت کی گئی ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کی قیمت، زنا کی کمالی اور کا تن (آتشده کی باٹون کا بتا نے والا)
کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔
The Prophet ﷺ prohibited the price of wine, the reward for playing the flute, and the fee for pointing out the location of a fire.
اور بخاری کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی
قیمت (یعنی اس کی خرید و فروخت) کے کی قیمت زنا کار عورت کی کمالی سے منع فرمایا ہے
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کے لین والے، سود کے دین والے اور جسم کو گلد نے والی عورت اور گرد وا نے
والی عورت اور تصویر بنانے والے پلعنت فرمایا ہے۔
Abdullah ibn 'Amr ibn al-'As (may Allah be pleased with him) ruled the compensation for a hunting dog as forty dirhams. [Narrated by Bukhari in his Tarikh, Sa'id ibn Mansur, and Bayhaqi]
Another version adds: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the price of dogs, earnings of prostitutes, and payments to fortune-tellers."
Bukhari's version states: "The Prophet (ﷺ) prohibited the price of blood, price of dogs, earnings from prostitution, cursed the one who consumes interest and the one who pays it, the tattooist and the tattooed, and image-makers."
Sharh as-Sunnah adds: "The Prophet (ﷺ) prohibited earnings from musical instruments."
صلى الله عليه وسلم
اور ثرہح السنن میں یہی معنی میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا
پیشہ کرنے والی عورت کی کمالی سے بھی منع فرمایا ہے۔
ف(1) واضح ہوکہ جن احادیث شریف میں کتنی کی قیمت لین سے منع فرمایا گیا ہے یہ غیر شکاری کے ہیں
چنانچہ شکاری کتنی کی خرید و فروخت کے جواز کے بارے میں صدر میں کئی احادیث پیال کی گئی ہیں جسیا کہ اجوبہ را تقی
میں نذور کے اور تنسیق النظام فی مسند الامام میں کہاہے کہ کتنی کی قیمت کی ممانعت اس زمانے کا واقعہ ہے جب کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر کتنی کو بلاک کر نے کا حکم دیا تھا۔ پھر جب شکاری کتنی کے بارے میں آیت نازل ہوتی
تو حکم منسوخ ہوگیا اور کتنی کے فائدہ اٹھانے کی اجازت مل گئی۔
یہ ثرہح معانی الآثار میں نذور ہے۔
ف(2) حدیث شریف میں مصور پلعنت کا جوز کر ہے اس سے وہ مصور مراد ہے جو جاندار کی تصویرات کے
البتہ درخت اور نبات کی تصویرات نے والے پلعنت متتعلق نہ ہوگی، جسیا کہ مرقات میں نذور ہے۔
ہے پیشون کوڑر لیے معاش نہ بناناچا ہے
In the explanation of the Sunan, it is mentioned that the Messenger of Allah ﷺ said: 'He prohibited the perfection of a woman who engages in a profession.' It is clear from the noble hadiths where prohibition of taking a fee for hunting is mentioned, these refer to non-hunting animals. Therefore, several hadiths have been narrated in the beginning regarding the permissibility of buying and selling hunting animals, as mentioned in Ajwab al-Ra Taqi and Tanseel al-Nizam fi Musnad al-Imam, stating that the prohibition of taking a fee for animals was a contemporary issue when the Messenger of Allah ﷺ generally prohibited the use of animals. Then, when the verse about hunting animals was revealed, the ruling was abrogated, and permission was granted to benefit from animals. This is the explanation found in Tharah al-Ma'ani al-Athar. In the noble hadith, there is a mention of the permissibility of painting, referring to those who paint images of living beings. However, paintings of trees and plants do not fall under this prohibition, as mentioned in Murqat.
حضرت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ (فسد کولنا) کی اجرت (کے لیے اوراس کے اپنے استعمال کرنے) کی اجازت طلب کی تو حضرت اللہ ﷺ نے ان کو منع فرما لیئے انہوں نے حضرت اللہ ﷺ سے برابراس بارے میں کی باراجازت چاہی تو آپ نے فرمایا: (اس کی اجرت تم خودمت کھاچ) البتہ اس کو اپنے اونٹ کے چارہ کیلیے استعمال کرواوراپنے غلام کو کھلا دو۔ اس کی روایت امام ماکرترزدي ابوداواداورابن ماجہ نے کی ہے۔ ف : اس حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے یہی کی اجرت کے استعمال سے جوئح فرمایا ہے وہ یہی تزہیہے اس لے کر حضرت اللہ ﷺ کا مقصد مبارک یہ ہے کہ پیشون کے ذریعہ معاش نہ بنایا جائے اوراگر پیکمالی حرام ہوتی تو اس کو لیے اور غلام کو کھلا نے کی اجازت نہ دیتے اس لے کر قاکواس باٹ کی اجازت نہیں ہے کروہ غلاموں کو حرام مال کھلا دے جسیا کر مرقات میں نہ کروے۔
Muhayyisa (may Allah be pleased with him) sought the Prophet's (ﷺ) permission to work as a bloodletter, but he forbade him. After persistent requests, the Prophet (ﷺ) said: "Feed your camels and servants from its earnings." [Narrated by Malik, Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]
The hadith about "a bloodletter's earnings being foul" is either abrogated or refers to moral repugnance rather than legal prohibition.
Conditional payments for bloodletting are disliked (makruh).
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابو طیب نے رسول اللہ ﷺ کے سینگھی لگائی (یعنی فسد کولی) تو حضرت اللہ ﷺ نے (اس کے معاوضہ میں) ان کو ایک صاع طجور دینے کا حکم فرما اور (بطور سفارش) ان کا کلون کو یہ حکم دیا کہ ان کے خراج (یعنی حق غلامی) میں پچھلی کردیں۔ اس کی روایت بخاری اورمسلم میں مستقق طور پرکی ہے۔ ان چیزوں کا بیان جتن کی خرید فروخت حرام ہے اور مردار جانوراس کے مختلف اجزاء کا حکم
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "Abu Taybah performed cupping for the Messenger of Allah (ﷺ), who ordered that he be given a saa' of dates and instructed his family to reduce his tax burden." [Agreed upon]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فتخ کے سال کے معظموں پیارشاوفرما تے سنا کہ اللہ اوراس کے رسول اللہ ﷺ نے شراب، مردار جانور، خنزیر
اور بتون کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔ (یعنی کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مردار جانور کی چربی کے بارے میں کیا حکم ہوتا ہے؟ کیونکہ وہ کشتیوں (کے بتون) پر لی جاتی ہے۔ اور اس کے چمرے کو چکنا کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے (گھرون میں) چراغ جلتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ (اس سے کسی وقت مکافات نہیں ملتی۔ اس لیے کروہ) حرام ہے۔ اس کے بعد پھر آپ نے فرما یا اللہ تعالیٰ یہود کو بلاکر دے! کہ اللہ تعالیٰ نے جب مردار جانور کی چربی کو ان پر حرام فرما یا تو وہ اس کو پیسلا تے، تجارتی اور اس کی قیمت کو لیتے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر لی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that during the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah (ﷺ) declared:
"Allah and His Messenger have prohibited the sale of wine, dead animals, pork, and idols."
Someone asked: "O Messenger of Allah, what about the fat of dead animals? It is used for caulking ships, tanning leather, and as lamp oil."
He replied: "No, it is forbidden." Then he added: "May Allah curse the Jews! When He forbade them its fat, they rendered it (into oil), sold it, and consumed its price." [Agreed upon]
Darqutni narrated from Ibn Abbas:
"The Messenger of Allah (ﷺ) only prohibited the meat of dead animals - their skins, hair, and wool are permissible." Its chain includes Abdul-Jabbar ibn Muslim, whom Ibn Hibban deemed reliable, making the hadith at least hasan.
Darqutni also narrated from Umm Salamah (may Allah be pleased with her):
"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'There is no harm in using the skin of a dead animal after tanning, nor its wool, hair, or horns after washing.'" Its chain includes Yusuf ibn Abi As-Safar, a scribe of Al-Awza'i.
قطعنی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار جانور کے گوش کو حرام قرار دیا ہے۔ البتہ ان کی کہال، بال اور اون کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ اس حدیث کی سند میں عبد الرحمان بن مسلم بن حن کو ابن حبان اپنی کتاب ثقات میں بیان کیا ہے۔ (اور اس کتاب میں نہیں راویوں کا ذکر ہے جو ثقة ہیں) اس وجہ سے یہ حدیث حدیث حسن کے مرتہب سے نہیں گرتی۔
And from Ali ibn Talq: The Messenger of Allah ﷺ said, "If one of you passes wind, let him perform ablution. And do not approach the women in their behinds." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawood]
قطعنی نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اس طرح روایت کی ہے، ام المومنین فرما تی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یا ارشاد فرماتے سن کہ آپ فرما یا کرتے مردار جانور کی کہال کو دباغت و دیہی جائے تو (اس کے استعمال میں) کوئی حرج نہیں۔ اس طرح مردار جانور کے اون، بال اور سینگوں کو پانی سے دھولیا جائے تو (ان چیزوں کے استعمال میں بھی) کوئی حرج نہیں۔
اس حدیث کی سنن میں یوسف بن ابی السفر ایک راوی ہیں اور وہ امام اوزاعی رحمۃ اللہ کے
کاتب تھے۔
مردار چیز ولی خریدو فروخت حرام ہے
Narrated by Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ said: "If any of you feels something in his stomach and is unsure whether anything has been released or not, he should not leave the mosque until he hears (2) a sound or detects a smell." [Narrated by Muslim]
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے
ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو بلاک کر دے کہ ان پر چربی حرام کر دی گئی تو انہوں نے اس کو پچلا یا اور
اس کو پیچا (پھراس کی قیمت کمالی)۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم میں مستقیم طور پر کی ہے۔
اولاد کی کمالی والدین کے لیے خودان کی کمالی کی طرح ہے
Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"May Allah curse the Jews! They were forbidden animal fat, so they rendered it and sold it." [Agreed upon]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت سے وہ فرماتی ہیں کہ نبی
صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری بہترین کمالی وہ ہے جس کو تم خود کما کر کہا اور تمہاری اولاد
کی تمہاری کمالی ہے (جب تک ان کی کمالی کچھ تم کہاسکتے ہو)۔ اس کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ
جو کی ہے۔
The Prophet ﷺ said: 'Your best virtue is what you have earned yourself, and your offspring's virtue is yours (as long as their virtue can be attributed to you).'
اور ابوداود، دار قی کی ایک روایت میں پرالفاظ ہیں آدمی کی بہترین کمالی وہ
ہے جس کو وہ خود کما کر کہا۔ اور اس کی اولاد کی کمالی میں داخل ہیں اور ابوداود نے کہا کہ
جماد بن ابی سلمان کی روایت میں پرالفاظ زائد ہیں کہ (تم اپنی اولاد کی کمالی اس وقت کہا) جب
کہ تم ضرورت مند ہو۔
ف: واضح ہو کہ اگر والدین محتاج ہوں تو ان کا خرچ اولاد پر واجب ہے جب کہ وہ خود کما نے کے قابل نہ ہوں
اور اگر محتاج نہ ہوں یعنی جزبہ یہ ہو لے تب کچھ اولاد کے مال سے کہاسکتے ہیں اس لیے کہ اولاد کی کمالی والدین کے لیے
ان کی ذاتی کمالی کی طرح ہے۔ ماخوذ از مرقات وحدایہ۔
شراب کے کاروبار میں دل آومی لعنہ کے مستحق ہیں
In a narration reported by Abu Dawud from Dar Qutni, it is stated: 'The best perfection of a person is what he earns himself. And the perfection of his offspring is included in this.' Abu Dawud said: 'In the narration of Jamil bin Abi Salama, there is an addition: (You should speak of your offspring's perfection when you are in need.)' It is clear that if parents are in need, then their maintenance is obligatory upon their children, especially if they are unable to earn themselves. If they are not in need, meaning they have sufficient means, then some can still take from their children's wealth because the perfection of the offspring is like their own personal perfection. Taken from Maraqat al-Wahdah. Those who engage in the business of alcohol are deserving of curses.
اٰس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے شراب (کے کاروبار) کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنہ تبجی ہے (پچلون جیسے
اگورتے) (1) اس کا چوڑنے والا، (2) اس کا چوڑوا نے والا، (3) اس کا پینے والا، (4) اس کو اٹھا
کر لے جانے والا، (5) اس شخص پر جس کیلئے شراب لے جانے جاری ہو، (6) اس کا پلانے
والا، (7) اس کا پینے والا، (8) اس کی قیمت کھانے والا (اس کی آمدی کو استعمال کرنے
والا)، (9) شراب کا خریدنے والا (بطور والل کے اگر چاکروہ خود نہیں پیتا ہو) اور (10) وہ شخص
جس کیلئے شراب خریدی گئی ہو (اس سے معلوم ہوا کہ شراب سے متعلق جتنے کاروبار میں وہ سب
قابل لعنہ ہیں)۔ اس حدیث کی روایت ترجمہ اورابن ماجہ نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated:
"The Messenger of Allah (ﷺ) cursed ten types of people regarding wine: its presser, the one for whom it is pressed, its drinker, its carrier, the one to whom it is carried, its server, its seller, the one who consumes its price, its buyer, and the one for whom it is bought." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
ابن عمر رضی اللہ عنهما سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
شراب پر لعنہ فرماتے ہے (اس لے کروہ امام الخبائث لحمی ساری خراپول کی جگہ اوراسی طرح
شراب کے پینے والے اور پلانے والے، اس کے پینے، والے، اس کے خریدنے والے، اس کے
پوڑنے والے، اس کے چوڑوانے والے، اس کے اٹھانے والے اوراس شخص پر جس کیلئے شراب
لے جانے جاری ہے لعنہ فرماتے ہے۔ اس کی روايت ابوداوداورابن ماجہ نے کی ہے۔
گا نا سکھانا اورگا نے والیوں کی خریدوفروخت منع ہے
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
شراب پر لعنہ فرماتے ہے (اس لے کروہ امام الخبائث لحمی ساری خراپول کی جگہ اوراسی طرح
شراب کے پینے والے اور پلانے والے، اس کے پینے، والے، اس کے خریدنے والے، اس کے
پوڑنے والے، اس کے چوڑوانے والے، اس کے اٹھانے والے اوراس شخص پر جس کیلئے شراب
لے جانے جاری ہے لعنہ فرماتے ہے۔ اس کی روایت ابوداوداورابن ماجہ نے کی ہے۔
گا نا سکھانا اورگا نے والیوں کی خریدوفروخت منع ہے
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Allah has cursed wine, its drinker, its server, its seller, its buyer, its presser, the one for whom it is pressed, its carrier, and the one to whom it is carried." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]
ابوامہ رضی اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
فرماتے ہیں کہ گا نے والی لوئیوں کون تو پچواورنے خریداورنے ان کوگا نا سکھاواوران کی قیمت (کا
استعمال کی) حرام ہے اور اسی میں چیز ول کے بارے میں، یا آیت نازل ہوئی ہے: "وَمِنَ
النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهُوَ الْحَدِيثِ"۔ (سورۃ لقمان، پ:21، ع:1، آیت
نمبر:6) "لوگوں میں بعض ایسے ہیں جو لهو و لعب کی (بے فائدة) اور کے کی چیز ول کو
خریدتے ہیں"۔
اس کی روایت امام احمد زندی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Do not sell female singers, do not buy them, do not teach them (music), and their earnings are unlawful. About such matters was revealed: 'And among people are those who purchase idle talk...' (Luqman 31:6)" [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, and Ibn Majah]
Tirmidhi noted: "This is a gharib hadith with a weak narrator (Ali ibn Yazid)."
Ibn Majah's version states: "The Prophet (ﷺ) prohibited selling female singers."
اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ابو امہ رضی اللہ عنہ سے یہی مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والی باند پول کی خبر پر فروخت سے منع فرمایا۔
the Messenger of Allah ﷺ prohibited trading on the news of a dam being built.