(اس کتاب میں دعاوں کی فضیلت اوراس کے استحباب کا بیان ہے )
This book elucidates the virtues of supplications and their desirability.
وقول الله عزوجل اجيب دعوه الداع اذا دعان اورالل تعالي كا ارشاد ك
( سورۃ بقرہ، آیت نمبر:186، میں ) جب دعا کرنے والا میرے حضور میں دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا
قبول کر لیتا ہوں -
In Surah Al-Baqarah, verse number 186, it is stated: When the supplicant invokes me in My presence, I hear his invocation.
I accept -
وقول ادعوني استجب لكم اورالل تعالي كا ارشاد سور مومن ايت
نمبر:60، میں ) تم دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا -
ف : صاحب مرقات نے کہاہے کہ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایاہے کہ تمام علماء اورالعلم فتوی کا
ہر زمانہ میں ہر مقام پراس بات پراجماع رہاہے کہ دعا کرنا مستحب ہے اورقرآن وحدیث اورانبیاء
کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے واقعات اس کی دلائل ہیں -
ف : صدر کی دونوں آئینوں میں ارشاد ہے کہ جب بندہ دعا کرے تو اللہ تعالی بندہ کی دعا قبول
فرماتے ہیں دعا قبول کرتے ہیں مراد یہ ہے کہ جب بندہ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرما تے ہیں
لبیک عبدی ( اے بندے میں نے تیری دعا علی لے ) اوریہ بات بہ بندہ مومن کے لے حاصل ہے
جب کچھ وہ اللہ تعالی سے دعا کرے لیکن مقبولیت دعا کا مقصد نہیں ہے کہ ہر دعا اس وقت ہوا سکی
خواہش کے مطابق ہی پوری ہوجائے - اس لے کر بعض اوقات بعض دعا بندہ کے لے منفی نہیں ہوتی
اور بعض دفعا ایسا ہوتا ہے کہ قبولیت دعا کے لے جوثر اظہین وہ پورے نہیں ہوتے یا پھر ایسا کچھ ہوتا
ہے کہ اللہ تعالی کسی بندہ کے پکارنے کو پسند کرتے ہیں - اورچاہے ہیں کر وہ دعا کرتا رہے چنانچہ
حضرت میں بن سعید رحمہ اللہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی کو خواب میں دیکھا کہ اورعرض کیا:
خداؤند ! میں نے کتنی بارآپ کو پکارا لیکن آپ نے میری پکار نہیں سنی اورمیری مراد پوری نہیں ہوتی -
تو اللہ عز و جل نے فرمایا: اے میں میں چاہتا ہوں کہ تمہاری پکار کو بار بار ستارہول - بھر حال دعا کی قبول کرتا ہوں۔ اگر تو میں میں صورت میں ہیں۔ اگر تو بیعہ دعا قبول کر لی جائے تو اس کے معادہ میں کوئی دینی آفت دور کروں جائے تو اس کو آخت میں اس کی دعا کے معادہ میں اس کے درجات بلند کر جائے۔ میں جسیا کرا حادیث میں اس کی صلاحت ذکور ہے۔ میں میں تفسیرات احمدیہ میں مذکور ہے۔
حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی مقبول دعا کو اپنی امت کے لیے محفوظ رکھی ہے۔
Number: 60, (O Prophet,) you pray, and I will accept your prayer.
The author of Mirqat has stated that Imam Nawawi, may Allah have mercy on him, has said that all scholars and the science of issuing fatwas,
In every era and at every place, it has been a matter of consensus that making supplication (dua) is recommended, as evidenced by the Qur’an, Hadith, and the Prophets (peace be upon them).
The incidents of the noble ones, peace and blessings be upon them, are its evidences -
In both the eyes of the head, it is indicated that when a servant makes supplication, Allah, the Exalted, accepts the servant’s prayer.
It is said: 'O Allah, accept the supplication.' The meaning is that when the servant invokes Allah, the Exalted, Allah, the Exalted, responds.
Labbayk 'abdi (O servant, I have accepted your prayer) and this is a matter that has been obtained for the believing servant.
When someone prays to Allah Almighty, the purpose of acceptance of prayer is not that every prayer should be fulfilled immediately.
It is granted according to one's desire - hence, sometimes the supplication of some worshippers is not accepted.
And sometimes it happens that the conditions necessary for the acceptance of prayer are not fully met, or something else occurs.
It is that Allah, the Exalted, favours the invocation of His servant and desires that he continues to supplicate, thus.
The incident of Hazrat Mu‘awiya bin Sa‘id (RA) is that he saw Allah Almighty in a dream and presented himself before Him:
O Lord! I have called upon You many times, but You have not heard my call, and my desire has not been fulfilled.
Thus, Allah, the Exalted and Glorious, has said: 'O My servant, I wish that you call upon Me repeatedly, and I will answer your prayers abundantly. If you call upon Me in My presence, I will accept your prayer. If you make a vow and your prayer is accepted, then any religious calamity that you seek to avert will be removed, and in the end, your ranks will be elevated in return for your prayer. This is mentioned in the Hadith narrated by Jisya. It is also recorded in the Tafsir Ahmadiah.'
The Blessed Prophet ﷺ has preserved his beloved supplication for his ummah.
ابو بریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یہ کہ (سنن الہی ہے کہ) ہر نی کو اس کی امت کی بجلاتی یا مخالفین کی بر باہی کے لیے) ایک دعا کا حق دیا گیا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا اور بر نی کے دنیا میں اپنی اس دعا کے کر لی میں جلدی کی (اور بر نی کی دعا قبول ہوتی رہی۔ جسیا کہ حضرت نوح اور حضرت صاحب علیہ السلام نے اپنی اپنی نفرمان امت کے لیے بد دعا کی تو ایک طوفان کے ذریعہ اور دوسری کو صیحہ لعنی چیز کے ذریعہ بلاک کر دیا گیا۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ) میں اس مقبول دعا کے حق کو قیامت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا ہے۔ (محفوظ) رکھا ہے ان شاء اللہ میری پیش فاعت میرے بر امت کو نصیب ہوگی۔ جوابیان پراس حالت میں وفات پائے کروہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کی کوشش کی جیسے کرتا تھا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور بخاری نے مختصر الفاظ میں اس کی روایت کی ہے۔ ف: واضح ہے کہ اس حدیث شریف میں ارشاد کے امت کی کچھ کی دعا جب کروہ ایمان پروفات پا کیں۔ اس سے پیچھی معلوم ہوا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر بری شفاعت کی کا پی مقبول اور خاص دعا کو آپ نے اپنی امت کی شفاعت کے لیے اتحار کی اور مثال کی بر باہی کے لیے استعمال کیے فرمائیں۔ قربان اس نے رحم و کریم پر۔
اگر کسی مومن کو اپنی طرف سے ایذارسانی ہوتی ہے تو
اس کے حق میں دعا کے خیر کر دینی چاہئے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Every prophet was granted a supplication that would be answered. Each hastened to use it, but I have reserved mine as intercession for my ummah until the Day of Resurrection. It will, Allah willing, benefit whoever dies in my ummah without associating partners with Allah" [Narrated by Muslim; Bukhari has a shorter version]
وَسَلَّمَ اِرشَاد فَرمايے میں کر آے اللہ آپ سے میری ایک درخواست ہے کر (آپ کی شان کر بی سے
میں امید ہے کر آپ اس بارے میں مجھے برگزہ برگزنا امید نہیں کریں گے لیکن میری درخواست کو
ضرور قبول فرما لیں گے ) کہ میں تو ایک بشر ہوں (اور بتقاضا بشریت) اگر مجھے کسی مومن کو
کوئی تکلیف پیوچی ہو کر میں نے اس کو برا کہا تو یا لعن کی ہو یا مارا ہو تو اسی مومن کے حق میں
رحمت (اور گناہول سے) پانی کا سب اور قیامت کے دن اپنی قربت کا ذریعہ بنادتکہ اس کی
روايت بخاری اور مسلم نے متفرق طور پر لی ہے۔
جائزہ
دعا میں پختہ ارادہ ہوتا لیکن رکھتے ہوئے اپنے مقاصد کو طلب کرنا چاہئے
In supplication, one should have a firm intention, but while standing, one should seek their objectives.
ف : صاحب مرقات نے کہا ہے کہ صدر کی حدیث سے پیستفاد ہوتا ہے کہ اگر کسی مسلمان
نے اپنے بجاۓ کے لے بد دعا کی ہو تو وہ اس کے لے نکی دعا کر دے تا کہ اس بد دعا کی تلافی ہو
وَسَلَّمَ اِرشَاد فَرمايے میں کہ جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اس طرح نہ کہ کر آے اللہ آگر آپ
چاہیں تو مجھے بخش دیں ! اگر آپ چاہیں تو مجھے برتم فرما ئے اگر آپ چاہیں تو مجھے روزی دیں
چونکہ پیشک کے کلمات میں اس لے ان الفاظ سے دعا نہ کرے بلکہ عزم بالجزم لیکن پختہ ارادہ کے
سا تے (اللہ تعالی سے اپنے مقصد کو) طلب کرے (اور ان کی تقویت پر لیکن رکے) اس لے کر اللہ
تعالی جو چاہے میں دے کرے میں اور ان پر کوئی زبردستی کرے والانہیں (وہ جو کرے میں اپنی خوشی اور
مرضی سے ایک رات بیٹھے - و عاء کر تے وقت شک کے الفاظ کو استعمال کرنا بے پرواہی کو ظاہر کرتا ہے - غلام کو تو پیچاپڑ کے اپنے آقا سے گرگرا کرما لگے - اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے
Marzi said: 'One night I sat with him - and using the words of doubt while making wudu shows carelessness - it seems to me that the slave should tremble before his master.' This hadith has been narrated by Bukhari.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اس طرح نہ کچھ کہ : اے اللہ اگرآپ پچاپڑ تو نہیں بخش دیتے بلکہ لیقین کے ساتھ دعا کرے اور پوری رغبت اور زاری کے ساتھ دعا کرے اس لے کر اللہ تعالی کے لے کسی چیز کا دینا کوئی برطی باٹ نہیں ہے جبکہ وہ دیناچاہیں - اس کی روایت مسلم نے کی ہے -
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When supplicating, do not say, ‘O Allah, forgive me if You will.’ Rather, be decisive and magnify your request, for nothing is too great for Allah to grant" [Narrated by Muslim]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ : اپنی دعا کی مقبولیت کا لیقین رکھ کر اللہ تعالی سے دعا کرے تو اللہ تعالی تہاری دعا ظرور قبول فرمائیں گے ) اور جان لو کہ اللہ تعالی ایسی دعا کو قبول نہیں فرماتے ہیں جو ( بغیر اخلاص ) کے غفلت وا لے دل اور بے پرواہی کے ساتھ کی جائے ( کہ جس میں و جمعی نہ ہو ) - اس کی روایت ترمذی نے کی ہے -
دعا کی قبولیت میں جلد بازی نہیں کرنا چاہئے
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Call upon Allah with certainty of response, and know that Allah does not respond to a supplication from a heedless heart" [Narrated by At-Tirmidhi]
(2) The statement: "From a heedless heart", If one supplicates absentmindedly, it is still better than not supplicating, especially if done with tenderness or if unable to focus. As in Fatawa Qadi Khan (Al-‘Alamgiriyyah)
ف : فتاوی عالمگیری میں فتاوی قاضی خالد کے حوالے سے کہا ہے : افضل یہ ہے کر دعا کو رقت اور و جمعی کے ساتھ کرے اگر دل جمعی نہ ہو تو بھی افضل یہ ہے کر دعا کرے نہ کو تڑک نہ کرے بلکہ دعا کرنا رہے - اہ مرقات میں کہا ہے کر دعا کے لے ان اوقات اور ان مقامات کو تلاش کرنا چاہئے جن میں مقبولیت دعا کے مواقع مہیار ہیں
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ
و سلم ارشاد فرماے جیس کہ بندہ کی دعا کے بھیش قبول کی جائے تو اس کی دعا کے لئے پہلے کہ کسی کو دعا کرے۔ اور میرے باپ میں جدائی کیلے اور دعا کے قبول کرنے میں جلد بازی کرے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (دعا میں جلد بازی کرنا چاہیے اور دعا کرنے والا) پیکہ کہ میں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (دعا میں جلد بازی کرنا چاہیے اور دعا کرنے والا) پیکہ کہ میں نے بار بار دعا کی مگر قبول نہیں ہوتی اور ماپوس ہو کر پیٹ پڑتا جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A servant’s supplication is answered as long as he does not ask for sin or severing ties of kinship, and as long as he does not become impatient." It was said: "O Messenger of Allah, what is impatience?" He said: "He says: ‘I have supplicated, I have supplicated, but I have not seen a response,’ so he becomes frustrated and abandons supplication." [Narrated by Muslim]
(3) The statement: "As long as he does not become impatient," etc. Al-Nawawi said: "This indicates that one should persist in supplication and not consider the response delayed." Al-Kirmani said: "Here, the condition for the supplication being answered is the absence of haste and refraining from saying, ‘I supplicated but was not answered.’" This is mentioned in ‘Umadat al-Qari. Ali al-Qari said: "The response comes in different forms: either granting exactly what was asked at the desired time, delaying it for a wisdom that necessitates postponement, warding off an equivalent evil, giving something better than what was requested, or storing its reward for a day when the supplicant will be in greater need of it."
جا بر ضی اللہ علیہ روایت ہے و فرما تے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما ہے جیس کہ بد دعا کیا کرو نہ اپنی جانوں کے لئے نا پچی اولاد کے لئے اور نہ اپنے اموال کے لئے کہیں اپنے ہو جائے کہ تمہاری بد دعا ایسے وقت میں ہو جائے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بن دون کی دعا قبول کرتے ہیں (اگر تمہاری بد دعا اس وقت واقع ہوتی) پیکہ قبول کر لی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض نادان غصہ اور مصیبت کے وقت جو بد دعا کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس سے خود ان کو پریشانی لاٹی ہوتی ہے۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not supplicate against yourselves, do not supplicate against your children, and do not supplicate against your wealth, lest you coincide with a time when Allah grants what is asked, and He answers your supplication." [Narrated by Muslim]
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما ہے جیس کہ دعا کی اصل عبادت ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ وقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔ (سورۃ مومن، آیت نمبر:60) (تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کر لگا)۔
اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداود، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کو امام کے لیے اللہ تعالیٰ نے بندول کر دیا کرے
کا حکم دیا ہے اور جس چیز کا حکم دیا جاتا ہے اس کا جا لا نا عبادت ہے لہذا دعا عبادت ہی ہے۔
مرقات12
دعا کو عبادت کا مغز ہے
Al-Nu’man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Supplication is worship." Then he recited: And your Lord says: Call upon Me; I will respond to you (Ghafir 40:60). [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa’i, and Ibn Majah]
اَنس رضي الله عنه روايت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم
ارشاد فرما ہیں کہ: دعا کو عبادت کا مغز اور خلاصہ ہے (اس لئے کہ عبادت کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے
آگے ذلت اور زاری کا اظہار ہے اور یہ دعا میں بدرحمت حاصل ہے اس لئے دعا کو عبادت کا مغز
قرار دیا گیا ہے)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
الیہا وسری حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Supplication is the essence of worship." [Narrated by Tirmidhi]
ابو هریرہ رضي الله عنه روايت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ: رسول الله صلى الله عليه وسلم ارشاد فرما ہیں کہ (ازکار میں) اللہ تعالیٰ کے پاس دعا سے بڑھ کر کوئی چیز فضل نہیں
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما ہیں کہ (ازکار میں) اللہ تعالیٰ کے پاس دعا سے بڑھ کر کوئی چیز فضل نہیں
ہے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
دعا کے قضاء کی بدل جاتی ہے
The supplication's outcome changes.
سلمان فارسی رضي الله عنه روايت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم ارشاد فرما ہیں کہ (قضاء متعلق) کو کوئی چیز بھر دعا کے نہیں بدل سکتی اور بھر نہیں کے عمر کو کی
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما ہیں کہ (قضاء متعلق) کو کوئی چیز بھر دعا کے نہیں بدل سکتی اور بھر نہیں کے عمر کو کی
چیز میں برداشتی۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
الیہا وسری حدیث
Patience in adversity. This is reported by at-Tirmidhi.
عبدالله بن عمر رضي الله عنهما روايت ہے وہ فرما تے ہیں کہ دعا کے بلاء
روایت ترجمي نے کی ہے۔
This is a translation.
اور امام احمد نے اس کی روايت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کی ہے۔
قضاء کی فتمیں
ف: صاحب مرقات نے کہاہے کر قضاء کی وفتیمین ہیں: ایک معلق اور دوسرا محکم قضاء
معلق یہ کہ کسی چیز کے مشروط ہوتی ہے مثلًا لو ح محفوظ میں اس طرح کہتا ہوا ہوتا ہے کہ اگر فلان
شخص نچ نکرے یا جہاد نکرے تو اس کی عمر چا لیس برس ہوگی۔ اور اگر نچ یا جہاد کرے تو اس کی عمر
ساٹھ برس کی ہوگی۔ تو ایسی قضاء تو دعاء سے بدل جاتی ہے اور مصیبت طل جاتی ہے قضاء کی دوسری فتم
قضاء مبرم ہے اور پر ایسی قضاء سے جو بدی نہ ہو لیکن دعا سے صبر اور اطمینان حاصل ہوتا ہے اور
مصیبت گران نہیں معلوم ہوتی بلکہ مصیبت اور بلاء میں ایسی لذت حاصل کرتے ہیں جیسے ابل دنیا
نغمتوں سے لطف حاصل کرتے ہیں علاوہ ازیں انسان کواس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کون سی قضاء معلق
ہے اور کون سی مبرم اس لے اس کوہر حال ت میں دعا کرتے رہنا چاہئے۔ 12
اگر کسی کی دعا قبول نہ ہو تو اس کے بدل میں کوئی بلا عور کر دی جاتی ہے
The types of divine decree (qadar): The author of Mirqaat says that there are two types of divine decrees: one is conditional (mu'allaq) and the other is firm (muhkam). The conditional decree is contingent upon certain conditions, such as when Luqman would say while advising his son, 'If so-and-so does not do this or that, then his life will be forty years long. But if he does this or that, then his life will be sixty years long.' Such a decree can be changed by supplication, and calamities can be averted. The second type of decree is the firm decree, which is not bad but through which patience and reassurance are obtained, and calamities are not perceived as heavy. Rather, one finds pleasure in trials and tribulations as one finds pleasure in the songs of this world. Moreover, a person does not know which decree is conditional and which is firm; therefore, one should continue to supplicate in every situation. If someone's supplication is not accepted, then some calamity is given to him instead.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے و فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ارشاد فرماتے ہیں کہ: جب کوئی بندہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ہے چیز دے دیتے ہیں جس کو ہے
ماگلتا ہے (اگر وہ اس کے مقدر میں ہے یا اس میں اس کی بجلاتی ہے) تو اللہ تعالی اس کے بدل میں اس سے اس کی ایس
نہیں ہے یا اس میں اس کی بجلاتی نہیں ہے) تو اللہ تعالی اس کے بدل میں اس سے اس کی ایس
رنگ یا بلا کو دور کر دیتے ہیں (جس سے اس کو اتی، یا اور خوشی حاصل ہوجاتی ہے جواس کے دعاء کے
قبول ہو نے پر حاصل ہو سکتی ہے) بشرطید وہ کسی گناہ یا رشتہ توڑنے کی دعاء نہ کرے۔ اس کی روایت
تنزی نے کی ہے-
وعاء کر نے والاہر حثیت سے بامراد رہتاہے
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No one supplicates but that Allah grants him what he asked or wards off an equivalent evil, as long as he does not supplicate for sin or severing ties of kinship." [Narrated by Tirmidhi]
ابوسعید خدری رضي اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ: جب کوئی مسلمان کوئی دعا کر لے اور اس دعا میں کسی گناہ یا رشتہ
توڑنے کی طلب نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس دعا کے بدلے میں ان میں سے کوئی ایک چیز عطا
کردیتے ہیں:
(1) یا تو اس کی دعا قبول فرما کر اس دنیا میں اس کے مقصد کی تکمیل فرما دیتے ہیں-
(2) یا اس کے بدلے میں اس کے لئے آخرت میں ذخیرہ بنادیتے ہیں - (جو آخرت میں
اس کے کام آے گا)-
(3) یا فراس کے بدلے میں اس کے کسی ایسے رنج یا بلا کو دور کر دیتے ہیں - (جس سے اس کو
انتہائی راحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے جو اس کی دعا قبول ہونے پر ہوتی ہی-
(پیس کر) صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب دعا کے اتنے برکے ہو اند ہیں اور دعا
کرنے والاہر حثیت میں بامراد رہتاہے تو ہم کثرت سے دعا کریں گے تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرما یتم (جتنی دعا کیں کرو گے) اللہ تعالیٰ کواسے زیادہ دینے والا پاقے (اس لئے کہ
اللہ تعالیٰ کے خزاں میں ختم نہیں ہوتے اور اس کی چیز کا کوئی طھاک نہیں! اور تم زیادہ سے زیادہ ما نگ کر
اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے)- اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے-
مصیبت کے درگہ ہونے کا انتظار کرنا مہترین عبادت ہے
Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "No Muslim supplicates with a supplication that does not involve sin or severing ties of kinship but that Allah grants him one of three things: either He hastens the fulfillment of his supplication, stores it for him in the Hereafter, or averts an equivalent evil from him." They said: "Then we should supplicate abundantly?" He said: "Allah’s bounty is greater." [Narrated by Ahmad]
ابن مسعود رضي اللہ عنه سے روايت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ارشاد فرما یے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ اس کے فضل کو ماگو (اس لئے کہ وہ برکہ کریم منعم وہاب
اور غنی ہیں) اور اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرے یعنی کہ ان سے مانگا جائے یا اور بہترین عبادت یہ ہے کہ (بلاء اور مصیبت کی غیرول سے شکایت کے بغیر اللہ تعالیٰ سے) بلاء کے دفع ہونے کا انتظار کیا جائے۔ اس کی روایت ترنزی نے کی ہے۔
Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Ask Allah of His bounty, for Allah loves to be asked. And the best form of worship is waiting for relief." [Narrated by Tirmidhi]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے یعنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے یعنی کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے سوال اور دعا کرنا اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتے ہیں (اس لیے کہ سوال اور دعا کا چھوٹا دینا تکبر اور استغناء سے جو بندگی کے منافی ہے)۔ اس کی روایت ترنزی نے کی ہے۔
عافیت کا سوال اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever does not ask Allah, He becomes angry with him." [Narrated by Tirmidhi]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے یعنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے یعنی کہ تم میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھل جائے (یعنی اس کو دعا کی توفیق ملے) تو گویا سے کے لیے رحمت کے کئی دروازے کھل جائے یعنی۔ (کہ بھی تو یعنی اس کا مقصد و نیا، یعنی پورا ہوجاتا ہے یا سے کے بدلے میں و نیا کی کوئی مصیبت و فغ ہوجاتی ہے یا پھر اس کے لیے دعا، ذخیرہ آخرت بنادی جائے ہے) اور عافیت (یعنی ایمان کی سلامتی اور دنیا کی بحالی) کا ماننا اللہ تعالیٰ کے پاس تمام سوالوں سے زیادہ پسند ہے۔ اس کی روایت ترنزی نے کی ہے۔
خوش حالی کے وقت کچھ کرنا کرتے تو دعا کرنا رہنا چاہیے
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever among you is granted the door of supplication is granted the doors of mercy. And nothing is more beloved to Allah than to be asked for well-being." [Narrated by Tirmidhi]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے یعنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے یعنی کہ: جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ مصیبتوں کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول
فرماے تو اس کو چاہے کہ فراغتی اور خوش حالی میں کرتے سے دعا کیا کرے۔
اس کی روایت ترتیب کی ہے۔
دعا کرنے کا مسنون طریقہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever would like Allah to respond to him during hardships should supplicate abundantly during times of ease." [Narrated by Tirmidhi]
ما کہ بن پیارضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال اور دعا کرو تو اپنے باہوں کو انہا کرو اے
کیا کرو اس طرح کہ تھیلیوں کارخ آسان کی طرف رہے اور باہوں کو اس طرح کر دعا مرت مانگو
(اس طرح کہ باہوں کی پیٹہ آسان کی طرف ہوجائے)۔
The Messenger of Allah ﷺ said: 'When you ask Allah, the Exalted, and supplicate to Him, place your hands in such a way that the palms face towards the sky, and raise your hands as if you are about to receive something, so that the palms are directed towards the sky while you make your supplication.'
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے (تہیلیوں کارخ آسان کی طرف رکھ کر) باہوں کو پچھلا ہوارکر کر
دعا کیا کر واور (تہیلیوں کی پیٹہ آسان کی طرف رکھ کر) دعا نہ کیا کرو اور دعا سے فارغ ہو کر
تہیلیوں کو اپنے چھوڑ پر چھیر لیا کرو اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
دعا کی وضاحت
ف: فتاوی عالمگیری میں "مجموع الفتاوی" کے حوالے کے لحاظ سے حضرت محمد بن الحسن رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دعا کی چار وضاحتیں ہیں:
(1) دعا کے رغبت (2) دعا کے رہبت (3) دعا کے تضرع (4) دعا کے خفیہ
(1) دعا کے رغبت: بندہ کے اپنے حصول مقاصد کے لیے عموماً جودعا کی جاتی ہے اس کو
دعا کے رغبت کہتے ہیں۔
اس دعا کے کرنے کا طریقہ یہ کہ دعا کرتے وقت اپنے دونوں باہوں کی تہیلیوں کارخ
آسان کی طرف کیا جائے جیسا کہ صدر کی حدیث میں ذکور ہے اور افضل یہ کہ دونوں تہیلیوں کو
پچھلا کراس طرح رکھیں کہ پس میں لڑ جائیں اور ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رہے۔ اور
دونوں باتوں سے متعلق رہیں۔
(2) "دعا کے رہبت" یعنی کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے کسی شر اور بلاء سے دفع کرنے کے لیے
استغاثہ کرے۔
اس دعا کے کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس طرح انسان دشمن سے نجات کے لیے اپنے باہوں
کی پیٹھ کو اپنے پیٹ کی طرف کر لیتا ہے اس طرح دعا کرنے والے بھی اپنی تحقیبوں کو الہ کران کا رخ
زمین کی طرف کرے اس طرح کہ ان کی پیٹھ آسمان کی طرف ہو۔
(3) "دعا کے تضرع" یعنی الحاح اور زاری کی دعا ہے۔
اس دعا کے کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دعا کرنے والا اپنے سیرہ باتوں کی شہادت کی انتقال
آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعا کرے، اس طرح کہ خضر اور بندری عین سیدہ باتوں کی آخری
چحوئی انتقال کے بعد والی انتقال کو بند کرے، اور اگلو تیسرا انتقال سے حلقو بنانے کے لیے
(4) "دعا کے خفیہ" یعنی پوشیدہ دعا ہے جس کو بندہ اپنے رب سے دل میں کر لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سائل کو خالی باتوں لوٹانے سے شرما تا ہے
Malik ibn Yasar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you ask Allah, ask Him with the palms of your hands, and do not ask Him with their backs." In the narration of Ibn Abbas: "Ask Allah with the palms of your hands, and do not ask Him with their backs. When you finish, wipe your faces with them." [Narrated by Abu Dawud]
(1) The statement: "With the palms of your hands," etc. It is preferable in supplication to extend both hands with a gap between them, without placing one hand over the other. If one is in a state of difficulty or extreme cold, pointing with the index finger suffices in place of extending the hands. Muhammad ibn al-Hanafiyyah said: "Supplication is of four types: supplication of desire, supplication of fear, supplication of humility, and silent supplication. In the supplication of desire, one turns the palms upward; in the supplication of fear, one turns the backs of the hands toward the face like one seeking refuge from harm; in the supplication of humility, one folds the little and ring fingers, circles the thumb and middle finger, and points with the index finger. Silent supplication is what one does inwardly." This is mentioned in Majmu’ al-Fatawa, quoting from Sharh al-Sarakhsi for Mukhtasar al-Hakim al-Shahid in the chapter on obligatory prayer. As mentioned in al-‘Alamgiriyyah.
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: تمہارا پروردگار بڑا حیاء اور کرم ہے جس کی بخیر ما گے دین والا ہے وہ
اپنے بندہ سے شرما تا ہے جبکہ اس کو خالی باتوں واپس کرے جب کہ بندہ (دعا کی) اپنے باہوں کو
اس کی طرف اتجا تا ہے (اس سے معلوم ہوا کہ موسیٰ کی دعا خالی نہیں جائی یا تو دنیا میں قبول ہو جائی
ہے یا آخرت میں اس کا بدلہ ملے گا)۔
اس حدیث کی روایت ترجمہ اور بوداود نے کی ہے اور تہذیب نے اس کی روایت "روایات کبیر"
میں کی ہے۔
استسقاء کے وقت دعا کے باہو کمال تک اتجا نا چاہیے
Salman (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Your Lord is Ever-Living and Generous; He is too shy to let His servant return empty-handed when he raises his hands to Him." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and al-Bayhaqi in al-Da’awat al-Kabir]
انس رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
استسقاء ( جسیما کے مرقات میں نذور بھی -12 ) کے موقع پر اپنے دونوں باٹحول کو اتنا او پچا کرتے
تھے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔
اس کی روایت تیہتی نے دعوات کبیر میں لی ہے۔
الیہا وسری حدیث
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would raise his hands in supplication until the whiteness of his armpits was visible." [Narrated by al-Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]
(2) The statement: "The whiteness of his armpits." In another narration: "Level with his shoulders." In yet another narration: "The Messenger of Allah (ﷺ) did not raise them beyond this," meaning to the chest, indicating that sometimes he would supplicate with hands raised to the chest, and other times (as in intense situations like seeking rain) he would raise them higher until the whiteness of his armpits or shoulder level became visible. This is mentioned in Mirqat al-Mafatih.
سحل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( استسقاء کے موقع پر ) دعا کرتے وقت اپنے دونوں باٹحول کی
انگلیوں کو اپنے دونوں شانوں کے برابر اٹھا کر پچھلا تے تھے۔
اس کی روایت تیہتی نے دعوات کبیر میں لی ہے۔
استسقاء اور تضرع کے وقت باٹحول کو اٹھانے کی کیفیت
Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (ﷺ) that he said: "He would place his two fingers opposite his shoulders while supplicating." [Narrated by al-Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]
ف : صدر کی دو حدیثوں میں جویہتی سے مروی ہیں ان میں سے ایک میں نذور سے کے حضور
صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے وقت اپنے باٹحول کو اس قدر او پچا کرتے تھے کہ آپ کے بغل کی سفیدی نظر
آتی تھی۔ اور دوسری حدیث میں اس طرح نذور سے کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے وقت اپنے
باٹحول کو اپنے شانوں کے برابر اٹھا تے تھے اور ایک روایت میں اس طرح نذور سے کے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم دعا کے وقت باٹحول کو سینہ تک اٹھا تے تھے اور اس سے زائد بلند نہیں فرماتے تھے۔
واضح ہو کہ دعا کے وقت باٹحا ظاہر نے کے بارے میں جو وصورتیں حدیثوں میں وارد ہیں اس
بارے میں تحقیق یہ کہ عموماً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے وقت باٹحول کو سینہ کے برابر اٹھا تے
تھے دوسری صورت لیجنی باٹحول کو شانوں کے برابر اٹھانا یا استسقاء اور مصائب کے وقت دعا کے موقع
پر ہوا کرتا تھا۔ اس طرح دونوں روايتوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ پیرقات سے ماخوذ ہے۔
عن محمد رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ نے فرمایا کر (استسقاء کے موقع پر) (جبکہ عالمگیری میں نذورہ -12) دعا کر نے کا ادب
پیش کر تم اپنے دونوں ہاتھوں کواپنے شانوں کے برابران کے قریب قریب اٹھاوے اور استغفار
کرنے کا طریقہ پیش کر تم شہادت کی انگل اوپراٹھا کر اشارہ کرتے ہوئے استغفار کرواوردعاے میں
عاجزی (اور مبالغہ) کرنے کا طریقہ پیش کر تم دونوں ہاتھوں کواپنے ساتھ پچھلا کروعاے ماگلو-
Ikrimah reported from Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) that he said: "Asking (al-mas'alah) is to raise your hands opposite your shoulders or near them. Seeking forgiveness (al-istighfar) is to point with one finger. Earnest supplication (al-ibtihal) is to stretch both hands fully." In another narration: He said, "Al-ibtihal is like this," and he raised his hands with their backs facing his face. [Narrated by Abu Dawud]
(1) The statement: "Point with one finger," etc. It is mentioned in al-'Alamgiriyyah under the chapter of Istisqa (rain-seeking prayer): "During supplication, if one raises his hands toward the sky, it is good. If he leaves that and points with his index finger, it is also good. Similarly, people often raise their hands because the Sunnah in supplication is to extend both hands." This is quoted from al-Mudmarat.
_اور ایک روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح مرودی کر آپ نے "ابتہال" لینی تضرع اور زاری کی دعا کرنے کا طریقہ بتلائیا کر آپ نے اپنے
donon baṭhol ko apne saath pichle chalne ki taraf leke aur tashhiyan lekar ki
طرف)-
f: waq ḥawka malāyirī ke bāb al-istisqā mēn kahā ke dua ke waqt āsān ki taraf
dono baṭhol ko utār na karne ke agar apana kia beldā panī shahadat ki angli se kahi ishāre kar dia to piyā kahi jātā
se aur log bhi dua mein apne baṭhol ko apni tarah utāte hain as leke dua mein dono baṭhol ko
utākar pichhla ja saktē hai jabiyāk madhmrat mēn nazarā
عام دعاوں میں ہاتھوں کوسینے کے مقابل رکنا چاہئے
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کر آپ فرمایا کرتے تھے کہ تمہارا
دعاوں میں عام طور پر ہاتھوں کا بہت اوپریا کرنا بدعت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم دعا کرتے وقت ہاتھوں کوسینے سے زیادہ اوپر نہیں کرتے تھے (لیکن ہاتھوں کوسینے کے مقابل رکنا کر دعا کرتے تھے ) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے-
دواء کے بعد ہاتھوں کو منہ پر ملانا مسنون ہے
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے تھے کر دعا
Ibn Umar (may Allah be pleased with them) said: "Raising your hands (in every supplication) is an innovation. The Messenger of Allah (ﷺ) did not raise them beyond this," meaning to the chest. [Narrated by Ahmad]
(2) The statement: "Meaning to the chest." It is recommended to raise the hands in supplication opposite the chest. This is mentioned in al-Qinyah as quoted in al-'Alamgiriyyah.
کرے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے ہاتھوں کے دونوں کواپنے چہروں پر لی بغیر نہیں
چھوڑتے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
الیہٰ وسری حدیث
The Messenger of Allah ﷺ would not leave his face without applying oil to both cheeks when performing wudu. This is reported by at-Tirmidhi.
– ساہب بن زید رضی اللہ عنہما کے والد حضرت زید رضی اللہ عنہ کے
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو انہا کر دعا کرتے (اور دعا کے
بعد) اپنے ہاتھوں کو چہروں پر چھیر لیا کرتے۔ اس کی روایت بہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔
دواء کے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو چہروں پر چھیرنے کی حکمت
ف: صاحب مرقات رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے فارغ ہونے
کے بعد اپنے ہاتھوں کو چہروں پر اس لیے چھیرتے تھے کہ دعا کرتے وقت تعظیمال آسان کی طرف
رہتی ہیں اور آسان دعا کا قبول کا قبلہ ہے اور دعا کے ماگز وقت برکات ساوتراور انوار الهیہ ہاتھوں پر نازل
ہوتی ہیں اور دعا کے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو چہروں پر چھیرنے سے اس کی برکت حاصل
ہوجاتی ہے۔ علامہ جزری رحمۃ اللہ نے "حسن حسین" میں آداب دعا میں یہی کہا کہ دعا کرتے
وقت آسان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے اور یکم دعا کے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہروں پر
چھیر لینا چاہئے۔
علامہ ابن ججر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ دعا کے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو چہروں پر
چھیرنے میں حکمت یہ ہے کہ دعا کی قبولیت پر لیقین کرتے ہوئے بطور نیک فائل اللہ تعالی کے انعام و
عطیہ کو قبول کرنے کا ظہار ہے۔
اورامام جزری نے اس حدیث کی سنہ الوداع کو، ترمذی اور ابن ماجہ نے بیان کی ہے۔
اور حاکم نے بھی مستدرک میں بیان کی ہے۔ پیپورا مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔12
جامع دعا میں ماگنا چاہئے
Al-Sa'ib ibn Yazid reported from his father (may Allah be pleased with him) that the Prophet (ﷺ), when he supplicated, would raise his hands and wipe his face with them. [Narrated by al-Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]
(3) The statement: "Wipe his face with them," etc. It is mentioned in al-'Alamgiriyyah: "Wiping the face with the hands after completing the supplication, some scholars consider it insignificant, but many of our teachers have practiced it. This is the correct view, as supported by narrations." This is quoted from al-Ghasiyah.
– امام المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے روایت سے وہ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ تعالیٰ وسلم ایسی دعا کو پسند فرما تے ہیں جو جامع ہونا اور جوجامع نہ ہونا کو چھوڑ دیتا
ہے۔ جامع دعا یعنی وہ جس جن کے الفاظ میں ہول اور معنی زیادہ ہونا اور جونک مقاصد اور دنیا و
آخرت دونوں کی بجلائی پرشتمل ہول جیسے: "ربنا آتنا" الی آخر الآية)-
اس حدیث کی روایت البوداوونے کی ہے-
ف : اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جودعا کی جامع نہ ہوتی
ان کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اس بارے میں مشکلات کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض
حالات میں خصوصی دعا کی ماگلنہی ثابت ہے
غیاب میں دعا کرنے کی فضیلت
The Messenger of Allah ﷺ preferred prayers that are comprehensive and did not leave out those that are not comprehensive. A comprehensive prayer means one in which there is abundance in words and meaning, and it encompasses various purposes and the blessings of both this world and the Hereafter, such as: 'Our Lord, grant us' [until the end of the verse].
البودرا ءرضی اللہ عنہ تے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرما ہے ہیں کہ: مسلمان کی دعا اپنے مسلمان بجاۓ (کی بجلائی یاد فرعثر کے لے) اس
کے غیاب میں دعا کرنے والے کے سر کے پاس ایک فرشتہ (اللہ تعالی) کی جانب سے مقبر کیا جاتا
ہے اور جب کہی ایک مسلمان دوسروں مسلمان کی بجلائی کے لے (غیاب میں) (دعا کے نیر کرتا
ہے تو وہ فرشتہ آ مین کہتا جاتا ہے اور دعا کرنے والے کے لے کہتا ہے ) کہ تمہیں کہی کہی بجلائی
نصیب ہو۔ اس کی روایت مسلم میں ہے-
ف : اس حدیث شریف میں ارشاد ہوا کر ایک مسلمان کا دوسروں مسلمان بجاۓ کے لے غیاب
میں دعا کرنا اللہ تعالی کو اس قدر پسند ہے کہ اللہ تعالی ایک فرشتہ کو مقبر کر دیتے ہیں۔ جودعا کرنے
والے کے لے دعا کرتا رہتا ہے
ایضاً وسری حدیث
Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The supplication of a Muslim for his brother in his absence is answered. An angel is appointed at his head who says, 'Amen, and may you receive the same,' whenever he supplicates for good for his brother." [Narrated by Muslim]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ارشاد فرما ہے ہیں کہ بہت جلد قبول ہو نے والی دعا، وہ ہے جو ایک غائب دوسروں غائب
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The fastest supplication to be answered is that of one absent for another absent." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے کہ: پانچ وعاویل انکی جویقیناً قبول کی جاتی ہیں:
مظلوم کی دعا جب تک کروہ ظالم سے انصاف نہ پائلے-
حاملی کی دعا جب تک کروہ نجے سے واپس نہ ہوجائے-
مجبوکی دعا جب تک کروہ جہاد سے فارغ نہ ہوجائے-
پیاری کی دعا جب تک کروہ (پیاری سے) محبت یاب نہ ہوجائے (یا س پیاری میں
انتقال نہ کر جائے)-
ایک مسلمان بھائی کی غائبادا پنے دوسرا مسلمان بھائی کے لئے (پیر ما کر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا: ان (پانچول) دعاوں میں جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے
ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبادا کرے-
اس کی روایت تبریع نے دعوا ت کہر میں کی ہے-
تین قبول ہونے والی دعا ہیں
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported from the Prophet (ﷺ) that he said: "Five supplications are answered: the supplication of the oppressed until he attains justice; the supplication of the pilgrim until he returns; the supplication of the fighter in Allah's cause until he halts; the supplication of the sick until he recovers; and the supplication of a brother for his brother in his absence." Then he added, "The quickest of these to be answered is the supplication of a brother for his brother in his absence." [Narrated by al-Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمیوں کی دعا کوئی رد نہیں کی جا تین لیجن وہ ضرور قبول ہوتی ہیں:
ایک روزہ دار کی دعا جب کروہ افطار کرتا ہے - دوسرا عدل کرنے والے حاکم کی دعا تے تیسرے
مظلوم کی دعا کہ اللہ تعالیٰ اس کو ابرے اوپر اٹھالیتا ہیں اورآ سمان کے دروازے اس کے لئے کھول
دے جائے ہیں۔ اور اللہ تعالی فرما تے ہیں کہ میری عزت کی قسم (اے مظلوم) میں ضرور تیری مدد کروں گا - (اور تیرے حق کو ضائع نہ ہونے دوں گا) اگر چیکہ اس میں پھرتا خیر ہوجائے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Three supplications are never rejected: that of a just ruler, the fasting person when he breaks his fast, and the supplication of the oppressed, it rises above the clouds, the gates of heaven are opened for it, and the Lord says, 'By My Might, I will surely aid you, even if after a while.'" [Narrated by Tirmidhi]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وفرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں کہ تین دعا کی ایسی ہیں کہ جن کی قبولیت کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ ایک والد یا والدہ کی دعاء یا بدعا ء اولاد کے لیے۔ دور سے مسافر کی دعاء خود اپنے لیے۔ تیسرے مظلم کی دعاء (ظالم کے حق میں یا سخض کے لیے جواس کی مد کرنے)۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداووداور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Three supplications are answered without doubt: that of a parent, that of a traveler, and that of the oppressed." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]
امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ تے روایت ہے وفرما تے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر کرنے کی اجازت طلب کی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی اجازت دے دی اور فرما یا کرنا میرے بجا ئے مجھے اپنی دعا ئے میں شامل رکھنا بجول نہ جانا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ (حضرت کا) پیارشاد (ایا اعزاز ہے) کے ساری دنیا کی نعمتوں سے برطہ کر لی پسندہ (اس کے بدل میں اگر مجھے ساری دنیا کی نعتیں بھی مل جائیں تو مجھے اتنی مسرت نہ ہوتی جواس سرفرازی سے مجھے حاصل ہوتی)۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اورترمذی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔ ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صالحین سے دعاء طلب کی جانی چاہیے۔ اوردور سے پی
کہ دعاوں میں اپنے اقارب اور احباب کو بھی شرکی کرنا چاہئے۔ خصوصاً ایسی مقامات میں جہاں دعا کی قبولیت ہوتی ہے۔ مرقات 12
Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) said: "I sought the Prophet’s (ﷺ) permission to perform Umrah, and he permitted me, saying, 'Do not forget us, O my brother, in your supplications.' He said a word that I would not trade for the entire world." [Narrated by Abu Dawud and Tirmidhi, ending at his saying, "Do not forget us."]