اس باب میں قضاء (روزون کے احکام) کا بیان ہے
ف: واضح ہو کہ روزوں کی قضاء کی تین صورتیں ہیں:
(1) اگر جھول کر روزہ کی حالت میں کوئی کہا لے پاپی لے تو اس پر نہ قضاء ہے اور نہ کفارہ،
خواہ وہ رمضان کا روزہ ہو یا غیر رمضان کا روزہ۔
(2) اگر کوئی رمضان میں روزہ کی حالت میں بلا عذر قصد کر لے پاپی لے تو اس پر قضاء اور
کفارہ دونوں لا زم ہیں۔
(3) اور اگر کوئی رمضان میں روزہ کی حالت میں کسی عذر کی وجہ سے جیسا سفر میں یا مریض روزہ
توڑ دے تو اس پر صرف قضاء واجب ہو گی کفارہ ضروری نہیں۔
کفارہ کا حکم صرف رمضان کے روزوں سے متعلق ہے اور اگر نفل روزہ کو کسی وجہ سے توڑ
دے تو اس میں کفارہ لازم نہیں صرف قضاء کر لینا کافی ہے (یاشعۃ اللمعات سے ماخوذہ)۔
وَقَوْلُ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ : "وَلَا تَنزُرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ " اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ
بنی اسرائیل، آیت نمبر:15، میں) اور کوئی شخص گس کا بو جہتیس انہا نے گا لعن کوئی شخص کسی کی جانب
سے نہ توروزہ رکھ سکتا ہے اور نہ نماز پڑھ سکتا ہے، جسیا کہ الجوہر انتی میں نذور ہے )
وَقَوْلُہُ : "فَمَنْ كَانَ مِنكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعَدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ" اور اللہ تعالیٰ کا
ارشاد ہے (سورۃ بقرہ، آیت نمبر:184 میں) جو خصوص (الیا) پیار ہو (جس سے روزہ رکھنا مشکل ہو)
یا (ثری) سفر میں ہو تو (اس کو رمضان میں روزہ نہ رکھ کی اجازت ہے اور جاے گے ایام رمضان
کے) دوسروں دنوں میں (انتہائی) شمار (کر کے ان میں روزہ) رکھنا (اس پروا جب) ہے۔
ف: واگرچہ تو کہ رمضان کے روزوں کی قضاء کے بارے میں بدایی میں کچھ ہے کہ قضاء کر نے
والے کو اس کا اختیار ہے کہ چاہے تو وہ پے درپے روزہ رکھ کر قضاء روزوں کی تکمیل کر لے یا متفرق
اوقات میں اپنے قضاء روزوں کو پورا کر لے، لیکن مستحب یہ ہے کہ رمضان کے روزوں کی قضاء کو پے
درپے رکھ کر ادا کر لے تاکہ جو چیز فرض ہے وہ فوری ادا ہو جائے، اگر کسی نے قضاء رمضان کے ادا
کرنے میں اتنی تاخیر کی کہ دوسرا رمضان آگیا تو اس کو چاہے کہ موجودہ رمضان کے فرض روزوں کو
پہلے پورا کر لے اور اس مہینہ میں کوئی قضاء روزہ نہ رکے اور رمضان گزر نے کے بعد سابقہ فوت شدہ
روزوں کی قضاء کر لے اور اس طرح تاخیر سے روزوں کی قضاء کر نے کی وجہ سے اس پر کوئی فدیہ
واجب نہیں ہے، صرف قضاء روزوں کو ادا کر لینا کافی ہے۔12
رمضان کے قضاء روزوں کے ادا کرنے کی تفصیل
This chapter discusses the rules regarding making up missed fasts (Qada).
It is clear that there are three scenarios concerning the Qada of fasts:
(1) If someone unintentionally breaks their fast while in a state of fasting, then there is neither Qada nor Kaffarah required, whether it is a fast of Ramadan or a non-Ramadan fast.
(2) If someone intentionally breaks their fast without any valid excuse while fasting in Ramadan, then both Qada and Kaffarah are obligatory.
(3) If someone breaks their fast in Ramadan due to a valid reason, such as travel or illness, then only Qada is required, and Kaffarah is not necessary.
The rule of Kaffarah applies only to the fasts of Ramadan. If a voluntary fast is broken for any reason, there is no Kaffarah required.
In this case, there is no need for expiation; merely making up the missed fasts is sufficient (excerpted from Ya'isha al-Lamaat). And Allah’s statement, “And no bearer of burdens will bear the burden of another” (Surah Bani Isra'il, verse 15), means that no person can bear the sin of another, nor can they perform prayers or make vows on behalf of another, as mentioned in Jawhar al-Inti (regarding vows). And His statement, “But if any of you is ill or on a journey, the same number [of days shall be made up] from other days” (Surah Al-Baqarah, verse 184), means that if someone is ill or traveling, they are permitted to break their fast during Ramadan and make up the missed days later. If one finds fasting difficult due to illness or travel, they are allowed to break their fast and make up the missed days at a later time. F: Although there is some flexibility regarding the makeup of Ramadan fasts, it is preferable to complete them consecutively so that the obligatory act is fulfilled promptly. If someone delays making up the missed fasts until the next Ramadan arrives, they should first complete the current Ramadan's obligatory fasts and then make up the previous missed fasts after the month has passed. In such a case, no expiation is required due to the delay in making up the missed fasts; it is sufficient to simply make up the missed fasts. This is the detailed explanation of making up the missed fasts of Ramadan.
ابراہیم نخی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ جس شخص نے
(رمضان کے فوت شدہ روزوں کی قضاء ادا کرنے میں اتنی) تاخیر کی کہ دوسرا رمضان آگیا تو وہ
دونوں (رمضان کے علحدہ علحدہ روزوں) رکے (اس طرح کہ پہلے موجودہ رمضان کے روزوں
رکھ لے، پھر اس کے بعد فوت شدہ رمضان کے روزوں کی قضاء کرے اور اس طرح تاخیر کی وجہ
سے) حضرت ابراہیم نخی رحمۃ اللہ علیہ ایسے شخص پر کوئی فدیہ طعام لازم نہیں کرتے۔
اس کی روایت بخاری نے تعليقاً کی ہے اور امام بخاری نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (رمضان
کے روزوں کی قضاء کے بارے میں جو آیت نازل فرما تی ہے، اس میں قضاء کے ساتھ) کہا نے
کہ لا نے کا ذکر نہیں فرما یہ جسیا کہ ارشاد باری ہے: "فَعَدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ"، لیعن رمضان کی قضاء
دوسرے دوول میں کرلو۔
Ibrahim Al-Nakha’i said: “If someone neglects making up their fasts until the next Ramadan comes, they should fast both and are not required to provide food.” [Narrated by Al-Bukhari in a suspended chain]
Al-Bukhari said: “Allah did not mention providing food; He only said, ‘An equal number of other days.’” Sa’id ibn Mansur connected it through Yunus from Al-Hasan and through Al-Harith Al-Ukli.
سعید بن منصور نے اپنے پوس کے واسطے حضرت حسن سے موصولاً روایت
کیا ہے اور حادث عملی کی سننے بھی۔
فرض اور نفل روزول کی قضاء کی تفصیل
There is a narration and also a practical action regarding the performance of obligatory and voluntary prayers by the Messenger of Allah ﷺ.
اَبُو هِرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَوَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارشاد فرمائے ہیں کہ عورت کے لئے جائزہیں ہے کہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی
اجازت کے بغیر (کونی نفل) روزہ رکھے اور (ای طرح عورت کے لئے پیکھی جائزہیں ہے ) شوہر
کے غیر میں (کسی غیر مردی عورت کو) اس کی اجازت کے بغیر آنے دے۔
اس کی روايت مسلم نے کی ہے۔
ف: اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر نفل روزہ نہیں
رکھ سکتی اور شوہر کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اپنی پیوی کو ہر ایسے روزہ رکھنے سے منع کرے جس کو اس
نے اپنے اور اپنی جانب سے واجب کر لیا ہے جیسے نذر کا روزہ یا کسی اور قسم کا روزہ جیسے ایام روزہ جوالله
تعالی کی جانب سے عورت پر فرض ہے جیسے رمضان کی قضاء کا روزہ تو اس سے شوہر اپنی پیوی کو منع نہیں
کر سکتا۔ (پیدر مختار، رواجتا راور۔ حجر سے ماخوذ ہے)۔
حافظ کوروزول کی قضاء کا حکم
The ruling on the prayer of Hafiz Kuruzul
معاذہ عرویرضی اللہ عنهما سے روايت ہے کہ انہوں نے امام المومنین حضرت
عمر رضی اللہ عنهما سے دریافت کیا: اے امام المومنین! کیا بات ہے کہ حافظ عورت روزہ کی تو
قضاء کرتی ہے لیکن نماز کی قضاء نہیں کرتی؟ امام المومنین حضرت عمارشہ نے جواب دیا کہ (رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں) ہم کو حيض آنا تو ہم کوروزہ کی قضاء کا حکم دیا جاتا اور نماز ول کی قضاء
کا حکم نہیں دیا۔ (اس سے معلوم ہوا کہ شارع علی السلام نے جوفر ما اس کی علت پوچھنے کی ضرورت
نہیں، جوفر ما اس کو کرنا چاہے) اس حدیث کی روايت مسلم نے کی ہے۔
معاذہ عرویرضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے امام المومنین حضرت
عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: اے امام المومنین! کیا بات ہے کہ حافظ عورت روزہ کی تو
قضاء کرتی ہے لیکن نماز کی قضاء نہیں کرتی؟ امام المومنین حضرت عمارشہ نے جواب دیا کہ (رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں) ہم کو حیض آنا تو ہم کوروزہ کی قضاء کا حکم دیا جاتا اور نماز ول کی قضاء
کا حکم نہیں دیا۔ (اس سے معلوم ہوا کہ شارع علی السلام نے جوفر ما اس کی علت پوچھنے کی ضرورت
نہیں، جوفر ما اس کو کرنا چاہے) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
میت کے قضاء روزول کا فدیہ
The expiation for missing the funeral prayer of a deceased person is to pray it when one becomes aware of it.
نافع رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنهما سے روايت کرتے ہیں اور وہ حضرت
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روايت کرتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص
مرجعے اوراس سے مہ رمضان کے روزے فرت ہوگے ہون (کران کی قضاء اس پروا جب ہی) تو
اس کی جانب سے (رمضان کے ہر روزہ کے بدلہ) ہر دن ایک مسکین کو (دو وقت کا) کھانا کھلايا
جاے (یاہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو ایک فطرہ دیا جائے) اس کی روایت تزدی ن کی ہے۔
Nafi’ reported from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that the Prophet (ﷺ) said: “Whoever dies owing fasts from Ramadan should have a meal provided for a needy person for each day.” [Narrated by Al-Tirmidhi, who said: “The correct view is that it is attributed to Ibn Umar.”]
[In Al-Jawhar al-Naqi, it is mentioned that Ibn Majah narrated it as a marfu’ hadith with a Sahih chain]
اور جوہرتي میں ذکور ہے کہ اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے بھی مرفوعاً نے
سند کے ساتھ کی ہے۔
And it is mentioned in Jawherti that Ibn Majah has also narrated this hadith as marfu‘ with its chain of transmission.
امام ما لک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے (فرض) روزہ رکھنا
عمر رضی اللہ عنہما سے پرسوال کیا جاتا تھا کہ کیا کوئی شخص دومسر کی جانب سے (فرض) نماز ادا کر سکتا ہے؟ تو حضرت ابن عمر جواب دیا
کہ تے تھے کوئی شخص کسی شخص کی طرف سے نتو (فرض) روزہ رکھ سکتا ہے اور نہ (فرض) نماز ادا
کر سکتا ہے۔ اس کی روايت امام ما لك نے موطا میں کی ہے، اور امام ما لك نے کہا ہے کہ میں نے
کسی صحابی سے اور کسی تابعی سے مدنہ میں پیغمبر کی کہتے ہو کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ
رکھیا کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے۔
Malik reported that it reached him that Ibn Umar (may Allah be pleased with him) was asked: “Can someone fast or pray on behalf of another?” He replied: “No one can fast or pray on behalf of another.” [Narrated in Al-Muwatta’]
Malik said: “I have not heard (1) from any of the Companions or the Successors in Madinah that anyone ordered someone to fast or pray on behalf of another.”
Abd al-Razzaq narrated in his Musannaf in the book of wills from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that he said: “No one should pray or fast on behalf of another.”
(1) The statement: “I have not heard…” This supports the view of abrogation, as it reflects the final ruling established by the Shariah. This is mentioned in Fath al-Qadir.
اور عبد الرزاق نے اپنی مصنف کے کتاب الوصا ئی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ کوئی شخص نتو کسی کی طرف سے روزہ رکھ اور نہ کسی کی
طرف سے نماز پڑھے (چنانچہ القدیری میں ذکور ہے کہ اس بارے میں کہی آخری حکم ہے)۔
قضاء روزہ کے فدیہ کی مقدار
Malik reported that it reached him that Ibn Umar (may Allah be pleased with him) was asked: “Can someone fast or pray on behalf of another?” He replied: “No one can fast or pray on behalf of another.” [Narrated in Al-Muwatta’]
Malik said: “I have not heard (1) from any of the Companions or the Successors in Madinah that anyone ordered someone to fast or pray on behalf of another.”
Abd al-Razzaq narrated in his Musannaf in the book of wills from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that he said: “No one should pray or fast on behalf of another.”
(1) The statement: “I have not heard…” This supports the view of abrogation, as it reflects the final ruling established by the Shariah. This is mentioned in Fath al-Qadir.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کی جانب
سے نتو روزہ رکھ اور نہ کسی کی جانب سے نماز پڑھے بلکہ ہر دن لعنہ ہر روزہ کے بدلہ (فدیہ)
ایک ایک مُد گیہول (یعنی نصف صاع لعنی دو کیلو ایک مسکین کو) دیے (اس طرح نماز کا بھی حکم
ہے کہ میت کی جانب سے ہر نماز کے بدلہ میں ایک مسکین کو نصف صاع گیہول 2 کیلو دے یادو
وقت کا کہنا کھلا یے) اس حدیث کی روایت نسائی نے اپنی سنن میں کی ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: “No one should pray (2) or fast on behalf of another, but a meal should be provided for a needy person for each day, equivalent to a mudd of wheat.” (3) [Narrated by Al-Nasa’i in his Sunan]
In Al-Jawhar al-Naqi, it is said: “This chain is sound according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim, except for Ibn Abd al-A’la, who meets Muslim’s conditions.” In Al-Binayah, it is mentioned similarly, but with two mudds of wheat. Abu Bakr Al-Razi narrated in his commentary on Mukhtasar al-Tahawi from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever dies owing fasts from Ramadan should have half a sa’ of food provided for a needy person for each day.”
(2) The statement: “No one should pray…” This hadith indicates that providing food is required for missed fasts, just as it is for missed prayers.
(3) The statement: “A mudd of wheat.” This is mentioned in Al-Jawhar al-Naqi.
اور ابویکبر رازی نے مختصر طحاوی کی شرح میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے
روایت کی ہے کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر
کوئی شخص مر جا ئے اور اس سے رمضان کے روزے فوت ہو گئے تو اس کے شخص کی جانب سے ہر روز یعنی ہر روزہ کے بدلے نصف صاع (2 کیلوگرام) ایک مسکین کو دیا جائے۔
کوئی شخص کسی کی طرف سے روزہ نیم رکعتا
Nafi’ reported from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that the Prophet (ﷺ) said: “Whoever dies owing fasts from Ramadan should have a meal provided for a needy person for each day.” [Narrated by Al-Tirmidhi, who said: “The correct view is that it is attributed to Ibn Umar.”]
[In Al-Jawhar al-Naqi, it is mentioned that Ibn Majah narrated it as a marfu’ hadith with a Sahih chain]
قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ روایت سے وہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کی جانب سے قضاء روزہ نہ رکھ جسیا کر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورۃ البقرہ میں پہلے 15 ع 2 میں) کوئی شخص کسی کا بو جہ نیم اظہار کرتا اس کو 'الجوہرائی'، میں بیان کیا ہے۔
Al-Qasim ibn Muhammad said: “No one can make up fasts on behalf of another, based on Allah’s words: ‘No bearer of burdens will bear the burden of another.’ (Qur’an 6:164)” [Mentioned in Al-Jawhar al-Naqi]