Nūr al-Maṣābīḥ
کِتابُ الصَّوْمِ

کتاب روزے کے بیان میں ہے

Fasting
Volume 4 · Fasting

ف: "صَوم" کے معنی شریعت میں اپنے نفس کولحاظ نے، پیش اور جماعت نےت کے ساتھ نے صادق نے لے کر غروب آفاقاب تک رونکے کے پین، روزہ اسلام کا تیرارکن نے، مدینہ منورہ میں تجرت کے ذیلہ برس بحر مضان کے روزے فرض ہو نے۔ الٰہ تعالیٰ نے کئی عظیم فائدول کی وجہ نے روزہ کوفرض کیا نے۔ مجمل ان فوائد کے ایک تو نفس امارہ کی اصلاح نے۔ کیون کر جب روزہ کی وجہ نے نفس کو جھوکا رکھا جاتا نے تو تمام اعضاء جسمانی سیر رستہ پین۔ بر عضوا پنی اپنی خواہشات سے رک جاتا نے اور الٰہ تعالیٰ کی اطاعت پر مائل ہوجاتا نے۔ مثلآ آنکھوں دیکھنے کے گناہ نے، زبان بولنے کے گناہ نے اور کان سننے کے گناہ نے اور فرنج شہوت کے گناہ نے محفوظ رستہ پین، جس سے دل کی صفائی حاصل ہوتی نے۔ اس کے برخلاف جب نفس روزہ نذر کھینکی وجب نے کہا پی کر سیر رہتا نے تو سارے اعضاء جھوکے ہوجاتے پین اور گناہ کے کاموں پر مائل ہوجاتے پین جس سے دل سیاہ ہو نے گلتا نے۔ روزہ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ روزہ رکن نے روزہ دار میں غرباء پر شفقت اور مہربانی کر نے کی صفت پیدا ہوتی نے۔ اس لے کر روزہ دار روزہ کی حالت میں جھوک کی جو تکلیف محسوس کرتا نے تو اس کا پیا حساس روزہ نذر کھینکی حالت میں عام دنول میں کچھ باقی رہتا نے اس احساس کی وجہ نے وہ غریبوں سے اچھا سلوک کرتا نے۔ جس کا اجراس کوالد کے پاس مل جاتا نے۔ روزہ کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ روزہ دار کوروزہ کی وجہ نے فقراء کے حال نے موافقت پیدا ہوجاتی نے۔ فقراء تو اکثر جھوک کے، رستہ پین اور جھوک کی تکلیف برداشت کرتے پین اور روزہ دار روزہ رک کر جھوک کی تکلیف کو برداشت کر کے فقراء کے حال نے مشاہدت پیدا کر لیتا نے اور اس نے الٰہ تعالیٰ کے پاس اس کا درجہ بلند ہوتا نے، چنانچہ حضرت بشر حانی رحمۃ اللہ علیکی خدمت میں ایک شخص سخت مردی کے موسم میں حاضر ہوا۔ اس نے دیکھا کہ آپ کے جسم پر پڑنے کیون اتار دیتے پین، کانپ رہے پین، اس نے دیا فت کیا کہ آپ نے اپنی مردی میں اپنے کپڑے کیون اتار دیتے پین، تو حضرت بشر رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا: بھائی! فقراء مہت پین اور میں ان کو کپڑے نہیں دے سکتا ہوں تو اس لے میں کپڑے اتار کر مردی کو برداشت کر رہا ہوں تاکہ ان کی اس تکلیف میں شریک ہوجاؤں۔ (بیمضمون مرقات نے ماخوذ نے)۔ وَقَوْلُ اللہِ عَزَوَجَلَّ : يَايَهَا الَّذِينَ امَنُوا كُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیامُ کَمَا کُتِبَ

The meaning of 'fasting' in Shariah is to abstain from eating, drinking, and engaging in sexual intercourse from dawn until sunset, as ordained by Islam. It was made obligatory in the second year after the migration to Madinah. Allah, the Exalted, has prescribed fasting due to several great benefits. Among these benefits, one is the rectification of the self (nafs ammarah). When the self is restrained through fasting, all physical faculties are controlled. The bodily organs refrain from their desires and incline towards obedience to Allah. For example, the eyes are protected from the sin of looking, the tongue from the sin of speaking, the ears from the sin of listening, and the genitals from the sin of lust, which leads to the purification of the heart. Conversely, when the self is not restrained and indulges in food and drink, all the faculties become unrestrained and inclined towards sinful acts, which blackens the heart. One benefit of fasting is that it instills compassion and kindness towards the poor in the one who fasts. When a person experiences the discomfort of hunger during fasting, this sensitivity remains even after breaking the fast, leading to better treatment of the poor, for which they receive reward from Allah. Another benefit of fasting is that it makes the one who fasts empathize with the condition of the poor. The poor often experience hunger and endure its discomfort, and by fasting, the person who fasts endures the same discomfort, thereby gaining insight into the condition of the poor, which elevates their status in the sight of Allah. As narrated, a person came to visit Hazrat Bishr al-Hani (RA) during a harsh winter. He observed that Hazrat Bishr (RA) was taking off his clothes despite the cold, shivering. When asked why he was removing his clothes in such cold weather, Hazrat Bishr (RA) replied, 'Brother! I have respect for the poor, and since I cannot give them clothes, I remove my own clothes to share in their suffering.' (This is derived from the commentary of Mirqat.) And the word of Allah, the Exalted, is: 'O you who believe, fasting is prescribed for you as it was prescribed for those before you...'

علي الذين من قبلكم لعلكم تنتقون اياما معدودات

اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے (سورۃ بقرہ، آیت نمبر:184/183، میں) اے ایمان والو! تم پر (رمضان کے) روزے فرض کیا گیا جس طرح تم سے پبل (اور امتون پر) فرض کیا گیا تاکہ تم متقی بن جاؤ اور وہ کنتی کے چند دن میں (ان دنول سے ماہ رمضان مراد ہے)

(معالم التزیل-12)

And Allah, the Exalted, has instructed (in Surah Al-Baqarah, verse number: 184/183): O believers! Fasting has been prescribed for you as it was prescribed for those before you so that you may become righteous, and [it is] for a few days of the month of Ramadan.

وقوله شهر رمضان الذي انزل فيه القران هدي للناس وبينات من الهدي والفرقان فمن شهد منكم الشهر فليصمه اور الل تعالي كا ارشاد سور بقر ايت نمبر مي ماه رمضان و بركت والا م ين جس مي قران نازل وا جولو ول ك واسط بدايت اور جس مي بدايت كي اورتن وباطل مي فرق كرن كي ك لي نشانيا ي تو جو شخص اس م ين كو ا ل اس كو ضرواس مي روز ركنا ا ي

رمضان المبارک کی فضیلت کا بیان

پہلی حدیث

2833

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے پبل کہ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں (جس کی رحمت پے درپے نازل ہوتی رہتی ہے، نیا اعمال بخیرگی رکاوت کے آسمان پر انہا لے جاتے ہیں، وعا میں قبول ہوتی ہیں)

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When Ramadan begins, the gates of heaven are opened." In another narration, "The gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are chained." In another narration, "The gates of mercy are opened." [Agreed upon]

(1) The statement: "When Ramadan begins." Some said: "The correct view is what Muhammad reported from Mujahid, and no one disagreed with it, that it is disliked to say, 'Ramadan has come' or 'Ramadan has gone,' because it is one of the names of Allah. However, most scholars hold that it is not disliked, as it appears in authentic hadiths." This is mentioned in Rad Al-Muhtar.

2834

اور ایک روایت میں پبل کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں (جس میں ماہ رمضان المبارک میں روزہ دار کو ایسے اعمال کی تو فیق ہوتی ہے جس سے وہ جنت کا مستحق ہوجاتا ہے) اور دوزخ کے دروازے بند کے جاتے ہیں (جس میں روزہ دار تزکیہ نفس کی وجہ سے اسے گناہ اور ایسے اعمال بد تے نہ جاتا ہے جودوزخ میں پہو چیا نے کا باعث ہوتے ہیں) اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے (جس کی وجہ سے روزہ دار شیاطین کے وسوسون اور گناہوں کی ترغیب سے محفوظ ہوجاتا ہے)

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When Ramadan begins, the gates of heaven are opened." In another narration, "The gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are chained." In another narration, "The gates of mercy are opened." [Agreed upon]

(1) The statement: "When Ramadan begins." Some said: "The correct view is what Muhammad reported from Mujahid, and no one disagreed with it, that it is disliked to say, 'Ramadan has come' or 'Ramadan has gone,' because it is one of the names of Allah. However, most scholars hold that it is not disliked, as it appears in authentic hadiths." This is mentioned in Rad Al-Muhtar.

2835

اور ایک روایت میں پبل کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفق طور پر کی ہے۔

ف: اس حديث شريف میں رمضان المبارک کی فضیلت کا بیان ہے کہ مسلمان نے جب روزہ رکھا اور پیٹ خالی ہوا تو اکثر گناہوں سے پا تو رحمت ابی کو جوش ہوا، مہشت کے دروازے کھلے، دوزخ بیکار ہوئے، شیطان بند ہوئے، کیونکہ انسان پر شیطان کا قابو پیٹ بھر نہ پڑھوتا ہے۔ چنانچہ اکثر بنمازی کی رمضان میں روزہ رکھتے ہیں۔ اور نماز تھرو ع کردیتے ہیں اور نہیں دلیل ہے شیطان کے قید ہونے کی۔ بہرحال رمضان المبارک کی برکت میں کوئی شبہ نہیں۔ 12

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When Ramadan begins, the gates of heaven are opened." In another narration, "The gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are chained." In another narration, "The gates of mercy are opened." [Agreed upon]

(1) The statement: "When Ramadan begins." Some said: "The correct view is what Muhammad reported from Mujahid, and no one disagreed with it, that it is disliked to say, 'Ramadan has come' or 'Ramadan has gone,' because it is one of the names of Allah. However, most scholars hold that it is not disliked, as it appears in authentic hadiths." This is mentioned in Rad Al-Muhtar.

دوسرا حديث
2836

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما ہے جب رمضان المبارک کی پہلی رات آجائی ہے تو شياطین اور سرکش جن قید کے جائے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردے ہے جائے ہیں اور دوزخ کا کوئی دروازہ بھی نہیں کھولا جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دیتے ہیں جائے ہیں اور جنت کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ اور ایک منادی پیندا کرتا ہے۔ اے طالب نہیر متوجہ ہو جا۔ اور نہیر کی جانب آجا۔ اور لے تر پیندے (گناہوں سے) باز آجا۔ کہ پی گناہوں سے توبہ کرنے کا وقت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس مہینے میں گناہ گاروں کو دوزخ سے نجات دیتے ہیں۔ اور پیندار رمضان المبارک میں) ہر رات ہوا کرتے ہے۔ اس کی روایت ترجمہ اور ان ملاجنے کی ہے۔

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When the first night of Ramadan comes, the devils and rebellious jinn are chained, the gates of Hell are closed, and none of its gates are opened. The gates of Paradise are opened, and none of its gates are closed. A caller calls out, 'O seeker of good, proceed! O seeker of evil, desist!' And Allah has people whom He frees from the Fire, and that happens every night." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah, and Ahmad narrated it from a man]

2837

اورامام احمد نے بھی اس کی روایت کی ہے۔

ف: اس حديث شريف میں ارشاد ہے کہ رمضان المبارک میں شياطین اور سرکش جن قید کے جائے ہیں اس بارے میں صاحب مرقات نے کہا ہے کہ شياطین کو اور سرکش جن کو اس لے قید کیا جاتا ہے تاکہ وہ روزہ داروں کے دول میں وسوے نہ ذائل اور اس کی علامت یہ ہے کہ رمضان المبارک میں اکثر گناہگار اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بعض لوگوں کو جود کی وجہا جاتا ہے کہ رمضان المبارک میں بھی گناہوں سے توبہ کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شياطین کے بھکانے کے پرانے اثرات ان کے دول میں نہ رہتے ہیں اور وہ اپنی عادت کے مطابق برائی کرتے رہتے ہیں۔ 12

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When the first night of Ramadan comes, the devils and rebellious jinn are chained, the gates of Hell are closed, and none of its gates are opened. The gates of Paradise are opened, and none of its gates are closed. A caller calls out, 'O seeker of good, proceed! O seeker of evil, desist!' And Allah has people whom He frees from the Fire, and that happens every night." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah, and Ahmad narrated it from a man]

شب قدري فضيلت
پہلي حدیث
2838

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآ ل و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے پاس رمضان کا بارکت مہینہ آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پراس مہینے کے روز فرض کے ہیں، اس مہینے میں آمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت پے در پے نازل ہوتی رہتی ہے) اور دوزخ کے دروازے بند کے جاتے ہیں (یعنی روزہ دارت زکر نفس کی وجہ سے ایسے گناہوں سے نہ جاتے ہے جودوزخ میں پیوپچائے کا باعث ہوتے ہیں) اور سرش شیطانوں کی گردول میں طوق دالا جاتا ہے (یعنی ان کو جگڑ دیا جاتا ہے) اس مہینے میں اللہ تعالیٰ (کے تجلیات) کی ایک خاص رات ہے جو بہار مہینوں سے بہتر ہے (یعنی شب قدر میں عبادت کرنے کی بہار مہینہ عبادت کرنے کے برابر ہے) جو شخص اس رات کی نیک سے محروم رہا وہ حقیقیاً ہر طرح کی نہیں وبرکات سے محروم رہا (یعنی جس کو شب بیداری کی تو فیق نہ ہوتی یا ول شب یا آخر شب عبادت نہیں تو وہ شب قدر کے برکات سے محروم رہا)- اس کی روايت امام احمد، اور نسائی نے کی ہے-

دوسرا حدیث

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Ramadan has come to you, a blessed month. Allah has made fasting in it obligatory for you. The gates of heaven are opened, the gates of Hell are closed, and the rebellious devils are chained. In it is a night better than a thousand months. Whoever is deprived of its goodness is truly deprived." [Narrated by Ahmad and Nasa'i]

2839

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کریں (مبارک) مہینہ تہہارے پاس آگیا ہے، (تو تم اس کو غنیمت سمجھو، دن میں روزے رکھا کرو اور رات میں تراوتے پڑھا کرو) اوراس میں ایک ایسی رات ہے (جس میں عبادت کرنا) بہارول مہینوں کی راتوں (میں عبادت کرنے) سے بہتر ہے (اس لئے تم شب قدر کو اس مہینے کی ہرات میں عبادت کر کے تلاش کرو تا کہ تم اس کی برکات کو حاصل کرلو، اس لئے) کہ جواس (شب قدر) کی بجا ٹیوں (یعنی اس میں عبادت کرنے کی تو فیق) سے محروم رہا وہ بہ جلالی سے محروم رہا واس کے (برکات سے) وہی محروم رہتا ہے جواب نصیب ہے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔ روزہ دار کو افطار کرائے کی فضیلت اور ملازمت کے کام کم لینے کا ثواب

Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: When Ramadan began, the Messenger of Allah (ﷺ) said, "This month has come to you, and in it is a night better than a thousand months. Whoever is deprived of it is deprived of all goodness, and only the deprived one is deprived of its goodness." [Narrated by Ibn Majah]

2840

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ماہ شعبان کے آخری دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو خطب دیا اوراس (خطبہ) میں ارشاد فرمایا کر ایک بڑے مہینے نے تم پرساپڑا لا ہے جو برکت والا مہینہ ہے ایک ایسا (مبارک) مہینہ ہے جس میں

ایک ایسی رات ہے (جس میں عبادت کرنا) بہتر از میں راتوں میں عبادت کرنا سے۔ بہتر

ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کے پیش اور اس مہینے کی راتوں میں عبادت (یعنی

نماز تو پڑھنے) کوسنت (موکدہ) قرار دیا ہے، جو خصوصاً مہینے میں کسی نئی کام کو بطور نفل ادا کرنا

اور اس سے اللہ تعالیٰ کا قرب جاپا تو وہ اس شخص کے برابر ہے جو کسی اور مہینے میں فرض عبادت ادا

کرتا ہے (یعنی اس مہینے کی نفل عبادت اجر اور ثواب میں دوسروں مہینوں کی فرض عبادت کے برابر

ہے) (اور جو شخص اس (مہینے) میں فرض عبادت کرنے تو (اجر و ثواب پائے میں) وہ اس شخص کی

طرح ہے جو کسی دوسروں مہینے میں ستّر (70) فرض ادا کرے، یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت

ہے اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا اور پیوہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھادیا

جا تا ہے، جو شخص اس مہینے میں روزہ دار کو افطار کرائے تو اس شخص کے گناہوں کی جناش کا سبب ہے

اور دوزخ سے اس کی نجات کا ذریعہ اور اس شخص کو اس روزہ دار کے ثواب کے برابر ثواب ملتا

ہے اور اس سے روزہ دار کے ثواب میں کی نیمی ہوتی (راوی نے کہا کہ) صحابہ نے عرض کیا یارسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہر ایک کو اتنا مقدود رہیم کہ روزہ دار کو افطار کرائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ہراس شخص کو پیثواب دیتا ہے جو کسی روزہ دار کو دودھ یا لسی

پلا دے یا حجور کھلا دے یا (کم از کم) پانی کا ایک گھونٹہ پیلا دے! اور جو شخص کسی روزہ دار کا پیت بھر

دے گا تو اللہ تعالیٰ میرے حوض (کوثر) سے اس کو اپنی پانی پلا میں لے کر وہ جنت میں داخل ہو گا

تک پیاسانہ ہوگا اور پیاسا مہینہ ہے۔ جس کی ابتدا (یعنی پہلا روز) رحمت ہے اور درمیان (یعنی دوسرا

روز) جناش ہے اور آخر (یعنی تیسرا روز) دوزخ سے نجات ہے اور جو شخص اپنے روزہ دار باندی اور

غلام سے کام کے اللہ تعالیٰ اس کو جناش دی گی اور اس کو دوزخ سے نجات دی گی۔

اس کی روایت تحقیق نے شعب الایمان میں لی ہے۔

روزہ دار اعزاز کے طور پر جنت میں باب الرضوان سے داخل ہو گا

Salman Al-Farisi (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us on the last day of Sha'ban and said, "O people, a great month has come upon you, a blessed month. In it is a night better than a thousand months. Allah has made fasting in it obligatory and standing in prayer at night voluntary. Whoever draws near to Allah with a good deed in it is like one who fulfills an obligation in other times, and whoever fulfills an obligation in it is like one who fulfills seventy obligations in other times. It is the month of patience, and the reward of patience is Paradise. It is the month of compassion, and the provision of the believer is increased in it. Whoever feeds a fasting person in it will have his sins forgiven, his neck freed from the Fire, and he will have a reward like that of the fasting person without diminishing his reward in the least." We said, "O Messenger of Allah, not all of us have the means to feed a fasting person." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah grants this reward to whoever feeds a fasting person with a sip of milk, a date, or a drink of water. And whoever satisfies a fasting person, Allah will give him a drink from my pool, and he will never thirst until he enters Paradise. It is a month whose beginning is mercy, whose middle is forgiveness, and whose end is freedom from the Fire. Whoever eases the burden of his slave in it, Allah will forgive him and free him from the Fire." [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]

2841

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت کے آٹھ دروازے میں جن میں سے ایک دروازہ کا نام

رضا ن (خوب سیراب کرنے والا) ہے اس دروازہ سے صرف روزہ دار، جو (اعزاز کے طور پر جنت

میں) داخل ہو گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

رمضان میں نیک اعمال کرنے سے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں

Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "In Paradise, there are eight gates, one of which is called Ar-Rayyan, which only those who fast will enter." [Agreed upon]

2842

وآ لر و ل م ارشاد فرماے ہیں کر جس نے عقیدت اور ایمان کے ساتھ (خلوص نیت سے) ثواب حاصل کرنے کے لئے رمضان کے روزے رکے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے اور جوعقیدت اور ایمان کے ساتھ (خلوص نیت سے) رمضان میں عبادت کرے (یعنی تراوتے، تلاوت قرآن اور ذکر میں مشغول رہے) تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے اور جس نے عقیدت اور ایمان کے ساتھ (خلوص نیت سے) شب قدر میں عبادت کی تو اس کے بھی تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔

روزہ کی فضیلت اوراس کے آداب

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts Ramadan out of faith and seeking reward will have his past sins forgiven. Whoever stands in prayer during Ramadan out of faith and seeking reward will have his past sins forgiven. And whoever stands in prayer on the Night of Decree out of faith and seeking reward will have his past sins forgiven."

2843

وآ لر و ل م ارشاد فرماے ہیں کر انسان کے ہر نیک عمل کا ثواب زیادہ کیا جاتا ہے اس طرح کر ایک نیک (کا ثواب) دس گنا سات سو گنا تک بڑھا کیا جاتا ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماے ہیں کر کیسے روزہ کا ثواب اس سے بھی زیادہ ہے کیونکہ روزہ میرے لئے ہے اور روزہ کا بدلمیں، میں دولگا کر روزہ دار میری (خوشنوودی) کے لئے اپنی خواہش اور اپنا کہنا چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں: (1) ایک خوشی افطار کے وقت (کہ روزہ پورا ہوا، اور بھوک و پیاس کا غلبہ جاتا رہا) اور (2) دوسری خوشی (آخرت میں) اللہ تعالی سے ملاقات کے وقت (کہ اللہ تعالی سے مل کر روزہ کا ثواب حاصل کر لے گا) اور روزہ دار کے منڈکی بدبو اللہ تعالی کے پاس مشک کی بو سے زیادہ پسندیدہ ہے اور روزہ دوال ہے (کہ روزہ دار اس سے دنیا میں شیطان کے شرر سے اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے محفوظ رہتا ہے) اللہ تعالی میں سے جب کوئی روزہ دار ہوتا تو خوش کلامی نہ کرے اور نہ شور مچاے اور اگر اس کو کوئی برائی یا (اس سے لئے کا ارادہ کرے تو وہ اس سے کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں (مجھے اثر نہ آگا لی و نیاز یہ نہیں ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔ ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ روزہ دار کے منڈکی بدبو اللہ تعالی کے پاس مشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اس پر یہ لازم نہیں ہوتا کہ

روزہ دار مسواک کے ذریعے اپنی منہ کی بو کو دور نکرے جسیا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث شریف سے استدلال کیا ہے کہ روزہ دار کے لئے زوال کے بعد مسواک کرنا کروہے کیونکہ روزہ دار کے منہ کی بو کو حدیث شریف میں مشک کی خوشبو سے جواب دیا گیا ہے اس کی مثل ایسی ہے جیسے مال اپنے پر کے پیشاب کے بارے میں کہتی ہے: میرے پر کا پیشاب مجھے عرق گلا بے زیادہ پسند ہے۔ مال کے اس طرح کہنے سے پیلازم نہیں آتا کہ پر کا پیشاب ناپاک نہیں ہے کہ جس کو دھوئے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح حدیث شریف میں جواب دیا ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک سے زیادہ پسند ہے اس کا معنی مسواک کرنا کہیں نہ کرے اور بو کو باقی رکھ دے۔ ان شاء اللہ اس مستدل کی مرید تفصیل "باب تنزيه الصوم" میں آئے گی۔ فقہاء احناف میں قدوری رحمہ اللہ نے اور ماگلی فقہاء میں ابن العربي رحمہ اللہ نے اور شافعی فقہاء میں الوعثمان صابوني، البوکرائبن السمعانی وغیرہ نے لیقین کے ساتھ کہا ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو کے بارے میں حدیث شریف میں جو ذکر ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اظہار خوشنوی اور شرف قبولیت ہے۔ اور قاضی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ روزہ دار کو آخرت میں اس طرح بدلا دے گا کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو آخرت میں مشک کی خوشبو سے زیادہ مہک اٹھے گی، اور شخص تکی الدین ابن الصلاح اور شخص عزالدین عبد السلام اس بارے میں مختلف الرائے پی کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو کا تعلق دنیا سے ہی آخرت سے؟ امام عزالدین عبد السلام کا مسلک یہ ہے کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو آخرت میں ہوگی دنیا میں نہیں، جس طرح شہداء کے خون کے بارے میں صراحت سے اور انہوں نے مسلم کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس کو امام احمد اور نسائی نے عطاء کی سنن سے روایت کی ہے جس کے الفاظ یہیں: "أطيب عند الله يوم القيامة"، لیعنی روزہ دار کے منہ کی خوشبو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس مشک سے زیادہ خوشبو دار ہوگی۔ مضمون عمدۃ القاری میں ذکور ہے اور امام ابن الحمام نے کہا ہے کہ حدیث شریف سے پیلازم نہیں آتا کہ روزہ دار کے لئے مسواک کرنا کروہ قر اردو ا جائے۔ اس بناء پر کہ مسواک سے روزہ دار کے منہ کی بو زائل ہوجائے ہے، حالانکہ مسواک سے صرف دانتوں کی زردی زائل ہوتی ہے اور منہ کی بو زائل نہیں ہوتی جو حقیقت میں خلو معدہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور مسواک سے پیت تو نہیں بھرتا کر خلو معدہ دفع ہواور منہ کی بو زائل ہوجائے۔ عمدۃ القاری میں کہا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ دار کے منہ کی بو کی تعریف اس لئے فرمائی ہے کہ تاکر لوگ روزہ دار کے منہ کی بو کی وجہ سے کبھی اس سے باز کرنا چھوڑ نہ دیں اور اس طرح فرما نے سے یہ مطلب نہیں کہ روزہ دار مسواک نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کو خوشبو وغیرہ کی احتیاج تو نہیں وہ تو ہر چیز سے بلیاز اور غنی ہے تو اس طرح حیقین کے ساتھ تم اس نہیں پریہو نہ گی کہ حدیث شریف کا معنی مفہوم نہیں کہ منہ کی بو کو باقی رکھا جائے اور مسواک نہ کریں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو کی وجہ سے لوگ اس سے باز کر نہ میں کنارہ کشی نہ کریں اور اس سے

نفرت نہ کریں، کیونکہ روزہ دار کے منڈکی بوللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کے دن مشک کی خوشبو سے

زیادہ خوشبو دار ہوگی

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Every deed of the son of Adam is multiplied, a good deed receiving ten to seven hundred times its reward. Allah says, 'Except for fasting, for it is for Me, and I will reward it. He gives up his desires and food for My sake.' The fasting person has two joys: one when he breaks his fast, and one when he meets his Lord. The breath of the fasting person is more pleasant to Allah than the scent of musk. Fasting is a shield. If one of you is fasting, he should not engage in foul speech or raise his voice. If someone insults him or fights him, he should say, 'I am fasting.'" [Agreed upon]

(1) The statement: "The breath of the fasting person." In Al-Mirqat, it is said: "This does not necessarily mean that the fasting person should not remove the odor with a toothstick (miswak), as Al-Shafi'i used this hadith to argue that using a miswak after midday is disliked. This is similar to a mother saying about her child's urine, 'It is more pleasant to me than rosewater,' which does not mean she should not wash it. This issue will be discussed further in the chapter on the etiquette of fasting, Allah willing." Al-Qaduri from the Hanafis, Ibn Al-Arabi from the Malikis, Abu Uthman Al-Sabuni, Abu Bakr ibn Al-Sam'ani, and others from the Shafi'is all agreed that it refers to Allah's pleasure and acceptance. Al-Qadi said: "Allah may reward him in the Hereafter so that its fragrance becomes more pleasant than musk." There was a disagreement between Shaykh Taqiuddin Ibn Al-Salah and Shaykh Izzuddin Ibn Abd Al-Salam regarding whether the pleasantness of the fasting person's breath is in this world or the Hereafter. Ibn Abd Al-Salam held that it is in the Hereafter, like the blood of a martyr, and he cited as evidence what Muslim, Ahmad, and Nasa'i reported from Ata' from Abu Salih: "More pleasant to Allah on the Day of Resurrection." This is mentioned in Umdat Al-Qari. Shaykh Ibn Al-Humam said: "As for the meaning, it does not necessitate the dislike of using a miswak, because it is based on the assumption that the miswak removes the odor, which is not proven. It only removes the visible effect on the teeth, such as yellowing, because the cause is the emptiness of the stomach from food, and the miswak does not fill it with food to remove the cause." In Umdat Al-Qari, it is said: "The Prophet (ﷺ) praised the fasting person's breath to discourage people from avoiding speaking to fasting people due to the odor, not to discourage fasting people from using a miswak. Allah is above needing pleasant scents, so we know for certain that the prohibition was not about preserving the odor but about discouraging people from disliking it."

This noble hadith indicates that the bad breath of a fasting person is better to Allah Almighty than the fragrance of musk. Regarding this, the author of Mirqat has stated that it does not necessarily mean that a fasting person should avoid using a miswak to remove the odor from their mouth. Imam Shafi (RA) has argued from this hadith that it is disliked for a fasting person to use a miswak after midday because the bad breath of a fasting person is described in the hadith as being more fragrant than musk. This is similar to a camel saying about its urine: 'My urine is more pleasant to me than sweat.' The statement of the camel does not imply that its urine is pure and does not need to be washed away. Similarly, the hadith states that the bad breath of a fasting person is more pleasant to me than musk, which does not mean that one should not use a miswak and leave the odor. Insha Allah, the details of this argument will be discussed in the chapter 'Bab Tanzi al-Sawm.' The Hanafi jurist Quduri (RA), the Maliki jurist Ibn al-Arabi (RA), and the Shafi jurists Al-Washtani Sabuni, Al-Bukhari As-Samani, and others have firmly stated that the mention of the bad breath of a fasting person in the hadith is an expression of Allah's pleasure and acceptance. The Qadi has said that Allah will reward the fasting person in the Hereafter such that the fragrance of their mouth will be more pleasant than musk. Scholars like Taki al-Din ibn al-Salah and Iz al-Din ibn al-Salam have differed on whether the pleasant smell of a fasting person's mouth is related to this world or the Hereafter. Imam Iz al-Din ibn al-Salam's view is that the pleasant smell of a fasting person's mouth will be in the Hereafter, not in this world, just as the blood of martyrs is explicitly mentioned in a hadith narrated by Muslim, which Imam Ahmad and Nasa'i have transmitted from the Sunan of Ata, with the words: 'Atyib inda Allah yawm al-Qiyamah,' meaning that the fragrance of a fasting person's mouth on the Day of Judgment will be more pleasant to Allah than musk. This is mentioned in the 'Umdah al-Qari,' and Imam Ibn al-Humam has said that the hadith does not imply that using a miswak is disliked for a fasting person, based on the idea that the miswak removes the bad breath. In reality, the miswak only removes the yellowing of the teeth and does not eliminate the bad breath, which is caused by an empty stomach, and the miswak does not fill the stomach to prevent the bad breath. The 'Umdah al-Qari' states that the Prophet (SAW) described the bad breath of a fasting person so that people would not avoid them due to their bad breath, and this does not mean that a fasting person should not use a miswak. Allah, in His exalted essence, has no need for fragrance or anything else, as He is free from all needs and is self-sufficient. Therefore, you should not conclude that the meaning of the hadith is that the bad breath should be left and the miswak should not be used. Rather, the meaning is that people should not avoid or shun a fasting person due to their bad breath, because the bad breath of a fasting person will be more fragrant than musk to Allah on the Day of Judgment.

قیامت میں روزہاورقرآن شفاعت کریں گے
2844

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ارشاد فرماتے ہیں کہ (ماہ رمضان کا) روزہاورقرآن (کی تلاوت) پیدونوں (روزہدار) بندہ کی

شفاعت کریں گے، روزہ کہ گا: اے پروردگار! میں اس کودن میں کھانے پینے اورخواہشات کی

کميل سے روک رکھا تھا پس اس (روزہدار) کے حق میں میری شفاعت قبول فرما (اوراس کے

گناہوں کو بخش دے) اورقرآن کہ گا: اے پروردگار! میں اس (قرآن پڑھنے والے) کو

رات کی نیند سے روک رکھا تھا (کہ تراوت کا ورتہ جد میں قرآن پڑھا کرتا تھا) پس اس کے حق میں

میری شفاعت قبول کر (اوراس کو جنت میں بلند درجات عطا فرما) پس دونوں کی شفاعت قبول کی

جا گی۔ اس کی روایت سے شعب الامان میں ہے۔

رمضان میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ستاوت

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Fasting and the Quran will intercede for the servant on the Day of Resurrection. Fasting will say, 'O Lord, I prevented him from food and desires during the day, so allow me to intercede for him.' The Quran will say, 'I prevented him from sleep at night, so allow me to intercede for him.' They will be allowed to intercede." [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]

2845

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا

مہینہ آ جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برقدی کوچھوڑ دیتا اورہرسال کودیا کرتے تھے۔

اس کی روایت سے شعب الامان میں ہے۔

ف : اس حدیث ثبوت میں نکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں برقدی کوچھوڑ

دیتے تھے، اس بارے میں مرقات اور اشعة اللمعات میں کچھ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رمضان

المبارک میں بندول کو وزر سے نجات دیتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ای طرح اللہ تعالیٰ

کے اخلاص کی پیدوی میں قید یون کو جوحقوق اللہ یحقوق العباد میں ماخوذ ہول، ان کوچھوڑ دیتے تھے۔

حقوق اللہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار تھا کہ قید یون کو چھائی تو چھوڑ

دیں، اس اختیار کی وجہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں برقدی کوچھوڑ دیتے تھے۔

اب رہا حقوق العباد تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فریقین کے درمیان تصفیہ فرما کر ای قید یون

کوچھ چھوڑ دادیتے تھے۔12

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: When the month of Ramadan began, the Messenger of Allah (ﷺ) would release every prisoner and give to every beggar.

(1) The statement: "Every prisoner." This refers to those who are imprisoned for a right owed to Allah or to a person, and their release is a way of emulating Allah's attributes.

2846

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

رمضان کے لئے جنت آراست کی جاتی ہے

ارشاد فرمایا ہے کہ جنت رمضان کے لئے آراستہ ہی جائے ہے، ابتدا سال سے آخر سال تک جب

رمضان المبارک کا پہلا دن ہوتا ہے تو حور عین پر جنت کے پتوں کی ہوا عرش کے نیچے سے چلتی ہے تو

حور عین کہتی ہیں کہ اے رب! اپنے (نیک، روزہ دار، اور عبادت گزار) بندرول میں سے ہمارے لئے

ایسے شوہر عطا فرما جن سے ہماری آنکھوں کو خوشگوار حاصل ہو اور ان کی آنکھوں کو تم سے مل کر

خوشگوار حاصل ہو۔ اس کی روایت سے شعب الایمان میں کیا ہے۔

رمضان کے آخری رات کی فضیلت

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said, "Paradise is adorned for Ramadan from the beginning of the year to the next." He said, "When the first day of Ramadan comes, a wind blows from under the Throne, carrying the leaves of Paradise to the wide-eyed maidens, who say, 'O Lord, grant us husbands from Your servants who will please our eyes and whose eyes we will please.'" [Narrated by Al-Bayhaqi in Shu'ab Al-Iman]

2847

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امت محمدیا (کے ہر روزہ دار)

کی کھٹش رمضان کی آخری رات میں کروی جائے ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول

اللہ صلی اللہ علیہ! کیا وہ لیلۃ القدر ہوتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! بلکہ کام کرنے

والے کو اس کے کام کے ختم پر، یا اس کا پورا معاوضہ دیا جائے ہے (اس طرح روزہ دار کو روزہ ول کے ختم

پر خوش دیا جائے ہے)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رمضان کی آخری شب ہر روزہ دار کی کھٹش کی جائے

ہے، اس سے مراد عید کی شب ہے کہ اس پر ماہ رمضان کا روزہ ختم ہوتا ہے اور اس کی برکتی فضیلت

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said, "My Ummah is forgiven on the last night of Ramadan." It was said, "O Messenger of Allah, is it the Night of Decree?" He said, "No, but the worker is given his full reward when he completes his work." [Narrated by Ahmad]

(12)

12-ہے