(یہ باب ان لوگوں کے بیان میں سے کہ جن کو سوال کرنا (مانگنا) جائز نہیں ہے اور
جن کو سوال کرنا جائز ہے)
ف: واضح ہو کہ جس شخص کے پاس ایک روز کی خوراک موجود ہو اس کو بضرورت سوال کرنا
حرام ہے اور ایسے شخص کے لئے کچھ سوال کرنا حرام ہے جو کمانے کی طاقت رکھتا ہو اور جس کے کو
پیشہ بنالینا کچھ حلال نہیں ہے البتہ ایسے شخص کو سوال کرنا جائز ہے جس کے پاس ایک دن کی خوراک نہ
ہو اور ایسے شخص کو کچھ سوال کرنا جائز ہے جو کمانے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور ایسے شخص کے لئے کچھ سوال
جائز ہے جس کے پاس ستر عورت تک ناف کے پیچے سے لے کر جسم کو گھٹونے سمیت ذہاک کے لئے
کچھ اموجوہ نہ ہو اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بضرورت سوال کرنا جائز نہیں ہے اگر ضرورت کوئی سوال کرے تو اس کے لئے بضرورت ہے کہ وہ ان تین شرائط کا حاظر ہو: ایک بیکھود کو زیل
نہ کرے دوسرا پیکے سوال کرنے میں آهوزاری نہ کرے، اور تیسرے پیکے جس سے سوال کرنا ہو
اس کو ایزائے نہ دے۔
ان نذورہ شرائط کے ساتھ سوال کرنے میں علماء کا اختلاف ہے کر ایسا سوال کرنا حرام ہے یا
کر ایہت کے ساتھ حلال ہے البتہ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر نذورہ شرائط میں سے ایک شرط کچھ
پوری نہ ہو تو ایسا سوال حرام ہے۔ (اشعۃ المعاہت)
وہ تین آدی جن کے لئے سوال کرنا جائز ہے
(This chapter discusses the statements regarding those whom it is not permissible to ask and those whom it is permissible to ask.)
It is clear that it is forbidden to ask for something from a person who has enough food for one day, and it is also forbidden to ask from someone who has the means to earn a living and whose profession is not unlawful. However, it is permissible to ask from a person who does not have enough food for one day, and it is permissible to ask from someone who does not have the means to earn a living. It is also permissible to ask from someone who does not have any resources to cover their body from the navel to the knees, including the means to maintain modesty. The scholars agree that it is not permissible to ask out of necessity unless the following three conditions are met: first, the person should not be humiliated; second, the person should not be put to trouble by asking; and third, the person from whom one asks should not be inconvenienced.
There is a difference of opinion among the scholars regarding asking with these conditions: some consider it forbidden, while others consider it permissible with these conditions. However, all scholars agree that if any of these conditions are not fully met, such asking is forbidden. (Ash'at al-Ma'ahid)
Those three individuals for whom it is permissible to ask questions
قبیصہ بن خارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک
قرض کی ادائیگی ضمانت اپنا اوپر لی تھی (جو ایک دیت لیئے نوٹہما کے سلسہ میں تھی، چونکہ مصرف
زکات میں قرض کی ادائیگی شامل ہے اس لئے) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت
اقدام میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ قرض کی ادائیگی کے لئے پھر محت فرمایے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمایے: پھر دن کے آخر جا تو بہال تک کہمارے پاس زکات کامل آجا یہ اور میں اس میں
سے تم کو دوادیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایے: اے قبیصہ! (یاد رکھو) سوال کرنا
صرف تین آدمیوں کے لئے جائز ہے۔ (ایک) اس شخص کے لئے جو کسی قرض کا ضامن ہوتا اس کے
لئے اسی حد تک ماںگنا جائز ہے کر اس سے اس قرض کی ادائیگی ہو جائے۔ (بشرطیہ وہ اس کی ادائیگی سے
قصرہو) اور پھراس کے بعد نمازگے - (دوسرے) اس شخص کو سوال کرنا جائزہ جس کا مال و اسباب کسی آفت ناگمانی کے تحت تباہ و بر باد ہوگیا ہو) جس کیسی گردار و غیرہ تو ایسے شخص کو) اس حد تک (ماگنا جائزہ) جس سے اس کے کھانے اور پہننے کی ضرورت پوری ہوجائے یا اس حد تک کہ وہ اپنا کاروبار سدحار لے سکے (تمبرے) اس شخص کو (بھی) سوال کرنا جائزہ جو ایسے فقروفاقہ میں بتلا ہوگیا ہو کہ جس کی تصدیق ایسے تین بھحدارآدمی کرتے ہوئے جواس کو جانچ پیچانچ وا لے ہون (تواس کو) اس حد تک (ماگنا جائزہ) کہ جس سے اس کی خوراک اور لباس کی ضرورت پوری ہوجائے یا اس حد تک کر وہ اتنی زندگی کو سنچال لے سکے اے قبیحہ! ان تمیون کے سوا کسی کوسوال کرنا جائز نہیں ہے (اگر کوئی شخص ان تمیون صورتوں کے سوا سوال کرے گا) تو ایسا سوال اس کے لئے حرام ہوگا اور (اس سوال کے ذریعے) وہ حرام مال کھانے گا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ف: اس حديث شريف میں ارشاد کے حجت مندا پنی ضرورت کی تکمل کے لئے سوال کر سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل کے سوال کرنے کے لئے معذوری اور پہاری شرط نہیں ہے۔ تندرست آدمی جوفقروفاقہ میں بتلا ہو، اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے سوال کر سکتا ہے اور یہی نہیب حقی ہے جسیا کرام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔
پہلی حدیث
Qabisah ibn Mukhariq (may Allah be pleased with him) narrated: “I incurred a debt, so I went to the Messenger of Allah (ﷺ) to ask him for help. He said: ‘Stay until we receive some charity, and I will order some for you.’ Then he said: ‘O Qabisah, asking is only permissible for three: a man who incurs a debt, so it is permissible for him to ask until he pays it off, then he must stop. A man whose wealth is destroyed by a calamity, so it is permissible for him to ask until he obtains enough to sustain himself. And a man who is struck by poverty until three knowledgeable people from his tribe say: “So-and-so has been struck by poverty,” so it is permissible for him to ask until he obtains enough to sustain himself. Other than these, O Qabisah, asking is impermissible, and whoever takes it consumes it unlawfully.’” [Narrated by Muslim]
(1) The statement: “Until he obtains enough to sustain himself.” Al-Tahawi said: “The Messenger of Allah (ﷺ) permitted the needy to ask until he obtains enough to sustain himself. This indicates that charity is not prohibited for the healthy if the giver intends to relieve his poverty. It is only prohibited if the recipient intends something else, such as increasing his wealth. Whoever seeks it for other than the three reasons mentioned by the Messenger of Allah (ﷺ) in the hadith of Qabisah ibn Mukhariq is consuming it unlawfully.”
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْشَدَ فِرْمَاةَ بِنِ كَعْبٍ إِلَى لَهُ سَوَالِ كَرْنَا جَاوَزَ نَهِيبِينَ بَهْ (لَيْنِ اِيْهِ شَخْصٍ كَيْ لَهُ جَسْ كَيْ پَاسِ اَيْ دَنَ كَا كَهَا نَا مَوْجُودَهُوْ) اوْرَنَا سَ شَخْصٍ كَيْ لَهُ (سَوَالِ كَرْنَا جَاوَزَ نَهِبْ) جَوْتَنْدَرَسْتَ اوْرْ طَاقَتْ وَرْهُوْ (اوْرَكَمَا نَ پَرْقَا دَرْهُوْ) إِبَالِ اَسْ شَخْصٍ كَوْ (سَوَالِ كَرْنَا جَاوَزَ نَهِبْ) جَسْ كَوْفَقْرُو فَاقَ نَ نَ زَمِينْ پَرْگَرَا دِيَا هُوْ، يَا زِيَادَهْ قَرْضَدَارْ هَوْگِيَا اوْرْ جَوْشَخْصٌ اِپْنَ مَالْ كَوْ بِرْهَانَ نَ كَيْ لَهْ لُوْگُوْلَ نَ سَوَالِ كَرْتَا پَحْرَ نَ تَوْيِرْ (سَوَالِ) قَيَامَتْ كَيْ دَنَ اَسْ كَيْ پَحْرَ نَ پَرْزَخْمِ كَيْ صَوْرَتْ مِلْ نَمُوْدَارْ هَوْگَا اوْرْ (اَسْ طَرْحْ كَيْ سَوَالْ نَ حَاوَلْ كِيَا هَوَا مَالْ قَيْمَتْ كَيْ دَنْ) جَهَنْمَ كَيْ غَرْمِ پَحْرَوْنِ كِيْ شَكْلْ مِلْ هَوْگَا جِنْ كَوْيِكْلَا نَ گَا (پَحْرَ نَ پَرْزَخْمِ كَا عَذَابْ اَسْ وَجْهَتْ هَوْگَا كَرْ اَسْ نَ اللَّهْ تَعَالَى كِيْ مَرْضِيْ كَيْ خَلَافْ غَيْرِ اللَّهْ كِيْ طَرْفْ
توجہ کی اور سوال کیا اور گرم پھر ون کے کہانے کا عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ اس نے اپنی زبان اور منہ سے سوال کر کے اللہ تعالیٰ کی شکایت مخلوق سے کی ہے) جسیا کہ مرقات میں ذکور ہے -12) تو جو چاہے اس کو (یعنی ایسے ناجائز سوال کے عذاب کو) کم کرے اور جو چاہے اس کو بڑھا لے۔ اس کی روایت تزدی نے کی ہے۔ ف: حدیث شریف میں ارشاد کے غنی کے لئے سوال جائز نہیں ہے، اس بارے میں درخواہ میں کہنا کہ جس کی کے پاس ایک دن کی خوراک موجود ہوتا ایسے شخص کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ہے اور اس شخص کے لئے جبہی سوال کرنا جائز نہیں ہے جس کے پاس ایک دن کی خوراک تو موجود نہیں، لیکن وہ تج اور تندروست ہے اور کمانے پر قادر ہے
دوسری حدیث
Hubshi ibn Junadah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Asking is not permissible for the wealthy or the strong and healthy, except for one in severe poverty or overwhelming debt. Whoever asks people to increase his wealth will have his face scratched on the Day of Resurrection and will eat burning embers from Hell. Whoever wishes, let him take less, and whoever wishes, let him take more.” [Narrated by Tirmidhi]
(2) The statement: “Asking is not permissible for the wealthy.” In Al-Durr Al-Mukhtar: “It is not permissible to ask for sustenance if one has enough for the day, whether in actuality or potentially, such as a healthy person who can earn.”
علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرما نے پین کر (لوگوں سے ان کے مال کا) سوال کرنا زخم ہے کر آدمی سوال کر کے اپنے چہرہ کو نہیں کر لیتا ہے (یعنی انسان سوال کر کے اپنے آپ کو بہ آبرو کر لیتا ہے) پس جو شخص چاہے (سوال نہ کر کے اپنی آبرو کو) اپنے چہرہ پر باقی رکھے اور جو چاہے اس کو چھوڑ دے (یعنی سوال کر کے اپنی عزت اور آبرو کو برباہ کر دے) البتہ آدمی حاکم ہے (اپنے حق کے لئے) سوال کرے یا کسی ایسے کام کے لئے جس کے لئے سوال کرنا ناگریز ہے (لوگوں سے سوال کرے، جس کسی کے پاس ایک دن کی جبہی خوراک نہ ہوتا ایسا سوال چہرہ پر زخم کا سبب نہ بنے گا)۔ اس حدیث کی روایت ابوداود، ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔ ضرورت پر سے سوال کریں؟
Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Asking is like scratching one’s face. Whoever wishes may keep his face, and whoever wishes may scratch it, except when a man asks a ruler or in a matter where he has no alternative.” [Narrated by Abu Dawud, Tirmidhi, and Nasa’i]
تو حضرت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ارشاد فرما نے: نہیں (سوال نہ کرو) اور اگر سوال کرنا ضروری ہوتا نہیں لوگوں سے سوال کیا کر کیا میں لوگوں سے سوال کرول نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے دریافت کیا کر کیا میں لوگوں سے سوال کرول کر دے کراحسان نہیں جاتے)۔ اس حدیث کی روایت ابوداود اور نسائی نے کی ہے۔
Ibn Al-Firasi reported that Al-Firasi said: “I said to the Messenger of Allah (ﷺ): ‘May I ask, O Messenger of Allah?’ He said: ‘No, but if you must, ask the righteous.’” [Narrated by Abu Dawud and Nasa’i]
زہیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے پی کرتے میں سے کوئی (جا جتنے ہواور وہ سوال سے پچھے لے کے ) اپنی ری اپنے باٹھ میں لے لے اور (جنگل سے ) جلانے کی کلری کا کچا اپنی پیٹھ پر لے اوراس کوئی دے اوراس (معاش) کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس کی آبرو کو برقرار رکھیں (اوراس کوسوال کی ذات سے پچائیں ) تو پراس سے بہتر ہے کروہ لوگوں سے بھیک مانگنا پچھرے، خواہ لوگ اتے دی یا نہ دی اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ف : اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ساکل کولوگ دیاں دی دونوں صورتوں اس کے لے بہتر نہیں، ساکل کولوگ اگر دییں تو پراس لے بہتر نہیں کروہ ان کا احسان مند ہوگا اوراس کو ماگئی عادت ہو جائیگی اور اگر ساکل کولوگ نہ دیں تو یہ چیز اس کے لے اس وجہ سے بہتر نہیں کر اس کے سوال کر کے خود کو زیل کیا، اورسوال کے باوجود اس کو پچھڑا ملا جی نہیں۔
Az-Zubair ibn Al-Awwam (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “It is better for one of you to take a rope, bring a bundle of firewood on his back, and sell it, so that Allah preserves his dignity, than to ask people, whether they give or refuse.” [Narrated by Bukhari]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر پچھا مانگے کہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دریافت فرما کر کیا تمہارے گھر میں پچھی نہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی باب میرے پاس ایک موتی کبل ہے جس میں کا ایک حصہ تو نہم اوزہ لیتے ہیں اور ایک حصہ پچھا لیتے ہیں، اور کلری کا ایک چھوٹا پیالہ ہے جس میں نہم پانی پیتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما کرتے میں لے آتے، ان دونوں چیزوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم انصاری دونوں چیزوں آپ کی خدمت میں لے آتے، اپنے دست مبارک میں لے کر فرما : ان کو کون خریدتا ہے؟ ایک صاحب نے کہا کہ میں ان دونوں کو ایک درہم میں لیتا ہوں۔ پھر آپ فرما کر اس کو ایک درہم سے زیادہ میں کوئی خریدتا ہے؟ اس کو آپ دویہیں بار فرما : اس پر ایک صاحب نے کہا کہ میں ان دونوں کو دو درہم میں لیتا ہوں تو حضور ان دونوں چیزوں کو ان کے حوالہ فرما اور درہم لے لے اور ان کو انصاری کو دے کر ارشاد فرما کہ ایک درہم کا غلام لے کر گھر والوں کو دیا اور دوسرے درہم کی کھائی خرید کر میرے پاس
لے آؤ تو وہ انصاری کلبازی خرید کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کلبازی میں کچری (کادستہ) اپنے دست مبارک سے لگادی اور فرمایا کہ جا اور کچریاں کاٹ کر فروخت کر واور پندرہ دن تک تم مجھ سے نہ ملنا (اور اس کام میں مشغول رہنا) چنانچہ وہ انصاری چل گیا (روزآںہ) کچریاں کاٹتے اور فروخت کیا کرتے، پھر جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے پاس دس درہم ہوئے (انہوں نے اس میں سے پچھا کا کچر اخر پیدا اور پچھا کا غلم (پیدا کیا کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان صحابہ سے ارشاد فرماتے کہ پیکام تہیار کے لے ماگے سے بہتر ہے کہ جس کی وجہ سے قیامت کے دن تہیار پچھا داغ پر ایک داغ ہوجائے، کیون کہ ماگلنا صرف تین،یا آدمیوں کے لے جانزیہ: (ایک) اس شخص کے لے جوفقر وفاق سے خاک آ لو دہ ہوچکا ہویا (دوسرے) اس شخص کے لے جوبہت قرض ضدار ہواور (قرض کے بارے) پر پیثان ہو،یا (تیسرے) اس شخص کے لے جس پر خوان بھواجب ہواور (اس کو ادا کر سکنے کی وجہ سے)
بہت پریشان ہو۔
اس کی روایت ابوداود نے کی ہے اور ابین ماجہ نے بھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that a man from the Ansar came to the Prophet (ﷺ) to ask him for help. The Prophet (ﷺ) said: “Do you not have anything in your house?” He said: “Yes, a piece of cloth that we wear and spread, and a bowl from which we drink water.” The Prophet (ﷺ) said: “Bring them to me.” He brought them, and the Prophet (ﷺ) took them in his hand and said: “Who will buy these?” A man said: “I will take them for a dirham.” The Prophet (ﷺ) said: “Who will offer more than a dirham?” He repeated this two or three times. Another man said: “I will take them for two dirhams.” The Prophet (ﷺ) gave them to him, took the two dirhams, and gave them to the Ansari. He said: “Buy food with one of them and give it to your family, and buy an axe with the other and bring it to me.” He brought it, and the Prophet (ﷺ) tied a handle to it with his hand and said: “Go, gather firewood and sell it. Do not let me see you for fifteen days.” The man went and gathered firewood and sold it. He returned having earned ten dirhams. He bought clothes with some and food with the rest. The Prophet (ﷺ) said: “This is better for you than asking, which will leave a mark on your face on the Day of Resurrection. Asking is only permissible for three: one in severe poverty, one in overwhelming debt, or one with blood money to pay.” [Narrated by Abu Dawud]
Ibn Majah narrated it up to the words: “On the Day of Resurrection.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو لوگوں سے اس غرض سے سوال کرتا ہے کروہ خوب مالدار بن جائے تو وہ حقیقت میں (جنہم کے انگارے ماگلنہے اب اے اختیار ہے کر چاپ وہ اپنے لے آگے کے شعلہ کم جمع کرے یا زیادہ (جس میں سے جلنا ہوگا) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever asks people for their wealth to increase his own wealth is only asking for embers. Let him take less or more.” [Narrated by Muslim]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص لوگوں سے (بغیر استحقاق کے) ماگلنارہتاہے تو قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرہ پر ذره بر ابر کی گوشت نہیں رہے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
تیسری حدیث
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A person continues to ask people until he comes on the Day of Resurrection with no flesh on his face.” [Agreed upon]
معاونی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں کہ ماگر میں اصرار کر کے زنج نکیا کرو کیون کہ خدا کی فضیلت میں برکت ملنے کی وجہ سے میں بدل ناخواستہ پڑھ دیتا ہوں تو اس کو میں نے جومال دیا ہے اس میں برکت نصیب نہ ہوگی اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ فقر وفاق میں مسلمان کیا کرے
Muawiyah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do not insist on asking. By Allah, if one of you asks me for something and I give it to him reluctantly, there will be no blessing in what I give him.” [Narrated by Muslim]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں جو کوئی فاقہ کشی میں مبتلا ہوگیا ہو، بین کوئی سخت حاجت درپیش ہوگی تو اوراس نے (بطور شکایت) لوگوں پر ظاہر کر کے ان سے حاجت روایت کی خواہش کی ہو تو اس کی حاجت پوری نہیں ہوگی اور جو اپنی حاجت کو (جاے مخلوق کے) اللہ تعالیٰ کے آگے پیش کیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت بقدر کفايت جلد پوری فرمادیں گے وہ اس طرح کہ یا تو اس کو غنی کر دیں گے یا اس کو موت سے مکنا کر دیں گے اس کی روایت ابوداوداورترمزی نے کی ہے۔ سوال نہ کرنے کی فضیلت
Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever is struck by poverty and takes it to people will not have his poverty relieved. But whoever takes it to Allah, Allah will soon grant him sufficiency, either through a quick death or immediate sufficiency.” [Narrated by Abu Dawud and Tirmidhi]
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماے ہیں کہ جو شخص مجھ سے اس با ت کا عہد کر کے کروہ لوگوں سے سوال نہ کرے گا میں اس لے جنت کا ضامن ہو تا ہوں تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کر (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) میں اس با ت کا عہد کرتا ہوں کر کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کروں گا) اس کے بعد حضرت ثوبان کا پیحال ربا کروہ کسی سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتے تھے۔ اس کی روایت ابوداوداورنسائی نے کی ہے۔ سوال نہ کرنے کی تاکید پہلی حدیث
Thawban (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever guarantees me that he will not ask people for anything, I guarantee him Paradise.” Thawban said: “I will.” He never asked anyone for anything after that. [Narrated by Abu Dawud and Nasa’i]
ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے اس با ت پر عہد لینے کے لیے بلا کر میں لوگوں سے کسی چیز کے لیے سوال نہ
کرول، میں عرض کیا۔ جی بان (میں اس کا اقرار کرتا ہوں کہ مجھے کسی سے کوئی چیز نہیں مانگون گا)
اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم (تاکیداً) ارشاد فرما لے کر اگر تمہارے ہاتھ سے چاکل مجھی گر جائے تو
کسی سے نہ مانگنا) بلکہ سواری سے اتر کر خود اس کو اٹھالیا کرنا۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
دومری حدیث
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) called me and made me promise not to ask people for anything. I said: ‘Yes.’ He said: ‘Not even your whip if it falls from you until you dismount and pick it up.’” [Narrated by Ahmad]
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ عرف کے دن
(مقام عرفات میں) ایک شخص کو سوال کرتے ہوئے سن کر فرما ہے: کیا اس (مبارک) دن میں اور
اس (مبارک) جگہ میں تو غیر اللہ سے سوال کردہ ہے؟ (پر فرما ہے ہوئے) آپ نے اس کو درہ تے
مارا (اس لے کر اس مبارک مقام میں اللہ تعالیٰ اپنے ہربندہ کی دعا قبول فرما تے ہیں، ایس مو ق پر
اللہ سے دعاء کرنی چاہئے)۔ اس حدیث کی روایت رزین نے کی ہے۔
تیسری حدیث
Ali (may Allah be pleased with him) narrated that he heard a man asking people for help on the day of Arafah. He said: “Are you asking people on this day and in this place instead of Allah?” He then struck him with a whip. [Narrated by Razin]
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرما تے ہیں کہ لوگو!
جان لوک لا چی (حقیقت میں) متناجی ہے اور (لوگوں سے اپنے آپ کو) بے پروا کر لینا تو گری ہے
اور انسان جب کسی چیز (کے حاصل کرنے) سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس سے بے پروا ہوجاتا
ہے۔ اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
اور پر کا اتحادی نے کے ہاتھ سے بہتر ہے
چہلی حدیث
Umar (may Allah be pleased with him) said: “Know, O people, that greed is poverty, and contentment is wealth. When a person gives up hope for something, he becomes independent of it.” [Narrated by Razin]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (ایک مرتبہ) منبر پر تشریف فرما تے اور (اس وقت) صدقہ لینا اور سوال سے بازرہ کا
ذکر فرما رہے تھے (اسی سلسلے میں ارشاد فرما تے) اور پر کا اتحادی نے کے ہاتھ سے بہتر ہے، اس لے کر
اور پر کا اتحادی نے والباٹھے اور یہ کا اتحادی نے والباٹھے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر لی ہے۔
دومری حدیث
He said: 'Fasting is better than charity, and charity is better than begging.' This narration is recorded separately in Bukhari and Muslim.
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرما تے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ تعالیٰ اور ان کے اہل و صحبہ کے بارے میں جو عطا فرما رہے ہیں۔ (دوسری بار) پھر سوال کیا تو آپؓ نے (دوبارہ جسی) عطا فرما رہے ہیں۔ (میں نے تیری بارسوا لکیا) تو حضورؓ ارشاد فرما رہے ہیں کہ حکیم (دنیا کا) یہ مال و متاع خوشمنا اور لذیز معلوم ہوتا ہے، پس جو کوئی اس کو (بے ما نگے) اور بغیر طمع کے حاصل کرنے تو اس مال میں اس کو برکت دی جائے گی اور جو کوئی لاچ اور حرص کے ساتھ حاصل کرنے تو اس کو ایسے مال میں برکت نہیں دی جائے گی اور اس کا ایسے شخص کا ساحال ہوگا جو کہا گے اور (بے برکت کے سبب) سیر نہ ہو (اور پیچھی ارشاد فرما رہے اے حکیم) اور کا ہاتھوں نہتر رہے (پیس کر) حکیم کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس ذات عالی کی قسم یا جس نے آپ کو حق کے ساتھ بیچا ہے، اب اس کے بعد کسی سے سوال نہیں کروں گا، پھر ان کے کردنیا سے رخصت ہو جا گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
سوال تے نہیں کی فضیلت اور صبر کرنے کی تاکید
Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with him) narrated: “I asked the Messenger of Allah (ﷺ), and he gave me. I asked him again, and he gave me. Then he said to me: ‘O Hakim, this wealth is green and sweet. Whoever takes it with a generous heart will be blessed in it, but whoever takes it with greed will not be blessed in it and will be like one who eats but is never satisfied. The upper hand is better than the lower hand.’ Hakim said: ‘I said: By the One who sent you with the truth, I will never ask anyone for anything after you until I leave this world.’” [Agreed upon]
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انصار کے چند آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (پچھمال) مانگا تو آپؓ نے دے دیا۔ انہوں نے پھر مانگا آپؓ نے پھر دیا پیہال تک کہ جو پچھا آپؓ کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا اس کے بعد حضور ارشاد فرماتے: مال میں سے جو چیز میرے پاس ہوگی میں اس کو تم سے (پیا کر) جمع نہیں رکھوں گا اور جو سوال کرنے سے اللہ اس کو پیچا تا ہے (اور اس کو کسی کام کا تارج نہیں رکتا) اور جو لوگوں کے اموال سے استغناء طاہر کرتا ہے (اور اپنے کوسوال سے بے نیاز کر لیتا ہے) اللہ تعالیٰ اس (کے دل) کو غنی بنادیتے ہیں (اور لوگوں سے بے نیاز کر دیتے ہیں) اور جو شخص (اللہ سے) صبر (کی تو فیق) طلب کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر صبر آسان کر دیتے ہیں، اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع نہمت نہیں دیتے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
عاملی زکات کو معاوضہ لینے جانے ہے
پہلی حدیث
Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: “Some people from the Ansar asked the Messenger of Allah (ﷺ), and he gave them. They asked him again, and he gave them until he ran out of what he had. Then he said: ‘Whatever good I have, I will not withhold it from you. Whoever refrains from asking, Allah will make him self-sufficient. Whoever seeks sufficiency, Allah will make him sufficient. Whoever is patient, Allah will grant him patience. No one has been given a gift better and more abundant than patience.’” [Agreed upon]
امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو (زکات وصول کرنے کا) معاوضہ مہمت فرما تے تو میں عرض کرتا کہ حضور
اس کو مجھ سے زیادہ حاجت مند کو سرفرار زفر ما یں تو آپ فرماتے کر اس کو لے لو اور اسے مال میں شامل کر لوا اور (اگر تم کو ضرورت نہیں ہے تو) اس کو خیرات کرو، اور (یا و رکھو) کہ جو چیز بغير سوال اور طمع کے لے تو تم اس کو لے لو اور جو چیز اس طرح نہ ملے اس کی خواہش نہ کرو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
دوسری حدیث
Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) narrated: “The Prophet (ﷺ) used to give me gifts, and I would say: ‘Give it to someone who needs it more than me.’ He said: ‘Take it and keep it or give it in charity. Whatever comes to you of this wealth without you being greedy or asking for it, take it. Otherwise, do not let your soul desire it.’” [Agreed upon]
ابن الساعدي رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ عالم زکات مقرب رما یا جب میں (زکات وصول کرنے سے) فارغ ہوگیا اور زکات کا مال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے کروا تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ مجھ کو میری خدمات کا معاوضہ دیا جائے تو میں نے عرض کیا کہ میں نے تو یکام اللہ کے لئے کیا ہے اور میرا اجر اللہ تعالی وی ہے تو حضرت عمر فرماتے: جو پہلے کو دیا جارہا ہووہ لے لو میں نے مجھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں (زکات وصول کرنے کی) خدمات انعام دی ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاوضہ دیا تو میں نے مجھی وہی کہا تھا جوتم نے کہا مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ارشاد فرماتے کہ جب تم کو کوئی چیز بغیر سوال کے دی جائے (تو اس کو لے لو، اگر حاجت ہو) تو اس کو استعمال کرو، اور (اگر نہیں ہوتا) نہیں رات کرو اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
ف: صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بیت المال سے عام کاموں کا معاوضہ لینا جائز ہے جسے قضاء ت، اخساب اور تدریس، بلکہ امام پر واجب ہے کہ بیت المال سے اس قسم کے کام کرنے والوں کی کفالت کرے۔
پہلی حدیث
Ibn As-Sa’idi reported: “Umar appointed me to collect charity. When I finished and delivered it to him, he ordered that I be given a reward. I said: ‘I only worked for Allah, and my reward is with Allah.’ He said: ‘Take what you are given. I worked during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and he appointed me. I said the same as you, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to me: “If you are given something without asking, take it and eat or give it in charity.”’” [Narrated by Abu Dawud]
سهل بن الحنظلی رضی اللہ عنہ روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنہ کہ جس کسی نے (ظہر غنی) تو گری کے باوجود لوگوں سے سوال کیا تو وہ حقیقت میں جہنم کے انگارے زیادہ سے زیادہ جمع کر لیتا ہے اس پر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ظہر غنی سے کیا مراد ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ ارشاد فرماتے ظہر غنی یہ کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے گھر والوں کے لئے ایک دن کی غذا موجود ہے جو ان کے لئے صحیح اور شام کفايت کرسکتی
بے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی بے۔
دومرہ حدیث
Sahl ibn Al-Hanzaliyyah (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Whoever asks people while having enough to suffice him is only increasing his share of the fire of Hell.” I said: “O Messenger of Allah, what is enough to suffice him?” He said: “Enough to feed his family in the morning and evening.” [Narrated by Al-Tahawi]
(1) The statement: “Enough to feed his family in the morning and evening.” In Al-Muhit: “Wealth is of three types: wealth that obligates Zakat, which is owning the nisab for a full year; wealth that prohibits charity but obligates the charity of Fitr and the sacrifice, which is owning the value of the nisab from surplus wealth beyond one’s basic needs; and wealth that prohibits asking but not charity, which is having enough for the day and something to cover oneself.” This is mentioned in Al-Mirqat. It also states: “Whoever owns two hundred dirhams is prohibited from taking charity, and whoever has enough for the day is prohibited from asking, but not from taking charity. There is a distinction between taking and asking.”
سهل بن الحنظلية رضی اللہ عنہ روایت بے وہ فرماتے ہیں کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی نے ایسی حالت میں سوال کیا کر اس وقت اس کے پاس اتنا مال موجود ہے جو اس کو سوال سے بہ نیاز کر دیتا ہے (اس کے باوجود وہ سوال کر لے تو) وہ حقیقت میں اپنے لے (جنہم میں) آگے کو زیادہ محکم کر دیتا ہے۔ اس کی روایت ابوداود نے کی بے۔ ف: محیط میں ذکور ہے کہ غنی بھی تو گمری کی تین قسمین میں: ایک غنی وہ ہے جو آدمی پرزکات واجب کرتی ہے جسے وہ ایسے مال کا لکھہ جونصاب کوپہو چتا ہو (ایسے شخص پرسوال کرنا اور دوسروں کی زکات لینا حرام ہے)۔ غنی کی دومری قسم وہ ہے کہ اس پرزکات تو واجب نہیں البترصد قطرا ور قربانی واجب ہے (ایسے شخص پر کسی سوال کرنا اور دوسروں کی زکات لینا حرام ہے)۔ غنی کی تیسری قسم وہ ہے کہ آدمی کے پاس ایک دن کا خوراک اور اتنا کچرا موجود ہو جس سے وہ اپنا استر چھپا لے تو ایسے شخص پر کسی سوال حرام ہے، البتہ وہ دوسروں سے زکات اور نہیرات لے سکتا بے۔ یمرقات میں ذکور ہے۔