Nūr al-Maṣābīḥ
کتاب الصلاۃ

Prayer
Volume 2 · Prayer

(یہ کتاب نماز کے بیان میں ہے)

This book is about the description of prayer.

وقول الله عز و جل واقيموا الصلوه اور الل بزر و برتر كا رشاد سور

بقرہ،پ:1،ع:5،آیت نمبر:43 میں) نماز کی پابندی کیا کرو۔

In Surah Al-Baqarah, Chapter 2, Verse 43, it is commanded: Establish prayer.

وقوله واقم الصلوه ان الصلوه تنهي عن الفحشاء والمنكر اور ارشاد

باری تعالیٰ ہے (سورۃ عنبوت،پ:21،ع:5،آیت نمبر:45 میں) اور نماز کی پابندی رکھے

کیون کہ بالاشب نماز (اپنی وضع کے اعتبار تے) بے حیائی کے کاموں اور نا شانستہ حرکتوں تے

روک رہتی ہے۔

And keep up the prayer (Surah Al-Ankabut, p:21, v:5, verse number:45).

Because the prayer performed in a state of intoxication (due to its nature) involves acts of indecency and unseemly movements.

It remains stationary.

وقوله وامر اهلك بالصلوه واصطبر عليها اور ارشاد باري تعالي

(سورۃ طا،پ:16،ع:8،آیت نمبر:132 میں) اور اپنے متعلقین (یعنی ابل خاندان

یا مومنین کو) جسی نماز کا حکم کرتے رہے او رخود کی اس کے پابند رہے۔

And your relatives (i.e., your paternal kinsmen) (in Surah Ta Ha, verse 16, section 8, verse number 132).

O believers, perform the prayer as commanded and adhere to its prescribed manner.

وقوله انما وليكم الله ورسوله والذين امنوا الذين يقيمون الصلوه اور

ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورہ ما ئده،پ:6،ع:8،آیت نمبر:55،میں) تمہارے دوست تو اللہ

تعالیٰ اور اس کے رسول اور ایماندار لوگ،جس میں جو نماز کی پابندی رکھتے ہیں۔

The guidance is from Allah Almighty (Surah Ma'idah, P:6, V:8, Verse number: 55, says): Your true friend is Allah

Exalted is He and His Messenger and the believers who observe the obligations of prayer.

وقوله والذين هم علي صلاتهم يحافظون اوليك في جنت مكرمون اور

ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورہ معارج،پ:29،ع:1،آیت نمبر:35/34 میں) اور جو اپنی (فرض)

نماز ون کی پابندی کرتے ہیں(بس) جسی لوگ جسی جوعزت سے مہشت کے باعون میں ہون لگے۔

The guidance is from Allah Almighty (in Surah Al-Ma‘arij, p. 29, v. 1, verse number: 35/34) and whoever fulfills his (obligatory duties)

They are bound by prayer (only) according to the qualities with which they find themselves in the presence of Allah.

وقوله وان ا لكبره الا علي الخشعين الذين يظنون ان م ملقوا رب م

وَانْہُمْ اَلِیْہِ رَجِعُوْنَ" اور ارشاد باری تعالیٰ نے (سورہ بقرہ،پ:1،ع:5،آیت

نمبر:45،میں )اور بے شك نماز و شوار ضرورے کے ان پر(نہیں )جن کے دونوں میں خوشوع

(بھی نہ خاکساری )ہے،پروہ لوگ جس جن کواس با ت کا یقین ہے کہ وہ اپنے پروردگار سے مل

والے ہیں اور وہ اس با ت پر محض یقین رکھتا ہیں کہ وہ اپنے پروردگار کی طرف واپس جائے

والے ہیں،جن لوگوں کو خدا کا اور عاقبت کا خیال نہیں ان کونماز کی پابندی محض بجاے خود ایک

مصیبت معلوم ہوتی ہے۔

“And to Him they will return” (Surah Al-Baqarah, Part 1, Section 5, Verse 45). And indeed, prayer and charity are obligatory for them, except for those who have neither zeal nor humility in both. But those who have firm faith that they will meet their Lord and are certain that they will return to Him, for such people, the remembrance of God and the Hereafter is not a burden; rather, it is a source of comfort and solace.

وقوله رب اجعلني مقيم الصلو ومن ذريتي اور ارشاد باري تعالي سور ابرا يم ع ايت نمبر مي حضرت ابراهيم علي السلام ا ني دعا ي مي يرمار ي ا مير رورد ار مج توفيق د ك مي نماز ابندي ك سا ت تار ول اور نصرف مج كو بلك ميري اولاد كو ب ي اس كي توفيق د وقوله فخلف من بعد م خلف اضاعوا الصلو واتبعوا الش وات فسوف لقون غيا اور ارشاد باري تعالي ن سور مريم ع ايت نمبر مي ر ان ك بعد بعض ايس ناخلف يدا وي جن و ن نمازي بر باد كيس اور نفساني ناجانز خواب شات ك ي ي تو ان كي مرا ي ان ك ا اي ي اور ي عنقريب اخرت مي خرابي ركيسي

وقوله ان المنفقين يخدعون الل و و خادع م واذا قامواالي الصلو قاموا كسالي يراءون الناس اور ارشاد باري تعالي ن سور نساء ع ايت نمبر مي بلاشب منافق الل تعالي س ال بازي كرت ي حالك الل

تعالی ان کواس جال کی سزا دینے والے پیں اور پیجب نماز کیے کر لے ہوتے پیں تو بری کابلی

کے ساتھ کر لے ہوتے پیں - ( کر ظاہرداری کر کے ) صرف لوگوں کو دکلا تے پیں -

نماز مسلمان پر اللہ کا حق ہے

O Allah, the One who inflicts the severest punishment, and those who perform the prayer merely for show - they do so only to display to people - prayer is an obligation upon Muslims as a right of Allah.

822

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے پیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر جس نے بقین کر لیا کہ نماز ( اللہ تعالیٰ کا تم پر ) حق ہے اور فرض

ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا -

( اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور حاکم نے بھی مستدرک میں اس کی روایت کی ہے -)

بنمازی پر شیطان قابو پالیتا ہے

From Uthman, he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever knows that prayer is a mandatory duty, will enter Paradise." [Narrated by Ahmad and Al-Hakim in Al-Mustadrak]

823

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن سے شیطان اس وقت تک ڈرتا رہتا ہے جب تک کہ وہ پنجگانہ

نماز ون کی پابندی کرتا رہتا ہے اور جب مومن نماز ول کو ضائع کرتا ہے تو شیطان اس پر جری

ہوجاتا ہے اور اس کو بیرہ گنا ہول میں ذوال دیتا ہے اور اس پر ( قابو پالنے کی ) حص کرتا ہے -

( اس کی روایت البغیم نے کی ہے اور ابو بکر محمد بن الحسين بناری نے اپنے امالی میں اور

رافعی نے بھی اس کی روایت کی ہے -)

نمازی کو اللہ کی رحمت طےیری رہتی ہے

From Ali, he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Satan continues to stay away from a believer as long as he observes the five daily prayers. But if he neglects them, Satan becomes bold against him and leads him into major sins." [Narrated by Abu Nu'aym, Abu Bakr Muhammad bin Al-Hussain Al-Bukhari in his Amali, and Al-Rafi'i]

824

عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ نماز میں کڑاہو جاتا ہے تو رکوع میں جائے تک اس کے سر پر رحمت

نازل ہوتی رہتی ہے اور جب رکوع میں چلا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سجدہ میں جائے تک اس

کو طےیر لیتی ہے اور سجدہ کرنے والا اللہ کے قد مون پرسیدہ کرتا ہے تو اس کو چاہے کر ( اس وقت

دل میں) اللہ تعالٰی اور بہت رغبت سے ماگے (کیونکہ مقبو لیت کا وقت ہے)

(اس کی روايت سعيد بن منصور نے مرسلاً کی ہے - )

نمازی کیلئے اللہ تعالیٰ اپنے دربار کا دروازہ کھول دیتا ہے

From Ammar, he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When a servant stands in prayer, righteousness is spread over his head until he bows. When he bows, the mercy of Allah is above him until he prostrates, and the one prostrating prostrates upon the feet of Allah. So, let him ask and desire." [Narrated by Sa'id ibn Mansur as an interrupted narration]

825

حضرت عمر رضی اللہ عنہ تے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز پڑھنے والے حقیقیاً شہنشاہ ہیں۔ دروازہ کھلا کرتا ہے۔ اور جو دروازہ کھلا کرتا رہتا

ہے تو قبر میں بہت جلد اس کیلئے دروازہ کھول دیا جائے۔ (اس کی روایت ويلمي نے کی ہے - )

وہ أمور جن کی وجہ سے مسلمان جنت میں جائیں گا اس طرح ہوجاتا ہے

It is narrated from Omar (RA) that he said,

the Messenger of Allah ﷺ said: 'Those who pray are truly kings. They open the door, and whoever keeps the door open will have their door opened quickly in the grave.' (This was narrated by Waleed.) This is how matters proceed due to which a Muslim enters Paradise.

826

ابوبامامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی پاچون نمازوں کو ادا کرتے رہو اور اپنے معین (رمضان) کے

روزے رکھا کرو، اور اپنے اموال کی زکوۃ دیا کرو اور جب تم کوتمہارا امیر کوئی حکم دے (اور وہ

حکم خلاف ثریع نہ ہو) تو اس کے حکم کی اطاعت کیا کرو تو تم (اس کے صلی میں) اپنے پروردگار

کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ (اس کی روایت امام احمد اورترمزی نے کی - )

نمازی کی فضلیت اور پہ نمازی کی وعید

From Abu Umama, he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Pray your five prayers, fast your month, pay the zakat of your wealth, and obey the one in charge of you, and you will enter the Paradise of your Lord." [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi]

827

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ

وسلم نے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دون نماز کا تنزکرہ اس طرح فرمایا

کہ جو شخص نماز کی پابندی کیا کرتا ہے تو قیامت کے دن نماز اس کے لیے نور ایمان کی زیادتی اور

کمال ایمان کی دلیل اور مغفرت کا سبب ہوگی۔ اور جو شخص نماز کی پابندی نہیں کرتا تو اس کے نور

ایمان میں نقص زیادتی ہوگی۔ اور نماز کے کمال ایمان کی کوتی دلیل ہوگی۔ اور نماز کی نقصان کوٹی

ذریعہ ہوگا اور پہ نمازی قیامت کے دن قارون، فرعون، امام اور أبی بن خلف کے ساتھ رہ

گا _ (اور عذاب میں بھلا ہوگا ) _

(اس کی روايت امام احمد اور دارمي نے کی ہے اور جہاں تک نے کہی اس کی روایت شعب

الایمان میں کی ہے _)

نماز کے نمازی کادل منور ہوتا ہے

From Abdullah ibn Amr ibn Al-As, he said: The Prophet (peace be upon him) mentioned prayer one day and said: "Whoever maintains it will have light, proof, and salvation on the Day of Judgment. And whoever does not maintain it will not have light, nor proof, nor salvation, and on the Day of Judgment, he will be with Qarun, Pharaoh, Haman, and Ubayy ibn Khalaf." [Narrated by Ahmad, Al-Darimi, and Al-Bayhaqi in Shu'abal Iman]

828

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کے دل میں نور پیا ہوجاتا ہے تو تمہارے اختیار میں ہے کہ نماز کی پابندی سے اپنے دل میں نور پیا کر لیس _ (اس کی روایت دیسی نے کی ہے _)

نماز کو دوزخ کی آگ سے نجات ملتی ہے

From Abu Huraira, he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The prayer of a man is light in his heart. Whoever among you wishes, let him illuminate his heart." [Narrated by Al-Dailami]

829

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک فرشتہ (مقرب) ہے جو بر نماز کے وقت ہی آواز دیتا ہے کہ اولا دآدم ! اطوعتم نے اپنا اوپر (اللہ تعالیٰ کی نافرمانیول سے )جوآگ سلگا لی ہے اس کونماز پڑھ کر بجا دول _ (اس کی روایت ضیاء نے کی ہے اور طبرانی نے کہی کہبر میں اس کی روایت کی ہے _)

نماز کے نماز اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرتار ہے تا کہ اور رحمت اور فرضت

اس کو گہیرہ رہتہ میں

From Anas, he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah the Exalted has an angel who calls at every prayer: 'O children of Adam, rise to your fire which you have kindled for yourselves, and extinguish it with prayer.'" [Narrated by Al-Dhiya' and Al-Tabarani in Al-Kabir]

830

حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کو تین با تین حاصل ہوتی ہیں، (ایک 1) پیکر آسمان سے لے کراس کے سر تک رحمت ابی نازل ہوتی رہتی ہے (دوسرے 2) ملاکہ اس کواس کے دونون قدموں سے لے کر آسمان تک گہیرہ ہوئے رہتے ہیں اور (تیسرے 3) پیکر ندا کر نے والاندا کرتے

رہتاہے کراگرنمازی جان لیتا کروہ کس سے رازونماز کر رہاہے تو وہ نمازتنہ پلتاہے۔

(اسکی روایت محمدبن نصر نے اپنی کتاب الصلاۃ میں مرسل کی ہے۔)

قیامت میں سب سے پہلنماز کا سوال ہوگا، نقل کی فضیلت

From Al-Hasan, he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The one who prays has three characteristics: righteousness rains down from the sky upon the top of his head, angels surround him from his feet to the sky, and a caller calls to him, and if the one praying knew who he was conversing with, he would never stop." [Narrated by Muhammad ibn Nasr in his book on prayer as an interrupted narration]

831

ابوبهریه رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم نے فرمایا کہ بحقیقت پہلی چیز جس کا حساب بندهے لیا جائے گا وہ نماز ہے پھر نماز

درست ہوگی تو بندہ کے جملہ اعمال درست ہوں گے اوراگر نماز درست نہ ہوگی تو دوسروں تمام

اعمال بھی درست نہیں ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرما ئین گے کہ دیکھو کہ کیا میرے بندہ کے

اعمال میں نفل (عبادات) ہیں؟ اگر نفل (عبادات) ہوئی تو ان کے ذریعے فرض کی تکمیل

کردی جائے گی کیونکہ نفل فرض کی تکمیل کیلئے ہی اوراصل تو فرائض ہی ہیں (اس لے معلوم ہوئا

چاہے کہ) اللہ تعالیٰ فرائض کے ذریعے (بندول پر) نعمت کی تکمیل اوراپنی رحمت نازل کرنا

چاہے ہیں - (اسکی روایت ابن عساکر نے کی ہے۔)

گناہوں کومٹانے والی عبادات

From Abu Huraira, he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The first thing a servant will be held accountable for is his prayer. If it is good, his other deeds will be good, and if it is corrupt, his other deeds will be corrupt. Then it will be said: 'Look, does My servant have any voluntary prayers?' If he has voluntary prayers, they will complete his obligatory ones, and similarly, the obligatory prayers will be treated with Allah’s return and mercy." [Narrated by Ibn Asakir and is considered good]

832

ابوبهریه رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (1) نماز نماز گاہ (2) ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ، اور (3) ایک

رمضان سے دوسرا رمضان، یعنی چیزیں انگناہوں کو جوان کے درمیان ہوئے ہوں مطاہے

والے ہیں، بشتر طیکہ بیڑہ گناہ صادر نہ ہوئے ہوں - (اسکی روایت مسلم نے کی ہے۔)

ف: اس حدیث اوراس کے بعدوالی حدیثوں میں نمازاور دیگر عبادات کی وجہ یے گناہوں کے

متوازیہ جانے کا جو زکر ہے اس سے صغیرہ گناہ مراد ہیں نہ کہ بیڑہ کیونکہ گناہ بیڑہ کی معافی کیئے

باتفاق اللہ سنہ واجماعت تو ضروری ہے - (ماخوذ ازمراقبات ولمعات)

نمازی گناہوں کو مطاہرہ والی ہے

It is narrated from him that the Messenger of Allah ﷺ said: "The five prayers, from one Friday to the next, and from one Ramadan to the next, expiate what is between them, as long as the major sins are avoided." [Narrated by Muslim]

833

اپوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جتنے کر آگرت میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر جاری ہو جس

میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کیا کرتا ہے، کیا اس کے جسم پر پچھلی میل باقی رہے گا؟ سب نے

عرض کیا کہ اس کے بدن پر کوئی میل باقی نہ رہے گا، حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ

مثال نماز ہے جس کی طرح اللہ تعالیٰ ان پانچ نمازوں کے ذریعے خطاوں کو مطاہرہ ہے۔

(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

نماز صغیرہ گناہ مطاہرہ ہے

He also said: "What do you think if there were a river at the door of one of you in which he bathes five times a day, would there be any dirt left on him?" They said: "No, there would be no dirt left on him." He ﷺ said: "That is like the five prayers, through them Allah erases the sins." [Agreed upon]

834

ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے

کسی اجنبی عورت کا بوس لیا اور پھر نی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا

تو اللہ تعالیٰ نے ایک آیت نازل فرمايی (سورۃ حود، پ:12، ع:10، آیت نمبر:114)، واقم

الصلوة طرفي النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السيئات۔ (اے پیغمبر صلی

اللہ علیہ وسلم نماز کی پابندی تبہ دون کے دونوں کناروں اور رات کے قریب ساعتیں میں یقیناً

نیماں برائیوں کو مطاہرہ ہے (اس آیت کے الفاظ "طرفي النهار وزلفا من الليل" سے

پانچوں نمازوں کی طرف اس طرح اشارہ ہو رہا ہے کہ "طرفي النهار" دون کے دونوں طرف میں،

طرف اول سے نماز فجر اور طرف آخر سے نماز ظہر اور عصر اور "زلفا من الليل" رات کے قریب

ساعتیں سے نماز مغرب اور عشاء مراد ہے) اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا

پیغمبر ہی لے گے؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پیغمبری تمام امت کیلئے ہے۔

It is narrated from Ibn Mas'ud that a man committed a sin with a woman, and he came to the Prophet ﷺ and informed him. Then Allah revealed the verse: "And establish the prayer at the two ends of the day and at the approaches of the night. Indeed, good deeds remove bad deeds." (11:114) The man then asked: "O Messenger of Allah, is this for me?" The Prophet ﷺ replied: "It is for all of my Ummah." In another narration, it is: "For whoever acts upon it from my Ummah." [Agreed upon]

835

اور ایک دوسرا روایت میں پوچھا کہ میری امت میں جو کسی اس آیت پر

عمل کر کے برائیوں کے بعد (برائیوں پر نادم ہو کر) نیکیاں کرے اس کیلئے بھی یہ -

(اس کی روايت بخاري اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے -)

نماز صغیرہ گناہ مطافی ہے

It is narrated from Ibn Mas'ud that a man committed a sin with a woman, and he came to the Prophet ﷺ and informed him. Then Allah revealed the verse: "And establish the prayer at the two ends of the day and at the approaches of the night. Indeed, good deeds remove bad deeds." (11:114) The man then asked: "O Messenger of Allah, is this for me?" The Prophet ﷺ replied: "It is for all of my Ummah." In another narration, it is: "For whoever acts upon it from my Ummah." [Agreed upon]

836

ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر ایک شخص

نہی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں

ایک عورت سے مدینہ منورہ کی آخری آبادی میں لپٹ گیا تھا اور اس سے جماع تو نہیں کیا لیکن

بوس و کنار و غیرہ کر لیا اور اب میں حاضر ہوں تو حضرت مجھ پر جومزاجا ہیں جاری فرمائیں، عمر رضی

اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص سے فرمایا کہ پیشک اللہ تعالیٰ نے تمہاری پردہ پوشی کی ہے کاش کرتے

بھی اپنی پردہ پوشی کر لیتے ! ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے میں کہ نہی کریم صلی اللہ علیہ وسلم

نے پچھ جواب نہیں دیا، وہ شخص انہا اور جا نے لگا تو نہی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پیچھے ایک

آدمی کوروانے کر کے اس شخص کو بلا لے اور یا آئتا س کو پڑھ کر سناتے واقم الصلاوة طرفی

النهار و زلفا مِنَ الَّیلِ انَّ الْحَسَناتِ یُذهِبنَ السَّیِّاتِ ذلِکَ ذِکْری

للذَاکِرِینَ، (سورۃ حود، پ:12، ع:10، آیت نمبر:114) (دن کے دونوں طرف اور

رات کے قریبی ساعاتوں میں نماز کی پابندی کچھ بہشک نیکیاں براہیوں کو مطاف یہ ہیں، یہ

نصیحت مانے والوں کیلئے نصیحت ہے ) یہ کر مجع میں ایک شخص نے عرض کیا اللہ کے

نہی (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ کم کیا خاص اس شخص کیلئے ہے؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

نہیں بلکہ یہ تمام لوگوں کیلئے عام حکم ہے - (اس کی روایت مسلم نے کی ہے -)

نمازتے صغیرہ گناہ معاف کردیتے جاتے ہیں

A man came to the Prophet ﷺ and said: "O Messenger of Allah, I had an affair with a woman at the outskirts of Madinah, and I touched her, but did not have full intercourse. I am here, so judge me as you wish." Umar then said: "Allah has concealed you, if only you had concealed yourself." The Prophet ﷺ did not reply to him, and the man left. Then the Prophet ﷺ sent someone after him, called him back, and recited this verse: "And establish the prayer at the two ends of the day and at the approaches of the night. Indeed, good deeds remove bad deeds. That is a reminder for those who remember." (11:114). A man from the crowd then asked: "Is this for him specifically?" The Prophet ﷺ replied: "No, it is for all people." [Narrated by Muslim]

837

اٰنس رضی اللہ تعالی عَنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر ایک شخص حضور

صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسا

گناہ سرزدہ ہواہے جس پرحد جاری ہوتی ہے پس حضور مجھ پرحد جاری فرماگئیں، اٰنس رضی اللہ

تعالی عَنہ نے فرماياکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اس کے فعل کے متعلق دریافت نہیں

فرمایا(کرتے نے کیا کیاہے؟) اس اثناء میں نماز کا وقت آگیا تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کے ساتھ نماز باجماعت ادا کیا، اور جب بی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوکے تو وہ شخص اٹھا

اور عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنا گناہ کیاہے جس پرحد جاری ہوتی ہے اس

کے آپ مجھ پر کتاب اللہ کا حکم جاری فرماگئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماياکہ تم نے ہمارے

ساتھ نماز باجماعت ادا کیاہے؟ اس نے جواب دیا بال! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بے شک اللہ تعالی نے تمہارے گناہ کو معاف کردیاہے، یاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یون فرماياکہ بشک

اللہ تعالی نے تمہاری حد کو خش دیاہے- (اس کی روایت بخاری اورمسلم میں متفق طور پرکی ہے-)

ف: اس حدیث میں سائل سے جس گناہ کے سرزدہ ہونے کا ذکر ہے، انہوں نے اس کو اپنے

خیال میں گناہ بڑہ سمجھااور اس خیال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاکہ اس گناہ کی پاداش میں

حد جاری کردی جائے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بذرائع وی معلوم فرماياکہ وہ گناہ ایسائيس ہے کہ

جس پرحد جاری کی جائے اس بناء پرآخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم صادر فرماياکہ وہ گناہ نماز

باجماعت ادا کرنے کی وجہ سے معاف ہوگیاہے، اس لے اب حد جاری کرنے کی ضرورت باقی نہیں

رہی- (پیمعات سے ماخوذہ-12)

Anas narrated that a man came to the Prophet ﷺ and said: "O Messenger of Allah, I have committed a sin, so implement the punishment upon me." The Prophet ﷺ did not ask him about it, and when prayer time arrived, the man prayed with the Prophet ﷺ. After the prayer, he stood up and said: "O Messenger of Allah, I have committed a sin, so implement the punishment upon me." The Prophet ﷺ said: "Did you not pray with us?" The man replied: "Yes." The Prophet ﷺ said: "Then Allah has forgiven your sin, or your punishment." [Agreed upon]

نماز سے صغیرہ گناہ مغفرت ہوتی ہے
838

ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ما کے موسم میں جب پڑے (درختوں سے) گر رہے تھے باہر نکل آپ نے ایک درخت کی دوشاخوں کو پکڑ لیا، ابوزر رضی اللہ عنہ فرامانتے ہیں کہ شاخ سے پڑے گرنے لگے، راوی کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابوزر کہ کر پکارا، میں نے جواب دیا یا رسول اللہ کہا! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان بنده جب نماز اس مقصد سے پڑھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل ہوجائے تو اس کے گناہ اس طرح گرجاتے ہیں جس طرح پڑے اس درخت سے گرتے جارہے ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد نے لکھی ہے۔)

نمازی جب نماز ختم کر لیتا ہے تو وہ صغیرہ گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے

Abu Dharr narrated: "The Prophet ﷺ came out in winter, and the leaves were falling. He took two branches from a tree, and the leaves started falling. He ﷺ said: 'O Abu Dharr, when a Muslim prays, seeking the pleasure of Allah, his sins fall off just as these leaves fall from this tree.'" [Narrated by Ahmad]

839

سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھیگے مسلمان نماز پڑھتا ہے اور اس کے گناہ اس کے سر پر دھرے رہتے ہیں، پس جس وقت وہ سجدہ کرتا رہتا ہے تو اس کے گناہ گرتے چلے جاتے ہیں اور جب وہ نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ اس کے تمام گناہ اس سے گرتے چلے ہوتے ہیں۔ (اور وہ گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے)۔

(اس کی روایت طبرانی نے مجھ کہ بیشتر کی ہے اور تہذیب نے مجھی شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے۔)

وضوء اور نماز کی فضیلت

Salman narrated that the Prophet ﷺ said: "When a Muslim prays, his sins are lifted off his head, and every time he prostrates, they fall off. When he finishes his prayer, his sins are forgiven." [Narrated by Al-Tabarani in Al-Kabir and Al-Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]

840

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان بنده جب وضو کرتا ہے اور سنن کی ادائیگی کے

ساتھ) کامل وضو کرتا ہے، پھر نماز شروع کرتا ہے اور (سنن اور مستحبات کے ساتھ) کامل نماز ادا کرتا ہے تو نماز سے فراخت کے بعد وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جس طرح انسان اپنی مال کے پیٹ سے پیدا ہوتے وقت گناہوں سے پاک ہتا۔

(اس کی روایت ابن عساكر نے کی ہے۔)

بغیر وسوسوں کے نماز پڑھنے کی فضیلت

Uthman narrated that the Prophet ﷺ said: "When a Muslim performs ablution and completes it, then enters into his prayer and completes it, he will come out of his prayer just as he comes out of his mother's womb, free from sins." [Narrated by Ibn Asakir]

841

زید بن خالد جھنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دور کے نماز حضور قلب کے ساتھ ادا کی ہوتو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو خشودی ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)

سنن طریقہ پرنماز پڑھنے کی فضیلت اور خلاف سنن نماز پڑھنے کی وعید

Zaid bin Khalid al-Juhani narrated that the Prophet ﷺ said: "Whoever prays two prostrations without any forgetfulness, Allah will forgive his past sins." [Narrated by Ahmad]

842

عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانچ نمازیں پین جن کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے جس نے ان نماز وں کے وضو (سنن اور مستحبات کے ساتھ) اچھی طرح ادا کیا، اور ان نماز وں کوالن کے مستحب اوقات میں ادا کیا، اور ان نماز وں کے رکوع اور سجود کو خشوع کے ساتھ سنن طریقہ سے ادا کیا تو ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کی مغفرت فرما دے، اور جس نے ایا نہیں کیا (یعنی نمازیں نہ پڑھا یا نماز کو اچھی طرح نہ پڑھا) تو ایسے شخص کیے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں ہے اگر چاہے تو اس کی مغفرت فرما دے اور چاہے تو اس کو عذاب دے۔

(اس کی روايت امام احمد اور ابوداود نے کی ہے، اور امام ما لک اور نسائی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)

Ubada bin al-Samit narrated that the Prophet ﷺ said: "Five prayers are obligatory upon you. Whoever does them with perfect ablution, prays them at their proper times, and completes their bowing and humility, Allah has made a covenant with him to forgive his sins. And whoever does not do so, then he has no covenant with Allah. If He wills, He will forgive him, and if He wills, He will punish him." [Narrated by Ahmad and Abu Dawood, and similar narration is found in Malik and al-Nasa'i]

فضل اعمال کی تفصیل
843

ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اعمال میں کونسا عمل اللہ تعالیٰ کے پاس سب سے

زیادہ پسندیدہ ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز اس کے مستحب وقت پر (اواخرنا

افضل اعمال ہے) میں نے پھر عرض کیا کہ اس کے بعد کونسا عمل (افضل اعمال ہے) حضور صلی

اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، میں نے پھر عرض کیا کہ اس کے بعد

کونسا عمل (افضل اعمال ہے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کے راستے میں جہاد کرنا،

ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کو بیان فرمایا، اگر میں

اس طرح اورسوال کرتا جاتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح جواب دیتے جاتے-

(اس کی روایت بخاری اور مسلم میں متفرق طور پر ہے-)

بہ نمازی پر اللہ تعالیٰ غضبناک رہیں گے

Ibn Mas'ud narrated: "I asked the Prophet ﷺ: 'Which deeds are most beloved to Allah?' He said: 'The prayer at its appointed time.' I then asked: 'What after that?' He replied: 'Being good to one's parents.' I asked again: 'What after that?' He replied: 'Jihad in the way of Allah.' He then told me these and said: 'If I had asked more, he would have added more.'" [Agreed upon]

844

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے نماز ترک کر دی تو وہ اللہ تعالیٰ سے (اپنی حالت

میں لے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوئے گے- (اس کی روایت طبرانی میں کہیں میں کی ہے-)

شرک کرنے والے کی، عمد آنماز ترک کرنے والے کی، اور نشہ کرنے والے کی وعید

خلیل

Ibn Abbas narrated that the Prophet ﷺ said: "Whoever abandons the prayer, he will meet Allah while He is angry with him." [Narrated by al-Tabarani in Al-Kabir]

845

ابودردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے خلیل

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شرکی نہ بناؤ

اگر چہ تمہارے طرف سے طرف سے کر دیتے جائیں اور تمہیں جلا دیا جائے اور فرض نماز کو جان بو جھکر

برگز ترک مت کرو پس جو شخص عمد آنماز کو ترک کر دیتا ہے تو ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ کی وہ ذمہ

داری (جو مسلماں کے ساتھ بے اس بے نمازی تے) انہوں جاتی ہے (اور وہ کفر سے قریب

ہوجاتا ہے) اور شراب مت پیو کیون کہ بلاشبہ شراب (اور برنش لانے والی چیز) برائی کی کنجی

ہے۔ (اس لے کر نشہ میں رہنے والے سے جو برائی نہ ہو وہ کم ہے)-

(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)-

Abu Darda narrated: "My friend (the Prophet ﷺ) advised me to never associate anything with Allah, even if I am cut up and burned, and not to intentionally leave a prescribed prayer. Whoever leaves it intentionally, then the protection (dhamma) is removed from him, and not to drink alcohol, for it is the key to every evil." [Narrated by Ibn Majah]

تاکہ صلاۃ کفر سے قریب ہوجاتا ہے
846

جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بندر کو کفر سے ملا دینے والی چیز تک صلاۃ ہے۔ (یعنی جب بندر

نماز چھوڑ دیتا ہے تو وہ کفر سے قریب ہوجاتا ہے)- (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)-

Jabir narrated that the Prophet ﷺ said: "Between a servant and disbelief is leaving the prayer." [Narrated by Muslim]

بنمازی کا ایمان کمزور ہوجاتا ہے
847

جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایمان کو کمزور کرنے کے کفر سے قریب کرنے والی چیز تک صلاۃ

ہے۔ (یعنی جب بندر نماز چھوڑ دیتا ہے تو اس کا ایمان کمزور ہوجاتا ہے اور وہ کفر کے قریب چھپنے

جاتا ہے)- (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)-

Jabir also narrated that the Prophet ﷺ said: "Between faith and disbelief is leaving the prayer." [Narrated by Tirmidhi]

بنمازی شرک سے قریب ہوجاتا ہے
848

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کر رسول اللہ

علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بندر کو مشرك بنانے والی کوئی چیز تک صلاۃ سے بڑھ کر نہیں ہے۔ بندر

جب نماز چھوڑ دیتا ہے تو وہ مشرك کہلا نے کے لائق بن جاتا ہے- (اس کی روایت ابن ماجہ نے

کی ہے)-

اس حدیث میں تارک صلوۃ کی عید پر ارشاد ہے "ان شاء غفر لہ و ان شاء عذابہ" (اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کی مغفرت فرما دیں اور چاہے تو اس کو عذاب دین)، ان الفاظ سے نخوی ظاہر ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو تارک صلوۃ کی مغفرت فرما دیں گے، اگر تارک صلوۃ کافر ہوتا تو کسی حال میں بھی اس کی مغفرت نہیں ہوسکتی، اس لیے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے مروی سے کہ تارک صلوۃ کافر نہیں ہوتا بلکہ کفر کے قریب چڑھ جاتا ہے اس بناء پراسباب میں اس مضمون کی جو حدیثیں موجود ہیں اور ان میں "فقہا کفر اور فقہا شرک" کے الفاظ میں ان کا ترجیح کفر کے قریب چڑھ جانے اور شرک سے قریب چڑھ جانے سے کیا گیا ہے اور کیا وجہ ہے کہ نہیب حقی میں تارک صلوۃ کو کافر نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو زدو کوب کر کے قید میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ توبہ کر کے نماز کا عادی بن جائے۔ (اشعة اللمعات)12-

عمرا نماز ترک کرنے کا فرول کا فعل ہے

Anas narrated that the Prophet ﷺ said: "There is nothing between a servant and polytheism except leaving the prayer. If he leaves it, he has committed shirk." [Narrated by Ibn Majah]

ف : عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نذورہ حدیث نمبر (20) اس بات پر دلیل ہے کہ

تاکہ صلاۃ اس لے کا فریب قر ار دیا جاسکتا کر وہ متنکر صلاۃ نہیں-

849

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ جس شخص نے عمرا نماز چھوڑ دی تو وہ علائی کا فرول کے جیسے فعل کا مرتب ہوا۔(اس کی روایت طبرانی نے الاوسط میں لی ہے)

نماز ترک کرنے سے چھپا ہو انفاق ظاہر ہو جاتا ہے

Anas also narrated that the Prophet ﷺ said: "Whoever leaves the prayer intentionally has committed clear kufr." [Narrated by al-Tabarani in Al-Awsat]

850

بُریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ وہ عمرو بیان جو ہمارے اور منافقوں کے درمیان ہے وہ نماز، یہ کی وجہ سے باقی رہتا ہے، تو جس نے نماز ترک کر دی اس کا کفر ظاہر ہو گیا اور وہ عمرو بیان باقی نہ رہا۔(اس کی روایت امام احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے لی ہے)

ف: واضح ہو کہ منافقین نماز کے پرہنے میں حاضر ہوئے اور اسلام کے ظاہری احکام کی تابعداری کرنے کی وجہ سے مسلمانوں سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے منافقین کو امن دیا جاتا ہے کہ ان کو تین کیا جاتا اور ان پر احکام اسلام جاری ہوتے ہیں تو جس نے نماز جسی عمدہ ترین عبادت چھوڑ دی تو اس کا کفر و انفاق ظاہر ہو گیا اور وہ جن رعايتیں کا مستحق تھا اس کا پا استحقاق باقی نہ رہا۔12

It is narrated from Buraida that the Messenger of Allah ﷺ said: "The covenant between us and them is prayer. Whoever leaves it has committed kufr." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Nasai, and Ibn Majah]

تارک صلوۃ کی نسبت صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال
851

عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کسی کناہ کو بھرنے کے صلوۃ کے کفر کے قریب نہیں سمجھتے تھے۔

(اس کی روایت تزندی نہیں ہے۔)

اولا دو نماز کے پابند بنانے کا حکم نہ کون کوئی کیون سے علیہ سلام نے کا حکم

Abdullah bin Shuqiq (RA) narrates, he states that

the Companions of the Messenger of Allah ﷺ did not consider filling a niche to be close to nullifying prayer.

852

عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن والد کے واسطے سے اپنے دادا کے

روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کرتا پی اولا دو کو

جب وہ سات سال کے ہو جا گئی تو نماز کا حکم کیا کرو اور جب وہ دس سال کی عمر کو پہنچ جا گئی تو

(نماز کی پابندی نہ کرے پر) انہیں مار کر نماز کے پابند بنادا اور ان کے سو نے کی جگہ اگل اگل

کردو۔ (اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔)

ف: اس حدیث میں چون کے درمیان بسترول کے جد اکر نے کا جوز کر ہے اس سے مراد ہے

کہ کہ جب پچھو س سال کی عمر کو پہنچ جا گئی تو محالی بنن کے بستر اگل اگل کرو یہ جا گئیں۔ (اشعة

اللمعات اور مرقات)

Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, narrated: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Instruct your children to pray when they are seven years old, and strike them for it when they are ten, and separate them in their beds.'" [Narrated by Abu Dawood]