پیاپہ مستحاضہ کے بیان میں
مستحاضہ کی تعریف اوراس کا حکم
ف : مستحاضہ عورت کو کہتے ہیں جس کے رتم سے خون بغیر ایام حیض اور نفس کے جاری رہتا
ہے، عورت کے رتم میں ایک رگ ہوتی ہے جس کو عازل کہتے ہیں اوراس رگ کے پچھے جانے کی وجہ سے
خون جاری رہتا ہے تو عورت کو جب اس وقت کا خون جاری ہوتا وہ نماز، روزہ اور تمام عبادتیں برستور پڑتا
کرے اوراس حالت میں صحبت کی ممنوع نہیں۔ (مرقات)12-
معین عادت والی مستحاضہ کا حکم
Definition and Ruling of Istihadha: It is said that a woman who experiences continuous bleeding outside the periods of menstruation and postpartum bleeding is called a mustahada. In the female anatomy, there is a vein known as the ‘azl, and due to its rupture, the bleeding continues. When a woman experiences this type of bleeding, she is required to perform her prayers, fast, and all other acts of worship, and in this state, conjugal relations are not prohibited. (Mirqat)12-
Ruling for a Mustahada with a Regular Cycle
أم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
زمانے میں ایک عورت کو مدت حیض سے زائد خون آیا کرتا تھا تو اس عورت کے لئے أم سلمہ رضی اللہ عنہا
نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کر ان کو جو، پی
خون جاری ہوا ہے اس کے پیشتر کے معین میں جتنی راتیں اور دنوں تک ہر ماہ عادتاً حیض آیا کرتا
تحا، ان کو وہ شمار کر لے اور معین کے اتنے دن کی تعداد پر ایام حیض میں شمار ہو نے کی وجہ سے نماز
ترک کیا کر لے اور جب اتنے دن گزر اردے تو غسل کر لے پھر پر لے لنگوٹ باندھ لے اور نماز
پڑھا کر لے-
(اس کی روایت امام ماکے، امام شافعی، امام احمد، ابوداود، ابن ماجہ، دار قطني، تیمی اور داری
نے کی ہے اور نسائی نے اس کے نہم معنی روایت کی ہے اور امام نووی نے کہا ہے کہ ابوداود کی اسانہ مسلم
اور بخاری کی شرط کے موافق ہیں-)
During the time of the Messenger of Allah ﷺ, a woman experienced bleeding that exceeded the duration of menstruation. Umm Salamah (RA) asked the Noble Prophet ﷺ about it, and he replied: 'She should consider the days and nights during which she usually experiences menstruation each month as her menstrual period. She should abstain from prayer for those days. When those days have passed, she should perform ghusl, tie a cloth around herself, and resume her prayers.'
ہشام بن عزروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں
انہوں نے کہا کہ مستحاضہ پرخون جاری رہنے کی وجہ سے صرف ایک بار غسل کے سوا بار بار غسل کرنا واجب نہیں ہے، پھر وہ اس کے بعد پر نماز کے لیے وضو کرتی جائے۔
(اس کی روایت امام محمد نے امام ماکے سے موطاء میں کی ہے۔)
He said that a woman experiencing istihadah (non-menstrual bleeding) is not required to perform ghusl repeatedly except once; thereafter, she should perform wudu for each prayer.
اور برانی نے اس طرح سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے اس کی روایت مرفوعاً کی
Bari'ah reported it as marfu'.
اور اس طرح عبد الرزاق، امام طحاوی اور سعید بن منصور نے امام المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے موافق اس روایت کی ہے۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضرت علی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسی عورت جس کے استحاضہ میں پڑھ حیض کے معیں دونوں وقت وہ استحاضہ کی حالت میں ان معینہ دونوں میں نماز چھوڑ دے اور اس کے بعد ایک وفی غسل کر لے پھر پر نماز کے وقت وضو کرتی رہے۔ (اس کی روایت ابن حبان نے اپنی تصحیح میں اسناد کے ساتھ کی ہے۔)
When a question was asked to the Messenger of Allah ﷺ about the issue of istihadhah, he said: 'A woman who experiences istihadhah should stop praying during the specific times of her menstrual cycle and then perform a single ghusl. After that, she should maintain wudu for the prayers.' (This is narrated by Ibn Hibban in his Sahih with its chain of transmission.)
أم المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت ابی حیش رضی اللہ عنہا سے (جب کروہ مستحاضہ فرمایا کہ پر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو۔) اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے اور اس طرح امام محمد نے اصل میں روایت کی ہے۔
When you are in a state of istihadah, perform wudu when it is time for prayer.
اور بخاری اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کو فرمایا کہ پھر تم پر نماز کے لیے وضو کرلیا کرو، پھر اتنے کہ (دوسری نماز) کا وقت آجائے۔ (یعنی جب دوسری نماز کا وقت آجائے تو پھر تازہ وضو کرلیا جائے اگر چہ کے پہلے وضو کو توڑنے والی کوئی بات
صادرنہ توّلی ہو )
ف: اس حدیث میں " ثمَّ تَوَضَّئی لِکُلِّ صَلوٰۃ " جو نذکورے اس کے معنی معاورۂ عرب کے
لحاظ سے ( لِوَقتِ کُلِّ صَلاۃ ) لیعنی بر نماز کے وقت وضو کیا کرو چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ( آتیکَ
لِصَلاۃ الظُّہرِ ای وَقتِہَا ) لیعنی میں تمہارے پاس نماز ظہر کے وقت آؤ گا، اس معاورے معلوم ہوا
کہ لا م کمعنی وقت کے ہے جس پرامام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمهما اللہ کی روایت کروہ حدیث دلیل ہے، جس
میں ( بِوَقتِ کُلِّ صَلاۃ ) ذکور ہے علاوہ ازیں بعض حدیثوں میں ( عِندَ کُلِّ صَلاۃ ) بھی وارد ہے
جس سے وقت کی طرف، ای اشارہ ہوتا ہے، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا بی نہہب ہے - ( فتا
القدری )12
Then perform wudu for each prayer, until the time of the next prayer comes. (This means that when the time of the next prayer arrives, you should perform a fresh wudu even if nothing has invalidated the previous wudu.)
_ ابوسلیم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو خون جاری
رہتاتھا تو ام حبیبرضی اللہ عنہا اس بارے میں رسول اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیس توآپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ بر نماز کے وقت غسل کیا کریں اور نماز پڑھیں - ( اس کی روایت سعید بن
منصور نے کی ہے، اس طرح طحاوی نے بھی روایت کی ہے - )
_ اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے کہ پھر تم غسل کر لو اور بر نماز کے لے وضو کرتے
جاوے
And in a narration from Ibn Majah it is stated: Then perform the ritual bath and go to offer the prayer with ablution.
_ اور مسلم کی ایک روایت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ای طرح
مرودی ہے -
she said...
_ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبرضی اللہ عنہا مستحاضہ
ہوگی اور استحاضہ کی حالت میں سالہا سال رہی اور وہ گرن میں بیٹھ جا کر تین، یہاں تک کہاستحاضہ
کے خون کا رگ پانی پر غالب آ جاتا تھا تو رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پی حیض نہیں ہے بلکہ یہ
تو ایک خاص رگ کا خون ہے، چنانچہ ام حبیبرضی اللہ عنہا بر نماز کے لے غسل کیا کرتی تھیں - ( اس
کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے اور امام طحاوی اور عبد الرزاق نے بھی اس طرح روایت کی
ہے۔)
تمام سے فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان نذورہ حدیثوں کے پیش نظر یہ راہت کی ہے کہ جس
عورت کو استحاضہ ہو کہ خون بہیشہ جاری رہتا ہو جس کی وجہ سے اس کے لیے حیض اور استحاضہ میں فرق کرنا
دشوار ہو چکا ہے تو ایسی صورت میں اس عورت کے ایام حیض کے بارے میں اگر ایک معینہ عادت ہے تو
ایسی عورت اپنی عادت کی طرف پلائی جائے کی لیے ایام عادت تو حیض میں ثابت ہونے گے اور ایام
عادت سے جتنے دن زائد خون جاری رہ گا وہ استحاضہ ہونے گے، تو ایسی عورت کے جب ایام حیض ختم
ہو جائیں تو وہ ختم حیض پرصرف ایک وضو کر لے اور بعد ازاں پر نماز کے وقت وضو کرتی جائے اور
دوسری نماز کے وقت تک اس وضو سے جو نماز پڑھے لے آگے چیکہ خون بہ رہا ہو۔
معینہ عادت والی مستحاضہ پر ایام حیض کی تحداد اور تاریخین مشتبہ ہو جائیں تو وہ
گمان غالب پر عمل کرے۔
اور وہ عادت والی عورت کے حیض کو استحاضہ کا خون بہیشہ جاری رہتا ہو کیا اس پر ایام حیض کی
تعداد اور ایام حیض کی تاریخین مشتبہ ہو جیکہ ہول تو وہ حری کرے کہ اس کا ظن غالب حیض کے دونوں کے
متعلق کیا ہے تو جتنے دن اس کے خیال میں حیض کے ثابت ہونے اتنے دنوں کو حیض سمجھے اور باقی کو
استحاضہ۔
مستحاضہ کو ایام حیض کے بارے میں تردد ہوتا ہے تو وہ پر نماز کے وقت غسل کیا کرے
اور اگر ایسی عورت کا خیال کی بات پر میں جتنا ہوتا حیض یا طهر میں سے کسی کا تصفیہ معمی طور پر
نہیں کیا جائے کہ بلکہ ایسی عورت احتیاط پر عمل کرے اور احتیاط پیہ کہ پر نماز کے وقت غسل کیا
کرے۔
مستاضر طہر میں تھی اور حیض شروع ہوئے کا شبہ ہوتا ہر نماز کے وقت وضو کیا کرے
مستاضر حیض میں تھی اور طہر کے شروع ہوئے کا شبہ ہوتا ہر نماز کے وقت غسل کیا کرے
اور بعض حالات میں مستاضر کو شبہ ہوجائے کہ جودن گزر رہے ہیں وہ طہر کے ثوا راب حيض
ثروغ ہور پابہ تو ایسی حالات میں ہر نماز کے وقت وضو کر کے نماز ادا کیا کرے اور اگر مستاضر کو اس
بارے میں شبہ ہو کہ جودن گزر رہے رہے ہیں وہ حیض کے ثوا راب طہر شروع ہور پابہ تو ایسی صورت
میں ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز ادا کی جائے۔ -12-
مستاضر کے اقسام اور احکام کو ضاحت کے پیش نظر حسب تفصیل ذیل نمبر وار
مرتب کیا گیا ہے
(1) معینہ عادت والی مستاضر: ایسی مستاضر پر حکم یہ ہے کہ اس کے ایام عادت حیض میں شمار
ہون لگے اور جوا ایم اس کی عادت سے زائد ہول ان کا شمار مستاضر میں ہو گا اس لے ایام حیض کے ختم
پر ایک دفعہ غسل کر کے اور اس کے بعد ہر نماز کے وقت وضو کر کے اور اس کا وضو وسری نماز کے وقت تک
باقی رہے گا اور اپنے اس وضو سے جملہ عبادات ختم وقت تک ادا کر سکتی۔
(2) ایسی مستاضر جس کا خون جاری ہو، اور اس پر ایام حیض کی تعداد اور ایام حیض کی مقررہ
تا رتی مشترہ ہو جائے تو ایسی مستاضر پر حکم یہ ہے کہ تحری ی (ظہری غالب) لیجن ایام حیض کی تعداد اور تارتی
کے بارے میں اپنے گمان غالب عمل کرے۔
(3) ایسی مستاضر جس کا خون جاری ہو اور اس کا خیال کسی بات پر جمعت نہ ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ
وہ احوط عمل کرے اور احوط یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرے۔
(4) ایسی مستاضر جس پر بعض حالات میں حیض اور طہر مشترہ ہو جائیں اور اس کو تر ڈو دہوکہ موجود ہے
ایام طہر کے ہیں ایام حیض شروع ہو گیا ہے تو ایسی صورت میں ہر نماز کے وقت وضو کر کے نماز ادا کرے۔
(5) اگر مستاضر کو پیڑ ڈو دہ ہے کر وہ حالات مستاضر کی طہر میں ہے ایام حیض سے فارغ ہو چکی ہے
تو اس صورت میں وہ ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز ادا کرے، اس لے کہ حیض سے فارغ ہوئے کے
بعد عشائے ضہر وری سے اور چوٹی حیض سے فارغ ہونے کا لیقین نہیں بلکہ اس میں تردد ہے، اس لیے اس پر
ہر نماز کے وقت عشائے کرنا ضروری ہے –
The jurists (RA) have derived this leniency from these narrations regarding a woman who experiences istihadah (non-menstrual bleeding) that continues unabated, making it difficult for her to distinguish between menstruation and istihadah. In such a situation, if the woman has a regular menstrual cycle, she should be guided by her usual pattern. The days corresponding to her regular cycle will be considered as menstruation, and any additional days during which bleeding continues will be considered as istihadah. When her menstrual days end, she should perform one ablution (wudu) at the end of her period and then perform wudu before each prayer, continuing to pray with that wudu until the next prayer time, even if the bleeding continues.
If a woman with a regular cycle is unsure about the number of days or the exact dates of her menstruation due to continuous bleeding, she should act according to her predominant suspicion.
If a woman with a regular cycle experiences continuous bleeding and is unsure whether it is menstruation or istihadah, and if her predominant suspicion is that it is menstruation, she should consider the number of days she believes to be menstruation as such and the remaining days as istihadah.
If a woman is uncertain about her menstrual days, she should perform a full ritual bath (ghusl) before each prayer.
If a woman's condition makes it impossible to determine whether the bleeding is menstruation or purity, she should act with caution and perform ghusl before each prayer.
If a woman was in a state of purity and suspects that menstruation has begun, she should perform wudu before each prayer.
If a woman was in a state of menstruation and suspects that purity has been achieved, she should perform ghusl before each prayer.
In some cases, if a woman is uncertain whether the current days are part of her purity or menstruation, she should perform wudu before each prayer if she suspects it is purity, and ghusl if she suspects it is menstruation.
The types and rulings for a woman experiencing istihadah are detailed as follows:
(1) A woman with a regular cycle: Her regular cycle days are considered as menstruation, and any additional days beyond her regular cycle are considered as istihadah. After her menstrual days end, she should perform ghusl once and then perform wudu before each prayer, with her wudu lasting until the next prayer time, allowing her to perform all prayers until the end of the prayer time with that wudu.
(2) A woman whose bleeding continues and who is unsure about the number of days or the regularity of her menstrual cycle: She should act according to her predominant suspicion regarding the number of days and the regularity of her cycle.
(3) A woman whose bleeding continues and who is uncertain about her condition: She should act with caution and perform ghusl before each prayer.
(4) A woman whose menstruation and purity are uncertain: If she suspects that the current days are part of her purity and that menstruation has ended, she should perform wudu before each prayer.
(5) If a woman is uncertain and suspects that she is in a state of purity and that her menstruation has ended, she should perform ghusl before each prayer, as there is uncertainty after the end of menstruation, and performing ghusl before each prayer is necessary.
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مستحاضہ اگر اس
کا شوہر جماع کرے تو اس میں مضا نقصان ہے۔ (اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے)
If the husband of a woman experiencing istihadah has sexual intercourse with her, it causes harm to her.
اور ابوداود کی ایک روایت میں اوریہ قی کی روایت جو عکرمہ رضی اللہ عنہ سے
مرودی ہے، اور وہ حمنہ بنت جعش رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ مستحاضہ تھیں اور ان کے
شوہران سے جامعت کرتے تھے –
اور ابوداود نے اس حدیث کے اساد کے متعلق سکوت اختیار کیا ہے جو سے حدیث کی دلیل
ہے اور امام نووی نے بھی وضاحت کی ہے کہ اس حدیث کی اسادت ہے –
محمد شاہ کے تذکرہ کے سے آج بارہ 11 شوال المکرم 1377 ﷺ یوم پنجشنبہ مطابق کیمی میں
ء "زجاجة المصاپیح" کے اردو ترجمہ کی "نور المصائیح" کا پہلا حصہ (مشتمل
بر "كتاب الايمان" و "كتاب العلم" و "كتاب الطهارة") ضروری تشريحات اور مباحث کے
ساتھ کامل ہوا جو بدیع ناظرین کرام سے-
دعا کے اللہ تعالیٰ اس کی افادیت کو عام فراماے اور مولف علامہ ظلم کے ساپی عاطفت کودرپا
سلامت باکرامت رکے-
وصلی اللہ على سيدنا محمد النبي الامي وعلى اله الكرام وصحبه العظام
وبارك وسلم۔ واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين-
منشی انب
مجلس نشر و اشاعت نور المصائح
شوال المکرم 1377 کیمی میں 1958ء
And in a narration from Abu Dawud, through Urayyah, who reports from Ikrimah (RA), who narrates from Hamnah bint Jahsh (RA) that she was experiencing istihadah (irregular bleeding) and her husband would have intercourse with her. Abu Dawud has remained silent regarding the isnad of this hadith, which serves as evidence, and Imam Nawawi has also explained that this hadith has a sound isnad.