Nūr al-Maṣābīḥ
بَابُ تَطْهِيرِ النَّجَاسَاتِ

یہ باب میں نجاستوں کے پاک کرنے کے بیان میں

Purification of Impurities
Volume 1 · Purification

وقول الله عز و جل وثيابك فطهر سور مذثر ع ايت نمبر اور ارشاد باري تعالي عزوجل اور ا ا ن ك و كو خوب ا ي طرح اك و صاف رك ا كرو

وقول من ماء م ين اور سور مرسلات ع ايت نمبر ارشاد باري تعالي ك كيا تم ن تم كو ايك حقير اني س ن ي يا كيا وقول ومن اصوافها واوبرها واشعارها اثاثا ومتاعا الي حين اور سور نحل ع ايت نمبر مي ارشاد باري تعالي ك الل تعالي ن ت دار ل جانورو ك اون اور ان ك رودان اور بالو س ر كا سامان اور فايد كي يزي ايك دست ك لي بنايي

کہ جب برتن میں منہ دال کر پی جانے تو اس چیز کو گرادی اور تن دفعہ دھووائیں

When drinking from a vessel, one should rinse the mouth and wash the face three times.

642

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتنا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ دال کر پی جانے تو اس چیز کو

گرادو، اور اس برتن کو تن دفعہ دھوو۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے اور دار قطنی نے بھی اس

طریقہ مرفوعاً روایت کی ہے-)

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'When one of you drinks from a vessel by putting his mouth directly into it, then he should spit it out and wash the vessel three times.' (This is reported by Ibn Adi, and Dar Qutni has also reported it as marfu‘.)

643

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب کتنا برتن میں منہ

دال کر پی جانے تو اس برتن کی چیز کو گرادو، اور برتن کو تن دفعہ دھوو۔ (اس کی روایت دار قطنی نے

موقوفاً کی ہے اور نصب الرای میں ذکور ہے کہ شیخ تقی الدین رحمہ اللہ نے الامام میں کہا ہے کہ یہ

سنہت ہے اور طاوی نہیں۔ اس طرح روایت کی ہے-)

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

When you drink from a container, lick the contents of the container, and wash it three times.

644

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ جب کتابرتی میں منڈوال کرپی جاتا تو ابو

ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عن اس برتی کی چھڑ کو گرادیتا اوراس کے بعد برتی کو تین دفعہ دھووا لے

تخا۔(اس کی روایت دارتی نے سندي کے ساتھ کی ہے۔)

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that

when the scribe would write the letter 'mim' with a dot, Abu Hurairah (RA) would remove the dot from the reed pen and then wash the pen three times.

645

معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہول نے کہا کہ میں نے امام زہری رضی

اللہ عنہ سے کچھ کے متعلق دریافت کیا جب کروہ برتی میں منڈوال کرپی جاتے تو امام زہری رضی اللہ

عنہ نے جواب دیا کہ برتی کو تین دفعہ دھولو۔(اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے۔)

ناپاک زمین خشک ہونے پر پاک ہوجاتی ہے

It is narrated from Ma'mar (RA) that he said: I asked Imam az-Zuhri (RA) about something, when the dough is kneaded in a bowl, Imam az-Zuhri (RA) replied that the bowl should be washed three times.

Unclean land becomes pure when it dries.

646

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ میں آخخرت صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں شب گزاری کرتا تھا۔ اس زمانے میں بے شاہی شدہ نو جوان

تھا، اس وقت کے مسجد میں پیشہ اب کرتے اورآیا جا کرتے تھے۔ میں اس کی وجہ سے مسجد کو پچھلی نہ

دویا جاتا تھا۔

(اس کی روایت ابو داود نے کی ہے اوراس کی سندي کے متعلق سکوت اختیار کیا ہے جو، ان کے

نزوی کی صحیح کی علامت ہے، اور بخاری نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ابو داود نے کہا ہے کر اس

حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ زمین جب خشک ہو جائے تو پاک ہوجاتی ہے۔)

Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with him): I used to stay overnight in the mosque during the time of the Messenger of Allah ﷺ when I was a young unmarried man. Dogs would urinate, come and go in the mosque, and nothing would be sprinkled over it. [Narrated by Abu Dawood, who did not comment on it]

Bukhari also narrated something similar, and Abu Dawood said: "This indicates that the earth is purified when it dries."

647

محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ زمین کی پاکی اس کا

خشک ہوجانا ہے۔(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)

Narrated Muhammad ibn al-Hanafiyyah (may Allah be pleased with him): The purification of the earth is when it dries. [Narrated by Ibn Abi Shaibah, and in another narration from Abu Ja'far al-Baqir (may Allah be pleased with him), the same is reported.

648

اور ابن ابی شیبہ کی ایک دوسری روایت میں امام ابو جعفر باقر رضی اللہ عنہ سے اس

طرح مرودی ہے۔

And in another narration from Ibn Abi Shaybah, it is reported from Imam Abu Ja'far al-Baqir (RA) as follows.

649

ابوقلا بر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہول نے کہا کہ زمین کا خشک ہوجانا ایس

کے لے پاکی ہے۔ (اس کی روایت عبد الرزاق نے کی ہے۔) اور ابن ابی شیبہ کی روایت بھی اس

طرح ہے اور ابن ابی شیبہ کے تمام راوی تے کے راوی ہیں۔

نہجاست سے پاکی حاصل کرناپائی کے علاوہ ہر ایسی چیز کے ذریعہ جائزہ

جو بہن والی اور پاک ہو

Narrated Abu Qilabah (may Allah be pleased with him): The dryness of the earth purifies it. [Narrated by Abd al-Razzaq, and Ibn Abi Shaibah also narrated something similar, and its narrators are trustworthy.

650

_ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ ایک عورت نے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا اور کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! پیرتلاشی کر

رہم میں سے کسی عورت کے پر کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے تو آخضرت صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پر کو حیض کا خون لگ جائے تو اس کو چٹکیوں

سے ملے، پھراس کو پانی سے دھوو لے، پھراس کے پر میں نماز پڑھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم

نے بالاتفاق کی ہے۔)

Narrated Asma bint Abu Bakr (may Allah be pleased with her): A woman asked the Messenger of Allah ﷺ: "O Messenger of Allah, what should one of us do if her garment is stained with blood from menstruation?" The Messenger of Allah ﷺ replied"If one of you is stained with blood from menstruation, she should scrape it off, then wash it with water, and then pray in it." This is agreed upon by Bukhari and Muslim. Ibn Abi Shaibah also narrated in his Musannaf from Sa'id ibn Jubayr: "Some of the mothers of the believers would scrape the blood off their garments with their saliva."

(1) The statement: "Then wash it with water", Al-Khattabi said: This provides evidence that water is specified for removing impurity. Al-Bayhaqi also used this argument in his Sunan, and it is the view of Malik, Shafi'i, Ahmad, Muhammad, and Zufar, who said that purification from impurity can only be achieved by something that purifies the ritual impurity (hadath). However, the Imam A'zam (Abu Hanifa) and Abu Yusuf held that purification can be done with any pure liquid. You are aware that they have no proof against the Hanafi position in this hadith because it deals with the purification of clothing with water, which no one denies. The disagreement concerns purification with something other than water, and the hadith neither negates nor affirms this but remains silent on the matter.

How strange it is that Al-Khattabi and Al-Bayhaqi used this as evidence! Also, the ruling of impurity is lighter than that of ritual impurity, as shown by what has been narrated from Aisha, Sa'id ibn Jubayr, and others, as well as the permissibility of praying with a stone (to remove impurity), even if some traces of impurity remain. In contrast, if a trace of ritual impurity remains on the body, such as a tiny particle that was not washed, the purification is invalid unless it is washed off. So, understand this. This is a brief summary of what was mentioned in "Aujaz al-Masalik," and those who wish for further details should look there.

651

_ اور ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی

ہے کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیپالا اپنے

پر سے خون کو چھوک کے ذریعہ پاک فرمایا کرتے تھے۔

ف : اس حدیث کے الفاظ ﷺ ثم لتنضحه بماء (یعنی پھر کپڑے کو پانی سے دھوو لے) اس

کے متعلق خطابی نے کہاہے کہ اس ارشاد میں اس بات کی دلیل ہے کہ نہجاست دور کرنے کے لے پانی

ہی معین ہے اور نہیں کہ اپنی سفن میں اس حدیث سے کہی استدلال کیا ہے کہ نہجاست پانی سے ہی

دور کی جائے، اور امام ماکے، امام شافعی، امام احمد، امام محمد اور امام زفر رحمهم اللہ کا، جسی نہہب ہے، یہ سب

حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ حیض چیز سے حدث دور ہوتا ہے، نہجاست سے پاکی اسی چیز کے ذریعہ

حاصل ہوتی ہے، لیکن امام اعظم اور امام ابو يوسف رحمهما اللہ فرما تے ہیں کہ نہجاست سے پاکی حاصل کرنا

ہر ایسی چیز کے ذریعہ جائزہ جو بہن والی اور پاک ہو

پر ایک واقعہ بات ہے کہ اس حدیث کو حفیظ کے خلاف ویل نہیں بنایا جاسکتا کیون کہ اس

حدیث سے صرف پیثابت ہور بات کے کپڑے کی پاکی پانی سے حاصل ہوتی ہے جس کا انکار ممکن نہ

اور اختلاف تو اس بارے میں ہے کہ کیا پانی کے سوا کسی دوسری چیز سے کچھ پاکی حاصل کی جاسکتی ہے یا

نہیں؟ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث جس میں پانی سے طہارت حاصل کرنے کا ذکر ہے اس

میں اس بات کا حرف نہیں ہے کہ پانی کے سوا کسی اور بھی والی چیز سے پاکی حاصل نہیں جائے بلکہ اس

حدیث میں پانی کے سوا کسی اور چیز سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں سکوت موجود ہے، دوسری

چیز سے پاکی حاصل کرنے کا نہ تو ثبوت ہے نہ ہی بلدہ ابن ابی شیبرہ کی وہ حدیث جوسعید بن جبیر رضی اللہ

عنہ سے مروری ہے جس میں امام المومنین نے اپنے کپڑے کی طہارت تحویل کے ذریعہ کی ہے اس میں

پاک بننے والی چیز سے طہارت حاصل کرنے کا ثبوت موجود ہے، امام نے اپنے اور خطابی نے اپنے دلیل میں

جنگاست کا قیاس حدث پر کیا ہے اور جس میں پیثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جنگاست دور کرنے کے

لئے پانی اس طرح لازمی ہے جس طرح حدث دور کرنے کے لئے پانی باقاعدہ لازمی ہے، تج نہیں ہے

کیونکہ جنگاست کا حکم اور حدث کے حکم میں کافی فرق ہے اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور

اس کے بعد آنے والی حدثنیں اس بات پر قوی دلیل ہیں کہ بنے والی پاک چیز سے پاکی حاصل کی

جا سکتی ہے۔

علاوہ از یہ جنگاست کے دور کرنے کے لئے وہیلا یا پتھر استعمال کیا جاتے اور پانی سے طہارت

کے بغیر نماز پڑھنے کی جائے تو ایسے شخص کی نماز درست ہے حالاکہ صرف وہیل یا پتھر سے طہارت پراکتفاء

کرنے میں جنگاست کا اثر باقی رہ جاتا ہے، برخلاف حدث کے کراس میں اگر بالی برابر جگہ نہ خلگ رہ

جا یے تو حدث دور نہیں ہوتا تو اس طرح پیتچہ نکلا کہ پاکی کے حاصل کرنے میں حدث پر قیاس کرنا

قیاس مع الفارق ہے اور پانی کے علاوہ ہر پاک بنے والی چیز سے پاکی حاصل کی جاسکتی ہے۔ (پیاو جز

المسائل سے اختیار کر کے کہا گیا ہے اور جو تفصیل کا طالب ہو وہ او جز المسائل میں دیکھے لے۔)12

حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے قمیص میں خون دیکھا

Narrated Asma bint Abu Bakr (may Allah be pleased with her): A woman asked the Messenger of Allah ﷺ: "O Messenger of Allah, what should one of us do if her garment is stained with blood from menstruation?" The Messenger of Allah ﷺ replied"If one of you is stained with blood from menstruation, she should scrape it off, then wash it with water, and then pray in it." This is agreed upon by Bukhari and Muslim. Ibn Abi Shaibah also narrated in his Musannaf from Sa'id ibn Jubayr: "Some of the mothers of the believers would scrape the blood off their garments with their saliva."

(1) The statement: "Then wash it with water", Al-Khattabi said: This provides evidence that water is specified for removing impurity. Al-Bayhaqi also used this argument in his Sunan, and it is the view of Malik, Shafi'i, Ahmad, Muhammad, and Zufar, who said that purification from impurity can only be achieved by something that purifies the ritual impurity (hadath). However, the Imam A'zam (Abu Hanifa) and Abu Yusuf held that purification can be done with any pure liquid. You are aware that they have no proof against the Hanafi position in this hadith because it deals with the purification of clothing with water, which no one denies. The disagreement concerns purification with something other than water, and the hadith neither negates nor affirms this but remains silent on the matter.

How strange it is that Al-Khattabi and Al-Bayhaqi used this as evidence! Also, the ruling of impurity is lighter than that of ritual impurity, as shown by what has been narrated from Aisha, Sa'id ibn Jubayr, and others, as well as the permissibility of praying with a stone (to remove impurity), even if some traces of impurity remain. In contrast, if a trace of ritual impurity remains on the body, such as a tiny particle that was not washed, the purification is invalid unless it is washed off. So, understand this. This is a brief summary of what was mentioned in "Aujaz al-Masalik," and those who wish for further details should look there.

Regarding the words of this hadith ﷺ 'then wash it with water' (meaning, then wash the garment with water), Khattabi has said that this instruction provides evidence that water is specifically required for removing najasah, and not that najasah can only be removed with water. From this hadith, it is argued that najasah should be removed with water. However, Imam Malik, Imam Shafi'i, Imam Ahmad, Imam Muhammad, and Imam Zafar (may Allah have mercy on them all) agree that janabah (impurity after sexual activity) is removed by a specific substance, and purification is achieved through that same substance. However, Imam Abu Hanifah and Imam Abu Yusuf (may Allah have mercy on them both) state that purification can be obtained through any substance that is flowing and pure.

It is a fact that this hadith cannot be used as a counter-argument against Hafiz, because this hadith only establishes that the impurity of semen can be removed from garments with water, which cannot be denied. The disagreement is about whether purification can be achieved through any other substance besides water.

The hadith of Lady Asma' (may Allah be pleased with her), which mentions purification with water, does not state that purification cannot be achieved with any other flowing substance besides water; rather, it remains silent on the matter of purification with other substances. There is no evidence for purification with other substances, nor is there in the hadith reported by Baladh ibn Abi Shibrah from Sa'id ibn Jubayr (may Allah be pleased with him), where the Commander of the Faithful purified his garment through tayammum (dry ablution). This hadith provides evidence that purification can be achieved with a pure substance.

Imam and Khattabi have made an analogy between janabah and hadath (minor ritual impurity) in their reasoning, attempting to prove that water is as necessary for removing janabah as it is for removing hadath. However, this is not valid because there is a significant difference between the rulings of janabah and hadath. The hadith of Sa'id ibn Jubayr (may Allah be pleased with him) and subsequent hadiths provide strong evidence that purification can be achieved with any pure substance.

Furthermore, for removing janabah, stones or earth are used, and prayer can be performed without water purification, even though the effect of janabah remains after using stones or earth. In contrast, if the semen is not completely removed, hadath is not considered to be removed. Thus, it is concluded that analogizing hadath with janabah is an invalid analogy (qiyas ma' al-farq), and purification can be achieved with any pure substance besides water. (This is stated based on an excerpt from Al-Fawz al-Kabir, and those who seek further detail should refer to Al-Fawz al-Kabir.)

It is narrated from Hasan ibn Ali (may Allah be pleased with both of them) that he saw blood on his shirt.

652

تو آپ نے خون کی جگہ تحویل کراس کول دیا۔

Then you handed over the place of blood to Cross Cole.

653

اورعمر رضی اللہ عنہ اورمیمون بن مہران نے جس طرح روایت کی گئی ہے۔

It is narrated from 'Umar (RA) and Maymun ibn Mahran as it has been transmitted.
654

اورامام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کیا عورت اس پر میں نماز پڑھ سکتی ہے جس میں اس کو حیض آیا ہو کے باب میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کے کرام المومنین نے فرما یا کہ تم میں سے کسی کو ایک کپڑے کے سوا دوسرا کپڑا نہ تھا، اس لیے حیض کے ایام میں وہی کپڑہ حجم پر پہنتا تھا اور جب حیض کا پچھونا س میں لگ جاتا تھا تو وہ خون کے دھعب پر قھوک دیا کرتی تھی اوراس کو ناخن سے لیٹی چھین اور ایک روایت میں (فم صعتہ) کی جگہ (فقصعتہ)

ہے جس کے معنی بلکہ کے ہیں۔

And from Hasan ibn Ali, may Allah be pleased with them, that he saw blood on his shirt, so he spat on it, then rubbed it. It has also been narrated from Umar and Maymun ibn Mehran in a similar manner. Al-Bukhari narrated in the chapter "Can a woman pray in the garment she menstruates in?" from Aisha, who said: "None of us had more than one garment in which we menstruated. When it got stained with blood, she would, meaning she did it, with her saliva, rub it off with her fingernail. And it is narrated that she would wipe it off."

(1) The term "فمصعته" refers to "مصع" with two unpronounced letters: meaning rubbing or wiping, and "القصع" with two unpronounced letters: meaning rubbing or scrubbing. This is mentioned in the explanation of "النقاية".

655

ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے روایت کہ، ان سے ایک عورت نے دریافت کیا کہ میرا امس لا نبا ہوا کرتا ہے اور میں ناپاک گنجے گذرتی ہوں (تو کیا میرا امس پاک رہے گا؟) تو اس پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا ہے کہ کپڑے کو اس مقام کے بعد کی جگہ پاک کر دیتی ہے۔ (اس کی روایت امام ماک، امام شافعی، امام احمد، ترمذی، ابو داؤد اور دار قط نی کے نے لی ہے) اور دار قط نی نے کہا ہے کہ وہ سوال کرنے والی عورت ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف کی ام ولد تھیں۔

And from Umm Salama, a woman said to her: "I drag my garment and walk in a dirty place." She (Umm Salama) said: "The Messenger of Allah ﷺ said, 'What follows will purify it.'" [Narrated by Malik, Shafi'i, Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawood, and Darimi]

The woman was the mother of Ibrahim ibn Abdul Rahman ibn Awf.

(1) The phrase "in the dirty place" refers specifically to a dry place. This interpretation, assuming the authenticity of the hadith, is agreed upon by all, because there is consensus that if a garment is soiled by impurity, it is only purified by washing, unlike a shoe, which has differing opinions. Thus, the statement about purification should be understood metaphorically. This is as mentioned in "Al-Mirqat."

ف: حدیث میں ناپاک گنجے کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق تحقیق یہ کہ گنجے سے مراد خشک گنجہ ہے اس پر دامن گزر جانے تو ناپاک نہیں ہوتا اگر گنجہ تر ہوتا اس کا حکم نہیں ہوتا کیون کہ اس بات پر اجماع ہے کہ پر کو جب نجا ست گل جانے تو وہ دھویں سے ای پاک ہوتا ہے البتہ چھوٹے کے موزے کا حکم نہیں ہے اور اس کا حکم بھی آئندہ حدیثوں میں ذکور ہے اور اس حدیث میں زمین کا کپڑے کو پاک کر دینے کا جو ذکر موجود ہے قریبینے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سائل عورت کا امس خشک زمین پر ہی گزرتا تھا۔ (ماخوذ از مرقات)12۔

656

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کہ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ تعالیٰ وآ لہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے جو تے سے نجاست کو روندے تو مثی اس کو پاک کرنے والی ہے۔

(اس کی روایت ابو داود نے تھے سن کے ساتھ کی ہے اور ابن ماجہ نے یہ حدیث بالمعنی مروی ہے اور حاکم نے بھی مستدرک میں اس کی روایت کی ہے اور یہاں کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے موافق ہے۔)

Abu Hurairah (RA) reported that he said,

the Messenger of Allah ﷺ said: 'When any one of you cleans himself with pebbles, then three pebbles suffice to purify him.' (This hadith is narrated by Abu Dawud with a similar chain, and Ibn Majah narrates it with a similar meaning. Al-Hakim also narrates it in his Mustadrak, and this hadith meets the conditions of Imam Muslim.)

657

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد کو آئے تو کیہے لکر آگراس کے جو تے میں کوئی گندی چیز یا نجاست موجود ہے تو اس کو گردے اور ان جو تے کے ساتھ نماز پڑھے لے۔ (اس کی روایت ابو داود نے کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)

Narrated Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you comes to the mosque, let him look. If he sees impurity or filth on his sandals, let him wipe it off and pray in them." [Narrated by Abu Dawood, and a similar narration is found in Ibn Hibban and Al-Hakim]

658

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جو تے یا پن موزول سے گندی چیز کو روندے تو ان دونوں کو پاک کرنے والی مثی ہے۔ (یعنی مثی پر گردے نے سے موزہ پاک ہوجاتا ہے۔ اس کی روایت طحاوی اور ابن خزیمر نے کی ہے۔)

It is narrated from Abu Hurairah (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ said: 'When any one of you uses a toothpick or a miswak to clean something dirty, both of them purify it.' (Meaning, the miswak purifies the toothpick from filth. This narration is reported by Tirmidhi and Ibn Khuzaymah.)

659

اور عی بن وثاب سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ کوئی شخص نماز کے لیے نکلا اور اس نے غلا ظت کھندل دی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ اگر غلا ظت تزہو تو جس چیز کو وہ لگ جائے تو اس کو دھو لے اور اگر خشک ہو تو اس کے لیے ضرور مثال نہیں ہے۔

(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور اس حدیث کے روایت کرنے والے تین کے راوی ہیں۔)

ف: اس حدیث میں نزجا ست کو دور کرنے کے لیے دھو نا ثابت ہے اور اگر خشک نجا ست ہو تو

رگڑویا کافی ہے بالکل اس طرح اس حدیث سے پہلے کی حدیثیں گو کہ وہ مطلق یعنی ان سے کچھ بھی حکم مراد ہے کہ اگر جاست تزہوتو دحوی جاے اور اگر خشک ہو تو زمین پر رگڑویں سے پاک ہو جائی ہے

Narrated Yahya ibn Wahab: Ibn Abbas was asked about someone who went out to pray and stepped on filth. He said: "If it was wet, he should wash what it touched, and if it was dry, it will not harm him." [Narrated by Ibn Abi Shayba, and its narrators are the narrators of Sahih]

660

اسوداور ہمام رضی اللہ عنہما نے امام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیر سے خشک منی کو کھڑچ لیا کرتی تھی۔ (اس کی روایت مسلم نے اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے)

Narrated by Al-Aswad and Humam from Aisha (may Allah be pleased with him): She said, "I used to scrape semen off the clothes of the Messenger of Allah (ﷺ)." [Narrated by Muslim and our Imam Abu Hanifa]

In a narration from Alqama and Al-Aswad, and our Imam Abu Hanifa from Aisha (may Allah be pleased with him), it is mentioned similarly, and it includes: "Then he would pray in them."

Al-Tahawi said: "There is no evidence in this for the purification of semen in our view. It may be that she did this to purify the garment, but semen itself is impure, as is narrated regarding what happens to sandals and shoes when they step on impurity, for dust is sufficient for purifying them. There is no evidence here proving the purification of the impurity itself. Similarly, what is narrated regarding semen might be understood in the same way; the garment becomes clean when it is scraped off, but semen is still impure in itself, just as the impurity in the sandal is removed with dust, while it remains impure in itself."

661

اور علیقرہ، اسوداور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی سنہ سے امام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح روایت ہے اور اس روایت میں یا ضافہ سے کہ خضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی سے میں نماز پڑھتے تھے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ ہمارے نہب کے مطابق اس حدیث میں منی کے پاک ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق جو نکور ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھڑچ لیا کرتی تھیں تو اس بارے میں یہ راحت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کپڑے سے خشک منی کو جس کا اثر کپڑے میں سرايت نکیا ہو، اس طریقت سے مل دیا کرتی تھیں جس سے کپڑا پاک ہوجاتا تھا اور اس طرح رگڑ نا کچھ کپڑے کو پاک کرنے کا ایک طریقت ہے، منی درحقیقت ناپاک ہے، اس کی تو ضح یہ ہے جو تو یاموزے کو خشک ناپاک چیز لگ جاتے تو اس نجاست کو دور کرنے کے بارے میں روایت پول ہے کہ پانی سے دھوئے کے بجاے منی پر رگڑ نا کافی ہے اور چھتر کو پاک کرنے کا یہی ایک طریقت ہے تو اس طرح ثابت ہوا کر اس روایت میں کچھ کوئی دلیل درحقیقت نہیں شے کے پاک ہونے کی نہیں ہے تو جیے چھتر کے پاک ہونے سے نجاست کو پاک نہیں قرار دیا جاسکتا، اس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث میں کپڑا جس کو خشک منی گلی ہوئی ہو رکٹ نے سے کپڑا تو پاک ہوگیا لیکن کپڑے کے پاک ہونے سے منی کو پاک نہیں قرار دیا جاسکتا۔

Narrated by Al-Aswad and Humam from Aisha (may Allah be pleased with him): She said, "I used to scrape semen off the clothes of the Messenger of Allah (ﷺ)." [Narrated by Muslim and our Imam Abu Hanifa]

In a narration from Alqama and Al-Aswad, and our Imam Abu Hanifa from Aisha (may Allah be pleased with him), it is mentioned similarly, and it includes: "Then he would pray in them."

Al-Tahawi said: "There is no evidence in this for the purification of semen in our view. It may be that she did this to purify the garment, but semen itself is impure, as is narrated regarding what happens to sandals and shoes when they step on impurity, for dust is sufficient for purifying them. There is no evidence here proving the purification of the impurity itself. Similarly, what is narrated regarding semen might be understood in the same way; the garment becomes clean when it is scraped off, but semen is still impure in itself, just as the impurity in the sandal is removed with dust, while it remains impure in itself."

662

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کے، آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ لیا کرتی تھی جب وہ خشک ہوتی اور کپڑے کو دولیا کرتی تھی اگر منی ٹر ہوتی۔ (اس کی روایت دار قطعی،یعنی اورطاوي نے کی ہے اور ابو عوانہ نے بھی اپنی صحیح میں اس کی روایت کی ہے اور نہیوی نے کہا کہ اس کی اساندگی ہے۔)

Narrated Aisha (may Allah be pleased with him): She said, "I used to scrape the semen off the clothes of the Messenger of Allah (ﷺ) when it was dry, and I would wash it when it was wet." [Narrated by Al-Daraqutni, Al-Bayhaqi, Al-Tahawi, and Abu Awana in his Sahih]

Al-Naymuwi said: "Its chain of narration is authentic."

663

عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے روایت کے، آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لا کے اور میں کنویں سے ایک برتن میں پانی ڈال رہا تھا، آپ نے فرمایا: اے عمار! (رضی اللہ عنہ) کیا کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے مال بابآپ پر قربان جائے میں اپنے اس کپڑے کو دھونا چاہتا ہوں جس میں رینط لگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: اے عمار (رضی اللہ عنہ) کپڑا توصرف پانچ چیزوں کے لگ جانے سے دھویا جاتا ہے۔(1) پاکانه (2) پیشاب (3) ے (4) خون اور (5) منی سے، اے عمار (رضی اللہ عنہ) تمہارا رینط اور تمہارے آتمصول کے آنسواور پانی پانی جوتمہارے برتن میں ہے یہ سب برابر ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ رینط اور آنسو نجس نہیں ہیں۔

(اس کی روایت دار قطعی نے کی ہے۔)

Narrated by Ammar bin Yasir (may Allah be pleased with him): He said: "The Messenger of Allah (ﷺ) came to me while I was on a donkey, drawing water into a container. He said: 'O Ammar, what are you doing?' I replied: 'O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you, I am washing my garment from sputum that has stained it.' He said: 'O Ammar, garments are only washed from five things: from excrement, urine, vomit, blood, and semen. O Ammar, your sputum, your tears, and the water in your container are all the same.'" [Narrated by Al-Daraqutni]

(1) [Narrated by Al-Daraqutni from the hadith of Thabit bin Hammad, from Ali bin Zayd, from Sa'id bin al-Musayyib, from Ammar. Ali bin Zayd is Narrated by Muslim along with others, and Al-‘Ajli said there is no harm in him, and his narrations are written. Al-Hakim also narrated it in his "Mustadrak." Al-Tirmidhi said he was trustworthy. As for Thabit bin Hammad, no one accused him of fabrication except Al-Bayhaqi, although Al-Bayhaqi mentioned him in "Al-Ma'rifah" without attributing the accusation of fabrication. Al-Daraqutni and Ibn 'Adi said similar things. Al-Bazzar said Thabit bin Hammad was reliable, but there is no knowledge of him narrating anything except this hadith. He had a supporting narrator, and it was also narrated by Al-Tabarani in his "Al-Mu'jam Al-Kabir," where [Narrated by Ibrahim. This was stated by the scholar Al-‘Aini in his explanation of "Al-Hidayah."

664

سلیمان بن بیار رضی اللہ عنه، نے روایت کے، وہ کہتے ہیں کہ میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے منی کے متعلق دریافت کیا کہ اگر وہ کپڑے کو لگ جانے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھولیا کرتی تھی اور آپ اس کپڑے میں نماز کے لے تشریف لے جاتے اور دھوئے۔ (یعنی تزی کا نشان آپ کے کپڑے پر ہتا۔اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔)

From Sulaiman bin Yasaar: He said, "I asked Aisha about the impact of semen on a garment." She replied, "I used to wash it from the garment of the Messenger of Allah (peace be upon him), and then he would go out to pray with the mark of washing still on his garment." This is agreed upon by both Bukhari and Muslim.

665

معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ انہوں نے امام جعفر رضی اللہ عنہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی میں دریافت کیا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پر میں نماز پڑھا کرتے تھے کہ جس میں جماعت توہ جواب دین کر بال جب اس کے پر میں نماز تین پائے تھے۔ (اس کی روایت نسائی اور ابو داؤد نے کی ہے اور اس کی صحت ہے۔) ابن الملق او رش عبد الحق رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ دثین اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ منی نجس ہے اور یہی قول امام محمد حب ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، اور اس طرح عورت کے شرم گاہ کی نزی بھی نجس ہے اس لئے کہ وہ منی سے جونا پا کہ میں وہی ہوتی ہے۔ (تعلیق احياء السنن میں ایسے نذور ہے۔)12

It is narrated from Mu'awiyah bin Abi Sufyan (RA) that he said: I asked Imam Ja'far (RA), 'Which of the wives of the Messenger of Allah ﷺ did he pray on when she was in her bed?' He replied, 'When he prayed on her, there were three hairs on her bed.'

(This narration is reported by Nasa'i and Abu Dawud, and it is authentic.) Ibn Al-Malik and Rashid Abd al-Haq (may Allah have mercy on him) said that this hadith indicates that semen is impure, and this is the opinion of Imam Muhammad, the student of Abu Hanifah (may Allah have mercy on him), and thus the secret part of a woman is also impure because it resembles semen in its impurity. (This is noted in the commentary of Ihyaa Al-Sunnan.)

666

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (ایک شیر خوار) پچلا یا گیا اس نے آخ ضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پر پیشاب کروآ آخ ضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی مگلو ایا اور آپ نے اس پر پانی پہادیا۔ اس کی روایت بخاری نسائی اور امام محمد نے کی ہے اور طحاوی نے کہی اس طرح روایت کی ہے اور امام طحاوی نے یہ راحت کی ہے کہ پانی پہادی نے کا حکم در حقیقت دودین کا ہے، چنانچہ اگر کسی آدمی کے پر کو غلا ظت لگ جائے اور وہ اس پر پانی پہادے یہاں تک کہ پانی اس غلا ظت کو دور کردے تو اس کا پر اپاک ہوجاتا ہے۔

From Aisha: She said, "The Messenger of Allah (peace be upon him) was presented with a child, and it urinated on his garment. He called for water and sprinkled it on it." Narrated by Bukhari, Nasai, and Muhammad]

And Tahaawi narrated a similar report, stating: "Sprinkling water on it is similar to washing. Do you not see that if a person’s garment is stained with impurity and they follow it with water until the impurity is removed, the garment becomes pure?"

667

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شیر خوار پچلا یا گیا اس نے آپ کی گود میں پیشاب کروآ تو آپ نے پانی مگلو اکرا س پر پہادیا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

It is narrated from Umm al-Mu'minin Aishah (RA) that she said:

A mouse fell or went to the Prophet ﷺ, and it urinated in my lap, so I had water brought and poured it over me.

668

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی

اللہ تعالیٰ کے خدمت میں پھلا لے جاتے ہوتے آپ ان کے لئے عافرما تے ہیں، ایک دفعہ ایک پچاپ کے پاس لاگیا تو اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کر اس پر پانی خوب بہادو۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، جس کی اسناد تحقیق ہے۔)

From Aisha: She said, "The Messenger of Allah (peace be upon him) used to be presented with children and would pray for them. Once, a child was brought to him, and it urinated on him. He said, 'Pour water on him generously.'" [Narrated by Tahaawi, and its chain is authentic]

669

ابولیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تحقیق ہوئے نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بطن مبارک پرامم حسن یاامم حسین رضی اللہ عنہما ہیں۔ ابولیلی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صاجز ادے نے پیشاب فرمادیا، ابولیلی رضی اللہ عنہ کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بطن مبارک پر پیشاب کی دھار یی بہہ رہی ہے، ابولیلی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم فوراً جسٹ کر ان کو بھٹادی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے پیکو چھوڑ دو اور میرے پیکو مرت گہبرا دو۔ ابولیلی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر آپ نے پانی مگواپا اور اس پر بہادیا۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)

From Abu Layla: He said, "I was with the Messenger of Allah (peace be upon him) and had either Hasan or Husayn in my lap. The child urinated, and I saw his urine on the stomach of the Messenger of Allah (peace be upon him). We rushed toward him, but he said, 'Leave my son, do not startle him.' Then, he called for water and poured it on the urine." [Narrated by Ahmad, and Tahaawi narrated a similar report]

670

ساک بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے خواب میں دیکھا کہ پے جسم کا ایک کٹرا میرے گھر میں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے لڑکا پیدا ہوگا اور تم اس پیکو اپنے نام پیکے ساتھ دودو پلاوگی، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں ان کو لے لی۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پیار کردہ ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے آپ پر پیشاب کر دیا تو میں نے ان کو چھٹی توڑی تو صاجز ادے نے رودیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے میرے پیکی وجہ سے تکلیف دی، پھر آپ نے پانی مگواپا اور اس پرخوب بہادیا۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی

ہے اور طحاوی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔ )

From Simak bin Harb: He said, "Umm al-Fadl said, 'O Messenger of Allah, I saw one of your limbs in my house.' He said, 'Fatimah will give birth to a boy and will nurse him with Qutham’s milk.' So, she gave birth to Husayn. I took him, and while the Messenger of Allah (peace be upon him) was kissing him, the child urinated on him. She pinched him, and the child cried. He said, 'You hurt me in my son.' Then, he brought water and washed it away." [Narrated by Ahmad and Tahaawi narrated a similar report]

671

حسن رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ اپنی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے

روایت فرما تے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہا کہ ایسے پچے کے پیشاب پر پانی پہاتی

تجھیں جب تک وہ شیر خوار ہے تو اور کہا نا کہا تا ہو اور جب پچ کہا نا کہا نے لگ جاتا ہوتا اس کے پیشاب

کو دھولیا کرتی تھیں اور اس کی کے پیشاب کو دھولیا کرتی تھیں - (خواہ وہ کہا نا کہا نے پائے کہا نے -)

شیر خوار پچراور پچی دونوں کا پیشاب نجس ہے اگر ان کا پیشاب لگ جاتے تو

پانی سے دھو لینا ضروری ہے

ف: شیر خوار پچراور پچی اگر چہ کروہ کہا نا نہ کہا تے ہوں دونوں کا پیشاب نجس ہے، پچ کے

پیشاب کے لے خفیف طور سے دھو لینا کافی ہے کیون کہ پچ کے پیشاب میں بدبو کم ہوتی ہے اور وہ پتلا

ہوا کرتا ہے، چنانچہ حدیث ثریف میں پچ کے پیشاب کے لے " نَضَح " کالفظ استعمال کیا گیا ہے جس

کے معنی خفیف طور سے دھو نے کے ہیں -

" التَّعْلِيقُ الْمُمَجَّد " میں اس طرح صراحت کی گئی ہے، لیکن پچ کے پیشاب کو بدبو کی

زیادتی اور کاشے پن کی وجہ سے مبالغے کے ساتھ دھو نا ضروری ہے، جسے اور نجاست کو دھویا جاتا ہے

، اسی طرح پچ کے پیشاب کے لے حدیث میں " غسل " کالفظ آیا ہے، جس کے معنی اہتمام اور مبالغہ

تے دھو نے کے ہیں - ( ماخوذ از مرقات اور تعليق المجدد - )12-

ذنگ نہ کے ہوئے مردہ جانور کا پچرا بغیر دباغت کے ناپاک ہے

From Ahssan, from his mother: She said, "I saw Umm Salama pouring water on the urine of a boy who had not yet started eating. Once he started eating, she would wash it." [Narrated by Abu Dawood]

672

عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان آیا ہے کہ غیر نذ بوح مردار جانور کا پچرا بغیر دباغت کے

استعمال نہ کریں اور نہ ان کے چھون سے نفع حاصل کیا کریں - ( اس کی روایت ترنذی، البودا ور، نسائی

ابن ماجراور طحاوی نے کی ہے )

اور بیہقی نے کہا ہے کہ عبد اللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کی ویلہ کہ کہ

دباغت سے قبل مردار جانور کے چھڑے سے نفع حاصل نہ کیا جائے۔ اس طرح ابن حبان نے اپنی تحقیق

میں ذکر کیا ہے اور سنن البوداود میں یہ روایت ہے کہ نضر بن شميل نے کہا ہے کہ چھڑے کو "اہاب"

اس وقت تک کہا جاتا ہے جب تک کراس کو باخت نہ دی گئی ہو اور جب اس کی باخت ہو جائے تو اس

کو "احاب"، نہیں کہ "بلد اس کو "شن" اور "قربة" کہتے ہیں۔

ف: غیر نبوی مردار جانور کے پٹکے پاک ہونے اور نہونے میں اختلاف ہے لیکن

"سرانج" میں فتوی اس پر ہے کہ وہ ناپاک ہے۔

مردہ جانور کا چھڑا و باخت کے بعد پاک ہوجاتا ہے اس لے قابل استعمال ہے

From Abdullah bin Hakim: He said, "We received a letter from the Messenger of Allah (peace be upon him) forbidding the use of leather from dead animals or bones." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawood, Nasai, Ibn Majah, and Tahaawi]

Regarding this, al-Bayhaqi said: "This is evidence against benefiting from the skin of dead animals before it is tanned," and Ibn Hibban mentioned it in his Sahih. In Abu Dawood, Al-Nadr bin Shumail said: "What is called ‘Ihaab’ is what has not been tanned, and once it is tanned, it is no longer called ‘Ihaab,’ and it is known as leather or a bag."

673

ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا زوجۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت

ہے، آپ فرماتی ہیں کہ ہماری ایک بکری مرگی تو ہم نے اس کے چھڑے کو باخت دی پھر ہم اس نبیز( )

جو چھورا ور پانی سے تیار ہوتی ہے) اس میں ذا لے تھے یہاں تک کہ وہ پرانی مشک بن گیا۔ (اس کی

روایت بخاری اور تہذیب امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے اور طحاوی سے بھی اس طرح مروری

ہے۔)

From Sawda, the wife of the Prophet (peace be upon him): She said, "A sheep died for us, and we tanned its skin. Then we continued to use it until it became a leather bag." [Narrated by Bukhari. Imam Abu Hanifa and Tahaawi narrated a similar report]

674

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرما تے سنا کہ جب چھڑے کو باخت دی جائے تو وہ پاک ہوجاتا

ہے۔

(اس کی روایت مسلم اور امام محمد نے کی ہے اور امام طحاوی سے بھی اس طرح مروری ہے۔)

It is narrated from Abdullah bin Abbas (RA) that he said:

I heard the Messenger of Allah ﷺ instructing that when a stick is split, it becomes pure.

675

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ جب مردار جانور کے چھڑے کو باخت دی جائے اس کے استعمال

سے فائدہ اٹھایا جائے۔ (اس کی روایت امام ماک، البوداوداو رامام محمد نے کی ہے۔)

From Aisha: She said, "The Messenger of Allah (peace be upon him) ordered that the skins of dead animals be used after they are tanned." Narrated by Malik, Abu Dawood, and Muhammad]

676

سلمۃ بن اکبر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوك میں ایک گھڑپر شریف فرما توے تواس میں ایک مشکیزہ لکا ہوا تھا، آپ نے پانی مانگا، گروالوں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پمشکیزہ مردہ جانور کے چھتر کا ہے، حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما کر دباغت اس کو پاک کرنے والی ہے۔ (اس کی روايت امام احمد، ابوداووداورامام طحاوي نے کی ہےاور تخمیص میں ذکور کے اس کی اسادات ہے۔)

From Salama bin al-Muhabbik: He said, "The Messenger of Allah (peace be upon him) came to a house during the campaign of Tabuk, and there was a water-skin hanging. He asked about it, and they told him, 'It is from a dead animal.' He replied, 'Its tanning purifies it.'" [Narrated by Ahmad, Abu Dawood, and Tahaawi, and its chain is authentic according to the summary]

677

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما کہ جس چھتر کو دباغت دی جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے۔ (اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفرحمۃ اللہ علیہاورترمزی،طحاوياورابن ماجہ نے کی ہے۔)

From Ibn Abbas: He said, "The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Any skin that is tanned becomes pure.'" [Narrated by Imam Abu Hanifa, Tirmidhi, Tahaawi, and Ibn Majah]

678

جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات کے مال غنیمت میں مشرکین کے مشکیزے ملا کرتے تو ہم ان کو تقسیم کر لیتے تھے حالاکہ پمشکیزے مردار جانور کے ہوتے تھےاور ہم ان کے استعمال سے نفع حاصل کرتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

It is narrated from Jabir bin Abdullah (RA) that he said:

When we would find the testicles of polytheists' camels in the spoils of war with the Messenger of Allah ﷺ, we would divide them among ourselves, although they were from dead animals, and we would benefit from their use.

679

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کرام المؤمنین میمون رضی اللہ عنہ نے ایک بندی کو ایک بگری خیرات میں دی تھی اور وہ مرگی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزراس پر ہوا، آپ نے ارشاد فرما کہ کیون تم نے اس کے چھتر کو نہیں لیا کر اس کو دباغت دے کراس سے نفع حاصل کرتے، ان لوگوں نے عرض کیا کہ وہ مردار ہے، آپ نے ارشاد فرما کہصرف اس کا گوشت کھانا حرام ہے۔ (اس کی روایت بخاریاورمسلم نے کی ہےاور طحاوياور امام محمد نے بھی اس طرح مروی ہے۔)

It is narrated from Abdullah bin Abbas (RA) that he said:

Maimun (RA), the trustworthy one of the believers, gave a female donkey to a slave girl as a gift. She died while it was in her possession during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ. He ﷺ said, 'Why did you not take its hide to use it for tanning so that you could benefit from it?' They said, 'She is dead.' He ﷺ said, 'Only eating its flesh is forbidden.' (This narration is reported by Bukhari and Muslim, and also by Tirmidhi and Imam Muhammad in this manner.)

680

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سودہ بنت زمعہ

رضی اللہ عنہا کی ایک بڑی مرگی، انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ مرگی ہے لیجن بڑی، آپ نے ارشاد فرما کہ یہ تم نے اس کے چہرے کو نیس لیا، سودہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تم کیسے ایسی بڑی کے چہرے کو لے سکتے تھے جومدار ہوئی ہے، حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما کر اللہ تعالیٰ نے سورۃ انعام کی آیت (پ:8، سورہ انعام، ع18، آیت نمبر:145 میں) میں فرما یہ: ﴾قُلْ لَا أَجِدُ فِی مَا أُوحِیَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لُحُمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ﴿ - (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں سے کہو کہ کوئی ان چیزوں میں سے جس کو تم حرام کہتے ہو) پھر کہا لے تو میری طرف جوہی آئی ہے اس میں تو میں اس پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا گمری کہ وہ چیز مردار ہو یا بھٹا ہوا خون یا سورکا گوشت ہو کہ یہ چیزیں بے شک ناپاک ہیں، اس لے اگر تم اس کو (لیجن مری ہوئی بڑی کے چہرے کو) دباغت دے دیتا اوراس سے نفع اٹھاتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔ سورۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آدمی روانہ کر دیااور کہا لکھوا کر منگالی اوراس کو دباغت دلوآ کراس سے مشکیزہ بنوا اورہ استعمال میں رپایہ لک کروہ پچھت گیا۔(اس کی روایت امام طاوی نے کی ہے، اور امام احمد نے اسنا دتے سے روایت کی ہے۔)

From Ibn Abbas: He said, "A sheep died for Sawda bint Zam'a, and she said, 'O Messenger of Allah, a certain sheep has died.' He replied, 'Why didn’t you take its skin?' She said, 'Can we take the skin of a dead sheep?' The Prophet ﷺ said, 'Indeed, Allah said: 'Say, "I do not find in what has been revealed to me anything forbidden for a person who would eat it" (Al-An'am: 145). There is no harm in tanning it and benefiting from it.' So, she sent for the skin, and it was peeled, tanned, and made into a water-skin until it tore.' [Narrated by Tahawi and Ahmad with an authentic chain]

681

ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے چند قریش کے لوگ اپنی اپنی مری ہوئی بڑی کو جوگدے کی طرح پھول گئے جس کے پچھے ہوئے لے جارہے تھے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرما یا کہ کاش تم اس کے چہرے کو لے لے ہوتے۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ وہ مردار ہے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا کہ اس کو پانی اور کیکر پاک کردیتے ہیں (اور یہی دباغت کی ایک فتنہ ہے)۔(اس کی روایت امام احمد ابوداوداورطاوی نے کی ہے۔)

It is narrated from Umm al-Mu'minin Maymuna (RA) that she said:

Some people from Quraysh came to the Messenger of Allah ﷺ, each carrying their dead child behind them as if they were carrying bundles. The Messenger of Allah ﷺ said to them, 'Would that you had brought their faces forward.' They replied, 'They are dead.' The Messenger of Allah ﷺ said, 'They would have been purified with water and soil' (and this is one of the trials of the grave). (This is reported by Imam Ahmad, Abu Dawud, and Tawus.)

682

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مردار جانور کے چھڑے کے استعمال سے جب اے دباغت دی جاے تو فاکره اٹھا کر خواہ دباغت میں دی گئی ہو یا راکھ سے یانہ کے سے یا کسی چیز سے دباغت دی گئی ہو کہ جس سے چھڑے میں صلاحیت پیدا ہوجائے۔ (اس کی روایت دار قطعی نہیں ہے۔)

دباغت کی تعریف اوراس کی فنیمین اوراس کے طریقے

ف: چھڑے سے اس کی بد بواور ناپاک رطوتوں کے دور کرنے کو دباغت کہتے ہیں، واضح رہے کہ دباغت کی فنیمین یعنی (1) حقیقی (2) حکمی۔ دباغت حقیقی یہ کہ چھڑے کو دواؤں کے ذریعہ مشاہدہ کے، انار کے چھلکے، ماز واور کی کر لیجنی بول کے چٹونے سے پاک کیا جائے، اور دباغت حکمی یہ کہ چھڑے کو دھوب پیس اس طرح تپایا جائے یا مثلاً اورا کہ میں اس طرح روندا جائے کہ اس کی بد بواور رطوتوں دور ہو جائے۔

دباغت حقیقی سے چھڑا تمیش کے لے پاک ہو جاتا ہے اوراس کی نجاست چھڑے وفنیمین کرتی البتہ دباغت حکمی میں اختلاف ہے اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے دور واہین منقول ہیں۔ ایک بیک نہس رطوتوں پانی کی ترتیب کی وجہ سے عود کر جاتے گی تو چھڑا پھر نجس ہو جاتا ہے، دوسرا روایت یہ کہ دباغت حکمی کے بعد چھڑا دوبارہ پانی میں تر ہو جائے اور رطوتوں ظاہر ہو جائے تو پیر رطوتوں جو ظاہر ہوتی ہے اصلی پہلی کی رطوتوں نہیں ہے کیون کہ چھڑے کی اصلی رطوتوں دھوب پیس کی یا راکھ سے جا پکی ہی اس وجہ سے چھڑے کو نجس نہیں قرار دیا جاسکتا اوراس کی دوسرا قولا پر (جب سے چھڑے کا پاک رہنا ثابت ہوتا ہے) فتویٰ ہے۔ (شرح وقاية، عمدة الرعاية، غیاث اللغات۔) البنت مختارات النوازل، میں بی صراحہ ہے کہ دباغت حکمی میں اگر چھڑے کو دباغت سے پہلے پانی سے دھولیا جائے اور پھر دھوب پیس کی یا راکھ کے ذریعہ دباغت دی جائے تو چھڑے کی نجاست بالاتفاق عود نہیں کرتے گی اور یہ دباغت حکمی دباغت حقیقی کے مشہو جائے گی۔

From Aisha: She said, "The Messenger of Allah ﷺ said, 'You may benefit from the skins of dead animals once they are tanned, whether it is earth, ash, salt, or whatever it is that makes it suitable for use.'" [Narrated by Darqutni]

(1) The phrase "or whatever it is" refers to the tanning process. In "Radd al-Muhtar," it is mentioned that tanning can be done using sunlight or similar methods, referred to as "tanning by judgment." This points to a difference with Imam Shafi'i's opinion, and the indication is that there is no difference between the two types of tanning in their rulings, except for one. According to the "al-Bahr," the only distinction is that if the leather undergoes real tanning, it doesn't return to being impure even if water touches it afterward, which is agreed upon in all narrations. However, for "tanning by judgment," there are two views. The stronger opinion is that it does not return to being impure, as stated in "Qahistani" from the "Mudammirat." The difference in opinion in "Mukharrarat al-Nazil" is limited to cases where the tanning by judgment happens before washing with water; if it happens after washing, then there is no disagreement that the impurity doesn't return.

683

ابراہیم رضی اللہ عنہ سے مرودی ہے کہ انہوں نے کہا کہ برائی چیز جو چھڑے کو

خراب ہونے سے رک دے تو بھی اس کے لئے دباغت ہے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کتاب

الآثار میں کی ہے۔)

Ibrahim said: "Everything that prevents the skin from decay is considered tanning." [Narrated by Muhammad in Al-Athar]

684

عبراللہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنه، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم نے مردہ جانور کے صرف گوشت کو ہرام قرار دیا ہے گر چہرا (جس کو

دباغت دی گئی ہو) بال اور اون ان سب کے استعمال میں کوئی مذاق نہیں۔ (اس کی روایت

دار قطنی نے کی ہے۔)

Ubaydullah ibn Abdullah ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ only prohibited the meat of the dead animal, but the skin, hair, and wool are permissible." [Narrated by Al-Daraqutni]

مردہ جانور کی کون کون چیزیں حلال اور قابل استعمال ہیں
685

عبراللہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنه، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،

انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم کو (سورہ انعام، آيت نمبر:145، پ:8

ع:18 کی اس آیت کو) ارشاد فرما تے ہوئے سنا کہ ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِی مَا أُوحِیَ إِلَّیَ

ۙ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَیْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِیْرٍ فَانَّهُ

رُّجْسٌ﴾۔

اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلم وسلم ! ان لوگوں سے کہو کہ کوئی ان چیزوں میں سے جس کو تم ہرام کے

ہو پیچھے کہا لے تو میری طرف جووئی آئی ہے اس میں تو میں اس پر تو کوئی چیز ہرام نہیں پا تا گر یہ کوئی چیز

مردار ہو یا پھتا ہوا خون یا سور کا گوشت کہ یہ چیزیں پیشک ناپاک ہیں،) واضح رہے کہ مردہ جانور کی ہر

چیز حلال ہے گر اس کو حنا حرام ہے تو چہرا، سینگ، بال، اون، دانت اور بلی یہ سب حلال ہیں، اس

لئے کہ ان چیزوں کو نے کوئی تعلق نہیں ہے، (اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے۔)

Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'Say: I do not find anything in what has been revealed to me that is prohibited for a person who eats it.'" (Al-An'am: 145). And he said, "Everything from the dead animal is permissible except what has been eaten. As for the skin, horns, hair, wool, teeth, and bones, all are permissible because they are not slaughtered." [Narrated by Al-Daraqutni]

686

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلم وسلم باقی دانت

کی کتنی سے کتنی کیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔

نج کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈھوانے کے بعد اپنے مبارک بالوں کو ابٹھار ضی اللہ عنہ کے ذریعہ صاحب کرام میں تقسیم کروا یا۔

Anas (RA) reported:

The Messenger of Allah ﷺ would use a certain number of teeth for the toothpick. On the occasion of the conquest, after shaving his head, the Messenger of Allah ﷺ distributed his blessed hair among the people through the means of Ubayy (RA).

687

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میں جمرات پر کنریال چینے سے فارغ ہوئے تو اپنی قربانی کے اونٹ کو زنگ فرما یا اس کے بعد اپنے سر منڈھانے والے کوسکی سیدہ جانبدی اس نے اس کومونڈھودیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جانب کے بال ابٹھار ضی اللہ عنہ کو دے دے اس کے بعد باقی جانب مونڈھنے کے لیے دے تو مونڈھنے والے نے مونڈھودیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا: ان بالوں کولوگون میں تقسیم کرووے (اس کی روایت تنزیلی کی ہے۔)

آدمی کے بال پاک ہوتے ہیں اور صاحب عنایت اور ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے واضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں آدمی کے بال کے پاک ہونے پردیل ہے۔

He also said: "When the Messenger of Allah ﷺ threw the stones, he slaughtered his sacrifice, then handed over the right side to the creator and shaved it. Then he gave it to Abu Talha, then handed over the left side and shaved it. He said: 'Distribute it among the people.'" [Narrated by Al-Tirmidhi]

The author of Al-Inayah and Ali al-Qari said: "This is evidence for the purity of human hair."

688

مقدام بن معد کبر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندول کے چھڑول کے پینے اور ان پرسوار ہونے سے ممانعت فرما لی ہے۔ (اس کی روایت البودا ودار نسائی نے کی ہے۔)

درندول کے چھڑول کے استعمال کے بارے میں تفصیل یہ ہے۔

ف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندول کے چھڑول کے پینے اور ان پرسوار ہونے سے ممانعت فرما لی ہے، اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نہیں تحریک ہے اور اس کی دلیل یہ کہ درندول کے چھڑول کا استعمال وباخت کے قبل جائز نہیں، اس لے کروہ نہیں ہے۔ اب رہائی کہ وباخت کے بعد کیا کیا جائے؟ اگر درندول کے چھڑول پر بال ہون تو وہ چھڑول

جبی نجس بین، اس لے کر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بالول کو باختیہ سے بال پاک نہیں

ہوتے کیونکہ باختیہ سے بالول کی اصلی حالت نہیں بدلتی، یا س حدیث میں جو نہیں وارد ہے اس سے

نہیں تنزہی مراد ہے اور پی مسلک امام ابوحنیفہ کے اوراس کی دلیل پیہ کے بال امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ

کے پاس پاک ہیں اور حدیث میں نہیں اس لے آتی ہے کہ درندول کے چھروں کو پہنا اور ان کے

چھروں پرسوار ہونا سرش لوگوں اور کی کفارا ور عیش پرستوں کا استور ہے لہذا انکی لوگوں کے لے ان کا

استعمال مناسب نہیں، اس لے کہروہ تنزہی ہے۔ (میں نے اس مضمون کو مرقات سے اخذ کیا ہے)

درندول کے چھروں کے ناپاک نہ ہونے کے متغلق عامیری میں وضاحت ہے کہ ابوحنیفہ رحمۃ

اللہ علیہ اس طرح منتقل ہے کہ لوطریوں کے چھروں کی ثوپی کے پینے میں کوئی مضا قہ نہیں اور

ممسوط میں جبی اس طرح نذور ہے اور ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ برترح

کے درندول کے پوستین اور دگی مردار جانوروں کے باختیہ سے ہوتے چھروں اور اس طرح نذر کے

ہوتے جانوروں کے چھروں کے استعمال میں کوئی مضا قہ نہیں اگرچہ کران کو باختیہ نہیں ہوا س

لے کران کا ذبح کرناءی باختیہ وی نہے۔ چنانچہ محیط میں جبی نذور ہے، نیز تیندو اور دوسروں

درندول کے چھروں کے استعمال میں جبی کوئی مضا قہ نہیں ہے، بشرطیہ ان کو باختیہ جانے چھران

سے جانمازیاں کا جارجامہ بنایا جائے، پی ملتقط میں نذور ہے۔ 12

It is narrated from Maqdad bin Ma'd Yakrib (RA) that he said:

The Messenger of Allah ﷺ has prohibited the drinking of the sap of the date palm and becoming intoxicated by it. (This is reported by Al-Bukhari and An-Nasa'i.)

Regarding the details of the use of the sap of the date palm:

The Messenger of Allah ﷺ has prohibited the drinking of the sap of the date palm and becoming intoxicated by it. The details of this are as follows: This is not a matter of concern for Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him), and his reasoning is that the use of the sap of the date palm is not permissible before slaughter, and thus it is not allowed. Now, what should be done after slaughter? If there is hair on the date palm sap, then the sap is not purified by slaughter according to Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him), because the original state of the hair does not change with slaughter. What is not mentioned in the hadith is not intended to be excluded, and according to the school of Imam Abu Hanifah (may Allah have mercy on him), the hair of the date palm is considered pure, and the hadith does not mention it. Therefore, wearing the thorns of the date palm and becoming intoxicated by them is a practice of immoral people and those who indulge in pleasure, so their use is not appropriate for Muslims, as it is impure.

In the general discussion about the impurity of the thorns of the date palm, it is explained that Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) states that there is no harm in drinking the sap of the date palm, and this is also the view of the majority. Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) narrates that there is no harm in using the thorns of the date palm and the thorns of animals that are not slaughtered, even though they are not slaughtered, because their slaughter is not required. Thus, it is stated that there is no harm in using the thorns of the date palm and other similar thorns, provided that they are made from the skin of animals that have been properly slaughtered.

689

ابوا تح بن اسماعیل رضی اللہ عنہ روایت ہے، وہ اپنے والد اسماعیل رضی

اللہ عنه، کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم نے درندول کے چھروں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد

اور نسائی نے کی ہے)

اور تنزہی اور داری نے یا ضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندول کے

چھروں کو بطور فرش استعمال کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

Abu Tahir ibn Isma'il (RA) narrates on the authority of his father Isma'il (RA), who narrates from the Messenger of Allah ﷺ,

that the Messenger of Allah ﷺ prohibited the use of reed mats. (This is narrated by Imam Ahmad, Abu Dawud, and Nasa'i.) And Tawzhi and Dari have reported that the Messenger of Allah ﷺ prohibited using reed mats as carpets.

690

ابوا تح رضی اللہ عنہ مرودی ہے کہ انہوں نے درندول کے چھروں کی قیمت

لین کو کروہ قراردیاہے۔ (اسکی روایت ترتیب نہیں ہے)۔

بغیر ذنگ کے ہونے مردوہ جانورول کے چھڑول کی خطر پیدا فروخت و باخت سے پہلے منوع ہے

ف: ابواتح رضی اللہ عنہ نے درندول کے چھڑول کی قیمت کے استعمال کومکروہ کہاہے، اس

بارے میں ظاہر نہ کہاہے کہ قیمت کا لینااس وقت کمروہ ہوگا کہ چھڑول کی باخت نہہوتی ہو، اس کے

کر قبل و باخت چھڑا نہس رہتاہے لیکن باخت کے بعد اس کوفروخت کر کے قیمت کا حاصل کرنا کمروہ

شہیں ہے، اور فتاواے تقاضی خال میں صراحت سے کمروہ جانورول کے چھڑول کافروخت کرنا باطل

اور ناجائزہے بشرط کہ وہ جانور ذنگ کے ہونے نہہوں، یا ن کے چھڑول کود باخت نہہوتی ہو۔ (یہ

مرقات میں نذکور ہے)

درندول کی کحال و باخت کے بعد زین و غیرہ کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے

Abu Tahir (RA) reported:

He prohibited taking the price of the horns of cattle before they are cut off. It is not permissible to sell or buy the horns of living animals before they are cut off. Before the horns are cut off, it is not permissible to take their price, but after they are cut off, it is permissible to sell them and collect the price. The fatwas in the required context clearly state that selling the horns of living animals is invalid and impermissible, provided that the animal is not dead or the horns have not been cut off. (This is mentioned in the Maraqi). After the horns of cattle are cut off, they can be used like other items.

691

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ درندول کے چھڑول

کے استعمال میں کوئی مضا نقصان نہ جبکہ ان کی باخت ہو جاتی ہو۔ (1)

It is narrated from Jaber (RA) that he said:

There is no harm in using the branches of the tamarisk tree, although their luck is lost.

692

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت ہے کہ ان کے پاس تیندروں کی

کحال کا زین تھا۔ (2)

It is narrated on the authority of Urwah bin Zubayr (RA) that

he had a cosmetic adornment made of antimony for young boys.

693

یہی بن عتق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حسن بصری

رضی اللہ عنہ کو تیندروں کی کحال کی زین پرسوار دیکھاہے اور محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ کو بھی تیندروں کی

کحال کی زین پرسوار دیکھا۔ (3) ان تینول حدیثوں کی روایت امام طحاوی نے مشکل الآثار میں کی

ہے۔

It is narrated from Yahya bin Atiq (RA) that he said:

I saw Hasan al-Basri (RA) wearing kohl made of antimony, and I also saw Muhammad bin Sirin (RA) wearing kohl made of antimony.

694

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھا اور میں پر شگ پیر چل کر آنے سے دوبارہ وضو

شہیں کرتے تھے۔ (اسکی روایت ترتیب نہیں ہے)

اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں اس بات

پر دلیل ہے کہ راستہ کا پچرا عموم بلوا کی وجہ سے معاف ہے۔ 12

عذاب قبر عموماً پیشہ بے احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud: We used to pray with the Messenger of Allah, and we did not perform ablution from the soil. [Narrated by Al-Tirmidhi]

Ali al-Qari said that this indicates that the mud of the street is excused due to the widespread difficulty.

695

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پیشہ بے (کی پچینٹون سے) احتیاط کیا کرو، اس کے کرنا کثر

عذاب قبر اس سے ہوتا ہے۔ (اس کی روایت حاکم نے کی ہے،) اور حاکم نے وضاحت کی ہے کہ یہ

حدیث بخاری اور مسلم کے ثروت کے موافق تھے ہے اور برزار نے اس طرح روایت کی ہے اور دار قطنی

نے یہی اس کو روایت کر کے کہا ہے کہ یہ حدیث تھے ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: He said that the Messenger of Allah ﷺ said:

Beware of the one who frequently complains, for much punishment in the grave is due to this.

696

اور حاکم کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک

نیک صحابی کے قبر سے فارغ ہوکر جو عذاب قبر میں بتلا ہوئے تھے ان صحابی کی پیوی کے پاس

تشریف لے گئے اور ان سے ان صحابی کے اعمال کے متعلق دریافت فرمایا تو ان کی پیوی نے جواب

دیا کہ وہ کبھی ایک چڑیا کرتے تھا اور ان کے پیشہ بے پہیزیں کرتے تھے اس وقت رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پیشہ بے پچا کرو کیون کہ عموماً عذاب قبر اس سے ہوتا ہے اور حاکم

نے کہا ہے کہ یہ حدیث تھے ہے اور تمام محمد ثین نے اس حدیث کی صحت پر اتفاق کیا ہے۔

ف: یہ حدیث دراصل حدیث "غریبین" کے اس جزء کی ناخ ہے جس میں خضور صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے اہل غریبی واونٹول کے پیشہ بے پین کی اجازت دی تھی اور "غریبین" کا اقتدار

اس طرح پیش آیتا ہے۔

اللہ عزیز کے واقعی تفصیل جس میں مثل اور اوٹول کے پیشہ بے پین کا ثبوت ملتا ہے،

وادی عزیز کے چند لوگ جب مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو ان کو آب وہوا موافق نائی جس سے

ان کے رگ زرد پڑ گئے اور ان کے پیٹ پچول گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ

وہ صدقے کے اونٹول کی جگہ چل جا کر اور ان کا وہا ور پیشہ اب پیا کری، اس طریقے سے جب ان کو

صحت حاصل ہوئی تو سب کے سب مرتد ہو گئے اور چر وہول کو قتل کروالا اور اونٹول کو لے کر بھاگے

نکل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تلاش میں ایک جماعت روانہ فرمائی اور اس جماعت نے

ان کو گرفتار کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر کروایا تو آخضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

دیا کر ان کے باتعاور پیر کا تدبر جا کر اور آنکھوں میں سلائی پھیر دی جا کر اور ان کو صوب میں چھوڑ

دیا جا کے پہلے کروہ مر جا کیمین -

"عُریبِیّین" کی اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں، ایک تو ملک کرنے کی

اجازت اور دوسرا وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کے پیشہ اب کے پاک ہونے اور پینے کا

ثبوت، امل عربینہ کے واقعے کے پیل جزء، ملک کرنے کا حکم بالا تفاق منسوخ ہے

حدیث "عُریبِیّین" کا ایک جزء عینی مشلک کرنے کا حکم ابتدا کے اسلام میں تھا جو بالا تفاق

منسوخ ہوگیا، اب رہادومرا اجزء عینی وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے پیشہ اب کامیا اور اس کا

پاک ہونا تو حدیث

امل عربینہ کے واقعے کے دوسرا جزء گوشت کھانے والے جانورول کے

پیشہ اب یہ کا حکم استنزہووا من البول والی حدیث سے منسوخ ہے

"عُریبِیّین" کا یہ دوسرا اجزء عینی ان دونوں حدیثوں سے منسوخ ہے ایک تو ابوریرہ رضی اللہ

عنہ، کی نذور الصدر حدیث (استنزہووا من البول فان عامۃ عذاب القبر منه)، پیشہ اب کے

چوچونکے بالعموم عذاب قبر ای سے ہوتا ہے۔

اور دوسرا حاکم کی وہ حدیث جس کی صحت پر سب محدثین متفق ہیں اور جس کے فاظیہ ہیں:

(کان یرعی الغنم ولا یتنزہ من بولہ فحینئذ قال علیہ السلام : استنزہووا من

البول فان عامۃ عذاب القبر منه)۔

وہ صحابی بکریال چرا کرتے اور بکریوں کے پیشہ اب سے نہیں پیتے تھے اس پر حضور صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا: پیشہ اب سے پچکیوں کا کثر عذاب قبر پیشہ اب سے نہ پینے کی وجہ ہوا

کرتا ہے۔ تو یہ دونوں حدیثیں حدیث عُمَرؓ کی طرف سے جزء جوگوشت کہانے والے جانوروں کے پیشاب کے پینے اوران کے پاک سے متعلق ہے ناخیل۔ مُثلہ کرنا حرام ہے اوران جانوروں کا پیشاب جن کا گوشت کھائیا جاتا ہے ناپاک ہے اس لئے ان کا پیشاب پینا بھی حرام ہے الغرض ثابت ہوگیا کہ مُثلہ کرنا حرام ہے اور وہ جانور جن کا گوشت کھائیا جاتا ہے ان کا پیشاب ناپاک ہے اوران کے پیشاب کا پینا بھی حرام ہے۔ (نورالانوار، تمرالاقمار)12۔

And in another narration by Hakim, it is reported that when the Messenger of Allah ﷺ finished at the grave of a righteous Companion who had been subjected to the torment of the grave, he went to the Companion's wife and inquired about the Companion's deeds. The wife replied that he used to tell jokes and his profession was to make people laugh. At that time, the Messenger of Allah ﷺ said, 'Do not make a habit of making people laugh, for the torment of the grave generally occurs due to this.' And Hakim said that this hadith is authentic, and all the scholars of Hadith have agreed on its authenticity.

This hadith is actually a part of the 'Gharibin' hadith, where the Prophet ﷺ permitted the people of poverty and camel herders to drink urine for medicinal purposes, and the authority of 'Gharibin' is presented in this manner. The detailed account of this event, which provides evidence for the practice of drinking urine from camels and other animals, is as follows: When some people from the tribe of Aziz came to Madinah, they found the climate unsuitable, causing their skin to turn yellow and their stomachs to swell. The Prophet ﷺ ordered them to go to the place where camels were kept for charity and to drink their urine. When they regained their health, they all apostatized, killed the herders, and fled with the camels. The Prophet ﷺ sent a group to search for them, and this group captured them and brought them before the Prophet ﷺ. He then ordered that their hands and feet be cut off, their eyes be branded with heated irons, and they be left in the sun, where one of them died.

From this hadith of 'Gharibin,' two things are established: one is the permission to own [property], and the second is the purity and permissibility of drinking the urine of animals whose meat is consumed. In the case of the Arabs, the command to own [property] was abrogated. The part of the 'Gharibin' hadith that allowed the drinking of urine from animals whose meat is consumed has been abrogated by the hadith that commands purification from urine (istinzah min al-baul).

The first part of the 'Gharibin' hadith, which allowed the drinking of urine, was abrogated by the hadith narrated by Abu Hurairah (RA): 'Purify yourselves from urine, for most of the punishment of the grave is due to it.' The second part, which allowed the drinking of urine from animals whose meat is consumed, has been abrogated by the hadith whose authenticity is agreed upon by all scholars, which states: 'He who tends sheep should not drink their urine, for indeed the majority of the punishment of the grave is due to it.'

A Companion used to tend goats and did not drink their urine. The Prophet ﷺ advised him: 'Drinking urine causes the majority of the punishment of the grave; therefore, do not drink it.' Thus, these two hadiths, narrated by Umar (RA), abrogate the part of the 'Gharibin' hadith concerning the drinking of urine from animals whose meat is consumed. Mimicking (muthlah) is forbidden, and the urine of animals whose meat is consumed is impure, so drinking it is also forbidden. The conclusion is that mimicking is forbidden, and the urine of animals whose meat is consumed is impure, and drinking it is also forbidden. (Nur al-Anwar, Tamr al-Aqmar) 12.

697

اللہ تعالیٰ کی پیشان نہیں کرنا حرام ہے میں شفا عربی ہے۔

حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ انہوں نے اونٹ، گاۓ، بیل اور بقر پول کے پیشاب کو کروتے ہیں قراردیا ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

And from Al-Hasan: He disliked the urine of camels, cattle, and sheep. [Narrated by Al-Tahawi]

In another narration from him, from Abu Al-Ahwas, it is said that Abdullah (Ibn Mas'ud) said: "Allah would not place healing in something impure or in something that is forbidden."

698

اور طحاوی کی دوسری روایت جو ابوالاحوص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ابوالاحوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی پیشان نہیں کرنا شے یا کسی چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس میں شفا عربی ہے۔

It is narrated on the authority of Abu al-Ahwas (RA) that he said: 'Abdullah (RA) said:

There is no showing off with something or any thing that Allah, the Exalted, has made unlawful; it is a form of showing off in Arabic.'